Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، بھرپور انداز سے جاری

    بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، بھرپور انداز سے جاری

    بلوچستان کی ترقی کے سفر کا نیا باب ’’بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو‘‘ بھرپور انداز سے جاری ہے

    حکومت بلوچستان کا بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (بی ایس ڈی آئی) صوبہ میں پائیدار ترقی کا مؤثر ذریعہ بن گیا.بی ایس ڈی آئی کے تحت جنوبی بلوچستان کے پانچ اضلاع کیچ، خاران، واشک، چاغی اور پنجگُور میں 137 منصوبوں کیلئے پانچ ارب روپے مختص ہیں،اب تک بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت 13 ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں ،10 ویں منصوبہ کے تحت خاران کے علاقوں مسکان، قلات اور کلی مبارک شلتاک میں دو جنازہ گاہوں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے،11ویں منصوبہ کے تحت کے تحت ضلع واشک کے آر ایچ سی ناگ میں جدید سولر سسٹم نصب کر دیا گیا،12 منصوبہ میں واشک کے 10 رجسٹرڈ مدارس میں سولر سسٹمز کی تنصیب سے توانائی بحران میں نمایاں کمی واقع ہوئی ،13ویں منصوبہ میں واشک میں 40 سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب عوامی سہولت اور سکیورٹی میں اضافہ کا باعث بنی ،بلوچستان ترقیاتی پروگرام کا مقصد دورافتادہ پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے ،بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو صوبہ کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کا ضامن ہے

  • ایئر انڈیا بزنس کلاس میں کھانے سے مکھیاں نکل آئیں

    ایئر انڈیا بزنس کلاس میں کھانے سے مکھیاں نکل آئیں

    نئی دہلی: ایئر انڈیا کی بزنس کلاس فلائٹ میں سفر کرنے والی معروف بھارتی فوڈ ولاگر پاویترا کور نے اپنے سفر کے تجربے کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے ایئرلائن پر سخت تنقید کی ہے۔

    پاویترا کور نے نئی دہلی سے سان فرانسسکو جانے والی ایئر انڈیا کی بزنس کلاس ٹکٹ کے لیے تقریباً 4 لاکھ روپے خرچ کیے، تاہم ان کے مطابق سہولتیں، سروس اور صفائی اس رقم کے معیار پر پورا نہیں اتریں۔پاویترا کور نے یوٹیوب پر شیئر کیے گئے اپنے تازہ ولاگ میں بتایا کہ وہ اس بزنس کلاس کے سفر کو 10 میں سے صرف 6 نمبر دیتی ہیں۔ ان کے مطابق سفر کے آغاز میں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب پہلی سیٹ میں تکنیکی خرابی سامنے آئی۔ عملے نے انہیں دوسری نشست فراہم کی، مگر بدقسمتی سے وہاں بھی وہی مسئلہ موجود تھا، جس سے ان کی مایوسی میں مزید اضافہ ہوا۔فوڈ ولاگر نے کہا کہ اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولتوں کا فقدان حیران کن اور ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے خاص طور پر صفائی کے ناقص انتظامات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ اگر بزنس کلاس کا یہ حال ہے تو اکانومی کلاس میں سفر کرنے والے مسافروں کے حالات کیسے ہوں گے؟

    اپنے ولاگ میں پاویترا کور نے دعویٰ کیا کہ ان کی سیٹ پر دو مردہ مکھیاں موجود تھیں، جبکہ پیش کیا گیا پھل اور کھانا باسی تھا۔ ان کے مطابق پلیٹ میں بھی مکھیاں نظر آئیں، جو کہ ایک بین الاقوامی بزنس کلاس فلائٹ کے لیے انتہائی تشویشناک بات ہے۔ میٹھا ان کے لیے سب سے بڑی مایوسی ثابت ہوا، یہاں تک کہ انہوں نے اسے کھانا بھی مناسب نہ سمجھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ چاکلیٹ موز انتہائی خراب تھا اور پھل بھی تازہ نہیں تھے، جس سے مجموعی طور پر کھانے کا تجربہ نہایت ناقص رہا۔

    ولاگ کے اختتام پر پاویترا کور نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’لیکن یہ ایئر انڈیا ہے‘‘۔ ان کے مطابق ان کے پاس کوئی اور بہتر آپشن موجود نہیں تھا، اسی لیے انہیں اسی فلائٹ کا انتخاب کرنا پڑا۔

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    عمران،بشریٰ کو سزا،مقدمہ کی کامیاب پیروی پرتفتیشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہیں،ایف آئی اے

  • عمران،بشریٰ کو سزا،مقدمہ کی کامیاب پیروی پرتفتیشی ٹیم  کی کارکردگی کو سراہتے ہیں،ایف آئی اے

    عمران،بشریٰ کو سزا،مقدمہ کی کامیاب پیروی پرتفتیشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہیں،ایف آئی اے

    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج عمران خان اور بشری بی بی کو علیحدہ سے توشہ خانہ ٹو کیس میں سات سات سال علیحدہ سزا ہوئی

    ترجمان کے مطابق یہ مقدمہ ایف آئی اے کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں سابق وزیرِاعظم اور ان کی اہلیہ کو خالصتاً دستاویزی شواہد کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔خصوصی عدالت سینٹرل-I، اسلام آباد نے توشہ خانہ-II کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیرِاعظم عمران احمد خان نیازی اور ان کی اہلیہ بشرٰی عمران کو مختلف دفعات کے تحت سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو دفعہ 409 تعزیراتِ پاکستان کے تحت 10 سال قیدِ سادہ اور دفعہ 5(2) بمعہ دفعہ 47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت 7 سال قیدِ سادہ کی سزا سنائی، جبکہ دونوں ملزمان پر 16,405,000 روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ یہ فیصلہ عدالت نے 21 گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد صادر کیا۔

    ترجمان کے مطابق مقدمہ کا پس منظر یہ ہے کہ ملزمان نے مملکتِ سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران موصول ہونے والا Bvlgari جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کروایا، حالانکہ وہ اس کے قانونی طور پر پابند تھے۔ تفتیش کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت اور بدنیتی سے مذکورہ جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت لگوائی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 32.851 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔فیصلے کے بعد دونوں ملزمان کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے تحویل میں لے کر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور اس مقدمہ کی کامیاب پیروی پر متعلقہ تفتیشی ٹیم اور افسران کی کارکردگی کو سراہتا ہے۔

  • توشہ خانہ ٹوفیصلہ، ریاستی تحائف ذاتی  نہیں بلکہ قومی امانت ہوتے ہیں

    توشہ خانہ ٹوفیصلہ، ریاستی تحائف ذاتی نہیں بلکہ قومی امانت ہوتے ہیں

    توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17 سترہ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے، توشہ خانہ سے متعلق زیرِ سماعت مقدمہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ عوامی اعتماد، ریاستی ملکیت اور قانون کی حکمرانی سے جڑا ایک سنجیدہ قانونی معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ کیس خصوصی عدالت میں پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 409 اور 109 اور پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    قانونی ماہرین کے مطابق توشہ خانہ کے قواعد کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری عہدے کے ذریعے موصول ہونے والے تحائف ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہ ہوں، کیونکہ ایسے تمام تحائف ریاستی ملکیت تصور کیے جاتے ہیں۔استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ کسی عمومی یا مبہم الزام پر نہیں بلکہ ایک مخصوص لین دین پر مبنی ہے۔ الزام ہے کہ مئی 2021 میں موصول ہونے والا بلغاری (Bvlgari) زیورات کا قیمتی سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا، اسے کم قیمت پر ظاہر کیا گیا اور بعد ازاں نہایت کم لاگت پر اپنے پاس رکھا گیا۔ریکارڈ کے مطابق یہ اقدام دانستہ طور پر اس لیے کیا گیا تاکہ تحفے کی اصل مارکیٹ ویلیو کا درست تعین نہ ہو سکے۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کیس پر توشہ خانہ طریقۂ کار 2018 لاگو ہوتا ہے، کیونکہ تحفہ 2021 میں موصول ہوا تھا۔ بعد میں آنے والی 2023 کی ترامیم اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتیں۔قواعد کی شق-I کے مطابق، قیمت سے قطع نظر ہر سرکاری تحفہ فوری طور پر رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی اور قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔استغاثہ نے مختلف جرائم کے اجزاء کو حقائق کے ساتھ جوڑتے ہوئے درج ذیل الزامات عائد کیے ہیں
    PPC 409: سرکاری ملازم کی جانب سے خیانتِ امانت، الزام ہے کہ تحفہ بطور امانت موصول ہوا مگر جمع نہ کرا کے ذاتی فائدے کے لیے رکھا گیا۔
    PPC 109: اعانتِ جرم ، مبینہ طور پر اس عمل میں نجی افراد اور ویلیوایٹرز نے کردار ادا کیا۔
    PCA 1947 دفعہ 5(2): مجرمانہ بدعنوانی ، استغاثہ کے مطابق سرکاری عہدے کا غلط استعمال کر کے مالی فائدہ حاصل کیا گیا۔

    تحقیقات میں پیش کیے گئے ثبوت کو کثیر ذرائع سے حاصل اور باہم تصدیق شدہ قرار دیا گیا ہے،سرکاری ریکارڈ کے مطابق تحفہ جسمانی طور پر توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا، جبکہ رجسٹر میں اندراج کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔نجی ویلیوایٹر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے خود کو ماہر تسلیم نہیں کیا اور ہدایات کے تحت کم قیمت لگانے کا اعتراف کیا۔ماڈل کسٹمز کے سرکاری ویلیوایٹرز نے بھی معائنہ نہ کرنے اور فراہم کردہ قیمت فہرست پر انحصار کرنے کا اعتراف کیا۔وزارتِ خارجہ کے ذریعے حاصل کردہ بین الاقوامی قانونی معاونت (MLA) کے تحت بلغاری اٹلی نے زیورات کی انوائس قیمتیں €300,000 اور €80,000 فراہم کیں، جو اصل ویلیو کے تعین میں اہم قرار دی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق قومی خزانے کو مبینہ طور پر 32 کروڑ 85 لاکھ 13 ہزار روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ تحقیقات میں بتایا گیا کہ جن زیورات کی قیمت چند لاکھ روپے لگائی گئی، ان کی اصل مارکیٹ ویلیو تقریباً 7 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔استغاثہ نے اس کم قیمت لگانے کے عمل کو غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے، جس سے مجرمانہ نیت ثابت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    ریکارڈ کے مطابق یہ کیس مکمل طور پر عدالتی نگرانی میں آگے بڑھا،دائرۂ اختیار کی منتقلی عدالت کے حکم سے ہوئی۔ایف آئی اے کی تفتیش، شواہد کی ضبطگی اور ضمنی رپورٹس عدالت کی ہدایات کے مطابق تیار کی گئیں۔گواہوں کے بیانات ضابطۂ فوجداری کی دفعات 160، 161 اور 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے۔ملزم کو سوالنامہ فراہم کیا گیا اور اسے مکمل دفاع پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔آئین کے آرٹیکل 10A اور 10(1) کے تحت منصفانہ ٹرائل اور وکیل کے حق کی ضمانت دی گئی۔

    قانونی ماہرین کے مطابق PPC 409 کے تحت سزا انتہائی سخت ہے، جس میں عمر قید یا دس سال تک قید اور جرمانہ شامل ہو سکتا ہے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ مبینہ جرم کی نوعیت، دانستہ اقدام، مالی نقصان اور بین الاقوامی تصدیق اس بات کی متقاضی ہے کہ سزا محض علامتی نہ ہو،

    ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ کسی فرد یا جماعت سے بڑھ کر ریاستی نظام، سرکاری تحائف کے شفاف انتظام اور عوامی اعتماد کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ فیصلے کو مستقبل کے سرکاری عہدہ داروں کے لیے ایک نظیر سمجھا جا رہا ہے کہ ریاستی تحائف ذاتی مراعات نہیں بلکہ قومی امانت ہوتے ہیں۔

    عمران ،بشریٰ کو سزا،فیصلہ انصاف پر مبنی ہے،عطا تارڑ

    عمران ،بشریٰ کو سزا، حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا

    عمران،بشریٰ کو سزا،سیاسی اختلاف نہیں قانون کی عملداری

    بانی پی ٹی آئی قانون شکنی کے مرتکب ہوئے،بیرسٹر عقیل ملک

    توشہ خانہ ٹوکیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17سال قید کی سزا

  • عمران ،بشریٰ کو سزا،فیصلہ انصاف پر مبنی ہے،عطا تارڑ

    عمران ،بشریٰ کو سزا،فیصلہ انصاف پر مبنی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ توشہ خانہ ٹو کی سزا 190 ملین پاؤنڈ کی سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ 14 سال کی سزا ختم ہو گی تو اس کے بعد 17 سال کی سزا شروع ہو گی،فراڈ کے تحت تحائف کی قیمت کم لگوائی گئی، فیصلہ انصاف پر مبنی ہے، تحائف کی قیمت کم لگوا کر سرکار کو کم رقم دی گئی، اسٹیٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا کر تحائف اپنی ذات کے لیے رکھ لیے، بشریٰ بی بی نے تحائف روک لیے اور مالی فائدہ لیا، 3 کروڑ اور 7 کروڑ کا اسٹیٹ کو نقصان پہنچایا، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 10 سال اور 7 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

    عمران ،بشریٰ کو سزا، حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا

    عمران،بشریٰ کو سزا،سیاسی اختلاف نہیں قانون کی عملداری

    توشہ خانہ ٹوکیس،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17،17سال قید کی سزا

  • عمران ،بشریٰ کو سزا، حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا

    عمران ،بشریٰ کو سزا، حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا

    اسپیشل جج شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ 2 کیس میں دفعہ 409 PPC کے تحت عمران خان کو 10 سال قیدِ کی سزا سنائی ہے، جبکہ 16,425,650 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ ریاست امانت کے تحفظ اور قانون کی عمل داری کا معاملہ ہے۔ توشہ خانہ کا طریقۂ کار واضح ہے کہ ہر تحفہ فوری طور پر رپورٹ اور ڈپازٹ ہونا لازم ہے؛ اس کی خلاف ورزی ذاتی غلطی نہیں بلکہ ریاستی نظم و ضبط پر ضرب سمجھی جاتی ہے،توشہ خانہ میں عمران خان کو ۱۰ سال کی سزا مکمل عدالتی عمل اور دفاع کے حقوق کی فراہمی کے بعد سنائی گئی،اس فیصلے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ عوامی عہدہ فائدے کے لیے نہیں، امانت اور خدمت کے لیے ہوتا ہے۔ Bvlgari جیولری سیٹ، اس کی non-deposit، undervaluation اور retention۔ جب حقائق واضح ہوں تو انہیں سیاست کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔

    اسپیشل جج شاہ رخ ارجمند کے توشہ خانہ ٹو (TK-2) کیس کے فیصلے کی مطابق دفعہ 409 PPC اور سیکشن 5(2) PCA 1947 کے تحت عمران خان کو ۱۰ جبکہ بشرا بی بی کو 7 سال کی سزائیں سنائی گئیں، کیونکہ عوامی عہدہ امانت ہے، اور ریاست کے نام پر آنے والے تحائف ریاست کے ہوتے ہیں۔ ذاتی ملکیت نہیں۔ یہ کیس سیاست نہیں بلکہ Rule of Law اور public trust کا معاملہ ہے۔ ریاست کے نام پر آنے والے تحائف ذاتی ملکیت نہیں ہوتے، اور توشہ خانہ قوانین اسی لیے بنائے گئے کہ عوامی عہدہ ذاتی فائدے کا ذریعہ نہ بنے۔ ریکارڈ کے مطابق شواہد multi-source اور corroborated ہیں۔ سرکاری ریکارڈ، نجی و سرکاری appraisers کے بیانات، اور اٹلی سے MLA کے ذریعے حاصل شدہ تصدیق جن کی بنیاد پر قومی خزانے کے نقصان کی quantification کی گئی اور سزا کو تناسب، deterrence اور عوامی اعتماد کے تحفظ سے جوڑا گیا۔

    توشہ خانہ ٹو جس کا تعلق Bvlgari جیولری سیٹ (مئی 2021) سے ہے اور اس میں PPC 409، PPC 109 کے ساتھ PCA 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت کارروائی اور فیصلہ کے مطابق عمران خان کو دس سال کی سزا ہوئی ہے- یہ فیصلہ مکمل due process کے بعد سامنے آیا،عدالتی نگرانی، تفتیشی تسلسل، گواہوں کا قانونی طریقہ، approver کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان، اور دفاع کو سوالنامے کے ذریعے مؤقف دینے کا موقع،جو اسے قانونی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے مضبوط بناتا ہے۔ جب خلاف ورزی واضح واقعے اور واضح قواعد پر کھڑی ہو تو اسے سیاسی بیانیہ نہیں کہا جا سکتا۔

  • عمران،بشریٰ کو سزا،سیاسی اختلاف نہیں قانون کی عملداری

    عمران،بشریٰ کو سزا،سیاسی اختلاف نہیں قانون کی عملداری

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں سز،یہ معاملہ کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ ریاستی امانت کے تحفظ کا ہے۔ جب عدالت کسی عوامی عہدے دار کے بارے میں یہ نتیجہ نکالے کہ ریاستی تحائف کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا، تو پھر فیصلہ شخصیات سے اوپر، اصول سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی اصول کو عوام کے سامنے رکھیں کہ یہ سزا “سیاسی اختلاف” نہیں، قانون کی عمل داری ہے۔

    ریکارڈ کے مطابق توشہ خانہ طریقہ کار 2018 میں بنیادی شرط یہ ہے کہ ہر تحفہ، قیمت سے قطع نظر، فوری طور پر رپورٹ اور ڈپازٹ ہونا چاہیے۔ جب قانون ایک ڈیوٹی واضح کر دے تو پھر اس کی خلاف ورزی “غلطی” نہیں رہتی، وہ قواعد کی توہین اور ریاستی نظام پر ضرب بن جاتی ہے۔ اسی لیے عدالت کی سزا کو “قواعد کے نفاذ” کے طور پر پیش کیا جائے۔یہ بیانیہ رکھیں کہ استغاثہ کے مطابق کیس مبہم نہیں، یہ ایک خاص لین دین پر کھڑا ہے، یعنی Bvlgari جیولری سیٹ اور اس سے متعلق non deposit، undervaluation، اور retention کا معاملہ۔ جب مقدمہ ایک واضح واقعے، واضح تحفے، اور واضح طریقہ کار کی خلاف ورزی کے گرد گھومتا ہو تو اسے “سیاسی” کہہ کر کمزور نہیں کیا جا سکتا، یہ ریکارڈ اور قواعد کی بنیاد پر چلتا ہے۔

    اگر عدالت نے جرم ثابت پایا تو وہ کسی ایک بیان پر نہیں، بلکہ متعدد ذرائع کی باہمی تائید پر ہے، جیسے ریکارڈ میں ڈیپازٹ کی عدم موجودگی، valuation چین، اور بیرونی تصدیق کا ذکر۔ جب شواہد مختلف سطحوں پر ایک ہی سمت اشارہ کریں تو اسے “کہانی” نہیں کہا جاتا، وہ corroboration بن جاتی ہے۔ریکارڈ میں قومی خزانے کے نقصان کی quantification کی گئی ہے، جسے undervaluation اور retention کے فرق سے جوڑا گیا۔ اس نکتے کو جذباتی مگر قانونی انداز میں کہیں کہ یہ عوام کے پیسے اور ریاست کے وقار کا معاملہ ہے۔ جب نقصان ناپا جا سکے اور طریقہ کار کی خلاف ورزی واضح ہو تو سزا کا مقصد صرف سزا نہیں، روک تھام اور مثال قائم کرنا بھی ہوتا ہے۔

    سزا ہوئی تو وہ عدالتی نگرانی میں مکمل پراسیس کے بعد ہوئی، تفتیشی مراحل، گواہوں کا طریقہ کار، چالان، اور ریکارڈ کی فراہمی جیسے اقدامات ریکارڈ میں آتے ہیں۔ عدالتیں اسی لیے ہوتی ہیں کہ الزام صرف “الزام” نہ رہے، ثبوت اور قانون کے معیار پر پرکھا جائے۔ اس لیے فیصلے کو “غیر منصفانہ” کہنا، عدالتی عمل کی نفی کے مترادف ہوگا۔

    ریکارڈ میں دفاعی حقوق کے حوالے سے اقدامات موجود ہیں، مثلاً درخواستیں، کارروائیاں، اور عدالت کی ہدایت پر questionnaire کے ذریعے دفاعی مواد سامنے لانے کا موقع۔ یہ پوائنٹ بہت طاقتور ہے کہ قانون دفاع کا حق دیتا ہے، اور اسی حق کے ساتھ فیصلہ مضبوط بنتا ہے۔ اگر دفاع کے مواقع فراہم ہوں اور پھر بھی عدالت جرم ثابت پائے تو سزا کی اخلاقی اور قانونی بنیاد مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

    یہ فیصلہ کسی فرد کو طاقتور یا کمزور کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے ہے۔ عوامی عہدہ ایک امانت ہے، اور تحائف ریاست کے نام پر آئیں تو وہ ریاست کے ہیں، ذاتی ملکیت نہیں۔ اس لیے اگر عدالت نے سزا سنائی ہے تو اسے ایک واضح پیغام سمجھیں کہ عہدہ فائدے کے لیے نہیں، خدمت کے لیے ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی قانون شکنی کے مرتکب ہوئے،بیرسٹر عقیل ملک

    بانی پی ٹی آئی قانون شکنی کے مرتکب ہوئے،بیرسٹر عقیل ملک

    وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے عمران وبشریٰ پر سزا کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا فیصلہ آئین و قانون کے عین مطابق آیا ہے۔

    بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ نے بلگری جیولری سیٹ کی کم قیمت لگوا کر واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کی۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد سے یہ ثابت ہوا کہ بانی پی ٹی آئی قانون شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ادھر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کو قواعد کے مطابق جمع کرانا لازمی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحفہ انتہائی کم قیمت پر خرید کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، جو کہ فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔حکومتی وزراء کے مطابق، توشہ خانہ قوانین کی خلاف ورزی پر یہ فیصلہ ایک نظیر ثابت ہوگا اور اس سے یہ پیغام جائے گا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، چاہے اس کا عہدہ یا حیثیت کچھ بھی ہو۔

    واضح رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں احتساب عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے دونوں پر ایک کروڑ 64 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔احتساب عدالت کے اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے مطابق، دونوں ملزمان کو توشہ خانہ سے حاصل کیے گئے تحائف کے معاملے میں بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مرتکب قرار دیا گیا۔عدالتی فیصلے کے تحت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 409 کے تحت مزید 7، 7 سال قید کی سزا دی گئی۔ اس طرح مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

  • بلوچستان،خیبرپختونخوا،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز متحرک،بلوچستان سے بھاری منشیات برآمد

    بلوچستان،خیبرپختونخوا،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز متحرک،بلوچستان سے بھاری منشیات برآمد

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    ذرائع کے مطابق ضلع واشک کے بسمہ علاقے میں حکام نے دو افراد کی لاشیں برآمد کیں، جنہیں تحویل میں لے کر شناخت کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام اموات کے حالات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جاں بحق افراد کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کوئٹہ کے سبزل روڈ کے علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق جبکہ اس کا بھائی زخمی ہو گیا۔ حکام نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع قلات کے پٹک اور شیرینزا علاقوں میں سیکیورٹی آپریشن کے دوران 2 بی ایل ایف کے عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن گزشتہ چند ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور آئی ای ڈی نصب کرنے میں ملوث عسکریت پسندوں کے خلاف کیا گیا۔ گرفتار افراد پر عسکری سرگرمیوں کی معاونت کا الزام ہے۔ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    دہشت گردوں نے کالیم شہید پوسٹ کے قریب ناکہ نمبر 1 کے پاس آئی ای ڈی دھماکے کے ذریعے کوئٹہ ریلوے لائن کو اڑانے کی کوشش کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے سے ریلوے ٹریک کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اطلاع ملتے ہی ایف سی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے تربت میں کارروائی کے دوران منشیات اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی اور عالمی منڈی میں تقریباً 54 ملین ڈالر مالیت کی منشیات ضبط کر لیں۔ اے این ایف ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے خلیل آباد کے قریب کی گئی، جہاں پنجگور سے تربت لے جائی جانے والی منشیات سے بھری ایک غیر رجسٹرڈ زمید گاڑی کو روکا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک ملزم گرفتار جبکہ گاڑی تحویل میں لے لی گئی۔ گاڑی کی تلاشی کے دوران 222 کلوگرام منشیات برآمد ہوئیں جن میں آئس (میٹھ ایمفیٹامین)، افیون اور چرس شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ضبط شدہ منشیات کی مجموعی ملکی مالیت 3 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد جبکہ عالمی مالیت 54 ملین ڈالر ہے۔ برآمد منشیات میں 99 کلوگرام آئس (ملکی مالیت 2 کروڑ 57 لاکھ 40 ہزار روپے، عالمی مالیت 26.12 ملین ڈالر)، 50 کلوگرام افیون (ملکی مالیت 70 لاکھ روپے، عالمی مالیت 24.75 ملین ڈالر) اور 73 کلوگرام چرس (ملکی مالیت 54 لاکھ 70 ہزار روپے، عالمی مالیت 4.02 ملین ڈالر) شامل ہیں۔ اے این ایف حکام کے مطابق اسمگلنگ نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وسطی کرم کے علاقے مناتو میں دہشت گردوں کی جانب سے نصب بارودی سرنگ پھٹنے سے دو بچے شدید زخمی ہو گئے، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کلیئرنس آپریشنز کے باوجود باقی رہ جانے والے دھماکہ خیز آلات کے مسلسل خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 19 دسمبر 2025 کو شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا اور بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے چاروں عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ حملہ آوروں نے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم بروقت جوابی کارروائی سے انہیں پسپا کر دیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس سے دیوار منہدم ہو گئی اور قریبی شہری انفراسٹرکچر، بشمول ایک مسجد، کو نقصان پہنچا۔ دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت پندرہ شہری زخمی ہوئے۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز کے چار جوان غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ وزارتِ دفاع اور آئی ایس پی آر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود خوارج کی جانب سے کیے جانے والے یہ دہشت گردانہ اقدامات افغان طالبان حکومت کے ان دعوؤں کے منافی ہیں جن میں ان گروہوں کی عدم موجودگی کا کہا جاتا ہے۔ پاکستان نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور واضح کیا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کے تعاقب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران خیبر پختونخوا میں عسکریت پسند اور مجرمانہ سرگرمیوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں آٹھ خودکش حملے ہوئے جبکہ 14 اضلاع میں فائرنگ کے 557 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عسکریت پسندوں نے 54 ڈرون حملے، 160 بم دھماکے، 68 دستی بم حملے اور 27 میزائل یا راکٹ لانچر کے واقعات کیے۔ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران 348 عسکریت پسند مارے گئے جو گزشتہ سال کے 212 کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی میں سہولت کاری کے 183 مقدمات درج ہوئے، جبکہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے 30 کیسز سامنے آئے۔ مزید یہ کہ عسکریت پسندوں نے 84 افراد کو اغوا کیا، بھتہ خوری کے 138 اور ٹارگٹ کلنگ کے 116 واقعات رپورٹ ہوئے۔ احتیاطی اقدامات کے طور پر چار مشتبہ افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔

    ڈکیتوں نے درابن کے قریب قومی شاہراہ پر ناکہ لگا کر شہریوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے شاہراہ بند کر کے گزرنے والی گاڑیوں سے لوٹ مار کی۔ اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی، جس کے نتیجے میں متعدد ڈکیت زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق ایک حساس ادارے سے تعلق رکھنے والے سرکاری افسر نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذاتی اسلحے سے بروقت فائرنگ کی اور ڈکیتوں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں افسر خود بھی زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • پاکستان نے غزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق کچھ سوال پوچھے ہیں،امریکی وزیر خارجہ

    پاکستان نے غزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق کچھ سوال پوچھے ہیں،امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دوسرے ملکوں نے غزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق کچھ سوال پوچھے ہیں اور اس کے بعد غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر غور کرنے کی پیش کش کی ہے جس پر امریکا پاکستان کا شکر گزار ہے۔

    امریکی وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے امریکا کو اس بات پر اپنی رضامندی سے آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجے گا،اس پر مارکو روبیو نے کہا کہ ہم پاکستان کے بہت شکرگزار ہیں کہ اس نے غزہ امن منصوبے کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر غور کرنے کی پیش کش کی ہے، ان کے خیال میں پاکستان سمیت دیگر ملک ابھی کچھ سوالوں کے جواب چاہتے ہیں اور ان کے بعد ہی ہم کسی ملک سے یہ کہہ سکیں گے کہ وہ غزہ امن منصوبے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے،لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ بہت سے ملک ایسے ہیں جو اس تنازعے میں شریک ہر فریق کے لیے قابل قبول ہیں اور جو آگے بڑھ کر غزہ استحکام فورس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔