Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چترال میں امریکی شکاری کا کشمیری مارخور کا کامیاب ٹرافی شکار

    چترال میں امریکی شکاری کا کشمیری مارخور کا کامیاب ٹرافی شکار

    چترال میں ایک امریکی شکاری نے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی سخت نگرانی میں نایاب کشمیری مارخور کا کامیاب ٹرافی شکار کرلیا۔ یہ شکار حکومتِ خیبر پختونخوا کے منظور شدہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کی معاشی بہتری ہے۔

    محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق امریکی شکاری نے کشمیری مارخور کے شکار کے لیے ٹرافی ہنٹنگ پرمٹ 2 لاکھ 70 ہزار امریکی ڈالر میں حاصل کیا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 7 کروڑ 56 لاکھ روپے بنتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم نہ صرف وائلڈ لائف کے تحفظ بلکہ مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔محکمہ وائلڈ لائف نے بتایا کہ شکار کیا جانے والا کشمیری مارخور انتہائی خوبصورت اور صحت مند تھا، جس کے سینگوں کی لمبائی 52 انچ تھی۔ ماہر شکاری نے اسے تقریباً 510 میٹر کے فاصلے سے نشانہ بنایا۔ شکار کے دوران سیکیورٹی اور نگرانی کے تمام تقاضے پورے کیے گئے اور وائلڈ لائف اہلکار موقع پر موجود رہے۔

    محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق امریکی شکاری نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ حکام نے مزید بتایا کہ ٹرافی ہنٹنگ سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم کا 80 فیصد مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا، جس میں تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور مقامی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کی بدولت نہ صرف نایاب جنگلی حیات کے تحفظ میں مدد ملتی ہے بلکہ مقامی افراد کو مالی فوائد حاصل ہونے کے باعث وہ غیر قانونی شکار کی حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں۔ چترال اور اس کے گردونواح میں یہ پروگرام مارخور جیسے نایاب جانور کی تعداد میں اضافے کا باعث بنا ہے، جسے پاکستان کا قومی جانور ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی ٹرافی ہنٹنگ کے ایسے شفاف اور منظم پروگرام جاری رکھے جائیں گے تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔

  • ٹک ٹاک فیفا ورلڈ کپ 2026 کو شائقین کے مزید قریب لانے کیلیے ترجیحی پلیٹ فارم

    ٹک ٹاک فیفا ورلڈ کپ 2026 کو شائقین کے مزید قریب لانے کیلیے ترجیحی پلیٹ فارم

    ٹک ٹاک فیفا ورلڈ کپ 2026 کو شائقین کے مزید قریب لانے کے لیے فیفا کا پہلا پریفرڈ پلیٹ فارم بن گیا

    دنیا کے مقبول ترین شارٹ ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے فیفا کے ساتھ ایک عالمی شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ٹک ٹاک کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے فیفا کا پہلا Preferred Platform قرار دیا گیا ہے۔ اس شراکت داری کے ذریعے ٹک ٹاک پر ورلڈ کپ کی سرکاری اور جامع کوریج، پسِ پردہ مناظر تک رسائی اور شائقین کے لیے انٹرایکٹو ڈیجیٹل تجربات فراہم کیے جائیں گے۔

    یہ معاہدہ 2026 کے اختتام تک مؤثر رہے گا اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فٹبال کے سب سے بڑے ایونٹ کو ڈیجیٹل دنیا میں کس طرح ایک نئے انداز سے پیش کیا جائے گا۔ ٹک ٹاک اس دوران لائیو میچز کے علاوہ بھی شائقین، کانٹینٹ کریئیٹرز اور فٹبال کمیونٹی کو ورلڈ کپ سے جوڑنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔اس تعاون کے تحت ٹک ٹاک پر فیفا ورلڈ کپ 2026 کی کوریج کو مزید وسعت دی جائے گی، جس میں خصوصی اور اصل کانٹینٹ شامل ہوگا۔ ٹک ٹاک کو شائقین اور کریئیٹرز کے لیے ورلڈ کپ کے دوران مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جائے گا، جہاں کمیونٹی پر مبنی اور انٹرایکٹو فٹبال تجربات میسر ہوں گے۔

    یہ شراکت داری ٹک ٹاک اور فیفا کے درمیان پہلے سے کامیاب تعاون کا تسلسل ہے، جس کی مثال فیفا ویمنز ورلڈ کپ 2023 ہے۔ اس ایونٹ کے دوران ٹک ٹاک پر دنیا بھر میں دسیوں ارب ویوز ریکارڈ کیے گئے، جس سے اسپورٹس کانٹینٹ کی کھپت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

    Preferred Platform شراکت داری کا مرکز ٹک ٹاک کا جامع FIFA World Cup 2026 Hub ہوگا، جو TikTok GamePlan کے تحت چلایا جائے گا۔ اس ہب کے ذریعے شائقین 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سے متعلق دلچسپ اور متحرک کانٹینٹ دریافت کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ میچ ٹکٹس، میچ دیکھنے کی معلومات، خصوصی اسٹیکرز، فلٹرز اور گیمیفیکیشن فیچرز کے ذریعے شائقین کی شمولیت کو مزید بڑھایا جائے گا۔

    فیفا کے سیکریٹری جنرل میتھیاس گراف اسٹروم نے اس موقع پر کہا کہ،“فیفا کا مقصد یہ ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا جوش و خروش دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ شائقین تک پہنچایا جائے، اور اس مقصد کے لیے ٹک ٹاک کو پہلا Preferred Platform بنانا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ یہ شراکت داری عالمی سطح پر شائقین کو ورلڈ کپ سے جوڑنے کے نئے اور بے مثال مواقع فراہم کرے گی۔”

    ٹک ٹاک کے گلوبل ہیڈ آف کانٹینٹ جیمز اسٹافورڈ کا کہنا تھا،“گزشتہ چند برسوں میں ٹک ٹاک پر فٹبال کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ فیفا کے پہلے Preferred Platform کے طور پر ہم شائقین کو 90 منٹ کے میچ سے آگے بڑھ کر خصوصی کانٹینٹ اور کریئیٹرز تک بے مثال رسائی فراہم کرنے پر پرجوش ہیں۔ TikTok GamePlan اسپورٹس پارٹنرز کے لیے فین ڈم کو قابلِ پیمائش کاروباری نتائج میں تبدیل کرتا ہے۔”

    اس شراکت داری کے تحت پہلی مرتبہ ٹک ٹاک اور فیفا ایک منظم عالمی کریئیٹر پروگرام بھی متعارف کرائیں گے۔ منتخب کریئیٹرز کو پریس کانفرنسز، ٹریننگ سیشنز اور دیگر خصوصی پسِ پردہ لمحات تک رسائی دی جائے گی، جبکہ وسیع تر کریئیٹر کمیونٹی کو فیفا کے آرکائیول فوٹیج کے ذریعے مشترکہ کانٹینٹ تخلیق کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے شائقین کو ورلڈ کپ کے منفرد اور نئے زاویوں سے تجربات دیکھنے کو ملیں گے۔

  • کراچی شہر میں دن رات کام ہو رہا ہے،مرتضیٰ وہاب

    کراچی شہر میں دن رات کام ہو رہا ہے،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو موقع دیا تو اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور شہر میں عملی طور پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ آنے والے چند دنوں میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کراچی کے لیے ایک بڑا اور جامع ترقیاتی پیکج متعارف کرایا جائے گا، جس سے شہری مسائل کے حل میں نمایاں پیش رفت ہوگی۔

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور سندھ حکومت باہمی تعاون سے شہر کی بہتری کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہی ہیں، جبکہ ٹاؤنز کی سطح پر بھی اداروں سے یہی توقع ہے کہ وہ شہری سہولتوں کی فراہمی میں اسی جذبے کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام کام شفافیت اور بہتر منصوبہ بندی کے تحت مکمل کیے جائیں گے،میئر کراچی نے بتایا کہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیراتی کام مرحلہ وار مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی تمام اہم شاہراہوں کو بھی مرحلہ وار بہتر بنایا جائے گا تاکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے اور شہریوں کو بہتر سفری سہولتیں میسر ہوں۔

    جہانگیر روڈ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس شاہراہ کی تعمیر و بحالی سے نہ صرف ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی بلکہ اطراف کے علاقوں میں شہری سہولتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق جہانگیر روڈ کی بحالی کراچی کی مجموعی ترقیاتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔میئر کراچی نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو کراچی کے عوام نے جو اعتماد دیا ہے، اس کے نتیجے میں شہر بھر میں دن رات ترقیاتی کام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے اور شہری سہولتوں کی بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، تاکہ کراچی کو ایک بہتر اور جدید شہر بنایا جا سکے۔

  • اڈیالہ جیل میں بااثرقیدی کا دوسرے پر تشدد،ناک کی ہڈی توڑ دی

    اڈیالہ جیل میں بااثرقیدی کا دوسرے پر تشدد،ناک کی ہڈی توڑ دی

    گوجرخان (قمرشہزاد) اڈیالہ جیل راولپنڈی غریب قیدی کے لیے جہنم بن گئی۔ جیل کے اندر مبینہ طور پر ملکھو گروپ کی دہشت گردی عروج پر پہنچ گئی، جیل ملازمین کی ملی بھگت سے بے گناہ قیدی پر زندگی اجیرن کر دی گئی۔ تھانہ گوجرخان کے رہائشی قیدی منصور احمد پر وحشیانہ تشدد، ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی، سامان بھی لوٹ لیا گیا۔ متاثرہ قیدی کی ماں انصاف کے لیے تڑپ اٹھی اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو درخواست دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید منصور احمد ولد خالد حسین (مقدمہ نمبر 463 /2014)، کی والدہ مسرت بیگم نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ میرے بیٹے کے ساتھی قیدی صدیق ولد باشا عرف ملکھو نے مبینہ طور پر ایجاز سیٹھ نامی شخص کے ایما پر وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں منصور احمد کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ درخواست میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ملکھو گروپ جیل کے اندر اپنی عدالت لگاتا ہے، جو مشقت سے بھی انکاری ہے اور سائلہ کے بیٹے کو بیگناہ قصوری بھی بند کرواتا ہے جبکہ ملکھو کو جیل عملے کی مکمل پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ بااثر قیدی نے منصور احمد کے کپڑے اور برتن بھی چھین لیے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ جیل ملازمین اس معاملے میں ملوث ہیں اور متاثرہ قیدی کو مزید سزا دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔متاثرہ قیدی کی بزرگ والدہ مسرت بیگم نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ اس کے بیٹے کو انصاف فراہم کیا جائے اور اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔

  • گوجرخان،آتشزدگی کے دو مختلف واقعات گاڑیاں، فارمیسی اور دکانیں جل کر خاکستر

    گوجرخان،آتشزدگی کے دو مختلف واقعات گاڑیاں، فارمیسی اور دکانیں جل کر خاکستر

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان شہر میں آتشزدگی کے دو مختلف المناک واقعات نے شہر کو لرزا کر رکھ دیا، جہاں کروڑوں روپے مالیت کا قیمیتی سامان ادویات، موبائل فونز اور گاڑیاں جل کر کوئلہ بن گئیں۔ ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی نے مارکیٹ کے بڑے حصے کو مزید تباہی سے بچا لیا۔

    پہلا واقعہ ڈھوک حیات علی میں واقع ایک نجی پارکنگ ایریا میں اچانک پراسرار طور پر آگ بھڑک اٹھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے وہاں کھڑی گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آتشزدگی کے نتیجے میں تین گاڑیاں مکمل طور پر جل کر ڈھانچہ بن گئیں۔ وہاں موجود افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت دیگر گاڑیوں کے شیشے توڑ کر انہیں دھکا لگا کر محفوظ مقام پر منتقل کیا، جس سے مزید نقصان کا خدشہ ٹل گیا۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا، تاہم آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔

    دوسرا واقعے ریلوے روڈ پر ہولناک آتشزدگی نے کاروبار تباہ کر دیا جہاں گزشتہ رات تقریباً ڈھائی بجے ریلوے روڈ پر واقع ایک مشہور باربی کیو شاپ میں اچانک آگ لگی جس نے سیکنڈوں میں شدت اختیار کر لی۔ آگ کے بلند ہوتے شعلوں نے پڑوس میں واقع الغفور فارمیسی ایک موبائل شاپ اور چکن شاپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس افسوسناک واقعے میں فارمیسی میں موجود لاکھوں روپے مالیت کی ادویات، قیمتی موبائل فونز اور دکانوں کا دیگر فرنیچر جل کر خاکستر ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 گوجرخان کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا۔ ریسکیو حکام کی تندہی کے باعث مارکیٹ کی درجنوں دیگر دکانیں بڑی تباہی سے محفوظ رہیں۔ متاثرہ دکانداروں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جائے اور نقصانات کا ازالہ کیا جائے

  • وزیراعلیٰ کی جانب سے گوجرخان میں علماء الاؤنس کارڈ کی تقسیم کا باقاعدہ آغاز

    وزیراعلیٰ کی جانب سے گوجرخان میں علماء الاؤنس کارڈ کی تقسیم کا باقاعدہ آغاز

    گوجرخان (قمرشہزاد) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق دینی مدارس اور مساجد کے علماء کرام کی فلاح و بہبود کے لیے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے گوجرخان میں علماء الاؤنس کارڈ کی تقسیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر آفس گوجرخان میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران تحصیل بھر سے منتخب علماء کرام میں الاؤنس کارڈز تقسیم کیے گئے۔

    اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان نے علماء کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "علماء کرام معاشرے کا سرمایہ اور مینارہ نور ہیں، حکومت پنجاب ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ کارڈ ان کے احترام اور مالی تعاون کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ تقریب میں موجود علماء کرام نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے دیندار طبقے کی پذیرائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار کسی حکومت نے عملی طور پر علماء کے مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے لیے باقاعدہ وظائف کا اجراء کیا ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔ تقریب کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی اور اتحاد بین المسلمین کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔انتظامیہ کے مطابق رجسٹرڈ علماء کو مرحلہ وار کارڈز کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

  • سب سے پہلے خودکش حملوں کیخلاف فتویٰ پاکستان کے علماء نے دیا،علامہ طاہر اشرفی

    سب سے پہلے خودکش حملوں کیخلاف فتویٰ پاکستان کے علماء نے دیا،علامہ طاہر اشرفی

    پشاور میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور ملک دشمن قوتوں کا اصل نشانہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہیں، تاہم پوری قوم اپنی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف علماء کرام نے ہمیشہ دوٹوک اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی کے مطابق “پیغامِ پاکستان” کے عنوان سے جاری متفقہ قومی فتویٰ پر ملک بھر کے 15 ہزار سے زائد علماء و مشائخ کے دستخط موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتل کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کا بنیادی مقصد معاشرے میں امن، برداشت، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کے خلاف سب سے پہلا اور واضح فتویٰ پاکستان کے علماء نے جاری کیا، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔علامہ طاہر اشرفی نے اعلان کیا کہ آنے والا جمعہ ملک بھر میں “پیغامِ امن” کے نام سے منایا جائے گا، جس کے دوران مساجد اور مذہبی اجتماعات میں امن، اتحاد، قومی یکجہتی اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا جائے گا۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر انداز میں آگاہی دیں اور نوجوان نسل کو گمراہ کن نظریات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن و امان کے قیام، شدت پسندی کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔

  • شائننگ انڈیا یا اعدادی فریب؟ بھارت میں ریاستی بیانیہ حقیقت مسخ کرنے لگا

    شائننگ انڈیا یا اعدادی فریب؟ بھارت میں ریاستی بیانیہ حقیقت مسخ کرنے لگا

    بھارت میں مودی حکومت حقائق کے برعکس مبالغہ آمیز بیانیے اورمفروضوں پر مبنی اعداد و شمار پر انحصار کرنے لگی

    معاشی، انتخابی اور جنگ جیسے حساس شعبوں میں شفافیت کمزور ہو چکی ہے اور عوام کو جھوٹے بیانیے سنائے جا رہے ہیں،مودی کے "شائنگ انڈیا” کا بیانیہ مبالغہ آمیز دعوؤں ، دھوکہ اور اقلیتوں کیخلاف انتہا پسند پالیسیوں پر مبنی رہ گیا ہے،نیویارک ریویو آف بکس میں شائع کرسٹوفر ڈی بیلیگ کا مضمون Hype and Fraud in India بھارت کے موجودہ حکومتی ماڈل پر تنقیدی سوال اٹھاتا ہے،مضمون میں جنگ کا پہلو سب سے چونکا دینے والا ہے، جہاں آپریشن سندور میں بھارت کی “فتح” کو ڈی بیلیگ نے محض جھوٹ قرار دیا،نیویارک ریویو کے مطابق گذشتہ سال مئی میں پاکستان بھارت کشیدگی کے دوران متعدد بھارتی طیارے گرائے گئے، ماہرین اس جنگ کو پاکستان کی حالیہ دہائیوں کی “سب سے بڑی علامتی کامیابی” قرار دیتے ہیں،بھارتی عوام کو ایک اسٹیج شدہ شو دکھا کر “کامیابی” بیچی گئی یوں جنگ بھی ایک تھیٹر بن گئی،بھارتی ریاست نے ترقی، غربت کے خاتمے، روزگار اور جمہوریت جیسے بنیادی معاملات میں حقائق کے بجائے اعداد و شمار اور بیانیوں کو مرکزی حیثیت دے دی ہے،بھارت میں معاشی پیش رفت کے دعوؤں کے باوجود بے روزگاری، عدم مساوات اور غیر رسمی معیشت جیسے مسائل جوں کے توں موجود ہیں،بھارت میں انتخابی عمل میں شفافیت اور احتساب کے ذرائع اس حد تک محدود ہو چکے ہیں کہ جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ گئی ہے،

    کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے مطابق 2014 کے بعدبھارتی حکومت نے غربت اور بے روزگاری کے پیمانے بدل کر آزاد ڈیٹا اور حقائق جانچنے والے اداروں کو کمزور کر دیا،اپریل 2025 میں عالمی بینک سے منسوب جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ؛ بھارت میں انتہائی غربت 12-2011کے 16.2 فیصد سے کم ہو کر 23-2022 میں 2.3 فیصد رہ گئی ہے،نیویارک ریویو کے مطابق پروفیسر گورودت سمیت متعدد آزاد محققین نے اس طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور متبادل مطالعات میں کہیں زیادہ غربت سامنے آئی،جموں و کشمیر کی آئینی خودمختاری کا خاتمہ اور شہریت کے قوانین میں مذہبی جھکاؤ مسلمانوں کو قومی دائرے سے باہر دھکیلنے کا ایک منصوبہ ہے،بھارت کے سابق چیف اکنامک ایڈوائزر اروِند سبرامنیم کے مطابق ڈیٹا چھپانے کی وجہ سے معیشت کی اصل تصویر غائب ہو گئی ہے، دی اکانومسٹ بھی بھارت کو اب “جمہوریت سے آمریت کی طرف بڑھتی ہوئی ریاست” قرار دیتا ہے،

    ماہرین کے مطابق کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے اس مضمون کا حاصل یہ ہے کہ؛جو ریاست غربت، روزگار، انتخابات اور اقلیتوں پر جھوٹ بول سکتی ہے، وہ جنگ کے حوالے سے بھی جھوٹ بولے گی، یہ مضمون کسی ایک پالیسی نہیں بلکہ’’ پورے بھارتی نظام‘‘ پر سوال اٹھا رہا ہے،

  • لورالائی اولیو آئل ، بلوچستان کا فخر، پاکستان کی پہچان

    لورالائی اولیو آئل ، بلوچستان کا فخر، پاکستان کی پہچان

    “بلوچستان کے دل، لورالائی کی سرزمین،جہاں پہاڑوں کے دامن میں اگنے والا زیتون آج دنیا میں اپنی پہچان بنا رہا ہے۔یہی وہ زیتون ہے جس نے سلور ایوارڈ حاصل کیااور معیار کے اعتبار سے، اسپین کے بعد دنیا کا دوسرا بہترین زیتون تسلیم کیا گیا۔”

    “یہاں کے زیتون کے باغات صرف خوبصورتی نہیں…بلکہ ایک انقلاب کی علامت ہیں۔ایک ایسا انقلاب جو کسانوں کی قسمت بدل رہا ہے،اور پاکستان کو زرعی معیشت میں نئی طاقت دے رہا ہے۔”

    تیل نکالنے کا مرحلہ
    “زیتون توڑ کر جدید ملز تک لایا جاتا ہے…
    جہاں سب سے پہلے اس کی صفائی ہوتی ہے۔
    پھر بڑے اسٹیل گرائنڈر میں زیتون کو پیس کر موٹی پیسٹ بنائی جاتی ہے۔
    اس کے بعد ملنگ مشین میں پیسٹ کو آہستہ آہستہ گھمایا جاتا ہے…
    تاکہ تیل کے ذرات الگ ہو سکیں۔
    پھر سینٹری فیوج مشین تیل کو پانی اور ٹھوس اجزا سے جدا کر دیتی ہے۔
    اور یوں…
    خالص، قدرتی، ایکسٹرا ورجن لورالائی اولیو آئل تیار ہوتا ہے۔
    وہی تیل… جس کا معیار آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔”

    صحت بخش فوائد
    “لورالائی کا زیتون کا تیل
    دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے…
    کولیسٹرول کنٹرول کرتا ہے…
    جسم کو اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتا ہے…
    اور قدرت کا وہ تحفہ ہے جسے ڈاکٹر بھی سونے سے زیادہ قیمتی کہتے ہیں۔”

    “زیتون کی کاشت نے لورالائی کے کسانوں کی آمدن میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔
    مقامی ملز نے روزگار پیدا کیا،
    نئے کاروبار کھڑے کیے،
    اور بلوچستان کو زیتون کے نقشے پر نمایاں جگہ دی۔

    سینئر سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر عبداللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے سائنٹیفک اعلیٰ سطح کے کام کر سکتے ہیں، جیسا کہ اپر بلوچستان میں زیتون کے تیل کے تجربے کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک ایسا فخر ہے،جس نے پاکستان کے شمالی بلوچستان کو بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیابی کی نئی راہیں دی ہیں۔”

  • غنی محمود قصوری باغی ٹی وی کے ڈویژنل،طارق نوید سندھو ضلعی بیوروچیف مقرر

    غنی محمود قصوری باغی ٹی وی کے ڈویژنل،طارق نوید سندھو ضلعی بیوروچیف مقرر

    قصور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی غنی محمود قصوری کو باغی ٹی وی کا ڈویژنل بیورو چیف مقرر کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل وہ ضلع قصور میں باغی ٹی وی کے ضلعی بیورو چیف کے فرائض انجام دے رہے تھے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، غیر جانبدار رپورٹنگ اور صحافتی خدمات کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔یہ تقرری باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے موقع پر عمل میں لائی گئی، اسی موقع پر طارق نوید سندھو کو باغی ٹی وی کا ضلعی بیورو چیف قصور مقرر کیا گیا ہے۔ طارق نوید سندھو بھی صحافت کے شعبے میں ایک متحرک اور ذمہ دار صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

    غنی محمود قصوری کی ڈویژنل بیورو چیف کے طور پر تقرری کو صحافتی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں سے باغی ٹی وی کی خبری کوریج کو مزید مؤثر بنائیں گے۔اس موقع پر صحافی برادری، دوست احباب اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے غنی محمود قصوری اور طارق نوید سندھو کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی گئی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ صحافتی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں شخصیات اپنی نئی ذمہ داریوں کو بھرپور دیانت داری اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ نبھائیں گی۔