Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے،خالد مسعود سندھو

    بنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نےکہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئےبنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے،پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہئے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کا پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ دوہرا رویہ کھل کر سامنے آیا ہے،ایشیا کپ میں بھارت نے جب پاکستان میں سیکورٹی بہانہ بنا کر پاکستان نہ آنے کا کہا تو آئی سی سی نے میچز دبئی منتقل کر دیئے اور اب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئے بنگلہ دیش نے بھارت میں سیکورٹی خدشات کی وجہ سے کھیلنے سے انکار کیا تو آئی سی سی نےمیچز کسی اور ملک منتقل کرنے کی بجائے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے ہی نکال دیا، آئی سی سی کے دوہرے معیار پر پاکستان نے کھل کر آواز اٹھائی تا ہم ضرورت اس امر کی ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر پاکستان کو عوامی امنگوں کے عین مطابق آئی سی سی کے دوہرے رویئے کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کا اعلان کرنا چاہئے.جب تک آئی سی سی بھارتی زبان بولنا بندنہ کرے پاکستان کو قومی مفاد اور بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر مضبوط اور سخت فیصلے کرنے چاہئے،بنگلہ دیش ٹیم کے ساتھ ناانصافی پاکستان کو برداشت نہیں کرنی چاہئے.

  • ترجمان سندھ حکومت کی ایم کیو ایم وزراء کی سیکیورٹی واپس لینے کے دعوے کی تردید

    ترجمان سندھ حکومت کی ایم کیو ایم وزراء کی سیکیورٹی واپس لینے کے دعوے کی تردید

    ترجمان سندھ حکومت نے ایم کیو ایم وزراء کی سیکیورٹی واپس لینے کے دعوے کی تردید کردی۔

    سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پھر جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈے پر اتر آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کسی وزیر یا رہنماء سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، جو افراد سیکیورٹی کے مجاز ہیں، ان کے پاس مکمل سیکیورٹی موجود ہے۔سعدیہ جاوید کا مزید کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے سیکیورٹی کے حوالے سے بے بنیاد الزامات محض سیاسی پروپیگنڈا ہیں۔

    دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول کی سیکیورٹی واپس لینے پر لاعلمی کا اظہار کر دیا،پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے اسلام آباد میں ہوں، واپس جاکر دیکھوں گا۔ دونوں وزراء کو کوتھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کی سفارش پر سیکیورٹی دی ہے، لوگوں سے درخواست ہے کہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں، لوگوں کو کچے اور کشمیر سے مرد حضرات لڑکیوں کی آواز میں کال کر کے پھنساتے ہیں،مرد ڈاکوؤں کی جانب سے سستے داموں گاڑیاں اور ٹریکٹر خرید کر دینے کا جھانسا دیا جاتا ہے، جب سے عہدہ سنبھالا تب سے ان عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

  • حکومت ہر صورت گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنائے گی،وزیراعلیٰ سندھ

    حکومت ہر صورت گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنائے گی،وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری سندھ اور مختلف محکموں کے متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کابینہ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے صوبے کو شدید دکھ اور صدمے سے دوچار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور سندھ حکومت ہر صورت سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا کوئی نعم البدل نہیں، تاہم حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرے گی۔ ترجمان کے مطابق سندھ کابینہ نے اجلاس میں کل 19 نکات پر غور کیا اور مختلف اہم فیصلے کیے۔ کابینہ نے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی بھی منظوری دے دی۔

    اجلاس کے دوران سندھ رینیوایبل انرجی کمپنی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ کمپنی 2012ء میں قائم کی گئی تھی اور اس میں اب تک 101.622 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کمپنی کے تمام عملی اور انتظامی امور پہلے ہی محکمہ توانائی (انرجی ڈپارٹمنٹ) انجام دے رہا ہے، جس کے باعث کمپنی کی علیحدہ حیثیت کی عملی ضرورت باقی نہیں رہی۔کابینہ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد سندھ رینیوایبل انرجی کمپنی کو بند کرنے کی منظوری دے دی۔

    محکمہ جنگلات سے متعلق ایجنڈا آئٹم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد نے درخواست کی ہے کہ دیھ بیلو میانو میں 6 ایم جی ڈی واٹر فلٹریشن پلانٹ کے قیام کے لیے 400 ایکڑ اراضی مختص کی جائے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ میئر حیدرآباد اس منصوبے کے تحت فلٹریشن پلانٹ لگانا چاہتے ہیں، جس سے شہر میں پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد ملے گی۔کابینہ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ 400 ایکڑ کے بجائے 100 ایکڑ جنگلاتی اراضی حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو دی جائے گی۔ مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ بلدیات اس کے عوض محکمہ جنگلات کو شجرکاری کے لیے 100 ایکڑ متبادل زمین فراہم کرے گا، تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ کابینہ کے تمام فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے

  • ظالم کو بچانے کی کوشش مت کریں، انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں،عدالت

    ظالم کو بچانے کی کوشش مت کریں، انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں،عدالت

    یونان کشتی حادثہ کیس کے مدعیان نے ثاقب ججا کو مرکزی ملزم ماننے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ ایک ظالم کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ میں یونان کشی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اہم ریمارکس دیے۔وکیل مدعی نے بتایا کہ مدعیوں نے بیان دیا ہے کہ ثاقب ججا ہمارا ملزم نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ان مدعیوں کی درخواست پر ایف آئی اے نے کارروائی کی تھی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ ایک ظالم کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں، آپ نے خود درخواست دی اب کہہ رہے ہیں یہ ہمارا ملزم نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ظالم کو بچانے کی کوشش مت کریں، انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں، میڈیا شور مچاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے، اگر ثابت ہوگیا مدعیوں نے درخواست دی تھی تو پھر جھوٹا بیان دینے پر کارروائی کریں گے۔

    عدالت نے ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت میں 12 فروری تک توسیع کردی۔

  • بھارت کا مفرور شیخ حسینہ واجد کو تقریر کی اجازت دینا امن کیلئے خطرہ ہے ، بنگلہ دیش

    بھارت کا مفرور شیخ حسینہ واجد کو تقریر کی اجازت دینا امن کیلئے خطرہ ہے ، بنگلہ دیش

    بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے بھارت کی طرف سے مفرور سابقہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو 23 جنوری کو نئی دہلی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کی اجازت دینے پر شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کیاہے۔

    بنگلا دیشی کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیخ حسینہ نے بھارتی سرزمین سے اپنے خطاب میں تشدد بڑھکانے اور عوام کو موجودہ عبوری حکومت کیخلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی ہے۔ شیخ حسینہ نے بھارت کی جانب سے فراہم کردہ پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اپنی جماعت عوامی لیگ کے حامیوں کو ملک کے آئندہ عام انتخابات سبوتاژ کرنے کیلئے دہشتگردی کی کارروائیوں پر اکسانے کی کوشش کی۔بیان میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بھارت نے دوطرفہ حوالگی معاہدے کے باوجود شیخ حسینہ کی حوالگی کیلئے بنگلا دیش کی بارہا درخواستوں پر کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ اس طرزِعمل سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچاہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارتی دارالحکومت میں شیخ حسینہ کو اشتعال انگیز بیانات دینے کی اجازت دینا نہ صرف بنگلا دیش کی جمہوری طورپر اقتدار کی منتقلی کے عمل بلکہ خطے کے امن و سلامتی کیلئے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔

    ڈھاکہ نے اس پیشرفت کو بنگلا دیشی عوام اور حکومت دونوں کے لیے واضح توہین قرار دیتے ہوئے خبردار کیاکہ اس کے علاقائی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔یہ واقعہ بنگلا دیش اور بھارت کے تعلقات کے مستقبل کیلئے ایک خطرناک مثال ہے اور ڈھاکہ میں کسی بھی آئندہ منتخب حکومت کی نئی دہلی کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ عوامی لیگ کی قیادت کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیز بیانات نے عبوری حکومت کے اس فیصلے کو مزید تقویت دی ہے جس کے تحت پارٹی کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ انتخابات سے قبل یا ان کے دوران کسی بھی قسم کے تشدد یا دہشتگردی کے واقعات کی مکمل ذمہ داری عوامی لیگ پر عائد کی جائے گی جبکہ انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

  • سندھ حکومت نااہل،کراچی وفاق کے کنٹرول میں لیا جائے،مصطفیٰ کمال

    سندھ حکومت نااہل،کراچی وفاق کے کنٹرول میں لیا جائے،مصطفیٰ کمال

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کو فوری طور پر وفاق کے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے اور معاشی حب شہر کو ایک نااہل صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

    نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس آئینی اختیار موجود ہے اور وہ آرٹیکل 148 کے تحت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے، یہاں کی بدانتظامی کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے، اس لیے فوری اور ٹھوس فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے گل پلازا سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لوگ شہید ہوئے، اور یہ محض حادثہ نہیں بلکہ سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے گل پلازا کی کارکردگی اور ذمہ داران کی غفلت کو ظلم کہا اور آئندہ بھی ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے۔ اگر سچ بولنے پر یہی رویہ اختیار کیا جائے گا تو وہ ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ کراچی کو سندھ حکومت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے حالیہ اقدامات نے خود ایم کیو ایم کے موقف کی تائید کر دی ہے کہ یہ حکومت نہ صرف ناکام ہوچکی ہے بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بھی بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ان سے خود بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، تاہم انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ سیکیورٹی واپس لے کر ہمیں ڈرایا جا سکتا ہے، لیکن وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کراچی پر حکمرانی کرے اور ایسے اقدامات کے ذریعے ایم کیو ایم کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جئے سندھ کے عناصر کھلے عام شاہراہوں پر کھڑے ہو کر پاکستان توڑنے کے نعرے لگاتے ہیں، اور سندھ حکومت انہیں سیکیورٹی فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف افسوسناک بلکہ ریاست کے لیے خطرناک ہے اور ایسے اقدامات سے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کو باقاعدہ خط بھی لکھا جا چکا ہے اور وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں بھی یہ مؤقف مسلسل پیش کیا جا رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پوری وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے ان کے مؤقف کو سن رہے ہیں اور حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہیں۔

  • سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر قابو نہ پایا جا سکا، جہاں ریبیز کے باعث ایک اور معصوم جان ضائع ہو گئی۔

    سانگھڑ کے علاقے جھول میں 8 سالہ بچی آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز میں مبتلا ہو کر دم توڑ گئی۔ طبی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سال 2026ء میں کتے کے کاٹنے سے ہلاکت کا پہلا کیس ہے، جس نے صوبے بھر میں صحت عامہ کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ قبل جھول میں بچی کو آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔ ابتدائی طور پر زخموں کا علاج کیا گیا تاہم بروقت اور مکمل اینٹی ریبیز ویکسین نہ ملنے کے باعث بچی میں ریبیز کی تصدیق ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا مگر جانبر نہ ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق ریبیز ایک مہلک مرض ہے جس میں علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال 2025ء میں صوبے میں ریبیز کے باعث 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ اسی سال 60 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مسئلے کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہیں۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ویکسین کی قلت، بروقت علاج تک رسائی میں رکاوٹیں اور آگاہی کی کمی اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صاف پانی اور صابن سے دھونا، اور جلد از جلد اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلین کا کورس مکمل کرنا جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔

  • مریم نواز کی  ہر ضلع میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹر قائم کرنے کی منظوری

    مریم نواز کی ہر ضلع میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹر قائم کرنے کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے ہر ضلع میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹر قائم کرنے کی منظوری دیدی، ہر ڈی ایچ کیو میں نیورالوجسٹ اور پیڈز نیورالوجسٹ تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ بھی ہوگیا، کہا کہ چاہتے ہیں کسی مریض کو علاج کیلئے بڑے شہر نہ جانا پڑے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت فالج کے علاج کیلئے اقدامات سے متعلق اجلاس ہوا، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر ضلع میں ایک ڈاکٹر اور نرس کو فوری طور پر 3 ماہ کی اسٹروک مینجمنٹ ٹریننگ کرائی جائے۔انہوں نے فالج کے مریضوں کیلئے فوری طور پر ٹیلی میڈسن پراجیکٹ شروع کرنے کا حکم بھی دیا، ضلعی اسپتالوں کے ڈاکٹر فوری علاج کیلئے اسپیشلسٹ اور کنسلٹنٹ سے ٹیلیفونک رابطہ کرسکیں گے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ فالج کے علاج کیلئے گولڈن آورز کی اہمیت مسلمہ ہے، پنجاب کے ہر چلڈرن اسپتال میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹر بنائیں گے۔پمز کے نیورالوجسٹ ڈاکٹر قاسم بشیر نے اجلاس کو اسٹروک مینجمنٹ پروگرام پر بریفنگ دی۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ڈرامہ بازی بند کریں، گورنر خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ڈرامہ بازی بند کریں، گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر ایکس پر اہم پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پُرامن صوبہ 2013 میں صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا جو آج وہ دوبارہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے،اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صوبائی قیادت کے سوا کس پر عائد ہوتی ہے

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹو بغیر حکومتی منظوری کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور اپنی لاعلمی کا دعویٰ کرے ، تو یہ صرف نااہلی نہیں گورننس کی تباہی کا اعتراف ہے۔میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ شعبدہ بازی اور ڈرامہ بازی کو ختم کریں۔خیبرپختونخواخصوصاً تیراہ اور کرم کی عوام کو اس وقت تقاریر کی نہیں بلکہ واضح قیادت کی ضرورت ہے،وزیراعلیٰ کی ترجیح آئی ڈی پیز کی فوری بحالی اور سیکورٹی ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی ڈرامہ اور انتشار پھیلانا،