Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سالانہ بنیادوں پرسوشل میڈیا پرغیراخلاقی مواد اپ لوڈنگ میں20 فیصد کمی

    سالانہ بنیادوں پرسوشل میڈیا پرغیراخلاقی مواد اپ لوڈنگ میں20 فیصد کمی

    سالانہ بنیادوں پرسوشل میڈیا پرغیراخلاقی مواد اپ لوڈنگ میں20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی

    سال 2024-25 میں سوشل میڈیا پر 88ہزار035غیراخلاقی/غیر قانونی ویب سائٹس بلاک کی گئیں،گزشتہ سال اس عرصے میں ایک لاکھ 9ہزار771 یوآرایلز بند کی گئے تھے ،دستاویزات کے مطابق ٹک ٹاک پرسب سے زیادہ 35 ہزارویب پیجز بلاک کئے گئے، فیس بک پر25 ہزار482 غیراخلاقی غیرقانونی ویب پیجز بلاک کئے گئے، انسٹا گرام پر 13 ہزار 242، یوٹیوب پر 8ہزار586 لنکس بلاک کئے گئے ہیں ،ٹوئٹرپر 2103 لائیکی پر 991 اورسنیک ویڈیوپر 345 پیجز بلاک کئے گئے ہیں،ایک سال میں 38ہزار 214 غیراخلاقی مواد والی ویب سائٹس بند کی گئیں ،ملکی دفاع اورسیکورٹی کے خلاف مواد پرمبنی31 ہزار313 ویب پیجز بند کی گئے ،اسلامی تشخص کے خلاف 7608، نفرت انگیز مواد والی 6269 ویب سائٹس بند کی گئیں ،ہتک آمیز مواد والی 2498 اور توہین عدالت والی 353 ویب سائٹس بلاک کی گئیں

  • کراچی میں امن کے قیام کیلئے رینجرز نے تاریخ رقم کی،وزیرداخلہ

    کراچی میں امن کے قیام کیلئے رینجرز نے تاریخ رقم کی،وزیرداخلہ

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن کے قیام کیلئے رینجرز نے تاریخ رقم کی، رینجرز کچے میں بھی ڈاکوؤں کا خاتمہ کررہی ہے۔

    کراچی میں سندھ رینجرز ٹریننگ سینٹر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کراچی کے حالات ماضی سے بہت مختلف ہیں، کراچی عالمی سطح پر تجارتی مرکز بن چکا ہے، رینجرز کی کاوشوں سے کراچی میں حالات پہلے سے بہتر ہیں۔ کراچی میں امن کے قیام کیلئے رینجرز نے تاریخ رقم کی، سندھ رینجرز پولیس کے ساتھ مل کر کچے میں ڈاکوؤں کا خاتمہ کررہی ہے،پاکستان رینجرز سندھ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے جانی جاتی ہے ، اس فورس نے ماضی میں امن قائم کر کے ایک تاریخ رقم کی ہے، مئی 2025 میں بھارت کے خلاف آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پاکستان رینجرز سندھ نے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ رہ کر ملک کا دفاع کیا۔ پاکستان رینجرز سندھ نے وطن کی حفاظت کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلی سندھ رینجرز پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے تربیت مکمل کرنے والے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ پاس آؤٹ ہونے والے جوان پاکستان کے لیے ایک قابل فخر ادارے کا حصہ بن رہے ہیں،

  • لوگ پوچھتے تھے کہاں کے ہو، مجھے پاکستان کہنے میں شرمندگی ہوتی تھی ،عثمان خواجہ

    لوگ پوچھتے تھے کہاں کے ہو، مجھے پاکستان کہنے میں شرمندگی ہوتی تھی ،عثمان خواجہ

    آسٹریلیا کے ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے سابق آسٹریلوی کرکٹرز اور میڈیا پر نسلی امتیاز کے سلوک کا بھی ذکر کیا اور افسوس کا اظہار بھی کیا،ساتھ پاکستان بارے بھی کہہ دیا کہ مجھے چھوٹے ہوتے وقت پاکستان کا بتانے پر شرمندگی ہوتی تھی

    عثمان خواجہ نے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے دوران کہا میں نے ہمیشہ خود کو آسٹریلوی ٹیم کے درمیان مختلف محسوس کیا، یہاں تک کہ اب تک، یہ سب میرے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے تھا، میرے خیال میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم ہماری بہترین ٹیم ہے، یہ ٹیم ہمارا فخر اور خوشی ہے، لیکن میں نے بہت سارے معاملات میں بہت مختلف محسوس کیا ہے، میرے ساتھ لوگ الگ طریقے سے پیش آتے تھے۔عثمان خواجہ نے کہا مجھے کمر میں کھنچاؤ تھا اور یہ وہ چیز ہے جس پر میں قابو نہیں پا سکتا تھا لیکن جس طرح سے میڈیا اور ماضی کے کھلاڑی باہر آئے اور مجھ پر لفظی حملے کیے گئے، میں اسے دو دن تک برداشت کر سکتا تھا، لیکن میں نے تقریباً پانچ دن تک اس کا مقابلہ کیا۔ اس موقع پر عثمان خواجہ کے والدین، اہلیہ اور دونوں بیٹیاں بھی موجود تھیں۔عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستانی اور مسلمان ہونے پر فخر ہے، جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ آسٹریلیا کے لیے کبھی نہیں کھیل سکے گا،انہوں نے دوسرے نوجوان کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری طرف دیکھو، تم بھی ایسا کر سکتے ہو۔ میں نے کبھی کسی کو آسٹریلوی ٹیم میں ایسے حالات میں دیکھا ہی نہیں۔ اگر کسی نے گالف کھیل لی یا رات کو زیادہ مشروبات لے لیے، تو کسی نے کچھ نہیں کہا۔ لیکن جب مجھے نقصان پہنچتا ہے، تو میری ساکھ اور شخصیت پر سوال اٹھایا جاتا ہے،جب لوگ میری مذہبی شناخت یا ایمان پر حملہ کرتے ہیں، یہ ذاتی معاملہ ہوتا ہے، اور میں اس پر بات کروں گا کیونکہ زیادہ تر کھلاڑی نہیں کرتے

    عثمان خواجہ نے بتایا کہ جب انہوں نے 2011 میں اپنا ڈیبیو کیا، تو وہ اپنے پاکستانی پس منظر کو چھپاتے تھے تاکہ آسٹریلوی ٹیم میں زیادہ قابل قبول بن سکیں۔جب لوگ پوچھتے کہ آپ کہاں کے ہیں، تو میں شرمندہ ہو کر سعودی عرب کہہ دیتا تھا۔ میں نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم میں فٹ ہونے کی بہت کوشش کی، لڑکوں کی طرح لباس پہنا، کلبز گیا، حالانکہ میں شراب نہیں پیتا۔ لیکن یہ سب کام نہیں آیا۔

    عثمان خواجہ پاکستان میں پیدا ہوئے پھر بھی بادشاہ سے زیادہ وفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہیں اپنے ورثے پر فخر نہیں۔ان کے والد طارق اور والدہ فوزیہ کا تعلق کراچی اور اسلام آباد سے ہے۔اگر اسے پاکستان پر فخر نہیں ہے تو پی ایس ایل میں اسلام آباد کے لیے کیوں کھیلا؟پاکستان کو ایسے لوگوں کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے کرکٹ شائقین میں اس سلسلے میں بحث جاری ہے کہ ایسے کھلاڑیوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے اور کیا ملک کو ایسے کھلاڑیوں کے لیے بائیکاٹ یا پابندیوں پر غور کرنا چاہیے۔

  • پاکستان کی برطانیہ کی ایک اور ایئرلائن نورس اٹلانٹک کو پروازوں کی اجازت

    پاکستان کی برطانیہ کی ایک اور ایئرلائن نورس اٹلانٹک کو پروازوں کی اجازت

    اسلام آباد: پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے برطانیہ کی ایک اور ایئرلائن نورس اٹلانٹک کو پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں چلانے کی منظوری دے دی ہے۔

    سی اے اے کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد نورس اٹلانٹک ایئرلائن ابتدائی طور پر لندن سے اسلام آباد کے لیے پروازیں چلائے گی۔ علاوہ ازیں، ایئرلائن مانچسٹر اور برمنگھم سے بھی پاکستان کے دارالحکومت کے لیے براہِ راست پروازیں فراہم کرے گی۔یہ برطانیہ کی دوسری ایئرلائن ہوگی جو پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں چلائے گی۔ اس سے قبل برٹش ائیر ویز پاکستان کے مختلف شہروں کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی ایئرلائنز کی تعداد میں اضافہ مسابقتی ماحول کو فروغ دے گا۔ اس کے نتیجے میں مسافروں کے لیے عالمی معیار کی سہولیات فراہم ہوں گی اور کرایوں میں توازن پیدا ہوگا۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ نورس اٹلانٹک ایئرلائن کی آمد سے نہ صرف پروازوں کی تعداد بڑھے گی بلکہ مسافروں کے لیے پروازوں کے آپشنز بھی زیادہ ہو جائیں گے، جس سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفری تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

    سی اے اے کی اس اجازت کے بعد، پاکستان کی فضائی صنعت میں بین الاقوامی ایئرلائنز کی شمولیت کو فروغ ملے گا، جو ملک میں فضائی مسافروں کی سہولت، معیارِ خدمات، اور عالمی معیار کے مطابق مسابقت میں اضافہ کرے گا۔

  • احسن اقبال کا مرحوم سرتاج عزیز کو خراجِ عقیدت، پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے اجرا کا اعلان

    احسن اقبال کا مرحوم سرتاج عزیز کو خراجِ عقیدت، پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے اجرا کا اعلان

    اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے مرحوم سرتاج عزیز کی برسی کے موقع پر منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    احسن اقبال نے کہا کہ سرتاج عزیز ایک ایسی نایاب نسل کی قیادت سے تعلق رکھتے تھے جس میں دیانت داری اور قابلیت، انکساری اور ذہانت، سیاسی بصیرت اور معاشی دور اندیشی یکجا نظر آتی تھی۔انہوں نے اعلان کیا کہ وزارتِ منصوبہ بندی مرحوم سرتاج عزیز کے نام سے ڈیولپمنٹ اکنامکس کے شعبے میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ کا آغاز کرے گی، جس کے تحت طلبہ کو دنیا کی صفِ اول کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سرتاج عزیز پیشے کے اعتبار سے ماہرِ معاشیات تھے، مگر روح کے اعتبار سے وہ اس سے کہیں بڑھ کر تھے۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ عزم اور مقصدیت انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے۔ سادہ پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں وزیر خزانہ، وزیر خارجہ، قومی سلامتی کے مشیر، نائب چیئرمین پلاننگ کمیشن اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔ یہ سب مناصب اس اعتماد کا مظہر ہیں جو قوم کو ان کی بصیرت اور دانش پر تھا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ان تمام کامیابیوں سے بڑھ کر سرتاج عزیز ایک مضبوط کردار کے حامل انسان تھے۔ وہ اپنے خاندان سے محبت کرنے والے، دوستوں کے لیے وفادار اور اپنے ایمان پر ثابت قدم تھے۔ جو لوگ ان سے ملے، وہ ان کی مسکراہٹ، سادہ طرزِ گفتگو اور پُراعتماد شخصیت کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کی نظم و ضبط، گہری تیاری اور عمر کے آخری حصے تک مثالی محنت کو نہیں بھول سکتے۔احسن اقبال نے زور دیا کہ سرتاج عزیز کو محض تعریفی الفاظ سے نہیں بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھا کر خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے، جس میں مضبوط اداروں کی تعمیر، سفارش کے بجائے میرٹ کو ترجیح دینا، ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو مقدم رکھنا، علم، تحقیق اور دلیل کو فروغ دینا، پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانا، عالمی سطح پر پاکستان کے باوقار کردار کو اجاگر کرنا اور آنے والی نسلوں میں بااخلاق قیادت کی آبیاری شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کی زندگی پاکستان کے نوجوانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ قوم کی خدمت کے لیے طاقتور پس منظر نہیں بلکہ تعلیم، دیانت داری، نظم و ضبط اور پختہ عزم درکار ہوتا ہے۔

  • مودی کے دورِ حکومت میں صحافیوں اور آزادیِ اظہارِ رائے کو  خطرات درپیش

    مودی کے دورِ حکومت میں صحافیوں اور آزادیِ اظہارِ رائے کو خطرات درپیش

    بھارت میں وزیرِاعظم نریندرمودی کے دورِ حکومت میں صحافیوں اور آزادیِ اظہارِ رائے کو درپیش خطرات پر ایک بار پھر سنگین خدشات سامنے آ گئے ہیں۔

    بھارتی جریدے دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران صحافیوں کو تشدد، گرفتاریوں، قانونی دباؤ اور سنسرشپ جیسے شدید مسائل کا سامنا رہا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں بھارت بھر میں 14 ہزار 800 سے زائد صحافیوں کو مختلف نوعیت کے تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان واقعات میں 8 صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کی ہلاکت بھی رپورٹ کی گئیجبکہ 117 افراد کو آزادیِ اظہارِ رائے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔دی وائر کے مطابق آزادیِ اظہارِ رائے کی خلاف ورزی کے سب سے زیادہ 108 واقعات وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانونی کارروائی کی آڑ میں 208 افراد کو بلیک میل یا دباؤ میں رکھا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئیں، جن میں 8 ہزار سے زائد ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹس بند کرنے کے احکامات بھی شامل ہیں۔

    دی وائر نے یہ بھی یاد دلایا کہ 2023 میں گجرات کے فسادات پر مبنی دستاویزی فلم نشر کرنے کے بعد بی بی سی کے بھارتی دفاتر پر انکم ٹیکس کے چھاپے مارے گئے تھے، جسے میڈیا آزادی پر دباؤ کی ایک مثال قرار دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سرکاری پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو ٹی وی چینلز سے دور رکھا گیا، جبکہ حکومتی مؤقف سے ہٹ کر رپورٹنگ کرنے والوں کو قانونی اور انتظامی دباؤ کا سامنا رہا۔ میڈیا اداروں اور صحافتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں کے لیے کام کا ماحول مسلسل خطرناک ہوتا جا رہا ہے اور حکومت پر تنقید کو تیزی سے محدود کیا جا رہا ہے

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں مظاہرین کی مدد کیلئے مداخلت کا عندیہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں مظاہرین کی مدد کیلئے مداخلت کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی مدد کیلئے مداخلت کا عندیہ دے دیا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت گولیاں چلوا کر پُرامن مظاہرین کو قتل کررہی ہے، سلسلہ نہ رکا تو امریکا مظاہرین کی مدد کیلئے آگے آئے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پوری طرح تیار ہیں اور کارروائی کیلئے ہر وقت آمادہ ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے موقف سے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے واقعات کا پس منظر واضح ہو گیا ہے ہم احتجاج کرنے والے تاجروں کے موقف کو تخریبی عناصر سے الگ سمجھتے ہیں اور ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس اندرونی معاملے میں امریکی مداخلت پورے خطے کے امریکی مفاد کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔امریکی عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ٹرمپ نے ایڈونچر شروع کیا۔اپنے فوجیوں سے ہوشیار رہیں۔

    واضح رہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں میں اب تک 6 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوچکے ہیں،یران میں تقریباً 36 شہروں میں مظاہرے جاری مظاہرین کے سابق حکمران رضا شاہ پہلوی کے حق میں نعرے، سینکڑوں کا ہجوم رضا پہلوی کی واپسی اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں،مشتعل افراد نے پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا، کئی گاڑیوں کو آگ لگادی۔ایران میں مہنگائی کیخلاف مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے، تہران سمیت کئی شہروں میں پُرتشدد احتجاج جاری ہے، لُرستان صوبے میں مظاہرین نے پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا، مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق معاشی بحران کے باعث ایران میں مہنگائی کی شرح 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

    ایران ایک منظم "انفارمیشن وارفیئر” کا سامنا کر رہا ہے جس میں بھارت اور افغانستان کے مبینہ اقدامات داخلی احتجاج کو بین الاقوامی بحران میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاہ بہار جیسے منصوبوں میں بھارت کی دوستی محض لبادہ ہے، جبکہ پس پردہ ایرانی انفراسٹرکچر میں نقائص پیدا کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ایران میں امن اور استحکام کا پرزور حامی ہے اور خطے میں عدم استحکام کو مجموعی ترقی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے.

  • سال نو کی مٹھائی کے بہانے معشوقہ نے عاشق کو گھر بلا کر”عضوخاص”کاٹ ڈالا

    سال نو کی مٹھائی کے بہانے معشوقہ نے عاشق کو گھر بلا کر”عضوخاص”کاٹ ڈالا

    ممبئی میں نئے سال کی آمد کی خوشیوں کے دوران ایک انتہائی افسوسناک اور سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر ایک 25 سالہ شادی شدہ خاتون نے اپنے 44 سالہ شادی شدہ عاشق کو گھر بلا کر تیز دھار چاقو سے حملہ کر کے عضو خاص کاٹ دیا۔

    متاثرہ شخص اس وقت سیون اسپتال ممبئی میں زیر علاج ہے جبکہ ملزمہ واقعے کے بعد فرار بتائی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آیا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ متاثرہ شخص اور ملزمہ کے درمیان گزشتہ 6 سے 7 برس سے ناجائز تعلقات قائم تھے۔ دونوں آپس میں رشتہ دار بھی ہیں، تحقیقات کے مطابق خاتون مسلسل متاثرہ شخص پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس سے شادی کر لے۔ اسی بات پر دونوں کے درمیان آئے روز جھگڑے ہوتے رہے۔ ذہنی دباؤ کے باعث متاثرہ شخص نومبر 2025 میں ممبئی چھوڑ کر بہار چلا گیا تھا، تاہم وہاں بھی خاتون فون کالز کے ذریعے اسے دھمکیاں دیتی رہی۔متاثرہ شخص 19 دسمبر کو واپس ممبئی آیا اور اس کے بعد اس نے خاتون سے فاصلہ اختیار کر لیا اور رابطہ کم کر دیا۔

    پولیس کے مطابق 31 دسمبر کی رات خاتون نے متاثرہ شخص کو نیو ایئر کی مٹھائی دینے کے بہانے اپنے گھر بلایا۔ اس وقت خاتون کے بچے گھر میں سو رہے تھے۔ الزام ہے کہ خاتون نے پہلے متاثرہ شخص کو کپڑے اتارنے کو کہا، اس کے بعد کچن میں جا کر سبزی کاٹنے والا چاقو لے آئی اور اچانک اس کے نجی اعضا پر وار کر دیا۔حملے کے نتیجے میں متاثرہ شخص کو شدید زخم آئے اور اس کا بہت زیادہ خون بہہ گیا۔شدید زخمی حالت میں متاثرہ شخص کسی طرح اپنے گھر پہنچا، جہاں اس کے بیٹوں اور دوستوں نے فوری طور پر اسے وی این دیسائی اسپتال منتقل کیا۔ بعد ازاں حالت نازک ہونے پر اسے سیون اسپتال ریفر کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخم انتہائی گہرا ہے اور ممکن ہے کہ سرجری کی ضرورت پیش آئے۔

    پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمہ خاتون کی تلاش جاری ہے، جو واردات کے بعد سے فرار ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمہ کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • کوئٹہ: مشرقی بائی پاس پر پولیس موبائل پر فائرنگ، راہگیر شہری شہید

    کوئٹہ: مشرقی بائی پاس پر پولیس موبائل پر فائرنگ، راہگیر شہری شہید

    کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے پولیس موبائل پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایک بے گناہ راہگیر شہری موقع پر ہی شہید ہوگیا، جبکہ پولیس اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق منظور شہید تھانے کی پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی کہ اچانک دہشتگردوں نے اس پر حملہ کردیا۔ حملہ آوروں نے پولیس موبائل پر 8 سے 9 فائر کیے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائرنگ کے دوران ایک راہگیر گولی کی زد میں آکر شدید زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہوگیا۔واقعے کے فوراً بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ شہید شہری کی لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گشت میں اضافہ کردیا گیا ہے اور کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

  • ہم ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے،وزیراعظم

    ہم ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس ، اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اراکین کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا. وزیراعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری انتہائی کامیابی سے طے پائی اور بڈنگ کا عمل انتہائی شفاف رہا. انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت میں آتے ہی یہ عزم کیا تھا کہ خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کی جائے گی ؛ پی آئی اے کی نجکاری اس حوالے سے ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خسارے میں جانے والے ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے. انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ خوش آئند ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے ہیں. انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید ال نہیان سے اپنی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں دو طرفہ تعلقات اور باہمی مشاورت کے تناظر میں انتہائی مفید قرار دیا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایک روز قبل ان کی سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم عزت مآب شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر خوشگوار بات چیت ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تعلقات کو مزید وسیع تر کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی.

    وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز کے 30 دسمبر، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی جس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈینینس ، 2025 کے حوالےسے کاروائی کی توثیق بھی شامل ہے۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز کے 3 دسمبر، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 26 اگست، 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی جس میں آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹ) لیوی کے حوالے سے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور اس حوالے سے حکمت عملی ترتیب دینے کے حوالے سے فیصلے کی توثیق بھی شامل ہے.وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر تھرڈ پارٹی کی جانب سے آف دی گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت کے حوالے سے آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025 میں ترمیم کے صدارتی حکم نامے کے اجراء کے لئے کاروائی کی منظوری دے دی.