Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی میں سینیٹر ناصر بٹ اور وفاقی وزیر ریلوے کے درمیان سخت مکالمہ

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں سینیٹر ناصر بٹ اور وفاقی وزیر ریلوے کے درمیان سخت مکالمہ

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں سینیٹر ناصر بٹ اور وفاقی وزیر ریلوے کے درمیان سخت مکالمہ ہوا

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ریلوے میں شفافیت کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ریلوے میں کسی کو نوازنے یا ذاتی فائدے کا کوئی ارادہ نہیں،منسوخ شدہ ٹینڈر ذاتی بنیاد پر نہیں بلکہ بے ضابطگیوں پر کینسل کیا گیا، ناصر بٹ نے کہا کہ اگر پراسیس شفاف تھا تو ٹینڈر منسوخ کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی، ٹینڈر میں غلطی سامنے آنے پر کارروائی ناگزیر تھی، سینیٹر ناصر بٹ نے انکوائری رپورٹ پر اعتراض کیا اور کہا کہ اگر سب کچھ درست تھا تو پھر ٹینڈر منسوخی کیوں؟سینیٹر ناصر بٹ نے ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کیا، جس پر وزیر ریلوے نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر سرکاری طریقہ کار کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں،جی ایم ریلوے نے کہا کہ جو قواعد پر پورا نہیں اترتا اسے حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،معاملہ دوبارہ پراسیس کرنے اور کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی، جی ایم ریلوے نے کہا کہ آئندہ تمام پراسیس کمیٹی کے سامنے شفاف انداز میں لائے جائیں گے

  • پنجاب بھر میں گندم ریٹس میں 700 روپے فی من تک کا اضافہ

    پنجاب بھر میں گندم ریٹس میں 700 روپے فی من تک کا اضافہ

    لاہور سمیت پنجاب بھر میں گندم ریٹس میں 700 روپے فی من تک کا اضافہ ہوگیا، دس روز میں 3700 روپے فی من گندم کا ریٹ 4400 روپے ہوگیا۔ لاہور کے متعدد علاقوں میں 10 اور 20 کلو سستے آٹے کا تھیلا نایاب ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں گندم فی من 4800 روپے ہوگئی، گوجرانوالہ اور گجرات میں گندم کا فی من ریٹ 4500 روپے ہوگیا، ملتان میں 4450، بہاولپور اور ڈی جی خان میں 4400 روپے جبکہ اسلام آباد میں بھی گندم کا ریٹ فی من 4400 روپے تک پہنچ گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور کے متعدد علاقوں میں سستا آٹا نایاب، ہوگیا، 15 کلو آٹے کا تھیلا 1750 روپے میں فروخت ہونے لگا۔مرکزی چیئرمین فلار ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گندم کی قلت کے باعث گندم مہنگی کی۔ڈی ڈی فوڈ محکمہ خوراک کا کہان ہے کہ آٹے کی قلت نہیں، بازار میں وافر مقدار میں موجود ہے، 10 اور 20 کلو آٹے کا تھیلا دکانوں پر دستیاب ہے۔

  • سوشل میڈیا پر ججز کی تضحیک،8 افراد گرفتار

    سوشل میڈیا پر ججز کی تضحیک،8 افراد گرفتار

    سوشل میڈیا پر ججز کی تضحیک، این سی سی آئی اے نے 8 افراد کو گرفتار کر لیا

    این سی سی آئی اے نے عدالت میں رپورٹ جمع کروادی،این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پر ججز کی تضحیک اور کردار کشی کی تھی، جسٹس علی ضیاء باجوہ کچھ دیر بعد درخواست پر سماعت کریں گے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت پر این سی سی آئی اے کو سخت نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15جنوری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا،عدالت نے قرار دیا کہ ہم اس معاملہ کی تہہ تک جائینگے، ججز کی خلاف مہم چلانے والوں کی لسٹیں تیار کریں، آئندہ کوئی ایسی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ داری ڈی جی ہونگے۔

  • ڈی آئی خان،پولیس نے دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا

    ڈی آئی خان،پولیس نے دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا

    ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے رات گئے نامعلوم مسلح دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں جوابی کارروائی کے دوران 2 دہشت گرد مارے گئے، ایک پولیس جوان معمولی زخمی ہوا۔دہشت گردوں کی جانب سے چیک پوسٹ پر اچانک فائرنگ کی گئی جس پر پولیس نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی، دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس کے مطابق زخمی جوان کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او سجاد احمد موقع پر پہنچ گئے، انہوں نے کہا کہ جوانوں نے دلیری سے حملہ پسپا کیا، مورال بلند ہے۔

  • ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن ،پرویز الہیٰ پر فرد جرم عائد

    ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن ،پرویز الہیٰ پر فرد جرم عائد

    احتساب عدالت لاہور نے گجرات میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی سمیت دیگر پر فردِ جرم عائد کردی۔

    گجرات میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کیس پر سماعت ہوئی تو اس موقع پر چوہدری پرویز الہٰی سمیت دیگر ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کردیا،اس کے بعد چوہدری پرویز الہٰی احتساب عدالت سے واپس روانہ ہوگئے،احتساب عدالت کے جج رانا عارف نے ریفرنس پر سماعت کی، بعدازاں عدالت نے ریفرنس کے گواہوں کو 29 جنوری کو طلب کرلیا، نیب نے دو نئے ملزمان آنے کے بعد ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔ ملزمان میں محمد خان بھٹی، سلمان احمد، مظفر اقبال سمیت دیگر شامل ہیں،عدالت نے کہاکہ حاضری سے مستقل استثنیٰ کے باعث آئندہ پرویز الہی کو پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے،ان کے نمائندے ٹرائل کیلئے ان کی جگہ پیش ہوں۔

  • ایران ،مظاہروں کے بعد صورتحال معمول پر، داعش کی طرز پر حملےہوئے،وزیرخارجہ

    ایران ،مظاہروں کے بعد صورتحال معمول پر، داعش کی طرز پر حملےہوئے،وزیرخارجہ

    ایران میں مظاہروں کے دوران جاں بحق افراد کے جنازوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، دو ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد صورتحال معمول پر آنے لگی۔

    ایران میں 2 ہفتے جاری رہنے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد صورتحال معمول پر آنے لگی۔ ایرنی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات ملک بھر میں کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔رپورٹ کے مطابق تہران اور اصفہان میں مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے جنازوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کیخلاف نعرے لگائے۔مظاہرین کے ہاتھوں تباہ ہونیوالی مساجد اور دیگر عمارتوں کی بحالی پر کام کا آغاز کردیا گیا۔ایرانی سیکیورٹی فورسز نے تمام شہروں کے حساس مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہماری لڑائی دہشت گردوں سے تھی، مظاہرین سے نہیں، پھانسیاں دینے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شرپسندوں نے داعش کی طرز پر حملے کیے، پولیس اہلکاروں کے سر قلم کیے، زندہ جلادیا، عام مظاہرین پر گولیاں برسائیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قتل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ صدر ٹرمپ ایسا چاہتے تھے۔ عباس عراقچی نے پرتشدد مظاہروں کو اسرائیلی سازش قرار دیا۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کیساتھ سفارتکاری کا کوئی مثبت تجربہ نہیں رہا، پھر بھی سفارتکاری جنگ سے بہت بہتر ہے، امریکا نے جون جیسی غلطی دوبارہ دہرائی تو وہی نتیجہ نکلے گا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا، جون جیسی غلطی دوبارہ دہرائی تو وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ایرانی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ ملک میں امن وسکون اور صورتحال قابو میں ہے، مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جارہا تھا، انہوں نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ٹرمپ اور یورپی ممالک سے مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے، اگرچہ امریکا کیساتھ سفارتکاری کا کوئی مثبت تجربہ نہیں رہا، پھر بھی سفارتکاری جنگ سے بہت بہتر ہے۔

  • ایران میں سزائے موت کا عمل روک دیا گیا، ٹرمپ کا دعویٰ، مگر فوجی کارروائی زیرِ غور

    ایران میں سزائے موت کا عمل روک دیا گیا، ٹرمپ کا دعویٰ، مگر فوجی کارروائی زیرِ غور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں زیرِ حراست مظاہرین کو دی جانے والی سزائے موت کا عمل روک دیا گیا ہے اور انہیں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ملک میں "قتل و غارت بند ہو چکی ہے”۔ تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اب بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ ایران میں جاری کریک ڈاؤن کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گی۔

    صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت ترین کارروائیاں جاری ہیں اور عالمی سطح پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایرانی مظاہرین کو دی جانے والی ممکنہ سزائے موت پر عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، خاص طور پر 26 سالہ مظاہرہ کرنے والے ارفان سلطانی کے معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی محکمہ خارجہ، ارفان سلطانی کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایرانی حکام انہیں سزائے موت دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔تاہم ایران کی عدلیہ نے سرکاری میڈیا کے ذریعے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارفان سلطانی کو سزائے موت نہیں سنائی گئی۔ عدالتی بیان کے مطابق ان پر "ملکی سلامتی کے خلاف اجتماع و سازش” اور "ریاست مخالف پروپیگنڈا” کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی سزا قانون کے مطابق قید ہے، نہ کہ سزائے موت۔

    صدر ٹرمپ نے بھی بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "اب سزائے موت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے”۔تاہم ارفان سلطانی کے ایک اہلِ خانہ کے مطابق اگرچہ طے شدہ دن پر پھانسی نہیں دی گئی، لیکن سزائے موت کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا اور خاندان اب بھی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

    امریکی فوجی اڈوں پر حفاظتی اقدامات، قطر میں اہلکاروں کو انخلا کی ہدایت
    ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر قطر میں موجود مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے سے بعض امریکی اہلکاروں کو "احتیاطی اقدام” کے طور پر نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے ایرانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔

    ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، معلومات تک رسائی تقریباً ناممکن
    ایران میں حکومتی سطح پر نافذ کیا گیا مواصلاتی بلیک آؤٹ تقریباً ایک ہفتے سے جاری ہے۔ سائبر سیکیورٹی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایرانی عوام کو 156 گھنٹوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بلیک آؤٹ کے باعث حقیقی صورتحال جاننا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ حکومتی حمایت یافتہ اکاؤنٹس، جعلی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جھوٹی معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ادھر ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک ایران میں مفت سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق زمینی رکاوٹوں اور آلات کی قلت کے باعث اس کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔ فرانس بھی اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورک یُوٹیل سیٹ (Eutelsat) کے ذریعے ایران کو انٹرنیٹ سہولت دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔

    ہزاروں مظاہرین ہلاک، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہولناک انکشافات
    امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 2,400 مظاہرین ہلاک اور 18,470 سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں، تاہم سی این این ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ایران میں "غیر معمولی پیمانے پر غیر قانونی قتل” کیے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان رپورٹس کو "مبالغہ آرائی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کوئی بدامنی نہیں۔

    ایرانی عوام خوف اور صدمے کا شکار، لاشیں وصول کرنے پر بھی فیس
    سی این این سے گفتگو کرنے والے ایرانی شہریوں اور ایک ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ اسپتالوں میں مردہ خانوں پر دباؤ ہے، درجنوں لاشیں ایک ہی جگہ رکھی جا رہی ہیں، جبکہ بعض خاندانوں سے لاشیں وصول کرنے کے لیے رقم بھی طلب کی جا رہی ہے۔ایک ڈاکٹر کے مطابق مظاہروں کے دوران اسپتالوں میں "ماس کیژولٹی صورتحال” تھی اور وہ ایک ہی رات میں 10 سے زائد آپریشن کرنے پر مجبور ہوا۔تہران کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ "پورا شہر خوف، صدمے اور خاموشی میں ڈوبا ہوا ہے، لوگ بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں”۔

    اگرچہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فی الحال ایران میں مظاہرین کو قتل یا پھانسی دینے کا عمل روکا گیا ہے، لیکن انہوں نے فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سمیت بعض بااثر شخصیات ایران پر جلد حملے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی جبر،تہلکہ خیز انکشاف

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی جبر،تہلکہ خیز انکشاف

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی جبر: عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ کا تہلکہ خیز انکشاف سامنے آ گیا

    عالمی انسانی حقوق کی رپورٹس نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں منظم تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جبری بے دخلیاں بے نقاب کر دیں، ’انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر ‘ کے مطابق مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات، ہندوتوا تشدد اور ریاستی جبر میں خطرناک اضافہ بھارتی قیادت کے متعصبانہ ایجنڈے کو ظاہر کرتا ہے،رپورٹس کے مطابق 2025 کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50 مسلمان شہید کئے گئے.ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ہندوتوا انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں 23 جبکہ ہندو انتہا پسند حملوں میں 27 مسلمان شہید ہوئے،مسلم مخالف تقاریر کے نتیجے میں 13 ریاستوں میں 26 سے زائد منظم اجتماعی تشدد کے واقعات پیش آئے،مذہبی بنیادوں پر سب سے زیادہ قتل اتر پردیش میں ہوئے جہاں 6 مسلمان شہید کیے گئے،گائے کے نام پر تشدد کے واقعات میں 9 مسلمانوں کو شہید اور 3 افراد کو شدید تشدد کے بعد خودکشی پر مجبور کیا گیا،مقبوضہ جموں و کشمیر، آسام، اتر پردیش اور دیگر علاقوں میں 17 سے زائد مسلمان اور 2 معصوم بچے ریاستی درندگی کا نشانہ بنے،4 ہزار سے زائد بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر بھارت سے بے دخل کیا گیا،گزشتہ سال مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئےاملاک کی مسماری اور بے دخلی بھارتی ریاست کی پہچان بنی رہی،

    مبصرین کے مطابق بھارت میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا سماجی ہم آہنگی اور علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ ہے ،ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال بھارت کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک کی صف میں کھڑا کر چکا ہے،

  • افغانستان میں غربت اور حکومتی تسلط کا بڑھتا اثر، بغاوت بھڑکنے کا خدشہ

    افغانستان میں غربت اور حکومتی تسلط کا بڑھتا اثر، بغاوت بھڑکنے کا خدشہ

    طالبان رجیم کے حکومتی تسلط ، غربت اور بیروزگاری پرسابق افغان وزیر نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    افغانستان پر قابض طالبان کی تمام توجہ جابرانہ اقتدار کومضبو ط کرنے پر مرکوز ہے،افغان انٹرنیشنل کے مطابق
    سابق افغان وزیر انوارلحق احادی نے کہا کہ عوام کی معاشی مشکلات و سیاسی اخراج طالبان کیخلاف غصہ بڑھا رہا ہے،افغان عوام طالبان سے اقتصادی بحران اور روزگار کے حوالے سے جوابدہی کی توقع رکھتے ہیں،یونیسف کے مطابق افغانستان میں تقریباً نصف بچے شدید غذائی غربت کا شکار ہیں،ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے ایک نوجوان بیروزگار ہے ،افغان خواتین کی تنظیم روا نے بھی افغانستان کو خواتین کیلئے دنیا کا بدترین ملک قرار دیا ہے

    افغان مبصرین کے مطابق طالبان رجیم اپنی جابرانہ طرز حکمرانی کے باعث عوام کے آلام مصائب سے لاتعلق ہوچکی ہے،طالبان رجیم کا غیر قانونی تسلط معاشی تباہی اورخطہ میں عدم استحکام کا باعث ہے

  • ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لئے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس

    ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لئے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لئے نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورتی اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معیشت کی مجموعی ترقی، صنعت و تجارت اور دیگر شعبہ جات کی بہتری میں نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت حکومت کے معاشی اصلاحات کا حصہ ہے۔پاکستان ریلویز قلیل وسائل کے باوجود نہایت تندہی اور محنت سے مؤثر کارکردگی دکھا رہے ہیں جس کے لیے وفاقی وزیر ریلویز اور ان کی ٹیم لائق تحسین ہے۔پاکستان ریلویز میں ادارہ جاتی اور انتظامی کارکردگی کو مزید موثر کرنے کے لیے انقلابی اقدامات دہائیوں سے ناگزیر تھے۔ پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحات اور اسکو مزید منافع بخش ادارہ بنانے سے، یہ ادارہ ملکی صنعت و تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان ریلویز تمام متعلقہ اکائیوں اور اداروں سے بامعنی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل روڈ میپ اگلے ہفتے پیش کرے۔ پاکستان ریلویز کی معاشی ترقی اور علاقائی تعاون میں اہمیت کے پیش نظر حکومت نے انقلابی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے اطمینان بخش نتائج سامنے آرہے ہیں۔پاکستان ریلوے سے متعلق ترقیاتی کاموں کے لیے حکومتی فنڈز کی دستیابی کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا جو افسوسناک ہے۔ اگلے سال کے PSDP میں ریلویز کے ترقیاتی منصوبوں کو متناسب بجٹ دیا جائے گا. پاکستان ریلویز کو بین الاقوامی سطح پر عالمی معیار کا کمرشل مواصلاتی نظام کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، پاکستان میں معیاری ریلوے نظام معاشی ترقی اور ملکی آمدنی بڑھانے میں قابل قدر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ریلوے کے ڈھانچے کی منافع بخش کمرشل استعمال کے لیے پرائیویٹ پارٹنر شپ کے امکانات کا بھرپور جائزہ لیا جائے۔ پاکستان ریلویز کا معیاری نظام نہ صرف اندرون ملک بلکہ علاقائی صنعت و تجارت اور تعاون میں بھی کلیدی کردار رکھتا ہے۔ پاکستان ریلویز کے منظم نظم و نسق اور منافع بخش کمرشل سطح پر استعمال کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع اور موثر حکمت عملی جلد موثر مرتب کی جائے

    وزیراعظم نے ریلویز کی ملکی مجموعی معاشی ترقی، علاقائی صنعت و تجارت میں تعاون اور عوامی سہولت اور کمرشل استعمال کے لیے معیاری کارکردگی کی اہمیت کو اجاگر کیا. وزیراعظم نے دستیاب ذرائع اور معاشی مسائل کے باوجود بہترین کارکردگی پر وزارت ریلوے کی تمام ٹیم کو شاباش دی. وزیراعظم نے وزارت ریلوے کے وسائل کے کمرشل استعمال کے لیے جامع حکمت عملی جلد از جلد مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دی. اجلاس میں شریک ہونے والے نجی شعبے کے ماہرین نے ریلویز کی کارکردگی کو مزید موثر کرنے اور اس کے کمرشل استعمال کے تناظر میں مختلف سفارشات پیش پیش کی۔ وزیراعظم نے اجلاس میں شریک نجی شعبے کے ماہرین سے قابل قدر سفارشات پیش کرنے پر اظہار تشکر کیا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ, وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، نیشنل کوارڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹننٹ جنرل( ریٹائرڈ) سرفراز احمد ، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران کے علاوہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین زید بشیر، پیر سعد احسان الدین اور دیگر نے شرکت کی.