Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    قندھار میں طالبان کے ٹھکانے نشانہ، گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ

    پاکستان کی جانب سے دشمن کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے جس میں قندھار سے سرحدی علاقوں تک طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا یا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بھاری توپ خانے نے کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا۔

    اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے دوران قندھار میں طالبان کے اہم تزویراتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں طالبان کے گیارہ تزویراتی مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور وہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ذرائع کے مطابق ان مراکز کو عسکری اہمیت حاصل تھی اور انہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے اہم کردار ادا کیا جبکہ بھاری توپ خانے کی مدد سے بھی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں قندھار سمیت سرحد کے قریب موجود متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائی کا مقصد دشمن کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کا مؤثر اور فوری جواب دینا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران انتہائی اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں طالبان کے تزویراتی مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔
    بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں قندھار میں موجود طالبان کے گیارہ مراکز مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور ان کی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔ ذرائع کے مطابق یہ مراکز عسکری لحاظ سے اہم سمجھے جاتے تھے۔
    اس کارروائی کو ایک بڑا اور فیصلہ کن اقدام قرار دیا جا رہا ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بھاری توپ خانے نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ اس کارروائی کو دشمن کی اشتعال انگیزی کے جواب میں کیا گیا جس میں پاکستان کی فضائی اور زمینی عسکری صلاحیتوں کا استعمال کیا گیا۔ اس دوران قندھار میں طالبان کے گیارہ تزویراتی مراکز تباہ ہو کر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔

  • سربیا جنگ کی تیاریوں میں مصروف، خطے میں کشیدگی کا خدشہ

    سربیا جنگ کی تیاریوں میں مصروف، خطے میں کشیدگی کا خدشہ

    سربیا کے صدر نے کہا کہ کروشیا، البانیہ اور کوسوو مبینہ طور پر سربیا پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    صدر ووچیچ نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ ممالک موجودہ عالمی حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی امید ہے کہ اگر روس اور یورپ کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والا انتشار ان ممالک کو سربیا کے خلاف کارروائی کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی بعض ممالک کے لیے ایسا ماحول پیدا کر سکتی ہے جس میں وہ اپنے علاقائی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

    صدر ووچیچ نے اس موقع پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ سربیا کے پاس جدید انتہائی تیز رفتار بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جو ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ سربیا اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سربیا کا نیٹومیں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے

  • افغان طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت کی خبر جھوٹی قرار

    افغان طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت کی خبر جھوٹی قرار

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کو فیک نیوز قرار دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ پاکستانی فوج کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔

    اطلاعات کے مطابق افغانستان کی مزاحمتی تنظیم این آر ایف سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج نے ایک کارروائی کے دوران طالبان کے امیر کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس حوالے سے کسی قسم کے شواہد یا قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔سرکاری اور معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایسی کوئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی جس میں ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ دفاعی اور سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر مصدقہ معلومات اکثر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا یا معلوماتی جنگ کے طور پر پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوام میں کنفیوژن پیدا کیا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس وقت تک ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہلاکت سے متعلق کوئی مستند یا تصدیق شدہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں من گھڑت اور گمراہ کن قرار دی جا رہی ہیں۔

  • زرنج ایئر بیس،جبہ استقلال کا حملہ،ہیلی کاپٹر تباہ

    زرنج ایئر بیس،جبہ استقلال کا حملہ،ہیلی کاپٹر تباہ

    افغانستان کے صوبہ نیمروز میں واقع زرنج ایئر بیس پر ایک حملے کے نتیجے میں وہاں کھڑا ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حملہ ایک کارروائی کے دوران کیا گیا جس میں “جبۂ استقلال” نامی گروپ نے زرنج ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔حملہ فوجی اڈے پر کیا گیا، جہاں بیس کے اندر پارک کیا گیا ایک ہیلی کاپٹر نشانہ بنا۔ حملے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچا اور وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

  • طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    طالبان نے افغان عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ،احمد مسعود

    افغانستان کے معروف مزاحمتی رہنما اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود نے طالبان حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے عوام کو دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے لیے قربان کر دیا ہے۔

    یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو افغانستان کی اسلامی وحدت پارٹی کے سابق رہنما عبدالعلی مزاری کی شہادت کی 31ویں برسی کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔تقریب سے خطاب میں احمد مسعود نے کہا کہ طالبان کی موجودہ پالیسیوں کے باعث افغانستان ایک بار پھر خطے میں سلامتی اور جیوپولیٹیکل کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ طالبان مختلف شدت پسند تنظیموں کو پناہ دے رہے ہیں جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ طالبان نے متعدد بین الاقوامی اور علاقائی عسکریت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں جن میں القاعدہ، انصاراللہ، جیش العدل، ٹی ٹی پی سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔

    نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ کے مطابق طالبان کی ان پالیسیوں نے افغانستان کو ایک ایسے میدان میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے مفادات کے تحت سلامتی اور سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

    احمد مسعود نے اپنے خطاب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین پر عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کے باعث پاکستان کی فوجی کارروائیاں اور سرحدی حملے سامنے آئے ہیں،موجودہ کشیدہ صورتحال دراصل طالبان کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کا نتیجہ ہے

  • افغانستان: تخار میں حملہ، بدخشاں کے پولیس چیف معراج الدین ہلاک

    افغانستان: تخار میں حملہ، بدخشاں کے پولیس چیف معراج الدین ہلاک

    افغانستان کے صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو جہنم واصل کر دیا۔

    اطلاعات کے مطابق خارجی معراج الدین بدخشاں سے تخار جا رہا تھا کہ راستے میں نیشنل ریزسٹنس کے جنگجوؤں نے اس کی گاڑی کو گھات لگا کر مار ڈالا، جنگجوؤں نے اچانک فائرنگ کر کے گاڑی کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔حملہ انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا،حملے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ان کے ساتھ موجود دیگر افراد کے بارے میں فوری طور پر واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • ایران میں امریکی و اسرائیلی جاسوسی کے الزام میں 33 افراد گرفتار

    ایران میں امریکی و اسرائیلی جاسوسی کے الزام میں 33 افراد گرفتار

    ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل کے لیے مبینہ طور پر حساس معلومات جمع کرنے کے الزام میں 33 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان افراد کو انٹیلیجنس ونگ نے کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ ایران کے فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مراکز سے متعلق معلومات اور تصاویر اکٹھی کر رہے تھے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر ایران میں ممکنہ فوجی اہداف اور حملوں سے متعلق معلومات بھی جمع کر رہے تھے، جنہیں امریکا اور اسرائیل تک پہنچانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان کے نیٹ ورک کے ممکنہ دیگر ارکان کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • ترکیہ کا ایران کے میزائل حملوں کی تردید پر اعتراض، تکنیکی شواہد پیش کرنے کا دعویٰ

    ترکیہ کا ایران کے میزائل حملوں کی تردید پر اعتراض، تکنیکی شواہد پیش کرنے کا دعویٰ

    ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ترکیہ نے ایران کی جانب سے ترک سرزمین کی طرف میزائل فائر کرنے کی تردید کو چیلنج کر دیا ہے اور اس حوالے سے انقرہ کے پاس تکنیکی شواہد موجود ہیں جو ایرانی مؤقف سے متصادم ہیں۔

    دارالحکومت انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ ترک حکام نے میزائل لانچنگ سے متعلق مفصل تکنیکی ڈیٹا اور شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا کی روشنی میں ایران کی جانب سے میزائل فائر نہ کرنے کا دعویٰ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ترکیہ اس معاملے پر ایران کے حکام کے ساتھ باضابطہ رابطے میں ہے اور ان سے ان تضادات کی وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے کیونکہ یہ علاقائی سلامتی اور خودمختاری سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیہ کی سیکیورٹی اور دفاعی اداروں نے میزائلوں کی پرواز، سمت اور ممکنہ لانچ پوائنٹس سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ میزائل ترک حدود کی جانب فائر کیے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے میزائلوں کی تعداد یا ان کے درست مقام کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس نے ترکیہ کی سرزمین کی طرف کوئی میزائل فائر نہیں کیا اور ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی اقدامات مخصوص اہداف تک محدود ہوتے ہیں اور وہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔

  • خلیجی پانیوں میں دو ہفتوں کے دوران 17 جہازوں پر حملے، ایک شخص ہلاک

    خلیجی پانیوں میں دو ہفتوں کے دوران 17 جہازوں پر حملے، ایک شخص ہلاک

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خلیجی سمندری راستوں میں کم از کم 17 جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ یہ معلومات برطانیہ کی سمندری سکیورٹی تنظیم نے جاری کی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا ہے، جو بھارتی شہری تھا۔ اس ہلاکت کی تصدیق عمان میں موجود عمان میں بھارتی سفارتخانے نے بھی کی ہے۔حملے زیادہ تر اہم سمندری راستوں کے اطراف میں رپورٹ ہوئے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

    یکم مارچ:
    UKMTO کے مطابق آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں کو میزائل نما گولوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک اور ٹینکر بحرین میں لنگر انداز ہونے کے دوران حملے کی زد میں آیا۔ اسی روز خلیج عمان میں MKD VYOM نامی ٹینکر پر حملہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ مزید ایک جہاز کے قریب بھی گولہ پھٹنے کی اطلاع دی گئی۔

    3 مارچ:
    خلیج عمان میں لنگر انداز دو جہازوں پر حملہ کیا گیا جبکہ ایک کارگو جہاز کے قریب ڈرون بھی دیکھا گیا جس نے پانی میں گر کر دھماکہ کیا۔

    4 مارچ:
    آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں دو جہازوں کے اندر دھماکے رپورٹ ہوئے جبکہ ایک اور جہاز سے تقریباً ایک ناٹیکل میل کے فاصلے پر گولہ پھٹنے کی اطلاع ملی۔

    6 مارچ:
    آبنائے ہرمز میں ایک ٹگ بوٹ کو گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    7 مارچ:
    خلیج فارس میں سمندر میں قائم ایک آئل ڈرلنگ رگ کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عملے کے کچھ افراد زخمی ہوئے اور اہلکاروں کو فوری طور پر نکالنا پڑا۔

    10 مارچ:
    خلیج فارس میں ایک جہاز پر گولہ گرنے سے اس کے ڈھانچے کو ممکنہ نقصان پہنچا۔

    11 مارچ:
    آبنائے ہرمز میں Mayuree Naree نامی کنٹینر شپ کو نشانہ بنایا گیا جبکہ خلیج فارس میں مزید تین جہاز بھی حملوں کا شکار ہوئے۔

    12 مارچ:
    خلیج فارس میں ایک کنٹینر جہاز پر گولہ لگنے سے آگ بھڑک اٹھی۔

    ماہرین کے مطابق ان حملوں نے خطے میں سمندری سکیورٹی اور عالمی تیل کی ترسیل کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

  • افغان رجیم کے  پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

    افغان رجیم کے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

    وزارت اطلاعات نے افغان رجیم کے وزارت دفاع کی جانب سے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو گمراہ کرنے کےلیے بنایا گیا ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان رجیم کے دعووں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد افغان وزارت دفاع کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے اور نقصان پہنچانے کا دعویٰ من گھڑت ہے، یہ جھوٹا دعویٰ افغان عوام کو گمراہ کرنے کےلیے بنایا گیا۔ افغان عوام خود ان دہشت گردوں کے باعث براہِ راست مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں،پاکستانی وزارت اطلاعات افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے نقصانات اور ہلاکتوں سے اپڈیٹ کرتی رہتی ہے،دہشت گردوں اور معاون ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں احتیاط برتی جارہی ہے، دہشت گردوں اور بھارتی میڈیا، سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے دعووں میں کوئی صداقت نہیں، طالبان رجیم کے بےبنیاد دعووں کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا، جب بھی ان دعووں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے تو ہمیشہ غلط ثابت ہوئے۔