Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شاہ محمود قریشی اسپتال سے ڈسچارج، دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل

    شاہ محمود قریشی اسپتال سے ڈسچارج، دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو طبیعت میں بہتری آنے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے اور انہیں دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔

    شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی کچھ روز قبل پتے کی سرجری کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ میں زیرِ علاج تھے جہاں ڈاکٹروں نے ضروری علاج اور آپریشن کے بعد انہیں آرام کا مشورہ دیا تھا۔وکیل کا کہنا ہے کہ اب طبیعت میں نمایاں بہتری کے باعث اسپتال انتظامیہ نے انہیں ڈسچارج کردیا ہے۔رانا مدثر نے مزید بتایا کہ قریشی کے اہم میڈیکل ٹیسٹ لیے گئے ہیں جن کی رپورٹس 15 روز بعد موصول ہوں گی، جس کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے مزید علاج یا فالو اَپ کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی 9 مئی کے مقدمات میں گرفتار ہیں اور کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں، جہاں سے انہیں سرجری کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جیل حکام کے مطابق انہیں مکمل سیکیورٹی کے ساتھ واپس جیل منتقل کیا گیا ہے۔

  • فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجاب پولیس کے افسران کی جعلی ویڈیو وائرل

    فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجاب پولیس کے افسران کی جعلی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کے افسران ایف ایم پر نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں۔

    حقیقت میں‌یہ ویڈیو مکمل طور پر غلط اور اے آئی سے تیار کردہ پروپیگنڈا ہے۔جو ویڈیو 92 نیوز کے لوگو کے ساتھ گردش کر رہی ہے، وہ ایڈٹ شدہ اور جعلی ہے۔92 نیوز کی انتظامیہ نے واضح طور پر اس بات کی تردید کی ہے کہ اُن کا اس مواد سے کوئی تعلق ہے یا انہوں نے اسے نشر کیا ہے۔یہ پروپیگنڈا پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے تیار کیا گیا ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جائے اور نفرت پھیلائی جائے۔ایف آئی اے سائبر کرائم میں اُن تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف سرکاری شکایت درج کرا دی گئی ہے جنہوں نے یہ جعلی ویڈیو پھیلائی۔

    پنجاب پولیس کی جانب سے ایف ایم پر نازیبا زبان استعمال کرنے کا بیانیہ سراسر غلط معلومات ہے اور اسے نہ مانا جائے اور نہ ہی پھیلایا جائے۔

  • بھارتی دفاعی نظام کی ایک اور بڑی نا اہلی، خفیہ ترین ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر وائرل

    بھارتی دفاعی نظام کی ایک اور بڑی نا اہلی، خفیہ ترین ایٹم بم لیبارٹری کی تصاویر وائرل

    بھارتی ریاست اندھرا پردیش میں بھارت محکمہ دفاع کے زیرِ زمین ایٹم بم لیبارٹری اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی خفیہ تنصیب کی خفیہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں جس سے بھارت کے دفاعی نظام کی سب سے بڑی نا اہلی سامنے آئی ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خدشہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اس سے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور بھارت کے ہاتھوں جوہری ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہونے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

    آزاد نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سیٹلائٹ تصاویر نے بھارت کے اسٹریٹیجک عسکری ڈھانچے سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں دفاعی تجزیہ کاروں نے آندھرا پردیش کے علاقے جنگالاپلّی کے قریب ایک مبینہ زیرِ زمین بیلسٹک میزائل اسٹوریج کمپلیکس کی نشاندہی کا دعویٰ کیا ہے،سوشل میڈیا پر جاری بحث کے مطابق ان تصاویر میں مبینہ طور پر سرنگوں کے دروازے، بڑے پیمانے پر کھدائی سے نکلی مٹی کے ڈھیر (اسپائل پائلز) اور وسیع تعمیراتی سرگرمیوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں، جو عام طور پر زیرِ زمین محفوظ عسکری تنصیبات سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ یہاں نقل و حرکت اور کھدائی کا حجم اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ علاقے میں کسی مضبوط اور وسیع عسکری ڈھانچے پر کام جاری ہے۔

    تصاویر میں بلند علاقے میں واقع کئی متناسب سرنگ نما راستے دکھائی دے رہے ہیں جنہیں تجزیہ کار ممکنہ طور پر گہرے زیرِ زمین ایٹمی اسٹوریج سہولیات کے لیے استعمال ہونے والے داخلی راستے قرار دیتے ہیں۔تعمیراتی مقام کے قریب مٹی کے نمایاں ڈھیر تجزیہ کاروں کے مطابق بڑے پیمانے پر سرنگوں کے کام کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ دفاعی مبصرین نے تصاویر میں سڑکوں، باڑوں اور معاون تنصیبات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں سخت یا مضبوط پلیٹ فارم یا لانچ پیڈ نما ڈھانچے بھی موجود ہیں۔عمارتوں کا ایک جھرمٹ جو ممکنہ طور پر انتظامی یا عملی کام کے مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے، بھی تعمیراتی مراحل میں دکھائی دیتا ہے، جس سے اس جگہ کے مقاصد کے بارے میں مزید قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

    اسیٹلائٹ تصاویر شیئر کرنے والے صارفین اس مبینہ سائٹ کو بھارت کی اسٹریٹیجک صلاحیتوں میں اضافے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف برفانی تودے کا سرا ہے اور مزید مقامات کی تصاویر جلد سامنے آ سکتی ہیں۔تاحال بھارتی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔ دفاعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بڑے سول یا عسکری منصوبے بظاہر ایک جیسے دکھائی دے سکتے ہیں۔

    ادھرآزاد ڈیجیٹل کی ریسرچ کے مطابق اوپن سورس انٹیلیجنس نے بھارتی ریاست اندھرا پردیش زیرِ زمین ایٹم بم لیبارٹری اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی خفیہ تنصیب کا سراغ لگا کر اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی ہیں۔ اوپن سورس انٹیلیجنس کے مطابق یہ تنصیب گوہاٹی کے شمال میں ’26.2659 شمالی اور 91.7312 مشرقی‘ کے قریب واقع ہے، جہاں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’اگنی‘ سیریز کے ایٹمی میزائل رکھے جانے کا شبہ ظاہرکیا گیا ہے، جو ایشیا کے وسیع حصے سمیت دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تھنک ٹینکس اور او ایس آئی این ٹی کے ماہرین کی جانب سے حاصل کردہ سیٹیلائٹ تصاویر میں زیرِ زمین کمپلکس دکھائی دیتا ہے، جس میں ’متعدد سرنگوں کے داخلی راستے، انتظامی عمارتیں اور سخت حفاظتی بندوبست‘ شامل ہیں۔ یہ علاقہ برہم پترہ دریا کے نزدیک گھنے جنگلات میں واقع ہے۔رپورٹس کے مطابق اس تنصیب کی تعمیر 2014 میں شروع ہوئی تھی۔ یہ مقام ’چین کی سرحد سے تقریباً 230 کلومیٹر اور بنگلادیش سے 130 کلومیٹر‘ دور ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے ممکنہ شمالی خطرات کے خلاف ایک اہم ڈٹرنس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ’سینٹر فارانٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ’انتہائی گہرے زیرِ زمین مرکز‘ میں اگنی میزائل رکھے گئے ہیں، جو ’دنیا کے بیشتر حصوں کو نشانہ بنانے‘ کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی امن کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر جائزے کا مطالبہ سامنے آرہا ہے۔اب تک بھارتی حکام نے اس تنصیب پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا، تاہم 2020 میں ایک بھارتی فوجی افسر کے پتہ کی معلومات میں غیر ارادی تبدیلی سے ’ناگاٶں، وسطی آسام‘ میں ایک میزائل یونٹ کی موجودگی کا اشارہ بھی ملا ہے۔حالیہ مہینوں میں اوپن سورس انٹیلیجنس ماہرین نے پلیٹ فارمز ’ایکس‘ اور ’ریڈیٹ‘ پر نئی تصاویر اور مشاہدات شیئر کیے، جن میں اس سائٹ کی بھاری فورٹیفیکشن اور چین کی سمت اس کی اسٹریٹجک پوزیشننگ کو واضح کیا گیا ہے۔یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اپنی ’نیوکلیئر ٹرائیڈ‘ کو جدید ترین نظاموں سے لیس کر رہا ہے، جس میں زمینی میزائل، فضائی جوہری صلاحیت اور آبدوزوں سے فائر کیے جانے والے ہتھیار شامل ہیں۔

    ’اگنی میزائل سیریز‘، جسے ڈی آر ڈی او نے تیار کیا ہے، ’اگنی-1‘ جیسے قلیل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سے لے کر ’اگنی-5‘ تک، جس کی رینج 5 ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے، بھارت کی اسٹریٹجک صلاحیت کی بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت تقریباً ’172 جوہری وارہیڈز‘ موجود ہیں، جبکہ موجودہ پلوٹونیم اسٹاک انہیں مزید بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اندھرا پردیش کا یہ مقام بھارت کی واحد ’خفیہ‘ تنصیب نہیں بلکہ ’مورکی، راجستھان‘ کے قریب ایک اور زیرِ زمین مرکز کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں میزائل اور وارہیڈ کے ذخائر ہوسکتے ہیں۔ یہ تنصیب ’پاکستانی سرحد سے تقریباً 300 کلومیٹر دور‘ واقع ہے اور ’اگنی-1‘ اور ’اگنی-2‘ جیسے میزائلوں کی تعیناتی کے قابل سمجھی جاتی ہے۔خطے پر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ آسام اور اندھرا پردیش کی تنصیب چین کے خلاف بھارتی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جیسے کہ شمال مشرق میں ’پینا کا راکٹ لانچرز‘ کی تعیناتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تنصیبات ’وارہیڈ اور میزائل کے تیز تر ملاپ کی اہلیت بڑھاتی ہیں، اگرچہ بھارت عمومی طور پر وارہیڈز کو الگ رکھتا ہے۔ نئی دہلی نے اب تک اس تنصیب کی باضابطہ تصدیق نہیں کی،

  • نئے صوبے بننے کا فائدہ عوام  اور سیاسی پارٹیوں کو بھی ہوگا،علیم خان

    نئے صوبے بننے کا فائدہ عوام اور سیاسی پارٹیوں کو بھی ہوگا،علیم خان

    نئے صوبوں کی تشکیل پر استحکام پاکستان پارٹی نے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بننے کا فائدہ عوام کے ساتھ حکمران اور سیاسی پارٹیوں کو بھی ہوگا، اگر سندھ میں 3صوبے بنتے ہیں توحکمران جماعت 3وزرائے اعلیٰ نامزد کر سکتی ہے، سندھ کی حکمران پارٹی 3صوبوں میں عوامی مسائل کا حل اور ترقی کا دور شروع کر سکتی ہے،3صوبوں میں نئے آئی جی، نئے چیف سیکریٹریز اورنئے ہائیکورٹس بن سکتے ہیں، پنجاب میں بھی حکمران پارٹی 3سے 4مزید صوبے تشکیل دے سکتی ہے،

  • افغانستان: پنجشیر میں این آر ایف کا  طالبان کے آئی اے جی بٹالین پر حملہ

    افغانستان: پنجشیر میں این آر ایف کا طالبان کے آئی اے جی بٹالین پر حملہ

    افغانستان کے صوبہ پنجشیر میں طالبان حکومت کی انٹرنل آرمی گروپ فورسز پر مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے ایک بڑا اور منظم حملہ کیا ہے جس میں طالبان کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام اور مقامی ذرائع کے مطابق این آر ایف کے جنگجوؤں نے ضلع درہ کے علاقے عبداللہ خیل میں واقع آئی اے جی فورسز کے ایک بٹالین ہیڈکوارٹر کو رات کے وقت نشانہ بنایا۔ حملے کا آغاز ایک پری پلانٹڈ بارودی سرنگ کے دھماکے سے ہوا، جس نے کمپاؤنڈ کے مرکزی دروازے اور گارڈ پوسٹ کو شدید نقصان پہنچایا۔دھماکے کے فوراً بعد این آر ایف کے گوریلا جنگجوؤں نے ہیڈکوارٹر پر راکٹوں اور دستی بموں سے بھرپور حملہ کیا، جس سے طالبان کی صفوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ انتہائی مہارت اور پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا،ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حملے میں 12 آئی اے جی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ 5 شدید زخمی ہوئے، جنہیں قریب ترین طالبان میڈیکل پوائنٹس پر منتقل کیا گیا۔

    طالبان حکام نے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی، تاہم ہنگامی بنیادوں پر علاقے میں اضافی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں، جبکہ ضلع درہ اور ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔این آر ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ طالبان کے حالیہ آپریشنز کے جواب میں کیا گیا اور وہ پنجشیر اور دیگر شمالی علاقوں میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کریں گے۔

  • لگتا ہے یہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی مک مکا ہوا ہے،شازیہ مری

    لگتا ہے یہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی مک مکا ہوا ہے،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی رہنما، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایوان میں غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اپنا رکھا ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماء پیپلزپارٹی شازیہ مری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایوان میں غیرذمہ دارانہ طرز عمل اپنا رکھا ہے، رولز کا آج غلط استعمال کیاگیا۔ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان غیرضروری کورم کی نشاندہی کرتے ہیں۔حکومت کے رویے پر آج ہمیں افسوس ہوا،کورم موجود تھا لیکن اسپیکر کے رویے پر افسوس ہوا،پیپلز پارٹی سے ہی کورم بنتا ہے، پی ٹی آئی نے پھر شرارت کی کورم کی گنتی کی حوالے سے،لیکن ہمیں یہ لگتا ہے یہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی مک مکا ہوا ہے، کوئی اشارہ آیا اور پی ٹی آئی نے دوبارہ کورم کی گنتی کا کہا۔

  • 7 دسمبر کو کلچر ڈے کے نام پر ریاستی قانون کو پامال کیا گیا،فاروق ستار

    7 دسمبر کو کلچر ڈے کے نام پر ریاستی قانون کو پامال کیا گیا،فاروق ستار

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا ہےکہ 7 دسمبر کو سندھی کلچر ڈے کے نام پر کراچی کی شاہراؤں پر ریاست کے اندر ریاست قائم کی گئی۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھی کلچر ڈے کے نام پر کراچی کی شاہراہوں اور مختلف مقامات پر ہنگامہ آرائی، بلوہ اور تشدد کے واقعات ہوئے، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، ملک دشمنی کا اظہار کیا گیا، اسلحہ لہرا لہرا کر دکھایا گیا، یہ افسوسناک اور شرمناک عمل تھا، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،7 دسمبر کو کلچر ڈے کے نام پر ریاستی قانون کو پامال کیا گیا، ثابت کیا گیا کہ سات دسمبر کو سندھو دیش قائم کیا گیا، کئی لوگوں کو زخمی کیا گیا، وہاں پولیس مقابلہ ہوا، پولیس نے جب روکنے کی کوشش کی تو پولیس پر بھی حملے کیا گیا، یہ خوفناک اور خطرناک عمل تھا، جو مقدمہ بنایا گیا اس میں دہشتگردی، اقدام قتل اور دیگر دفعات شامل ہیں،سارے سانحے پر حکومت سندھ کے رد عمل کو دیکھنا تھا، ترجمان سندھ حکومت کی جانب سے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ردعمل دیا جاتا ہے لیکن اس پر کوئی رد عمل نہیں آیا، رنگے ہاتھوں گرفتار ملزمان کے حوالے سے عدالت کا رویہ بھی دیکھا، جن گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے خود ان کا مقدمہ لڑا، انہیں وکیل کی ضرورت ہی نہیں رہی، گرفتار اکثریت کو چھوڑ دیا گیا۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا ریلی کے شرکا نے گورنر کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی، گورنر ہاؤس پہنچ کر ریلی کے شرکاء کا اصل مقصد گورنر سندھ کو حدف تنقید بنانا تھا، گورنر سندھ کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، گورنر سندھ کی نسلوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی مگر عدالتیں خاموش ہیں، اس پر بھی ہماری عدالتیں یہ رویہ اختیار کریں، پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا گیا، کراچی کے امن کو تباہ کرکے فساد کی سازش کی گئی، ایک بار پھر بھائی سے بھائی کو لڑانے کی سازش ہو رہی ہے، کیا عدالت کسی دہشتگردی کے واقعے کے انتظار میں تھے، عدالت کہتی ہے معصوم لوگوں کی ریلی تھی، ہماری عدلیہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار ہوگئی، عدالت میں مقدمہ چلنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا، شہر میں تشویشناک صورتحال ہے، حکومت سندھ سے وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ سے کہتے ہیں کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں، جو شہر میں چین و سکون سے رہ رہے ہیں انہیں بے سکون نہ کیا جائے، سندھ ہائیکورٹ کو سارے واقعے کا سوموٹو نوٹس لینا چاہیے، ہائیکورٹ کو کوئی کمیشن قائم کرنی چاہیے اور اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

  • پنجاب حکومت نے بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دے دی

    پنجاب حکومت نے بسنت کا تہوار منانے کی اجازت دے دی

    لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت منانے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت کے ذرائع کے مطابق بسنت کا تہوار رواں سال 6، 7 اور 8 فروری کو منایا جائے گا، تاہم اس دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ بسنت کے دوران کسی بھی قسم کی فائرنگ، ہلڑ بازی یا غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ بسنت کے موقع پر پتنگ اور ڈور کے استعمال کے لیے خصوصی کیو آر کوڈ جاری کیے جائیں گے تاکہ سب قوانین کی پابندی کریں۔

    گورنر پنجاب سلیم حیدر کے دستخطوں سے جاری ہونے والے آرڈیننس میں بسنت منانے کے لیے واضح شرائط اور پابندیاں مقرر کی گئی ہیں۔ آرڈیننس کے مطابق قوانین کی خلاف ورزی پر نہ صرف جرمانہ بلکہ قید کی بھی سزا دی جا سکتی ہے۔آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں 2001 میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کی گئی تھی، اور اب 25 سال بعد محدود شرائط کے تحت دوبارہ اجازت دی گئی ہے۔ تاہم، 18 سال سے کم عمر کے بچے پتنگ بازی نہیں کر سکیں گے اور خلاف ورزی کی صورت میں والد یا سرپرست ذمہ دار ہوں گے،بسنت کے موقع پر صرف دھاگے سے بنی ڈور کے استعمال کی اجازت ہوگی، جبکہ دھات یا تیز دھار مانجھے والے دھاگے کے استعمال پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والے کو کم از کم 3 سال اور زیادہ سے زیادہ 5 سال قید، اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔مزید برآں، آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلع کے اندر ہر موٹرسائیکل حفاظتی تدابیر کے مطابق چلائی جائے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • قائم مقام اسپیکر کے رویّے سے انتہائی مایوسی ہوئی ،آصفہ بھٹو

    قائم مقام اسپیکر کے رویّے سے انتہائی مایوسی ہوئی ،آصفہ بھٹو

    پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ قائم مقام اسپیکر کے رویّے سے انتہائی مایوسی ہوئی ہے

    آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کورم موجود ہونے کے باوجود بار بار اجلاس معطل کرنا پارلیمانی نظام کا مذاق بنانے کے مترادف ہے، اسپیکر کو سیشن مؤخر کرنے کی ہدایات دی گئیں تاکہ میرا توجہ دلاؤ نوٹس پیش نہ ہو سکے،آصفہ بھٹو زرداری اجلاس کو مؤخر کرنا نہایت چھوٹی اور گھٹیا سیاسی چال قرار دیا

    دوسری جانب قومی اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن اراکین بانی پی ٹی آئی کے پوسٹرز لے آئے،اپوزیشن اراکین نے نکتہ اعتراض مانگ لیا،پینل آف چیئر نے وقفہ سوالات کے دوران نکتہ اعتراض دینے سے معذرت کر لی،پینل آف چیئر علی زاہد نے کہا کہ وقفہ سوالات میں نکتہ اعتراض نہیں دیا جائے گا۔

  • شرجیل میمن کا خواتین کے لیے ای وی اسکوٹیز کی تقسیم کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کا حکم

    شرجیل میمن کا خواتین کے لیے ای وی اسکوٹیز کی تقسیم کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کا حکم

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے خواتین کے لیے ای وی اسکوٹیز کی تقسیم کا دوسرے مرحلہ فوری شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کنول نظام بھٹو اور دیگر حکام شریک ہوئے،اجلاس میں صوبے بھر میں جاری اور آئندہ شروع ہونے والے ٹرانسپورٹ اور موبیلیٹی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پنک اسکوٹیز اسکیم کے تحت بڑی تعداد میں خواتین کو جدید اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کی جائے گی،پنک اسکوٹیز کی سہولت سے خواتین کی آمد و رفت میں آسانی اور خودمختاری کو فروغ ملے گا، نئی الیکٹرک بسیں کراچی پہنچ چکی ہیں، جو جلد شہر کے مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی، خیرپور، شکارپور اور حیدرآباد کے چار نئے روٹس پر سروے مکمل کر لیا گیا ہے، ان روٹس پر جلد بسیں چلائی جائیں گی، تمام نئے روٹس رواں ماہ ہی فعال کر دیے جائیں گے تاکہ ان اضلاع کے شہری بھی جدید سفری سہولت سے مستفید ہو سکیں، شہر کی مرکزی شاہراہوں پر مزید ڈبل ڈیکر بسوں کو شامل کیا جائے تاکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے ،

    شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت جدید، ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، ای وی بسیں، ای وی اسکوٹیز، ڈبل ڈیکر بسیں اور ای وی ٹیکسی سروس کراچی اور دیگر شہروں کو ایک نئے دور میں داخل کریں گی، تمام منصوبے براہ راست عوامی سہولت سے جڑے ہوئے ہیں، ان کو مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے ،