Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آئی ایم ایف کی جانب سے خامیوں کی نشاندہی، وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دیدی

    آئی ایم ایف کی جانب سے خامیوں کی نشاندہی، وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دیدی

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے گورننس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کے بعد حکومت پاکستان نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اقتصادی گورننس سسٹمز کی بہتری کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

    وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی یہ کمیٹی اقتصادی گورننس اصلاحات کے جامع ایجنڈے کا حصہ قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ کو 15 رکنی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جو اقتصادی نظام میں اصلاحات، پالیسی ہم آہنگی اور گورننس کے عملی اقدامات کی نگرانی کریں گے۔ کمیٹی سہ ماہی بنیادوں پر اپنی کارکردگی اور پیش رفت سے متعلق رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید پالیسی فیصلے کیے جائیں گے۔کمیٹی میں وفاقی حکومت کے اہم اداروں اور ریگولیٹری باڈیز کے اعلیٰ حکام کو شامل کیا گیا ہے۔ ارکان میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری منصوبہ بندی، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری آئی ٹی اور سیکرٹری اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    ریگولیٹری اور مالیاتی شعبے کی نمائندگی کے لیے چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور چیئرمین کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ مزید برآں منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا)، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس اور ایڈیشنل آڈیٹر جنرل بھی کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ کمیٹی کے لیے سیکرٹری کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ وفاقی وزارت خزانہ کمیٹی کو مکمل سیکرٹریل سپورٹ فراہم کرے گی۔

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ نومبر 2025 میں جاری کی گئی تھی، جس میں پاکستان میں گورننس کے نظام میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اگر گورننس میں مؤثر بہتری لائی جائے اور کرپشن کے خلاف سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو پاکستان کو نمایاں معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ گورننس اصلاحات کے جامع پیکج پر مؤثر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں پانچ سے ساڑھے چھ فیصد تک اضافہ ممکن ہے، جو معیشت کے استحکام، سرمایہ کاری میں اضافے اور عوامی خدمات کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے

  • بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کا عزم پست کرنے میں ناکام رہے،وزیراعظم

    بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کا عزم پست کرنے میں ناکام رہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ 5 جنوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا۔

    کشمیر کے یوم حق خور ارادیت کے موقع پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کویو این کمیشن برائے بھارت وپاکستان نے تاریخی قرارداد منظورکی،قرارداد میں طے پایاکہ ریاست جموں و کشمیرکے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری سے ہوگا، افسوس کہ بھارت کے جموں وکشمیر پر غیرقانونی قبضے کے باعث یہ عہد پورا نہ ہو سکا،مقبوضہ کشمیرکے عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، مگر بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کے عزم کوپست کرنے میں ناکام رہے،بین الاقوامی برادری بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔

  • کیڈٹ کالج جعفر آباد میں یومِ والدین کی شاندار تقریب

    کیڈٹ کالج جعفر آباد میں یومِ والدین کی شاندار تقریب

    کیڈٹ کالج جعفر آباد میں یومِ والدین کی ایک شاندار، باوقار اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا. جس میں مہمانِ خصوصی آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ، کیڈٹس اور انکے والدین کے علاوہ ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، کمشنر نصیر آباد، مقامی عمائدین اور سول و ملٹری افسران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کے دوران کیڈٹس نے بھرپور نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار پریڈ اور مختلف عملی سرگرمیاں پیش کیں۔ کیڈٹس کی عمدہ کارکردگی، خود اعتمادی اور اعلیٰ تربیتی معیار کو والدین اور دیگر شرکاء نے بے حد سراہا اور بھرپور داد دی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے کیڈٹ کالج جعفر آباد کے تعلیمی و تربیتی معیار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے نوجوان نسل کو نظم و ضبط، اعلیٰ کردار اور حب الوطنی کے جذبے سے آراستہ کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر نوجوان کیڈٹ کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں کیڈٹ کالج جعفر آباد میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں، اور ہمارے والدین کو بھی اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ان کے بچے ایک عظیم ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک اور کیڈٹ کا کہنا تھاکہ آج ہمارا پاسنگ آؤٹ کا دن ہے، جو ہمارے لیے ایک نہایت قابلِ فخر دن ہے۔ایک مقامی شہری کا کہنا تھا کہ میں پورے پاکستان کے والدین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کیڈٹ کالج جعفر آباد بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک بہترین ادارہ ہے۔

    تقریب کے اختتام پر کالج انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا گیا اور مستقبل میں بھی اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

  • خیبرپختونخوا،بلوچستان ،سیکورٹی فورسز دہشتگردوں کیخلاف متحرک،لکی مروت میں 3،تیراہ میں 2 ہلاک

    خیبرپختونخوا،بلوچستان ،سیکورٹی فورسز دہشتگردوں کیخلاف متحرک،لکی مروت میں 3،تیراہ میں 2 ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    ایک دعوے میں بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے 3 جنوری کو شام تقریباً 6 بجے جیوانی کے علاقے پنوان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں (ایل ای ایز) کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ تاہم حکام نے مبینہ حملے کی تصدیق نہیں کی اور اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔ دعوے غیر مصدقہ ہیں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

    گزشتہ رات گئے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کی اطلاع ملی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے میں چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے دورانِ سفر گاڑیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں منتقل کی جانے والی معدنیات اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچے، علاقے کو محفوظ بنایا اور حملہ آوروں کی شناخت اور حملے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دیں۔ خطے میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق جیوانی پنوان کے علاقے میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہلکار موٹر سائیکل پر گشت کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں نے پولیس گشت کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کے ساتھ موجود دوسرا اہلکار شدید زخمی ہوا، جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حملے کے بعد ملزمان فرار ہو گئے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا، داخلی و خارجی راستوں پر ناکے لگائے گئے اور کومبنگ آپریشن کیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ فرانزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ٹارگٹڈ حملے گوادر اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں پولیس اہلکاروں کے لیے درپیش سکیورٹی چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں۔

    سکیورٹی فورسز نے تربت میں ایک کارروائی کے دوران ایک مشتبہ گاڑی کو روک کر تلاشی لی، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ برآمد شدہ اسلحہ تحویل میں لے لیا گیا جبکہ گاڑی اور اس کے ڈرائیور کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ کارروائی کے دوران کسی مزاحمت یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید سرچ کیا گیا تاکہ کسی ساتھی کی موجودگی کو خارج کیا جا سکے۔ برآمد شدہ اسلحہ محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا اور اس کی نوعیت، ماخذ اور ممکنہ استعمال سے متعلق ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ سکیورٹی فورسز کے مطابق کالعدم تنظیموں سے ممکنہ روابط جانچنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔

    کرک کے علاقے گھونڈی میر انکھیل میں دو مخالف گروہوں کے درمیان فائرنگ کے واقعے میں کم از کم پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق تصادم پرانے تنازعے کے باعث پیش آیا۔ دونوں گروہوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پانچ افراد موقع پر ہلاک ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائی کے لیے صابرآباد اسپتال منتقل کیا گیا۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید کشیدگی سے بچنے کے اقدامات کیے گئے۔ پولیس نے واقعے کی وجوہات جاننے اور ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور امن بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

    نوشہرہ کے گاؤں لکڑی میں شادی کی تقریب کے دوران نشے میں دھت مسلح نوجوانوں کی اندھا دھند فائرنگ سے ایک پولیس ہیڈ کانسٹیبل جاں بحق جبکہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل منظور اشرف موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ زخمیوں میں 12 سالہ طالب علم، 6 سالہ بچی اور 18 سالہ نوجوان شامل ہیں۔ زخمیوں کو قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ منتقل کیا گیا، جبکہ شدید زخمی بچی کو بعد ازاں والدین کے ہمراہ پشاور ریفر کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق منظور اشرف ضلع خیبر میں تعینات تھے اور چھٹی پر اپنے آبائی گاؤں آئے ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد پولیس نے متوفی کے بھائی مسعود اشرف کی مدعیت میں ادزہ خیل تھانے میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    سکیورٹی فورسز نے لکی مروت میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے تین انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مصدقہ اطلاعات ملی تھیں کہ مطلوب دہشت گرد سرائے نورنگ علاقے میں داخل ہو چکے ہیں اور بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پردل بیگوکھیل روڈ پر سبزی منڈی کے قریب ملزمان کا گھیراؤ کیا۔ پولیس کے مطابق چیلنج کرنے پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی، جس کے جواب میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مؤثر کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں تینوں دہشت گرد موقع پر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد نذیر عرف مجاہد، فواد اللہ عرف معاذ اور افنان خان عرف افنانی کے نام سے ہوئی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ دہشت گرد متعدد ٹارگٹ کلنگز میں ملوث تھے جن میں پولیس اہلکاروں زرّم خان، حافظ اللہ، وحید نواب، عارف اللہ، حبیب اللہ، فرنٹیئر کور کے اہلکار زین اللہ، کلرک معراج الدین اور ریٹائرڈ لانس نائیک حبیب اللہ کے قتل شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران ایک کلاشنکوف، دو 9 ایم ایم پستول، دو موبائل فون اور کالعدم تنظیم کے تین کارڈ برآمد کیے گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے وادی تیراہ کے علاقے کربوکئی میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر فورسز نے فوری جواب دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو شدت پسند مارے گئے جن کی شناخت عبدالرحمن اور سعد کے نام سے ہوئی۔ حکام کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث چیک پوسٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ممکنہ جانی نقصان ٹل گیا۔ سکیورٹی اہلکاروں میں کوئی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ ہلاک شدت پسندوں کے روابط اور وابستگیوں کا تعین کیا جا سکے۔

    پولیس نے بروقت نگرانی اور مؤثر ردعمل کے ذریعے تونسہ شریف کے علاقے جدیوالی میں، خیبر پختونخوا،پنجاب سرحد کے قریب واقع پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ پولیس ذرائع کے مطابق 15 سے 20 دہشت گردوں نے راکٹ لانچرز اور بھاری ہتھیاروں کے ساتھ مختلف سمتوں سے مربوط حملہ کیا۔ حکام کے مطابق تھرمل کیمروں کے ذریعے حملہ آوروں کی بروقت نشاندہی ہو گئی، جس پر پولیس نے مشین گنز اور مارٹر فائر سے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ مضبوط دفاع کے باعث دہشت گرد چیک پوسٹ کے قریب نہ آ سکے اور پسپا ہو کر فرار ہو گئے۔ پولیس اہلکاروں کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد اضافی نفری تعینات کر کے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ ملوث افراد اور کالعدم تنظیموں سے ممکنہ روابط کا تعین کیا جا سکے۔

    لکی سیمنٹ کی بس پر آئی ای ڈی حملہ، ایک شخص جاں بحق۔ واقعہ نادرخیل موڑ کے قریب پیش آیا، بس بیگوکھیل سے فیکٹری جا رہی تھی۔

  • وینزویلا پر حملہ،امریکی طیارہ گرفتار صدر کو لے کر نیویارک پہنچ گیا

    وینزویلا پر حملہ،امریکی طیارہ گرفتار صدر کو لے کر نیویارک پہنچ گیا

    دنیا پھر بدل گئی، اصول صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرو
    پھر ثابت وسائل جو بھی ہوں،مضبوط فوج ہونا ضروری

  • وینزویلا میں امریکی کارروائی سے 40 افراد ہلاک، رہائشی عمارت ، دفاعی تنصیبات تباہ

    وینزویلا میں امریکی کارروائی سے 40 افراد ہلاک، رہائشی عمارت ، دفاعی تنصیبات تباہ

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران دفاعی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا، جبکہ ایک تین منزلہ رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کراکس (Caracas) کے مختلف علاقوں میں تباہی کے واضح آثار دیکھے گئے ہیں۔ سڑکوں پر فوجی گاڑیاں جل کر راکھ بن چکی ہیں اور سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بندرگاہ کے ایک حصے سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں، جس سے علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق امریکی کاروائی کے بعد شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ،مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد لائی گئی ہے، جس کے باعث طبی عملے کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

    رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی کارروائی کے بعد شہر میں بے یقینی کی فضا قائم ہے، سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کئی علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے اور گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب وینزویلا کی حکومت کی جانب سے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور اسے ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اس کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • فوجی فاؤنڈیشن: قومی خدمت اور معاشی استحکام کی درخشاں مثال

    فوجی فاؤنڈیشن: قومی خدمت اور معاشی استحکام کی درخشاں مثال

    فوجی فاؤنڈیشن: قومی خدمت اور معاشی استحکام کی درخشاں مثال بن گئی

    پاکستان میں خود کفیل فلاحی ماڈل پر مبنی "فوجی فاؤنڈیشن” جیسا اہم ادارہ خدمت اور قومی وقار کی علامت بن گیا ،گزشتہ 70 برس سے فوجی فاؤنڈیشن نے ثابت کیا کہ ریٹائرڈ فوجیوں، شہداء اور بیواؤں کی فلاح ریاست پر بوجھ نہیں ہے،فوجی فاؤنڈیشن ملک کی 5 فیصد آبادی یعنی ایک کروڑ مستحق افراد کی معاونت کر رہی ہے،فوجی فاؤنڈیشن اپنی سالانہ آمدن کا 70 فیصد سے زائد حصہ تقریباً 12 سے 14 ارب روپے فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کرتی ہے،فوجی فاؤنڈیشن کے تحت 74 طبی مراکز فعال ہیں، جن میں 11 اسپتال اور 63 کلینکس شامل ہیں،فوجی فاؤنڈیشن کے طبی اداروں میں 1940 سے زائد بستروں پر سالانہ 50 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے،فوجی فاؤنڈیشن 131 تعلیمی ادارے چلا رہی ہے جہاں 75 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں،تعلیمی وظائف کی مد میں فوجی فاؤنڈیشن نے 25-2024 میں 15 ہزار وظائف کے تحت 383.41 ملین روپے تقسیم کیے،فوجی فاؤنڈیشن نے 25-2024 میں 325.7 ارب روپے جبکہ گزشتہ 7 برسوں میں مجموعی طور پر 1.6 ٹریلین روپے ٹیکس ادا کیا

    فوجی فاؤنڈیشن پاکستان کی یوریا کھاد کی 60 فیصد ضروریات پوری کر کے سالانہ 1.5 سے 2 ارب ڈالر بچا رہی ہے،کھاد کی قلت اور گیس بحران کے باوجود فوجی فاؤنڈیشن نے قیمتوں کے استحکام اور دستیابی کو یقینی بنایا،توانائی بحران کے دوران فوجی فاؤنڈیشن نے بغیر سرکاری ضمانت 330 میگاواٹ سے زائد بجلی قومی گرڈ میں شامل کی،فوجی فاؤنڈیشن مقامی گیس اور ونڈ انرجی کے ذریعے توانائی پیدا کر کے قومی نظام کو سہارا دے رہی ہے،فوجی فاؤنڈیشن 84 فیصد سویلین بشمول خواتین اور معذور افراد کو 32 ہزار سے زائد روزگار فراہم کر رہی ہے،خدمت اور خود کفالت پر مبنی فوجی فاؤنڈیشن آج قومی فلاح اور معاشی استحکام کا مضبوط ستون بن چکی ہے

  • بھارتی ایوی ایشن کی نااہلی اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل عالمی سطح پر بے نقاب

    بھارتی ایوی ایشن کی نااہلی اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل عالمی سطح پر بے نقاب

    بھارت کو عالمی سطح پر ایک بار پھر شدید سبکی اور رسوائی کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے

    نااہل اور غیر پیشہ ورانہ بھارتی پائلٹس کی صلاحیتوں کی حقیقت پہلے ہی دنیا بھر میں رسوائی کا شکار ہیں،پے درپے بھارتی فضائی حادثات کے بعد ایک اور ایئر انڈیا کا پائلٹ نشے کی حالت میں کینیڈا میں گرفتار کر لیا گیا، نشے میں دھت بھارتی پائلٹ نے بھارتی ایوی ایشن نظام کے ناقص نظام کی قلعی کھول دی،برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز اورآذربائیجان کے جریدہ نیوز اے زی کے مطابق ؛ایئر انڈیا کی پرواز نشے میں ڈوبے پائلٹ کی وجہ سےکینیڈا کے ہوائی اڈے پر روک دی گئی،رائٹرز کے مطابق نشے کے زیراثر پائے جانے پر ٹیک آف سے قبل ایئر انڈیا کے بھارتی پائلٹ کو پرواز سے فوراََ ہٹا دیا گیا،کینیڈا کے ٹرانسپورٹ ریگولیٹرکا ایئر انڈیا سے پائلٹ کے نشے کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ، بھارتی ایئر لائنز کے پائلٹ کا نشے کے زیراثر ہونے پر میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا

    کینیڈین حکام نے ایئر انڈیا کے بھارتی پائلٹ کے میڈیکل ٹیسٹ ناکام ہونے کے بعد سنگین حفاظتی خدشات کا اظہار کیا،ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایئر انڈیا کو 26 جنوری تک تحقیقات کے نتائج جمع کرانے کی سختی سے ہدایت کی،بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے ایئر انڈیا کے 4 پائلٹس کو وارننگ نوٹس بھی جاری کئے ، پائلٹس پر تکنیکی مسائل کے باوجود بوئنگ 787 کو پرواز آپریشن کے لیے قبول کرنے کا الزام ہے،

    اس سے قبل 12جون کوایئر انڈیا کا جہازاحمد آباد کے قریب ایوی ایشن کی غفلت کے باعث گر کر تباہ ہوا جس میں274 ہلاکتیں ہوئی تھیں، رپورٹس میں انجن کی خرابی، اے ٹی سی کی لاپرواہی اور بروقت ہنگامی ردعمل کی کمی کی نشاندہی کی گئی تھی، عالمی ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بھارت میں فضائی تحفظ کے مسائل انفرادی واقعات نہیں رہے بلکہ یہ ایک انتظامی ناکامی کی شکل اختیار کر چکے ہیں، بار بار پیش آنے والے حادثات، پائلٹس پر الزامات اور ریگولیٹری وارننگزثبوت ہیں کہ بھارت کا سول ایوی ایشن نگرانی کانظام کمزور ہو چکا ہے، بھارتی ایوی ایشن کے طیاروں اور اسکے پائلٹس کی غیر اخلاقی و پیشہ ورانہ اقدار انسانی جانوں کیلئے خطرات کا باعث بن چکے ہیں

  • دہشتگردوں کی حکومتی سرپرستی کے بعد طالبان رجیم کے انسانیت سوز جرائم کا بھی پردہ چاک

    دہشتگردوں کی حکومتی سرپرستی کے بعد طالبان رجیم کے انسانیت سوز جرائم کا بھی پردہ چاک

    دہشتگردوں کی حکومتی سرپرستی کے بعد طالبان رجیم کے انسانیت سوز جرائم کا بھی پردہ چاک ہو گیا

    طالبان رجیم کو حاصل بھارتی سرپرستی خطہ کے ساتھ ساتھ خود افغانستان کو بھی آگ میں جھونکنے لگی ،طالبان رجیم کے بہیمانہ مظالم پر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے بعد افغان جرائد کے بھی ہوشربا انکشافات سامنے آگئے،افغان جریدہ ھشت صبح نے 2025 کے دوران طالبان کیجانب سے سابق فوجی اہلکاروں کو منظم انداز میں نشانہ بنانے کا انکشاف کیا،ھشت صبح کے مطابق طالبان نے 2025 میں 29 صوبوں میں 123 سابق فوجی اہلکار بے دردی سے قتل کیے،رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ طالبان نے 20 صوبوں میں 131 سابق فوجی اہلکاروں کو گرفتار کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا،رپورٹ کے مطابق طالبان کی جیلوں میں سابق فوجیوں پر بجلی کے جھٹکے، گرم سلاخیں اور فولادی کیبلوں سے تشدد کیا گیا،رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان رجیم کی جانب سے بیشتر گرفتاریاں بغیر کسی عدالتی وارنٹ کے کی گئیں

    متاثرہ خاندانوں نے اعتراف کیا کہ طالبان نے انہیں میڈیا سے بات کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، اقوامِ متحدہ امدادی مشن برائے افغانستان بھی طالبان کی سابق سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کیخلاف ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں اور تشدد کی تصدیق کر چکا ہے،اقوام متحدہ اور ماہرین کے مطابق طالبان کے مظالم خوف، سنسرشپ اور دھمکیوں کے باعث (عالمی منظر نامہ سے) چھپے رہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ خطہ میں دہشتگردی کے بڑھتے خدشات کے باوجود بھارت کی پشت پناہی طالبان رجیم کو مزید بے لگام کر رہی ہے، سفاک طالبان رجیم کاانتہاپسند اور جابرانہ رویہ خطہ کے ساتھ ساتھ افغانستان کیلئے بھی شدیدخطرات کا باعث بن چکا ہے

  • وینزویلا میں کارروائی،وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج،ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ

    وینزویلا میں کارروائی،وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج،ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ

    امریکی سینیٹر برنی سینڈرز وینزویلا پر حملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑے۔

    برنی سینڈرز نے کہا کہ سب سے پہلے امریکا کا نعرہ لگانے والے ٹرمپ اب وینزویلا کو چلائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ وینزویلا پر حملے کیلئے صدر ٹرمپ کا جواز وہی ہے جو پیوٹن یوکرین پر حملے کے دفاع میں پیش کرتے ہیں۔

    نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے وینزویلا پر امریکی حملے کی مخالفت کردی۔ پریس بریفنگ میں بتایا کہ فون کرکے صدر ٹرمپ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ کسی خودمختار ملک پر حملہ ایک جنگی اقدام ہے، جس سے نیویارک کے شہری بھی متاثر ہونگے۔

    وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو قید خانے پہنچا دیا گیا، نیویارک کے میٹروپولیٹن حراستی مرکز سے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ویڈیو جاری کردی گئی۔وینزویلا کے صدر مادورو کو کل یا پرسوں عدالت میں پیش کرنے کا امکان ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کا انتظام عارضی طور پر سنبھالنے کا اعلان کردیا۔ کہا نہیں چاہتے کوئی اور اقتدار سنبھالے اور پھر وہی حالات پیدا ہوں۔

    عالمیی برادری نے وینزویلا کیخلاف امریکی کارروائی کو مسترد کردیا، دنیا بھر میں امن پسند شہری سڑکوں پر آگئے۔اسپین میں ہزاروں افراد نے امریکی آپریشن کیخلاف احتجاج کیا، پیرس میں شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، امریکی حملے کو وینزویلا کیخلاف جارحیت قرار دیا۔ارجنٹینا اور کولمبیا میں بھی مظاہرے ہوئے، وائٹ ہاؤس کے باہر اور نیویارک میں وینزویلا کے شہریوں نے امریکی کارروائی کیخلاف شدید احتجاج کیا۔وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کو کنٹرول میں رکھنے کے بیان پر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا گیا،وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور نعرے لگانے کے ساتھ مظاہرین نے’وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں’ کے بینر بھی لہرائے ۔ادھر نیو یارک شہر کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

    امریکی جریدے کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی کوشش سے لگتا ہے امریکا مشرق وسطیٰ کا سبق بھول گیا ہے، طاقت سے حکومتیں بدلنا زیادہ مسائل کا سبب بنتا ہے،ٹائم کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا نے مڈل ایسٹ میں گذشتہ 25 سال کی ناکام مداخلتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا،تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگرچہ مادورو غیر مقبول ہیں اور وینزویلا کی فوج نسبتاً کمزور ہے لیکن اس کی حکومت کو زبردستی ختم کرنے سے ملک میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے اور امریکی سرزمین کے قریب مسائل جنم لے سکتے ہیں، جیسے مہاجرین، منشیات کی اسمگلنگ اور سیاسی عدم استحکام،