Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جب تلاش اسکرین سے نکل کر ثقافت بن جائے

    جب تلاش اسکرین سے نکل کر ثقافت بن جائے

    کبھی وقت تھا کہ سوال ذہن میں آتا تو انگلیاں گوگل کی طرف بڑھتی تھیں، اب سوال ابھرتا ہے اور انگلی خود بخود ٹک ٹاک کی اسکرین پر پھسل جاتی ہے،اب سوال صرف یہ نہیں کہ کیا جاننا ہے، سوال یہ ہے کہ کیسے جاننا ہے اور اسی سوال کے جواب میں پاکستانی صارف نے ایک نئے ڈیجیٹل ہم سفر کا انتخاب کیا ہے،ٹک ٹاک،2025 میں ٹک ٹاک پاکستان کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے، پاکستانی ڈیجیٹل مزاج کی ایک گہری تصویر ہے۔

    لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں ٹک ٹاک پاکستان کی جانب سے صحافیوں کے لیے منعقد ہونے والا “سرچ آن ٹک ٹاک” ایونٹ ایک ڈیجیٹل مکالمہ تھا،اس موقع پر ٹک ٹاک کے ہیڈ آف کمیونیکیشن ساؤتھ ایشیا عماد اور جنوبی ایشیا کے لیے کنٹینٹ آپریشنز کے سربراہ عمائس نوید نے اس بدلتی ہوئی حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ٹک ٹاک علم، خبر، رہنمائی اور روزمرہ فیصلوں کا پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔اسی تقریب میں ٹک ٹاک نے پاکستان میں 2025 کے دوران سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے موضوعات اور رجحانات جاری کی جو پاکستانی معاشرے کی اجتماعی سوچ، دلچسپیوں اور ترجیحات کا آئینہ ہیں۔

    پاکستانی ٹک ٹاکر کا مزاج محض اسکرول کرنے کا نہیں،وہ ویڈیو دیکھتا نہیں بلکہ ویڈیو میں داخل ہو جاتا ہے۔جب وہ “التت قلعہ، ہنزہ” سرچ کرتا ہے تو صرف تاریخ نہیں چاہتا، وہ پتھروں میں بسی خاموشی، پہاڑوں کی ابدی وقار اور شمالی ہوا کی ٹھنڈک کو محسوس کرنا چاہتا ہے۔اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دریائے چناب،یہ مقامات نہیں، شناخت کے استعارے ہیں۔یہ سرچز اس بات کا اعلان ہیں کہ پاکستانی صارف اب اپنے وطن کو نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے، اور ٹک ٹاک اس نظر کا عدسہ بن چکا ہے۔

    پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، جذبات کی زبان ہے،بابر اعظم کی سنچری ہو یا پاکستان بمقابلہ بھارت اور جنوبی افریقہ کے مقابلے ،ٹک ٹاک سرچ بتاتی ہے کہ قوم اب بھی ایک گیند پر خوش اور ایک وکٹ پر خاموش ہو جاتی ہے۔ٹک ٹاک نے کرکٹ کو اسکرین کے کونے میں بند اسکور بورڈ سے نکال کر عوامی مکالمہ بنا دیا ہے جہاں ہر شخص مبصر ہے، ناقد ہے،سیلاب جیسے سانحات ہوں یا وائرل نام جیسے “نادیہ میری سونی سوہنی”یہ سرچز بتاتی ہیں کہ پاکستانی صارف خبر کو تنہائی میں نہیں دیکھنا چاہتا،وہ خبر کے ساتھ وابستگی چاہتا ہے، تبصرہ چاہتا ہے، ردِعمل چاہتا ہے۔ٹک ٹاک یہاں لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ ایک اجتماعی تجربہ فراہم کرتا ہے جہاں دکھ بھی بانٹا جاتا ہے اور امید بھی۔

    2025 کی رپورٹ کا سب سے روشن پہلو علم اور خودی کی تلاش ہے،#StudyTok میں 60 فیصد اور #FitnessTok میں 66 فیصد اضافہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستانی نوجوان اب خود کو بہتر بنانا چاہتا ہے،مصنوعی ذہانت ، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، پروڈکٹ ریویوز اور مہندی ڈیزائنز،یہ سب اس نئی نسل کے سوالات ہیں، جن کے جواب وہ مختصر، سادہ اور بصری انداز میں چاہتی ہے۔

    2025 کی سرچ رپورٹ: ایک نظر میں

    مقامات،اسلام آباد، التت قلعہ ہنزہ، دریائے چناب، لاہور، کراچی

    خبریں و لمحات:بابر اعظم کی سنچری، پاک بمقابلہ جنوبی افریقہ، پاک بمقابلہ بھارت، نادیہ میری سونی سوہنی، سیلاب

    ٹی وی شوز:ترک ڈرامے، تماشا، میری بہوئیں، میں منٹو نہیں ہوں، ہم ایوارڈز 2025

    کھانے:لاوا برگر، بریانی، آلو، دبئی چاکلیٹ، ماچا ڈرنک

    نمایاں رجحانات،پروڈکٹ ریویوز، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، مہندی ڈیزائنز، بلیوں کی مزاحیہ ویڈیوز، AI

    2025 میں ٹک ٹاک پاکستان محض ایک ایپ نہیں رہا،یہ عہدِ حاضر کا ثقافتی جریدہ بن چکا ہے،یہاں ہر سرچ ایک سوال نہیں،ہر ویڈیو ایک جواب نہیں،بلکہ دونوں کے درمیان پاکستانی زندگی کی مکمل کہانی ہے،اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان تلاش بھی ٹک ٹاک پر کرتا ہے۔

  • ترکی ،طیارہ تباہ،لیبیا کے آرمی چیف جاں بحق

    ترکی ،طیارہ تباہ،لیبیا کے آرمی چیف جاں بحق

    ترکیہ میں طیارہ اڑان بھرنے کے بعد گر کر تباہ ہوگیا، طیارے حادثے میں لیبیا کے فوجی سربراہ بھی جاں بحق ہوگئے۔

    لیبیا کے وزیرِاعظم عبد الحمید دبیبہ نے تصدیق کی ہے کہ لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل محمد علی احمد الحداد اور چار دیگر اعلیٰ لیبیائی عہدیدار ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے قریب ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ افسوسناک حادثہ منگل کی شب اس وقت پیش آیا جب یہ وفد انقرہ کے دورے کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔وزیرِاعظم عبد الحمید دبیبہ نے اپنے بیان میں اس واقعے کو ایک “دلخراش حادثہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پوری قوم، عسکری ادارے اور عوام کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ ان کا کہنا تھا“ہم نے ایسے افراد کو کھو دیا ہے جنہوں نے اخلاص، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے وطن کی خدمت کی، اور جو نظم و ضبط، قومی وابستگی اور فرض شناسی کی مثال تھے۔”

    ترکی کے وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا کے مطابق فالکن 50 بزنس جیٹ نے منگل کی شام 8 بج کر 10 منٹ (17:10 GMT) پر انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے طرابلس کے لیے پرواز بھری۔ طیارے سے آخری ریڈیو رابطہ 8 بج کر 52 منٹ (17:52 GMT) پر ہوا۔انہوں نے بتایا کہ پرواز کے دوران ہایمانا ضلع کے اوپر طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی، تاہم اس کے بعد رابطہ قائم نہ ہو سکا۔

    ترکی کی جینڈرمیری نے طیارے کا ملبہ انقرہ سے تقریباً 74 کلومیٹر (45 میل) دور ہایمانا ضلع کے علاقے کیسیق کاواک گاؤں کے جنوب میں تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر تلاش کر لیا۔

    ترکی کی وزارتِ دفاع نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ جنرل الحداد اس ہفتے سرکاری دورے پر انقرہ آئے تھے، جہاں انہوں نے اپنے ترک ہم منصب اور دیگر اعلیٰ عسکری کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا تھا۔

    جنرل الحداد کی عسکری خدمات
    سیاسی تجزیہ کار ٹرائنا کے مطابق جنرل محمد علی احمد الحداد ایک پیشہ ور اور بااصول فوجی تھے جنہیں لیبیا کے مغربی علاقوں میں وسیع احترام حاصل تھا۔انہوں نے کہا“وہ ایک ایسے فوجی تھے جو ہمیشہ قانون کے مطابق چلتے، کسی بھی طاقتور ملیشیا کا ساتھ نہیں دیتے تھے اور اصولوں پر قائم رہتے تھے۔ لیبیائی فوجی ادارے کے لیے یہ واقعی ایک بہت بڑا نقصان ہے۔”ٹرائنا کے مطابق اگرچہ جنرل الحداد کئی دہائیوں تک فوج سے وابستہ رہے، تاہم معمر قذافی کے خلاف بغاوت کے دوران انہوں نے باغیوں کے ساتھ نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

  • چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ،

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ،

    چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قومی سلامتی کے بدلتے ہوئے اور پیچیدہ چیلنجز پر تفصیلی خطاب کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس میں شریک سول اور عسکری افسران کے پینل کی جانب سے فیلڈ مارشل کو پاکستان کو درپیش سلامتی کے مسائل اور ان سے نمٹنے کے لیے درکار اقدامات پر جامع بریفنگ دی گئی،اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کو بیک وقت متعدد اور مسلسل نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں روایتی اور غیر روایتی خطرات کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس، سائبر، اطلاعاتی، عسکری اور معاشی محاذ شامل ہیں۔ انہوں نے عالمی، علاقائی اور داخلی سطح پر تیزی سے بدلتے ہوئے سلامتی کے منظرنامے کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں مؤثر دفاع اور استحکام کے لیے ہمہ جہتی تیاری ناگزیر ہے۔فیلڈ مارشل نے زور دیا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل خود کو ڈھالنے کی صلاحیت اور قومی طاقت کے تمام عناصر کے درمیان مربوط ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے بالواسطہ اور مبہم حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں، جن میں پراکسیز کے ذریعے داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مستقبل کی قیادت پر زور دیا کہ وہ ان پیچیدہ، کثیرالجہتی اور فکری و ادراکی چیلنجز کو بروقت پہچاننے اور انہیں مؤثر انداز میں ناکام بنانے کی صلاحیت پیدا کرے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ غیر یقینی حالات میں واضح، بروقت فیصلے کرنے کی صلاحیت اور فکری مضبوطی آج کے پھیلے ہوئے اور متنازع سلامتی ماحول میں انتہائی اہم اوصاف ہیں،فیلڈ مارشل نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ این ڈی یو اسٹریٹجک سوچ رکھنے والے رہنماؤں کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جو علمی اور پیشہ ورانہ تربیت کو مؤثر پالیسی سازی اور عملی نتائج میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ عسکری تعلیم ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط بنانے، مقامی استعداد بڑھانے اور طویل المدتی قومی استحکام کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کورس میں شریک افسران کی تجزیاتی سوچ اور فکری معیار کو سراہا اور انہیں دیانت، نظم و ضبط اور بے لوث خدمت کی اقدار پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پہنچنے پر یونیورسٹی کے صدر نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا پرتپاک استقبال کیا۔

  • 13 برس تک بوئنگ 737 طیارہ ریکارڈ سے غائب رہا،ایئر انڈیا کا انکشاف

    13 برس تک بوئنگ 737 طیارہ ریکارڈ سے غائب رہا،ایئر انڈیا کا انکشاف

    ایئر انڈیا نے ایک غیر معمولی انتظامی غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کا ایک بوئنگ 737 کارگو طیارہ 13 برس تک ایئرلائن کے سرکاری ریکارڈ سے غائب رہا، یہاں تک کہ گزشتہ ماہ یہ طیارہ اچانک ایک ایئرپورٹ کے دور دراز پارکنگ بے میں موجود پایا گیا۔

    بوئنگ 737-200 کارگو طیارہ (رجسٹریشن نمبر VT-EHH) سنہ 2012 میں کولکتہ ایئرپورٹ پر پارک کیا گیا تھا، جہاں اسے باقاعدہ طور پر ڈی کمیشن کر دیا گیا۔ تاہم اس کے بعد یہ طیارہ ایئر انڈیا کے اندرونی ریکارڈ سے مکمل طور پر غائب ہو گیا اور کئی برس تک کسی بھی سرکاری دستاویز میں اس کا ذکر موجود نہیں رہا۔اس دوران کولکتہ ایئرپورٹ انتظامیہ طیارے کی پارکنگ فیس مسلسل عائد کرتی رہی اور ایئر انڈیا کو باقاعدہ بل بھی بھیجتی رہی۔ تاہم ایئر انڈیا نے ان بلوں کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ VT-EHH رجسٹریشن والا کوئی طیارہ وہاں پارک ہے یا اس کی ملکیت ایئر انڈیا کے پاس ہے۔

    یہ صورتحال اس وقت بدلی جب کولکتہ ایئرپورٹ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر ایئر انڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طیارے کو ایئرپورٹ سے ہٹائے۔ اس کے بعد ایئر انڈیا نے اندرونی تحقیقات کیں، جن کے نتیجے میں یہ تصدیق ہوئی کہ مذکورہ طیارہ واقعی اسی کی ملکیت ہے۔ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمبل ولسن نے اس غیر معمولی غفلت کا اعتراف ایک اندرونی پیغام میں کیا، جو بعد ازاں میڈیا میں وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا “پرانے طیاروں کو فروخت یا ضائع کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، مگر یہ معاملہ اس لیے منفرد ہے کہ یہ ایک ایسا طیارہ تھا جس کے بارے میں ہمیں حال ہی میں معلوم ہوا کہ ہم اب بھی اس کے مالک ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ طیارہ ہماری یادداشت اور ریکارڈ سے محو ہو گیا، یہاں تک کہ کولکتہ ایئرپورٹ پر ہمارے دوستوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ایک (انتہائی) دور دراز پارکنگ بے میں کھڑا ہے اور اسے ہٹانے کا کہا۔ تصدیق کے بعد ہم نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور یوں اپنی الماری سے ایک اور پرانا جالا صاف کر دیا۔”

    ایئر انڈیا کے مطابق یہ طیارہ مختلف انتظامی تبدیلیوں اور تنظیمی اصلاحات کے دوران ریکارڈ سے نکلتا چلا گیا۔ طیارے نے ابتدا میں انڈین ایئرلائنز کے ساتھ اپنی سروس کا آغاز کیا تھا، بعد ازاں 2007 میں انڈین ایئرلائنز کے ایئر انڈیا میں انضمام کے بعد یہ طیارہ ایئر انڈیا کے بیڑے کا حصہ بن گیا۔ کچھ عرصے بعد اسے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا اور انڈیا پوسٹ کو لیز پر دیا گیا، تاہم بعد میں اسے سروس سے ہٹا لیا گیا۔کیمبل ولسن کے مطابق یہ طیارہ بار بار ایئر انڈیا کے اندرونی ریکارڈ میں شامل ہونے سے رہ گیا، حتیٰ کہ 2022 میں ایئر انڈیا کی نجکاری کے دوران بھی یہ اہم منتقلی دستاویزات میں شامل نہیں ہو سکا۔ بھارتی اخبار ٹریبیون انڈیا کے مطابق، جب کوئی اثاثہ استعمال میں نہ ہو اور کاغذی ریکارڈ میں شامل نہ رہے تو اس کا فراموش ہو جانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

    فضائی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایئرلائنز ایسے حالات سے بچنے کے لیے انتہائی محتاط ہوتی ہیں، کیونکہ زمین پر کھڑے طیارے منافع کے بجائے اخراجات کا سبب بنتے ہیں۔ جان اسٹرکلینڈ، جو JLS کنسلٹنگ کے بانی ہیں، نے بھارتی اخبار دی ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ریگولیٹری نگرانی کے ہوتے ہوئے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کوئی ایئرلائن واقعی ایک طیارے کو کھو دے۔ عام طور پر مینٹیننس ریکارڈ اور پرزہ جات کے سیریل نمبرز نہایت سختی سے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔”

    بوئنگ 737-200 دراصل 1960 کی دہائی کے اواخر میں متعارف کرایا گیا بوئنگ 737 ماڈل کا ابتدائی ورژن ہے، جسے طویل عرصہ قبل مسافر سروس سے ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ صنعت کے ماہرین کے مطابق اس طیارے کی مجموعی دوبارہ فروخت کی قیمت اب نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم اس کے کچھ پرزے، خاص طور پر پراٹ اینڈ وٹنی انجنز، اب بھی دوبارہ استعمال کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ ایئر انڈیا کا واحد ریٹائرڈ طیارہ تھا جسے انجنز کے ساتھ برقرار رکھا گیا تھا۔

  • پی آئی اے نجکاری، عارف حبیب کنسورشیم  نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ  بولی دے دی

    پی آئی اے نجکاری، عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی دے دی

    قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے لیے عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی دے دی ہے۔

    قومی ائیرلائن کی نجکاری کے لیے بولی کا مرحلہ وارعمل جاری ہےمشیر نجکاری کمیشن محمد علی کا کہنا ہےکہ قومی ائیرلائن کی نجکاری اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، حکومت کا مقصد قومی ائیرلائن کوبیچنا نہیں بلکہ اسے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، قومی ائیرلائن کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری آئےگی۔

    مشیر نجکاری کمیشن کے مطابق حکومت چاہتی ہے قومی ائیرلائن ماضی کی طرح بہتر ہو، قومی ایئرلائن کے 75 فیصدشیئرزکی آج بولی ہوگی، بولی سے حاصل رقم کا 92.5 فیصد حصہ قومی ائیر لائن کی بہتری پر خرچ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ دو تہائی پیمنٹ شروع میں اور ایک تہائی پیمنٹ بعد میں کی جا سکےگی، ہم نے بڈرز کو بولی کے بعد دو پارٹیز کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی بھی اجازت دی ہے،بولی کے پہلے مرحلے میں لکی سیمنٹ نے101.5 ارب روپےکی بولی لگائی ہے جب کہ ائیربلیو نے 26 ارب 50 کروڑ روپےکی بولی لگائی ہے،عارف حبیب کنسورشیم گروپ نے 115 ارب روپےکی سب سے زیادہ بولی لگائی ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پاکستان کیلیے کوششوں بارے کوئی ابہام نہیں،خواجہ آصف

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پاکستان کیلیے کوششوں بارے کوئی ابہام نہیں،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پاکستان کی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ برطانوی جریدے نے ڈپلومیسی اور بھارت کے ساتھ جنگ میں کامیابیوں کا کریڈیٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دیا ہے۔ فیلڈ مارشل نے اس کے علاوہ پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے کام کیا اور سرد مہری کو ختم کیا، امریکی صدر ٹرمپ نے بھی آج ان کی تعریف کی ہے۔

    واضح رہے کہ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کثیر جہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دیا ہے،اپنی رپورٹ میں فنانشل ٹائمز نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بدلتے عالمی نظام میں مؤثر اسٹریٹجک رہنما کے طور پر ابھرے ہیں

  • وزیراعظم سے پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر   کی ملاقات

    وزیراعظم سے پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر کی ملاقات

    متحدہ عرب امارات کے پاکستان میں سفیر، عزت مآب سالم محمد سالم البواب الزابی نے آج وزیراعظم ہاوس اسلام آباد میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں وزیراعظم کےمعاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے سفیر کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور انہیں پاکستان میں انکی حالیہ تقرری پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں سے باہمی احترام، دوستی اور قریبی تعاون پر مبنی ہیں۔

    وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کی قیادت کے لیے نیک تمناوں اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران، عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے آئندہ دورۂ پاکستان کے منتظر ہیں۔وزیرِاعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کے حجم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے ساتھ توانائی، معدنیات، آئی ٹی، ریلوے اور ہوا بازی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے اہم شعبوں میں یو اے ای کو سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کے لیے متحدہ عرب امارات کی مسلسل حمایت، بشمول انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ترقیاتی منصوبوں، کو بھی سراہا۔

    سفیر سالم محمد سالم البواب الزابی نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور وزیراعظم کو یقین دلایا کہ وہ دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔

  • فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دے دیا

    فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دے دیا

    برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے بھی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی متاثر کن شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بدلتے عالمی نظام میں مؤثر اسٹریٹجک رہنما قرار دے دیا۔

    برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دیا،فنانشل ٹائمز کے مطابق بدلتی عالمی سیاست نے مڈل پاورز کے لیے نیا مگر مشکل دور کھول دیا ہے، مڈل پاورز کے لیے یہ پیشرفت خاصی پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر درمیانی طاقتوں کے سب سے کامیاب ملٹی الائنرز (multi-aligners) میں شامل ہیں، ٹرمپ کے ساتھ سب سے بہتر ہم آہنگ ہونے کا اعزاز پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے۔

    برطانوی جریدے نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مڈل پاورز سفارتکاری کی کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کی قیادت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران کے درمیان بیک وقت روابط میں متحرک رہی، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی سفارتکاری کو بدلتے عالمی ماحول میں مؤثر انداز میں آگے بڑھایا، ٹرمپ کے ساتھ بروقت خوش گفتاری اور نرم سفارتی رویہ مؤثر ثابت ہوا، پاکستان کی سفارتی کامیابی نے بھارت کو مایوس کیا، بھارت کے لیے درمیانی طاقت کا کھیل توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوا، ہندوستان بدلتے عالمی حالات اور ٹرمپ کے انداز سے ہم آہنگ نا ہو سکا، اس سفارتی ناکامی کے باعث ہندوستان کو مڈل پاور حکمت عملی میں مشکلات کا سامنا ہے

  • قانون سازی کرنا صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ، روکا نہیں جا سکتا،وزیراعلیٰ پنجاب

    قانون سازی کرنا صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ، روکا نہیں جا سکتا،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف غیر منقولہ کے قانون مجریہ 2025 کی معطلی پر اہم بیان سامنے آ گیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ برسوں اور نسلوں چلنے والے زمین اور جائیداد کے مقدمات کو پہلی بار 90 دن میں طے کرنے کی حد مقرر کی گئی ۔ہم نے برسوں اور دہائیوں کے ستائے ہوئے لاکھوں اہل پنجاب کی مدد کا قانون بنایا ۔عوام کی منتخب صوبائی اسمبلی نے یہ قانون بنایا تاکہ طاقتور لینڈ مافیا کے چنگل سے عوام کو نجات ملے ،اس قانون سے پہلی بار عوام کو اپنی قانونی زمین اور جائیداد کے تحفظ کی طاقت ملی،شہادت پر مبنی قانون تیار کیا گیا،آج کا عدالتی فیصلہ اعلی عدلیہ کے طے کردہ مسلمہ اصولوں کے مطابق نہیں ،اس قانون کی معطلی سے قبضہ مافیا کو فائدہ ملے گا، عوام اسے قبضہ مافیا کی پشت پناہی سمجھیں گے ،یہ قانون مظلوم عوام کو تحفظ دیتا ہے جس میں انتظامی اور قانونی تمام پہلوؤں کو جامع انداز میں شامل کیا گیا ،زمینوں کے مقدمات میں دہائیوں سٹے آرڈر چلتے ہیں ،یہ قانون مریم نواز کے فائدے کے لئے تھا نہ اس کی معطلی سے ہماری ذات کو کوئی نقصان ہوا ہے البتہ قبضہ اور لینڈ مافیا کے ستائے عوام کا ضرور بڑا نقصان ہوا ہے

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ قانون سازی کرنا صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے جس سے اسے روکا نہیں جا سکتا،اس قانون کو روکنے کا نقصان مریم نواز شریف کی ذات کو نہیں بلکہ غریبوں، مسکینوں، بے کسوں، بیواؤں اور مظلوموں کو ہوگا جن کی داد رسی ہو رہی تھی ،انصاف ملنے سے غریب اور مظلوم کی بندھ جانے والی آس ٹوٹ جائے گی

  • تھائی لینڈ انٹرنیشنل روئنگ ریگاٹا میں پاکستانی روئرز کی شاندار کاکردگی، 14گولڈ میڈلزجیت لئے

    تھائی لینڈ انٹرنیشنل روئنگ ریگاٹا میں پاکستانی روئرز کی شاندار کاکردگی، 14گولڈ میڈلزجیت لئے

    پاکستانی روئرز نے تھائی لینڈ انٹرنیشنل روئنگ ریگاٹا میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 14 گولڈ میڈلز سمیت 20 میڈلز اپنے نام کر لیے

    تھائی لینڈ میں منعقدہ تین روزہ انٹرنیشنل روئنگ ریگاٹا میں پاکستانی روئرز نے کھیل کے شائقین کو فخر سے سرشار کر دیا۔ اس ایونٹ میں کل 8 ممالک کے 200 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا، لیکن پاکستانی ٹیم نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی۔پاکستانی دستے کی قیادت کوچ اصغر علی نے کی، جن کی رہنمائی میں ٹیم نے مختلف کیٹگریز میں 14 گولڈ، 4 سلور اور 2 برانز میڈلز حاصل کیے۔فرید محمد عارف نے سب سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 6 گولڈ اور 2 سلور میڈلز حاصل کر کے ایونٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز اپنے نام کیا۔عنایہ زیدی نے خواتین کی کیٹگری میں 5 گولڈ میڈلز جیت کر بہترین ویمن روئر کا خطاب حاصل کیا۔سابق ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال کی صاحبزادی حوریا فیصل نے بھی ایک گولڈ میڈل جیت کر پاکستانی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    اس کامیابی پر پاکستانی کھلاڑیوں اور کوچ کو کھیل کی دنیا میں بھرپور تعریفیں مل رہی ہیں۔ یہ شاندار کارکردگی نہ صرف پاکستانی روئنگ کے لیے اعزاز کا باعث ہے بلکہ ملک کے لیے بھی کھیلوں میں نیا معیار قائم کرنے کی علامت ہے۔پاکستان روئنگ فیڈریشن نے کھلاڑیوں کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی بین الاقوامی مقابلوں میں اسی جذبے اور محنت سے کامیابیاں حاصل کی جائیں گی۔