Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پنجاب ، مختلف اضلاع کے مزید 2735 سرکاری اسکولز ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ

    پنجاب ، مختلف اضلاع کے مزید 2735 سرکاری اسکولز ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ

    پنجاب کے مختلف اضلاع کے مزید 2735 سرکاری اسکولز ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے نجی شعبے سے درخواستیں طلب کرلیں۔

    پنجاب کے مزید سرکاری اسکولز ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مختلف اضلاع کے مزید 2735 اسکولز نجی افراد چلائیں گے۔محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے نجی شعبے سے درخواستیں طلب کرلیں، 31 مارچ تک نجی شعبے سے افراد اسکولز حاصل کرنے کیلئے اسکروٹنی ہوگی۔رپورٹ کے مطابق رحیم یارخان کے 247، خانیوال کے 157، فیصل آباد 112، بہاولنگر کے 150، لاہور کے 42، چنیوٹ کے 82، لیہ کے 92، قصور کے 94، ملتان کے 128 اسکول نجی شعبے کو دیئے جائیں گے۔محکمہ اسکول ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ تیسرے مرحلے میں ایسے اسکولز نجی شعبے کو ملیں گے جن میں 100 سے زائد طلباء اور 2 ٹیچر موجود ہیں۔محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب 10 ہزار سے زائد اسکولز نجی شعبے کے حوالے کرچکا ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ، ڈائریکٹر سول ڈیفنس کی جواب دینے سے معذرت

    سانحہ گل پلازہ، ڈائریکٹر سول ڈیفنس کی جواب دینے سے معذرت

    ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے گل پلازہ سانحے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے سوالنامےکے جوابات دینے سے معذرت کرلی۔

    عبدالحمید جاگیرانی نے کہا کہ وہ اب ڈائریکٹر کے عہدے پر موجود نہیں ہیں، کمیشن نے ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس فاطمہ میمن کو نوٹس جاری کردیا جس کے مطابق سابق ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے بتایا ہے کہ ڈائریکٹر کا چارج اب ان کے پاس نہیں ہے،نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بطور ڈائریکٹر عہدے پر نہ ہونے کے باعث وہ کمیشن کے سوالنامے کا جواب نہیں دے سکتے،نوٹس کے مطابق بطور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفینس ذاتی حیثیت میں 26 فروری کو کمیشن کے روبرو پیش ہوں

    کمیشن اجلاس میں لوگوں کو ریسکیو کرنے والے شہری کے بیان میں ریسکیو اقدامات میں سنگین بے انتظامی کی نشاندہی کی گئی،کمیشن نے میونسپل کمشنر کے ایم سی، چیف فائر افسر اور ڈی جی ریسکیو 1122 کو خط لکھ دیاجس میں کہا گیا کہ شہریوں کو ریسکیو کرنے والے شہری دانش نے اپنے بیان میں سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے ہیں، ان الزامات پر اگر آپ جرح کرنا چاہتے ہیں تو کمیشن کو 27 فروری سے قبل آگاہ کریں،تاکہ جرح کے لئے سماعت مقرر کی جاسکے، اگر مقررہ وقت میں جواب نہیں دیا گیا تو جرح کا حق ختم کردیا جائے گا

  • سندھ حکومت کیخلاف سازش،قیادت وفاقی حکومت سے جواب طلبی کرے،شرجیل میمن

    سندھ حکومت کیخلاف سازش،قیادت وفاقی حکومت سے جواب طلبی کرے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جس کے ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ صرف صوبے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کو پہنچتا ہے۔ چاہے ہوا سے بجلی کی پیداوار ہو یا تھر کے کوئلے سے توانائی، سب کچھ نیشنل گرڈ میں شامل ہو کر پاکستان کو مضبوط بنا رہا ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری ہمارے بڑے ہیں وہ بریفنگ لیتے ہیں، ڈانٹ بھی سکتے ہیں، رمضان کا مہینہ ہے آصف زرداری کی میٹنگ کی خبر کا حقیقت سے تعلق نہیں، رمضان میں جس طرح چاٹ مصالحہ لگایا جاتا ہے ایسی ہی یہ خبر ہے، زرداری صاحب ہمارے بڑے ہیں ڈانٹ سکتے ہیں لیکن جس میٹنگ کی بات ہو رہی اس میں ایسا کچھ نہیں تھا، صدر آصف زرداری اور بلاول صاحب بریفننگ لیتے رہتے ہیں۔سندھ کابینہ کے عوامی مفاد میں کیے گئے فیصلے، سیپرا اصلاحات، تھر ریل کنیکٹیویٹی، ڈیجیٹل نظام اور ویمن ایگریکلچر ورکرز رولز 2026 صوبے میں شفافیت، معاشی ترقی اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت ہیں،ویمن ایگریکلچر ورکرز رولز 2026 خواتین کی بہتری اور مساوی مواقع کے لیے تیار کیے گئے ہیں،خواتین کے حقوق کا تحفظ حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے۔سندھ ایک تھا، ایک ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ہماری شناخت اتحاد، بھائی چارہ اور مشترکہ ترقی میں ہے

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزرا اورگورنرہاؤس سےسندھ حکومت کیخلاف سازش ہورہی ہے،وفاقی حکومت پیپلز پارٹی سے ہر وقت تعاون مانگتی ہے اور خود سازش کر رہی ہے،میں پیپلز پارٹی کی قیادت کو کہتا ہوں کہ وہ وفاقی حکومت سے جواب طلبی کریں، وفاقی وزرا سندھ حکومت کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کریں ،پروپیگنڈہ کریں تو یہ باعث تشویش ہے،فاروق ستار نے گل پلازہ کے باہر جھوٹ بولنا شروع کر دیے، سیاسی یتیم جتنے اب جمع ہوگئے ہیں ان کا کام ہی اب یہ ہے، کراچی کو ٹارگٹ کرکے سندھ حکومت پر تنقید کی جاتی ہے، ہم مانتے ہیں کراچی میں چیلنجز ہیں، کراچی میں بہت ساری جگہوں پر سڑکوں اور ٹریفک کے مسائل ہیں، کرا چی کی آبادی کا موازنہ شہروں سے نہیں ملکوں سے کرسکتے ہیں،کچھ لوگ کراچی کو ٹارگٹ کرتے ہیں، کراچی کے اپنے مسائل ہیں، یہاں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ ملک بھرسےلوگ داخل ہوتے ہیں، صحت کی سہولت کے لیے ملک بھر سے لوگ کراچی آتے ہیں، یہاں کے اسپتالوں میں 50 فیصد لوگ باہر سے آتے ہیں، مریضوں پر لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں وہ رقم سندھ حکومت ادا کر رہی ہے۔

  • کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خودکش جیکٹ، دھماکہ خیز مواد برآمد

    کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خودکش جیکٹ، دھماکہ خیز مواد برآمد

    کراچی میں خفیہ ایجنسیوں اور محکمہ انسداد دہشت گردی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے دہشت گردانہ منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

    کارروائی کے دوران خودکش جیکٹ، دستی بم، اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا جبکہ کالعدم تنظیم (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے مطلوب دہشت گرد اسماء اللہ کو گرفتار کر لیا گیا۔حکام کے مطابق یہ کارروائی حساس اداروں کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جس میں بتایا گیا تھا کہ شہر میں ایک بڑی دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اطلاع کی بنیاد پر سی ٹی ڈی نے مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور ایک مشتبہ مقام سے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار دہشت گرد اسماء اللہ خودکش حملے کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس کے قبضے سے ایک تیار شدہ خودکش جیکٹ، متعدد دستی بم، ڈیٹونیٹرز اور دیگر دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر مواد کو تحویل میں لیا اور ناکارہ بنا دیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو شہر میں کسی اہم سرکاری یا عوامی مقام کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ تھا۔ذرائع کے مطابق ملزم براہِ راست ایک غیر ملکی ہینڈلر سے رابطے میں تھا اور بیرون ملک سے موصول ہونے والی ہدایات پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے اہم شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں، جن کی فارنزک جانچ جاری ہے۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس کے سہولت کاروں اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ سیکیورٹی اداروں نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے جبکہ حساس مقامات کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی اور کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ کا نتیجہ ہے، جس سے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔

  • شرقپور شریف میں آتشبازی فیکٹری میں دھماکا، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

    شرقپور شریف میں آتشبازی فیکٹری میں دھماکا، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

    صوبہ پنجاب کے علاقے شرقپور شریف میں آتشبازی کا سامان تیار کرنے والی فیکٹری میں خوفناک دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ کم از کم چار افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ فیکٹری کی عمارت کی چھت زمین بوس ہو گئی اور اطراف کی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

    رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب فیکٹری میں آتشبازی کا سامان تیار کیا جا رہا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اچانک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کے باعث عمارت کا ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا اور کئی مزدور ملبے تلے دب گئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ چار زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے جبکہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر دھماکے کی وجہ آتش گیر مواد کو غیر محفوظ طریقے سے تیار کرنا قرار دی جا رہی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں قائم ایسی فیکٹریوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • سیلاب سے بچاؤ، چناب پر 4 ڈیم بنانے کا فیصلہ

    سیلاب سے بچاؤ، چناب پر 4 ڈیم بنانے کا فیصلہ

    مستقبل میں دریائے چناب سے سیلاب کی تباہ کاریاں بچانے کیلئے واپڈا نے چناب پر 4 ڈیم بنانے کا فیصلہ کرلیا، تقریباً 300 ارب روپے مالیت کا منصوبہ 4 سال میں مکمل کیا جائے گا۔

    واپڈا حکام کے مطابق 298 ارب روپے مالیت کے منصوبے سے اضافی پانی ڈیمز میں ذخیرہ کرکے سیلابی صورتحال پر قابو پایا جائے گا۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے سے 45 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ اور 330 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی، چنیوٹ اور شاہ جیوانہ ڈیمز سے 80، 80 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ بھارت مون سون سیزن میں دریایے چناب میں اچانک پانی چھوڑ دیتا ہے، اچانک سیلاب سے کھڑی فصلوں اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے، خشک سالی کے دوران بھارت دریائے چناب کا پانی اچانک روک بھی لیتا ہے، مستقبل میں سیلاب اور قلت آب سے نمٹنے کیلئے پلان تیار کیا گیا ہے، سیلابی صورتحال یا پانی میں کمی کی صورت میں ڈیم موزوں ثابت ہوں گے۔

  • لاہورمیں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ جمع

    لاہورمیں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ جمع

    لاہور میں بسنت کے دوران 17 اموات ہوئیں، رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی گئی

    ہوم ڈیپارٹمنٹ نے بسنت سے وانے والی اموات کی رپورٹ عدالت پیش کردی ،رپورٹ کے مطابق بسنت کے دوران کرنٹ لگنے سے 3 افراد ہلاک ہوئے، درخت سے گر کر دو افراد ہلاک ہوئے۔بارہ افراد چھتوں سے گر کر جان کی بازی ہار گئے۔ لاہور ہائیکورٹ نےبسنت کے دوران ڈور پھرنے سے زخمی ہونے والے افراد کی تفصیلات بھی طلب کرلیں،وکیل درخواست گزار اظہر صدیق نے کہا کہ بسنت کے دوران ڈور پھرنے سے زخمیوں کا ڈیٹا نہیں دیا گیا۔

    جسٹس اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی ،درخواست میں بسنت کے دوران ہونے والی اموات اور زخمیوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے

  • جنس تبدیلی کے بعد فحاشی کا اڈہ چلانے والی دو بہنیں گرفتار

    جنس تبدیلی کے بعد فحاشی کا اڈہ چلانے والی دو بہنیں گرفتار

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے مبینہ طور پر جنس اور مذہب کی تبدیلی، عصمت دری، جبری تبدیلیٔ مذہب اور سیکس ریکیٹ چلانے کے الزامات میں دو بہنوں اور ان کے ایک ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کیس میں نامزد مزید تین ملزمان تاحال مفرور بتائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے مقدمے کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں بہنیں پہلے عباس نگر کی ایک کچی آبادی میں مقیم تھیں، تاہم حال ہی میں مبینہ طور پر جنس تبدیل کروانے کے بعد مردانہ شناخت اختیار کر کے ایک عالیشان مکان میں منتقل ہو گئی تھیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان کی جائیدادیں اور پرتعیش طرزِ زندگی ممکنہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدن کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید مالی چھان بین جاری ہے۔کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب دو خواتین، جن کی عمریں 21 اور 32 سال بتائی جاتی ہیں، نے بھوپال کے علاقے باغ سیونیا تھانے میں الگ الگ مگر ملتے جلتے بیانات کے ساتھ مقدمات درج کروائے۔ متاثرہ خواتین کا تعلق کم آمدنی والے طبقے سے بتایا جاتا ہے۔

    مدعی خواتین کے مطابق انہیں گھریلو ملازمت، ماہانہ 10 ہزار بھارتی روپے تنخواہ، رہائش اور بہتر طرزِ زندگی کا جھانسہ دے کر رابطہ کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق بعد ازاں انہیں مختلف پارٹیوں، کلبز اور لاؤنجز میں لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر نشہ آور اشیاء پلائی گئیں اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ایک متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ دسمبر 2025ء میں اسی گروہ کے ایک کارندے نے اسے ریاست گجرات کے شہر احمد آباد لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ اسے دھمکیاں دے کر خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔دوسری متاثرہ خاتون، جو گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی، نے الزام لگایا کہ چندن یادیو نامی شخص نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ درج مقدمے میں جبری تبدیلیٔ مذہب کا الزام بھی شامل کیا گیا ہے، جس کی الگ سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتاری کے دوران ملزمان کے موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔ ابتدائی ڈیجیٹل فرانزک جائزے میں مشتبہ واٹس ایپ گروپس اور متعدد لڑکیوں کی تصاویر برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی مکمل جانچ کے بعد مزید انکشافات متوقع ہیں۔بھوپال پولیس کو شبہ ہے کہ یہ ایک منظم بین الریاستی نیٹ ورک ہو سکتا ہے جس کے روابط گجرات اور ممبئی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پولیس مختلف ریاستوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں ہے اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور متاثرہ خواتین کو قانونی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ مزید گرفتاریوں اور انکشافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • عمران خان کی صحت پر فیصلے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں ،علیمہ خان

    عمران خان کی صحت پر فیصلے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں ،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے بار بار کہا کہ وکلا کو کہیں عدالتوں میں جا کر بیٹھ جائیں میرے کیسز لگوائیں لیکن وکیل کچھ نہیں کر رہے ،

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو دو ٹوک کہتے ہیں کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر فیملی سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں ،ہم پی ٹی آئی کی طرف سے کچھ نہیں ہوتا دیکھ رہے، پارٹی بانی کی صحت سے متعلق آج کے بعد کوئی بات نا کرے ،عمران خان کی صحت پر فیصلے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں ، فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کے پاس ہے ، محسن نقوی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق پارٹی اور وہ ایک پیچ پر ہیں میں آج واضح کردوں عمران خان کی صحت کا معاملہ پارٹی کا میڈیٹ نہیں صرف فیملی کا مینڈیٹ ہے ،مارے ساتھ صرف حسین اخونزاہ رابطے میں تھے اور شفاء ہسپتال نام آیا تو حسین آخونزادہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کانفرنس کال میں محسن نقوی سے بات ہوئی ہے،عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی فیصلہ نہیں کر سکتی ،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ لایا ہی اسی لیے گیا ہے کہ وہ عمران خان کے کیسز نہ سنیں ،سہیل آفریدی بات کرنے کے لیے آئے تو جسٹس ڈوگر اٹھ کر بھاگ گئے ،

    دوسری جانب بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ہاسپٹل لے جانے سے ثابت ہو چکا کہ ان کا علاج جیل میں ممکن نہیں،اگر اس ہفتے عمران خان اور بشری بی بی کے کیسز نہ سنے گئے تو اگلے ہفتے کیسز براہ راست سپریم کورٹ میں دائر کر دیں گے ،عدالتی عملے کی جانب ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کل جمعرات کے روز عمران خان کے کیسز مقرر ہوں گئے توشہ خان ٹو کیس کی درخواست پر یہ اعتراض لگایا یے کہ وکا لت نامے نہیں دیے جارہے ہم نے اڈیالہ جیل حکام سے دس مرتبہ رابطہ کیا ہے کہ وکلات نامے دستخط کر کے ہمیں دیں۔

  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سلام کیا لیکن جواب نہیں ملا،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو سلام کیا لیکن جواب نہیں ملا،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اوپن کورٹ میں چیف جسٹس کو سلام کیا لیکن سوا گھنٹے انتظار کے بعد بھی ایک صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کو جواب نہیں دیا گیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد سے ملاقات نہیں ہو رہی تھی اس لیے اوپن کورٹ میں گئے، چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی، روسٹرم پر گیا اور سلام کیا لیکن جواب نہیں ملا، ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، ہم تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پرامن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے، سوا گھنٹے انتظار کے بعد بھی چیف جسٹس نے سلام کا جواب نہیں دیا، شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنے کی درخواست بھی جمع کرائی گئی لیکن اسے منظور نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے کوریڈور میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کی ویڈیو بنانے والے شخص سے پولیس نے موبائل فون چھین لیا،پولیس نے سہیل آفریدی کے ساتھ موجود شخص سے موبائل فون چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کرائی، ویڈیو ڈیلیٹ کرانے کے بعد متعلقہ شخص کو موبائل فون واپس کر دیا گیا،عدالتی احکامات کے تحت عدالت کے احاطے میں موبائل فوٹیج بنانے پر پابندی ہے۔