Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دکان میں چوری کا شبہہ، 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلادیا گیا

    دکان میں چوری کا شبہہ، 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلادیا گیا

    بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایک افسوسناک اور تشویش ناک واقعہ پیش آیا جہاں مقامی جرگے نے چوری کے شبے میں آٹھ افراد کو روایتی ’’آگ پر چلانے‘‘ کی آزمائش سے گزارا۔

    جیو نیوز کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک دکان میں چوری کے شبے نے علاقے میں تنازعہ کھڑا کیا اور جرگے نے سچ معلوم کرنے کے لیے انتہائی غیر انسانی طریقہ اپنایا۔اطلاعات کے مطابق جرگے نے آٹھ افراد کو حکم دیا کہ وہ دہکتے ہوئے انگاروں پر چل کر دکھائیں تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کون چور ہے۔ حیران کن طور پر ان میں سے کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا، جس پر جرگے نے اسے ’’بے گناہی کی نشانی‘‘ قرار دے دیا۔

    یہ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کے آئین اور قانون کے صریحاً منافی ہے۔ علاقے میں اس واقعے نے خوف اور تشویش کی فضا پیدا کردی ہے۔موسیٰ خیل کی ضلعی انتظامیہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جرگے میں شامل سات افراد کو مقدمے میں نامزد کردیا۔ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس طرح کے قبائلی فیصلے اور سزائیں غیر قانونی ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پولیس حکام کے مطابق ایک جرگہ رکن کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تفتیش کی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے غیر انسانی اور توہین آمیز رواجوں کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

  • لاہور: 48 گھنٹے بعد اغوا ہونے والا بچہ بازیاب، دو خواتین گرفتار

    لاہور: 48 گھنٹے بعد اغوا ہونے والا بچہ بازیاب، دو خواتین گرفتار

    لاہور میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کو پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کامیابی سے حل کر لیا۔ دو روز قبل لاہور کے علاقے سے اغوا ہونے والا معصوم بچہ 48 گھنٹوں کی تلاش کے بعد بادامی باغ سے سلامت حالت میں بازیاب کرا لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق بچے کے اغوا کی اطلاع ملتے ہی مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ بدھ کی صبح ایک اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے بادامی باغ میں چھاپہ مارا جہاں سے بچہ برآمد ہوا۔ترجمان پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران دو خواتین ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ بچوں کو اغوا کرکے دوسرے صوبوں میں فروخت کرنے کے مکروہ کاروبار میں ملوث تھیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران خواتین نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے بعد مزید انکشافات متوقع ہیں

  • کراچی ائیرپورٹ کے جناح ٹرمینل میں نیولا آ گیا،انتظامیہ کی دوڑیں

    کراچی ائیرپورٹ کے جناح ٹرمینل میں نیولا آ گیا،انتظامیہ کی دوڑیں

    کراچی ائیرپورٹ کے جناح ٹرمینل میں نیولے نے مٹر گشت کرتے ہوئے انتظامیہ کی دوڑیں لگوا دیں،

    ذرائع نے جیو نیوز کو بتایا کہ کراچی ائیرپورٹ کے جناح ٹرمینل کی بالائی منزل پر ایک نیولا دیکھا گیا اور نیولا ایک بند دفتر کے اندر بھی چلا گیا تھا،پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق جناح ٹرمینل کسٹمز کو ریڈور میں نیولے کی ویڈیو سامنے آنے پر نوٹس لیا گیا، ترجمان پی اے اے نے بتایا کہ متعلقہ افسران کے علم میں لاکر اقدامات شروع کردیے گئے، نیولے کو پکڑنے اور راستے کو محفوظ بنا کر حفاظتی اقدامات کررہے ہیں،اس طرح کے جانوروں کا ائیرپورٹ میں آزادانہ مٹر گشت کسی بڑی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے، نیولا حساس کمیونیکیشن کیبلز اور بجلی کی تاروں کو کاٹ سکتا ہے۔

    انٹرنیشنل ڈیپارچر سے متصل کسٹمز کوریڈور میں نیولے کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا، ایئرپورٹ منیجر، سول ڈیپارٹمنٹ اور وائلڈ لائف ہیزرڈ مینجمنٹ یونٹ کو آگاہ کردیا گیا.

  • لاہور ہائیکورٹ،پاکستان میں تنخواہ ایک ہزار ڈالر کرنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،پاکستان میں تنخواہ ایک ہزار ڈالر کرنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میں کم از کم تنخواہ ایک ہزار امریکی ڈالر مقرر کرنے کی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے دیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے فہمید نواز کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی اور ابتدائی دلائل سننے کے بعد اسے مسترد کردیا۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت ایسی درخواستیں سننے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی اور نہ ہی یہ فورم اخباری سرخیوں کے لیے درخواستیں دائر کرنے کی جگہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ کم از کم اجرت کا تعین پالیسی کا معاملہ ہے، جو متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے، عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ کم از کم اجرت عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے، لہٰذا اسے ایک ہزار ڈالر کے برابر مقرر کیا جائے۔ تاہم عدالت نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔

  • پاکستان میں دہشت گردی، افغان فوجیوں کی شمولیت کا نیا انکشاف

    پاکستان میں دہشت گردی، افغان فوجیوں کی شمولیت کا نیا انکشاف

    پاکستان کے اندر دہشت گردی میں سرحد پار عناصر کی مبینہ شمولیت سے متعلق ایک اور سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔

    آپریشن الرعد کے دوران سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلے میں افغان نیشنل آرمی کے ایک مبینہ اہلکار اختر منصور ولد عبدالرحمٰن، ساکن کندھار کو ہلاک کر دیا ہلاک شدہ افغان فوجی کے قبضے سے ایک جعلی پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہوا، جو خان محمد ولد غوث بخش، ساکن مستونگ کے نام سے جاری کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ دستاویز جعلی تھی اور دہشت گردی نیٹ ورک کی معاونت کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق اختر منصور افغان نیشنل آرمی کے 205 "البدر کور” کندھار کا موجودہ حاضر سروس اہلکار تھا۔ اس حوالے سے مزید تصدیق اور تکنیکی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    فورسز کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک یو ایس بی ڈرائیو بھی ملی ہے جس میں مبینہ طور پر افغان وزارتِ دفاع کے سرکاری کارڈز، کوائف اور خفیہ نوعیت کے ڈیٹا موجود ہے۔ اس ڈیجیٹل مواد کی فارنزک جانچ جاری ہے تاکہ اس کے ممکنہ استعمال اور نیٹ ورک کے روابط کا پتا چلایا جا سکے۔

    سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کے ان دیرینہ تحفظات کو تقویت دیتا ہے کہ سرحد پار موجود بعض ریاستی سرپرستی یافتہ عناصر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں منظم انداز میں معاونت حاصل ہے۔

  • سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    آج کا پاکستان صرف معاشی، سیاسی یا انتظامی چیلنجز کا شکار نہیں؛ ملک اپنی تاریخ کی سب سے بڑی پروپیگنڈہ، فیک نیوز اور ڈیجیٹل بیانیے کی جنگ کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔یہ جنگ روایتی نہیں۔ نہ اس میں توپیں گولے چل رہے ہیں، نہ سرحدوں پر محاذ گرم ہیں۔ اس جنگ کا میدان سوشل میڈیا ہے، اس کے ہتھیار گمراہ کن معلومات، جعلی بیانیے، آڈیو، ویڈیو ایڈیٹنگ، بوٹس، ٹرول فیکٹریاں اور ڈیجیٹل مہمات ہیں، جبکہ نشانہ عوام کا شعور اور ریاستی استحکام ہے۔

    دنیا بھر میں معلومات کی جنگ ایک نئی حقیقت ہے، مگر پاکستان میں اس کا حجم اور اثر کئی گنا بڑھ چکا ہے۔اب جھوٹی خبروں کی تخلیق ایک صنعت بن چکی ہے،ہر سیاسی، سماجی یا ریاستی مسئلہ صرف چند منٹوں میں "ٹویٹر ٹرینڈ” بن جاتا ہے،لاکھوں اکاؤنٹس بغیر شناخت کے گمراہ کن مواد پھیلا رہے ہیں،قومی سلامتی کے بیانیے مسلسل چیلنج ہو رہے ہیں،نوجوان نسل تیز ترین مگر غیر مصدقہ معلومات کی زد پر ہے،پاکستان آج ایک ایسی صورتحال میں ہے جہاں "خبر” اور "پروپیگنڈہ” میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بیانیے کی اس جنگ میں اندرونی انتشار پھیلانے والے عناصر،بیرونی مفادات کے سہولت کاراور بے نامی ڈیجیٹل اکاؤنٹس سب اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ متحرک ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی ادارے، میڈیا، تعلیمی حلقے اور باشعور شہری غیر مصدقہ، اشتعال انگیز یا گمراہ کن مواد کی نشاندہی کریں، اس کا تجزیہ کریں اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔

    ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ فیک نیوز حقیقی دنیا میں حقیقی نقصان پہنچاتی ہے۔جھوٹے بیانیے اداروں پر اعتماد کم کرتے ہیں، سماجی تقسیم بڑھاتے ہیں اور معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔اسی لیے اس ڈیجیٹل یلغار کا مقابلہ جرأت سے،ثبوت کے ساتھ،مسلسل آگاہی کے ذریعےاور سنجیدہ مکالمے کے ساتھکرنا ہوگا۔بحث ضرور کیجیے ،اختلاف بھی کیجیے، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ نہ جذباتیت میں آئیں، نہ بغیر تحقیق کے کسی بیانیے کا حصہ بنیں۔

    پاکستانی سیاست میں ایک واضح تقسیم موجود ہے۔عمران خان کا سیاسی طرزِ عمل، بیانیہ، اور پھر اسے سوشل میڈیا پر جس شدت کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے، ایک ایسے ماحول کو جنم دیتا ہے جو ریاستی اداروں سے ٹکراؤ،سیاسی انتہا پسندی،اور قومی بیانیے میں انتشارجیسے عوامل کو بڑھا دیتا ہے۔پاکستان کی استحکام کی ضرورتیں اور عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی ایک ہی سمت میں نہیں چل سکتیں،حقیقت یہ ہے کہ “پاکستان اور عمران ساتھ نہیں چل سکتے”

    پاکستان کو اس جنگ میں کامیابی کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں عوام میں ڈیجیٹل لٹریسی بڑھائی جائے،لوگ سیکھیں کہ خبر کی تصدیق کیسے کرتے ہیں، کس چیز کو شیئر نہیں کرنا چاہیے، اور کونسی معلومات مشکوک ہو سکتی ہے۔سوشل میڈیا قوانین کا مؤثر اور متوازن نفاذہونا چاہئے،ریاست اور عوام دونوں کو آزادیِ اظہار برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی سلامتی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ دارانہ ڈیجیٹل حکمتِ عملی ترتیب دینی ہو گی،سیاسی بیانیہ اختلاف پر ہو، نفرت، گالی یا گمراہی پر نہیں۔ نوجوان نسل کی تربیت کرنی ہو گی،انہیں یہ سمجھانا کہ آن لائن دنیا اصل دنیا سے الگ نہیں یہاں پھیلایا گیا جھوٹ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔

    پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔بیانیے کی یہ جنگ ہمارے معاشرتی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جھوٹ کو چیلنج کریں،سچ کی حمایت کریں،اور کسی بھی سیاسی اختلاف کے باوجود پاکستان کو مقدم رکھیں،کیونکہ آخر میں ریاست، ادارے اور قوم ہی اصل حقیقت ہیں، بیانیے نہیں۔

  • ڈی پی او ہنگو کے ساتھ غیر مناسب رویہ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے معافی کا مطالبہ

    ڈی پی او ہنگو کے ساتھ غیر مناسب رویہ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے معافی کا مطالبہ

    پشاور پولیس لائنز میں پولیس کے لئے جدید آلات کی ایک تقریب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ڈی پی او ہنگو خانزیب کو وہ واقعہ یاد دلایا جس کی ایک تصویر پہلے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہی تھی، جہاں خانزیب انگلی سے اشارہ کرتے دکھائی دیے تھے۔ اس مکالمے نے تقریب کا ماحول سرد کر دیا اور بعد ازاں یہ معاملہ صوبائی سطح پر بھی گفتگو کا باعث بن گیا۔

    ذرائع کے مطابق خانزیب کو ڈی پی او صوابی تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے احتجاج کے بعد حکومت نے فیصلہ واپس لیتے ہوئے انہیں دوبارہ ایک نہایت حساس اور اہم ضلع ہنگو کی ذمہ داری سونپ دی۔ ہنگو کو عرصہ دراز سے ہائی رسک زون سمجھا جاتا ہے جہاں پولیس کو دہشتگردی کے مسلسل خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

    ہ وزیراعلیٰ کا اس طرح کا رویہ نہ صرف ایک پیشہ ور افسر کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ پوری فورس کے مورال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ وئی بھی پولیس اہلکار جب وردی میں ڈیوٹی پر موجود ہو تو اس کے فرائض، ذمہ داریاں اور پروٹوکول واضح طور پر طے ہوتے ہیں۔ “ضروری نہیں کہ تصویر میں جو نظر آئے وہی حقیقت ہو، پولیس اہلکار ہر وقت دباؤ اور حساس حالات کا سامنا کرتے ہیں”،خیبر پختونخوا پولیس گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان برداشت کر رہی ہے، اور فرنٹ لائن فورس ہونے کے ناطے ہر روز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ ڈی پی او ہنگو کی تقریب میں موجودگی بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، جہاں وہ اپنی فورس کے لیے جدید اسلحہ اور آلات وصول کرنے آئے تھے تاکہ دہشتگردی کے خلاف آپریشنز میں مزید مؤثر کردار ادا کیا جاسکے۔

    صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کی جانب سے سرِعام اس طرح کا رویہ افسران کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ نہ صرف ڈی پی او ہنگو بلکہ پوری پولیس فورس سے فوری معذرت کریں، تاکہ فورس کا مورال بحال ہو اور پولیس اپنے فرائض پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ سرانجام دے سکے۔

  • وفاقی حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم

    وفاقی حکومت نیب کے ذریعے سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم

    عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے تقریب وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب کی غیر معمولی کارکردگی پر ادارے کے افسران اور قیادت کی تحسین کی۔ وزیراعظم نے اس بات کو واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے لیۓ مالی، انتظامی اور ادارہ جاتی شفافیت اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نیب کے ذریعے کسی بھی قسم کے سیاسی انتقام اور کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتی۔ عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن دنیا کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ بدعنوانی کے مضر معاشرتی اثرات کی حوصلہ شکنی اور بدعنوانی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کے اپنے عزم کی تجدید کریں۔ وزیراعظم نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی بدعنوانی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس ضمن میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور تمام متعلقہ ادارے بھرپور طریقے سے اور بڑی تندہی سے کارروائی کر رہے ہیں تاکہ ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے نیب کی کاروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ منظم مالی جرائم کے باعث اپنی رقوم سے محروم ہونے والے شہریوں کی بروقت داد رسی سے نیب پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔

    تقریب سے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے بھی خطاب کیا اور نیب کی حالیہ چند سالوں اور بالخصوص اس سال میں کارکردگی پر وزیراعظم اور حاضرین کو بریفنگ دی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ تمام متعلقہ ریاستی اداروں کے ساتھ باہمی اور موثر تعاون سے نیب نے 2025 میں 5.1 ٹریلین روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی غیر معمولی وصولیاں ممکن بنائیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ 2022 کے بعد سے قومی احتساب بیورو میں اصلاحاتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے گئے ہیں جس سے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کاعالمی دن وزیراعظم ہاؤس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ احتساب اور جوابدہی حکومت کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں.

    تقریب کے اختتام پر نیب کی غیر معمولی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرنے والے نیب افسران کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا۔وزیر اعظم نے اعلی کارکردگی دکھانے والے نیب افسران کو انعام کے طور پر تین اعزازیہ یا عمرے کی ادائیگی کاموقع فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں. تقریب میں UNODC کے نمائندے نے اقوام متحدہ اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل آف یوتھ افیئرز فلپ پولیر کا پیغام پڑھ کر سنایا. تقریب میں نائب وزیراعظم و وفاقی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نزیر تارڑ، نیب کے افسران، ڈی جی ایف آئی۔ اے۔، ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان، سرکاری افسران اور دیگر شرکاءنے شرکت کی۔

  • این سی سی آئی اے کے کرپٹ افسران پر ماہانہ  ڈیڑھ کروڑ بھتہ لینے کا الزام

    این سی سی آئی اے کے کرپٹ افسران پر ماہانہ ڈیڑھ کروڑ بھتہ لینے کا الزام

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے گریڈ 16 سے 19 کے 10 افسران بھتہ لینے میں ملوث نکلے۔

    این سی سی آئی اے کے کرپٹ افسران پر ماہانہ ڈیڑھ کروڑ بھتہ لینے کا الزام، دو ایف آئی آرز میں گریڈ 16 سے گریڈ 19 کے 10 افسران ملوث نکلے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی معاملہ اٹھایا گیا، کمیٹی کا کہنا ہے کہ کتنے افسران ملوث ہیں، تفتیش ہونی چاہیے؟۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں رپورٹ پیش کی گئی، حکام نے بتایا کہ کرپٹ افسران سے 42 کروڑ روپے ریکور کرلیے ہیں۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ این سی سی آئی اے سے نہیں تھرڈ پارٹی سے تفتیش کرائیں گے، دودھ کی رکھوالی بلی کو سونپ دی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 2 ایف آئی آرز کاٹی گئیں،ایک لاہور، ایک اسلام آباد میں کوئی افسر طلبی کے باوجود پیش نہ ہوا، بدعنوانی پکڑنے کے ذمہ دار ادارے کے اہلکار خود کرپشن میں ملوث نکلے۔ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کمیٹی کو میڈیا میں رپورٹ ہونے والی غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ 1.5 کروڑ روپے کی مبینہ غیر قانونی ادائیگیوں سے متعلق بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ دو ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، ایک لاہور میں اور ایک اسلام آباد میں۔ چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کے نمائندوں کی آئندہ کمیٹی اجلاس میں حاضری یقینی بنائی جائے

  • ایف سی ہیڈکوارٹر ژوب میں کھلی کچہری،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر ژوب میں کھلی کچہری،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر ژوب میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی، کمشنر ژوب ڈویژن ،ڈپٹی کمشنر ژوب، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری میں ژوب کے علاقوں میں درپیش مسائل کے حل، امن و استحکام کے قیام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا گیا۔آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے۔ عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور ہم سب نے مل کر وطن دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست دینی ہے۔ علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے۔قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل کے حل کا ایک اہم جزو ہے۔ ہم نے اپنے مسائل بیان کیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ حکومت بلوچستان ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی۔ کھلی کچہری کے دوران مقامی عمائدین نے تعلیم وصحت اور روڈز کی حالتِ زار اور سیکورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جو علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔شرکاء نے اس عزم کا ا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی خوشحالی اور امن کے لیے بلوچستان حکومت، سیکیورٹی فورسز ، ضلعی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
    balochistan