Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نوشکی، سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار

    نوشکی، سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، ایک گرفتار

    نوشکی میں سیکیورٹی فورسز نے ڈی سی کمپلیکس اور اس کے اطراف میں جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے مزید 7 دہشتگردوں کو ہلاک جبکہ ایک دہشتگرد کو زندہ گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، بارود اور حساس آلات برآمد کیے گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ڈی سی کمپلیکس میں موجود مشتبہ عناصر کے خلاف کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا۔ فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر مرحلہ وار پیش قدمی کی، جس دوران دہشتگردوں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام خطرات کو ناکام بنایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے 9 عدد ایس ایم جیز، 16 میگزین اور 415 راؤنڈز،2 عدد ایم-16 رائفلیں، 15 میگزین اور 352 راؤنڈز،2 عدد چینی ایل ایم جیز اور 110 راؤنڈز،1 عدد ڈریگنوف اسنائپر رائفل بمعہ 10 میگزین،1 عدد 14.5 ایم ایم اینٹی ایئرکرافٹ مشین گن اور 284 راؤنڈز،1 عدد آر پی جی اور 12 راؤنڈز،1 عدد یو بی جی ایل گرنیڈ،8 دستی بم،5 ٹرانزامین انجیکشن بمعہ سوئیاں،3 واکی ٹاکیز، 4 موبائل فونز اور 1 نائٹ ویژن ڈیوائس برآمد ہوئیں،

    گرفتار دہشتگرد سے تفتیش جاری ہے، جس سے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ اہداف سے متعلق اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے،علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ سرچ اور کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے تک مشتبہ مقامات کی کڑی نگرانی جاری رہے گی۔ سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • گوجرخان بی آئی ایس پی دفتر میں سفید پوشی کا جنازہ، امداد کے نام پر تذلیلِ نسواں

    گوجرخان بی آئی ایس پی دفتر میں سفید پوشی کا جنازہ، امداد کے نام پر تذلیلِ نسواں

    فرعون صفت افسران کے ایئرکنڈیشنڈ کمرے اور باہر تپتی دھوپ میں سسکتی انسانیت؛ کیا مائیں بہنیں صرف ووٹ اور ٹیکس کے لیے ہیں؟
    ڈیجیٹل بینکنگ کے دور میں قرونِ وسطیٰ کی اذیت گوجرخان کی خواتین کو بھکاری سمجھنے والے نظام کے خلاف عوامی غیظ و غضب

    گوجرخان (قمرشہزاد) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام گوجرخان کا دفتر غریب پروری کے بجائے غریب دشمنی کی علامت بن گیا۔ قسط کے حصول کے لیے آنے والی خواتین کی عزتِ نفس کو جس بے رحمی سے پامال کیا جا رہا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ دفتر کے وسیع و عریض دفتر میں افسرانِ بالا کے لیے تو شاہانہ آسائشیں موجود ہیں، مگر جن خواتین کے نام پر یہ بجٹ ہڑپ کیا جاتا ہے، ان کے لیے سر چھپانے کو چھت ہے نہ بیٹھنے کو بینچ سفید پوش گھرانوں کی مائیں اور بہنیں چند روپوں کی خاطر صبحِ کاذب سے شام تک کھلے آسمان تلے موسم کی تلخیاں جھیل رہی ہیں۔ انتظامیہ کی یہ مجرمانہ خاموشی اور فرعونیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جان اور عزت کی کوئی وقعت نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ امداد افسران کی جیب سے دی جا رہی ہے؟ یا یہ عوام کے ٹیکس کا وہ پیسہ ہے جسے بانٹنے کے بہانے غریبوں کی تذلیل کا لائسنس حاصل کر لیا گیا ہے؟ جدید ٹیکنالوجی کے دعوے کرنے والی حکومت کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ آج بھی خواتین کو بینک اکاؤنٹس کے بجائے لمبی لائنوں میں ذلیل کیا جا رہا ہے۔ یہ تذلیل محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایک منظم جرم ہے جس کا مقصد غریب کی انا کو کچلنا ہے۔

    عوامی سماجی حلقوں نے گوجرخان بی آئی ایس پی دفتر کی ان کالی بھیڑوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جنہوں نے دفتر کو اذیت کدہ بنا رکھا ہے۔ خواتین کو فی الفور بینکوں کے ذریعے براہِ راست ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے اور جب تک یہ نظام نافذ نہیں ہوتا، دفتر کے اندر باعزت طریقے سے بیٹھنے اور پینے کے صاف پانی کا انتظام یقینی بنایا جائے۔ اگر انسانیت کی یہ تذلیل فوری طور پر نہ رکی تو عوام ان سرکاری فرعونوں کا گھیراؤ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر 5 فروری کو ملک گیر پروگراموں کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر 5 فروری کو ملک گیر پروگراموں کا اعلان

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر 5 فروری کو ملک بھر میں سیمینارز،کانفرنسز منعقد ہوں گی، مرکزی صدر خالد مسعود سندھو نے اضلاع،تحصیلوں کی سطح پر پروگراموں کے لئے خواتین، اساتذہ،لیبر ونگ،طلبا سمیت تمام شعبہ جات کو ہدایات جاری کر دی ہیں، یوم یکجہتی کشمیر کے پروگراموں سے مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی قائدین خطاب کریں گے،

    مرکزی مسلم لیگ کے ذیلی شعبہ جات مسلم یوتھ لیگ ، خواتین ونگ،ملی لیبر فیڈریشن،پاک لائرز فورم،مرکزی کسان لیگ، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پرملک بھر میں سیمینارز، کنونشن اور مظاہرے کئے جائیں گے،لاہور،کراچی، اسلام آباد، پشاور،کوئٹہ سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا ، مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کا فرمان ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، پاکستانی قوم شہ رگ ہر صورت چھڑائے گے،کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو مودی سرکار کسی صورت نہیں دبا سکتی ،پاکستانی قوم کا بچہ بچہ اہل کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے، 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے ملک گیر پروگراموں میں اہل کشمیر کو پیٍغام دیں گے کہ مرکزی مسلم لیگ کشمیریوں کی مدد و حمایت جاری رکھے گی،

  • وزیراعظم سے ڈائریکٹر جنرل یونیسکو کی ملاقات

    وزیراعظم سے ڈائریکٹر جنرل یونیسکو کی ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (UNESCO) کے ڈائیریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد الاینانی نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی، وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب کھچی اور اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

    ڈاکٹر الاینانی کو بطور ڈائریکٹر جنرل یونیسکو منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے، وزیراعظم نے جامع اور معیاری تعلیم کے فروغ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے لائحہ عمل کو مضبوط بنانے کے حوالے سے یونیسکو کی بنیادی اقدار کی پاسداری کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے یونیسکو کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر الاینانی کی قابل قیادت میں تنظیم کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات، بالخصوص "ایجوکیشن ایمرجنسی” جس کا مقصد اسکول جانے کی عمر کے بچوں کے داخلوں میں اضافے جیسے اقدام پر روشنی ڈالی. وزیرِ اعظم نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے دور میں تعلیم کے شعبے میں حاصل کیے گئے تجربات، بہترین طریقوں اور کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان میں ثقافتی ورثے کے 6 مقامات کے تحفظ اور اس امر میں یونیسکو کے تعاون پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور یونیسکو کو کھیوڑہ سالٹ مائنز جیسی مزید جگہوں کو تقافتی ورثے میں شامل کرنے کی دعوت دی۔

    ڈائریکٹر جنرل یونیسکو نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے مختصر دورے میں مختلف اسکولوں اور ثقافتی مقامات کا دورہ کیا۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا اور تعلیم، سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کے لیے اپنے مسلسل عزم پر زور دیا۔

  • رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک  وزیرداخلہ بلوچستان مقرر

    رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک وزیرداخلہ بلوچستان مقرر

    بلوچستان کی صوبائی سیاست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک کو باضابطہ طور پر وزیرداخلہ بلوچستان مقرر کر دیا گیا ہے۔

    علی مدد جتک نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، گورنر بلوچستان نے ان سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی، جس میں صوبائی کابینہ کے اراکین، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران آئینی تقاضوں کے مطابق حلف لیا گیا اور نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد علی مدد جتک نے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھال لیا۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ بلوچستان کا اہم قلمدان گزشتہ دو سال سے باقاعدہ وزیر کے بغیر تھا۔ اس عرصے کے دوران یہ ذمہ داری وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے پاس رہی، جو بطور وزیر داخلہ صوبے میں امن و امان، سیکیورٹی اور داخلی امور کی نگرانی کر رہے تھے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ علی مدد جتک کی بطور وزیرداخلہ تقرری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بلوچستان کو امن و امان، دہشت گردی، سرحدی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں نئی تقرری کو صوبائی حکومت کی جانب سے انتظامی اور سیکیورٹی معاملات کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی

    پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی

    او آئی بی عدالت اسلام آباد،تحریک انصاف کے خلاف بنائے گئے بیرونی فنڈنگ کیس کو پر لگ گئے

    بیرونی فنڈنگ کیس میں عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی،او آئی بی عدالت کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کیس پر سماعت کی ،فارن فنڈنگ کیس میں اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک عدالت میں پیش ہوئے ،جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک کیا کررہے ہیں چالان مکمل کیوں نہیں ہوا، پراسکیوٹر واثق ملک نے کہا کہ اس کیس میں متعلقہ ملک سے رائے لینے کیلئے خط لکھ ہوئے ہیں، جج عبدالغفور کاکڑ نے کہا کہ میں تفتیشی کو شوکاز نوٹس اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرتا ہوں اگلی تاریخ پر،یہ معاملہ2022 سے چل رہا ہے اور آپ نے ابھی تک دلچسپی ہی نہیں لی، پراسکیوٹر واثق ملک نے کہا کہ عدالت ایک ہفتے یا دس دن کا ٹائم دے ہم چالان مکمل کر لیتے ہیں، عدالت سے استدعا ہے ایک موقع دیا جائے، شوکاز نوٹس اور ڈی جی طلبی کا حکم ابھی نہ دیا جائے، جج عبدالغفور کاکڑ نے کہا کہ میں اس معاملے کو دیکھ لیتا ہوں آپ دو دن میں اپنی کارکردگی دکھائیں، عدالت نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کردی

  • کراچی میں گرفتاربچوں سے زیادتی کا ملزم پنجاب پولیس کا بھی مطلوب نکلا

    کراچی میں گرفتاربچوں سے زیادتی کا ملزم پنجاب پولیس کا بھی مطلوب نکلا

    کراچی ایسٹ انویسٹی گیشن ون پولیس کے ہاتھوں سیریل ریپسٹ کی گرفتاری کے معاملے میں اہم پیشرفت ہوگئی۔

    کراچی پولیس کا انتہائی مطلوب ملزم پنجاب پولیس کا بھی موسٹ وانٹڈ نکلا، گرفتار ملزم 100 سے زائد بچوں سے زیادتی میں ملوث تھا۔پنجاب پولیس نے ملزم کی گرفتاری کیلئے کراچی پولیس سے رابطہ کرلیا، ٹیپو سلطان سے ملزم عمران کو ساتھی وقاص سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزم کیخلاف خانیوال، طارق آباد میں 8 مقدمات درج ہیں، مقدمات اغواء، بچوں سے زیادتی، اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج ہوئے، ڈکیتی چوری اور دیگر دفعات بھی ایف آئی آرز میں شامل ہیں،پنجاب پولیس کے مطابق تمام مقدمات 2018ء سے 2023ء تک درج ہوئے، ملزم عمران کی پنجاب میں لال بادشاہ کے نام سے عرفیت تھی، بھاٹی گیٹ تھانے میں ملزم کیخلاف 2018ء میں 2 مقدمات درج ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مقدمہ بچے کو قید میں رکھ کر بدفعلی اور دیگر دفعات کے تحت درج ہوا جبکہ دوسرا مقدمہ 2022ء میں شاہدرہ میں بچے کے اغواء کا مقدمہ شامل ہے، 2023ء میں بھی بہاء الدین زکریا تھانے میں عمران کیخلاف 4 مقدمات درج ہوئے۔

  • تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے

    تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے

    سنگھوری میں مسلح ڈاکوؤں کی گھر میں گھس کر غنڈہ گردی، اہلخانہ پر تشدد اور لاکھوں کی لوٹ مار ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا ملک تنویر اشرف
    چوروں اور ڈاکوؤں نے پولیس کا ناطقہ بند کر دیا، سنگین وارداتوں نے امن و امان کے دعوؤں کی دھجیاں اڑا دیں شہری حلقوں کا اصلاح و احوال کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان کے مختلف علاقوں میں لاقانونیت کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے، جہاں ڈاکوؤں اور چوروں نے پولیس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ تھانہ مندرہ کے علاقے سنگھوری سرور شہید میں ہاؤس رابری کی ایک لرزہ خیز واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے پولیس نے مقدمہ درج کرکے اپنی تفتیش کا آغاز کر دیا ایس ایچ او ملک تنویر اشرف نے کہا کہ ملزمان کو جلد ہی گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں تھانہ مندرہ کی حدود میں کرائم کا گراف پیک پر تھا جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور گشت کے موثر نظام سے کافی حد تک کرائم کے گراف میں کمی آئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، جمعہ 30 جنوری کی رات پونے آٹھ بجے، جب لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے، 4 مسلح سفاک ڈاکو مظہر حسین کے گھر میں داخل ہوئے۔ ان درندہ صفت ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر زین مظہر اور دیگر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر ایک کمرے میں بند کر دیا اور مزاحمت پر زین مظہر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکو اطمینان کے ساتھ پورے گھر کو کھنگالتے رہے اور طلائی بالیاں، 35 ہزار نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے۔ دوسری جانب تھانہ جاتلی کی حدود بھی جرائم کا گڑھ بن چکی ہے۔ بھیر کلیال میں عمیر یوسف کے قیمتی مویشی چوری کر لیے گئے، جبکہ دولتالہ میں قیصر محمود کے گھر کے تالے توڑ کر طلائی زیورات اور موٹر سائیکل اڑا لی گئی۔ اسی علاقے میں محمد عثمان نامی شہری کو بھی موبائل فون سے محروم کر دیا گیا۔ ان پے در پے وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور جان و مال کے تحفظ کے لیے ترس رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بے لگام ڈاکوؤں کو فوری نکیل ڈالی جائے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • بات چیت کا وقت یا جنگ کا؟ بلوچستان کو درحقیقت کس چیز کی ضرورت ہے

    بات چیت کا وقت یا جنگ کا؟ بلوچستان کو درحقیقت کس چیز کی ضرورت ہے

    حالیہ برسوں کی سب سے منظم اور تباہ کن کارروائیوں میں سے ایک کے بعد، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک واضح اور بے لاگ پیغام دیا، صوبے کے مسائل کی جڑ سیاست میں نہیں بلکہ ان کے حل کے لیے مضبوط اور فیصلہ کن عسکری ردِعمل درکار ہے۔

    ان کا یہ بیان کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے مختلف شہروں میں بیک وقت کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پرتشدد لہر میں کم از کم 31 معصوم شہری اور 17 بہادر سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ تاہم، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے غیر معمولی عزم کے ساتھ جواب دیا اور صرف 40 گھنٹوں کی شدید کارروائیوں میں 145 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ برآمد ہونے والی لاشیں تحویل میں ہیں، جن میں سے بعض کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہوئی ہے، جو اس خطرے کی سرحد پار جہت کو نمایاں کرتی ہے۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے شدت پسندوں کی تعداد سے متعلق پھیلائی جانے والی مبالغہ آمیز خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ایک سے دو ہزار حملہ آوروں کی اطلاعات؟ سراسر غلط۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی تعداد 200 سے 250 سے زیادہ نہ تھی، اور ان میں سے اکثر کو یا تو پسپا کر دیا گیا یا ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بی ایل اے کی حکمتِ عملی کو بے نقاب کرتا ہے کہ اپنی طاقت کو پروپیگنڈے کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور شہری علاقوں میں عام لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا،ایک بزدلانہ طریقہ جو انہی لوگوں کی جان خطرے میں ڈالتا ہے جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ کی تشخیص بھی اتنی ہی دو ٹوک ہے، وہ منظم عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے کو براہِ راست 2018 کے بعد اختیار کی گئی مصالحتی پالیسی سے جوڑتے ہیں۔ اس سے قبل شدت پسند مسلسل دفاعی پوزیشن میں تھے۔ فرنٹیئر کور کی چوکیاں شاہراہوں پر قائم تھیں، سیکیورٹی کی موجودگی نمایاں اور مؤثر تھی، اور عسکریت پسندوں کے لیے دوبارہ منظم ہونا مشکل تھا۔ 2018 کے بعد کی “نرم” پالیسی نے انہیں سانس لینے کا موقع دیا۔ 2021 تک وہ دوبارہ منظم ہو چکے تھے، اور 2023–2024 میں مزید دلیر اور منظم ہو گئے۔ 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بگٹی حکومت نے ایک دیانت دارانہ جائزہ لیا،“ہم کیا کر رہے تھے؟ ہم انہیں کھلی چھوٹ کیوں دے رہے تھے؟” اسی احتساب نے پالیسی میں فیصلہ کن اصلاح کی راہ ہموار کی، جس میں مفاہمت کے بجائے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کو ترجیح دی گئی۔

    حالیہ حملوں کے بعد تیز رفتار، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں اس نئے عزم کے نتائج ظاہر کرتی ہیں۔ غیر ملکی مداخلت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بگٹی نے بی ایل اے کے سینئر کمانڈر بشیر زیب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب انٹیلی جنس کا 99.99 فیصد حصہ اسے افغانستان میں موجود قرار دیتا ہے۔ افغان سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور لانچ پیڈ بنی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق بی ایل اے جسے “فتنہ الہندوستان” قرار دیا گیا ہے،ملکی عدم استحکام کے لیے بیرونی سرپرستی حاصل کر رہی ہے۔ یہ الزامات بے بنیاد نہیں بلکہ متعدد انٹیلی جنس جائزوں اور سرحد پار عسکری نقل و حرکت کے مشاہدہ شدہ نمونوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

    اہم بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بی ایل اے کوئی جائز سیاسی جماعت نہیں۔ “کیا بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ پارٹی ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں؟” انہوں نے معنی خیز سوال اٹھایا۔ یہ گروہ بیلٹ کے بجائے بندوق کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ مذاکرات کی پیشکش تشدد کو انعام دینے اور قومی سالمیت سے دستبرداری کے مترادف ہوگی۔ بگٹی نے اعلان کیا، “پاکستان ایک لمحے کے لیے بھی جھکنے والا نہیں۔ وہ عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں، مگر ہمارے ملک کا ایک انچ بھی نہیں لے سکتے۔”

    سب سے زیادہ اطمینان بخش ان کا عوامی رائے سے متعلق جائزہ ہے۔ بلوچستان کے عوام کی بھاری اکثریت ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ باغیوں کے لیے ہمدردی محدود ہے،عموماً 1 سے 3 فیصد،جو دنیا بھر میں کسی بھی شورش میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی وسیع عوامی حمایت کامیاب انسدادِ دہشت گردی کی بنیاد بنتی ہے۔ جب شہری دہشت گردی کو مسترد کریں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں تو شدت پسند اپنی سانس کھو دیتے ہیں۔

    حالیہ کارروائیاں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہیں۔ قلیل عرصے میں 145 دہشت گردوں کا خاتمہ اس تنازعے کی دہائیوں میں لگنے والے شدید ترین ضربوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے، پاکستان کے پاس اپنے شہریوں اور سرزمین کے تحفظ کی صلاحیت بھی ہے اور عزم بھی۔ وزیراعلیٰ بگٹی کے مؤقف کی تائید کا مطلب حقیقت کو رومانوی بیانیوں پر ترجیح دینا ہے۔ دہشت گردی کو خوشامد سے قابو نہیں کیا جا سکتا؛ اسے فیصلہ کن انداز میں للکارنا پڑتا ہے۔ جہاں حقیقی سیاسی شکایات ہوں، وہاں مکالمہ ضروری ہے،مگر اس قیمت پر نہیں کہ شہریوں، اسکولوں، بینکوں، اسپتالوں اور سیکیورٹی تنصیبات کے خلاف مسلح تشدد کو برداشت کیا جائے۔

    بلوچستان امن، ترقی اور وقار کا مستحق ہے۔ یہ مستقبل اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑا جائے، غیر ملکی پراکسیوں کو بے نقاب کیا جائے، اور ریاست بلا چیلنج اپنی عملداری قائم کرے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی حقیقت پسند قیادت،جو ہتھیار ڈالنے سے انکار، سیکیورٹی کو ترجیح، اور عوام کو متحد کرتی ہے،قومی حمایت کی مستحق ہے۔ آگے کا راستہ مصالحت نہیں، عزم ہے۔ پاکستان متحد ہے، ہم اس جنگ کو اس وقت تک لڑیں گے جب تک ہماری سرزمین کا ہر انچ محفوظ نہ ہو جائے۔

  • بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، “آپریشن ہیروف 2” سے متعلق من گھڑت دعوے

    بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، “آپریشن ہیروف 2” سے متعلق من گھڑت دعوے

    بھارتی صحافی آدتیہ راج کول اور بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ نام نہاد “آپریشن ہیروف 2” کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 200 پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا جبکہ تنظیم کے 18 جنگجو مارے گئے، جن میں 11 مبینہ ’فدائین‘ خودکش بمبار شامل تھے۔

    حقیقت،یہ دعوے بے بنیاد، گمراہ کن اور منظم بھارتی پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔ “آپریشن ہیروف 2” درحقیقت کالعدم بی ایل اے کی جانب سے بلوچستان کے متعدد اضلاع میں کیے گئے بزدلانہ دہشت گرد حملوں کی کوشش تھی، جس میں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ معتبر اور تصدیق شدہ ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں ملوث کم از کم 145 دہشت گرد (جن میں 3 خودکش عناصر بھی شامل تھے) کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیوں کے دوران ہلاک کیا، سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکاروں کی شہادتوں کی تصدیق ہوئی، جو بھارتی ذرائع کی جانب سے پھیلائے گئے 200 ہلاکتوں کے من گھڑت دعوے سے کہیں کم ہے۔ بی ایل اے کی جانب سے 18 جنگجوؤں (بشمول مبینہ ’فدائین‘) کی ہلاکت کا دعویٰ خودساختہ ہے، جس کی کوئی آزادانہ یا مستند تصدیق موجود نہیں۔

    بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر پھیلائی جانے والی ویڈیوز اور بیانیے سیاق و سباق سے ہٹ کر، ایڈیٹ شدہ یا پرانی فوٹیج پر مشتمل تھے، جنہیں بی ایل اے کی طاقت بڑھا چڑھا کر دکھانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے 40 گھنٹوں پر محیط تیز، مربوط اور پیشہ ورانہ ردِعمل کے نتیجے میں تمام ملوث دہشت گردوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا گیا، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا گیا اور علاقے میں امن و امان بحال ہوا۔

    نتیجہ ،یہ فیکٹ چیک واضح کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی تشہیر اور پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینا ہے، جبکہ زمینی حقائق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں اور کامیابیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔