Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ملک و قوم کے لیے بینظیر بھٹو کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وزیراعظم

    ملک و قوم کے لیے بینظیر بھٹو کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت اور عوامی حقوق، وفاقِ پاکستان کے استحکام کے لیے بے مثال جدوجہد کی۔

    بینظیر بھٹو کے یوم شہادت پر جاری کیے گئے پیٍغام میں‌وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل میں رواداری کو فروغ دیا جو لائق تحسین ہے، ان کی سیاسی میراث میں جذبہ حب الوطنی نمایاں ہے، ملک و قوم کے لیے محترمہ بینظیر بھٹو کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کی سیاسی میراث میں جذبہ حب الوطنی نمایاں ہے،محترمہ بینظیر بھٹو نے خواتین کے کردار اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قابل قدر اقدامات کیے، بینظیر بھٹو نے پاکستان کو ایک پُرامن، ترقی پسند اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانیاں اور خدمات قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ رواداری، برداشت، قانون کی حکمرانی اور عوامی فلاح کے سفر کو آگے بڑھایا جائے گا، اللّٰہ تعالیٰ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اللّٰہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل دے،آمین۔

  • کراچی پولیس پر اغوا اور بھتہ خوری کے الزامات

    کراچی پولیس پر اغوا اور بھتہ خوری کے الزامات

    کراچی میں ایک طالب علم نے پولیس پر شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور بھتہ خوری کے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں، جس کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اسے زبردستی گھر سے اٹھا کر تھانے منتقل کیا، غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا اور رہائی کے بدلے بھاری رقم کا مطالبہ کیا۔

    متاثرہ طالب علم حسنین کے مطابق سکھن پولیس کی تین موبائلیں اس کے گھر پر آئیں اور بغیر کسی وارنٹ یا واضح وجہ کے اسے اپنے ساتھ لے گئیں۔ حسنین کا دعویٰ ہے کہ تھانے پہنچنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے اس سے دس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور رقم نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

    طالب علم نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکار جبار اور اس کے ساتھی نورا نے ابتدائی طور پر 50 ہزار روپے وصول کیے، جس کے بعد اسے صبح تقریباً 6 بجے رہا کر دیا گیا۔ تاہم حسنین کے مطابق اس کا ذاتی سامان تاحال تھانے میں موجود ہے اور سامان کی واپسی کے لیے پولیس کی جانب سے مزید ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    حسنین نے الزام لگایا کہ اسے نہ تو کسی مقدمے میں نامزد کیا گیا اور نہ ہی گرفتاری کی کوئی قانونی وجہ بتائی گئی، بلکہ سارا معاملہ محض پیسے بٹورنے کے لیے کیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ طالب علم ہے اور اتنی بڑی رقم ادا کرنا اس کے لیے ممکن نہیں، اس لیے اس نے میڈیا اور اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب پولیس نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متاثرہ نوجوان تھانے آجائے تو اس کا سامان واپس کر دیا جائے گا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل چھان بین کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر ایس ایس پی ملیر نے فوری طور پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور انکوائری ایس پی ملیر کے سپرد کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اگر کسی اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ کراچی میں ماضی میں بھی پولیس اہلکاروں پر شارٹ ٹرم کڈنیپنگ اور بھتہ خوری کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی سخت تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر پولیس کے احتساب اور اصلاحات کے مطالبے کو تقویت دے دی ہے۔

  • شیخ محمد بن زاید کادورہ پاکستان،دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ

    شیخ محمد بن زاید کادورہ پاکستان،دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمراں، عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے 26 دسمبر 2025 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ دورہ اُن کی بطور صدرِ متحدہ عرب امارات پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔

    عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی پاکستان آمد پر اُن کا نہایت گرمجوش اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی شاہی طیارے کو پاک فضائیہ کے جے ایف-17 جنگی طیاروں نے حفاظتی حصار میں لے لیا۔ نور خان ایئر بیس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ معزز مہمان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر کابینہ کے دیگر سینئر ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔

    دورے کے دوران عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان بامعنی اور تفصیلی مذاکرات ہوئے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے خیالات کا تبادلہ کیا۔ ملاقات میں جاری تعاون کے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

    دونوں فریقین نے اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر کی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی روابط (پیپل ٹو پیپل ایکسچینجز) کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تجارت میں اضافے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں قائدین نے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔

    عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کا یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • وزارتِ خارجہ نے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کر دیا

    وزارتِ خارجہ نے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کر دیا

    وزارت خارجہ نے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کردیا۔

    ذرائع وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا،میٹ کینل کو دن دو بجے کے قریب طلب کیا گیا اور برطانیہ میں ہونے والے واقعے پر احتجاج کیا گیا، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیمارش برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر احتجاج پر جاری کیا گیا۔

    سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ کو برطانیہ میں مظاہرین جمع کرنے کیلئے استعمال کیا گیا، مظاہرین نے چیف آف ڈیفنس فورسز کےخلاف انتہائی اشتعال انگیز اور قابل اعتراض زبان استعمال کی،ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران فیلڈ مارشل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں، احتجاج کے دوران کہا گیا کہ ان کو ایک کار بم دھماکے میں قتل کر دیا جائے گا۔

  • بسنت،پنجاب حکومت کا فری بس،رکشے چلانے کا اعلان

    بسنت،پنجاب حکومت کا فری بس،رکشے چلانے کا اعلان

    لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر امن و امان، شہری سہولت اور ٹریفک کے مسائل کے پیش نظر ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں بسنت کے دوران شہریوں کی نقل و حرکت کو محفوظ اور سہل بنانے کیلئے متعدد فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت نے 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں بسیں اور رکشے فری چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین روز کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کرنے کا مقصد شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا اور سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ شہری ان دنوں میں موٹر سائیکلوں کا کم سے کم استعمال کریں تاکہ حادثات، ٹریفک جام اور دیگر مسائل سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق بسنت کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد گھروں کی چھتوں پر موجود ہوتی ہے، جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کے غیر ضروری دباؤ سے گریز ناگزیر ہے۔

    وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ حکومت نے بسنت سے قبل 30 دسمبر سے پتنگوں اور ڈوروں کی مینوفیکچرنگ کی اجازت دے دی ہے، تاکہ اس عمل کو منظم، قانونی اور سرکاری نگرانی میں رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اور خطرناک ڈوروں کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔عظمیٰ بخاری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت بسنت کو محفوظ، منظم اور خوشگوار انداز میں منانے کیلئے تمام ضروری انتظامات کر رہی ہے، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور اپنی اور دوسروں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہوں گے تاکہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • اسلام آباد میں یو اے ای صدر کی آمد،لاہور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا،سیکورٹی سخت

    اسلام آباد میں یو اے ای صدر کی آمد،لاہور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا،سیکورٹی سخت

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس کے پیشِ نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ ریڈ زون، سفارتی انکلیو اور اہم شاہراہوں کے اطراف خصوصی سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری نقل و حرکت کو سہل بنانے کے لیے ٹریفک مینجمنٹ پلان بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے قافلے کو بھیرہ کے مقام پر بغیر کسی رکاوٹ کے رسائی حاصل رہی، جہاں مختصر قیام کیا گیا۔ قافلہ بعد ازاں حافظ آباد عبور کر چکا ہے اور اس وقت لاہور کی جانب رواں دواں ہے۔قافلے کی آمدورفت اور متعلقہ سکیورٹی انتظامات کے باعث آئندہ چند گھنٹوں کے دوران لاہور کے داخلی راستوں پر ٹریفک جام کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ سفر سے قبل اپنے راستوں اور اوقاتِ سفر کی منصوبہ بندی کریں، ممکنہ تاخیر کو مدِنظر رکھیں اور مقامی ٹریفک ڈائیورشنز پر عمل کریں۔

  • برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ

    برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ

    برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ ، بین الاقوامی قوانین پر عملداری کے لیے کڑا امتحان بن گیا،
    پی ٹی آئی نے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کی خاطر پاکستان مخالف ایجنڈے کے لئے تمام حدود وقیود اور بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈال دیا

    گزشتہ کافی عرصہ سے برطانیہ کی سر زمین کو پی ٹی آئی کے بھگوڑے یو ٹیوبرز اور شر پسند عناصر بیرونی آقاؤں کی ایما پر پاکستان اور فوج مخالف بیانیہ کے لئے استعمال کر رہے ہیں،پی ٹی آئی برطانیہ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے 23دسمبر 2025 کو ایک انتہائی اشتعال انگیزویڈیو جاری کی گئی،ویڈیو میں برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین نے کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں قتل کی دھمکی دے رہے ہیں،خاتون نے اشتعال انگیز گفتگو کے دوران کہا کہ کوئی بھی فیلڈ مارشل کو کاربم دھماکہ میں قتل کردےگا، یہ نہ تو آزادی اظہار رائے ہے اور نہ ہی سیاسی اختلاف بلکہ یہ اشتعال انگیزی اور براہ راست دہشتگردی پر اکسانے کے مترادف ہے ،انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز نے اس کھلم کھلا اشتعال اور دھمکی آمیز ویڈیو کو آگے پھیلایا اور اپنے آفیشل اکاونٹ سے شیئرکیا،برطانیہ میں اس طرح کی دھمکی آمیز گفتگو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 میں دہشتگردی ،اشتعال انگیزی، مالی معاونت یا حمایت کو روکنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے ، برطانیہ کا انسدادی دہشگردی ایکٹ 2006 بھی دہشتگردی کی حوصلہ افزائی سنگین جرم قرار دیتاہے،اس طرح کا انتہا پسندانہ ، پرتشدد اور دہشتگردی پر اُکسانے والی اشتعال انگیز تقاریر قابل مذمت ہے،مصدقہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اشتعال انگیز اور پرتشدد تقاریر کے لیے برطانوی سرزمین کے غلط استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے

    یہ واقعہ پی ٹی آئی کی منافقانہ پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ جماعت ریاست مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،مصدقہ ذرائع کے مطابق ،پاکستان نے برطانیہ سےمطالبہ کیا ہے کہ اس واقع میں ملوث افرادکی شناخت اورتحقیقات کےبعدان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،یہ واقعہ بین الاقوامی قوانین، انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریوں، اور ذمہ دار ریاستی طرز عمل کے لیے برطانیہ کے عزم کا امتحان ہے

  • ایران میں سابق افغان پولیس افسر قتل

    ایران میں سابق افغان پولیس افسر قتل

    ایران کے دارالحکومت تہران میں افغان صوبے تخار کے سابق اعلیٰ پولیس افسر اکرم الدین سریع کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ واقعہ تہران کے ایک رہائشی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب اکرم الدین سریع اپنے گھر کے قریب موجود تھے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے سابق افغان پولیس چیف کو انتہائی قریب سے نشانہ بنایا اور ان کے سر پر گولی ماری، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کے اس واقعے میں ان کے ہمراہ موجود ایک ساتھی بھی ہلاک جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا،تہران پولیس ڈپارٹمنٹ نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قتل کی وجوہات جاننے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور قریبی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے، تاہم تاحال کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اکرم الدین سریع افغانستان کے صوبہ تخار میں پولیس چیف کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے اور سیکیورٹی معاملات میں ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد انہوں نے افغانستان چھوڑ دیا تھا اور بعد ازاں ایران میں رہائش اختیار کر لی تھی۔

  • برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین کی کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں  قتل کی دھمکی

    برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین کی کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں قتل کی دھمکی

    کار بم دھماکے میں قتل کردو،یو کے برطانیہ میں پی ٹی آئی کے مظاہرے اور سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دھمکیاں ،حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کو فیصلہ کن کارروائی کے لیے خط لکھ دیا

    برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین نے کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں قتل کی دھمکی دی،برطانیہ میں پی ٹی آئی اور بیرونی آقاؤں کا گٹھ جوڑ ، بین الاقوامی قوانین پر عملداری کے لیے کڑا امتخان ہے،پی ٹی آئی نے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کی خاطر پاکستان مخالف ایجنڈے کے لئے تمام حدود وقیود اور بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈال دیا ،گزشتہ کافی عرصہ سے برطانیہ کی سر زمین کو پی ٹی آئی کے بھگوڑے یو ٹیوبرز اور شر پسند عناصر بیرونی آقاؤں کی ایما پر پاکستان اور فوج مخالف بیانیہ کے لئے استعمال کر رہے ہیں،پی ٹی آئی برطانیہ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے 23دسمبر 2025 کو ایک انتہائی اشتعال انگیزویڈیو جاری کی گئی،ویڈیو میں برطانوی سرزمین پر کھڑے مظاہرین نے کھلے عام فیلڈ مارشل کو بم دھماکہ میں قتل کی دھمکی دے رہے ہیں،خاتون نے اشتعال انگیز گفتگو کے دوران کہا کہ کوئی بھی فیلڈ مارشل کو کاربم دھماکہ میں قتل کردےگا، یہ نہ تو آزادی اظہار رائے ہے اور نہ ہی سیاسی اختلاف بلکہ یہ اشتعال انگیزی اور براہ راست دہشتگردی پر اکسانے کے مترادف ہے ،انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز نے اس کھلم کھلا اشتعال اور دھمکی آمیز ویڈیو کو آگے پھیلایا اور اپنے آفیشل اکاونٹ سے شیئرکیا،برطانیہ میں اس طرح کی دھمکی آمیز گفتگو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 میں دہشتگردی ،اشتعال انگیزی، مالی معاونت یا حمایت کو روکنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے ، برطانیہ کا انسدادی دہشگردی ایکٹ 2006 بھی دہشتگردی کی حوصلہ افزائی سنگین جرم قرار دیتاہے،اس طرح کا انتہا پسندانہ ، پرتشدد اور دہشتگردی پر اُکسانے والی اشتعال انگیز تقاریر قابل مذمت ہے،مصدقہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اشتعال انگیز اور پرتشدد تقاریر کے لیے برطانوی سرزمین کے غلط استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ،یہ واقعہ پی ٹی آئی کی منافقانہ پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ جماعت ریاست مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،مصدقہ ذرائع کے مطابق ،پاکستان نے برطانیہ سےمطالبہ کیا ہے کہ اس واقع میں ملوث افرادکی شناخت اورتحقیقات کےبعدان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،یہ واقعہ بین الاقوامی قوانین، انسداد دہشتگردی کی ذمہ داریوں، اور ذمہ دار ریاستی طرز عمل کے لیے برطانیہ کے عزم کا امتحان ہے

    حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کو خط لکھ کر سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی، تشدد اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے،حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت سے منفی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیلئے ہوم آفس کو خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی ویڈیو زیرگردش ہیں جس میں آرمی چیف کو قتل کرنےکا مطالبہ کیا جارہا ہے، یہ مواد نہ بیان بازی اور نہ ہی سیاسی ہے، یہ واضح طور پر اقوام متحدہ کے رکن ملک کی اعلیٰ فوجی شخصیت کے قتل پر اکساتا ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک پلیٹ فارمز سے مسلسل انتشار، تشدد کی کالز دی جا رہی ہیں، خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ، قتل اور تشدد کی کالز دینے والوں کو شناخت اور تحقیقات کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلائے،حکومت پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس سے منسلک پلیٹ فارمز کے پاکستان میں تشدد، نفرت اور بڑے پیمانے پر بےامنی پھیلانے کی تحقیقات کی جائے، پاکستان میں تشدد پر اکسانے اور بے امنی پھیلانے پر پی ٹی آئی پرفیصلہ کن قانونی وانتظامی کارروائی کی جائے جس میں اس پرپابندی بھی شامل ہو۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف تشدد، بےامنی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کیلئے استعمال نہ ہو، یہ معاملہ برطانیہ کی انسداد دہشت گردی، بین الاقوامی قانون اورذمہ دار ریاستی طرز عمل کیلئے عزم کا امتحان بھی ہے، برطانیہ کی خاموشی کو غیر جانبداری نہیں سمجھا جائے گا اور اس کے باہمی اعتماد اور تعاون پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور توقع ہے کہ اس معاملے سے فوری قانونی طور پر نمٹا جائے گا۔

  • اسلام آباد بلدیاتی انتخابات، کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع

    اسلام آباد بلدیاتی انتخابات، کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع

    اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سہولت کے پیشِ نظر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔

    اس فیصلے کا مقصد زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو انتخابی عمل میں شرکت کا موقع فراہم کرنا اور کاغذاتِ نامزدگی کی تکمیل کے لیے مناسب وقت مہیا کرنا ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی مدت میں دو دن کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اب امیدوار 30 دسمبر 2025 تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی متعلقہ ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں جمع کرا سکیں گے۔ اس سے قبل کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 27 دسمبر 2025 مقرر کی گئی تھی۔

    الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ متعدد امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اضافی وقت دینے کی درخواستیں موصول ہو رہی تھیں، جس کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس توسیع سے نہ صرف انتخابی عمل میں شفافیت بڑھے گی بلکہ مقامی سطح پر جمہوری سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔