Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کاوزیراعظم سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ

    نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کاوزیراعظم سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ

    نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت سے کوٹ لکھپت جیل میں زیرِ حراست پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کو پیرول پر رہا کرنے کی درخواست کر دی۔

    شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چودھری اور عمر چیمہ کی رہائی سے مذاکراتی عمل مؤثر ہوگا۔محمود مولوی، عمران اسمعیل اور فواد چودھری کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی اعتماد سازی کے بامعنی اقدامات سے مشروط ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی وزیر اعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی تازہ پیشکش کا پرتپاک خیرمقدم کرتی ہے اور شدید امید رکھتی ہے کہ اس بار یہ کوششیں ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوں گی اور ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور اداراتی بحرانوں سے نجات دلائیں گی۔ مذاکرات کا بیڑا ہم نے اس وقت اٹھایا جب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کسی قسم کی بات چیت کی حامی نہ تھیں، مگر آج وزیر اعظم کی جانب سے واضح اور مثبت پالیسی بیان نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی مسلسل جدوجہد اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ پیشکش ملک میں سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور قومی ترقی کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے، جسے تمام فریقین کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔ہماری خواہش ہے کہ حکومت مذاکرات کے آغاز سے قبل یکطرفہ طور پر کوٹ لکھپت جیل میں قید سیاسی اسیران، جن میں سینئر پی ٹی آئی قیادت جیسے ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور سابق سینیٹر اعجاز چوہدری شامل ہیں، کی رہائی کا اعلان کرے اور خواتین سیاسی قیدیوں کے لیے خصوصی ریلیف کا اقدام اٹھائے، تاکہ مذاکرات ایک انتہائی مثبت، خوشگوار اور اعتماد بھرے ماحول میں شروع ہو سکیں۔ یہ اعتماد سازی کا قدم نہ صرف مذاکرات کو پائیدار بنائے گا بلکہ ملک میں سیاسی مفاہمت کی نئی بنیاد بھی رکھے گا۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں بات چیت ہی واحد راستہ ہے جو پاکستان کو تقسیم اور تنازعات سے نکال کر اتحاد اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ہم تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اس عمل کا حصہبنیں اور ایک جامع چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی پر اتفاق رائے پیدا کریں، تاکہ ملک مستقل سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکے۔

  • ہماری پوری پارٹی اور تمام باشعور خواتین سینیٹر پلوشہ خان کے ساتھ ہیں۔سحر کامران

    ہماری پوری پارٹی اور تمام باشعور خواتین سینیٹر پلوشہ خان کے ساتھ ہیں۔سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما، رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ صرف سینٹ ہی نہیں، قومی اسمبلی بھی سینیٹر پلوشہ خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہماری پوری پارٹی اور تمام باشعور خواتین سینیٹر پلوشہ خان کے ساتھ ہیں۔

    سحر کامران کا کہناتھا کہ تمام وزرا پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ طیش اور بدتمیزی کے ذریعے حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔وزیراعظم سے مطالبہ ہے کہ وفاقی وزیر کے توہین آمیز رویے اور دھمکیوں کا نوٹس لیکر فوری کارروائی کریں۔ خواتین کی عزت و احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔سوال کا جواب نہیں تھا جس پر ایسی زبان استعمال کی گئی جس نے قائمہ کمیٹی کے استحقاق کو مجروح کیا بلکہ پارلیمنٹ کے استحقاق کو مجروح کیا، کسی کو ہم اجازت نہیں دیں گے کہ اگر آپ وزیر ہیں غلط زبان استعمال کر کے احتساب سے بچیں

    کسی بھی آوارہ جانور نے مجھے کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اُس آوارہ جانور کو لگیں گے، پلوشہ خان

    پلوشہ خان کی جرات قابل تحسین ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں،سحرکامران

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

  • سیاست اور جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے،رانا ثناء اللہ

    سیاست اور جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے،رانا ثناء اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سیاست اور جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں، سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل پر بات کرنی چاہیے۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا وزیراعظم پہلے بھی چار بار پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، مذاکرات کی دعوت کے جواب میں بانی پی ٹی آئی نے مثبت جواب نہیں دیا،بانی پی ٹی آئی سیاست نہیں کر رہے، مذاکرات کرنا ان کی پالیسی میں نہیں ہے،بانی پی ٹی آئی کے سوا ان کی جماعت میں اورکسی کے پاس اختیارات نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی مذاکرات نہیں، افراتفری چاہتے ہیں، اس طرح سے حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی تھی.

  • افغان طالبان رجیم نے افغانستان کی معیشت کو تباہ کردیا،اقوام متحدہ کا انتباہ

    افغان طالبان رجیم نے افغانستان کی معیشت کو تباہ کردیا،اقوام متحدہ کا انتباہ

    افغان طالبان رجیم کے زیراثرافغانستان معاشی اور سفارتی تنہائی کا شکار ہے

    طالبان رجیم کا غیرقانونی قبضہ افغانستان کے شہریوں اور معیشت دونوں کیلئے ناسوربن گیا ،اقوام متحدہ نے دو ٹوک پیغام دیا کہ انسانی حقوق کے بغیرافغان طالبان رجیم کی کوئی مالی و قانونی حیثیت نہیں ،اقوامِ متحدہ کی کائونٹرفنانسنگ ٹیررازام رپورٹ کے مطابق 2025 کے اوائل میں افغانستان کی جی ڈی پی میں 6.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، افغان معیشت کی تباہی کے باعث بیروزگاری 75 فیصد تک پہنچ گئی، معاشی تباہی کے باعث تین کروڑ سے زائد افراد شدید غربت کا شکار ہیں،افغانستان کئی برس سے عالمی بینکاری نظام سے باہرہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ کےمطابق ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج )اور داعش خراسان افغان سرزمین سے بدستور دہشتگرد کارروائیوں میں مصروف ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ سے پاکستان کا موقف ایک بار پھر درست ثابت ہو گیا ،پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے ٹھوس شواہد دنیا کو پیش کر چکا ہے،انسانی حقوق کی تنظیمیں افغان طالبان رجیم کی طرف سے سنگین انسانی جرائم کی خلاف ورزیوں پرمسلسل آواز اٹھارہی ہیں

  • بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جا رہےہیں؟ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

    بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جا رہےہیں؟ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

    لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کے خلاف درخواستیں فل بینچ کے سامنے لگانے کی ہدایت کردی۔

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری مشتاق احمد سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا کہ معاملہ سول کورٹ میں زیر التوا ہوگا تو ڈی سیز متعلقہ کورٹ میں درخواست دے گا، سول کورٹ پابند ہوگی کہ کیس ٹریبونل کو بھجوائے، تقریباً ڈھائی ماہ بعد آپ نے ٹریبونلز کا نوٹیفکیشن کیا، ابھی تک آپ کے ٹریبونلز نے کام ہی شروع نہیں کیا،چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جارہے ہیں؟ عدالت بغیر آرڈر کے آپ کو کچھ کہے تو کیا آپ مان لیں گے؟

    دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈی سی شیخوپورہ نے زبانی قبضے کا آرڈر دیا ہے، کیس ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھا اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے قبضہ کروایا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے مزید 10درخواستوں پر ڈی سیز کی کاروائی کو روک دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری وکیل صاحب بار بار پوچھ رہی ہوں بتائیں کہ ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود کمیٹیاں کیسے کاروائی کررہی ہیں ؟اب آپ کو نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیں آپ انارکی پھیلا رہے ہیں ،آرڈنینس میں کہاں لکھا ہے کہ ڈی سی ٹربیونل کے اختیار استعمال کرے گا ؟ پنجاب حکومت کا وکیل عدالت میں کوئی جواب نہ دے سکا ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس میرے کسی سوال کا جواب نہیں ،آپکا قانون تھا کہ سول کورٹ میں کیس ہو گا تو ڈی سیز عدالت میں درخواست دے گا ،سول کورٹ میں درخواست دینا تو دور ہائیکورٹ کے احکامات کو بھی اڑا دیا گیا،یہ لیگل ایشوز ہیں ایسے آپ کام کرینگے تو سوسائٹی میںں انارکی پھیلے گی،قانون شہادت کو آپ نے ختم کردیا ہے جس کو آئین پاکستان تحفظ دیتا ہے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پراپرٹی پر قبضہ لیا گیا مگر ڈپٹی کمشنر تحریری احکامات نہیں دے رہا،سرکاری وکیل نے کہا کہ رولز ابھی آنے ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رولز کب آنے ہیں؟ کاروائیاں کی جارہی ہیں،بغیر رولز بنے کیسے کارروائیاں ہوسکتی ہیں؟آپ یہ بتائیے کہ جب ڈی سیز آرڈر نہیں دے گا تو متاثرہ فریق آرڈر چیلنج کیسے کرے گا،متاثرہ فریق نے بغیر آرڈر کے درخواستیں دی تو آفس نے اعتراض لگا دیا،اب آپ یہ بتائیں کہ متاثرہ فریق کہاں جائیں،یہ آپکے سامنے متاثرہ شخص کھڑا ہے آپ بتائیں ان کے پاس کیا آپشن ہے ،قانون مکمل ہوتا ہے نا مکمل کچھ نہیں ہوتا ،عدالت میں کیس آنے کے بعد آپ نے ٹریبونلز کا نوٹیفکیشن کیا ہے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ڈی سی شیخوپورہ نے زبانی طور پر قبضے کا آرڈر دیا ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ تمام درخواستوں میں سنگین نوعیت کے الزامات ہیں ،ہم اس لیے ہر کیس دیکھ رہے ہیں کہ آپکو پتہ چلے کہ ہو کیا رہا ہے ،آپکو پتہ چلے کہ قانون کیا تھا اور کام کیا ہو رہا تھا،آپ کے علم میں آئے کیسے اختیار سے تجاوز کیا جا رہا ہے ،وکیل درخؤاست گزار نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت تھا اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر نے قبضہ کروایا ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ایکٹ میں ہے کہ اگر معاملہ سول کورٹ میں زیر التوا ہوگا تو ڈی سی متعلقہ کورٹ میں درخواست دے گا ،سول کورٹ پابند ہوگی کہ کیس کو ٹریبونل کو بھجوایاجائے ،سرکاری وکیل صاحب بتائیے کیا اس نقطے پر عمل ہورہا ہے؟یہ جو شور مچایا ہے سارے جہاں میں ٫٫ کام تو پھر کام ہوتا ہے ،آپ کے قانون میں تو کچھ بھی نہیں لکھا ،یہ بتائیے کہ کہاں لکھا ہے کمیٹیاں قبضہ دلوائیں گی؟قانون میں ہے کہ ٹریبونل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد قبضہ ہوگا ،پیرا کیسے قبضے دلوا رہا ہے؟
    کمیٹی پیرا کو کہتی ہے ، پیرا قبضہ دلوا دیتی ہے ،بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جا رہےہیں؟
    کیا اگر یہ عدالت بغیر آرڈر کے آپکو کچھ کہے تو کیا آپ مان لیں گے؟آپ تو کہیں گے کہ پہلے آرڈر دکھائیں پھر آگے بات کریں ،سرکاری وکیل صاحب بتائیے کہ کیا زبانی احکامات ٹریبونل نے جاری کیے؟ کیا ٹریبونلز نے کام شروع کردیا ہے؟ ابھی تک اپکے ٹریبونلز نے کام نہیں شروع کیا ،نہ عملہ ہے نا یہ پتہ ہے کہ ٹربیونل کہاں بیٹھیں گے ،کیا یہ اختیارات سے تجاوز نہیں؟کیا قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا ہے،تمام چیزیں بتانا پڑتی ہیں کہ کوئی درخواست آئے تو کس طرح کارروائی ہوگی

  • کسی بھی آوارہ جانور نے مجھے کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اُس آوارہ جانور کو لگیں گے،  پلوشہ خان

    کسی بھی آوارہ جانور نے مجھے کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اُس آوارہ جانور کو لگیں گے، پلوشہ خان

    پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے سینیٹ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں ہونے والی تلخ کلامی کے معاملے پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرا دی۔

    قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں تلخ کلامی پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے سحر کامران کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اپنے نتیش کمار جیسے وزیروں کو سنبھالیں،پلوشہ خان کا کہنا تھا ہم عوامی نمائندے ہیں اور سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ایک سوال کا جواب مانگا تھا، اجلاس کے دوران جو بھی تلخ کلامی ہوئی اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں گے، بزدل مرد ہمیشہ پہلے خاتون پر حملہ آور ہوتے ہیں، اگر کسی آوارہ جانور نے مجھے کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اس آوارہ جانور کو لگیں گے، وفاقی وزیر کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرادی ہے، اب بات سینیٹ میں ہوگی اور فیصلہ صدر آصف علی زرداری کریں گے، سوال ٹیکس کے پیسوں سے بنی سڑک کا تھا کہ وہ سڑک عوام کے لیے ہے یا ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے؟ وزرا ایوان کو جوابدہ ہیں، مسئلہ سوال کا نہیں جواب کا ہے،کسی بھی آوارہ جانور نے مجھے کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اُس آوارہ جانور کو لگیں گے،

    دوسری جانب سینیٹر پلوشہ خان کے خلاف منظم آن لائن کردار کشی کا معاملے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے،سینیٹرپلوشہ نے پیکا ایکٹ کے تحت کردار کشی مہم کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو کارروائی کی درخواست دے دی،درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ پلوشہ خان کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹا اورہتک آمیز مواد پھیلایا گیا، جعلی ویڈیوز کے ذریعےساکھ کو نقصان پہنچایا گیا،سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم، صنفی زبان، دھمکیوں کا استعمال کیا گیا، جعلی اکاؤنٹس اور بوٹ نیٹ ورکس کے ذریعےمہم کو بڑھایا گیا،درخواست کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ مخصوص ہیش ٹیگز کےذریعے بدنیتی پر مبنی مواد ٹرینڈ کرایا گیا، سینیٹر کے سرکاری فرائض کے دوران ٹارگٹڈ آن لائن حملے کیے گئے۔

  • الیکشن کمیشن،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کی سماعت ملتوی

    الیکشن کمیشن،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کی سماعت ملتوی

    اسلام آباد،الیکشن کمیشن میں وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی اور شہر ناز عمر ایوب کے خلاف ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی

    سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے تحریری جواب جمع کروا دیا،علی بخاری نے کیس کے نا قابل سماعت ہونے سے متعلق درخواست بھی جمع کروا دی،حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ نا قابل سماعت ہونے سے متعلق درخواست پر وزیر اعلیٰ کے دستخط موجود نہیں ہیں، الیکشن کمیشن نے علی بخاری کو درخواست دوبارہ جمع کروانے کی ہدایت کی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل پاور آف اٹارنی بھی جمع کروائیں،الیکشن کمیشن نے سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی

  • بھارت میں مسیحی برادری کے خلاف انتہا پسند عناصر کے مظالم میں تشویشناک اضافہ

    بھارت میں مسیحی برادری کے خلاف انتہا پسند عناصر کے مظالم میں تشویشناک اضافہ

    بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسیحی برادری کے خلاف انتہا پسند عناصر کی کارروائیوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق کرسمس کی تقریبات کو روکنے کے لیے نئے ہتھکنڈے اختیار کیے جا رہے ہیں، جن میں براہِ راست دھونس، دھمکیاں اور خوف و ہراس پھیلانا شامل ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی سے وابستہ بعض عہدے دار اور انتہا پسند عناصر گرجا گھروں میں زبردستی داخل ہو گئے، جہاں انہوں نے مسیحی برادری کو کرسمس کی تقریبات منعقد نہ کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ انتہا پسندوں کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس قسم کے مذہبی تہوار منانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی، اور خبردار کیا گیا کہ اگر کرسمس منایا گیا تو مسیحیوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نئی دہلی میں ایک عوامی مقام پر کرسمس منانے والے افراد کو زبردستی وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ لوگ پرامن طور پر تہوار منا رہے تھے، تاہم انتہا پسند عناصر نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔دوسری جانب، گزشتہ دنوں ریاست چھتیس گڑھ میں بھی انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مبینہ طور پر مسیحی خاندانوں کے گھروں کو نذرِ آتش کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ان واقعات نے اقلیتوں کے تحفظ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    ان واقعات کے خلاف بھارتی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے ان کارروائیوں کو شرمناک اور آئینِ ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سرکاری خاموشی اور بعض سیاسی عہدے داروں کی مبینہ حمایت انتہا پسند عناصر کو مزید حوصلہ دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔سیاسی و سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے نہ صرف مذہبی آزادی پر حملہ ہیں بلکہ بھارت میں اقلیتوں کے لیے بڑھتے ہوئے خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

  • سیکورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا،بلوچستان میں کاروائیاں،15 سے زائد دہشتگردہلاک

    سیکورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا،بلوچستان میں کاروائیاں،15 سے زائد دہشتگردہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی فورسز نے بولان کے علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاعات پر کی گئی۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ سیکیورٹی اہلکار محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد شہریوں کی گاڑیاں روکنے، لوٹ مار کرنے اور مسافروں کو ہراساں کرنے میں ملوث تھے۔ کارروائی کے بعد علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    بلوچستان کے نصیرآباد علاقے میں ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اڑا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ آئی ای ڈی دھماکہ شہید عزیز بلوچ (نوٹل) پولیس اسٹیشن کی حدود میں ہوا۔ دھماکے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریلوے ٹریک کا تقریباً تین فٹ حصہ متاثر ہوا۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو ڈیرہ مراد جمالی ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ الطاف آباد ریلوے پل کے قریب 4 سے 5 کلو وزنی آئی ای ڈی دھماکہ ہوا جبکہ 10 کلو وزنی ایک اور آئی ای ڈی کو بروقت ناکارہ بنا دیا گیا۔ پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ اور دیگر اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    بنوں ،ڈومیل آدمی پل کے قریب دہشت گردوں نے واپڈا کے ملازمین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کی شناخت ڈرائیور عبداللہ خان اور لائن مین نور محمد کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے واپڈا سپرنٹنڈنٹ عمر در علی کو اغوا کرنے کی بھی کوشش کی جو ناکام رہی، جس کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے جانی خیل کے علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں 3 سے 4 دہشت گرد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ فورسز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    سی ٹی ڈی اور کرک پولیس نے بندہ داؤد شاہ کے پہاڑی علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے کم از کم آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی گُرگُری میں پانچ پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد کی گئی۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے گوارھو کے علاقے میں دہشت گردی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی۔ شمولی پولیس اسٹیشن کی حدود میں دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کو بروقت ناکارہ بنا دیا گیا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

    بکاخیل، گورا کے علاقے میں دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے ایک اور پل کو اڑا دیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ میریان پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔ دھماکے سے پل کو شدید نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ ایک رات قبل بھی اسی علاقے میں ایک پل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

    کالعدم حافظ گل بہادر گروپ نے تصدیق کی ہے کہ بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران اس کے پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک افراد کی شناخت اکرامہ، کلیم اللہ، خالد، اسامہ (بکاخیل) اور ایک نامعلوم دہشت گرد کے طور پر ہوئی ہے۔ کارروائی احمدزئی پولیس اسٹیشن کی حدود میں خفیہ اطلاعات پر کی گئی۔ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

  • پاکستان بار کونسل کا  پراپرٹی آرڈیننس  معطل کرنے کے عبوری حکم کا خیرمقدم

    پاکستان بار کونسل کا پراپرٹی آرڈیننس معطل کرنے کے عبوری حکم کا خیرمقدم

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ، نے لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کی جانب سے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء کے نفاذ کو معطل کرنے کے عبوری حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔ مذکورہ آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں کو جائیداد کے تنازعات کا فیصلہ کرنے کے اختیارات دیے گئے تھے، جسے عدالتی دائرہ اختیار میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس بیان کی سخت الفاظ میں مذمت اور تنقید کی ہے جس میں انہوں نے مذکورہ آرڈیننس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد طویل عرصے سے زمین اور جائیداد کے تنازعات میں مبتلا لاکھوں شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ نے کہا کہ یہ قانون درحقیقت سول نظام، شہری حقوق اور عدالتی بالادستی کو کمزور کرتا ہے، کیونکہ اس کے تحت ایک ریونیو افسر ایسے مقدمے میں جائیداد کا قبضہ دے سکتا ہے جو پہلے ہی سول کورٹ میں زیر سماعت ہو۔انہوں نے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کچھ عناصر عدالتی اختیارات سمیت تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے نشاندہی کی کہ اس نئے قانون کے ذریعے پٹواریوں اور اسسٹنٹ کمشنرز کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھتا ہے اور انہیں ان کے قانونی اختیارات سے کہیں بڑھ کر طاقت دی گئی ہے۔

    چوہدری طاہر نصراللہ وڑائچ نے واضح کیا کہ کسی بھی قانون کی تشریح کا اختیار آئین کے مطابق عدلیہ کو حاصل ہے، لہٰذا لاہور ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس مکمل طور پر بااختیار ہیں کہ وہ ایسا عبوری حکم جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ معزز چیف جسٹس کا یہ اقدام درست اور بروقت ہے کیونکہ مذکورہ آرڈیننس عدلیہ کے اختیارات کو مجروح کرتا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی قانونی برادری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور عدلیہ کے ادارے کے ساتھ کھڑی ہے اور عدالتی آزادی و بالادستی کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔