Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک سعودی دوستی، پاکستان کے 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی مزید توسیع

    پاک سعودی دوستی، پاکستان کے 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کی مدت میں ایک سال کی مزید توسیع

    اسلام آباد: پاکستان کی معاشی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سعودی عرب نے پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں رکھے اپنے 3 ارب ڈالرز کے ڈپازٹ کی مدت میں ایک بار پھر توسیع کر دی ہے۔ اس فیصلے کو پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ (SDF) نے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈپازٹ اسٹیٹ بینک کے پاس محفوظ ہیں اور ان کی موجودہ مدت آج ختم ہو رہی تھی جس کے باعث اس توسیع کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق اس توسیع سے نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام ملے گا بلکہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔ مزید برآں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد بھی بڑھے گا۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب نے 2021 میں پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کا ڈپازٹ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد پاکستان کے اقتصادی محاذ پر معاونت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لانا تھا۔ اس ڈپازٹ کی مدت میں اس سے قبل بھی متعدد بار توسیع کی جا چکی ہے۔حکومتی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے مسلسل مالی تعاون پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا واضح عکاس ہے۔ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کئی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ایسے میں یہ توسیع ملک کی مالیاتی حکمت عملی کے لیے تقویت کا باعث بنے گی۔وزارت خزانہ نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے تعاون نے پاکستان کو معاشی مشکلات کے دوران اہم سہارا فراہم کیا ہے، اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی اقتصادی تعاون کے مزید مواقع تلاش کرتے رہیں گے۔

  • پاکستان نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کر دی

    پاکستان نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست کر دی

    حکومتِ پاکستان نے برطانیہ سے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور یوٹیوبر و کمنٹیٹر عادل راجہ کی حوالگی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

    یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات میں سامنے آئی، جس میں دو طرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے ملاقات کے دوران دونوں مطلوب افراد کے خلاف تیار کردہ حوالگی کے سرکاری دستاویزات برطانوی ہائی کمشنر کے سپرد کیے۔ محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ “شہزاد اکبر اور عادل راجہ پاکستان میں مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں، انہیں جلد از جلد پاکستان کے حوالے کیا جائے۔”وزیر داخلہ نے اس موقع پر پاکستانی شخصیات اور ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مبینہ سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے ٹھوس شواہد بھی برطانوی سفارتکار کے سامنے رکھے۔

    ملاقات میں پاک برطانیہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔گفتگو میں برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت آزادیٔ اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، تاہم فیک نیوز اور جعلی پروپیگنڈا ہر ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے جسے روکنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے چیلنج بنتا جا رہا ہے، اس لیے ایسے عناصر کے خلاف بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

  • بلوچستان حکومت کا بیرون ملک کالعدم تنظیموں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    بلوچستان حکومت کا بیرون ملک کالعدم تنظیموں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    حکومت بلوچستان نے بیرون ملک موجود کالعدم تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس دوران دہشتگرد نیٹ ورک کے خاتمے کیلئے سخت اور غیرمعمولی اقدامات کی منظوری دی گئی، اجلاس میں بیرون ملک دہشتگرد قیادت کے مقامی سہولت کاروں سے رابطوں،کال ریکارڈنگز اور دیگر شواہد پیش کیے گئے جب کہ ساتھ ہی کالعدم تنظیموں کے سربراہان،کمانڈرز اور دہشتگردوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں کالعدم بی ایل اے، بی ایل ایف، یو بی اے، بی آر جی اور لشکربلوچستان کی قیادت کے خلاف درج مقدمات کی پراسیکیوشن تیز کرنے کی ہدایت کی گئی،وفاقی وزارت داخلہ اور خارجہ کی مدد سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹسز کی کارروائی تیزکرنےکی بھی ہدایت جاری کردی گئی ہے، دہشتگردی میں ملوث مقامی سہولت کاروں،کالعدم تنظیموں کی قیادت تک کے خلاف کارروائی ہوگی ، یہ کارروائی دہشتگردوں کیخلاف پروونشل ایکشن پلان کی گائیڈ لائن کے تحت کی جائے گی.

  • بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل

    بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل

    وزیراعلی مریم نواز شریف نے پنجاب سے بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دے دی

    پندرہ رکنی سٹیرنگ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو مقرر کیاگیا ،سابق رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا سٹیرنگ کمیٹی کے شریک چیئرمین ہوں گے، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ،سکول ایجوکیشن، سرمایہ کاری و کامرس، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر و بیت المال اور ہنرمندی و چھوٹے کاروبار کی ترقی کے صوبائی وزرا کمیٹی کے ارکان ہوں گے ،داخلہ، محنت و افرادی، سکول ایجوکیشن، صنعت و تجارت، سوشل ویلفیئر، سکل ڈویلپمنٹ اینڈ اینٹرپرینیور کی وزارتوں کے صوبائی سیکریٹری، چیئرمین پی ٹی آئی بی اور ڈی آئی جی پولیس بھی کمیٹی کے ارکان ہوں گے

    کمیٹی تمام شعبوں کی میپنگ کرے گی، جبری مشقت لینے والے شعبوں کا تعین کرے گی ،صنعتوں، بھٹوں، زراعت، ماہی گیری، ورکشاپس اور آٹو ری پئیر کے شعبوں کا خاص طور پر ڈیٹا جمع کیا جائے گا ،اے آئی اور ‘جی-آئی-ایس’ سے منسلک صوبائی سطح پر مرکزی ڈیٹا بینک بنایا جائے گا ،کمیٹی بچوں سے جبری مشقت کے حوالے سے نمایاں اضلاع، شعبوں اور علاقوں کا بھی تعین کرے گی ،کمیٹی جبری مشقت کے شکار بچوں کے لیے متبادل طریقے بھی وضع کرے گی ،کمیٹی فوری، وسط اور طویل مدتی بنیادوں پر بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کی حکمت عملی تیار کرے گی،کمیٹی اپنی تجاویز کے ساتھ ان پر عملدرآمد کی حکمت عملی بھی تیار کرے گی ،والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس معاملے میں آگاہ کرنے کی حکمت عملی اور اداروں کی اس ضمن میں کارکردگی جانچنے کے معیار کی تیاری بھی کمیٹی کے فرائض میں شامل ہے ،صوبہ پنجاب بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے اس نوعیت کے جامع اقدامات کرنے والا پہلا صوبہ ہے ،بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے اقدامات کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کی عالمی سطح پر رینکنگ بھی بہتر ہوگی

  • وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر  کی وفود کی سطح پر ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر کی وفود کی سطح پر ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کی وزیراعظم ہاوس میں وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔

    دو طرفہ مذاکرات میں وزیراعظم کی معاونت ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، سمیت دیگر اہم وفاقی وزراء اور سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان جمہوریہ کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی "ویژن سینٹرل ایشیا” پالیسی کے تحت اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماوں نے پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات جو تاریخی روابط، مشترکہ تہذیب و اقدار اور علاقائی امن و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں انکے فروغ اور توسیع کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماوں نے ممالک کے درمیان جاری باہمی تعاون اور بالخصوص تجارت، توانائی، مواصلات اور عوامی روابط کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    باہمی اقتصادی تعاون میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنماوں نے دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ مزید براں، دورہ کے دوران دستخط شدہ معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر موثر عمل درآمد کے ذریعے2027۔2028 تک دو طرفہ تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماوں نے ملاقات کے دوران 28-29 جولائی 2025 کو اسلام آباد میں منعقدہ کرغزستان-پاکستان مشترکہ سرکاری کمیشن کے پانچویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے توانائی کے شعبہ میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوۓ CASA-1000 منصوبے پر بروقت اور موثر عملدرآمد کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ یہ منصوبہ علاقائی توانائی تعاون میں اہم سنگِ میل اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔دونوں رہنماوں نےجمہوریہ کرغزستان اور پاکستان کے درمیان محفوظ، مستحکم و دیر پا اور کثیر الجہتی روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس تناظر میں دو طرفہ اور علاقائی تجارت میں مزید اضافہ کے لیۓ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان "کواڈرلیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA)” کے تحت روڈ کوریڈور کے فعال ہونے پر اظہاراطمینان کیا گیا۔

    مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کےرہنماوں نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اور علاقائی امن و سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو بین الاقوامی قانون، باالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق، پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔دونوں رہنماؤں نے پرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا۔ اور اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھانے چاہئیں۔دونوں رہنماوں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک خودمختار، قابل عمل، متحد اور آزاد فلسطینی ریاست جو جون 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف بطور دارالخلافہ پر مشتمل ہو کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی ، معدنیات، تجارت, تعلیم, قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت میں باہمی دلچسپی کی 15 مفاہمت کی یاد داشتوں کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم پاکستان اور جمہوریہ کرغزستان کےصدر نے شرکت کی۔

    اس سے قبل، وزیراعظم محمد شہباز شریف نےکرغزستان کے صدر عزت ماب کا وزیراعظم ہاوس اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کیا۔وزیراعظم ہاوس پہنچنے پر جمہوریہ کرغزستان کےصدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کو پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    سرکاری استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماوں کے درمیان ذاتی سطح پر ملاقات ہوئی۔ علاوہ ازیں، وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ بعد ازاں دونوں رہنماوں نے میڈیا سے بھی مشترکہ گفتگو کی جس میں ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے نکات پر روشنی ڈالی گئی.

  • 11ویں قومی مالیاتی کمیشن کا پہلا اجلا س ختم

    11ویں قومی مالیاتی کمیشن کا پہلا اجلا س ختم

    اسلام آباد: 11 ویں قومی مالیاتی کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں مالیاتی امور کو آگے بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں سندھ اور کے پی کے وزرائے اعلیٰ بطور صوبائی وزیر خزانہ شریک ہوئے جب کہ پنجاب اور بلوچستان کے وزرائے خزانہ اور پرائیوٹ ممبران اجلاس میں موجود تھے،اجلاس میں وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے اپنی مالی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جب کہ اجلاس میں چاروں صوبوں نے بھی اپنی مالی پوزیشن پر بریفنگ دی،وزیرخزانہ نے وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹریز اور دیگر ارکان کا اجلاس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آج کا اجلاس آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے، فورم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم کیا گیا تھا، اس پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، وفاقی حکومت کا واضح اور پُختہ عزم تھا کہ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے، وزیراعظم نے خود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو، صوبوں نےبھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنے کا بھرپور ارادہ ظاہر کیا،پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث یہ اجلاس مؤخر کرنا پڑا، این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں، خدشات کا حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے، آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں، ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے، وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے، امید ہےکہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے،صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط انتہائی قابلِ قدر ہے، یہ ہمارے مشترکہ عزم اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے، صوبوں کا لازمی سرپلسزکے حصول، آئی ایم ایف پروگرام پرعملدرآمد یقینی بنانے پرتعاون قابلِ تحسین ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ اس سال ملک کو بھارت کی جانب سے غیر معمولی خطرات اور سیلابوں جیسے چیلنجز کاسامناکرنا پڑا، ان کٹھن حالات میں ہم ایک مضبوط وفاق کی صورت میں متحد کھڑے رہے، یہی وہ جذبہ ہے جسے ہم 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے عمل میں بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں، آنےوالے ہفتوں اورمہینوں میں یہ بامقصد اور تعمیری مباحث جاری رہیں گے، امید ہےتمام اراکین بامعنی اورجامع مکالمے کیلیےبھرپورعزم کےساتھ آگے بڑھیں گے، باہمی اتحاد، تعاون اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں گے، 11ویں این ایف سی ایوارڈکےمعاملات کو کامیابی سے پائیہ تکمیل تک پہنچانا ہماری منزل ہے۔

    این ایف سی کا آئندہ اجلاس 8 یا 15 جنوری کو ہوگا،دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں 6 سے 7 ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ سابق فاٹا کے معاملے پر بھی الگ ورکنگ گروپ بنایا جائے گا۔اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ گروپس بنیں گے جو مالیاتی امور کو لے کر آگے بڑھیں گے۔علاوہ ازیں وزارتِ منصوبہ بندی نے وسائل کی تقسیم کے دو نئے طریقہ کار پر تجاویز وزیراعظم کو پیش کردی ہیں، پہلی تجویز قابل تقسیم محاصل سے دہشتگردی کے خلاف جنگ، واٹرسکیورٹی، سول آرمڈ فورسز اور آزاد کشمیر وگلگت بلتستان کے گرانٹس کے لیے ڈھائی فیصد کٹوتی کی ہے جس کے بعد ساڑھے 57 فیصد صوبوں اور ساڑھے 42 فیصد وفاق کو ملے گا،دوسری تجویز کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اخراجات قابل تقسیم محاصل سے پہلے نکال لیے جائیں جس سے 2030 تک وفاق کے وسائل میں 11 سے 12 فیصد اضافہ متوقع ہے،صوبوں کے درمیان این ایف سی کی تقسیم میں آبادی کا وزن کم کرکے ریونیو جنریشن، زرخیزی اورForest Cover جیسے عوامل کو بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے

  • سری لنکا ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ ، پاکستانی انسپکٹر ارم خانم کی بھارت کو شکست

    سری لنکا ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ ، پاکستانی انسپکٹر ارم خانم کی بھارت کو شکست

    سری لنکا میں ہونے والی ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ 2025 کی اختتامی تقریب اس وقت غیر معمولی صورتِ حال کا شکار ہوگئی جب پاکستانی کھلاڑی اور راولپنڈی پولیس کی بہادر انسپکٹر ارم خانم کے گولڈ میڈل جیتنے پر بھارتی خاتون ویٹ فائٹر سپنا کے جذبات قابو میں نہ رہ سکے۔

    تقریب کے دوران جیسے ہی انسپکٹر ارم خانم کا نام گولڈ میڈل کے لیے پکارا گیا، پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اسی دوران بھارتی پاور لفٹر سپنا واضح طور پر ناخوش دکھائی دی اور اعلان سنتے ہی اسٹیج چھوڑ کر جانے لگیں۔ ان کے اس غیر مناسب رویّے سے تقریب میں موجود کھلاڑی اور آفیشلز حیران رہ گئے۔انتظامیہ نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے بھارتی کھلاڑی کو واپس اسٹیج پر بلایا تاکہ گروپ فوٹو اور اختتامی رسمی کارروائی مکمل کی جاسکے۔ تاہم بھارتی ویٹ فائٹر شکست کی خفت مٹانے میں ناکام رہیں اور تقریب سے بار بار جانے کی کوشش کرتی رہیں، جس سے ایونٹ کا ماحول کچھ دیر کے لیے کشیدہ رہا۔

    دوسری جانب پاکستان کی ارم خانم نے ایک بار پھر تاریخ رقم کردی۔ انہوں نے ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ 2025 میں دو گولڈ میڈل اپنے نام کیے۔ خصوصاً ڈیڈ لفٹ کیٹیگری میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی ویٹ لفٹر کو واضح برتری سے شکست دی اور پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔پولیس ڈیپارٹمنٹ اور کھیلوں کے شائقین نے ارم خانم کی اس شاندار کامیابی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ملک بھر میں ان کی اس جیت کو نہ صرف پاکستان کے لیے اعزاز بلکہ خواتین کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔انسپکٹر ارم خانم نے اپنے بیان میں کہا کہ "پاکستان کا نام بلند کرنا میری سب سے بڑی کامیابی ہے، یہ میڈلز پوری قوم کے نام ہیں۔”

  • سوشل میڈیا پر لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا کے حوالے سے بے بنیاد خبریں

    سوشل میڈیا پر لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا کے حوالے سے بے بنیاد خبریں

    سوشل میڈیا پر لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا کی بطور وائس چیف آف آرمی اسٹاف (VCOAS) تقرری کے حوالے سے جھوٹی خبریں گردش کرنے لگیں، جس کے بعد سرکاری اور عسکری ذرائع نے ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ جھوٹی خبر سب سے پہلے سوشل میڈیا پر شائع کی گئی، جس کا اصل بانی سیاسی رہنما ،یوٹیوبر، پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل ہے،شہباز گل کی جانب سے پھیلائی گئی یہ معلومات نہ صرف غلط ہے بلکہ اس کا مقصد عوام میں بے چینی اور افواہیں پھیلانا بتایا جا رہا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا کی ترقی یا تقرری کے حوالے سے جاری کی گئی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ’فیک نیوز‘ نہ صرف عوامی رائے کو متاثر کرتی ہے بلکہ ملکی اداروں کے بارے میں غلط تاثر بھی پیدا کرتی ہے۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ خبروں پر یقین کریں۔ جعلی خبریں پھیلانا قابلِ تعزیر جرم ہے، اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

  • ایئرانڈیا حادثہ کے شواہد غائب ، امریکی تحقیقاتی اداروں کے ہاتھوں مودی سرکار کا پردہ چاک

    ایئرانڈیا حادثہ کے شواہد غائب ، امریکی تحقیقاتی اداروں کے ہاتھوں مودی سرکار کا پردہ چاک

    ایئرانڈیا حادثہ کے شواہد غائب ، امریکی تحقیقاتی اداروں کے ہاتھوں مودی سرکار کا پردہ چاک ہو گیا

    بھارت اپنی ہٹ دھرمی، جھوٹ اور فریب کی عادت سے مجبور ، طیارہ حادثہ کے حقائق چھپانے کی تمام کوششیں بے سُودہو گئیں،عیار مودی کی ایماء پربھارت نےامریکا کو ائیر انڈیا احمد آباد حادثہ کی تحقیقات کیلئے بلیک باکس ڈیٹا تک رسائی دینے سے انکارکر دیا،12جون 2025ء کو ائیر انڈیا کے تباہ کن حادثہ میں بھارتی پائلٹ کی غفلت نے 260 افراد کی جان لے لی تھی

    سابق سی آئی اے اہلکار اور امریکی صحافی سارہ ایڈمز کا کہنا ہے کہ امریکی تفتیشی ٹیم کی تحقیق کے مطابق ایئر انڈیا طیارہ کی تباہی پائلٹ کی لاپرواہی کے باعث ہوئی،بھارتی حکام اب بھی فلائٹ کے بلیک باکس ڈیٹا تک مکمل رسائی دینے سے انکار کر رہے ہیں، اگر پائلٹ کی لاپرواہی تھی تو بلیک باکس چھپانا خودمختاری نہیں بلکہ سیکیورٹی تھریٹ ہے،

    امریکی جریدہ دی ٹیلی گراف کے مطابق؛ امریکی حکام اور ایرو اسپیس ماہرین کے مطابق بھارتی پائلٹ نے جان بوجھ کر طیارے کو تباہ کیا،امریکی جریدہ وال اسٹریٹ جرنل نے بھی شواہد کی روشنی میں طیارہ جان بوجھ کر گرانے کی طرف اشارہ کیا تھا، بلیک باکس ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ کاک پٹ میں موجود کسی نے انجن کا فیول سپلائی سسٹم خود بند کیا تھا ،امریکی تفتیشی ٹیم کو ملبے کی تصاویر لینے سے روکا گیا اور کچھ شواہد ان کے پہنچنے سے پہلے ہی غائب کردیئے گئے، بھارتی حکام نے امریکی ماہرین کو کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا کے تجزیہ کیلئے لیبارٹری میں جانے سے روک دیا تھا

    بھارتی عدالتوں، اداروں اور تحقیقاتی عمل پر امریکا کے عدم اعتماد نے مودی کی نام نہاد شفافیت کا پول کھول دیا ہے

  • امریکہ میں داعش خراسان کی معاونت کے الزام میں افغان شہری گرفتار

    امریکہ میں داعش خراسان کی معاونت کے الزام میں افغان شہری گرفتار

    امریکہ کے امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے ایک افغان شہری، جان شاہ صافی، کو داعش خراسان کی حمایت کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق صافی نے دہشتگرد تنظیم کو معاونت فراہم کی اور افغانستان میں اپنے والد، جو طالبان کمانڈر ہیں، کو ہتھیار بھی مہیا کیے۔

    تفصیلات کے مطابق جان شاہ صافی 8 ستمبر 2021 کو سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے "آپریشن ایلیز ویلکم” پروگرام کے تحت امریکہ پہنچا تھا، جس کے ذریعے ہزاروں افغان شہریوں کو امریکہ میں پناہ دی گئی تھی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صافی اس ہفتے گرفتار ہونے والا تیسرا افغان نژاد مشتبہ دہشتگرد ہے، جس سے اس پروگرام کے تحت آنے والے افراد کی پس منظر کی جانچ اور نگرانی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔