Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ملزم کو کسی نے نہیں بتایا کہ اس کے نمبر سے بکواسیات ہو رہی ہیں،جسٹس مسرت ہلالی

    ملزم کو کسی نے نہیں بتایا کہ اس کے نمبر سے بکواسیات ہو رہی ہیں،جسٹس مسرت ہلالی

    سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف غیر اخلاقی پوسٹس لگانے کے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اتنی خطرناک صورتِ حال ہے تو پھر بچوں کو موبائل نہیں دینا چاہیے۔

    سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف غیر اخلاقی پوسٹس لگانے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی،دوران سماعت مدعی کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ملزم طیب ڈار کا پھیلایا گیا مواد سوشل میڈیا پر موجود ہے، خواتین کے حوالے سے لگائی جانے والی پوسٹیں عدالت میں پڑھ بھی نہیں سکتا،ملزم کے وکیل نے کہا کہ بیٹے نے فیس بک پر پوسٹس لگائیں، بیٹا کچھ کرے تو باپ کے خلاف کیس نہیں بن سکتا، باپ کے نام کی سِم بیٹا استعمال کر رہا تھا،مدعی کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ تحقیقات کے مطابق باپ بیٹے دونوں موبائل استعمال کرتے تھے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنی خطرناک صورتِ حال ہے تو پھر بچوں کو موبائل نہیں دینا چاہیے۔ ایسا جرم ہوگا تو سختی سے دیکھنا ہوگا، ایسے کسی کی عزتیں نہیں اچھالنی چاہئیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا ملزم کو کسی نے نہیں بتایا کہ اس کے نمبر سے بکواسیات ہو رہی ہیں، سارے دستاویزی شواہد ملزم طیب ڈار کے خلاف ہیں،مدعی کے وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ملزم طیب ڈار کے حوالے سے مزید دستاویزات بھی لگانا چاہتے ہیں.عدالت نے دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  • طلبہ نے عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے،بلاول

    طلبہ نے عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، سندھ کے تعلیمی اداروں میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔

    شہید بےنظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے 7ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج صرف اسناد کی تقسیم کا دن نہیں، بلاتعطل علاج کی فراہمی بھی ہے، فارغ التحصیل طلبہ نے اب عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے، آپ نے اپنے صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینی ہیں، مشکل گھڑی میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف قوم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، آپ نے بلاتفریق انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنانا ہے، ہمیں صحت کے شعبے میں مکمل تیار رہنا چاہیے، ملک کو جب بھی کسی دباؤ کا سامنا ہوا ہمارے ڈاکٹرز اور نرسوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، ادارے صرف بلڈنگ اور جدید مشینری سے کامیاب نہیں ہوتے، جب آپ آئیں گے اور کام کریں گے تو ادارے کامیاب ہوں گے، آپ اچھے ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بننے کے لیے بھی محنت کریں،لاڑکانہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ یہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے، صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، ہیلتھ کیئر سسٹم میں بہتری ہماری ترجیح ہے، 18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں اقدامات کیے گئے۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بےنظیر بھٹو نے 1989 میں یونیورسٹی کا خواب دیکھا تھا جو 2009 میں مکمل ہوا۔ چانڈکا میڈیکل کالج کی بنیاد 1973 میں رکھی گئی تھی، چیئرمین پیپلز پارٹی کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنی والدہ کے خواب کو پورا کیا، ڈاکٹرز کی کمٹمنٹ سے علاج ممکن ہے، صرف انفرا اسٹرکچر سے علاج ممکن نہیں، یہ ڈگری صرف آپ کی نہیں ان مریضوں کی اُمید ہے جن کا آپ علاج کریں گے۔

  • عالمی برادری بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ  سلوک کا نوٹس لے،پاکستان

    عالمی برادری بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کا نوٹس لے،پاکستان

    پاکستان نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر تشویش کا اظہار کردیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کرسمس کے دوران توڑ پھوڑ کے حالیہ واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی مہمات چل رہی ہیں، بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار کرنا اور مار پیٹ معمول بن چکا، محمد اخلاق کیس ثبوت ہے جس میں ریاست نے مجرموں کو بچایا۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نے بھارتی مسلمانوں میں خوف کو مزید بڑھا دیا، عالمی برادری بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا نوٹس لے، بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

  • کالعدم تنظمیں کم عمر بلوچ بچیوں کو خودکش  بنانے میں ملوث

    کالعدم تنظمیں کم عمر بلوچ بچیوں کو خودکش بنانے میں ملوث

    وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے پولیس افسران کے ہمراہ سینٹرل پولیس آفس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کمسن لڑکی کو کالعدم بی ایل اے دہشتگردوں کے خودکش منصوبے سے بچالیا گیا، کالعدم تنظمیں کم عمر بلوچ بچیوں کو خودکش حملہ آور بنانے کے انسانیت سوز گھناؤنے فعل میں ملوث ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے، جرائم پیشہ عناصر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ذہن سازی کرتے ہیں، انٹیلی جنس کی بروقت کارروائی کی وجہ سے بچی بچ گئی، ریاست مخالف عناصر نے بچی سے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا، دشمن ہمارے بچوں کو ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے۔وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ اداروں کی بروقت کارروائی سے کراچی بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔

    ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ کالعدم بی ایل اے کے ہینڈلر نے انسٹاگرام پر بچی سے رابطہ کیا، کالعدم دہشت گرد نیٹ ورک کی سنگین سازش ناکام بنادی گئی۔ 25 دسمبر کو آپریشن کے دوران نوجوان لڑکی کو محفوظ طور پر حراست میں لیا گیا۔ چیک کے دوران لڑکی کو مشتبہ کے طور پر حراست میں لیا گیا۔ بی ایل اے ہینڈلر نے لڑکی سے انسٹاگرام کے ذریعے رابطہ کیا۔ بی ایل اے بھرتی کرنے والے ایجنٹ نے لڑکی سے رابطہ کیا۔ پولیس چیکنگ کی وجہ سے ہینڈلر مطلوبہ مقام تک نہیں پہنچ سکا اور سازش بے نقاب ہوئی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت اور دہشت گردی کے مواد کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں۔

    متاثرہ بچی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد سامنے آیا، پھر وہی مواد بار بار دکھایا جانے لگا، رابطہ بڑھا، لنکس اور تقاریر بھیجی گئیں، رابطوں کے بعد آہستہ آہستہ وہی سب کچھ سچ لگنے لگا۔ واٹس ایپ گروپس میں کالعدم بی ایل اے کی کارروائیوں کو بہادری بناکر پیش کیا گیا، میرے ذہن میں بات ڈالی گئی جان دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہے، آج سمجھ آیا میں کس تباہی کی طرف جارہی تھی، عورتوں اور بچیوں کو قربان کرنا بلوچیت نہیں۔

    متاثرہ بچی کی والدہ نے کہا کہ عوامی مفاد میں ہم نے بیان دینے کا فیصلہ کیا، بیان دینے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی اور بچی اس جال میں نہ پھنسے۔

  • ارشد ندیم کو دبئی میں عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا

    ارشد ندیم کو دبئی میں عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا

    پاکستان کے نامور اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور جیولین تھرو کے عالمی چیمپئن ارشد ندیم کو ایک اور بین الاقوامی اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ انہیں دبئی میں منعقدہ 17ویں ورلڈ اسپورٹس سمٹ کے دوران دبئی کے حکمران کے نام سے منسوب باوقار شیخ محمد بن زاید ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    یہ اعزاز دبئی میں ہونے والی ورلڈ اسپورٹس سمٹ کے دوران اسپورٹس کی دنیا کی ممتاز اور نامور شخصیات کی موجودگی میں دیا گیا۔ تقریب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اسپورٹس لیجنڈز، منتظمین اور عالمی اداروں کے نمائندے شریک تھے، جہاں ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔دبئی کے حکمران کے صاحبزادے شیخ منصور بن محمد بن راشد المختوم نے خود اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کو یہ اعزاز پیش کیا۔ اس موقع پر ارشد ندیم کی محنت، عزم اور کھیل کے میدان میں غیر معمولی کامیابیوں کو سراہا گیا۔

    واضح رہے کہ ارشد ندیم نے 2024 کے پیرس اولمپکس میں تاریخ ساز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 92 اعشاریہ 97 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ جیولین تھرو کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ یہ کامیابی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے باعثِ فخر بنی اور ارشد ندیم نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔شیخ محمد بن زاید ایوارڈ کا حصول اس بات کا ثبوت ہے کہ ارشد ندیم کی کامیابیاں صرف اولمپکس تک محدود نہیں بلکہ انہیں عالمی اسپورٹس کمیونٹی میں بھی غیر معمولی مقام حاصل ہو چکا ہے۔ یہ اعزاز پاکستانی اسپورٹس کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سپریم کورٹ،توہین مذہب کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

    سپریم کورٹ،توہین مذہب کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہینِ مذہب کے ایک ملزم کی میت کی تدفین کے دوران ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں نامزد ملزم مولوی احمد کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے یہ درخواست ملزم کی جانب سے واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی۔

    کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ میت کی تدفین کے وقت پیش آنے والے تنازعے کا نتیجہ تھا، جس کے دوران فریقین کے درمیان جھگڑا ہوا۔ وکیل کے مطابق معاملہ وقتی اشتعال کا تھا اور ملزم کو بلاوجہ مقدمے میں نامزد کیا گیا۔سپریم کورٹ نے کیس کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ مقدمے کی سماعت تین ماہ کے اندر مکمل کرے تاکہ انصاف کے تقاضے بروقت پورے کیے جا سکیں۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حساس معاملات میں قانون کے مطابق اور غیر جانبدارانہ طریقے سے فیصلہ ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ توہینِ مذہب کے ملزم کی میت دفنانے کے معاملے پر علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں ہنگامہ آرائی اور جھگڑے کی صورتحال سامنے آئی، بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مولوی احمد سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔عدالت کے فیصلے کے بعد کیس اب ٹرائل کورٹ میں تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔

  • لاہور میں بسنت،ایس او پیز جاری،سخت حفاظتی اقدامات کا حکم

    لاہور میں بسنت،ایس او پیز جاری،سخت حفاظتی اقدامات کا حکم

    ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے بسنت 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز اور شہریوں کیلئے ایس او پیز جاری کر دیئے گئے

    ضلع لاہور کی حدود میں 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو بسنت منائی جائے گی۔ حکومت نے سخت شرائط اور حفاظتی اقدامات کے تحت پتنگ بازی کی مشروط اجازت دی۔ پتنگ اور ڈور مینوفیکچررز کی رجسٹریشن کیلئے ای بز ایپ اور آن لائن پورٹل فعال کر دی گئی پتنگ بازی کا سامان فروخت کرنے کیلئے یکم تا 8 فروری 2026 کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ چرخیاں بنانے اور بیچنے پر مکمل پابندی، ڈور صرف "پنا” کی شکل میں ہو گی۔ نائلون، پلاسٹک اور دھاتی تار کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ حکام نے تمام مینوفیکچررز اور سیلرز کو اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے،نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کیلئے بائیک پر حفاظتی تار لگوانا لازمی ہوگا۔ پتنگ اور گڈے کا سائز مقررہ حد سے تجاوز نہ کرے، خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔ پولیس اور ضلعی افسران ممنوعہ ڈور بیچنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کریں۔ پتنگ بازی صرف 6، 7 اور 8 فروری کو کی جائے گی ۔

    ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے کہا کہ بسنت لاہور کا ثقافتی تہوار ہے، اسے محفوظ بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ خونی ڈور اور کیمیکل کوٹنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کاروباری حضرات 30 دسمبر سے قانونی طریقے سے کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، کوتاہی نہیں برتیں گے، والدین اپنے بچوں کو ممنوعہ ڈور کے استعمال سے روکیں۔ قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔

  • خود کش حملے کیلیے تیارنابالغ بچی بحفاظت بازیاب ، بی ایل اے سے منسلک نیٹ ورک بے نقاب

    خود کش حملے کیلیے تیارنابالغ بچی بحفاظت بازیاب ، بی ایل اے سے منسلک نیٹ ورک بے نقاب

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اہم انسدادِ دہشت گردی کارروائی کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے انتہاپسندی کا شکار بننے والی ایک نابالغ بچی کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔ حکام کے مطابق بچی کو بی ایل اے سے منسلک بھرتی نیٹ ورکس کی جانب سے آن لائن گرومنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا تھا، تاہم بروقت مداخلت کے باعث اسے کسی عملی دہشت گرد سرگرمی میں دھکیلے جانے سے پہلے ہی محفوظ کرلیا گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی انسدادِ دہشت گردی کامیابی حاصل کی، جس کے تحت ایک نابالغ بچی کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا جسے سوشل میڈیا کے ذریعے انتہاپسندی کی طرف مائل کیا جا رہا تھا اور جو بی ایل اے کی بھرتی نیٹ ورکس سے منسلک تھی، اس سے پہلے کہ اسے مزید عملی دہشت گردی کے راستے پر دھکیلا جاتا۔ اس کارروائی میں بی ایل اے کے ہینڈلرز سے جڑی پوری بھرتی زنجیر بے نقاب اور ناکام بنائی گئی، جو آن لائن شروع ہوئی اور کراچی میں جسمانی نقل و حرکت اور خفیہ ٹھکانے تک جا پہنچی، جہاں بچی کو ایک نجی رہائش گاہ میں رکھا گیا تھا۔ حکام نے تصدیق کی کہ جدید دہشت گردی اب سوشل میڈیا سے شروع ہوتی ہے، جہاں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ماحولیاتی نظام کے ذریعے پھیلائے گئے انتہاپسند بیانیے اور نفرت انگیز مواد موبائل فونز اور بند آن لائن ماحول کے ذریعے نابالغوں کو ورغلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کیس نے پیشگی پولیسنگ کی عملی مثال پیش کی،بی ایل اے سے منسلک آن لائن گرومنگ کو معمول کی جانچ، حفاظتی تحویل اور منظم بریفنگ کے ذریعے نقصان ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔ خواتین اور نابالغ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی بھرتی حکمتِ عملیوں کا بنیادی ہدف ہیں، اور اس ردِعمل میں بچوں کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی۔

    وزیرِ داخلہ نے بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کی کسی بھی کوشش پر صفر برداشت کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ صرف بازیابی کافی نہیں؛ قانونی جوابدہی بھی ہوگی۔ ریاست نے بلوچ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا جبکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی جانب سے ان کے نام پر جھوٹے طور پر کی جانے والی دہشت گردانہ استحصال کو مسترد کیا، جس میں لڑکیوں اور نابالغوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کو ردِعمل سے پیشگیری کی طرف منتقل ہوتے ہوئے پیش کیا گیا، جہاں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی ڈیجیٹل انتہاپسندی اور آن لائن بھرتی کو اولین محاذی خطرہ قرار دیا گیا۔بریفنگ میں ایک بڑی قانون نافذ کرنے والی کامیابی کی تصدیق کی گئی، جس میں ایک نابالغ بچی کو بی ایل اے سے منسلک بھرتی کے عمل سے بحفاظت نکال کر مکمل تحفظ اور رازداری کے تحت اس کی والدہ سے ملا دیا گیا۔ بریفنگ میں سوشل میڈیا کو جدید بھرتی کا بنیادی دروازہ قرار دیا گیا اور والدین و عوام کو خبردار کیا گیا کہ نظریاتی تلقین اب آن لائن شروع ہوتی ہے، جو بی ایل اے اور بی ایل ایف نیٹ ورکس فعال طور پر استعمال کرتے ہیں۔

    حکام نے بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک ہینڈلرز کی جانب سے استعمال ہونے والے گرومنگ طریقۂ کار کی تفصیل بیان کی، جعلی اکاؤنٹس، اعتماد سازی، بند گروپس، دھمکیاں اور ذہنی سازکاری، خاص طور پر خواتین اور نابالغوں کو نشانہ بنانا۔ ریسکیو آپریشن نے بی ایل اے سے منسلک بھرتی کے ذریعے چلنے والے دہشت گردی کے عمل کو روک دیا جو ڈیجیٹل طور پر شروع ہوا تھا اور حقیقی دنیا میں نقل و حرکت اور شدت کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔بریفنگ میں بی ایل اے ہینڈلرز سے وابستہ مرحلہ وار بھرتی اور نقل مکانی کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد معمول کی پولیسنگ اور بریفنگ کے دوران رضاکارانہ بیان کے ذریعے مداخلت کی گئی۔حکام نے تصدیق کی کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک استحصال کے خلاف کارروائی کے دوران بچی کی سلامتی، وقار اور مستقبل کو اولین ترجیح دی گئی، جس میں شناخت اور خاندانی تفصیلات کی سخت رازداری شامل تھی۔ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دہشت گردانہ پروپیگنڈا کو نظریاتی پردے سے محروم کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ “مزاحمت” نہیں بلکہ بچوں کا استحصال اور کمزور افراد پر جبر ہے۔ حکام نے آن لائن اور آف لائن دونوں سطحوں پر بچوں کے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ہاتھوں استحصال کے خلاف صفر برداشت کا اعادہ کیا اور سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔

    واضح رہے کہ کم عمر بچی کو دہشت گردی کے لیے تیار کیا جا چکا تھا، ریاست نے آخری لمحے بچا لیا، حکام نےانکشاف کیاکہ دہشت گردی اب بارڈر پار نہیں، بچوں کے موبائل فون کے اندر داخل ہو چکی ہےبی ایل اے بچوں کو بندوق نہیں، نفرت سے ہتھیار بناتی ہے، بچی کو نظریہ نہیں دیا گیا، صرف حکم ماننے کی تربیت دی گئی، دہشت گردوں نے خود کو خیر خواہ ظاہر کر کے کم سن بچی کا اعتماد حاصل کیا،بچی کو اسکول، گھر اور خاندان سے آہستہ آہستہ مکمل طور پر الگ کر دیا گیا، بچی کو عملی دہشت گردی کے مرحلے کے انتہائی قریب پہنچا دیا گیا تھا، دہشت گردوں نے بچی کو شہر در شہر منتقل کیا تاکہ خاندان تک رسائی ممکن نہ رہے، بچی کی شناخت اس لیے چھپائی گئی کیونکہ وہ مجرم نہیں، دہشت گردی کا شکار ہے، بی ایل اے بچوں کے مستقبل پر حملہ آور، بچوں کا تحفظ اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے

  • پی ٹی آئی مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی پنجاب اسمبلی کا کیا کرے گی،ملک احمدخان

    پی ٹی آئی مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی پنجاب اسمبلی کا کیا کرے گی،ملک احمدخان

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی علامت ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ جب بتایا گیا کہ سی ایم کے پی پنجاب اسمبلی میں آنا چاہتے ہیں تو خوشی ہوئی لیکن آپ ایسے لوگوں کو لے کر ایوان میں آئے جن کے ہمارے پاس نام بھی نہیں تھے، جب ان کے نام لسٹوں میں چیک کیے گئے تو انہوں نے دھکے دینا شروع کر دیے،پنجاب اسمبلی کا ہر فعل قانون کے تابع ہے،اسمبلی میں آنے کے لیے اجازت نامے کی ضرورت یا کم از کم شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے، سیکیورٹی کے معاملے کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے،مجھے کسی نے پنجاب اسمبلی کا واقعہ پوچھا تو میں نے کہا جن لوگوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی تعظیم کی فکر نہیں ہے۔ وہاں جب اتھارٹیز نے تفتیش کی تو وہاں ہلڑ بازی کرنے والے وہ لوگ تھے جس پارٹی سے سہیل آفریدی ہیں،پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے مطابق پہلا قانون اسمبلی کے گیٹ پر توڑا گیا، جب وہ ایسے افراد کو لے کر آئے جن کا نام فہرست میں نہیں تھا اور جن کے پاس شناختی کارڈ بھی موجود نہیں تھا۔جس نے جو بھی غلط کام کیا ہے اس کے خلاف انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کارروائی ہو گی،خیبرپختونخوا سے آئے لوگوں نے ذہنی پستی کا اظہار کیا، پی ٹی آئی مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتی پنجاب اسمبلی کا کیا کرے گی،وزیراعلیٰ پنجاب کی توہین قابل مذمت ہے،سہیل آفریدی باہر سے لوگ پنجاب اسمبلی لائے جن کے نام فہرست میں بھی شامل نہیں تھے،رپورٹ قانون نافذکرنے والے اداروں کو بھیج رہا، جو پنجاب اسمبلی دنگا فساد کی انکوائری کریں گے،آپ غنڈہ گردی سے باز نہیں آتے اور پھر چیختے چلاتے بھی ہیں،

  • پانی پاکستان کی ریڈ لائن  جس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا،شیری رحمان

    پانی پاکستان کی ریڈ لائن جس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا،شیری رحمان

    بھارت نے ایک بار پھر سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب پر پن بجلی منصوبے کی منظوری دیدی۔

    نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی آبی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دلہستی اسٹیج ٹو پن بجلی منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، بھارت کا یہ منصوبہ پاکستان کے تسلیم شدہ آبی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے،سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی اصولوں اور علاقائی امن کے خلاف ہے، بھارتی منصوبے سے پاکستان کی آبی، زرعی اور ماحولیاتی سلامتی کو خطرات ہوں گے،دلہستی منصوبہ دفاعی اور تزویراتی طور پر بھی پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے کشیدگی اور عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا چناب میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اور غیرمعمولی کمی بھارتی آبی جارحیت کا ثبوت ہے، سندھ طاس معاہدہ کسی ایک ملک کی صوابدید نہیں، سندھ طاس معاہدہ عالمی ضمانتوں کے تحت طے شدہ دستاویز ہے، دریاؤں پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش سخت نتائج کو جنم دے سکتی ہے، پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، بھارت باز نہ آیا تو بنیان المرصوص کی طرح اسے پھر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑےگا، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو عالمی فورمز پر مؤثراندازم یں اجاگر کریں گے، بھارت کو یکطرفہ اقدامات چھوڑ کر بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرنا ہو گی