Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • تہران پر میزائل حملہ، ایرانی فضائی دفاعی نظام کی جوابی کارروائی، ویڈیوز منظر عام پر

    تہران پر میزائل حملہ، ایرانی فضائی دفاعی نظام کی جوابی کارروائی، ویڈیوز منظر عام پر

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران تہران پر ہونے والے میزائل حملوں کی نئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو حملہ آور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی نے ان حملوں سے متعلق چند خصوصی ویڈیوز حاصل کی ہیں، جن میں رات کے وقت آسمان میں دھماکوں اور روشنی کی چمک کے ساتھ دفاعی میزائلوں کو فضا میں داغتے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیوز کے مطابق ایرانی دفاعی نظام نے شہر کی جانب آنے والے متعدد میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی اور کئی اہداف کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

    و یڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی یونٹس حملہ آور میزائلوں کو روکنے میں مصروف ہیں، ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں تمام میزائلوں کو روکنا ممکن نہیں ہوتا اور بعض حملے دفاعی نظام سے گزر بھی سکتے ہیں۔

  • اسرائیل،امریکہ ،ایران جنگ،پچھلے آٹھ گھنٹوں میں کیا کچھ ہوا،صورتحال مزیدسنگین

    اسرائیل،امریکہ ،ایران جنگ،پچھلے آٹھ گھنٹوں میں کیا کچھ ہوا،صورتحال مزیدسنگین

    ایران کے صدر نے کہا ہے کہ“ہم ہمسایہ ممالک پر حملہ نہیں کریں گے۔” مگر صرف 5 گھنٹے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسے “غلطی” قرار دیا اور حملے جاری رکھے۔

    ایک ایرانی ڈرون نے دبئی مرینا میں ایک رہائشی ٹاور کو نشانہ بنایا ، جو مکمل طور پر شہری عمارت تھی۔

    اسرائیلی فوج نے ایران کی پارچین اور شاہرود میزائل فیکٹریوں کو تباہ کر دیا ، مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایران کو مستقبل میں دوبارہ میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے۔

    ایک بیلسٹک میزائل سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب گرا ، جہاں امریکی F-15 طیارے، THAAD اور پیٹریاٹ دفاعی نظام موجود ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے ایران کو براہِ راست پیغام دیا “جارحیت فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔”اور ایران کے میزائل پروگرام کو مکمل ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    امریکہ نے قشم جزیرے پر واقع ایک میٹھا پانی بنانے والے (ڈیسالینیشن) پلانٹ کو بمباری میں نشانہ بنایا،جس کے بعد 30 دیہات پانی کی فراہمی سے محروم ہو گئے۔

    اسرائیل نے لبنان کی بقاع وادی پر حملہ کیا ، ایک ہی حملے میں 41 افراد ہلاک جبکہ مجموعی طور پر 339 لبنانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

    ایران نے عبرانی زبان میں براہِ راست اسرائیلی شہریوں کو پیغام جاری کیا جس میں اسرائیل پر انسانی ڈھال استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا۔

    اٹلی نے قبرص کی جانب ایک جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا: “ہم اس جنگ کا حصہ نہیں ہیں۔” لیکن اس کے باوجود فوجی وسائل منتقل کیے جا رہے ہیں۔

    عمان کے وزیر خارجہ نے کہا“اس جنگ کو روکنا تمام عرب ممالک کے لیے اعلیٰ ترین قومی مفاد ہے۔”

    وہ باتیں جو سب سے زیادہ تشویشناک ہیں

    ایران کے میزائل حملوں میں 90٪ کمی آئی ہے ، ماہرین کے مطابق یہ کمزوری نہیں بلکہ حکمتِ عملی میں تبدیلی ہے۔یعنی ایران طویل جنگ کے لیے گولہ بارود محفوظ کر رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کھلے عام دنیا سے کہا کہ اپنے ہی صدر کی بات کو نظر انداز کریں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے اندر شدید تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔ خلیجی ممالک پر حملے اب اسرائیل سے زیادہ بار ہونے لگے ہیں۔ اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے تو امریکہ کے پاس متبادل منصوبہ نہیں ہے۔ امریکہ کے پانی کے پلانٹ پر حملے کے بعد ایران اب تمام شہری انفراسٹرکچر کو جائز ہدف سمجھ سکتا ہے۔ یہ صورتحال کم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہو رہی ہے،صرف 8 گھنٹوں میں 8 ممالک اس بحران کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اور ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔صورتحال انتہائی حساس اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

  • اسرائیل کا تہران میں آئل  انفراسٹرکچر پر فضائی حملہ

    اسرائیل کا تہران میں آئل انفراسٹرکچر پر فضائی حملہ

    تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کے دارالحکومت تہران کے قریب آئل انفراسٹرکچر کو مبینہ طور پر فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی میں اہم توانائی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا،اطلاعات کے مطابق صوبہ البرز کے شہر کراچ میں واقع سہاران آئل ڈپو اور مشرقی تہران ریفائنری پر حملے کیے گئے۔ حملوں کے بعد متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دینے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بعض علاقوں سے دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی توانائی اور اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے قریب واقع فیول ڈپو اور ریفائنریوں پر حملے مقامی ایندھن کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر آگ لگنے اور فیول سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے حملوں کے نقصانات یا ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم سکیورٹی اور ہنگامی اداروں کو متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

  • ایران حملہ،ٹرمپ کے مؤاخذے کے امکانات بڑھ گئے

    ایران حملہ،ٹرمپ کے مؤاخذے کے امکانات بڑھ گئے

    ایران پر حملے کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے امکانات بڑھ کر 67 فیصد ہوگئے ہیں ۔

    یہ بات امریکی میڈیا نے سٹہ بازار کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہی ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹہ بازار سیاسی ماحول کی عکاسی تو کرتا ہے لیکن اُسے حتمی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا ۔،سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال ٹرمپ کے مواخذے کا امکان کم ہے کیونکہ ری پبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت رکھتی ہے اور پارٹی کے ارکان کی بڑی تعداد صدر کی حمایت کر رہی ہے ،تاہم اگر اس سال نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو صورتِ حال بدل سکتی ہے.

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب اور اسکے مثبت اثرات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورہ سعودی عرب کے دوران وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان سے خطے کی سیکورٹی صورت حال کے تناظر میں ایک انتہائی اہم ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران ایران کی طرف سے سعودی سرزمین پر کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں پر نہ صرف سخت تشویش کا اظہار کیا گیا بلکہ اس بلا اشتعال کاروائی کے خلاف پاک-سعودی دفاعی معاہدے (SMDA) کے فریم ورک کے تحت سعودی سرزمین کے عملی دفاع کا اعادہ بھی کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے برادر اسلامی ملک ایران کو خطے کی سلامتی کیلئے ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو دوست ممالک کی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع کے ساتھ اس اہم ملاقات کے فوری بعد ایران کی طرف سے پڑوسی اسلامی ممالک کو نشانہ نہ بنانے کا بیان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے انتہائی مثبت تصور کی جارہا ہے۔ بین الاقوامی اُمور کے ماہرین کے مطابق خطے میں امن کیلئے کی جانے والی کوششوں میں پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

    اس تمام تنازعے کے دوران پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ایک متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی کے ذریعے تمام شِراکت داروں سے روابط جاری رکھے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایرانی صدر کے حالیہ بیان کے پس منظر میں پاکستان کی تسلسل سے جاری سفارتی کوششوں کا وسیع عمل دخل موجود ہے۔

  • ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتہ کی صبح عرب خلیجی ممالک سے غیرمعمولی خطاب میں معافی مانگتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اب اپنے پڑوسی ممالک پر حملے نہیں کرے گا، جب تک ان ممالک کی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں صدر پزشکیان نے کہا “میں ذاتی طور پر ان پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہوں جن پر ایران کی جانب سے حملے ہوئے۔ ہمارا ارادہ اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کا نہیں ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، وہ ہمارے بھائی ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ ایران میں عارضی طور پر حکمرانی کرنے والی تین رکنی قیادت کونسل نے مسلح افواج کو واضح ہدایات دی ہیں کہ آئندہ کسی بھی پڑوسی ملک پر حملہ نہ کیا جائے، جب تک کہ وہاں سے ایران کے خلاف حملے نہ کیے جائیں۔“ہمیں اس مسئلے کو لڑائی کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات سے بچنا چاہیے۔”

    انہوں نے خلیجی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ “سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا” نہ بنیں اور اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر کے اعلان پر فوری طور پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں۔ خطاب کے بعد بھی خطے میں کشیدگی برقرار رہی، اور متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ بحرین میں خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دیں۔

  • کمانڈر 12 کورکا آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)  کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ

    کمانڈر 12 کورکا آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ

    کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ لیا

    کمانڈر 12 کور نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ لیا،کور کمانڈر 12 کور نے ژوب سمبازہ ایریا میں بارڈر سکیورٹی اور اہم مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا،کور کمانڈر کی افغان بارڈر پر موجود جوانوں سے ملاقات، ٹی ٹی اے کے خلاف ان کے جرآت مندانہ اقدام کی تعریف کی،دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،ژوب اور سمبازہ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی مؤثر موجودگی برقرار رہے گی

  • دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا

    دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا

    ایرانی ڈرون نے دبئی ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ ویڈیو میں ایک دھماکے اور ڈرون حملے کے مناظر دکھائے جا رہے ہیں،دبئی ایر پورٹ کے قریب ہفتہ کی صبح زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد فضاء میں دھویں کا بادل بلند ہوتا دیکھا گیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکے کی آواز براہِ راست ایئرپورٹ کے اوپر سنی گئی اور چند لمحوں بعد ایئرپورٹ کے قریب دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر ایک ڈرون یا اس کے ملبے کے گرنے کے بعد دھماکے کا منظر دکھایا گیا، جس کے بارے میں بعض صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ایرانی ساختہ Shahed-136 ڈرون ہو سکتا ہے۔فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 کے مطابق واقعے کے فوراً بعد متعدد طیارے فضا میں چکر لگاتے یا ہولڈنگ پیٹرن میں نظر آئے جبکہ حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ دیر کے لیے پروازوں کی آمد و رفت محدود کر دی گئی۔

    بعد ازاں دبئی میڈیا آفس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے واقعے کو “معمولی نوعیت کا حادثہ” قرار دیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ کسی میزائل یا ڈرون کو فضا میں روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کی وجہ سے ہوا اور ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔بیان میں کہا گیا کہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں لے لیا گیا اور اس مخصوص واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایئرپورٹ ٹرمینلز یا دیگر اہم تنصیبات کو بھی کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔

  • پاکستان کی ایران سے خلیجی ممالک پر حملوں سے گریز کی اپیل

    پاکستان کی ایران سے خلیجی ممالک پر حملوں سے گریز کی اپیل

    اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے ایران سمیت مختلف علاقائی ممالک سے رابطے تیز کر دیے ہیں اور فریقین پر تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے سے گریز کرے کیونکہ ایسے اقدامات پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں اور پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں انہوں نے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کے اس ماحول میں رابطے اور مکالمے کو برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔پاکستانی حکام نے ایرانی قیادت کو یہ پیغام بھی دیا کہ خلیجی ریاستوں پر کسی بھی قسم کے حملے نہ صرف تنازع کو وسیع کر سکتے ہیں بلکہ پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے الہام علییف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور آذربائیجان کے علاقے نخچیوان پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعظم نے آذربائیجان کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان آذربائیجان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو ماہرین ایک محتاط توازن کی پالیسی قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت اسلام آباد خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اس بحران کو ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار اہم ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام آباد ایک طرف ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے مضبوط سفارتی اور اقتصادی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کیلئے سفارتی سطح پر متحرک نظر آ رہا ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیردفاع سے ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیردفاع سے ملاقات

    فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزاد خالد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی، ملاقات میں ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں کا حملوں کوروکنے کے لیے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت اقدامات پر تبادلہ خیال کیا،ملاقات میں زور دیا گیا کہ بلاوجہ جارحیت خطےکی سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے، بلاوجہ حملے امن کے لیے مذاکرات کے امکانات کو محدود کرتے ہیں اور بحران کو بڑھاتے ہیں، دونوں فریقین نے امید ظاہر کی کہ ایران سمجھداری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرےگا، ایران کی محتاط حکمت عملی سے دوست ممالک کو بحران کے پرامن حل کی کوششوں میں مددملےگی، ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی اوردوستی کےفروغ کےلیےتعاون مضبوط کرنے پر بھی اتفاق ہوا، دونوں ملکوں نے باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید مستحکم بنانےکا عزم ظاہرکیا۔