Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ کابینہ اجلاس،عوامی آگاہی کیلیے دستاویزی فلمیں،ایک ارب روپے کی منظوری

    سندھ کابینہ اجلاس،عوامی آگاہی کیلیے دستاویزی فلمیں،ایک ارب روپے کی منظوری

    وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سی ایم ہاؤس میں کابینہ کا اجلاس ہوا
    کابینہ نے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی،وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات پڑھ کر سنائیں،وزیر اعلیٰ سندھ نے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بسیں خریدنے کی مد میں 964.407 ملین روپے کی منظوری دیدی،سندھ کابینہ نے عوامی آگاہی کے لیے دستاویزی فلمیں بنانے کے لیے ایک ارب روپے کی منظوری دیدی،کھیلوں خاص طور پر اسکواش چیمپئن شپ ایسوسی ایشن گولڈ کپ کے لیے 56 ملین روپے کی منظوری دی گئی،وزیر اعلیٰ سندھ نے ویٹرن کرکٹ ایسوسی ایشن ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے 50 ملین روپے کی منظوری دیدی،وزیراعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ ،کھیلوں کے لیے فنڈز پہلے سے موجود تھے جنہیں دوبارہ مختص (ری اپروپری ایٹ) کیا گیا،

    اسلام کوٹ کے علاقے پریم نگر میں خصوصی یتیم خانہ (ایس او ایس) قائم کرنے کے لیے 329 ملین روپے کی کابینہ نے منظوری دیدی،وزیر اعلیٰ سندھ نے گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج خانپور، ضلع شکارپور کے لیے 187.8 ملین روپے کی ایس این ای کی منظوری دیدی،وزیراعلیٰ سندھ نے ملیر میں واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 103.9 ملین روپے کی منظوری دیدی،وزیراعلیٰ سندھ نے کورنگی کازوے سے قبرستان اور پارک کے لیے ایک ریمپ تعمیر کرنے کے لیے 349.2 ملین روپے کی منظوری دیدی،وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ قبرستان اور پارک ریکلیم کی گئی اراضی پر قائم کیے جائیں گے،

    وزیراعلیٰ سندھ نے 10واں آدم کانفرنس اور ادب فیسٹیول کے لیے 7.5 ملین روپے کی منظوری دی دیدی،وزیراعلیٰ سندھ نے ایس ایم بی فاطمہ جناح گرلز سیکنڈری اسکول صدر کے لیے 94.7 ملین روپے کی منظوری دے دی،وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ایس ایم بی فاطمہ جناح گرلز سیکنڈری اسکول کو تمام ضروری اور کمی شدہ سہولیات فراہم کی جائیں گی، کابینہ نے سندھ اسمبلی میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا ریجنل کانفرنس کے انعقاد کے لیے 200 ملین روپے کی منظوری دے دی

    اسلام کوٹ تا چھوڑ اور بن قاسم سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ،تھر کول فیلڈ تا چھوڑ تک اور بن قاسم سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھانا سندھ اور وفاق کا مشترکہ منصوبہ ہے،منصوبے کے تحت اسلام کوٹ سے چھوڑ تک 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ بن قاسم تا پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر طویل ڈبل ٹریک ریلوے لائن تعمیر کی جا رہی ہے،اس ریلوے لائن کے ذریعے کوئلہ تھر سے کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں تک منتقل کیا جائے گا ،سندھ حکومت اور وزارت ریلوے کے درمیان پچاس پچاس فیصد کے اشتراک سے ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے،ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے کی مجموعی لاگت 90 ارب روپے ہے، سندھ کابینہ نے غور کرنے کے بعد ریلوے لائن منصوبے کے لیے 6.6 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی

  • بھارتی دفاعی برتری کے بیانیے کا پردہ چاک

    بھارتی دفاعی برتری کے بیانیے کا پردہ چاک

    عالمی تحقیقاتی رپورٹ نے بھارتی دفاعی برتری کے بیانیے کا پردہ چاک کر دیا۔ ایوی ایشن کے اہم جریدے ایرو کی رپورٹ نے بھارتی دعوؤں کا پول کھول دیا۔

    برطانوی جریدے ’کِی ایرومیگزین‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کی 52 منٹ فضائی جنگ میں بھارتی فضائیہ کے 4 رافیل لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، تباہ ہونے والے رافیل طیاروں کے نمبر BS001 ، BS021 ، BS022 اور BS027 تھے، بھارت ان چاروں طیاروں کے سیریل نمبرز کے ساتھ کوئی واضح تصاویر پیش کرنے میں ناکام رہا، پاکستان کے ملٹی ڈومین آپریشنز نے بھارتی فضائیہ کو مفلوج کیا اور بھارتی پائلٹس بے بس ثابت ہوئے، بھارتی فضائیہ کے مجموعی نقصانات میں 4 رافیل ، مگ 29، ایس یو 30 اور ہیرون ڈرون شامل ہیں۔ 10 مئی کو JF-17 بلاک-3 نے ادھم پور میں بھارتی دفاعی نظام S-400 کو ناکارہ بنا کر تباہ کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے برنالا میں واقع بھارتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر کے بھارتی فضائیہ کو ایک اور شدید دھچکا پہنچایا، یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی فضائیہ نے سائبر اور روایتی عسکری اقدامات کو یکجا کر کے مؤثر کارروائی کی۔

    واضح رہے کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں بھارتی طیاروں کی تباہی تسلیم کی تھی۔

  • سڈنی حملہ،24 زخمی تاحال زیر علاج،یادگاری مقام پر شہریوں کی آمد

    سڈنی حملہ،24 زخمی تاحال زیر علاج،یادگاری مقام پر شہریوں کی آمد

    سڈنی کے مشہور ساحلی علاقے بونڈی بیچ میں اتوار کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد 24 زخمی مریض اب بھی سڈنی کے مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

    نیو ساؤتھ ویلز (NSW) ہیلتھ کے ترجمان کے مطابق 16 مریض مستحکم حالت میں،5 مریض نازک مگر مستحکم حالت میں،3 مریض انتہائی نازک حالت میں ہیں،ترجمان نے بتایا کہ مریضوں کو بتدریج اسپتالوں سے ڈسچارج کیا جا رہا ہے، تاہم بعض افراد کو ابتدائی ڈسچارج کے بعد مزید علاج کے لیے دوبارہ اسپتال لایا گیا۔

    ادھر، حملے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی اور سوگ کے اظہار کے لیے سڈنی اور آسٹریلیا کے دیگر شہروں میں غیرمعمولی مناظر دیکھنے میں آئے۔ سڈنی میں بونڈی پویلین کے باہر قائم یادگاری مقام پر سینکڑوں افراد نے پھول رکھے اور شمعیں روشن کیں۔ مقامی رہائشی ایک دوسرے کو گلے لگاتے، دعا کرتے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے۔مقامی رہائشی سیم چپکن نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا،“میں واقعی اس سانحے کو قبول کرنے میں شدید مشکل محسوس کر رہا ہوں۔ ہمارے خاندان کو اپنے 9 اور 10 سالہ بچوں سے جو باتیں کرنی پڑیں، وہ ہمیں توڑ کر رکھ گئی ہیں۔ یہ ہمارے یہودی کمیونٹی کے لیے ایک افسوسناک دن ہے، بونڈی کمیونٹی کے لیے غم کا دن ہے اور پورے آسٹریلیا کے لیے دل دہلا دینے والا دن ہے۔”

    منگل کو آسٹریلیا میں اسرائیل کے سفیر امیر مائیمون نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور یہودی برادری کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا۔ سڈنی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا،“میرا دل ٹوٹ چکا ہے۔ میں ان لوگوں کو جانتا تھا اور ان سے ملا بھی تھا جو اس حملے میں مارے گئے۔”

    یہ حملہ تقریباً 30 برسوں میں آسٹریلیا کا بدترین دہشت گرد واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پیر کی شام ملک بھر میں جاں بحق افراد کی یاد میں دعائیہ تقریبات اور شمع بردار اجتماعات منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ لندن میں آسٹریلیا ہاؤس اور نیویارک کی یشیوا یونیورسٹی میں بھی سینکڑوں افراد نے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔حکام کے مطابق صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے نفسیاتی اور طبی امداد کا عمل جاری ہے۔

  • سڈنی حملہ،ملزمان کی گاڑی سے داعش کے جھنڈے برآمد

    سڈنی حملہ،ملزمان کی گاڑی سے داعش کے جھنڈے برآمد

    آسٹریلیا کی معروف تفریحی جگہ بانڈی بیچ پر اتوار کے روز ہونے والے ہولناک حملے سے متعلق پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ فائرنگ میں ملوث باپ بیٹا جوڑی مبینہ طور پر داعش (اسلامک اسٹیٹ) کے انتہا پسند نظریے سے متاثر تھی۔

    حکام کے مطابق دونوں نے حال ہی میں فلپائن کے اس خطے کا سفر کیا تھا جو طویل عرصے سے انتہا پسندی اور دہشت گرد سرگرمیوں کا گڑھ رہا ہے۔پولیس کے مطابق حملہ آور 50 سالہ ساجد اکرم پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا، جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ حراست ہے اور اس پر سنگین الزامات عائد کیے جانے کی توقع ہے۔آسٹریلوی کاؤنٹر ٹیررازم حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں فوجی طرز کی تربیت حاصل کی۔ سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی کے مطابق اس پہلو کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ نوید اکرم کے نام پر رجسٹرڈ ایک گاڑی سے داعش کے دو خود ساختہ جھنڈے اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ انتہا پسند داعش نظریے سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی سے ملنے والے جھنڈے اس بات کی علامت ہیں کہ اسلام کی ایک انتہا پسندانہ اور مسخ شدہ تشریح ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بظاہر دونوں افراد کسی وسیع نیٹ ورک یا سیل کا حصہ نہیں تھے، جس کے باعث وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے بچتے رہے۔ وزیر اعظم کے مطابق نوید اکرم کو 2019 میں آسٹریلوی سیکیورٹی انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ASIO) نے چھ ماہ تک جانچا تھا، کیونکہ اس کے تعلقات ایسے دو افراد سے تھے جو بعد ازاں جیل گئے۔ تاہم اس وقت تحقیقات میں انتہا پسندی کے شواہد نہیں ملے، جس کے بعد نگرانی ختم کر دی گئی۔ساجد اکرم کو بھی اسی تحقیق کے دوران پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس میں بھی انتہا پسندی کے کوئی آثار سامنے نہیں آئے۔

    نوید اکرم کو قرآن اور عربی کی تعلیم دینے والے ایک امام شیخ آدم اسماعیل نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ شخص جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کی تعلیمات کو سمجھے یا ان پر عمل کرے۔ ان کے مطابق اس واقعے میں بھی یہی دکھائی دیتا ہے۔

    پولیس کمشنر مال لینن کے مطابق دونوں کے گزشتہ ماہ فلپائن کے سفر کی تحقیقات جاری ہیں۔ فلپائن کے امیگریشن حکام نے تصدیق کی کہ ساجد اور نوید اکرم یکم نومبر 2025 کو فلپائن پہنچے، داواؤ (جزیرہ منڈاناؤ) کو آخری منزل بتایا اور 28 نومبر کو منیلا کے راستے روانہ ہوئے۔منڈاناؤ خطہ طویل عرصے سے دہشت گردی اور بدامنی کا شکار رہا ہے اور یہاں ابو سیاف اور ماوتے گروپ جیسے شدت پسند گروہ سرگرم رہے ہیں۔ آسٹریلوی سیکیورٹی ادارہ ASIO فلپائن کو اسلامک اسٹیٹ ایسٹ ایشیا (ISEA) کا اہم مرکز قرار دیتا ہے۔

    حکام کے مطابق دونوں ملزمان سڈنی کے مغربی علاقے بونی ریگ میں مقیم تھے۔ نوید اکرم پیشے کے اعتبار سے اینٹوں کا کام کرنے والا مزدور تھا، جبکہ ساجد اکرم فروٹ شاپ چلاتا تھا۔نوید آسٹریلیا میں پیدا ہوا، جبکہ ساجد اکرم 1998 میں طالب علم ویزے پر آیا اور بعد ازاں پارٹنر ویزا حاصل کیا۔ فلپائن امیگریشن کے مطابق ساجد اکرم بھارتی پاسپورٹ پر جبکہ نوید آسٹریلوی پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا۔پولیس نے ساجد اکرم کے نام پر رجسٹرڈ چھ آتشیں اسلحے قبضے میں لیے ہیں۔ ساجد کے پاس ریکریئیشنل ہنٹنگ کے لیے اسلحہ لائسنس تھا، جو 2023 میں جاری ہوا۔ یہ اسلحہ بونی ریگ کے گھر اور کیمپسی میں واقع ایک ایئر بی این بی سے برآمد ہوا، جہاں حملے سے قبل دونوں ٹھہرے تھے۔سی این این کی تصدیق شدہ ویڈیو فوٹیج کے مطابق نوید اکرم نے پیدل پل سے فائرنگ کرتے ہوئے بولٹ ایکشن رائفل کا مؤثر استعمال کیا اور محض چند سیکنڈ میں متعدد فائر کیے۔حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے

  • شہداء اے پی ایس کی قربانی پُرامن پاکستان کی راہ دکھاتی رہے گی،بلاول

    شہداء اے پی ایس کی قربانی پُرامن پاکستان کی راہ دکھاتی رہے گی،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سانحۂ آرمی پبلک سکول پشاور کو 11 سال مکمل ہونے کے موقع پر شہید ہونے والے معصوم طلبہ اور اساتذہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ایس کا سانحہ قوم کے ضمیر پر ایک ایسا زخم ہے جو کبھی مندمل نہیں ہو سکتا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ سانحۂ اے پی ایس ایک ایسا اجتماعی غم ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو نئی قوت بخشی۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر کی 16 تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دہشت گردی کا نہ کوئی مذہب ہے، نہ انسانیت سے کوئی تعلق اور نہ ہی اس کا کوئی جواز ہے، دہشت گردی کے خلاف ہمارا جواب ہمیشہ اتحاد، انصاف اور اپنے بچوں کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک میں امن، تعلیم اور قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم ہے اور سانحۂ اے پی ایس کے شہداء کے خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔،ہم ایک ایسے پاکستان کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے جہاں ہر بچہ بغیر خوف کے سیکھ سکے، آگے بڑھ سکے اور خواب دیکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اے پی ایس کے شہداء کو انتہائی عقیدت کے ساتھ سلام پیش کرتے ہیں اور سانحۂ اے پی ایس کے شہداء کی عظیم قربانی ہمیشہ ہمیں ایک محفوظ، مضبوط اور پُرامن پاکستان کی راہ دکھاتی رہے گی۔

  • سفاک مودی ،مفرور حسینہ واجدکاگٹھ جوڑ جبرو استبداد، آمریت ،سیاسی انتہا پسندی کی علامت

    سفاک مودی ،مفرور حسینہ واجدکاگٹھ جوڑ جبرو استبداد، آمریت ،سیاسی انتہا پسندی کی علامت

    سفاک مودی اورمفرور شیخ حسینہ واجدکاگٹھ جوڑ جبرو استبداد، آمریت اورسیاسی انتہا پسندی کی علامت بن گیا۔ بھارتی ایماء پر مفرور شیخ حسینہ واجد کی بنگلا دیش میں قتل وغارت اورسفاکانہ کارروائیاں جاری ہیں،

    معروف عالمی میڈیا انادولو ایجنسی کے مطابق بنگلادیشی سیاسی کارکن پر قاتلانہ حملے کے بعد بھارتی مداخلت کےپیشِ نظرڈھاکہ نے بھارتی سفیر طلب کر لیا۔ بنگلا دیشی وزارت خارجہ کے مطابق مفرور حسینہ واجدانتخابات کو متاثر کرنےکیلئے دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ بھارت مفرور شیخ حسینہ کو آئندہ انتخابات کو متاثر اور کمزور کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔انادولو ایجنسی کے مطابق مفرور حسینہ واجد نے سیاسی کارکن عثمان ہادی کے قتل کا منصوبہ بنگلا دیش میں آنے والےعام انتخابات سے پہلے بنایا ۔ اقوام متحدہ بتا چکا ہے کہ حسینہ واجد نے فرار ہونے سے قبل عوامی تحریک کے ہی 1400افراد کو قتل کیا تھا ۔بنگلا دیشی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت میں مفرور عوامی لیگ کے رہنما بنگلا دیش میں تشددبھڑکانے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ بھارت میں مقیم عوامی لیگ بنگلہ دیش میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کیلئے دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔

    انادولو ایجنسی کا کہنا ہے کہ بنگلادیشی وزارت خارجہ نے بھارت سےعثمان ہادی پر قاتلانہ حملہ میں ملوث افراد کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈھاکہ میں عوامی لیگ کے شدت پسند کارکن کی فائرنگ سےعثمان ہادی شدید زخمی ہیں۔ شریف عثمان ہادی پہلے ہی شیخ حسینہ کے مفرور حمایتیوں کی طرف سے درجنوں قتل کی دھمکیوں کا بتا چکے ہیں۔ عثمان ہادی کو بھارت کے فون نمبروں سے دھمکیاں دی گئیں۔بھارت امریکا ، کینیڈا اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشت گردانہ کارروائیوں، قتل کی سازشوں اور شر انگیز واقعات میں ملوث رہاہے۔ بھارت کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجرکو قتل کرچکا ہے جبکہ امریکہ میں گروپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش میں بھی پیش پیش رہا۔ غاصب بھارت بیرون ملک مداخلت، دہشت گردی ، انتشار اور فساد کو ہوا دے کر عالمی سطح پربدنامی کا طوق پہن چکاہے۔

  • سڈنی حملہ،ساجد اکرم کا بھارتی پاسپورٹ پر فلپان سفر کا انکشاف

    سڈنی حملہ،ساجد اکرم کا بھارتی پاسپورٹ پر فلپان سفر کا انکشاف

    بونڈی بیچ کے حملہ آور ساجد اکرم کے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فلپائن امیگریشن نے تصدیق کی ہے کہ آسٹریلیا میں بونڈی بیچ حملے میں ملوث ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا جب کہ حملہ آورکا بیٹا 24 سالہ نوید اکرم آسٹریلوی شہری کی حیثیت سے فلپائن گیا۔،رپورٹ کے مطابق دونوں یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج تھی جس کے بعد دونوں 28 نومبر کو فلپائن سے روانہ ہوئے، آسٹریلوی پولیس حملہ آوروں کے فلپائن کے سفر کا مقصد جاننے کے لیے تحقیقات کررہی ہے۔

    واضح رہے کہ 2 روز قبل آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل بونڈی بیچ پر 2 مسلح افراد نے شہریوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور40 زخمی ہوگئے تھے بعد ازاں پولیس کی جوابی کارروائی میں فائرنگ کرنے والا ایک شخص مارا گیا اور دوسرے حملہ آور کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔

    سڈنی واقعے کے بعد بھارت اور اسرائیل نے پاکستان کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی تاہم گمراہ کن پروپیگنڈا بری طرح فلاپ ہو گیا،حملہ آور نوید اکرم کے ساتھ کام کرنے والے شخص نے میڈیا کو بتایا کہ نوید کے والد ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے ہے اور ماں کا تعلق اٹلی سے ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں کمشنر لینیون کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ معلوم نہیں کہ ان دونوں کے فلپائن کے دورے کا مقصد کیا تھا تاہم اس بارے میں تفتیش جاری ہے۔

    اس سے قبل آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں حملہ آوروں بونڈائی ساحل پر حملے سے قبل عسکری تربیت حاصل کرنے کی غرض سے فلپائن گئے تھے۔

    ساجد اکرم کو اسلحہ لائسنس 2023 میں جاری کیا گیا تھا،نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مل لینیون کا کہنا تھا کہ گذشتہ معلومات کے برعکس، ساجد اکرم کو اسلحہ لائسنس 2015 میں نہیں بلکہ 2023 میں جاری کیا گیا تھا۔

    منگل کے روز آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز اور نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ساجد اکرم نے پہلی مرتبہ اکتوبر 2015 میں اسلحہ لائسنس کے لیے درخواست دی تھی جو کہ منظور بھی ہو گئی تھی تاہم ساجد کی جانب سے لائسنس کے لیے درکار تصویر جمع نہ کروانے پر ان کی درخواست 2016 میں مسترد کر دی گئی اور انھیں لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔

    کمشنر لینیون کا کہنا تھا کہ ساجد اکرم نے 2020 میں ایک بار پھر لائسنس کے لیے اپلائی کیا جو کہ انھیں 2023 میں جاری کیا گیا۔ان کے مطابق، ساجد اکرم کے پاس اے/بی لائسنس تھا اور ان کی تحویل سے جو ہتھیار ملے ہیں وہ اس ہی لائسنس پر رجسٹرڈ ہیں۔اس سے قبل پیر کے روز پولیس کمشنر نے بتایا تھا کہ ساجد اکرم کے پاس گذشتہ 10 برس سے اسلحے کے لائسنس تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ان کے پاس اسلحے کے چھ لائسنس تھے۔ ہم مطمئن ہیں کیونکہ ہمیں گذشتہ روز جائے وقوعہ سے چھ بندوقیں ملی ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ساجد اکرم اسلحے کے لائسنس حاصل کرنے کے اہل تھے اور اتنے برسوں تک کوئی واقعہ نہیں ہوا اور یہ کہ لائسنس دینے کا تمام عمل نگرانی میں کیا جاتا ہے۔پیر کے روز آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برک بونڈائی ساحل پر شناخت کیے جانے والے حملہ آوروں کے بارے میں معلومات دے رہے تھے جب ایک صحافی نے ان سے یہ سوال کیا۔اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس مرحلے پر نیو ساؤتھ ویلز پولیس اس تحقیقات کی سربراہی کر رہی ہے۔ مجھے اس موقع پر ویزا کی تاریخ پر بات کرنے کی اجازت ملی ہے، جو میں نے کیا ہے۔‘

  • جسٹس طارق جہانگیری کی تعیناتی غیرقانونی قرار دینے کی درخواست پر تحریری حکم جاری

    جسٹس طارق جہانگیری کی تعیناتی غیرقانونی قرار دینے کی درخواست پر تحریری حکم جاری

    جسٹس طارق جہانگیری کی تعیناتی غیرقانونی قرار دینے کی درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے میاں دائود ایڈووکیٹ کی درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جسٹس جہانگیری کے 2 اعتراضات مسترد کر دیئے،جسٹس جہانگیری کا سنگل بنچ کی بجائے دو رکنی بنچ کی تشکیل کی بابت اعتراض مسترد کر دیا گیا، تحریری حکم میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ کے ایک جج کی ڈگری کی بابت سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں،معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی اختیار کے تحت 2 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا، ویسے بھی بنچوں کی تشکیل چیف جسٹس ہائیکورٹ کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے،ایسے حساس معاملے پر موجودہ خصوصی بنچ کی تشکیل کوئی پہلی مثال نہیں ہے، جسٹس جہانگیری کا چیف جسٹس پر تعصب کے اعتراض کی بھی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے،جسٹس جہانگیری سمیت دیگر ججز کی چیف جسٹس کے تبادلے کیخلاف درخواست وفاقی آئینی عدالت سے مسترد ہو چکی ہے،جج پر تعصب کی بنیاد پر بنچ سے علیحدگی کے اصول پر اعلی عدلیہ کے متعدد فیصلے موجود ہیں، اعلی عدلیہ 1966 سے لیکر 2023 تک کے فیصلوں میں جج پر اعتراض کے اصول واضح کر چکی ہے، جسٹس جہانگیری کے چیف جسٹس پر اعتراض کی ایک بھی قانونی وجہ بیان نہیں کی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے جسٹس جہانگیری کو درخواست بمعہ ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے جسٹس جہانگیری کو یونیورسٹی کا جمع کرایا گیا مکمل جواب بمعہ ریکارڈ بھی دینے کا حکم بھی دیا،اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کو فریق بنانے کی استدعا مسترد کر دی گئی،تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل کو لازمی سنا جائیگا،

  • دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی،وزیراعظم

    دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے سانحۂ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور پر پیغام میں کہا ہے کہ آج ہم سانحۂ آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے وطنِ عزیز کے مستقبل کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ دلخراش سانحہ پوری قوم کے لیے ایک عظیم آزمائش تھا، جس نے ہمارے دلوں کو غم سے بھر دیا مگر ہمارے حوصلے پست نہ کر سکا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اے پی ایس کے معصوم بچوں، اساتذہ اور عملے کی قربانیاں ہمیشہ ہماری قومی یادداشت کا حصہ ہیں اور پاکستان کی سر زمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی اس سانحے کا حقیقی انصاف ہے . پوری قوم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ہم ان کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں۔آج، جب پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے ناسور کا سامنا کر رہا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو سانحۂ اے پی ایس ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ریاست، سیکیورٹی ادارے اور عوام متحد ہو کر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت پوری قوت کے ساتھ بھرپور کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے دی گئی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔اللہ تعالیٰ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کے تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

  • گھوٹکی،بس سے اغوا 19 میں سے 11 مسافر بازیاب

    گھوٹکی،بس سے اغوا 19 میں سے 11 مسافر بازیاب

    سندھ کے ضلع گھوٹکی میں گڈوکشمور روڈ پر بس سے اغوا کیے گئے 19 میں سے 11 مسافر بازیاب کرا لیے گئے۔

    ڈی ایس پی اوباڑو کا کہنا ہے کہ مغویوں کو سومیانی میں مقابلے کے بعد بازیاب کرایا گیا، مزید مغویوں کی بازیابی کے لیےعلاقے کی ناکہ بندی کردی گئی۔ پولیس اور رینجرز کی جانب سے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے، ڈرون کی مدد سے کارروائی کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ پیر کی شب گھوٹکی میں ڈاکوؤں نے 19 مسافروں کو اغوا کرلیا تھا۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے مرید شاخ کے قریب گڈو کشمور روڈ پر مسافر بس پر حملہ کیا اور مسافروں کو اغوا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بس میں خواتین سمیت 25 افراد سوار تھے، ڈاکو خواتین کو چھوڑ کر 19 مردوں کو اپنے ساتھ لےگئے۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں نے فائرنگ بھی کی جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ مسافر بس صادق آباد سے کوئٹہ جارہی تھی۔ مسافروں کے اغوا کے بعد پولیس اور رینجرز کو ڈاکوؤں کے تعاقب میں روانہ کیا گیا۔