Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جے یو آئی کا 8 فروری کودھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

    جے یو آئی کا 8 فروری کودھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

    جے یو آئی نے 8 فروری 2024 کے متنازع اور بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو ملک بھر میں یومِ سیاہ منائیں گے ،جمہوریت دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔آئین پاکستان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان راولپنڈی میں مرکزی احتجاجی پروگرام سے خطاب کریں گے ۔تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔غیور عوام حکمرانوں کی قرآن و شریعت کے متصادم آئین سازی کے خلاف احتجاج کریں گے ۔مہنگائی ،بے روزگاری ،بدامنی ،،لاقانونیت ، کے خلاف عوام کے شانہ بشانہ ہونگے ۔عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ قبول نہیں ۔شریعت ،آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن راستہ اختیار کریں گے ۔کارکن تیاری مکمل کریں ۔

  • انسانیت شرمسار گھر کا صحن مقتل بن گیا ،نومولود بے رحمی کی بھینٹ چڑھ گیا

    انسانیت شرمسار گھر کا صحن مقتل بن گیا ،نومولود بے رحمی کی بھینٹ چڑھ گیا

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے کنیٹ خلیل میں انسانیت لرز اٹھی۔ گیارہ دن کا معصوم بچہ بے رحمی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کئی روز سے لاپتہ نومولود کی لاش گھر کے صحن میں موجود کنویں سے برآمد ہونے پر علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

    تفصیلات کے مطابق، کنیٹ خلیل کے رہائشی کامران ولید کا 11 روزہ شیر خوار بچہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا، جس کا مقدمہ تھانے میں درج کرایا گیا تھا۔ والدین اپنے جگر گوشے کی واپسی کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے، مگر آج بروز اتوار اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب لاپتہ بچے کی لاش گھر کے اندر موجود کنویں میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاش کو کنویں سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا۔ معصوم جان کے ساتھ پیش آنے والے اس وحشیانہ واقعے نے ہر آنکھ پرنم کر دی ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے۔ اس افسوسناک واقعے پر علاقہ مکینوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔

  • ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ، وزیراعلیٰ سندھ

    ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی کے علاقے میں پیش آنے والے المناک سانحہ گل پلازا پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت سندھ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور گل پلازا کی جگہ پر نئی سرکاری عمارت تعمیر کی جائے گی۔

    وہ کورنگی کازوے پل کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازا کے واقعے پر وہ تفصیل سے بات کریں گے، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ان کے لواحقین کے دکھ کا ازالہ ممکن نہیں، لیکن حکومت ہر ممکن حد تک متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے ورثاء کو حکومت سندھ کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی کا مناسب وقت نہیں، ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ہے، بعض اوقات غیر سنجیدہ تنقید کی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سانحہ گل پلازا کے بعد عمارت کو سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ گل پلازا کے ہر دکاندار کو دو ماہ تک 5،5 لاکھ روپے دے گی تاکہ وہ اس عرصے میں اپنے گھریلو اخراجات پورے کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ دکانوں میں موجود سامان کے نقصانات کا ازالہ کراچی چیمبر آف کامرس کی مدد سے کیا جائے گا، جبکہ حکومت سندھ مجموعی نقصانات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے ان افراد کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے متاثرہ تاجروں کو اپنی عمارتوں میں متبادل جگہ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جب تک گل پلازا کی نئی عمارت مکمل نہیں ہو جاتی، اس عرصے کے دوران دکانداروں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی رہے گی۔ دو ماہ کے اندر اندر متاثرہ تاجروں کو متبادل دکانیں فراہم کر دی جائیں گی تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے دکانوں کے لیے ایک کروڑ روپے تک کی سہولت فراہم کی جائے گی اور نئی تعمیر میں جتنی دکانیں پہلے موجود تھیں، ان سے ایک انچ بھی زیادہ تعمیر نہیں کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ حکومتی سطح پر کوتاہیاں بھی رہی ہیں، جنہیں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے کے بعد دیگر صوبوں میں بھی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ سندھ میں تمام عمارتوں کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، خاص طور پر وہ عمارتیں جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر چیک کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ سروے کے بعد عمارت مالکان کو بتایا جائے گا کہ ایک ہفتے کے اندر کون سے حفاظتی اقدامات لازم ہیں، اور جو عمارتیں ان ہدایات پر عمل نہیں کریں گی، انہیں سیل کر دیا جائے گا، اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے تاجر برادری سے تعاون کی اپیل بھی کی۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے، چاہے وہ ان کے خلاف ہو یا میئر کے خلاف، تو اسے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقید سب کا حق ہے، سوال ضرور کریں لیکن ایسے بیانات نہ دیے جائیں جو حالات کو مزید خراب کریں۔انہوں نے میڈیا سے بھی درخواست کی کہ اس حساس موقع پر ایسے سوالات نہ کیے جائیں جن سے غیر ضروری تنازع کھڑا ہو، کیونکہ یہ وقت سیاسی یا الزامی بحث کا نہیں بلکہ متاثرین کے دکھ میں شریک ہونے اور عملی اقدامات کرنے کا ہے۔

    کورنگی کازوے پل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ کورنگی کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کے بعد شہر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا، جس کے حل کے لیے تین سال قبل یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل پل پر کام شروع ہوا، تاہم ڈیزائن کے کچھ مسائل درپیش تھے۔ اس منصوبے پر 6 ارب روپے سے زائد لاگت آئی ہے اور اس سے انڈس یونیورسٹی، ایس آئی یو ٹی سمیت مختلف جامعات کے طلباء اور شہریوں کو فائدہ پہنچے گا،وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سندھ مسلسل کام کر رہی ہے اور عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم نائن تک کھول دیا جائے گا، جو شہر کے ٹریفک مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار

    اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی شعبے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت 7.4 فیصد پر برقرار ہے، جو پالیسی ریٹ کے حوالے سے ایک اہم اشاریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا جا رہا ہے تاہم بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور موجود ہے، جس پر اسٹیٹ بینک گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    جمیل احمد نے بیرونی شعبے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) میں کمی جبکہ درآمدات (امپورٹس) میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تجارتی توازن کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درآمدی دباؤ کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ مانیٹری پالیسی کا بنیادی مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا، مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ پالیسی فیصلے آنے والے معاشی اعداد و شمار، عالمی مالیاتی حالات اور اندرونی معاشی دباؤ کو دیکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

    ماہرینِ معیشت کے مطابق شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو وقتی استحکام ملے گا، تاہم برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کا رجحان طویل مدت میں معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

  • بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی چھت مانگنے کی درخواست مسترد

    بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی چھت مانگنے کی درخواست مسترد

    لاہور میں بسنت کی تقریبات سے متعلق ایک منفرد مگر متنازع درخواست پر سیشن کورٹ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔

    ایک مقامی وکیل کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی عمارت کی چھت فراہم کرنے کی استدعا کی گئی۔درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے وکیل کے مؤقف کو غور سے سنا تاہم سیشن کورٹ نے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے درخواست کو خارج کر دیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سیشن کورٹ کا احاطہ ایک انتہائی حساس اور سیکیورٹی زون ہے، جہاں عدالتی کارروائیاں اور سرکاری امور انجام دیے جاتے ہیں، ایسے میں کسی بھی قسم کی تفریحی یا عوامی تقریب کی اجازت دینا سنگین سیکیورٹی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ ماضی میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس کے پیش نظر عدالتی عمارت جیسے حساس مقامات پر اس نوعیت کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سیشن کورٹ نے مزید واضح کیا کہ قانون اور سیکیورٹی ضوابط کے تحت عدالتی عمارتوں کا استعمال صرف اور صرف سرکاری و عدالتی مقاصد کے لیے مخصوص ہے، جبکہ عوامی یا تفریحی تقریبات کے لیے دیگر مناسب مقامات موجود ہیں۔

  • ایران کاکسی بھی ممکنہ جارحیت پر سخت ردعمل کا اعلان

    ایران کاکسی بھی ممکنہ جارحیت پر سخت ردعمل کا اعلان

    تہران: ایران نے کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کی صورت میں بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کا دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے اور کسی بھی حملے کا مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ترجمان نے واضح کیا کہ غیر رسمی یا پرائیویٹ پیغامات کا تبادلہ باقاعدہ سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاملات میں شفاف، سنجیدہ اور باضابطہ سفارتی مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے، جبکہ خفیہ یا غیر رسمی رابطے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق روس اور چین کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعاون پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تعاون علاقائی استحکام، مشترکہ مفادات اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے، اور ایران اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

    بیان میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مغربی ممالک نے عالمی اقتصادی فورم کے ڈیووس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کو سائیڈ لائن سفارتی ملاقاتوں سے روکنے کی کوشش کی۔ ترجمان کے مطابق اس اقدام سے مغربی طاقتوں کی دوغلی پالیسی اور سفارتی عدم برداشت ظاہر ہوتی ہے، جو بامعنی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ایرانی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی جارحیت، دباؤ یا دھمکی کا جواب اپنی قومی صلاحیتوں کے مطابق دیا جائے گا۔ ایران نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات کے بجائے مکالمے اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھے۔

  • سارا انعام قتل کیس،مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری

    سارا انعام قتل کیس،مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کے خلاف اپیل پر نوٹس جاری کر دیا۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی،وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ ثمینہ شاہ کی بریت کی درخواست پر پہلے فیصلہ کیا جائے، جس جگہ قتل ہوا اس جگہ ثمینہ شاہ موجود تھیں،جسٹس انعام امین منہاس نے وکیل سے سوال کیا کہ ثمینہ شاہ کا کردار کیا تھا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو بلایا۔
    وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ جی ثمینہ شاہ نے ہی پولیس کو بلایا تھا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ میں پہلے بریت کی درخواست پر دلائل دینا چاہوں گا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے سوال کیا کہ آپ ہمیں بتا دیں آپ کے پاس کون سا اہم ثبوت ہے،جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ گھر میں اور کون موجود تھا،وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ گھر میں اس وقت ملازم بھی موجود تھے، پہلے بریت پر دلائل ہوئے تو مرکزی کیس پر اثر پڑے گا،عدالت نے سارا انعام قتل کیس کی سماعت 17 فروری تک ملتوی کر دی،واضح رہے کہ ستمبر 2022 کو سارا انعام کو اُن کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا۔

  • یوٹیوبر رجب بٹ ،ندیم مبارک کی  ضمانت میں توسیع

    یوٹیوبر رجب بٹ ،ندیم مبارک کی ضمانت میں توسیع

    لاہور کی سیشن کورٹ نے آن لائن جوئے کی تشہیر کے مقدمے میں نامزد معروف یوٹیوبر رجب بٹ اور ندیم مبارک کی عبوری ضمانت میں 16 فروری تک توسیع کردی۔

    ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے کیس کی سماعت کی، جس میں عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر دونوں ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد رجب بٹ اور ندیم مبارک کی عبوری ضمانت میں توسیع کا حکم جاری کیا۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ تفتیشی افسر کو کیس سے متعلق ریکارڈ جمع کروانے کے لیے پہلے ہی مہلت دی جاچکی ہے، تاہم مقررہ وقت میں مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا جاسکا۔ اس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو مزید مہلت دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    استغاثہ کے مطابق ملزمان پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن جوئے کی تشہیر کرنے کا الزام ہے، جو کہ ملکی قوانین کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزمان نے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

    ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ رجب بٹ اور ندیم مبارک بے گناہ ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر کیے گئے مواد کی بنیاد پر بلاجواز مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، جبکہ کیس میں مزید تفتیش درکار ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ملزمان کو عبوری ضمانت پر برقرار رکھا۔

  • بلوچستان کے کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد، فٹبال سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

    بلوچستان کے کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد، فٹبال سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ

    بلوچستان کے کھیل کے میدان ایک بار پھر آباد، فٹبال سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    63 فٹبالرز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت کے لیے 6 رکنی غیر ملکی کوچنگ ٹیم کوئٹہ پہنچ گئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ 12 خواتین کھلاڑیوں سمیت نوجوان فٹبالرز کی فنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح تک لے جائیں گے،بلوچستان کے کھیل کے میدانوں میں ایک بار پھر رونق لوٹ رہی ہے، 63 فٹبالرز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت کا آغاز، 12 خواتین کھلاڑی بھی پروگرام کا حصہ ہیں، 6 رکنی غیر ملکی کوچنگ ٹیم کوئٹہ پہنچ گئی، جدید ٹریننگ سے فٹبالرز کی فنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا،غیر ملکی کوچز کی نگرانی میں جدید اور پروفیشنل ٹریننگ سیشنز کا انعقاد خوش آئند ہے، تربیتی سیشنز سے کھلاڑیوں کے حوصلے، اعتماد اور پیشہ ورانہ مہارت میں نمایاں بہتری آئے گی،صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے، بلوچستان کے کھلاڑیوں کو قومی و بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے،

  • سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا

    سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا

    سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا، مالک کے انتقال کے بعد قانونی وارث ازخود مالک بن جاتے ہیں، نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا۔سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد قانونی وارث ازخود مالک بن جاتا ہے، مالک کے انتقال کے بعد نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں، متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی نہیں۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس سنا، جسٹس شکیل احمد نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔