Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر مقبولیت کے دعوے فریب ہیں۔عقیل ملک

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر مقبولیت کے دعوے فریب ہیں۔عقیل ملک

    زیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی مقبولیت فریب ہے، پی ٹی آئی سیاسی ناکامیاں چھپانے کیلئے سوشل میڈیا پر جھوٹ کا سہارا لیتی ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر جھوٹے فالوورز بنارکھے ہیں، سوشل میڈیا پر مقبولیت کا ڈرامہ کرکے جھوٹا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی مقبولیت کا پردہ چاک ہو چکا ہے، پی ٹی آئی سیاسی میدان کی ناکامیاں چھپانے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیتی ہے اور مصنوعی ریچ دکھائی جاتی ہے، پی ٹی آئی کی سیاست منفی بیانیے اور جھوٹ پر مبنی ہے، عوام جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر کوئی حقیقی فالوورز نہیں ہیں بھارتی پراپیگنڈا اکاؤنٹس پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پیروی کرتے ہیں، پی ٹی آئی کی حقیقت عوام کے سامنے آشکار ہو چکی ہے، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر مقبولیت کے دعوے فریب ہیں۔

  • پاک بھارت کشیدگی نے پاکستانی دفاعی صلاحیت اور ساکھ کو مضبوط کیا،عالمی جریدہ

    پاک بھارت کشیدگی نے پاکستانی دفاعی صلاحیت اور ساکھ کو مضبوط کیا،عالمی جریدہ

    عالمی جریدے کیرولائنا پولیٹیکل ریویو میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں پاکستان نے عالمی سیاست میں دوبارہ اہم مقام حاصل کیا، مئی میں پاک بھارت کشیدگی نے پاکستانی دفاعی صلاحیت اور ساکھ کو مضبوط کیا۔

    عالمی جریدے کے مطابق پاکستان نے مؤثر سفارت کاری سے واشنگٹن کا اعتماد بحال کرکے تعلقات کونئی سمت دی، امریکا نےجنوبی ایشیا، خلیج اور وسط ایشیا تک رسائی میں پاکستان کو کلیدی پل قرار دیا، امریکا نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو مرکزی حیثیت دی، پاکستانی بندرگاہیں خاص طور پر بلوچستان میں گوادر بہت بڑا اثاثہ ہے، پاکستان نے سی پیک کے ساتھ کثیرالجہتی توازن برقرار رکھ کر پر نئے معاشی راستے کھولے، نومبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی شائع کی، پاکستان ان قومی سلامتی کے مفادات کے حصول کےلیے امریکاکا کلیدی اتحادی ہوگا۔

    عالمی جریدے کے مطابق امریکا اور پاکستان کےتعلقات میں حالیہ تبدیلی نےدنیا بھر کے میڈیاکو اپنی طرف متوجہ کیا، بھارت پاکستان کشیدگی میں امریکاکو ڈی ایسکلیشن کےلیے فعال کردار اختیار کرنا پڑا، صدر ٹرمپ کاکشمیر پر بیان پاکستان کی سفارتی پوزیشننگ اورمؤقف کی تائید ہے،ہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر نفسیاتی برتری حاصل کی جبکہ بھارت پیچھے رہ گیا، لابنگ، پالیسی انگیجمنٹ سے تعلقات کو وار آن ٹیررفریم سے اکانومی اور اسٹریٹجی کی طرف موڑاگیا، پاکستان اور امریکا نے معدنیات سے ریفائننگ، پروسیسنگ کے لیے 500 ملین ڈالرکےکئی سودےکیے، ایگزم بینک نے بلوچستان میں ریکو ڈک میں کان کنی، معدنیات کے لیے 1.25بلین ڈالر فنانسنگ منظورکی، پاکستان نے ری انگیجمنٹ کرکے امریکا کے ساتھ رشتےکو“پائیدارمفاد” کی سمت بڑھایا

  • سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    سپہ سالار کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کا نور

    تاریخ کچھ ناموں کو صرف صفحات پر نہیں لکھتی،وہ انہیں قوم کے شعور میں نقش کر دیتی ہے۔چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر انہی ناموں میں سے ایک ہیں،وہ نام جو خاموشی میں گونجتا ہے،اور وقار میں بولتا ہے،وہ سپہ سالار جن کی پیشانی پر اقتدار کا غرور نہیں،بلکہ ذمہ داری کا نور جھلکتا ہے۔جن کی نگاہ میں وقتی شہرت نہیں،بلکہ صدیوں پر محیط ریاستی بقا کا خواب ہے۔ جنرل سید عاصم منیر ،ایک ایسا نام جو خاموشی، ضبط اور ریاستی ذمہ داری کے بھاری مفہوم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کی قیادت میں وردی صرف طاقت کی علامت نہیں رہی، بلکہ قانون، آئین اور قومی وقار کی پاسدار بن کر ابھری ہے،معرکۂ حق ان کے عہد میں ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے،حق کے بیانیے کا دفاع، ریاست کی رِٹ کی بحالی، اور اس اصول کا اعادہ کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ یہ معرکہ بندوق کی گھن گرج سے زیادہ عزم کی خاموش گونج میں سنائی دیتا ہے۔

    بھارت کے ساتھ معاملات میں، جذباتیت کے بجائے وقار اور مضبوط مؤقف ان کی شناخت رہا۔ اشتعال کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ دلیل، تیاری اور دفاعی صلاحیت کے واضح پیغام نے یہ باور کرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر کمزور نہیں۔ یہی وہ “منہ توڑ جواب” ہے جو زبان سے نہیں، ریاستی سنجیدگی سے دیا جاتا ہے۔بھارت نےپہلگام ڈرامے کے بعد آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا تو پاکستان نے معرکہ حق میں وہ جواب دیا کہ بھارت ابھی تک عالمی دنیا میں رسوا ہو رہا ہے،اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی کامیابیوں کی گونج ،فتح کے نغمے امریکی صدر ٹرمپ بھی ایک دو نہیں کئی بار گا چکے ہیں،جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ سبق دیا کہاصل جواب نعرے نہیں ہوتے،اصل جواب تیاری، تدبر اور ناقابلِ تسخیر دفاع ہوتا ہے۔دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرامن کی بات کرناصرف طاقتور ہی جانتا ہے،اور یہ ہنر انہیں خوب آتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حکمتِ عملی فولاد کی مانند مضبوط اور نیت آئین کی طرح شفاف رہی،یہی وجہ ہے کہ خاک و خون میں لتھڑی سرزمین دوبارہ امن کی خوشبو سے مہکنے لگی۔یہ کامیابیاں خاموش ہیں،مگر ان کی گونج ہر محفوظ گھر میں سنائی دیتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل،چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کا کردار تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی کا مظہر ہے۔ انٹیلی جنس کی بہتری، سرحدی نظم و نسق، اور ریاستی اداروں کے باہمی ربط نے اس ناسور کے خلاف نمایاں کامیابیاں ممکن بنائیں۔عالمی سطح پر، پاکستان کی آواز ان کے عہد میں متوازن اور باوقار انداز میں سنی گئی۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور عسکری و سفارتی حلقوں سے ملاقاتوں میں پاکستان کے مؤقف کو نہ صرف سنا گیا بلکہ سمجھا بھی گیا چاہے وہ علاقائی سلامتی ہو، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون ہو یا عالمی استحکام کی گفتگو،امریکی صدر سے ملاقاتیں ہوں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ،تمام کامیابیوں کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے

    جنرل سید عاصم منیر کی قیادت کا خلاصہ ایک جملے میں کیا جا سکتا ہے،طاقت میں تحمل، مؤقف میں وضاحت، اور عمل میں آئینی شعور،یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی سپہ سالار کو تاریخ میں جگہ دلاتے ہیں اور قوم کو اعتماد عطا کرتے ہیں۔جنرل سید عاصم منیر صرف ایک فوجی سربراہ نہیں وہ ایک نظریہ ہیں،ریاست ماں ہوتی ہے،
    اور ماں کی حفاظت عبادت،ان کی قیادت میں وردی خوف کی علامت نہیں،تحفظ کی علامت بنی،طاقت دھمکی نہیں،تحمل بن گئی اور یہی وجہ ہے کہ جب تاریخ پاکستان کے مشکل ادوار کو لکھے گی تو ایک باب خاموش وقار،
    ناقابلِ شکست عزم اور جنرل سید عاصم منیر کے نام ہوگا۔جنرل سید عاصم منیر وہ سپہ سالارجو نہ نعرہ بیچتا ہے،نہ شہرت مانگتا ہے،بس ریاست کا بوجھاپنے کندھوں پر اٹھا کرخاموشی سے چلتا رہتا ہے۔اور قوم ان کے پیچھے
    سر اٹھا کر کھڑی ہے۔کیونکہ جب وردی میں ایسا عزم ہو،تو پرچم خود بخود بلند ہو جاتا ہے۔

  • وبائی امراض  پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    وبائی امراض پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے وبائی امراض سے بچاو کی تیاری کے عالمی دن پراپنے پیغام میں کہاہے کہ وبائی امراض کسی علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ وبائی امراض سے بچاؤ اور قابو پانے کے لیے ہر دم تیار رہنا ضروری ہے۔

    وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ حکومت پنجاب شعبہ صحت کی کیپسٹی بڑھا رہی ہے، سب سے زیادہ صحت پر کام کیا گیا- شہری صحت سے متعلق ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھائیں، احتیاطی تدابیر زندگی کا حصہ بنائیں گے۔وبائی امراض سے بچاؤ کیلئے بروقت تیاری نہ صرف جان بچاتی ہے بلکہ معیشت اور معاشرت کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہاکہ وبائی امراض کے مقابلے کے لیے تعاون اور احتیاطی تدابیر پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے۔کرونا کی وبا نے عالمی برادری میں صحت اور بہبود کے تحفظ کے لیے مستقل عزم اور کوشش کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ وائرس سے شروع ہونے والی وبا نے معاشی اور سماجی طور پر پوری دنیا کو متاثر کیا۔

  • سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر چل بسیں

    سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر چل بسیں

    سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر انتقال کر گئیں

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر کراچی میں انتقال کرگئیں۔اہلخانہ کے مطابق ڈاکٹر شمشاد اختر کا انتقال حرکت قلب بند ہونے کے باعث ہوا جبکہ مرحومہ کی نمازجنازہ کل بروز اتوار بعد نمازظہر ادا کی جائیگی۔شمشاد اختر اسٹاک ایکسچینج ایس ایس جی سی کی چیئرپرسن تھیں۔شمشاد اختر نے جمعہ کو اسٹاک ایکسچینج میں خدمات انجام دیں۔ڈاکٹر شمشاد اختر نے 2 جنوری 2006ء کو بینک دولت پاکستان کی 14 ویں گورنر کا عہدہ سنبھالا، وہ اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر تھیں۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نےسابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،صدر مملکت نے شمشاد اختر کی معیشت اور مالیاتی نظم و نسق کے شعبے میں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔صدرِ مملکت نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی

  • پختون ثقافت ہمیشہ عزت، وقار اور انسانی حرمت کی علمبردار رہی ہے،گورنر خیبر پختونخوا

    پختون ثقافت ہمیشہ عزت، وقار اور انسانی حرمت کی علمبردار رہی ہے،گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے لاہور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھیوں کی جانب سے دیے گئے نازیبا اور توہین آمیز ریمارکس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پختون ثقافت ہمیشہ عزت، وقار اور انسانی حرمت کی علمبردار رہی ہے، بالخصوص خواتین کے احترام کو ہمارے معاشرے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے، لاہور میں سامنے آنے والے الفاظ نہ صرف افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہیں، جو ہمارے معاشرتی اقدار کے منافی ہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اختیار اور عہدوں پر فائز افراد سے سیاسی بلوغت کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور احترام کا مظاہرہ بھی لازم ہے، کیونکہ ان کے الفاظ صرف ان کی ذات ہی نہیں بلکہ پورے صوبے اور ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاست ذاتی حملوں اور کردار کشی کا نام نہیں بلکہ تعمیری مکالمے، اختلافِ رائے کے احترام اور عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ ہونی چاہیے۔گورنر خیبرپختونخوا نے تمام سیاسی قائدین پر زور دیا کہ وہ گندی سیاست سے بالاتر ہو کر گفتار اور کردار میں اعلیٰ اقدار کو اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر زبان و بیان میں شائستگی اور احترام برقرار رکھنا قومی ذمہ داری ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے میں اخلاقی اقدار کے فروغ اور خواتین کے احترام کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف سیاسی ماحول کو آلودہ کرتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی منفی مثال بنتے ہیں، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ مثبت، مہذب اور ذمہ دارانہ سیاست کو فروغ دیں تاکہ ملک میں برداشت، احترام اور وقار کی فضا قائم رہ سکے۔

  • پاکستان معاشی محاذ پر بھی کامیابیاں حاصل کررہا ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان معاشی محاذ پر بھی کامیابیاں حاصل کررہا ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار خارجہ نے کہا ہے کہ اللّٰہ نے پاکستان کو عالمی برادری میں بہت پذیرائی دی ہے۔

    پالیسی پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم نے حلف اٹھایا تھا تو پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کے شکار ملک کے طور پر جانا جاتا تھا، یو اے ای کے تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یو اے ای فوجی فاؤنڈیشن کے کچھ شیئرز لے گا اور یہ لائبلیٹی ختم ہوگی۔ جنوری کے 2 ارب کے رول اوور پر بھی بات ہوئی کوشش ہوگی کہ وہ اس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ یو اے ای نے 3 ارب ڈالرز دیے تھے،ساؤتھ ایشیا میں 4 دن کے تنازع میں پاکستان کی کارکردگی ٹیسٹ ہوئی، ہم نے کسی کو صلح صفائی کا نہیں کہا، ہم نے ان کے سات طیارے گرائے،پاکستان میں 36 گھنٹوں میں 80 ڈرون بھیجے گئے، ہم نے 79 ڈرون مار گرائے، ایک ڈرون نے ایک فوجی تنصیب پر تھوڑا نقصان کیا اور ایک بندہ ذخمی ہوا،پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو عبرتناک شکست دی،بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے، بھارت کو سمجھنا ہوگا سندھ طاس معاہدہ ایک حقیقت ہے۔ پاکستان معاشی محاذ پر بھی کامیابیاں حاصل کررہا ہے، بھارت سے جنگ میں پاکستان نے کسی سے جنگ بندی کا نہیں کہا۔

  • لاہور ہائیکورٹ،وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ،وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی۔

    درخواست شہری منیر احمد نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ سے متعلق عدالتی حکم پر تنقیدی بیانات توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں، پراپرٹی قانون کی معطلی پر بیانات سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی، درخواست میں مزید کہا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے بیانات نے عدالت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، عدالتی حکم کو لینڈ مافیا کے حق میں قرار دینا سنگین الزام ہے، لاہور ہائیکورٹ کے حکم کو سیاسی رنگ دیناغیر قانونی عمل ہے، اعلیٰ عہدیداران کے بیانات سے عدالتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، لہٰذا مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور عظمیٰ بخاری کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرے

  • دشمن قوتیں پاکستان کی سفارتی، اخلاقی ،نظریاتی کامیابیوں سے خائف ہیں،طاہر اشرفی

    دشمن قوتیں پاکستان کی سفارتی، اخلاقی ،نظریاتی کامیابیوں سے خائف ہیں،طاہر اشرفی

    لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ کچھ عناصر کو بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح ہضم نہیں ہو رہی اور اسی وجہ سے ملک کے خلاف منفی اور جھوٹا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا بیانیہ زیادہ دیر تک نہیں چلتا اور بالآخر حقائق ہی سامنے آتے ہیں۔

    حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست ہے، جس نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور بقائے باہمی کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان کی سفارتی، اخلاقی اور نظریاتی کامیابیوں سے خائف ہیں اور اسی لیے سوشل میڈیا اور بین الاقوامی فورمز پر منفی مہمات چلائی جا رہی ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف مضبوط اور حقیقت پر مبنی ہے۔

    انہوں نے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور آئین پاکستان ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتیں پاکستان کی ترقی میں برابر کی شریک ہیں اور ریاست ان کے جان و مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہے۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے ملکی معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو چکی ہے اور درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود حکومت، ادارے اور عوام مل کر ملک کو معاشی استحکام کی جانب لے جا رہے ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منفی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں، قومی اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں اور ملک کے خلاف سازشوں کا شعور اور ذمہ داری کے ساتھ جواب دیں۔

  • سال 2025  بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ہزیمت کا سال

    سال 2025 بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ہزیمت کا سال

    سال 2025ء بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ہزیمت کا سال رہا، 2025ء میں بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی سُبکی کا سامنا کرنا پڑا، بھارت میں نریندر مودی سے وابستہ توقعات حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔

    بھارتی اخبار دی ہندو نے 2025ء کو خارجہ پالیسی کو توقعات پر پورا نہ اترنے کا سال قرار دیدیا، رپورٹ میں کہا کہ سرمایہ کاری رکاوٹیں برقرار رہیں اور بھارت محض علامتی موجودگی تک محدود رہا، امریکی تعلقات کیلئے 2025ء بھارت کیلئے اس صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا،دی ہندو کا کہنا ہے کہ 2025ء کی امریکی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی میں بھارت کو محدود کردار تک سمیٹ دیا گیا،بھارتی اخبار دی ہندو نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو سنگین سیکیورٹی ناکامی قرار دیا اور پہلگام کے بعد بھارتی عسکری کارروائیوں کو سفارتی سطح پر عالمی حمایت نہ ملنے کا اعتراف کیا گیا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کارروائی کے بعد طیاروں کے نقصانات پر خاموشی نے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، سعودی پاکستان باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان بھارت کیلئے اضافی دھچکا تھا۔

    ماہرین کے مطابق دی ہندو اخبار نے بھارت کی کمزور سفارتکاری کو عیاں کردیا۔ دی ہندو کا کہنا ہے کہ بھارت ”وشو گرو” کے بیانیے سے نکل کر ”وشو وکٹم” کی طرف بڑھ رہا ہے، لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس سیکیورٹی پیشرفت نہیں ہوسکی، بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات کشیدہ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔