اسلام آباد میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
شہریوں، ماحولیاتی کارکنوں اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں سبزہ ختم کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی دباؤ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے اور فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کی ہے۔وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے اس معاملے پر فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ یہ بتایا جائے کہ درختوں کی کٹائی کس منصوبے کے تحت کی گئی، اس کی اجازت کس نے دی اور اس کے ذمہ دار افسران یا ادارے کون ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی سی ڈی اے کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹ کا خود جائزہ لیں گے اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو تفصیلی طور پر آگاہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا ماحولیاتی قوانین، این او سیز اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اس پورے معاملے پر براہِ راست نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر درختوں کی کٹائی غیرقانونی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں درختوں کی کٹائی نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ شہریوں کی صحت، ہوا کے معیار اور موسمی اثرات پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
