Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وسطی میکسیکو،چھوٹا طیارہ گرنے سے 7 افراد کی موت

    وسطی میکسیکو،چھوٹا طیارہ گرنے سے 7 افراد کی موت

    وسطی میکسیکو میں ایک افسوسناک فضائی حادثے کے نتیجے میں 7 افراد جان کی بازی ہار گئے، جب ایک چھوٹا نجی طیارہ ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔

    حکام کے مطابق یہ حادثہ سان ماتیو آٹینکو کے صنعتی علاقے میں پیش آیا، جو ٹولوکا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تقریباً 5 کلومیٹر جبکہ میکسیکو سٹی سے 50 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق بدقسمت طیارے نے بحرالکاہل کے ساحلی شہر آکاپولکو سے اڑان بھری تھی اور دورانِ پرواز کسی تکنیکی یا ہنگامی صورتحال کے باعث اسے فوری لینڈنگ کی ضرورت پیش آئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ ایک فٹ بال گراؤنڈ پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم لینڈنگ کے دوران اس کا توازن بگڑ گیا اور وہ قریب موجود ایک ویئر ہاؤس کی چھت سے ٹکرا گیا۔

    حادثے کے فوراً بعد طیارے میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ آگ کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ریسکیو اور فائر بریگیڈ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قریبی عمارتوں سے تقریباً 130 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔حکام کے مطابق نجی طیارے میں مجموعی طور پر 10 افراد سوار تھے، جن میں 8 مسافر اور عملے کے 2 ارکان شامل تھے۔ حادثے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دیگر افراد کے بارے میں طبی امداد اور حالت سے متعلق تفصیلات جاری کی جا رہی ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

  • سابق چیف جسٹس کو دھمکیاں،کالعدم تنظیم کے رہنما کو سزا

    سابق چیف جسٹس کو دھمکیاں،کالعدم تنظیم کے رہنما کو سزا

    سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیاں دینے سے متعلق مقدمے میں کالعدم ٹی ایل پی کے پیرظہیرالحسن شاہ کو سزا سنادی گئی۔

    لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ریٹائرڈ قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیاں دینے سے متعلق مقدمے کا ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنادیا،عدالت نے کالعدم ٹی ایل پی کے پیر ظہیر الحسن شاہ کو مختلف مقدمات کے تحت ساڑھے 35 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا،واضح رہے کہ مجرم کے خلاف 2024 میں دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • 38 کروڑ فنڈ ملا،کہاں‌تقسیم ہوا،کس کو ملا،کچھ پتہ نہیں،پی ٹی آئی جواب دے،شیرافضل مروت

    38 کروڑ فنڈ ملا،کہاں‌تقسیم ہوا،کس کو ملا،کچھ پتہ نہیں،پی ٹی آئی جواب دے،شیرافضل مروت

    تحریک انصاف کےسینئر رہنما، رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی فنڈ ریزنگ مہم پر سوال اٹھا دیئے اور جواب مانگ لیا

    ایکس پر ایک پوسٹ میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ فنڈ ریزنگ، ذمہ داری اور جواب دہی، ایک سنجیدہ سوال،26 نومبر کے المناک واقعے کے بعد بیرونِ ملک پاکستانیوں نے خلوصِ نیت اور انسانیت کے جذبے کے تحت تقریباً 38 کروڑ روپے عطیہ کیے۔ اس فنڈ کا مقصد اُن خاندانوں کی مدد تھا جنہوں نے اس سانحے میں اپنے پیارے کھوئے، یا جو شدید متاثر ہوئے۔تاہم، آج تک دستیاب معلومات اور ذاتی علم کی حد تک، ایسا کوئی مستند ریکارڈ یا مثال سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اس فنڈ سے متاثرہ خاندانوں کی براہِ راست مالی معاونت کی گئی ہو۔یہ ایک نہایت سنجیدہ سوال ہے جس کا جواب صرف بیانات سے نہیں بلکہ شفاف حقائق سے دیا جانا چاہیے۔اگر کوئی متاثرہ خاندان یہ تصدیق کر سکتا ہے کہ اسے اس فنڈ سے کوئی رقم، مدد یا سہولت فراہم کی گئی، تو وہ سامنے آ کر قوم کو آگاہ کرے،یہی شفافیت کا تقاضا ہے۔

    شیر افضل مروت کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ متاثرہ خاندانوں کی عملی مدد اب تک علی امین خان کی صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی، جس کے ریکارڈ اور طریقۂ کار سب کے سامنے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس عوامی عطیے کی رقم کہاں خرچ ہوئی، کیسے خرچ ہوئی، اور کن کے ذریعے خرچ ہوئی،اس بارے میں خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔یہ الزام نہیں، بلکہ جوابدہی کا مطالبہ ہے۔یہ سیاست نہیں، بلکہ امانت کا معاملہ ہے۔اور یہ اختلاف نہیں، بلکہ متاثرین کے حق کا سوال ہے۔بیرونِ ملک پاکستانیوں نے یہ رقم اعتماد کے ساتھ دی تھی،اب اسی اعتماد کا تقاضا ہے کہ فنڈز کی مکمل تفصیل سامنے لائی جائے،وصولی اور تقسیم کا آڈٹ کیا جائے،اور قوم کو بتایا جائے کہ 38 کروڑ روپے آخر گئے کہاں؟شفافیت اعتماد کو جنم دیتی ہے،

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،کوئٹہ سے 4خودکش گرفتار

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،کوئٹہ سے 4خودکش گرفتار

    بلوچستان و خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز نےدہشتگردوں کیخلاف آپریشن کیا ہے

    پولیس ذرائع کے مطابق گلبہار نمبر 2 پشاور میں ایک گھر میں گیس لیک ہونے کے باعث دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک کمسن بچی زخمی ہو گئیں۔ دھماکے سے گھر کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ رہائش گاہ پی ٹی آئی رہنما رضوان بنگش کی ہے۔ ریسکیو اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے دھماکے کی اصل وجہ جاننے اور علاقے میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ملک خیل قبیلے کے قبائلی بزرگ حاجی کاکے کو نامعلوم افراد نے بشرا علاقے کے قریب تشدد کا نشانہ بنا کر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ حکام کے مطابق مقتول گزشتہ دو دنوں سے لاپتہ تھے اور ان کی لاش دریائے کرم کے کنارے سے برآمد ہوئی۔ لاش کو تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ مقامی قبائلی عمائدین نے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور علاقے میں امن و امان بحال کرنے کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ ذمہ داروں کی نشاندہی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے ایپی گاؤں میں قائم سرکاری گرلز پرائمری اسکول کو بارودی مواد نصب کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ لال سلام کوٹ (لولی کوٹ) اسکول، جو دور دراز علاقے میں سیکڑوں بچیوں کو بنیادی تعلیم فراہم کر رہا تھا، رات کی تاریکی میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اسکول کی تباہی سے طالبات کی تعلیم اور مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ حکام اور مقامی افراد نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا خواندگی، صنفی مساوات اور مجموعی ترقی کے خلاف ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نقصان کا جائزہ لے رہی ہے اور متاثرہ طالبات کے لیے تعلیمی تسلسل یقینی بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ سول سوسائٹی اور حکام نے خصوصاً بچیوں کے اسکولوں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور بچوں کے تعلیم کے حق کے تحفظ کے لیے مشترکہ ردعمل پر زور دیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کلاچی کے عمومی علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید ہو گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 15 دسمبر کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جن میں بھارتی پراکسی گروہ فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں سات دہشت گرد مارے گئے۔ اس دوران 34 سالہ نائیک یاسر خان، سکنہ ضلع مردان، بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا جو علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن بھی شروع کیا گیا۔

    پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں کالعدم دہشت گرد تنظیم گل بہادر گروپ کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اس کے چار اہم کمانڈروں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت دانش عرف انصاف عرف سباون، ضیاء اللہ ولد سلامت خان، عطاالرحمان (دٹہ خیل) اور مولانا کوثر کے نام سے ہوئی۔ حکام کے مطابق یہ دہشت گرد شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر پر حالیہ حملے کی منصوبہ بندی میں براہِ راست ملوث تھے اور علاقے میں ٹارگٹ کلنگ، دہشت گرد نیٹ ورکس کی تنظیم، نئی بھرتیاں، پولیس چیک پوسٹوں پر حملے اور اغوا برائے تاوان جیسی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ ذرائع کے مطابق خود کالعدم تنظیم نے بھی اپنے کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اپنے ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ حکام نے کہا کہ یہ کارروائی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اعلیٰ سطح کے تعاون کا مظہر ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    بنوں کے نیم قبائلی جنیکھیل علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت کم از کم پانچ شہری زخمی ہو گئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال بنوں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے اسپتال کا دورہ کر کے زخمیوں کی عیادت اور اقدامات کا جائزہ لیا۔ پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرون کی نوعیت اور دھماکہ خیز مواد کے ماخذ کے تعین کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ فوری طور پر کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ بنوں اور ملحقہ اضلاع میں ڈرون اور کواڈ کاپٹر حملوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جن میں ماضی میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے ایسے حملوں کو کالعدم تنظیموں، بشمول ٹی ٹی پی کے دھڑوں (خوارج)، سے جوڑا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں منڈل پوسٹ پر دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے فائرنگ کی لیکن تعینات دستوں کے بروقت اور مؤثر جواب پر پسپا ہو گئے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق خضدار کی تحصیل وڈھ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر پر دستی بم پھینک دیا جس کے نتیجے میں 8 سالہ بچہ جاں بحق اور خواتین و بچوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔ حملہ سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کے گھر پر ہوا جو وڈھ میں مزدوری کرتے تھے۔ دھماکے میں بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی شواہد دہشت گرد عناصر کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ مقامی افراد نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان نے ضلع قلات کے خران علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزمان زین مرزا، عامر شاہ اور رحمت اللہ ہیں، جو خران میں ایس ایچ او محمد قاسم بلوچ کی شہادت سمیت متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران سرکاری اسلحہ، سب مشین گنز اور ایک گاڑی برآمد کی گئی۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چار خودکش بمباروں کو گرفتار کر لیا جو افغانستان سے نوشکی روٹ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا۔ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے سخت سیکیورٹی میں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اس کارروائی سے ایک بڑے دہشت گرد حملے کو ناکام بنایا گیا۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے علاقے سامی میں ناکہ بندی کے دوران بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پک اپ گاڑی (رجسٹریشن نمبر SPC-077) کو تلاشی کے لیے روکا گیا، جس سے 100 پستول، دو ایم فور رائفلیں، پستول کے 100 اضافی میگزین اور ایم فور کے دو اضافی میگزین برآمد ہوئے۔ کارروائی کے دوران گاڑی کا ڈرائیور اور اس کا ساتھی گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار افراد کی شناخت عارف اللہ ولد محمد خیراللہ خان اور عنایت اللہ ولد محمود علی خان (ساکنان ضلع بنوں) کے طور پر ہوئی ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • کراچی دودھ دینے والی گائے ہے، اسے چارہ تو کھلاؤ،مصطفیٰ کمال

    کراچی دودھ دینے والی گائے ہے، اسے چارہ تو کھلاؤ،مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ہمارے دور میں کراچی دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے 12 ممالک میں شامل ہوگیا تھا، آج شہر تباہ حال ہے، ہم اچھے نہیں مگر بروں میں کم برے ہیں،

    شہر قائد کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کو درست کرنے کا وقت آ چکا ہے کیونکہ اس شہر کی ترقی براہِ راست پاکستان کی معاشی مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے،چھ ماہ قبل وزارتِ صحت کی ذمہ داری سنبھالی اور انہیں متعدد انتظامی و پالیسی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم خدمتِ خلق ہی ان کی سیاست کا بنیادی مقصد رہا ہے۔ ماضی میں کیے گئے ترقیاتی منصوبے کسی دباؤ یا مطالبے کے نتیجے میں نہیں بلکہ شہری ضروریات کو مدنظر رکھ کر مکمل کیے گئے،کراچی دودھ دینے والی گائے ہے، اسے چارہ تو کھلاؤ، آپ کو معاشی بحران سے آئی ایم ایف نہیں کراچی نکال سکتا ہے، پاکستان کی 50 فیصد سے زیادہ برآمدات کراچی سے ہوتی ہیں، کراچی کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرتا۔

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے 90 فیصد علاقوں میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے، ہماری لائنوں کا پانی ہمیں ہی فروخت کر دیا جاتا ہے، کراچی کو ٹھیک کرنے سے کوئی انکار بھی نہیں کرتا، لیکن کراچی کب ٹھیک ہو گا یہ کوئی نہیں بتاتا،کراچی چلے گا تو پاکستان چلے گا، ہمیں نظام ٹھیک کرنا ہے اور نظام ملک کا آئین ہے، ترقی یافتہ ملکوں میں مقامی حکومتوں کا نظام ہے، ہمارے ہاں مقامی حکومتوں کا نظام فراڈ ہے،کوئی اپنے لیڈر کے خلاف نہیں جاتا، ہماری واحد پارٹی ہے جس نے اپنے لیڈر کو فارغ کیا،میرے پاس کام کرنے کے لیے 12 نہیں 24 گھنٹے ہیں۔ میں آج بھی اپنے افسروں کو سُلا کر سوتا ہوں ۔

  • دستاویزات پوری،پھر بھی مسافر آف لوڈ،وزیراعظم نے نوٹس لیا

    دستاویزات پوری،پھر بھی مسافر آف لوڈ،وزیراعظم نے نوٹس لیا

    مسافروں کو آف لوڈ کرنے اور لوگوں کو نقل مکانی میں درپیش مشکلات کا معاملہ،وزیراعظم نے مسافرین کو آف لوڈ کرنے اور نقل مقانی میں درپیش مشکلات کا نوٹس لے لیا

    اقوام متحدہ کے ادارے آئی او ایم کی جانب سے مہاجرین کے عالمی دن کے مناسبت سے تقریب ہوئی،وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خصوصی کمیٹی قائم کردی ہے،کسی بھی شہری کا محفوظ سفر کرنا ایک اہم معاملہ ہے،حالیہ دنوں میں دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود مسافروں کو آف لوڈ کیا جارہا ہے،ایسے لوگوں کو بھی آف لوڈ کیا گیا جن کے پاس قانونی ویزے تھے، وزیراعظم نے اس معاملے پر خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے،کمیٹی لوگوں کی محفوظ مائیگریشن کے حوالے سے سفارشات تیار کرے گی، کمیٹی کا اہم اجلاس اسی ہفتے ہوگا،جنوری کے آخری تک ہم ان مشکلات کے حل کے لئے تجاویز تیار کرلیں گے،محفوظ نقل مکانی سب کا بنیادی حق ہے اور کو محفوظ بنایا جائیگا،

  • چیئرمین این آئی آر سی جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی مستعفی

    چیئرمین این آئی آر سی جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی مستعفی

    چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے صدرِ مملکت کو باقاعدہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کا نوٹس بھجوا دیا ہے، جو سیکرٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے ذریعے ارسال کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفیٰ ذاتی نوعیت کی وجوہات کی بنیاد پر دیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے استعفیٰ کے بعد نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کی سربراہی کا عہدہ خالی ہو گیا ہے، جس کے لیے آئندہ دنوں میں نئی تقرری متوقع ہے۔

    جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی ایک تجربہ کار قانون دان اور عدالتی خدمات کا وسیع پس منظر رکھتے ہیں۔ ان کی بطور چیئرمین این آئی آر سی تعیناتی کے دوران کمیشن میں مختلف انتظامی اور عدالتی نوعیت کے معاملات نمٹائے گئے۔حکومتی حلقوں کے مطابق صدرِ مملکت کی منظوری کے بعد استعفیٰ پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس کے بعد نئے چیئرمین کی تقرری کے لیے قانونی عمل مکمل کیا جائے گا۔

  • سٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد مقرر

    سٹیٹ بینک کا نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد مقرر

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان ے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرحِ سود میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کر دی ہے، جس کے بعد پالیسی ریٹ کم ہو کر 10.50 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے۔

    مرکزی بینک کے اس فیصلے کا مقصد معیشت میں بہتری، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کو تقویت دینا بتایا جا رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی و عالمی معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات، مالیاتی نظم و ضبط اور زرمبادلہ کے ذخائر سمیت مختلف عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی رفتار میں نسبتاً کمی اور معاشی استحکام کے آثار دیکھنے میں آئے ہیں، جس کے باعث شرحِ سود میں نرمی کی گنجائش پیدا ہوئی۔مرکزی بینک کے مطابق شرحِ سود میں کمی سے صنعتی و تجارتی شعبے کو ریلیف ملے گا، قرضوں کی لاگت کم ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے بھی بینک قرضوں تک رسائی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے، جس سے مجموعی طلب میں بہتری کا امکان ہے۔

    ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ شرحِ سود میں کمی کا یہ فیصلہ معاشی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

  • وزیراعظم  کی بجلی کی ترسیل کار اور پیداواری کمپنیوں   کی نجکاری تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی بجلی کی ترسیل کار اور پیداواری کمپنیوں کی نجکاری تیز کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم کو پاور سیکٹر روڈمیپ پر پیشرفت کی بریفنگ دی گئی،وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں (DISCOs) اور پیداواری کمپنیوں (GENCOs) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ بجلی کے نظام کی نجکاری کے ذریعے ملک میں مسابقت پر مبنی بجلی کی مارکیٹ کی تشکیل ہی ملک میں توانائی کے مسائل کا پائیدار حل ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کی ترسیل کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعلقہ ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی،اور کہا کہ بجلی کے نظام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بیٹری اینرجی سٹوریج سسٹم پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجی شعبے کی شمولیت سے کام شروع کیا جائے،

    اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار، ترسیل، ڈسکوز اور جینکوز کی نجکاری اور پاور سیکٹر میں دیگر اصلاحات کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ تین ترسیل کار کمپنیوںIESCO، FESCO اور GEPCOکی نجکاری کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں اور اس حوالے سے ایکسپریشن آف انٹرسٹ (EoIs) جلد شائع ہوں گے، بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری کے لیے 500 کے وی کے غازی بروتھا – فیصل آباد ٹرانسمشن لائن کا پی سی ون منظوری کے مراحل میں ہے، درآمدی کوئلے پر چلنے والے پلانٹس کو تھر کول پر منتقل کرنے کے لیے ٹیکنیکل فیزیبیلیٹی مکمل ہو چکی، تھر کول کی پلانٹس تک منتقلی کے لیے ریلوے لائن پر کام جاری ہے، براجلاس میں مسابقت پر مبنی بجلی کی مارکیٹ کی آپریشنلائزیشن پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں لائن لاسز میں کمی ہوئی ہے،بیٹری اینرجی سٹوریج سسٹم کے منصوبے کی کنسییپٹ کلیئرنس پروپوزل کی منظوری ہو چکی ہے اور فیزیبیلیٹی سٹڈی جاری ہے، اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، سردار اویس احمد لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • سڈنی حملہ،بھارتی پروپیگنڈہ کی وجہ سامنے آ گئی،ملزم نوید اکرم بھارتی نکلا

    سڈنی حملہ،بھارتی پروپیگنڈہ کی وجہ سامنے آ گئی،ملزم نوید اکرم بھارتی نکلا

    سڈنی حملے کے ملزم نوید اکرم کے ایک ساتھی نے معروف آسٹریلوی چینل کے پروگرام کو انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ نوید اکرم کے والد بھارتی جبکہ والدہ اطالوی ہیں۔انٹرویو میں ساتھی نے ملزم کے خاندانی پس منظر سے متعلق یہ معلومات فراہم کیں، جس کے بعد معاملے پر مزید بحث شروع ہو گئی ہے۔

    آسٹریلیا کے مرکزی شہر سڈنی میں ہونے والے حملے کے معاملے میں پاکستان پر الزامات عائد کرنے والا بھارت خود کٹہرے میں آ چکا ہے،بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نوید اکرم کو پاکستانی کہتے رہے تا ہم تحقیقات اور سامنے آنے والی معلومات کے مطابق نوید اکرم کے بھارتی شہری ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد پاکستان مخالف منظم پروپیگنڈا پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں،سڈنی حملے کے فوراً بعد بھارت، اسرائیل اور ’را‘ کے میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی مہم شروع کی گئی، تاہم بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات اور اب نوید اکرم کے قریبی ساتھی کے بیان نے بھارت اس بیانیے کو کمزور کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نوید اکرم کے والد کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ ان کی والدہ اٹلی سے تعلق رکھتی ہیں، جس سے ان کے پاکستانی ہونے کے دعوے کی نفی ہو گئی ہے اور بھارت خود انصاف کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوا ہے۔سڈنی میں حملے میں ملوث بھارتی شہری نوید اکرم کے قریبی ساتھی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ نوید اکرم کا تعلق بھارت سے ہے، جبکہ اس حوالے سے ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے واقعے کے فوراً بعد بغیر ثبوت پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور حملے کے چند منٹ بعد ہی بھارتی خفیہ ایجنسی کو حملہ آور کے نام کا کیسے علم ہوا،

    پاکستان سے متعلق پھیلائے گئے الزامات کسی مستند تحقیق یا سرکاری تصدیق کے بغیر لگائے گئے، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی تاثر قائم کرنا تھا۔ تاہم جیسے جیسے حقائق سامنے آ رہے ہیں، یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ سڈنی حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش ایک منظم اور گمراہ کن پروپیگنڈا کا حصہ تھی اور یہ حملہ بھارت کا ایک اور فالس فلیگ لگتا ہے۔

    سفارتی اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ دہشتگردی جیسے حساس معاملات میں سیاسی مقاصد کے لیے غلط معلومات پھیلانا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔