Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغان طالبان رجیم میں صحافیوں پر ظلم وجبر، وحشیانہ تشدد اور گرفتاریاں جاری

    افغان طالبان رجیم میں صحافیوں پر ظلم وجبر، وحشیانہ تشدد اور گرفتاریاں جاری

    افغان طالبان رجیم میں صحافیوں پر ظلم وجبر، وحشیانہ تشدد اور گرفتاریاں جاری ہیں

    آمرانہ پالیسیوں پر چلنے والے افغان طالبان، آزادیِ اظہارِرائے اور انسانی حقوق کے قاتل بن چکے ہیں،افغان طالبان رجیم نے بہیمانہ تشدد، مسلسل دھمکیوں اور بلا جواز گرفتاریوں سے صحافت کا گلا گھونٹ دیا، افغان میڈیا واچ ڈاگ کی2025 کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم میں میڈیا پر جبر اور آزادی کو کچلنے کے205واقعات ہوئے ، افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق افغان طالبان رجیم میں میڈیا کی آزادی مکمل طور پر کچل دی گئی ہے اور صحافیوں پر جبر اور خوف کا راج ہے، افغان طالبان رجیم میں وسیع پیمانے پر سنسرشپ اور صحافیوں کی ہراسانی کے واقعات سامنے آرہے ہیں ، 2025 میں صحافیوں کیخلاف تشدد اور میڈیا کی آزادی کی خلاف ورزی کے کم از کم 205 واقعات درج کیے گئے، طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں اس سال 2صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ 3صحافی شدید زخمی ہوئے ، افغانستان میں صحافیوں کو شدید نتائج اوردھمکیوں کے 160 اور حراست میں لیے جانے کے34 واقعات ہوئے ، افغان طالبان کے تمام تر جھوٹے دعوؤں کے برعکس کم از کم 5 افغان صحافی اب بھی جیل میں موجود ہیں ، آزادی اور صحافیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے ، خواتین صحافیوں پر مکمل پابندی اور انہیں دھمکانے ، جبر اور صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا ،افغان طالبان رجیم میں کم از کم 20 ٹیلی وژن چینلز بند ہو چکے جبکہ دیگر کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں ،

    افغانستان میں میڈیا کی آزادی اور اظہارِ رائے کا مستقبل سنگین اور بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہے ، افغانستان میں افغان طالبان کے دہشت گردانہ طرزِحکومت نے صحافیوں کو خوف وہراس کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے

  • بھارت میں ایوی ایشن بحران، چمکتی معیشت کے پیچھے چھپا تاریک نظام

    بھارت میں ایوی ایشن بحران، چمکتی معیشت کے پیچھے چھپا تاریک نظام

    بھارت میں 2025 کے دوران سامنے آنے والا ایوی ایشن بحران محض ایئرلائن حادثے نہیں بلکہ بھارتی کھوکھلی ترقی کے جھوٹے دعووں کے بھی قلعی کھولتی ہے

    فنانشل ٹائمز کے مطابق پروازوں کی منسوخی اس حقیقت کا اظہار تھی کہ ریاست قوانین پر عملدرآمد کی صلاحیت کھو چکی ہے، رواں سال ہی احمد آباد میں ایئر انڈیا طیارے کی تباہی میں 260 افراد ہلاک ہوئے، حادثے کے بعد تحقیقات مبہم رہیں جبکہ حادثے کے بعد سامنے آنے والی رپورٹس غیر واضح تھیں،فنانشل ٹائمز نے نشاندہی کی کہ اس پورے عمل نے عوام کے ذہن میں یہ احساس پیدا کیا کہ نظام نہ ہی مضبوط ہے نہ ہی شفاف،عوام میں یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ ریاست سچ سامنے لانے کی اہلیت نہیں رکھتی،ایوی ایشن انڈسٹری کے اندر موجود آوازیں کہتی ہیں کہ عوام کا بھارتی ایئرلائنز پر اعتماد ختم ہو چکا ہے،پندرہ سے زائد ایئرلائنز کا دیوالیہ ہونا اس نظام کو اندر سے کھا چکا ہے، اسکے علاوہ بےشمارطیارہ حادثات بھارتی ائیر لائینز کی بدترین ایوی ایشن صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں

    پھشکر نیوز کے مطابق آر ٹی آئی کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں بھارت میں 53 فضائی حادثات پیش آئے،ان حادثات میں 320 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، حادثات کی شرح میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جن میں بوئنگ طیارے، ہیلی کاپٹرز اور نجی جیٹس شامل ہیں

    پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایوی ایشن کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کر دیا ہے،مبصرین کے مطابق مودی اپنی ہندوتوا شدت پسند پالیسیوں کے بوجھ تلے اس قدر دب چکا ہے کہ اب فقط کھوکھلے اور بے بنیاد ترقی کے دعوے ہی اسکا سیاسی سہارابن کر رہ گئے ہیں ،

  • ایف بی آر نے شوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سے غیر حاضر 6 اہلکار معطل کر دیے

    ایف بی آر نے شوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سے غیر حاضر 6 اہلکار معطل کر دیے

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے شوگر ملوں میں تعینات مانیٹرنگ اسٹاف کی غفلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے 6 اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ یہ اہلکار شوگر کی پیداوار کی مؤثر، شفاف اور بلا تعطل نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔

    ذرائع کے مطابق ان اہلکاروں کی غیر حاضری کا انکشاف لارج ٹیکس آفس (ایل ٹی او) لاہور کی جانب سے کی جانے والی معمول کی مانیٹرنگ کے دوران ہوا، جس پر معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ اہلکار اپنی تفویض کردہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے۔ایل ٹی او لاہور نے غفلت اور لاپروائی کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی، جس پر ایف بی آر نے فوری ایکشن لیتے ہوئے معطلی کے احکامات جاری کر دیے۔

    ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غفلت برتنے والے اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ حکومت اور ایف بی آر اپنی تمام فیلڈ فارمیشنز میں نظم و ضبط، دیانتداری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ایف بی آر نے مزید کہا کہ فرائض میں غفلت، بدانتظامی یا تفویض کردہ ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکام کے مطابق شوگر انڈسٹری کی مؤثر نگرانی شفافیت کو یقینی بنانے اور قومی خزانے کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے نہایت اہم ہے، اسی لیے مانیٹرنگ نظام میں کسی بھی قسم کی کوتاہی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

  • پشاور،انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے 5 کارندے ہلاک

    پشاور،انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے 5 کارندے ہلاک

    پشاور میں پولیس مقابلے کے دوران انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے سرغنہ سمیت 5 کارندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    سی سی پی او پشاور میاں سعید نے بتایا کہ ٹارگٹ کلرز گینگ پولیس پر حملےکی منصوبہ بندی کر رہا تھا، ہلاک ملزمان پہلے بھی 2 پولیس اہلکاروں کو شہید کر چکے تھے،انہوں نے بتایا کہ گینگ سرغنہ نجمل الحسن نے ویڈیو بیان میں پولیس کانسٹیبل کو شہید کرنےکا اعتراف بھی کیا تھا، ٹارگٹ کلرز گینگ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور درہ آدم خیل میں 30 وارداتوں میں ملوث تھا، ٹارگٹ کلرز پشاور میں 12 اور نوشہرہ میں17 افراد کے قتل میں ملوث تھے، ہلاک ٹارگٹ کلرز نے چارسدہ اور درہ آدم خیل میں بھی ایک، ایک شخص کو قتل کیا تھا، گینگ نے اے این پی رہنما مومن خان اور ان کے بھائی کو بھی نشانہ بنایا تھا، ملزمان نے ایک خواجہ سرا کو بھی فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا

  • سٹی کورٹ کراچی،وکلا کا رجب بٹ پر دھاوا، رجب بٹ زخمی

    سٹی کورٹ کراچی،وکلا کا رجب بٹ پر دھاوا، رجب بٹ زخمی

    سٹی کورٹ کراچی میں یوٹیوبر رجب بٹ پر وکلاء نے دھاوا بول دیا، تشدد سے رجب بٹ زخمی ہوگئے۔

    کراچی کی سٹی کورٹ نے یوٹیوبر رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کردی۔عدالت میں پیشی کے دوران وکلاء نے یوٹیوبر کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا، تشدد سے رجب بٹ زخمی ہوگئے۔وکلا نےان کی شرٹ پھاڑ دی۔ رجب بٹ کے وکلا بیچ بچاؤ کی کوشش کرتے رہے۔

    رجب بٹ عبوری ضمانت کے لیے سٹی کورٹ میں پیش ہوئے تھے، جہاں اچانک وکلاء کے گروہ نے ان پر حملہ کر دیا۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور عدالتی عملے نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا،ذرائع کے مطابق، حملے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں اور وکلاء تنظیموں کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل بھی سامنے نہیں آیا،دوسری جانب عدالت نے رجب بٹ کی عبوری ضمانت میں 13 جنوری تک توسیع کر دی۔ عدالتی کارروائی مختصر رہی اور زخمی یوٹیوبر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ قریبی ذرائع کے مطابق، رجب بٹ کی حالت خطرے سے باہر ہے،پولیس حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور عدالتی احاطے میں لگے کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ قانون کے خلاف کسی بھی کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • لیاقت پور: سگریٹ پیتے ہوئے حادثہ، 45 سالہ شخص شدید جھلس گیا

    لیاقت پور: سگریٹ پیتے ہوئے حادثہ، 45 سالہ شخص شدید جھلس گیا

    رحیم یار خان کے علاقے لیاقت پور کی بستی بھٹی میں سگریٹ پیتے ہوئے پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں ایک شخص بری طرح جھلس گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق سگریٹ کے شعلے اچانک متاثرہ شخص کے کپڑوں پر گر گئے، جس کے باعث کپڑوں میں آگ لگ گئی اور آگ تیزی سے پھیل گئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں 45 سالہ اقبال نامی شخص شدید زخمی ہوا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد زخمی کو فوری طور پر تحصیل اسپتال لیاقت پور منتقل کیا گیا۔ حالت تشویشناک ہونے کے باعث بعد ازاں اسے شیخ زاید اسپتال رحیم یار خان ریفر کر دیا گیا۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کا تقریباً 30 فیصد جسم جھلس چکا ہے اور اسپتال میں اس کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق زخمی کی حالت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی، جہاں مسلح حملوں، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے کاروائیاں کیں اور متعدد دہشتگردجنم واصل ہوئے جبکہ کئی علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

    ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے غمازی میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے دوران شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، تاہم حکام کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

    ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے علاقے وہیر میں ایک مدرسے کے قریب ایک نوجوان شکیل احمد کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق مقتول کو قریب سے متعدد گولیاں ماری گئیں۔دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ کے قریب بھی ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی، جسے تیز دھار ہتھیار سے قتل کیے جانے کا شبہ ہے۔ دونوں واقعات میں پولیس نے الگ الگ مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    تربت کے مضافاتی علاقے ڈنک میں ایک موبائل فون ٹاور کو بم دھماکے سے تباہ کر دیا گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اسی دوران ہرنائی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا، جسے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع قلات میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم گروہ سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ضلع دکی کے بابو اڈہ علاقے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے عسکریت پسندوں نے ایک نجی تعمیراتی منصوبے پر حملہ کر کے بھاری مشینری کو نذر آتش کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم قیمتی مشینری مکمل طور پر ناکارہ ہو گئی۔ہرنائی،سنجاوی سڑک پر نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کر کے شناختی کارڈ چیک کیے۔ موٹر سائیکل سوار دو افراد نہ رکنے پر فائرنگ کی زد میں آ گئے، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔

    ضلع مہمند کے علاقے علینگر میں سیکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ضلع اورکزئی میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ سرچ اور اسٹرائیک آپریشنز کیے۔سوات کے علاقے املٹ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایلیٹ فورس کے کانسٹیبل حماد علی کو شہید کر دیا، جو چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔بنوں میں سورانی قبیلے کا امن جرگہ منعقد ہوا جس میں عمائدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون اور علاقے سے مسلح عناصر کے انخلا کا مطالبہ کیا، جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا گیا۔

    افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات اور مکالمے کے حق میں پاکستانی قیادت اور علمائے کرام کے بیانات کا خیر مقدم کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ہم نیا یا پرانا نہیں بلکہ قائد کا پاکستان چاہتے ہیں ،خالد مسعود سندھو

    ہم نیا یا پرانا نہیں بلکہ قائد کا پاکستان چاہتے ہیں ،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ ہم نیا یا پرانا نہیں بلکہ قائد کا پاکستان چاہتے ہیں،نظریہ پاکستان کی ترویج، دہشتگردی ،سیاسی انتشار کے خاتمے،خدمت کی سیاست کے لئے مرکزی مسلم لیگ کا ہرکارکن متحرک ہے،30 دسمبر کو یوم تاسیس ملک بھر میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ 78 برسوں میں پاکستان میں جو مسائل سامنے آئے، وہ صرف اور صرف ہمارے ذاتی مقاصد اور ملک کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے چلانے کی وجہ سے آئے ،مسائل کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد کریں ،ہم ان مقاصد کی طرف آ جائیں جس مقصد کے لیے یہ پاکستان بنایا گیا تھا تاکہ ہمارا ملک خوشحال ہو، ہم طبقاتی اور لسانی کشمکش سے باہر نکل کر نظریے کی بنا پر ایک قوم بن کر اس ملک کو سنوار سکتے ہیں ،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی قوم،مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان ،سیاسی جماعتوں سے گزارش کرتا ہوں‌کہ ایک قوم بن کر وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لیے کام کریں، تاکہ یہاں سے غربت ،افراتفری ،دہشت گردی ختم ہو،پاکستان امن کا گہوارہ بنے،معاشی طور پر مضبوط ہو اور آگے بڑھتے ہوئےعالم اسلام کی قیادت کرے.

  • یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،محسن نقوی

    یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،محسن نقوی

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد سیف سٹی کو کیپٹل سمارٹ سٹی بنانے کا جامع پلان طلب کر لیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے سیف سٹی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیجیٹل وال پر اسلام آباد شہر کے مانیٹرنگ نظام کا جائزہ لیا، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امن عامہ کے اقدامات کا مشاہدہ کیا، اور کنٹرول روم میں سپیشل چائنیز ڈیسک پر سکیورٹی سرویلنس کا معائنہ کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سیف سٹی ہیڈکوارٹرز میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کیپیٹل سمارٹ سٹی منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت دی گئی۔کیپیٹل سمارٹ سٹی میں شہری سہولیات جیسے ریسکیو 1122، ٹریفک، سکیورٹی اور سی ڈی ایم اے کو مرکزی نظام میں ضم کیا جائے گا، جبکہ اس منصوبے کے سکوپ اور دائرہ کار کو پورے ملک تک توسیع دی جائے گی۔ اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کے لیے کیپیٹل سمارٹ سٹی منصوبے کو ماڈل کے طور پر اپنانے پر زور دیا گیا۔ سیف سٹی میں اصلاحات اور ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال وقت کی اہم ضرورت قرار پایا ،وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہو گی،

    آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے سیف سٹی سے کیپیٹل سمارٹ سٹی میں منتقلی سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ محرم الحرام کے دوران سیف سٹی کیمروں کی مدد سے وقت اور وسائل کی بچت ممکن ہوئی۔وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • کابل، طالبان انٹیلی جنس چیف کے معاون دھماکے میں ہلاک

    کابل، طالبان انٹیلی جنس چیف کے معاون دھماکے میں ہلاک

    افغان طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کے ایک سینئر اہلکار اور ادارے کے سربراہ عبد الحق واثق کے قریبی معاون مولوی نعمان غزنوی کابل میں ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    طالبان سے وابستہ متعدد ذرائع اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، تاہم تاحال طالبان حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق مولوی نعمان غزنوی کابل کے مشرقی علاقے بٹخاک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہلاک ہوئے۔ وہ طالبان انٹیلی جنس کے سربراہ عبد الحق واثق کے نہایت قریبی ساتھی اور سیکریٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔ واقعے کی نوعیت اور اسباب تاحال واضح نہیں ہو سکے۔

    مولوی نعمان غزنوی طلبان کے انٹیلیجنس چیف عبد الحق وثیق کے قریبی معاون کے طور پر جانے جاتے تھے۔ واقعے نے طالبان کی سکیورٹی اور انٹیلیجنس حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ واقعہ طا،لبا،ن کی اندرونی چپقلش کا نتیجہ ثابت ہوتا ہے تو اس کے اثرات طا لبان کی صفوں میں نظم و ضبط اور انٹیلیجنس اداروں کی کارکردگی پر پڑ سکتے ہیں