Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • موبائل فونز پربے جا ٹیکسز، قائمہ کمیٹی نے شدید تشویش ظاہر کردی

    موبائل فونز پربے جا ٹیکسز، قائمہ کمیٹی نے شدید تشویش ظاہر کردی

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر نے موبائل فونز پر لگائے گئے "غیرمعقول حد تک زیادہ” ٹیکسز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موبائل فون آج کے دور میں بنیادی ضرورت بن چکا ہے، اسے لگژری آئٹم کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے کمیٹی کے 21ویں اجلاس میں مختلف حکومتی و نجی بلز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سید نوید قمر نے کی۔کمیٹی نے "کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی بل 2025” اور "انکم ٹیکس آرڈیننس (تھرڈ امینڈمنٹ) بل 2025” کی ترمیم شدہ صورت میں منظوری کی سفارش کر دی۔ جبکہ "نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2025” کو مزید بہتری کے لیے آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے اور چیئرمین ایف بی آر نے بیرونِ ملک سے آنے والے پاکستانیوں کے موبائل فونز پر عائد ٹیکس نظام کے بارے میں بریفنگ دی۔ کمیٹی ارکان، خصوصی مدعو سید علی قاسم گیلانی سمیت، نے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسز کو اوورسیز پاکستانیوں اور مقامی صارفین دونوں کے لیے غیرضروری بوجھ قرار دیا۔

    سید نوید قمر نے کہا کہ موبائل فون تعلیم، رابطے، مالی لین دین اور سرکاری خدمات کے لیے ناگزیر ضرورت ہے، اس پر بھاری ٹیکس عام آدمی پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے ایف بی آر اور ٹیکس پالیسی آفس کو ہدایت کی کہ موبائل فونز پر ذاتی سامان اور رجسٹریشن کے نظام کے تحت عائد ٹیکس شرحوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔کمیٹی نے دونوں اداروں کو مارچ 2026 تک شواہد پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا، جس میں پالیسی آپشنز، معاشی اثرات، بین الاقوامی تقابلات اور ممکنہ ترامیم شامل ہوں گی۔

  • خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں موبائل ڈیٹا سستا ہے،حکام کا دعویٰ

    خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں موبائل ڈیٹا سستا ہے،حکام کا دعویٰ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا اور اس کی صدارت سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، سینیٹر سعدیہ عباسی اور سینیٹر عطا الرحمٰن نے شرکت کی۔

    وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن نے کمیٹی کو سینیٹر عطا الرحمٰن کی جانب سے ضلع لکی مروت، خیبر پختونخوا میں مبینہ طور پر موبائل سروسز کی بندش سے متعلق عوامی اہمیت کے ایک نقطے پر بریفنگ دی، جو کہ 13 نومبر 2025 کے سینیٹ اجلاس میں اٹھایا گیا تھا۔ وزارت نے بتایا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق بہرام خیل، تجوری روڈ، لکی مروت کے علاقے میں اس وقت کوئی موبائل یا ٹیلی کام سروس معطل نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ مخصوص پوائنٹ آف کانٹیکٹ کی تفصیلات پی ٹی اے کے ساتھ شیئر کی جاسکتی ہیں تاکہ کسی مخصوص علاقے کے مسئلے کی نشاندہی اور حل کیا جا سکے۔ مزید بتایا گیا کہ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق وزارتِ داخلہ سروسز کی معطلی سے متعلق درخواستیں پروسیس کرتی ہے اور متعلقہ ٹیلی کام آپریٹرز کے ذریعے عملدرآمد کے لیے پی ٹی اے کو ہدایات جاری کرتی ہے۔ چیئرپرسن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لوڈشیڈنگ کے دوران ٹیلی کام سروسز کی بلا تعطل فراہمی کے لیے سولر پاورڈ حل اختیار کیے جائیں اور خراب ٹیلی کام ٹاورز کی فوری مرمت کی جائے۔

    وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن نے کمیٹی کو بڑھتی ہوئی موبائل ڈیٹا اور کال پیکجز کی قیمتوں اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان اس وقت سب سے سستا ڈیٹا اونلی موبائل براڈبینڈ فراہم کر رہا ہے۔ وزیر نے زور دیا کہ ڈیجیٹل ترقی کا ایک اہم معیار سستی اور قابلِ رسائی خدمات ہیں۔

    چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیٹی کو ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) سروسز کے لائسنسنگ اور وی پی این لائسنس حاصل کرنے کے طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ درخواست گزاروں کے لیے قانونی طور پر رجسٹرڈ ادارہ ہونا ضروری ہے، یعنی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کمپنی یا فرم، تاکہ وہ وی پی این سروسز کی فراہمی کے لیے ڈیٹا کلاس لائسنس حاصل کرسکیں۔ پی ٹی اے نے ڈیٹا سروسز کی فراہمی کے لیے چھ ڈیٹا کلاس لائسنس جاری کیے ہیں، جبکہ ایک ادارے کو اس کے موجودہ لائسنس کے تحت اجازت دی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ سات میں سے پانچ لائسنس ہولڈرز نے آغاز کے سرٹیفیکیٹس حاصل کر لیے ہیں۔

    سیکریٹری داخلہ اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کمیٹی کو آئی سی ٹی ہاؤس ہولڈ سروے ایپ کے ذریعے جمع کیے جانے والے ڈیٹا کے تحفظ کے بارے میں بریفنگ دی جو مکمل ڈیٹا پروٹیکشن قانون سازی نہ ہونے کے باوجود اپنائے گئے اقدامات پر مشتمل ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ سروے وزیرِ اعظم پاکستان کی ہدایات کے تحت شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد عوامی تحفظ میں اضافہ اور رہائشی ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنانا ہے، جس میں گھر مالکان، کرایہ داروں، غیر ملکیوں اور گھریلو ملازمین سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ یہ سروے نادرا کے تعاون سے جاری ہے اور اب تک 28,594 گھرانوں کے سروے مکمل ہو چکے ہیں۔ حکام نے اسلام آباد میں ای-ٹیگز کے ذریعے وہیکل مانیٹرنگ سسٹم، ڈیٹا سینٹر اور ریئل ٹائم ڈیٹا سیکیورٹی میکنزم کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ چیئرپرسن نے اہم شخصیات کے نجی ڈیٹا کے لیک ہونے اور فروخت سے متعلق اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ ایسے واقعات شہریوں کو مزید سیکورٹی خدشات سے دوچار کرتے ہیں۔ سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے ڈیٹا لیکیج میں ملوث نادرا حکام کے خلاف سخت کارروائی اور سزا کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ چیئرپرسن نے نادرا کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ اگلے اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں اور کمیٹی کے خدشات کا جواب دیں۔

    ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کمیٹی کو میڈیا میں رپورٹ ہونے والی غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ 1.5 کروڑ روپے کی مبینہ غیر قانونی ادائیگیوں سے متعلق بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ دو ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، ایک لاہور میں اور ایک اسلام آباد میں۔ چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کے نمائندوں کی آئندہ کمیٹی اجلاس میں حاضری یقینی بنائی جائے۔چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو پی ٹی سی ایل کے آخری آڈٹ کے بارے میں، نیز یوفون کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تفصیلات، جن میں ان کے عہدے، اور گزشتہ دو سالوں میں منعقدہ اجلاسوں کی تعداد شامل ہے، سے آگاہ کیا۔چیف ایگزیکٹو آفیسر یونیورسل سروس فنڈ نے معزز سینیٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے موبائل نیٹ ورک کے مسائل پر عملدرآمد رپورٹ پیش کی، جن میں سکھر–کراچی (M-9/N-5)، بلوچستان کے مختلف مقامات، تحصیل کھروڑو سید (یو سی عمرکوٹ)، گلی سملی (ایبٹ آباد) اور ضلع کشمور کے مسائل شامل تھے۔

  • طور خم سرحد،  سکیورٹی فورسز نے 358 ملین کا اسمگل شدہ سامان تحویل میں لے لیا

    طور خم سرحد، سکیورٹی فورسز نے 358 ملین کا اسمگل شدہ سامان تحویل میں لے لیا

    خیبر ایجنسی، پاک۔افغان طورخم سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی کرنسی اور غیر قانونی سامان کی بھاری کھیپ پکڑ کر قومی خزانے کو بڑے نقصان سے بچا لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ہفتہ کے روز سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کی، جس میں مجموعی طور پر 358 ملین روپے مالیت کا 43 ٹن غیر ملکی و ممنوعہ سامان تحویل میں لیا گیا۔کارروائی کے دوران مختلف ممالک کی جعلی کرنسی بھی برآمد ہوئی جن میں بھارتی کرنسی،سعودی ریال،افغان افغانی،امریکی ڈالرشامل ہیں،ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کرنسی غیر قانونی طریقوں سے پاکستان کے اندر پھیلائی جا رہی تھی جو مالیاتی نظام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔

    پکڑے گئے غیر ملکی و ممنوعہ سامان میں آتش بازی کا سامان،بڑے پیمانے پر سگریٹس،غیر قانونی موبائل فونز،منشیات (ڈرگز)،پان اور گٹکا،ممنوعہ ادویات،دیگر قیمتی اشیاء شامل ہیں،سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ تمام سامان طورخم سرحد کے راستے پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، جس کا مقصد مقامی مارکیٹ کو متاثر کرنا تھا۔تمام برآمد شدہ مال کو لنڈی کوتل ایف سی چھاؤنی میں باقاعدہ کارروائی کے بعد تلف کر دیا گیا۔تلفی کا عمل کمانڈنٹ خیبر رائفلز کرنل سعید احمد کی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ طورخم سرحد پر چیکنگ سسٹم مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اسمگلنگ اور جعلی کرنسی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے۔

    علاقے کے عوام نے بھی اس کامیاب کارروائی کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ سرحدی علاقے میں ایسی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں تاکہ غیر قانونی تجارت پر مکمل کنٹرول ممکن بنایا جاسکے۔

  • پاکستان میں ٹی ٹی پی کے لیے لڑتے ہوئے کم از کم چار بنگلہ دیشی ہلاک

    پاکستان میں ٹی ٹی پی کے لیے لڑتے ہوئے کم از کم چار بنگلہ دیشی ہلاک

    بنگلہ دیش کے کاؤنٹر ٹیررازم اینڈ ٹرانس نیشنل کرائم یونٹ نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم چار بنگلہ دیشی شہری پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی صفوں میں لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ ہلاکتیں مختلف جھڑپوں اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے دوران ہوئیں۔

    سی ٹی ٹی سی نے انکشاف کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے علاوہ مزید دو درجن سے زائد بنگلہ دیشی شہری اس وقت پاکستان میں موجود ہیں اور ٹی ٹی پی سے منسلک ہو کر سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد گزشتہ چند سالوں کے دوران مختلف راستوں سے پاکستان پہنچے اور شدت پسند گروہ سے وابستہ ہو گئے۔ انسداد دہشت گردی سے وابستہ عہدیداران کے مطابق کچھ بنگلہ دیشی شہری آن لائن شدت پسندانہ مواد اور رابطوں کے ذریعے متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں انہوں نے ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ادارے نے نشاندہی کی کہ ایسے نوجوان اکثر سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھرتی کیے جاتے ہیں۔ ان افراد کی شناخت کے سلسلے میں رابطے بڑھا دیے ہیں، تاکہ پاکستان میں موجود بنگلہ دیشی شدت پسندوں کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کی جا سکیں اور مستقبل میں بھرتی کے رجحان کو روکا جا سکے۔

  • نیو جنرل ایوی ایشن ایروڈوم لاہور (مریدکے) پر پہلی آزمائشی پرواز اترگئی

    نیو جنرل ایوی ایشن ایروڈوم لاہور (مریدکے) پر پہلی آزمائشی پرواز اترگئی

    کراچی – الحمدللہ، پہلی آزمائیشی پرواز نے کامیابی کے ساتھ نیو جنرل ایوی ایشن ایروڈوم لاہور (مریدکے کے قریب) پر لینڈ کیا، جو ملک میں جنرل ایوی ایشن کے شعبے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ یہ ایروڈوم اپنی مخصوص ساخت، پرامن محل وقوع اور مخصوص انفراسٹرکچر کی وجہ سے جنرل ایوی ایشن سرگرمیوں کا نیا مرکز بننے جا رہا ہے۔
    رجسٹریشن ( اے پی-بی بی پی) ائیر ایگل کمپنی کا سیسنا 172 طیارہ لاہور سے روانہ ہو کر مریدکے پہنچا، اور بعد ازاں دن 1 بجکر 26 منٹ پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کے لیے روانہ ہوا۔

    اس موقع پر ایئر وائس مارشل ذیشان سعید، ڈی جی پی اے اے، نے تمام عملے اور ٹیموں کو مبارکباد دی اور ان کی لگن، پیشہ ورانہ مہارت اور جنرل ایوی ایشن کے فروغ میں کردار کو سراہا۔

  • معاشی ترقی کے لئے ہر سطح کی کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے،  خالد مسعود سندھو

    معاشی ترقی کے لئے ہر سطح کی کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کے لئے ہر سطح کی کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے، آئی ایم ایف کی کرپشن بارے رپورٹ نے موجودہ حکمرانوں کی معاشی ترقی کے دعووں کو بے نقاب کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے، آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک جیسے مالیاتی اداروں سے جان چھڑائی جائے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آج دنیا بھر میں انسداد رشوت ستانی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے لیکن افسوس پاکستان میں رشوت کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا،آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ پاکستانی معیشت کے لئے بہت بڑی وارننگ ہے،آئی ایم ایف نے رپورٹ میں تصدیق کی کہ پاکستان میں ہر سطح پر کرپشن موجود ہے اور طاقتور حلقے فائدہ اٹھا رہے ہیں،خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن ایک ناسور ہے جس کے خاتمے کے لئے قومی سطح پر بھر پور مہم کی ضرورت ہے، اعلیٰ حکام سے لے کر نچلی سطح تک کرپشن کی روک تھام ہو گی تو نظام میں بہتری آئے گی،پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لئے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے،

  • شرجیل میمن سے ایشین ڈولپمنٹ بینک کے اعلیٰ سطح کے وفد کی ملاقات

    شرجیل میمن سے ایشین ڈولپمنٹ بینک کے اعلیٰ سطح کے وفد کی ملاقات

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ایشین ڈولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے اعلیٰ سطح کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں ٹرانسپورٹ سے متعلق منصوبوں کی مالی معاونت اور مستقبل کے اہم اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو بھی شریک تھے،ایشین ڈولپمنٹ بینک کے وفد کی جانب سے ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیے مکمل مالی معاونت کی یقین دہانی کروائی گئی،ایشین ڈولپمنٹ بینک کے مشن کی جانب سے مستقبل میں ٹرانسپورٹ کے مزید منصوبوں میں معاونت کی بھی یقین دہانی کروائی گئی،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ پاکستان میں پہلی بار بایو گیس سے چلنے والی بسز چلانے جا رہی ہے، کراچی کے لئے بایو گیس پر چلنے والی بسوں کی خریداری کے عمل باضابطہ شروع کیا جا رہا ہے، حکومت کی ترجیح ہے کہ نہ صرف بسیں جدید ہوں بلکہ سروس کا معیار بھی بین الاقوامی سطح کا ہو، یہ بسیں نہ صرف ماحول ماحول دوست ہونگی بلکہ ہر بس آئی ٹی ایس پر مشتمل ہونگی،کراچی میں ماحول دوست بسز کے لئے بایو گیس پلانٹ منصوبے پر کام جلد شروع کیا جا رہا ہے، بایو گیس پلانٹ جیسے اقدامات ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے،بایو گیس اور ای وی گاڑیوں سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی،

  • چیف آف ڈیفنس فورسز   سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر کی ملاقات

    چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر کی ملاقات

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر پروابوو سبیانتو نے ملاقات کی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی پر گفتگو کی گئی،اس موقع پر پاکستان اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،انڈونیشیا کے صدر نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور خطے میں امن واستحکام کے لےی پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا،ملاقات میں تربیت، انسدادِ دہشت گردی اور استعدادِ کار میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تربیت، انسدادِ دہشت گردی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہیں.

  • برطانیہ نے یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا

    برطانیہ نے یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا

    برطانیہ نے پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رجب بٹ کو برطانوی حکام نے ویزا منسوخ ہونے کے بعد ملک چھوڑنے کا حکم دیا، جس کے بعد وہ آج صبح کی پرواز کے ذریعے پاکستان روانہ ہو گئے۔نجی ٹی وی کے مطابق برطانوی امیگریشن حکام کے مطابق رجب بٹ کا ویزہ اس وقت منسوخ کیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے اپنی ویزہ اپلیکیشن میں جاری قانونی مقدمات کا ذکر نہیں کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی یا کیس کو چھپانا ویزا قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے، جس کے باعث ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی،رپورٹس کے مطابق رجب بٹ کو ملک بدری سے قبل امیگریشن آفس میں باضابطہ انٹرویو کے لیے بھی بلایا گیا، جہاں انہیں فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ ویزا منسوخ ہونے کے بعد انہیں مخصوص مدت کے اندر برطانیہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی، جس پر عمل کرتے ہوئے وہ وطن واپس لوٹ آئے۔

  • پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان  دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کا وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں استقبال کیا۔ صدر پرابووو سوبیانتو کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر دیا گیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی جس کے بعد اعلیٰ سطحی وفود کی سطح پر اجلاس منعقد ہوا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کابینہ کے وزراء اور اعلیٰ حکام شامل تھے۔دونوں رہنماؤں نے انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بشمول سیاسی و سفارتی مصروفیات، اقتصادی اور تجارتی تعلقات، دفاع اور سلامتی، صحت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، زراعت اور ماحولیاتی تعاون کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ۔ دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

    دو طرفہ تجارت کے حوالے سے پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں فریقین نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو مزید بڑھانے کے لیے انڈونیشیا-پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے (IP-PTA) پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا، جس کی مالیت تقریباً 4 بلین امریکی ڈالر ہے۔ مزید برآں تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کی کوششیں شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے خاص طور پر حلال صنعت، زرعی اجناس کی تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور انڈونیشیا کے خودمختار دولت فنڈ (Danantara) کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم نے صدر پرابوو کے عوامی فلاح و بہبود پر مبنی اقدامات بشمول "مفت غذائیت سے بھرپور کھانے کا پروگرام” کی تعریف کی۔

    صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں انڈونیشیا کی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے طبی ماہرین کے تبادلے، طبی قابلیت کی باہمی شناخت اور خصوصی تربیت کی پیشکش کے ذریعے تعاون کو بڑھانے کے طریقے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے کشمیر اور غزہ کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہء خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے غزہ میں صدر پرابوو کی فعال سفارتی اور انسانی کوششوں کو سراہا اور جنگ بندی کے انتظامات کو آگے بڑھانے اور انسانی امداد کی فراہمی میں ان کے کردار کو سراہا۔

    دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ، OIC اور D-8 سمیت کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور فعال تعاون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے انڈونیشیا کو D-8 کی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد دی اور انڈونیشیا کے صدر کو اس فورم پر پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ بات چیت کے بعد دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور دونوں فریقوں کے درمیان معاہدوں کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔وزیراعظم نے انڈونیشیا کے صدر اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا۔یہ دورہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے