Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نورین اسلم  کا بالی وڈ فلم ’دھریندر ‘ پر شدید غصے کا اظہار ،قانونی کاروائی کا ارادہ

    نورین اسلم کا بالی وڈ فلم ’دھریندر ‘ پر شدید غصے کا اظہار ،قانونی کاروائی کا ارادہ

    سندھ پولیس کے شہید پولیس افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بالی وڈ فلم ’دھریندر ‘ پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

    نورین اسلم نے چند روز قبل جیو ڈیجیٹل سے گفتگو کے دوران بالی و ڈ فلم ’دھریندر‘ کے ٹریلر میں چوہدری اسلم کے کردار اور رحمان ڈکیت سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی مبہم عکاسی پر بھی گفتگو کی۔اداکار نے فلم کی ریلیز سے قبل جاری کیے گئے ٹریلر میں نامناسب ڈائیلاگ پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’فلم کے ٹریلر میں کہا گیا کہ شیطان اور جن سے پیدا ہونے والے بچے کو چوہدری اسلم کہتے ہیں، میرے نزدیک اس جملے سے چوہدری کی والدہ کی کردار کشی ہوتی ہے، ہم مسلمان ہیں اور ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں، ہمارے یہاں شیطان اور جنوں سے عورتوں کے تعلقات نہیں بنتے، چوہدری کی والدہ پاکیزہ اور پردہ دار خاتون تھیں، اگر فلم میں چوہدری کے خلاف کوئی پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی تو ہم چوہدری کے حق دار ہیں، قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہوں، اداکار کبھی غلط نہیں ہوتا یہ رائٹر کا کمال ہے، بھارتی رائٹرز نے ہمیشہ پاکستان کو دہشتگرد ملک دکھایا ہے اور اُس وقت گرفتار کیے گئے بھارتی کرنل پر خاموشی اختیار کی جس نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چوہدری اسلم پر جوا کھیلا ہے، چوہدری ہیرو ہے یا وِلن یہ سب کا اپنا اپنا نظریہ ہے مجھے اس سے اختلاف نہیں لیکن چوہدری نے اپنی مٹی سے وفا کی ہے،

    دوسری جانب فلم میں رحمان ڈکیت کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی دہشتگرد تنظیم ہے، رحمان ڈکیت اتنا بڑا دہشتگرد نہیں تھا جتنا بڑا اسے دھریندر میں دکھایا گیا، چوہدری نے رحمان سے بڑے بڑے دہشتگردوں کا انکاؤنٹر کیا ہے،فلم دیکھنے پر پتا چلے گاکیا ٹی ٹی پی کا ترجمان سنجے دت کو کال کرتا ہے یا نہیں اور اگر کرتا ہے تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ کیونکہ چوہدری نے کیا کہا تھا وہ تو پوری دنیا جانتی ہے آج بھی وہ کلپ یوٹیوب پر موجود ہے،دنیا تسلیم کرتی ہے کہ چوہدری ایک دلیر شخصیت تھے،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،رجب بٹ کی راہداری ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ،رجب بٹ کی راہداری ضمانت منظور

    عدالت نے یوٹیوبر رجب بٹ کی دس دن کی راہداری ضمانت منظور کرلی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے اس کیس کی سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ کراچی میں بھی مقدمہ ہے، 15 روز کی راہداری ضمانت دیدیں۔ جس پر جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیئے دس دن کی راہداری ضمانت دے رہے ہیں، متعلقہ عدالت سے رجوع کر لیں۔ عدالت نے یوٹیوبر رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت میں 10 روز کی توسیع کرتے ہوئے کہا دس روز میں کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہوں، عدالت نے 10 دن کیلئے رجب بٹ کی گرفتاری سے روک دیا۔

    یاد رہے عدالت نے رجب بٹ کو بیرون ملک سے واپسی پر حفاظتی ضمانت دے رکھی تھی، دونوں ملزمان کے خلاف سائبر کرائم سمیت دیگر متعدد مقدمات درج ہیں۔

    رجب بٹ اور ندیم نانی والا حفاظتی ضمانت ملنے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس روانہ ہو گئے ،اس موقع پر صحافی نے کہا کہ بڑی بات ہے آپکی گاڑی کو ہائیکورٹ کے اندر آنے کی اجازت دی گئی، جس پر رجب بٹ نے کہا کہ میری گاڑی نہیں ہے، اِن کی گاڑی ہے، میں نے لفٹ لی ہے، مجھے ڈی پورٹ نہیں کیا گیا، ڈی پورٹ ہو کر انسان بزنس کلاس میں واپس نہیں آتا، میرا ویزہ کینسل ہوا ہے، فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے،

  • بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کی درخواست مسترد

    بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کی درخواست مسترد

    الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کوئٹہ میں بلدیاتی الیکشن کے التوا کی درخواست مسترد کر دی۔

    الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی الیکشن التوا کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخاب شیڈول کے مطابق ہوگا، بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 28 دسمبر کو ہو گی، بلوچستان حکومت آئین کے مطابق الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی معاونت کرے، تمام اداروں کی ہر ممکنہ معاونت کی جائے جنہیں کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری سونپی گئی، بلدیاتی الیکشن کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، ووٹرز، امیدواروں، عوام اور پولنگ عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، کوئٹہ ڈسٹرکٹ میں بلا تعطل پُرامن پولنگ کو یقینی بنایا جائے۔

    ممبر الیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سخت سردی کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہوگا، کوئٹہ میں لوگ سخت سردی کے باعث دوسرے اضلاع میں ہجرت کر جاتے ہیں، بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بلدیاتی انتخابات انعقاد کیلئے سازگار نہیں ہے، کوئٹہ کے الیکشن امن و امان اور موسم کی صورتحال نارمل ہونے تک ملتوی کئے جائیں۔

  • پاکستانی ایم ایم اے فائٹرز کی عالمی سطح پرجذبہ ، ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کی دھوم

    پاکستانی ایم ایم اے فائٹرز کی عالمی سطح پرجذبہ ، ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کی دھوم

    پاکستانی ایم ایم اے فائٹرز کی عالمی سطح پرجذبہ ، ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کی دھوم سامنے آ گئی

    پاکستان کے فائٹرز نے محنت اور لگن سے پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا ،لبنان میں جاری انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن کی ایشین چیمپئن شپ میں پاکستان کے فائٹرزکی تاریخی کامیابیاں سامنے آئی ہیں،پاکستانی فائٹر عبدالمنان شاندار فتوحات کے بعد جونئیر مین کیٹیگری کے فائنل میں پہنچ گئے ، لبنان میں 18 ممالک کے تقریباً 400 کھلاڑی اہم ترین مقابلوں میں حصہ لے رہےہیں ، لبنان میں آئی ایم ایم اےایف ایشین چیمپئن شپ4 دسمبر سے 10دسمبر 2025تک کھیلی جا رہی ہے ، پاکستان اپنی مہارت سے سابق عالمی چیمپیئنز کو شکست دے کر متعدد اہم مقابلے جیت چکی ہے ،گزشتہ سال لاہور میں قومی فائٹرز نے ایشین چیمپئن شپ میں 12 میڈلز کے ساتھ شاندار کارکردگی دکھائی تھی

  • پاک فوج کے جانباز اور جانثار سپوت ، سوار محمد حسین شہید (نشانِ حیدر) کا54واں یومِ شہادت

    پاک فوج کے جانباز اور جانثار سپوت ، سوار محمد حسین شہید (نشانِ حیدر) کا54واں یومِ شہادت

    سوار محمد حسین 18جنوری1949 کو ڈھوک پیر بخش، ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان میں پیدا ہوئے

    1971کی جنگ میں سوار محمد حسین نے بطور اسلحہ بردار ٹرک ڈرائیور شکر گڑھ سیکٹر میں نمایاں کردار ادا کیا،جنگ ایسے مرحلہ پر تھی جب ہر طرف آگ، بارود اور دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے تھے،ایک پرجوش جوان ہر قسم کے خطرات سے بے نیاز ہو کر اگلے مورچوں کے درمیان دوڑ دوڑ کر شجاعت کا نیا اورق رقم کر رہا تھا،سوار محمد حسین اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک مورچے سے دوسرے مورچے تک گولہ بارود پہنچاتے رہے،علاوہ ازیں آپ کئی بار لڑاکا گشت کی کارروائیوں میں بھی رضاکارانہ طور پر شامل ہوئے،7دسمبر کو ایسے ہی ایک لڑاکا گشت کے دوران سوار محمد حسین نے اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کو گدرپور گاؤں سے بھگایا ،آپ نےگجگال گاؤں کی جانب دشمن کی پیش قدمی سے متعلق اہم معلومات بھی اپنی یونٹ ہیڈ کوارٹر کو فراہم کیں

    9 دسمبر کو آپ نے انتہائی کامیابی سے دشمن کے ایک آرٹلری آبزرور کی نشاندہی کی اور اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا،10دسمبر کو بھی آپ نے ہندوستانی ٹینکوں کی نشاندہی اور ان پر فائر گرانے میں اہم کردار ادا کیا،آپ کی درست نشاندہی کے نتیجے میں ہندوستانی فوج کے 16ٹینک تباہ ہو گئے،10 دسمبر کو ہی جنگ کے دوران وطنِ عزیز کا یہ بہادرفرزند دشمن کے ٹینک پر نصب مشین گن فائر کی زد میں آکر شہید ہوگیا ،سوار محمد حسین شہیدکی جرات و شجاعت اور وطن سے بے لوث محبت کا جذبہ ہمیشہ زندہ و جاوید رہےگا

    سوار محمد حسین شہید (نشانِ حیدر)کے 54ویں یومِ شہادت کے موقع پر آج مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی سے ہوا جہاں علمائے کرام نے سوار محمد حسین شہید کے بلند درجات اور وطنِ عزیز کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔شہید کی خدمات اور قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے علمائے کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں اور ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔علمائے کرام کے مطابق شہداء کا خون پوری قوم پر قرض ہے اور جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ ذلیل و رسوا ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں اور ان کے احسانات کو کبھی نہیں بھولتیں۔علمائے کرام نے کہا کہ سوار محمد حسین شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا، جس نے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرکے بہادری، وفا اور حب الوطنی کی لازوال مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ شہید کا نام اور کردار ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

  • حقیقی آزادی مارچ کیسز میں علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری جاری

    حقیقی آزادی مارچ کیسز میں علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری جاری

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے حقیقی آزادی مارچ سے متعلق دو مختلف مقدمات میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے کی، جس دوران عدالت نے بتایا کہ ملزم علی امین گنڈاپور کو متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے، تاہم وہ بارہا طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری حکم نامے میں بھی اسی بات کی نشاندہی کی گئی ہے۔عدالت نے دونوں مقدمات کی کارروائی مزید پیش رفت کے لیے 5 جنوری تک ملتوی کر دی ہے، جبکہ پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ آئندہ سماعت پر ملزم کی عدالت میں حاضری یقینی بنائی جائے۔ علی امین گنڈاپور اور دیگر کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں حقیقی آزادی مارچ کے دوران امنِ عامہ میں خلل ڈالنے اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت دو مقدمات درج کیے گئے تھے۔

  • کراچی،گھر سے خواتین کی 3 لاشیں ملنے کا معمہ مزید پیچیدہ

    کراچی،گھر سے خواتین کی 3 لاشیں ملنے کا معمہ مزید پیچیدہ

    کراچی: شہرِ قائد کے علاقے گلشن اقبال کے ایک فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کے ہولناک واقعے کی تحقیقات میں نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ نہایت پیچیدہ نوعیت کا ہے اور تاحال خواتین کی موت کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔

    پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق گھر کے سربراہ محمد اقبال نے خود پولیس ہیلپ لائن پر اطلاع دی تھی کہ گھر میں گیس بھر جانے سے خواتین کی حالت خراب ہے۔ تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد اس ابتدائی مفروضے پر شکوک پیدا ہو گئے۔پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے دوران انکشاف ہوا کہ تین میں سے ایک خاتون کی لاش کم از کم دو روز پرانی تھی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خواتین کی موت ایک ہی وقت میں واقع نہیں ہوئی۔فلیٹ سے یاسین نامی نوجوان بھی نیم بے ہوشی کی حالت میں ملا جسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یاسین گھر کے سربراہ کا بیٹا ہے۔ اس سے جب پوچھ گچھ کی گئی تو وہ بیان دینے میں شدید تذبذب کا شکار رہا، جس کے باعث مزید شبہات پیدا ہوئے۔پولیس سرجن کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوجوان کے خون میں مشکوک عناصر پائے گئے جو خواتین کی موت سے مماثلت رکھتے ہیں اور یہ معاملہ مزید پیچیدہ بناتا ہے۔

    تحقیقات میں مشکوک حقائق سامنے آنے پر پولیس نے محمد اقبال اور ان کے بیٹے یاسین کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں سے تفتیش جاری ہے اور معاملے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گھر کا سربراہ محمد اقبال مبینہ طور پر جادو ٹونے کا کام کرتا تھا۔ اس دعوے کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ متاثرہ خاندان نے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد قرض لے رکھا تھا، جبکہ گھر اور ایک گاڑی بھی کرائے پر لی گئی تھی۔ یاسین کا تعلق پراپرٹی کے شعبے سے بتایا جاتا ہے۔پولیس نے مزید بتایا کہ گھر سے ایک خط بھی برآمد ہوا ہے جس کی جانچ پڑتال جاری ہے اور جو ممکنہ طور پر معاملے کی گتھی سلجھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    پولیس کے مطابق خواتین کی مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔ تاہم یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ تینوں خواتین کی اموات ایک ہی وقت میں نہیں ہوئیں۔یاد رہے کہ تین روز قبل گلشن اقبال کے ایک فلیٹ سے ماں، بیٹی اور بہو کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ گھر کے سربراہ محمد اقبال نے ہی اطلاع دی تھی، مگر ابتدائی تحقیقات میں ہی معاملہ مشکوک قرار دیا گیا تھا۔

  • پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب

    پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب

    ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق دنیا کے بڑے آلودہ شہروں کی فہرست میں لاہور ایک مرتبہ پھر پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں فضائی آلائشوں کا لیول 253 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیا گیا، جو انسانی صحت کے لیے نہایت مضر تصور کیا جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق دیگر صوبائی دارالحکومتوں کی صورتحال بھی تشویش ناک ہے۔کوئٹہ میں آلودگی کا لیول 248 پی ایم تک پہنچ گیا،پشاور میں 243 پی ایم ریکارڈ ہوا،جبکہ کراچی میں 236 پی ایم کے ساتھ فضا مضر صحت قرار دی گئی۔

    ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی اسموگ، گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اخراج اور موسمی تبدیلیوں کے باعث آلودگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ صحت کے ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ضرورت کے بغیر باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد خاص احتیاط برتیں۔

    دوسری جانب پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ بری طرح متاثر ہے۔ موٹروے پولیس کے مطابق دھند کے پیش نظر موٹروے ایم ون پشاور سے برہان تک جبکہ ایم فائیو ظاہر پیر سے شیر شاہ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ حکام نے ڈرائیوروں کو ہدایت کی ہے کہ دورانِ سفر فوگ لائٹس استعمال کریں، رفتار کم رکھیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے ہفتوں میں آلودگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے صحت کے مسائل اور ٹریفک حادثات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،متعدد ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان ،دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،متعدد ہلاک

    خیبر پختونخو ا و بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    کلّاتک کے علاقے میں، جو تُربت کے نواح میں واقع ہے، نامعلوم مسلح افراد نے ایک موبائل فون ٹاور کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب کیا جس کے نتیجے میں ٹاور زمین بوس ہوگیا اور آس پاس کے علاقوں میں ٹیلی کمیونی کیشن سروسز متاثر ہوئیں۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس کے مطابق کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کی نوعیت اور اس میں ملوث افراد کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے مبینہ سہولت کاروں یا نیٹ ورکس کا پتہ لگانے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی تحقیقات اور علاقے کی نگرانی بھی شروع کر دی ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پاک افغان سرحد کے قریب کلی لقمان گاؤں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے دوران چھ دیسی ساختہ بم (IEDs) برآمد کرکے ناکارہ بنا دیے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد ٹارگٹڈ سرچ آپریشن کے دوران ملا۔ کسی گرفتاری یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بلوچستان کی مرکزی شاہراہ پر کئی دنوں سے پھنسے مسافر ایک دھرنے کے باعث شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں مسافر شکایت کرتے ہیں کہ وہ “تین چار دن” سے پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ بعض افراد کا الزام ہے کہ ان کی بسوں کو رات کے وقت لوٹا گیا۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ ہجوم میں موجود ایک شخص منتظمین سے درخواست کرتا ہے کہ کم از کم محدود راستہ کھول دیا جائے، کیونکہ خواتین، بچے اور بیمار مسافر سہولتوں کے بغیر بسوں میں محصور ہیں۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ مشکلات کے باعث ایک مرد اور ایک خاتون کی موت ہوگئی ہے، مگر حکام نے ان اموات کی تصدیق نہیں کی۔ ویڈیو اس کی اپیل پر ختم ہوتی ہے اور یہ واضح نہیں کہ بعد میں کیا ہوا۔ مقامی ذرائع کے مطابق دھرنا ختم ہونے کے بعد صورتحال بہتر ہوئی۔ اس واقعے نے شاہراہوں کی مسلسل بندش پر عوامی غصہ بڑھا دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ طویل دھرنے مسافروں کو ہراسانی اور لوٹ مار کے خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ اس صورتحال سے کالعدم گروہ اور ان کے حامی فائدہ اٹھاتے ہیں،یہ دعوے بھی مصدقہ نہیں۔ ویڈیو سے واضح ہے کہ عوام مستقل رکاوٹوں سے شدید تھکاوٹ کا شکار ہیں۔

    خیبر پختونخوا سے افغان شہریوں کی واپسی منگل کے روز بھی جاری رہی، جہاں 1,145 افراد طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان واپس گئے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق واپس جانے والوں میں 543 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 114 اے سی سی ہولڈرز اور 488 غیر دستاویزی افغان شامل تھے۔ اب تک طورخم کے ذریعے 176,132 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 62,747 اے سی سی ہولڈرز اور 666,542 غیر دستاویزی افغان واپس جا چکے ہیں۔ انگور اڈہ بارڈر سے اب تک 1,241 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 496 اے سی سی ہولڈرز اور 8,447 غیر دستاویزی افراد کی واپسی ہو چکی ہے۔ دیگر صوبوں سے افغان باشندوں کو خیبر پختونخوا منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جمعہ کو پنجاب سے 8 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 3 اے سی سی ہولڈرز اور 8 غیر دستاویزی افغان منتقل کیے گئے۔ مجموعی طور پر دیگر صوبوں سے 4,313 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 10,384 اے سی سی ہولڈرز اور 37,023 غیر دستاویزی افغانی منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ٹرانزٹ پوائنٹس پر نفاذی کارروائیاں جاری ہیں۔ جمعہ کو 50 غیر دستاویزی افغانوں کو ملک بدر کیا گیا، جس سے ٹرانزٹ سینٹرز کے ذریعے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 7,431 ہو گئی۔

    سنٹرل کرم کے علاقے مناتو میں تور غنڈی چیک پوسٹ کے قریب دہشت گرد حملے میں پاک فوج کے چھ اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے علاقے میں کام کرنے والی سکیورٹی ٹیم کو نشانہ بنایا۔ شہید ہونے والوں میں حوالدار شوکت حبیب، حوالدار سبزل، سپاہی عبد الخالق، سپاہی رفیع اللہ، لانس نائیک امجد اور سپاہی وقاص شامل ہیں۔ زخمیوں میں ایف سی کے اہلکار محمد جاوید خان، محمد ایاز، رب نواز، عامر شہزاد، محمد رضوان اور محمد زید سلطان شامل ہیں۔ انہیں قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں کئی دہشت گرد مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ علاقے میں تحقیقات اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    کرم کے علاقے تورغر میں سکیورٹی فورسز نے ٹھوس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کمانڈر درویش گروپ سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو آرٹلری حملے میں ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق دہشت گرد سرحد پار سہولت کاری اور سکیورٹی پوسٹوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ یہ دونوں حال ہی میں بلند و بالا علاقوں میں اپنی نقل و حرکت کو چھپانے کے لیے آئے تھے۔ فورسز نے ان کی موجودگی کا سراغ لگایا اور درست نشانے سے انہیں ہلاک کر دیا۔ کمانڈر درویش گروپ، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے زیر اثر کام کرتا ہے، ٹارگٹ حملوں، بھرتیوں اور سرحد پار دراندازی میں ملوث رہا ہے۔ یہ کارروائی مغربی سرحد پر ٹی ٹی پی سے وابستہ نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن جاری رہیں گے اور کسی بھی عسکریت پسند کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    صوبائی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال خیبر پختونخوا کے 14 اضلاع میں دہشت گردی کے 1,588 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کیسز میں 7,000 سے زائد مشتبہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں رہا، جہاں 394 دہشت گردی کے کیس درج ہوئے۔ شمالی وزیرستان میں 181، پشاور میں 163 اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 152 کیس ریکارڈ کیے گئے۔ نامزد مشتبہ افراد کے لحاظ سے بھی بنوں میں سب سے زیادہ 3,437 افراد شامل ہیں، اس کے بعد شمالی وزیرستان میں 887 اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 865 افراد کو نامزد کیا گیا۔ حکام کے مطابق متعدد کیسز کی تحقیقات جاری ہیں اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

    سکیورٹی فورسز نے پیر کی شب سنٹرل کرم کے علاقے تورغر پوسٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی درویش گروپ کے 10 سے 15 دہشت گردوں نے پوسٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ باقی فرار ہوگئے۔ اضافی نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو تلاش کیا جا سکے۔ سکیورٹی فورسز میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق کارروائی جاری ہے اور ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

  • دکان میں چوری کا شبہہ، 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلادیا گیا

    دکان میں چوری کا شبہہ، 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلادیا گیا

    بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایک افسوسناک اور تشویش ناک واقعہ پیش آیا جہاں مقامی جرگے نے چوری کے شبے میں آٹھ افراد کو روایتی ’’آگ پر چلانے‘‘ کی آزمائش سے گزارا۔

    جیو نیوز کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک دکان میں چوری کے شبے نے علاقے میں تنازعہ کھڑا کیا اور جرگے نے سچ معلوم کرنے کے لیے انتہائی غیر انسانی طریقہ اپنایا۔اطلاعات کے مطابق جرگے نے آٹھ افراد کو حکم دیا کہ وہ دہکتے ہوئے انگاروں پر چل کر دکھائیں تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کون چور ہے۔ حیران کن طور پر ان میں سے کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا، جس پر جرگے نے اسے ’’بے گناہی کی نشانی‘‘ قرار دے دیا۔

    یہ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کے آئین اور قانون کے صریحاً منافی ہے۔ علاقے میں اس واقعے نے خوف اور تشویش کی فضا پیدا کردی ہے۔موسیٰ خیل کی ضلعی انتظامیہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جرگے میں شامل سات افراد کو مقدمے میں نامزد کردیا۔ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس طرح کے قبائلی فیصلے اور سزائیں غیر قانونی ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پولیس حکام کے مطابق ایک جرگہ رکن کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تفتیش کی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے غیر انسانی اور توہین آمیز رواجوں کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔