Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کنیرڈ کالج فار ویمن میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب

    کنیرڈ کالج فار ویمن میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تقریب

    کنیرڈ کالج فار ویمن نے شمولیت، ہمدردی اور مشترکہ روحانی اقدار کے عزم کو ایک خصوصی بین المذاہب ہم آہنگی تقریب کے انعقاد کے ذریعے مزید مستحکم کیا۔

    اس تقریب میں لینٹ اور رمضان کے مقدس روزہ دار موسم کی مناسبت سے مسلم اور مسیحی معاون عملے میں نقد تحائف تقسیم کیے گئے۔ یہ تقریب بدھ، 18 فروری 2026 کو صبح 11:30 بجے کنیرڈ کے ہلاڈیا ہال میں منعقد ہوئی، جس میں ڈینز، انتظامی سربراہان اور تمام معاون عملے نے شرکت کی تاکہ اتحاد، روحانی غور و فکر اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے۔یہ تقریب پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ارم انجم کی قیادت میں منعقد کی گئی، جن کا وژن باہمی احترام اور تنوع کے احترام پر مبنی اخلاقی قیادت کو فروغ دینا ہے۔ تقریب ایسے موقع پر منعقد ہوئی جب ایش وینزڈے (مسیحی روزوں کے آغاز کا دن) رمضان المبارک کے آغاز سے ایک دن پہلے آیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید اور بائبل مقدس کی تلاوت سے ہوا، جن میں روزے کو خدا تعالیٰ کی عبادت کے ایک اہم عمل کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ارم انجم نے مختلف مذاہب کو جوڑنے والی مشترکہ اقدار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مذاہب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور چونکہ ہماری ملازمتیں بھی اسی کی عطا کردہ نعمت ہیں، اس لیے ہمیں اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ایمانداری سے انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روزے کے ذریعے حاصل ہونے والی خود ضبطی، نظم و ضبط اور پاکیزگی کی صفات صرف روزوں کے موسم تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ پورا سال ہماری زندگیوں میں نمایاں رہنی چاہئیں۔

    تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت کالج کے تمام معاون عملے میں نقد تحائف کی تقسیم تھی، جس کے ذریعے ان کی محنت، لگن اور ادارے کے لیے گراں قدر خدمات کو سراہا گیا۔ یہ اقدام لینٹ اور رمضان دونوں کے جذبۂ شکرگزاری، خدمت اور باہمی خیال رکھنے کی عکاسی کرتا ہے۔ فیکلٹی ممبران اور انتظامی قیادت نے اس تقریب کو بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے اور کالج میں احترام کی ثقافت کو مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

    یہ بین المذاہب ہم آہنگی تقریب کنیرڈ کالج کے اس وسیع تر مشن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ایک ایسی جامع کمیونٹی کی تشکیل ہے جو صرف برداشت یا قبولیت تک محدود نہ ہو بلکہ تنوع کا جشن منائے اور ایسی خواتین قائدین تیار کرے جو معاشرتی ضروریات سے باخبر رہتے ہوئے ان اقدار کو آگے بڑھائیں۔ اس نوعیت کی سرگرمیوں کے ذریعے کالج مسلسل تنوع، باہمی احترام اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے اپنے کیمپس اور معاشرے میں مضبوط تعلقات قائم کر رہا ہے۔

  • عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا،ٹرمپ

    عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا،ٹرمپ

    امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا۔

    جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ جاری کیا،امریکی عدالت نے کہا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا ، یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

    امریکی عدالت کی جانب سے دوسرے ملکوں پر اضافی ٹیرف غیر قانونی قراردیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو چاہوں کرسکتا ہوں، ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی، امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے ،مجھے عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، دیگرممالک سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی ، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا، عدالت غیر ملکی مفادات کے زیراثر آگئی ہے ، ٹیرف سے متعلق دیگر متبادل طریقے استعمال کیے جائیں گے، مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے ،عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرفس کے علاوہ10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائےگا، ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔

    صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا امریکا کو ٹیرف سے حاصل رقم واپس کرنا ہوگی؟ جس پر جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ٹیرف سے حاصل رقم واپسی پر ابھی قانونی جنگ لڑنا ہوگی ،بھارت کےساتھ تجارتی معاہدے پرکچھ تبدیل نہیں ہوا، تمام معاہدے برقرارہیں،صرف طریقہ کارمختلف ہوگا، ہتر ہوگا ایران مناسب ڈیل کیلئے مذاکرات کرے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی امریکی عدالت کو خبردار کرچکے ہیں کہ ٹیرف غیر قانونی قرار دیے تو اثرات سنگین ہوں گے،امریکا کے لیے ٹیرف ری فنڈ کی رقم ادا کرنا ناممکن ہو گا،ماہرین کے مطابق امریکی حکومت ٹیرف واپس لینے کے بجائے قانون تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔

  • پنجاب میں  بچے پیدا کرنیوالی عمر کی 41 فیصد خواتین خون کی کمی  کا شکار ہیں ، نیوٹریشن انٹرنیشنل

    پنجاب میں بچے پیدا کرنیوالی عمر کی 41 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں ، نیوٹریشن انٹرنیشنل

    پاکستان میں کام کرنے والے کینیڈا کے نجی ادارے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام پنجاب یونیورسٹی میں سینمار کا اہتمام کیا گیا ، جس میں نیشنل نیوٹریشن سروے 2018 نتائج شئیر کئے گئے ، جن کے مطابق صوبہ پنجاب میں 41 فیصد خواتین، جو بچے پیدا کرنے کی عمر میں ہیں، خون کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ 25 فیصد میں وٹامن اے کی کمی ہے اور 80 فی صد سے زائد خواتین وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔

    نیوٹریشن انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں 2018 سے نیوٹریشن سروے نہیں ہوا ، اور یہ اعداد و شمار کئی گنا بڑھ سکتے ہیں ۔ شرکا نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت آٹا، کھانے کا تیل، چاول اور نمک میں مائیکرو نیوٹرینٹس شامل کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔سیمینار سے صوبائی پروگرام مینجر نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان داؤد مفتی نے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے پاکستان میں جاری پروگرامز کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ لارج سکیل فورٹیفیکش پروگرام کے اغراض و مقاصد پر بات کی۔ ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر سائنسز پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم، چیئرمین شعبہ فوڈ سائنسز پروفیسرڈاکٹرشناور وسیم علی، ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر عقیل انعام, ممبر فوڈ، پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ڈاکٹر محمد ناصر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ، پنجاب فوڈ اتھارٹی منیر حسین چوپڑا وزارتِ قانون اور محکمہ خوراک کے اراکین، فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی تھے ، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے باوجود پھل اور سبزیاں مارکیٹ میں مہنگے داموں ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی خوراک مثبت سوچ اور متحرک رہنے کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات کو پائیدار غذائی حکمتِ عملیوں کی تشکیل اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری،سستی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے لئے آگاہی پروگرام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شناور وسیم علی نے کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد لوگ آئرن کی کمی کا شکار ہیں،جو لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئرن کی کی کمی سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات اور بڑے پیمانے پر آگاہی فراہم کرنے کے لئے ادارہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آٹے اور خوردنی تیل جیسی بنیادی غذاؤں کی غذائی افزودگی عوامی صحت بالخصوص خواتین اور بچوں کے نتائج کو بہتر بنانے میں نہایت اہم ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ زرعی سائنسدان تحقیق کے ذریعے غذائیت سے بھرپور اجناس کی پیداوار کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں. سیمینار کے اختتام پر اورک اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے اراکین کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے شاندار، معلوماتی سیمینار کے لیے خدمات پیش کیں۔

  • احسن اقبال کی اداکارہ شبنم سے ملاقات

    احسن اقبال کی اداکارہ شبنم سے ملاقات

    بنگلادیش میں موجود وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ماضی کی پاکستانی فلموں کی مقبول ہیروئن شبنم سے ڈھاکا میں خصوصی ملاقات کی۔

    اس موقع پراحسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات کا مستقبل نئی نسل کی اُمیدوں، خوابوں اور اُمنگوں سے وابستہ ہے۔لیجنڈری اداکارہ شبنم نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیراحسن اقبال نے ملاقات کے لیے رابطہ کیا، میری طبیعت ناساز تھی،لیکن مجھے اچھا لگا کہ پاکستان سے اہم شخصیت مجھ سے ملنا چاہتی ہے، تو میں پاکستانی ایمبیسی چلی گئی، احسن اقبال سے بہت دلچسپ اور سنجیدہ بات ہوئی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں نے آپ کی بہت فلمیں سینما گھروں میں دیکھی ہیں، بچپن سے آپ کا مداح ہُوں اور بچپن سے آپ کی فلمیں شوق سے دیکھتا ہوں۔

    وفاقی وزیر نے شبنم کی اداکاری کی تعریف کی جس پر شبنم مسکرائیں اور احسن اقبال کا شکریہ ادا کیا،اداکارہ شبنم نے کراچی اور ڈھاکا کے فضائی راستے کھولنے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔

  • ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے ،علی امین گنڈا پور

    ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے ،علی امین گنڈا پور

    سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے۔

    اپنے ویڈیو بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ عمران خان کی آنکھ اورصحت کے حوالے سے ہمارے تحفظات بدستور برقرارہیں، جس نے عوام کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کیں، آج اپنی صحت کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہے،ہماری حکومت آئی تو ہم نے یونیورسل ہیلتھ کارڈ دیا اورہرطرح کی بیماری کو اس میں کور کرتے گئے، جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بنے تو انہوں نے پورے ملک کے عوام کو صحت کارڈ کی سہولت دی لیکن افسوس ہے آج بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالج تک سے ملنےنہیں دیا جا رہا، میرے غصے سے کسی کا دل دکھا ہے تو معذرت خواہ ہوں، مگر میرا غصہ جائز ہے، ابھی تک چھوٹی سی جائز ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کروا سکے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کا ذاتی معالج دیا جائے، اگر اس معاملے پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا تو میرے خیال میں اس میں انسانیت نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید کہاکہ ہم سب کو اپنے مقصد پر فوکس کرنا چاہیے اور بھرپور انداز میں آواز اٹھانی چاہیے، ہم اکثر مقصد سے ہٹ کر دیگرمسئلوں میں الجھ جاتے ہیں اور اصل مقصد حاصل نہیں کر پاتے،مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دی جائے۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نوکری خطرے میں ہے،خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نوکری خطرے میں ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو بیرون ملک یا بنی گالہ منتقل کرنے کی کسی سطح پر کبھی گفتگو نہیں ہوئی۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ممکن ہے سہولتوں کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کو اپروچ کیا گیا ہو، مارکیٹ میں یہ پراڈکٹ رکھنے کے لیے ڈیل کی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، اب اس پراڈکٹ کے پلے کچھ نہیں رہ گیا، ڈیل کی باتیں کرکے یہ اپنی دکان کھلی رکھنا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نوکری خطرے میں ہے، انہوں نے نوکری بچانے کے لیے رہائی فورس کا اعلان کیا ہے، رہائی فورس غیرآئینی اور غیر قانونی ہے، وفاق کے سوا کوئی فورس بنانا کسی کا استحقاق نہیں۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی تعریف کی ہے، صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی اجتماع میں پاک فوج کی طاقت اور فیلڈ مارشل کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے، وزیراعظم کا دورہ امریکا پاکستان کے حوالے سے بہت اچھا رہا ہے، غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں کمٹمنٹس فلسطینیوں کو بسانے کے لیے ہوئی ہیں، ان شاء اللہ غزہ پھر آباد ہوگا وہاں فلسطینی آباد ہوں گے۔

  • ایل او سی پر بھارتی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی

    ایل او سی پر بھارتی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی

    لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نوگام،منڈل سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد پاک بھارت افواج کے درمیان شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آج بھارتی فوج نے بلااشتعال مارٹر گولوں سے فائرنگ کا آغاز کیا، جس کا پاک فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے منڈل سیکٹر میں متعدد بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ کمار ٹاپ پوسٹ کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی جواب کے بعد بھارتی توپیں خاموش ہو گئیں اور دوسری جانب جانی نقصان کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم بھارتی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    عسکری ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے واضح کیا ہے کہ بھارتی فوج کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں شہری آبادی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    دفاعی مبصرین کے مطابق ایل او سی پر کشیدگی میں حالیہ اضافہ خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عموماً اس وقت سامنے آتے ہیں جب مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہو رہی ہو۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان اشتعال انگیزیوں کا مقصدمقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے توجہ ہٹانا ہے۔

  • گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے  پولو گراؤنڈ میں 300 عارضی دکانوں کا قیام

    گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے پولو گراؤنڈ میں 300 عارضی دکانوں کا قیام

    سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کی بحالی کے لیے کے ایم سی نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پولو گراؤنڈ میں 300 عارضی دکانوں کا انتظام مکمل کرلیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد آتشزدگی سے متاثرہ سینکڑوں تاجروں کو دوبارہ روزگار کی فراہمی میں مدد دینا ہے تاکہ وہ معاشی سرگرمیاں بحال کر سکیں۔

    کے ایم سی حکام کے مطابق پولو گراؤنڈ میں باقاعدہ ٹینٹ لگا کر عارضی مارکیٹ قائم کی گئی ہے، جہاں ہر دکاندار کو باقاعدہ جگہ مختص کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عارضی دکانوں میں بجلی کی فراہمی کے ایم سی کی جانب سے یقینی بنائی جائے گی، جبکہ دکانداروں اور خریداروں کی سہولت کے لیے پینے کے صاف پانی اور بیت الخلا کا بھی مناسب بندوبست کیا گیا ہے۔سیکیورٹی کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ عارضی مارکیٹ کی حفاظت کے لیے 50 سٹی وارڈنز تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور تاجروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ شہر کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی تھی۔ اس افسوسناک سانحے میں 86 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو گئی تھیں، جس کے باعث سینکڑوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا۔شہری حلقوں اور تاجر برادری نے کے ایم سی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی مستقل بحالی اور مالی معاونت کے لیے بھی جامع پالیسی مرتب کی جائے، تاکہ وہ طویل المدتی بنیادوں پر اپنے کاروبار کو دوبارہ مستحکم کر سکیں۔

  • گوجرخان،اندھیر نگری ،مارکیٹ کمیٹی آڑھتیوں کی بی ٹیم بن گئی

    گوجرخان،اندھیر نگری ،مارکیٹ کمیٹی آڑھتیوں کی بی ٹیم بن گئی

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان انتظامیہ لاپرواہی اور غفلت کے سبب مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ ملی بھگت نے غریب پھل فروشوں اور ریڑھی بانوں کا جینا محال کر دیا۔ چھوٹے دکاندار پھٹ پڑے، انتظامیہ کے دوغلے معیار اور آڑھتیوں کی پشت پناہی کے خلاف احتجاجی محاذ کھول دیا۔

    مظاہرین کا الزام ہے کہ مارکیٹ کمیٹی کے افسران دفاتر میں بیٹھ کر خواب گاہوں میں نرخ نامے تیار کرتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔منڈی میں بولی کا عمل محض ایک ڈرامہ بن چکا ہے جہاں نہ انتظامیہ اور نہ ہی کوئی سرکاری نمائندہ موجود ہوتا ہے، اور آڑھتی اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے چھوٹے دکانداروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ اگر ان لوگوں نے منڈی میں نہیں آنا ہوتا تو یہ لاکھوں روپے کس چیز تنخواہیں لیتے ہیں، عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ کون سی ان دیکھی قوت ہے جو مارکیٹ کمیٹی کے کرپٹ اہلکاروں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے؟ منڈی میں بولی کے وقت افسران کی پراسرار گمشدگی ثابت کرتی ہے کہ دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ غریب مزدور کو قربانی کا بکرا بنا کر بڑے مگرمچھوں کو کس کی ایما پر کھلا چھوڑا گیا ہے؟ کیا انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو اس کھلی لوٹ مار کا علم نہیں، یا پھر خاموشی کی قیمت وصول کی جا رہی ہے؟ انتظامیہ کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ 20 روپے والا سرکاری نرخ نامہ سرعام 30 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں نے پوچھا ہے کہ روزانہ شہر کے سینکڑوں دکانداروں سمیت تحصیل بھر کے دکانداروں سے وصول کی جانے والی یہ زائد رقم کس افسر کی تجوری میں جا رہی ہے؟ کیا یہ اوپر کی کمائی نچلے عملے تک محدود ہے یا اس کا حصہ اوپر بیٹھے صاحبانِ اقتدار تک بھی پہنچتا ہے؟ ریٹ لسٹ کے نام پر یہ اضافی وصولی کسی بھتے سے کم نہیں۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں منڈی سے چیزیں مہنگی ملتی ہے لیکن لسٹ میں ریٹ کم لکھ کر ہمیں عوام سے لڑوایا جاتا ہے۔ دکانیں سیل کرنا اور جرمانے کرنا صرف چھوٹے طبقے کے لیے رہ گیا ہے، جبکہ منڈی کے ڈون افسران کی ناک کے نیچے قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوجرخان کے اس مافیا راج کا نوٹس لیں اور ان افسران کا محاسبہ کریں جو غریب کا خون نچوڑ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔

  • دس سال کا کام   دس ماہ میں نہیں ہو سکتا،مصطفیٰ کمال

    دس سال کا کام دس ماہ میں نہیں ہو سکتا،مصطفیٰ کمال

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس مہش کمار میلانی کی زیر صدات ہوا

    ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے وزارت صحت کی پیش کردہ ایڈز سے متاثرہ افراد کی رپورٹ پر اظہار ناراضگی کیا، اور کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے یہ رپورٹ اگر عالمی اداروں کو دی جاتی تو ہمارے منہ پر ماری جاتی ،ملک بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں مین اضافہ ہو رہا ہے. سینکڑوں اہسے مریض ہیں جن کا اس رپورٹ میں ذکر تک موجود نہیں ،کے پی میں 2025 میں چالیس ہزار مریض تھے ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا ،یہ رپورٹ اگر باہر جاتی ہے تو ہماری سبکی ہو گی،2025 میں اسلام آباد میں 300 کیس رپورٹ ہوئے ہین جن کا ذکر تک موجود نہیں ،بلوچستان کا ذکر تک موجود نہیں ،7 ہزار سے 8 ہزار صرف بلوچستان میں مریض موجود ہیں،81 ہزار مریض دکھائے گِے ہیں اس رپورٹ میں ،پولی کلینک کے ایم سی ایچ سینٹر میں ایچ آئی وی سینٹر بنایا گیا ہے،آئی ایچ آر اے سے رپورٹ مانگی گئی تھی. غیر قانونی ابارشن 60 فیصد تک ہو رہے ہیں.آئی ایچ آر اے نے سابقہ رپورٹس دے دی ہیں جو ہم رٹ چکے ہیں

    وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ دس سال کا کام دس ماہ میں نہیں ہو سکتا،یہ ساری آوازیں ابھی اٹھنی ہیں،مفروضے کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کے تین لاکھ مریض ہیں ،گلوبل فنڈ 25 فیصد فنڈ گورنمنٹ کو 75 فیصد فنڈ این جی اوز کو دیا جا رہا ہے ،ابھی آپ کو کیسز اور زیادہ ملیں گے،90 فیصد لوگ میڈیکل وجوہات پر ڈی پورٹ ہو رہے ہیں ،بارڈر ہیلتھ سروسز. ڈی پورٹ ہونے والوں کی سکریننگ ہو گی ،سندھ میں ایک ہی جگہ پر بچوں میں مرض پایا گیا غلط سرنجز لگائی گئیں،

    ڈی جی ہیلتھ کی بریفنگ پر وفاقی وزیر صحت نے ڈی جی کو ڈانٹ پلا دی ،کہا کہ آپ سے جو پوچھا جا رہا ہے وہ بتائیں ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں ،صرف اسلام آباد کا ڈیٹا دیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے کہا تھا کہ جو سیٹیں خالی ہیں وہ لازمی پر کریں گے، رجسٹرار پی ایم اینڈ ڈی سی نے کہا کہ ہم نے اس تاریخ کو 31 مارچ تک بڑھا دیا ہے،امید ہے سیٹیں پر ہو جائیں گی ،وزیرصحت سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ نرسنگ کونسل کا اتنا بڑا مافیاہے، ملک کا تماشاہے، کتنا بڑا سٹیک ہے معتبر نام انگلی پکڑ کر چلتے ہیں، عدالت نے بغیر سنے حکم امتناع دیا ہے ،ہم نے سارے طریقہ کار ڈھونڈ رہے ہیں، اس پر ان کیمرہ سیشن کریں گے، ممبران کمیٹی نے کہا کہ ایکٹ میں تجویز دینا چاہتے ہیں،نرسنگ کونسل پر ان کیمرہ سیشن رکھتے ہیں، مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مجھ سے قبل 21 ارب روپے بجٹ تھا.جب مجھے وزارت ملی تو ہمیں صرف 14 ارب روپے بجٹ میں دئیے گئے ،کوئی نئی سکیم گزشتہ سال پاس نہیں کی گئی. تین ہفتے قبل تین ارب روپے کی سکیمیں مںظور کی گئی ہیں