Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغان صوبے تخار میں طالبان اور مقامی افراد میں جھڑپ،متعدد زخمی

    افغان صوبے تخار میں طالبان اور مقامی افراد میں جھڑپ،متعدد زخمی

    افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چاہ‌آب میں رہائشی آبادی کے قریب سونے کی کان کنی کے لیے آنے والے طالبان کے بعض ارکان کے ساتھ مقامی لوگوں کی جھڑپ میں دونوں جانب سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

    افغان میڈیا کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد طالبان پر پتھراؤ کر رہے ہیں جبکہ فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں، ویڈیو میں فائرنگ کے بعد مقامی افراد کو موقع سے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے، اسی ویڈیو میں سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنی کے اہلکاروں کو بھاری مشینری کے ساتھ علاقے میں موجود دیکھا جا سکتا ہے،افغان میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہلکار سونے کی کان کنی کے لیے آپریشن شروع کرنا چاہتے تھے تاہم اس اقدام کی مخالفت کرنے والے مقامی باشندے کمپنی کے اہلکاروں سے الجھ پڑے۔،عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سونے کی تلاش کے لیے گاؤں آنے والے نامعلوم افراد نے مجمع کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا، مظاہرین نے جوابی ردعمل میں کمپنی کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا،پتھراؤ اور تصادم میں مزید افراد بھی زخمی ہوئے۔

    خیال رہے کہ طالبان نے گزشتہ چار برسوں کے دوران افغانستان کے مختلف صوبوں میں معدنی وسائل پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے، ناقدین طویل عرصے سے معدنی وسائل کی کان کنی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کے استعمال کے حوالے سے طالبان کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

  • پشاور: ورسک روڈ پر فائرنگ، خواجہ سرا قتل

    پشاور: ورسک روڈ پر فائرنگ، خواجہ سرا قتل

    پشاور کے علاقے ورسک روڈ حسن گھڑی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خواجہ سرا جاں بحق ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ فقیر آباد تھانے کی حدود میں پیش آیا، جہاں شگئی پل کے قریب خواجہ سرا باسط عرف بجلی کو نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں خواجہ سرا موقع پر ہی دم توڑ گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی نفری موقع پر پہنچی، لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا،تحقیقات جاری ہیں.

  • ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے وارداتیں،ملزمان گرفتار

    ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے وارداتیں،ملزمان گرفتار

    کراچی کے ضلع ویسٹ میں تھانہ اورنگی پولیس نے جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے والے اشتہاری اور عادی جرائم پیشہ ملزمان کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو منشیات، نقدی اور موٹر سائیکل سمیت گرفتار کرلیا ہے۔

    ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق گرفتار ملزمان آن لائن پلیٹ فارمز پر دیے گئے اشتہارات کے ذریعے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں خریدنے کے بہانے شہریوں سے رابطہ کرتے تھے۔ ملزمان آن لائن بک شدہ ڈرائیو کے ساتھ مقررہ مقام پر پہنچتے اور موقع ملتے ہی موٹر سائیکل کو چیک کرنے یا ٹرائی کرنے کے بہانے لے کر فرار ہوجاتے تھے۔ بعد ازاں یہ چوری شدہ موٹر سائیکلیں سندھ کے مختلف شہروں میں فروخت کردی جاتی تھیں،پولیس حکام کے مطابق موصولہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی گرفتار ملزمان کو اسی طریقہ واردات کے تحت موٹر سائیکل لے جاتے اور واردات کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جس سے ان کے جرائم میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی۔

    ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی نے بتایا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر مغل کانٹا کے قریب ٹارگیٹڈ کارروائی کرتے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار دو ملزمان کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے ڈیڑھ کلو سے زائد (1630 گرام) چرس، نقدی رقم اور وارداتوں میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل برآمد کرلی گئی۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت شان علی ولد لطف علی اور نورالامین ولد حسنین کے نام سے ہوئی ہے۔ گرفتار ملزم شان علی موٹر سائیکل چوری اور دھوکہ دہی کے متعدد مقدمات میں پہلے سے ہی اشتہاری اور مطلوب تھا۔

  • بھارت، کالج میں جنسی ہراسانی، طالبہ کی موت کے بعد مقدمہ درج

    بھارت، کالج میں جنسی ہراسانی، طالبہ کی موت کے بعد مقدمہ درج

    ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں دوسرے سال کی ایک طالبہ کی موت کے بعد جنسی ہراسانی کے الزامات پر تین طالبات اور ایک پروفیسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متوفیہ طالبہ نے موت سے قبل اپنے موبائل فون میں ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی، جس میں اس نے اپنے ساتھ ہونے والی ذہنی اور جنسی ہراسانی کی تفصیلات بیان کیں۔ ویڈیو میں طالبہ نے الزام عائد کیا کہ ایک پروفیسر نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا، کلاس روم اور کیمپس میں اسے ذہنی دباؤ کا نشانہ بنایا اور نامناسب طریقے سے چھوا۔ طالبہ کے مطابق جب اس نے اس رویے کے خلاف احتجاج کیا تو اسے خاموش رہنے کی دھمکیاں دی گئیں۔متوفیہ کے والد نے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں بتایا کہ 18 ستمبر کو ان کی بیٹی کو کالج میں شدید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شکایت کے مطابق تین طالبات، جن کی شناخت ہرشیتا، اکرتی اور کومولیکا کے نام سے ہوئی ہے، نے مبینہ طور پر ان کی بیٹی پر تشدد کیا اور اسے واقعے کے بارے میں کسی کو نہ بتانے کی دھمکی دی۔ شکایت میں کالج کے ایک پروفیسر اشوک کمار کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    طالبہ کے والد کا کہنا ہے کہ پروفیسر کے مبینہ نازیبا رویے اور مسلسل ذہنی ہراسانی کی وجہ سے ان کی بیٹی شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں اس کی صحت مسلسل بگڑتی چلی گئی۔ اہلِ خانہ کے مطابق طالبہ کو مختلف اسپتالوں میں علاج کے لیے لے جایا گیا، تاہم وہ 26 دسمبر کو لدھیانہ کے ڈی ایم سی اسپتال میں زیر علاج رہتے ہوئے انتقال کر گئی۔خاندان نے بتایا کہ بیٹی کی موت کے بعد وہ شدید صدمے میں تھے، جس کی وجہ سے فوری طور پر شکایت درج نہ کرا سکے۔ تاہم بعد ازاں جب انہیں موبائل فون میں ریکارڈ کی گئی ویڈیو ملی، تو انہوں نے انصاف کے لیے پولیس سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ویڈیو میں طالبہ نے واضح طور پر پروفیسر پر بدسلوکی، ذہنی دباؤ اور نامناسب چھونے جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

    طالبہ کے والد نے مزید بتایا کہ انہوں نے 20 دسمبر کو پولیس اور وزیر اعلیٰ کی ہیلپ لائن پر بھی شکایت درج کرائی تھی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس پر کوئی فوری کارروائی نہیں کی گئی۔پولیس افسر اشوک رتن کے مطابق اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) اور ہماچل پردیش تعلیمی ادارہ جات (ریگنگ کی ممانعت) ایکٹ 2009 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب کالج انتظامیہ نے اس معاملے سے خود کو الگ رکھتے ہوئے مختلف نکات پیش کیے ہیں۔ کالج کے پرنسپل راکیش پٹھانیا کا کہنا ہے کہ مذکورہ طالبہ اپنے پہلے سال میں ناکام ہو گئی تھی، اس کے باوجود وہ دوسرے سال میں داخلہ لینا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق طالبہ نے پہلی جماعت میں تین مضامین میں ناکامی حاصل کی تھی اور یونیورسٹی کے قواعد کے تحت اسے دوسرے سال میں ترقی نہیں دی جا سکتی تھی۔پرنسپل کے مطابق طالبہ نے اپنے مرکزی مضمون جغرافیہ کے پروفیسر سے رابطہ کیا تھا، جہاں اسے بتایا گیا کہ اسے دوبارہ پہلے سال میں داخلہ لینا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبہ نتائج کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھی اور اسے یہ احساس تھا کہ کالج انتظامیہ جان بوجھ کر اسے دوسرے سال میں داخلہ نہیں دے رہی۔ پرنسپل کے مطابق انہیں اساتذہ سے ملنے والی معلومات کے مطابق طالبہ 29 جولائی کے بعد کلاسز میں بھی حاضر نہیں ہوئی تھی۔

    راکیش پٹھانیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کالج انتظامیہ نے طالبہ کے والدین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔پرنسپل کے مطابق دسمبر میں وزیر اعلیٰ کی ہیلپ لائن پر کی گئی شکایت کالج تک اس لیے نہیں پہنچی کیونکہ اس میں کسی اور کالج کا نام درج تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کالج انتظامیہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔پروفیسر پر لگنے والے ہراسانی کے الزامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پرنسپل نے کہا کہ مذکورہ پروفیسر کئی برسوں سے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں، تاہم اس معاملے میں حتمی رائے دینا پولیس کی تفتیش کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

  • غیر محفوظ عمارتوں کو فوری خالی کرایا جائے گا،شرجیل میمن

    غیر محفوظ عمارتوں کو فوری خالی کرایا جائے گا،شرجیل میمن

    سندھ حکومت نے خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے اور گرانے کےلیے ترجیحی اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔

    سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ عمارتوں کو فوری خالی کرایا جائے گا، جو غیرمحفوظ عمارتیں پہلے ہی خالی کی جا چکی ہیں انہیں گرایا جائے گا،شرجیل میمن نے ہدایت کی کہ متاثرہ رہائشیوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے، کراچی میں 588 انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 471 کا سروے اسسٹنٹ کمشنرز نے مکمل کرلیا ہے۔

    دوسری جانب صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کمشنر کراچی کے دفتر میں ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں مخدوش عمارتوں کو جلد از جلد خالی کرانے اور جو خالی کرائی جا چکی ہیں انہیں منہدم کرنے اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے ترجیحی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ مخدوش عمارتوں کو خالی کرانے اور متاثرہ فراد کی بحالی کے لئے فوری نوعیت کی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مکینوں کی زندگیوں کو محفوظ کیا جاسکے اور انہیں با عزت اور محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے،کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی انہوں نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنرز نے انتہائی 588 مخدوش عمارتوں میں سے 471 مخدوش عمارتوں کا جنرل سروے مکمل کرلیا ہے،سروے کے ذریعے ملکیت سمیت مکینوں اور یونٹس سے متعلق تمام ضروری معلومات جمع کر لی گئی ہیں،اجلاس میں 59 خالی کرائی گئی عمارتوں کے مکینوں کی بحالی کے لئے ترجییحی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کے لیے عنبرین جان کے نام کی متفقہ منظوری

    چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کے لیے عنبرین جان کے نام کی متفقہ منظوری

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے قائم پارلیمانی کمیٹی نے سینئر بیوروکریٹ عنبرین جان کے نام کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے مشاورت کے بعد عنبرین جان کو متفقہ طور پر چیئرمین پیمرا نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عنبرین جان اس سے قبل سیکریٹری اطلاعات کے اہم عہدے پر خدمات انجام دے چکی ہیں اور انہیں میڈیا پالیسی، سرکاری اطلاعات اور انتظامی امور میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے ان کی پیشہ ورانہ اہلیت، انتظامی صلاحیتوں اور میڈیا قوانین سے واقفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے نام کی منظوری دی۔چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں محمد شہباز بابر اور سینیٹر سرمد علی شریک ہوئے۔ تاہم رکن قومی اسمبلی رضا علی گیلانی اور سینیٹر علی ظفر اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک اراکین نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق چار رکنی کمیٹی نے نئے چیئرمین پیمرا کے لیے مجموعی طور پر پانچ امیدواروں کے ناموں پر مشاورت کی۔ زیرِ غور آنے والے امیدواروں میں عنبرین جان، متین حیدر، بریگیڈیئر (ر) انوار احمد، ڈاکٹر حامد خان اور سردار عرفان اشرف شامل تھے۔ تفصیلی مشاورت کے بعد کمیٹی نے عنبرین جان کے نام پر اتفاق رائے قائم کیا۔

  • ہرنائی میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

    ہرنائی میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

    ہرنائی: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ہرنائی کے پہاڑی علاقے زندہ پیر کے قریب عمل میں لائی گئی، جہاں دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ ٹھکانوں کو گھیرے میں لیا، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ شدید جھڑپ کے نتیجے میں چار دہشتگرد مارے گئے، جبکہ علاقے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔آپریشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے ہلاک دہشتگردوں کی لاشوں کو تحویل میں لے کر ان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شناخت مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی،

    سکیورٹی فورسز نے علاقے کا مکمل گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشتگرد کے فرار کو روکا جا سکے۔ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے،ذرائع کے مطابق یہ کارروائی علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے اور دہشتگردی کے خطرات کے مکمل خاتمے کے لیے کی گئی۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایسی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

  • بھارتی فلم دھریندر کے فلم رائٹر،پروڈیوسر ،اداکاروں کیخلاف مقدمہ کی درخواست مسترد

    بھارتی فلم دھریندر کے فلم رائٹر،پروڈیوسر ،اداکاروں کیخلاف مقدمہ کی درخواست مسترد

    کراچی سیشن عدالت جنوبی،بھارتی فلم دھریندر میں پیپلز پارٹی کی ریلی اور شہید بینظیر بھٹو کی تصاویر دکھانے کا معاملہ،عدالت نے فلم رائٹر، پروڈیوسر اور اداکاروں کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست مسترد کردی

    عدالت نے کہا کہ فلم بھارت میں فلمائی اور ریلیز کی گئی،پاکستان میں فلم کی اسکریننگ یا ترسیل کا کوئی ثبوت موجود نہیں،پاکستان یا متعلقہ تھانے کی علاقائی حدود میں کوئی قابل دست اندازی جرم ثابت نہیں ہوتا، پولیس رپورٹ کے مطابق نامزد ملزمان بھارتی شہری ہیں، ملزمان کے پاکستان میں رہائشی، کاروباری یا قانونی موجودگی نہیں ہے،یہ معاملہ ریاستی سطح کے امور سے متعلق ہے جسے سرکاری سطح پر وزارت خارجہ کے ذریعے دیکھنا چاہیئے،درخواست کا مقصد میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، عدالت ایسی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج کے لئے کوئی ہدایت جاری نہیں کرسکتی، درخواست گزار چاہے تو پیمرا یا وفاقی حکومت کے متعلقہ فورمز سے رجوع کرسکتا ہے،

  • آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ اپنی شناخت بارے الجھن کا شکار،حقائق کے برعکس باتیں

    آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ اپنی شناخت بارے الجھن کا شکار،حقائق کے برعکس باتیں

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سینئر بلے باز عثمان خواجہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد دیے گئے بیانات ایک بار پھر شدید بحث کا باعث بن گئے ہیں۔ عثمان خواجہ نے اپنے آخری ٹیسٹ میچ کے موقع پر دعویٰ کیا کہ انہیں آسٹریلیا میں نسل پرستی کا سامنا رہا، تاہم ان کے الزامات حقائق کے برعکس اور متنازع ہیں،عثمان خواجہ کو اپنی شناخت بارے بھی الجھن ہے کہ وہ پاکستانی ہیں یا سعودی یا آسٹریلوی

    عثمان خواجہ ایک الجھی ہوئی شخصیت ہیں۔ آسٹریلیا میں پرورش پانے والا کنفیوژ دیسی، جو اپنی شناخت کے بارے میں الجھن کا شکار ہو۔ ریٹائرمنٹ کے وقت انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا نے ان کے ساتھ نسل پرستی کی۔کہاں؟ انہوں نے 88 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں، نسل پرستی کہاں ہے؟ وہ کچھ عرصے سے فارم سے باہر تھے، فٹنس اور فیلڈنگ ان کے بڑے مسائل تھے۔ ان کے والد اور والدہ دونوں کا تعلق پاکستان سے ہے، خود عثمان کی پیدائش اسلام آباد میں ہوئی۔ اگر انہیں پاکستانی ہونے پر شرم ہے تو وہ کس پاسپورٹ پر آسٹریلیا پہنچے تھے؟

    سعودی یا پاکستانی؟ ایک ناشکرے انسان، بادشاہ سے بھی زیادہ وفادار بننے کی کوشش۔ اور آسٹریلوی لوگ اس پر ہنستے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ اپنی ہی جڑوں (پاکستان) کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہے۔ پھر اس نے پی ایس ایل میں اسلام آباد کے لیے کیوں کھیلا اور کیوں کہا کہ وہ اپنے شہرِ پیدائش کے لیے کھیلنے پر فخر محسوس کرتا ہے؟ اگر پاکستان اسے پیسے دے تو سب ٹھیک، ورنہ اسے پاکستانی کہلانے پر شرم آتی ہے۔

    اس کا بھائی چھ سال تک جیل میں رہا ، ارسلان خواجہ ،جس نے اس لڑکی کے بوائے فرینڈ پر جعلی دہشت گردی کا الزام لگایا جس سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا، اور اسے سزا ہوئی۔ تو شاید آسٹریلیا کو بھی اس پر شرم آتی ہو، اگر اسے پاکستان پر شرم آتی ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے، کیا محسن نقوی اور پی سی بی کبھی اسے پی ایس ایل میں کھیلنے کی اجازت دیں گے؟ دیکھتے ہیں۔ وہ آسٹریلیا سعودی یا پاکستانی پاسپورٹ پر آیا تھا۔ پیدائش کا ملک ماں جیسا ہوتا ہے، پتا نہیں سعودی عرب میں اس کی کوئی سوتیلی ماں بھی ہے یا نہیں، ہاہا۔

    عثما ن خواجہ کا بھائی،ارسلان خواجہ ،یہ آسٹریلیا میں سرخیوں میں تھا ایک بے گناہ شخص پر جعلی دہشت گردی کا کیس بنانے کا الزام تھا،سڈنی کا رہائشی ارسلان طارق خواجہ، جس نے ایک ساتھی پر جھوٹے دہشت گردی کے الزامات لگا کر اسے ہائی سکیورٹی جیل بھجوا دیا، کو کم از کم دو سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔خواجہ نے اعتراف کیا کہ اس نے اگست 2018 میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے اپنے ساتھی کامر نظام الدین کی نوٹ بک میں جعلی اندراجات کیے، کیونکہ وہ ایک مشترکہ خاتون دوست سے اس کے رابطے پر حسد کرتا تھا۔ان جعلی اندراجات میں اس وقت کے وزیرِاعظم میلکم ٹرن بل اور گورنر جنرل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، پولیس اسٹیشنز پر حملوں کی فہرستیں، اینزیک ڈے تقریب، باکسنگ ڈے ٹیسٹ اور سڈنی کے اہم مقامات بشمول سینٹ میری کیتھیڈرل پر حملوں کے منصوبے شامل تھے۔نیو ساؤتھ ویلز ڈسٹرکٹ کورٹ میں جج رابرٹ ویبر نے 40 سالہ ارسلان کو چار سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی، جس میں دو سال اور چھ ماہ کی نان پیرول مدت شامل ہے۔

    ارسالان خواجہ، جو آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کا بھائی ہے، نے انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری اہلکار کو بددیانتی سے متاثر کرنے کے الزامات میں جرم قبول کیا۔اس نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ سرکاری اہلکار کو دھوکہ دینے کے لیے جعلی دستاویز تیار کرنے اور گواہ کو جھوٹی گواہی دینے پر اکسانے جیسے اضافی معاملات کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔نوٹ بک حکام کو پیش کرنے کے بعد، کامر نظام الدین کو گرفتار کیا گیا اور ایک ماہ تک ہائی سکیورٹی جیل میں رکھا گیا، یہاں تک کہ حقیقت سامنے آ گئی۔جج کے مطابق، ایک بے گناہ شخص کا زیادہ سکیورٹی جیل میں تنہائی سیل میں وقت گزارنا شدید ذہنی صدمے کا باعث بننا کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔خواجہ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ 2017 میں اس نے ایک اور بے گناہ شخص کے خلاف، جس سے وہ حسد کرتا تھا، حکام کو فون کر کے ویزا اور دہشت گردی سے متعلق جھوٹے الزامات لگائے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ اس شخص نے بیرونِ ملک تربیت حاصل کی ہے۔اس کال میں اس نے اپنے بھائی کا نام بھی بطور ممکنہ ہدف لیا۔

  • ایران میں ایک اور انقلاب ،مہنگائی کے خلاف پرتشدد مظاہرے اور  ہلاکتیں

    ایران میں ایک اور انقلاب ،مہنگائی کے خلاف پرتشدد مظاہرے اور ہلاکتیں

    عالمی پابندیاں اور 1500 افراد کو سزائے موت
    اسرائیل اور امریکی کردار کیا؟؟