Author: ممتاز حیدر
-

پمز اسپتال کے ڈاکٹرز کی جیل آمد، عمران خان کا طبی معائنہ
راولپنڈی: پمز اسپتال کے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم نے اڈیالا جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
جیل ذرائع کے مطابق طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال کے ڈاکٹرز کی تین رکنی ٹیم اڈیالا جیل پہنچی، جس نے مقررہ وقت پر معائنہ مکمل کیا۔جیل ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم میں ڈاکٹر ذوالفقار، ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر عاصل شامل تھے۔ ٹیم میں شامل ماہرین نے عمران خان کی مجموعی صحت کا جائزہ لیا، جب کہ آنکھوں اور دانتوں کا خصوصی معائنہ بھی کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم میں شامل جنرل فزیشن نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ کیا اور مختلف پہلوؤں سے صحت کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
ذرائع کے مطابق معائنے کے دوران ڈاکٹرز نے عمران خان کو بعض ادویات تجویز کی ہیں، جنہیں باقاعدگی سے استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ڈاکٹرز کی ٹیم نے معائنے کے بعد اپنی ابتدائی سفارشات مرتب کر لیں، جب کہ تفصیلی میڈیکل رپورٹ جیل انتظامیہ کو ارسال کی جائے گی.
-

دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ،وزیراعظم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے غربت، بے روزگاری کے خاتمے ، قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی،ملک میں دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، خوارج ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے،ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں وسائل پہنچ رہے ہیں،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ،تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے طریقوں سے عبادت اور تہوار منانے کا پورا حق ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو وسائل عطا کئے ہیں وہ شاید ہی کسی ملک کے پاس ہوں،وسائل کو اگر استعما ل کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے،معرکہ حق میں افواج پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک نہیں بھولے گا
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ،وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اوردیگر حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں یہ انتہائی خوش آئندبات ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی ایک ایسا کردار ادا کرنے جا رہی ہے جس کی اس وقت بہت ضرورت ہے، مملکت خداداد پاکستان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم تحریک کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد وجود میں آئی،تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے حصہ ڈالا،سیسل چوہدری ،سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس اور اقلیتی برادری کے دیگر ارکان کی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کے لیے بڑی خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے کا مقصد ایسا خطے کا حصول تھا جہاں اسلام کا بول بالا ہو،پاکستان میں تمام مذاہب کو اپنے طریقوں سے عبادت کرنے اور تہوار منانے کا حق ہے،ہر پاکستانی کو اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر اپنا مقام پیدا کرنے کا حق ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف رواں دواں ہے، قیام پاکستان میں علماء کرام کا بھی بہت اہم کردار تھا، اللہ تعالی نے پاکستان کو وہ تمام وسائل عطا کیے ہیں جو شاید ہی کسی دوسرے ملک کے پاس ہوں، اللہ تعالی نے ہمیں کھربوں ڈالر کے قدرتی وسائل عطا کر رکھے ہیں جن کو ہم استعمال کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے، پاکستان کو صحیح معنوں میں رفاحی مملکت بنائیں گے، قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے ،غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے، یہ کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، اس کےلئے وہ طریقے اور اسلوب اختیار کرنے ہوں گے جن کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ مئی 2025 میں معرکہ حق میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو شکست فاش دی اور ایک ایسا سبق سکھایا جسے وہ رہتی دنیا تک بھلا نہیں پائے گا،یہ فتح اللہ تعالی کی نصرت اور اس کی کمال مہربانی اور افواج پاکستان کی جرأت، اعلی ترین تربیت ، بہترین ٹیکنالوجی اور 24کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معر کہ حق میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح سے نواز جس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ہے،وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جن میں عام شہری، مائیں، بہنیں، بچے، ڈاکٹر، انجینئرز، تاجر اور چاروں صوبوں کے باسی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے خون سے ملک کی آبیاری کی ہے، افواج پاکستان، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کےکے ہزاروں افسر اور جوان بھی شہید ہوئے ہیں،انہوں نے قربانیاں دے کر نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کیا بلکہ دیگر ممالک کو بھی بچایا ،آج دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے ،خوارج ،ٹی ٹی پی اورٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے ، ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں ہر طرح کے وسائل پہنچ رہے ہیں ،جس طرح 2018 میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا تھا مجھے مکمل یقین ہے کہ اس مرتبہ بھی دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام شامل ہیں ،اللہ تعالی اس کمیٹی کو کامیابیاں عطا کرے،اسلام کا اعلیٰ و ارفع پیغام صوبوں میں پہنچائیں ،تدبر، فہم و فراست ،بردباری اور حوصلے کے ساتھ معاملات کو آگے لے کر چلنا ہے۔معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے۔ق
ومی پیغام امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جس اعتماد کا اظہار وزیراعظم نے کیا ہے ہم اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے، پشاور میں خیبرپختونخوا کے گورنر کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد یہ طے ہوا ہے کہ خیبر پختونخواکے تمام علماء کرام کی دو روزہ علماء مشائخ کانفرنس بلائی جائے گی جس میں مشاورت سے فیصلے کئے جائیں گے اوران کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا،کمیٹی کے اراکین صوبے کے تمام علاقوں کا دورہ کریں گے ،پاک فوج کے جوانوں اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ وقت گزاریں گے اور بیانیہ کی جنگ میں صف اول کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مؤقف واضح ہے کہ پاکستان کا امن ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے، اس وقت مدارس کے 15 میں سے 11 بورڈز کے ارکان یہاں موجود ہیں ،جن حالات میں پیغام امن کمیٹی کی تشکیل ہوئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان میں امن کی کوششوں کو استحکام ملے گا،علماء اور مفکرین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،علماء نظریاتی محاذ کو مستحکم کر رہے ہیں، 2018 میں مسلم لیگ( ن) کی حکومت نے ہی پیغام پاکستان کا اجراء کیا تھا، جس کو ہم آگے لے کر چل رہے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ امن کے قیام کے لیے کوششیں کامیاب رہیں گی،قومی پیغام امن کمیٹی میں اقلیتی برادری کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔
جامعۃ الرشید کے مہتمم مولانا مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست پاکستان اور حکومت کی طرف سے مضبوط قومی بیانیہ عوام تک جانا چاہیےجو سہولت کاری بھی ہو رہی ہے چاہے وہ سیاسی، مذہبی سطح پر ہویا تعلیمی اداروں کی طرف سے ہو اس کا خاتمہ ضروری ہے،شکوک و شبہات کا خاتمہ ضروری ہے،امن کمیٹی امن کا پیغام لے کر ہر جگہ پہنچے گی۔علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ امن اور محبت کا پیغام عام کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے، پاکستان اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے ،کبھی شر پسند اور منفی ذہنیت رکھنے والے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے،خوارج کا دین اسلام سے تعلق ہے نہ ہی وہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں، وہ ملک کا امن تباہ کر رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اتحاد امت کے لیے ہم سب مل کر کوشش کر رہے ہیں، اندرونی و بیرونی تمام سازشوں کے سامنے مل کر کھڑے ہوں گے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔
علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ فتنہ والخوارج اور فتنہ ا لہندوستان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ کمیٹی بھرپور سرگرمی سے کام کرے گی، اس کمیٹی میں تمام مذاہب کے نمائندے شامل ہیں اور یہ قومی وحدت کا مظہر ہے،پیغام پاکستان کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ میں اس وقت بلند ترین مقام پہ کھڑا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت کا ملک کی ترقی کے لیے مؤقف ایک ہے ، ہم نے پیغام دے دیا ہے کہ علماء پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ علمائے کرام پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،ملک میں قیام امن اور یکجہتی کے فروغ کےلئے حکومت کا ساتھ دیں گے۔مولانا زبیر فہیم نے کہا کہ سیاسی، دینی اور عسکری قیادت جب مل کر کام کرے گی تو یہ ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔
مفتی محمد یوسف خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو معرکہ حق میں بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے،قومی پیغام امن کمیٹی اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔علامہ محمد آصف اکبر نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے، پاکستان کے امن کے لیے علماء کرام ،سیاسی وعسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم اپنے مدارس میں پیغام پاکستان کو بطور نصاب پڑھا رہے ہیں۔مولانا محمد عادل عطاری نے کہا کہ ہم سب مل کر وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے، معرکہ حق کے بعد پاکستان کی دنیا میں عزت میں اضافہ ہوا ہے، امن کمیٹی کے قیام سے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ہندو کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیش کمار نے کہا کہ پاکستان میں ہندو برادری خوشی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے ،ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس دھرتی ماں کی حفاظت رواداری، امن وآشتی کے فروغ کے لیے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،ہندو برادری ملک کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔
مسیحی برادری کے نمائندگی کرتے ہوئے بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ ہم ایسا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہوں گےجس سے امن کا پیغام پھیلے گا۔مولانا طیب پنج پیری نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، امن کی کوششوں میں ہم وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔مولانا محمد توقیر عباس نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے علماءکرام حکومت کے ساتھ ہیں، سکیورٹی ادارے وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت علماء کی ذمہ داری ہے ، یہ کمیٹی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کو ناکام بنائے گی۔
ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات ڈاکٹر غلام قمر نے کہا کہ ملک میں 36 ہزار مدارس ہیں رجسٹرڈ مدار س میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جارہی ہے اور بچوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جارہی ہےتاکہ وہ جب مدارس سے فارغ ہوں تو انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نےکہا کہ اساتذہ کی بھی جدید خطوط پر تربیت کی جارہی ہے، کچھ حلقوں کی طرف سے غلط پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ مدارس میں درس نظامی کی تعلیم کو متاثرکیا جارہا ہے ، نہ ہم ایسا کررہے ہیں نہ ہی کیا جائے گا۔
-

پارٹی کاوائس چئیرمین ہوں،پارٹی پالیسی سےنہیں ہٹ سکتا،شاہ محمود قریشی
پی ٹی آئی کےوائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے عدالت میں نجی ٹی وی کے نمائندہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ اللہ کرے 2026 پاکستان کےلیے بہتر کرے، پاکستان کی خیر کرے،اللہ پاکستان کو اندرونی،بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے
صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ فوادچوہدری کی نینشل ڈائیلاگ کمیٹی کا ساتھ دینگے؟جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں پارٹی کاوائس چئیرمین ہوں،پارٹی پالیسی سےنہیں ہٹ سکتا،یہ سوچناہوگاکہ آخر اس سیاسی کشمکش کا حل کیا ہے؟مزاحمت کےبعد تومفاہمت ہی ہوتی ہے،گفتگو سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے،مذاکرات کااختیاربانی نے محمودخان اچکزئی کودیا ہوا ہے،ہم توجیلوں میں پڑے ہیں ہمارے پاس معلومات کم آتی ہیں ،محمودخان اچکزئی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیاکرناہے؟فوادچوہدری اورمیں ایک پارٹی میں رہے ہیں ،میں اسپتال تھا وہ میری عیادت کےلیے ملنے آئے تھے،اب اگرکوئی گھر مہمان آئے توان سے کیا کہوں کہ کہ آپ کیوں آئے ہو؟
-

اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر وزرا سمیت اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثوں اور مالی واجبات کی تفصیلات مقررہ وقت میں جمع نہ کرانے پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے متعدد اراکین کی رکنیت معطل کر دی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کے 32 اراکین کی رکنیت معطل کی گئی ہے، جب کہ پنجاب اسمبلی کے 50 اور سندھ اسمبلی کے 33 اراکین کو بھی رکنیت کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ معطل کیے گئے تمام اراکین نے تاحال اپنے اثاثوں اور واجبات کی سالانہ تفصیلات جمع نہیں کروائیں، جو آئین اور انتخابی قوانین کے تحت لازم ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک متعلقہ اراکین اپنی مکمل اور درست اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہیں کراتے، وہ نہ تو اسمبلی اجلاس میں شرکت کر سکیں گے اور نہ ہی ووٹنگ یا کسی پارلیمانی کارروائی کا حصہ بن سکیں گے۔ الیکشن کمیشن نے اس اقدام کو شفافیت اور احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
معطل اراکین قومی اسمبلی میں اہم سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، سید علی موسیٰ گیلانی اور سید عبدالقادر گیلانی کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی کے جن اراکین کی رکنیت معطل کی گئی ہے، ان میں رانا سکندر حیات، عدنان ڈوگر اور عامر حیات ہراج شامل ہیں، جب کہ سندھ اسمبلی کے معطل اراکین میں صوبائی وزیر سعید غنی بھی شامل ہیں۔
-

محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے سینئر رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں باضابطہ طور پر قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے بعد محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھال لیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی بزنس رولز کے تحت اپوزیشن لیڈر کی تقرری 16 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام آئینی اور پارلیمانی تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ تقرری عمل میں لائی گئی، جس کے بعد محمود خان اچکزئی ایوان میں اپوزیشن کی نمائندگی کریں گے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ اس وقت خالی ہوا تھا جب 9 مئی کے کیس میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کی نااہلی سامنے آئی۔ ان کی نااہلی کے بعد اپوزیشن اتحاد میں مشاورت کا عمل شروع ہوا، جس کے نتیجے میں محمود خان اچکزئی کے نام پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اس نامزدگی کو اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اور دیگر اتحادی جماعتوں کی تائید حاصل رہی، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔
-

بانی پی ٹی آئی کے قریبی ساتھی طارق شفیع، حامد زمان فارن فنڈنگ کیس سے بری
بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے قریبی ساتھیوں کے خلاف فارن فنڈنگ سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بینکنگ کورٹ نمبر دو نے مقدمے کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے طارق شفیع، حامد زمان اور اسد کاکا خیل کو بری کر دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث عدالت نے تینوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم جاری کیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے بیرسٹر میاں علی اشفاق اور عدنان طارق نے عدالت میں مفصل دلائل پیش کیے۔
یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سال 2022 میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے انصاف ٹرسٹ کے لیے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کی، جو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے نے عدالت میں چالان بھی جمع کرایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ تحقیقات کے دوران شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔سماعت کے دوران دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کے خلاف عائد الزامات بے بنیاد ہیں اور استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔ وکلا نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ ملزمان کے کسی اقدام سے غیر قانونی فارن فنڈنگ ثابت نہیں ہوتی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا بغور جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے بعد بینکنگ کورٹ نمبر دو نے تینوں ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
-

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ،کسی کو معافی نہیں ملے گی،ایس ایچ او تھانہ گوجرخان
گوجرخان (قمرشہزاد) خونی کھیل پتنگ بازی کے سدباب اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پولیس نے شکنجہ مزید کس دیا۔ ایس ایچ او تھانہ گوجرخان مرزا طیب ظہیر بیگ نے ٹرانسپورٹ مافیا اور سہولت کاروں کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پتنگ بازی کے سامان کی نقل و حمل میں ملوث کسی بھی شخص کو معافی نہیں ملے گی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اپنے دفتر میں گڈز ٹرانسپورٹ، کارگو سروس، کورئیر کمپنیوں اور ساؤنڈ سسٹم مالکان کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انسپکٹر مرزا طیب ظہیر بیگ نے سخت ترین ہدایات جاری کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ کوئی بھی گڈز، کورئیر یا بس سروس پتنگ اور ڈور کی بلٹی بک نہیں کرے گی۔ اگر کسی بھی بس یا ویگن میں پتنگ بازی کا سامان پایا گیا تو نہ صرف سخت ترین ایف آئی آر درج ہوگی بلکہ وہ گاڑی بھی فوری طور پر بند کر دی جائے گی۔ اس موقع پر ساؤنڈ سسٹم مالکان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی پتنگ باز کو سسٹم فراہم نہیں کریں گے۔ کسی بھی قسم کے پروگرام کے لیے پولیس سے باقاعدہ این او سی لینا لازمی ہوگا اور اس کی پیشگی اطلاع تھانے میں دینا ہوگی، بصورتِ دیگر آلات ضبط کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایس ایچ او نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کی معاونت کرنے والے بھی برابر کے مجرم تصور ہوں گے۔ میٹنگ میں شریک تمام گڈز مالکان اور ٹرانسپورٹرز نے انسپکٹر مرزا طیب ظہیر بیگ کے اقدامات کی بھرپور حمایت کی اور یقین دہانی کروائی کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا مشکوک پارسل کی اطلاع فوری طور پر تھانہ میں دیں گے۔
-

شرقی علاقے میں تجاوزات کے خلاف انتظامیہ کا آہنی ہاتھ حرکت میں آ گیا
گوجرخان (قمرشہزاد) وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز کے ویژن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسلام پورہ جبر اور گردونواح میں تجاوزات مافیا کے خلاف انتظامیہ کا آہنی ہاتھ حرکت میں آگیا۔ اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ نے پیرافورس انچارج انسپکٹر عثمان کے ہمراہ اسلام پورہ جبر کے مختلف علاقوں کا طوفانی دورہ کیا اور جاری آپریشن کا خود جائزہ لیا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے موقع پر موجود افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر غیر قانونی تعمیرات اور تھڑوں کا صفایا کر دیا جائے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر خضر ظہور گورائیہ نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ عوامی راستوں میں رکاوٹ بننے والوں کے لیے اب کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے ایک بڑے کریک ڈاؤن کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام پورہ جبر تو صرف شروعات ہے، اس کے فوراً بعد بیول اور حبیب چوک میں بھی گرینڈ آپریشن شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور تجاوزات مافیا کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر کے اس سخت موقف اور اچانک دورے سے ناجائز قابضین میں کھلبلی مچ گئی ہے، جبکہ عوامی حلقوں نے انتظامیہ کے اس جرات مندانہ اقدام کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
-

20 سے 23 جنوری کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان
آج سے مغربی ہواؤں کا سسٹم پنجاب میں داخل ہوگا۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق 20 سے 23 جنوری کے دوران مری گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری اور بارش کی پیشگوئی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق 20 سے 23 جنوری کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہے. لاہور، سرگودھا، گجرانوالہ، ساہیوال، ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔کمشنرز ،ڈپٹی کمشنرز و دیگر انتظامی افسران کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، پولیس، فاریسٹ، سی اینڈ ڈبلیو، ٹورازم اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام تر انتظامات پیشگی مکمل کریں،ایمرجنسی کنٹرول رومز میں سٹاف کو 24 گھنٹے الرٹ رکھا جائے۔ ریسکیو 1122 کی ڈائزاسٹر رسپانس ٹیموں کو بھی ہائی الرٹ رکھا جائےشہری خراب موسم کی صورتحال میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں ۔مری میں سیاح احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ہدایات پر عمل کریں۔ سیاحوں کی سہولیات کے لیے مری میں مختلف مقامات پر فسیلیٹیشن سنٹرز قائم ہیں۔ عوام جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔شہری ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
