Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس، فحاشی   کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل واپس

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس، فحاشی کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل واپس

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں فحاشی اور بےحیائی کی روک تھام کے ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، اس موقع پر رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نے بل کمیٹی میں پیش کیا،دوران اجلاس وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ اس حوالے سے پہلے سے اتھارٹی اور قانون موجود ہیں، ان کومزید مضبوط کر لیتے ہیں، پہلے یہ شکایت تھی کہ ایکس پر پابندی تھی، عالمی کمپنیوں کے وفد پاکستان آتے ہیں اور لوکل قانون پر عملدرآمد پر بات ہوتی ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ اگر عالمی سوشل میڈیاکمپنیز کے دفتر نہیں تو ریگولیشنز پر عملدرآمد نہیں ہوتا،

    اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے این سی سی آئی اے نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، این سی سی آئی اےاپنی کارکردگی اور درست طریقے سے قوانین پر عملدرآمد کریں، ساتھ ہی ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد بھی کریں،کمیٹی ممبر علی قاسم گیلانی نے کہا کہ یوٹیوبر سعد الرحمان کی ویڈیو این سی سی آئی اےکے خلاف ہم سب نے دیکھی،بعد ازاں رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نےفحاشی اوربےحیائی کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 واپس لے لیا۔

    ایکس کو بند کرنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں پہنچ گیا،رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے کہا کہ ایکس کو پاکستان میں بند ہونا چاہیے، ان کا یہاں کوئی دفتر نہیں اور قوانین کو فالو نہیں کرتے۔ ایکس پر پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے خلاف کمپین ہوتی ہے۔ ایکس کو اس بارے لکھا گیا لیکن کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا،

    ڈیجیٹل میڈیا پر فحاشی و عریانی کی امتناع 2025” نامی بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے ایوان میں پیش کیا تھا، اس بل کا مقصد سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کی روک تھام کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک تیار کرنا ہے،”ڈیجیٹل میڈیا پر فحاشی و عریانی کی امتناع 2025” نامی یہ بل پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اقدار کو تحفظ دینے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پھیلنے والے غیر اخلاقی مواد کو کنٹرول کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ شاہدہ رحمانی نے ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں مواصلات اور معلومات کے تبادلے کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے فحاشی، عریانی، اور غیر اخلاقی مواد کے پھیلاؤ کو بھی ہوا دی ہے، جو خاص طور پر نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے،اس بل کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کی نشر و اشاعت کو روکنا، اس کی نگرانی کے لیے ایک موثر نظام قائم کرنا، اور اس طرح کے مواد کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس، اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع پر مواد کی سخت جانچ پڑتال کی جائے، اور غیر قانونی یا غیر اخلاقی مواد کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

    پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور 2025 تک ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ایکس، ٹک ٹاک، یوٹیوب، اور دیگر پلیٹ فارمز پر غیر اخلاقی مواد کی موجودگی نے والدین، اساتذہ، اور معاشرتی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حالیہ برسوں میں، کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد نے معاشرتی اقدار کو چیلنج کیا اور خاص طور پر نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب کیے،اس سے قبل، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے غیر اخلاقی مواد کو ہٹانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، لیکن ان کی کامیابی محدود رہی ہے کیونکہ کوئی جامع قانونی فریم ورک موجود نہیں تھا۔ یہ نیا بل اس خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنے مواد کی نگرانی کے لیے ذمہ دار بنایا جائے گا، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

  • سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو چل بسے

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو چل بسے

    سابق وزیر اعلی پنجاب ،پیپلز پارٹی کے رہنما میاں منظور احمد وٹو وفات پا گئے ہیں
    سابق وزیر اعلی پنجاب منظور احمد وٹو طویل علالت کے بعد وفات پا گئے انہیں حویلی لکھا سے لاہور ہسپتال لایا جا رہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے انکی نماز جنازہ کل انکے آبائی علاقے حویلی لکھا میں صبح 10 بجے ادا کی جائے گی،

    میاں منظور احمد وٹو کی وفات پر سیاسی رہنماؤں نے اظہار افسوس کیا ہے اور لواحقین کے لئے صبرجمیل کی دعا کی ہے،صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سینئر سیاستدان میاں منظور احمد وٹو کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ،کہامیاں منظور احمد وٹو نے بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی، وزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر اور مختلف اہم سیاسی ذمہ داریوں میں عوامی خدمت اور قومی ترقی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں،مرحوم نے بطور ایک سینئر سیاستدان جمہوری اداروں کے استحکام اور علاقائی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا،مرحوم کی دانائی، قیادت اور قومی یکجہتی کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،صدرِ مملکت نے دعا کی کہ الّلہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نےسابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے میاں منظور وٹو مرحوم کی سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا، وزیراعلیٰ کی جانب سے مرحوم کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میاں منظور وٹو مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، اہلِ خانہ اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی.

    سینئر سیاسی رہنما میاں منظور احمد وٹو کے انتقال پر وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا گہرے رنج و دکھ کا اظہار،وفاقی وزیر نے مرحوم کی عوامی خدمات، جمہوریت کے استحکام میں کردار اور پارلیمانی روایات کے فروغ میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

    سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین سید نیر حسین بخآری نےسینیر سیاستدان سابق وزیراعلی پنجاب میاں منظور احمد وٹو کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرحوم منظور وٹو نے بطور اسپیکر و وزیراعلی پنجاب وفاقی وزیر گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔میاں منظور وٹو مرحوم وضعدار شخصیت تھے۔

    میاں منظور وٹو اوکاڑہ کے وٹو خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وٹو خاندان اوکاڑہ میں معاشی اور سیاسی لحاظ سے کافی مضبوط ہے۔ اس کے دیگر افراد میں سابق وزیر خزانہ میاں یسین خان مرحوم، میاں معین وٹو ایم این اے 144 اور میاں خرم جہانگیر شامل ہیں۔ میاں منظور وٹو پاکستانی سیاست میں بڑا نام ہیں وہ متعدد عہدوں پر فائز رہے جس میں وزیر اعلیٰٰ پنجاب ، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وفاقی وزیر امور کشمیر رہے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں میاں معین وٹو سے شکست کھائی۔میاں منظور احمد خان وٹو نے سیاسی کیرئر کا آغاز آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر کیا اس سے پہلے 1977ء میں ذو الفقار علی بھٹو نے ان کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا مگر بعد ازاں یہ ٹکٹ ان سے واپس لے کر غلام محمد مانیکا کو دیدیا گیاجس پر میاں منظور احمد وٹو نے آزاد حیثیت سے یہ الیکشن لڑا اور ہار گئے۔

    اس کے بعد میاں منظور احمدوٹو ائر مارشل اصغرخان کی تحریک استقلال میں شامل ہو گئے۔ 1982ء میں ہونیوالے غیر جماعتی انتخابات میں میاں صاحب جیت کر ممبر ضلع کونسل بن گئے ان دنوں ساہیوال ضلع تھا مگر ان کے ارکان ضلع کونسل بننے کے ایک سال بعد 1983 میں اوکاڑہ کو بھی ضلع کی حیثیت مل گئی اور اس کیساتھ ہی میاں منظور احمد وٹو چیئرمین ضلع کونسل بھی بن گئے۔اس کے بعد 1985ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتنے کے بعد منظور احمدوٹو ایم پی اے بن گئے یوں اس وقت ان کے پاس ضلع کونسل کی چیئرمینی بھی تھی اور ممبر صوبائی اسمبلی بھی تھے اور یہی نہیں اسی برس میاں منظور احمدوٹو سپییکرصوبائی اسمبلی بھی بن گئے جس پر انھوں نے ضلع کونسل کی چیئرمین شپ چھوڑ دی اور انہی کے بھائی میاں احمد شجاع چیئرمین ضلع کونسل بن گئے۔اس کے بعد 1988ء میں بھی میاں منظور وٹو پر قسمت مہربان ہوئی اور وہ پہلے ایم پی اے بنے اور پھر سپیکر بنجاب اسمبلی بھی بن گئے۔1990ء کے انتخابات میں وٹو صاحب ایم این اے بھی بن گئے اور حویلی لکھا سے ایم پی اے بھی بن گئے۔ تاہم انھوں نے پارٹی کے کہنے پر ایم این اے کی سیٹ چھوڑ دی جس پر راؤ قیصر ایم این اے منتخب ہو گئے اور خود ایم پی اے کی بنا پر تیسری مرتبہ پھر سپیکر پنجاب اسمبلی بن گئے۔

    ابھی انہی کی حکومت تھی کہ 1993ء میں وزیر اعلیٰٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروا کر میاں منظور احمدوٹو خود وزیر اعلیٰٰ پنجاب بن گئے تو اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں اس طرح منظور احمد وٹو کی وزارت اعلیٰ بھی ختم ہو گئی۔مگر اس اقدام پر غلام حید روائیں سپریم کورٹ چلے گئے جس پر سپریم کورٹ نے اسمبلیاں بحال کر دیں اس طرح میاں منظور احمد وٹو ایک بار پھر وزیر اعلیٰٰ کی مسند پر براجمان ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    اس کے بعد 1993ء کے انتخابات میں میاں منظور احمد وٹو نے تاندلیانوالہ سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی نے یہاں بھی ان کے قدم چومے بعد ازاں ان کی جونیجو لیگ نے پیپلز پارٹی کیساتھ الحاق کر لیا اور پیپلز پارٹی نے ان کو پنجاب کا وزیر اعلیٰٰ بنا دیا۔ اور ڈھائی سال تک اس کے وزیر اعلیٰٰ رہے اس کے بعد مرکز اور صوبے کی لڑائی میں ان کی وزارت اعلیٰ جاتی رہی اور بینظیر بھٹو نے سردار عارف نکئی کو وزیر اعلیٰٰ بنا دیا مگر صرف چھ ماہ بعد ہی فاروق لغاری نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔

    1995ء میں میاں منظور احمدوٹو نے مسلم لیگ (جناح)کے نام سے اپنی پارٹی بنالی تاہم 1997ء کے الیکشن میں جیت نہ سکے بلکہ اس عرصے میں نیب نے ان کے خلاف شکنجہ کسا اور پانچ سال تک کرپشن الزامات میں جیل میں رہے۔ تاہم اس کے باوجود ان کے بیٹے میاں معظم وٹو نے ایم پی اے کی سیٹ پر الیکشن جیت لیا اور 2001ء کے لوکل باڈی الیکشن میں جب کہ منظور وٹو جیل میں تھے مگر ان کا بیٹا میاں خرم جہانگیر وٹو تحصیل ناظم منتخب ہو گیا۔2002ء میں میاں منظور وٹو جیل سے باہر آگئے اور اس سال ہونیوالے عام انتخابات میں ان کی بیٹی روبینہ شاہین وٹو ایم این اے منتخب ہو گئیں۔

    2008ء کے انتخابات میں میاں منظور احمدخان وٹو دیپالپور اور حویلی لکھا دونوں جگہ سے ایم این اے منتخب ہو گئے جس پر این اے 146دیپالپور کی سیٹ انھوں نے اپنے پاس رکھی جبکہ حویلی کی سیٹ چھوڑ کر اپنے بیٹے خرم جہانگیر کو وہاں سے منتخب کروا دیا۔ اور اسی برس میاں منظور احمد وٹو پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے اور اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں میاں منظور وٹو کو انڈسٹری کی وزارت دے دی گئی جبکہ ان کے بیٹے میاں خرم جہانگیر وٹو پارلیمانی سیکرٹری بن گئے۔اسی دور میں جب سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ ختم کی تو نئے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے ان کو کشمیروبلتستان کا وزیر بنا دیا۔

  • باجوڑ،انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ،پولیس اہلکار سمیت دو شہید

    باجوڑ،انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ،پولیس اہلکار سمیت دو شہید

    باجوڑ کے تحصیل سالارزئی میں آج انسداد پولیو مہم کے دوران نامعلوم افراد نے پولیو ٹیم پر فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ سے پولیو مہم کے سیکورٹی پر تعینات ایک پولیس اہلکار سجاد اور ایک سویلین شخص شہید ہوگئے، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے باجوڑ میں پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی ہے،وزیراعظم نے پولیو ٹیم کے تحفظ پر مامور پولیس اہلکار کی شہادت اور ایک شہری کے زخمی ہونے پر گہرا افسوس ظاہر کیا،شہید کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی،وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی بھی دعا کی ،انہوں نے تخریب کاروں کی جلد از جلد شناخت اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے کہا کہ قوم کے لیے انسداد پولیو کی اہم خدمت سر انجام دینے والوں پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے،وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ملک سے پولیو کے خاتمے تک پولیو مہم پوری تحریک کے ساتھ جاری رہے گی

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ انتہائی قابلِ مذمت اور شرمناک ہے۔ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی شہادت پر دلِی دکھ اور افسوس ہے۔ ملک دشمن عناصر ہر طرح سے امن خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی فورسز سینہ سپر ہیں۔ اللہ تعالی شہداء کے درجات بلند اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایمان مزاری کیس میں شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایمان مزاری کیس میں شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا۔

    دوران سماعت جسٹس اعظم خان نے کہا کہ میرٹ پر جائے بغیر ٹرائل کورٹ کو شہادتیں 3 دن میں دوبارہ ریکارڈ کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں، سپریم کورٹ نے ہمیں درخواست پر جلد فیصلہ کرنے کا آرڈر کیا ہے،وکیل ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کو سن کر فیصلے کا کہا ہے،دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے تمام رکارڈ موجود ہے، فیصلہ کیا جا سکتا ہے،ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ کیا ہمیں ریکارڈ پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے؟،جسٹس اعظم خان نے کہا کہ ٹرائل میں استثنیٰ اسی لیے ہوتا ہے کہ ٹرائل متاثر نہ ہو، ایمان مزاری عدالت میں موجود نہیں تھیں تو کیا پلیڈر موجود تھا،عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کتنے وقت میں شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کروا لیں گے؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو شہادت ریکارڈ ہوئی ہے وہ قانونی ہے

    وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ میرٹ پر سننا ہے تو ہمیں وقت دیں، فیصل صدیقی دلائل دیں گے، جس پر جسٹس اعظم خان نے کہا کہ ہم پھر کیس کل کے لیے رکھ رہے ہیں، فیصل صدیقی سے کہیں آجائیں، ہم میرٹ پر نہیں جا رہے، شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا آرڈر کر رہے ہیں،عدالت نے ہدایت کی کہ دونوں فریقین کی رضامندی سے شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کی جائیں۔

  • سڈنی حملہ ، بھارت عالمی سطح پردہشتگردی کا مرکز قرار

    سڈنی حملہ ، بھارت عالمی سطح پردہشتگردی کا مرکز قرار

    سڈنی حملہ ، بھارت عالمی سطح پردہشتگردی کا مرکز قرار دے دیا گیا

    اقوام عالم اس بات کی شاہد ہیں کہ بھارت کس طرح منظم انداز میں بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے جو پاکستان کے موقف کی تائید ہے،پاکستان کا واضح موقف رہاہے کہ بھارت ریاستی سطح پرنہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان بلکہ کینیڈا ، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں بھی دہشتگردی پھیلا رہا ہے،سڈنی میں سفاکانہ حملہ بھارت کی عالمی سطح پرسپانسرڈدہشتگردی کا واضح ثبوت ہے،ریاستی سرپرستی میں بھارتی دہشتگردی کے حوالے سے عالمی جریدوں نے ہوشربا انکشافات میں مودی حکومت کی قلعی کھول دی،آسٹریلیا کے سیکیورٹی حکام اور ایجنسیز کا بھارتی بدنامِ زمانہ ایجنسی "را” سے رابطہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ "را” ایک منظم انداز سےاس حملے میں ملوث رہی ہے،عالمی جریدوں کے مطابق سڈنی کے حملہ آور ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کیا

    فلپائن امیگریشن حکام کے مطابق سڈنی فائرنگ کے واقعہ میں ملوث بھارتی شہریت کے حامل دہشتگرد باپ اور بیٹے نے حملہ سے کچھ عرصہ قبل فلپائن کا سفر کیا ،بھارتی نژاد 50 سالہ ساجد اکرم اور اس کا24 سالہ بیٹا نوید اکرم دونوں آسڑیلوی شہریت کے بھی حامل ہیں،بی بی سی کے مطابق ;فلپائن امیگریشن نے تصدیق کی ہے کہ سڈنی حملہ میں ملوث ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا ،بھارتی دہشتگردی یکم نومبرکو سڈنی سے فلپائن پہنچے جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج تھی ، ساجد اکرم اور نوید اکرم یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے

    عالمی معروف جریدہ آسڑیلوی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق سڈنی حملہ سے متعلق سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کی،بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے سڈنی دہشتگرد حملہ پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے،

    بھارتی وزارت خارجہ کی خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ سڈنی حملہ میں بھارتی نژاد دہشتگرد براہ راست ملوث ہیں،یاد رہے کہ سڈنی میں پیش آنے والے اس حملہ میں متعدد افراد ہلاک ہو ئے

  • سڈنی حملہ، بھارت کا مشکوک ،خطرناک سیکورٹی کردار،عالمی سوالات

    سڈنی حملہ، بھارت کا مشکوک ،خطرناک سیکورٹی کردار،عالمی سوالات

    سڈنی میں ہونے والی ماس کِلنگ نے ایک بار پھر بھارت کے مشکوک اور خطرناک سکیورٹی کردار پر عالمی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    حملے سے قبل ملزم کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں مبینہ عسکری تربیت حاصل کرنا، اور پھر بھارتی پاسپورٹ پر بین الاقوامی سفر کے انکشاف نے اس واقعے کو ایک منظم اور ٹرانس نیشنل سازش کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اسی سنگینی کے پیش نظر آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے باقاعدہ رپورٹ طلب کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شک کی سوئی اب براہِ راست نئی دہلی کی طرف جا رہی ہے۔ بھارت کا ریکارڈ اس حوالے سے پہلے ہی متنازع ہے چاہے وہ اپنے ملک میں فالس فلیگ آپریشنز ہوں یا کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ .. یہ سب ایک ایسے پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

    سڈنی حملہ محض ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ بھارت سے جڑے ایک خطرناک ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔ حملہ آور کا واردات سے پہلے فلپائن جانا، وہاں عسکری نوعیت کی تربیت لینا، اور بھارتی پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کسی منظم رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے وضاحت طلب کی۔ عالمی سطح پر بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور ٹرانس نیشنل کلنگز کے الزامات کی زد میں ہے، خاص طور پر کینیڈا میں سکھوں کے قتل کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے۔ سڈنی واقعہ انہی شبہات کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ بھارت بیرونِ ملک بیٹھ کر پرتشدد کارروائیوں کے لیے افراد کو تیار کرنے کی صلاحیت اور نیت رکھتا ہے۔

    سڈنی میں ہونے والی اجتماعی ہلاکتیں بھارت کے اس خفیہ سکیورٹی کھیل کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں جس میں تشدد کو سرحدوں سے باہر ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حملہ آور کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں مبینہ عسکری تربیت حاصل کرنا، اور پھر بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں تھا۔ اسی تناظر میں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے رپورٹ طلب کرنا ایک غیر معمولی سفارتی قدم ہے۔ بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، اور سڈنی حملہ اس پورے پیٹرن کو مزید واضح کر رہا ہے کہ تشدد کی تربیت اور رہنمائی کہاں سے آ رہی ہے۔

    سڈنی ماس کِلنگ نے بھارت کے سکیورٹی بیانیے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ حملے سے پہلے ملزم کا فلپائن جانا، مبینہ عسکری تربیت لینا، اور بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا ایسے حقائق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے براہِ راست رپورٹ طلب کی۔ بھارت کا ماضی اس حوالے سے پہلے ہی سوالیہ نشان ہے’ چاہے وہ اپنے ملک میں فالس فلیگ ڈرامے ہوں یا کینیڈا میں سکھوں کی ہلاکتیں۔ یہ تمام واقعات ایک ہی پیغام دیتے ہیں: بھارت نہ صرف اندرونِ ملک بیانیہ گھڑتا ہے بلکہ بیرونِ ملک تشدد کے نیٹ ورکس کو بھی خاموشی سے پروان چڑھاتا ہے۔

    سڈنی میں ہونے والا خونریز واقعہ بھارت کے ٹرانس نیشنل تشدد کے ماڈل کی ایک اور کڑی بن کر سامنے آیا ہے۔ حملہ آور کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں عسکری تربیت حاصل کرنا، اور بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کسی منظم سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے آسٹریلوی حکومت نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے وضاحت طلب کی۔ بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل جیسے الزامات کی زد میں ہے، اور سڈنی واقعہ ان خدشات کو عالمی سچائی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے کہ نئی دہلی بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد کے طریقے سکھانے اور استعمال کروانے میں ملوث رہی ہے۔

  • کتوں کے ذریعے خرگوش کے غیرقانونی شکار پر 19 افراد گرفتار

    کتوں کے ذریعے خرگوش کے غیرقانونی شکار پر 19 افراد گرفتار

    راولپنڈی کے نواحی علاقے چونترہ میں وائلڈ لائف حکام نے کارروائی کرتے ہوئے کتوں کے ذریعے خرگوش کے غیرقانونی شکار میں ملوث 19 افراد کو حراست میں لے لیا۔

    وائلڈ لائف حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی، جہاں ملزمان جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے شکار میں مصروف تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کی گئی اور قانون کے مطابق ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم ملزمان نے ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے سے انکار کر دیا، جس پر وائلڈ لائف حکام نے انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانہ چونترہ منتقل کیا۔

    ذرائع کے مطابق تھانہ چونترہ پولیس نے ملزمان کو باضابطہ حراست میں لینے سے انکار کر دیا اور معاملے میں چالان جاری کرنے کی سفارش کی۔ اس دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ملزمان نے احتجاج کرتے ہوئے پنجاب وائلڈ رینجرز کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا۔ گاڑی میں خواتین افسران بھی موجود تھیں، جس پر وائلڈ لائف حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔وائلڈ لائف حکام نے واضح کیا ہے کہ جنگلی حیات کا غیرقانونی شکار ناقابلِ ضمانت جرم ہے اور ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ میں تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • پاکستان مخالف پروپیگنڈا ، پیج 3 نیوز تھائی ، ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف

    پاکستان مخالف پروپیگنڈا ، پیج 3 نیوز تھائی ، ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کی بلوچستان میں شرانگیزی اور منظم سازش کا ایک مرتبہ پھر پردہ چاک ہو گیا

    انسانیت سے عاری مودی کی ایک اور گھناؤنی سازش، بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور فتنہ الہندوستان متحرک ہے،پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں ملوث پیج 3 نیوز تھائی کے نام سے چلنے والا ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے،جعلی شناخت کے ذریعے بھارتی اکاؤنٹ غدارِ وطن میر یار بلوچ کے نام پر بارہا پیغام رسانی میں ملوث پایا گیا ،بھارتی اکاؤنٹ سے مسلسل میر یار بلوچ کے نام پر من گھڑت دعوؤں، تاریخی تحریف اور بھارتی ایجنڈا کی تشہیر جاری ہے،جعلی اکاؤنٹ منظم سازش کے تحت بلوچ شناخت کو دہشتگردی کے فروغ کیلئے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے

    حال ہی میں بین الاقوامی سامعین کیلئے اس جعلی اکاؤنٹ سے بھارتی پروپیگنڈا پر مبنی ایک طویل پیغام سامنے آیا ،بھارتی اکاؤنٹ سے جاری کردہ پیغام دراصل RAW کے تیار کردہ بلوچستان مخالف پراپیگنڈا پر مبنی تھا ،تھائی سماجی ایپ ایکس کے مطابق اکاؤنٹ بھارت سے تھائی لینڈ VPN کے ذریعے آپریٹ کیا جا رہا ہے ،پاکستان مخالف پراپیگنڈا مہم اور شر پسند عناصر کی سرپرستی نے بھارتی مذموم عزائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا،بھارتی ایما پر بلوچستان میں جاری بدامنی اور دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد دنیا بھر کے سامنے عیاں ہو چکے ہیں

  • اے پی ایس کے بچوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا ،شیری رحمان

    اے پی ایس کے بچوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا ،شیری رحمان

    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی برسی پر پیغام میں کہا ہے کہ دلخراش واقعے کو گیارہ برس بیت گئے لیکن آج بھی ہمارے زخم تازہ ہیں ،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر کا دن ہمیں اُس سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے، جب معصوم جانوں کی شہادت نے پوری قوم کو غم میں مبتلا کیا، اس دن سفاک دُشمن نےہمارے دلوں پر کاری ضرب لگائی،علم دشمن دہشت گردوں نےسفاکی سے علم کی شمعوں کو بجھایا،بزدل شرپسند عناصر نے قوم کے مستقبل، نہتے کم سن بچوں پر حملہ کر کے انہیں شہید کیا،پرنسپل شہید طاہرہ قاضی اور نہتے اساتذہ طالب علموں کو بچانے کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹے رہے، قوم کی ہمدردیاں ان والدین کے ساتھ ہیں جن کے بچوں نے اس سانحے میں عظیم قربانی دی،سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور میں شہید ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،بچوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، دہشتگردوں اور پاکستان کے امن کے دشمنوں کو میرا واضح پیغام ہے وطن عزیز کی حفاظت کیلیے ہم ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار ہیں، ہم نہ تو شہدا کو بھولیں گے اور نہ ہی اس سانحہ کو، ہم دہشتگردی کے متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں آج کے دن پوری قوم شہدائے آرمی پبلک سکول پشاور کے درجات کی بلندی کیلئے دعا گو ہے،

  • سڈنی حملہ،بندوق چھیننے والے احمد کیلیے 9.5 ارب ڈالر  کا اعلان،وزیراعظم کی بھی ملاقات

    سڈنی حملہ،بندوق چھیننے والے احمد کیلیے 9.5 ارب ڈالر کا اعلان،وزیراعظم کی بھی ملاقات

    سڈنی کے معروف سیاحتی مقام بونڈی بیچ پر پیش آنے والے ہولناک فائرنگ واقعے کے دوران غیر معمولی جرات و بہادری کا مظاہرہ کرنے والے احمد الاحمد کے لیے عالمی سطح پر خراجِ تحسین کا سلسلہ جاری ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق معروف یہودی سرمایہ کاری بینکر بل ایکمین نے احمد اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک بڑے مالی انعام کا اعلان کر دیا ہے۔بل ایکمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ“کیا کوئی تصدیق شدہ فنڈ قائم کر سکتا ہے تاکہ اس بہادر شخص اور اس کی فیملی کو انعام دیا جا سکے؟”میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی اعلان کے تحت احمد الاحمد کے لیے 9.5 ارب ڈالر کے عطیہ پر مبنی فنڈ قائم کرنے کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ اس فنڈ ریزنگ مہم میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 لاکھ ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ سڈنی کے بونڈی بیچ پر دو مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ آسٹریلوی پولیس نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ دوسرے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس خونی واقعے کے دوران وہاں موجود 43 سالہ احمد الاحمد نے غیر معمولی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مسلح حملہ آور کو قابو میں کیا اور اس کے ہاتھ سے لمبی نال والی بندوق چھین لی، جس کے باعث متعدد قیمتی جانیں بچ گئیں۔ واقعے کی وائرل ہونے والی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد عقب سے حملہ آور کے قریب پہنچتے ہیں اور جان کی پروا کیے بغیر اسلحہ چھین لیتے ہیں۔احمد الاحمد کے والدین کے مطابق واقعے کے دوران ان کے بیٹے کے کندھے میں 4 سے 5 گولیاں لگیں، جن میں سے چند اب بھی جسم میں پیوست ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کے مطابق احمد کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور وہ زیرِ علاج ہیں۔

    آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے بونڈائی بیچ پر حملہ آور کو پکڑنے والے احمد الاحمد کی اسپتال میں عیادت کی۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ احمد پورے آسٹریلیا کے ہیرو ہیں، احمد اور ان کے والدین سے ملاقات کی، احمد ہماری شانداراقدار کی نمائندگی کرتے ہیں، دہشت گرد ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کامیاب نہیں ہونے دیں گے،میڈیا سے گفتگو میں آسٹریلوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشتگردی کی یہ کارروائی باپ بیٹے نے اکیلے کی، باپ مارا گیا اور بیٹا اس وقت کوما میں ہے، اس حملے میں کسی تیسرے ملزم کے ملوث ہونے کے تاحال کوئی شواہد نہیں ملے، اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ یہ افراد کسی منظم سیل کا حصہ تھے، تاہم حملے میں ملوث دونوں باپ بیٹا انتہا پسند نظریے سے متاثر تھے۔

    عالمی سطح پر احمد الاحمد کی اس بہادری کو سراہا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر انہیں ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ احمد کے بروقت اقدام نے ایک بڑے سانحے کو مزید تباہ کن ہونے سے بچا لیا۔