Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آئی سی سی کا دوہرا معیار،شاہد آفریدی پھٹ پڑے

    آئی سی سی کا دوہرا معیار،شاہد آفریدی پھٹ پڑے

    قومی کرکٹر ، آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے حالیہ فیصلوں پر شدید مایوسی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ادارے پر عدم تسلسل اور دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

    شاہد آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بطور سابق بین الاقوامی کرکٹر، جنہوں نے بنگلہ دیش میں بھی کرکٹ کھیلی اور متعدد آئی سی سی ایونٹس کا حصہ رہے، آئی سی سی کے رویے سے سخت دل برداشتہ ہیں۔ ان کے مطابق آئی سی سی نے 2025 میں پاکستان کا دورہ نہ کرنے کے لیے بھارت کے سکیورٹی خدشات کو قبول کیا، تاہم جب معاملہ بنگلہ دیش سے متعلق آیا تو وہی اصول اور حساسیت دکھائی نہیں دی۔شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ عالمی کرکٹ کی حکمرانی کی بنیاد تسلسل، انصاف اور برابری پر ہونی چاہیے۔ اگر ایک ملک کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا جا سکتا ہے تو دوسرے ملک کے معاملات میں بھی اسی معیار کو اپنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مختلف ممالک کے لیے مختلف اصول طے کرنا عالمی کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کے کھلاڑی اور وہاں کے کروڑوں شائقین کرکٹ عزت اور برابری کے مستحق ہیں، نہ کہ مبہم فیصلوں اور دوہرے معیار کے۔ شاہد آفریدی کے مطابق ایسے فیصلے نہ صرف کھیل کی روح کے منافی ہیں بلکہ کرکٹ کے فروغ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔شاہد آفریدی نے آئی سی سی کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کرکٹ کے منتظم ادارے کو پل بنانے چاہئیں، دیواریں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کرے تاکہ کرکٹ واقعی ایک عالمی اور منصفانہ کھیل کے طور پر آگے بڑھ سکے۔

  • بنگلادیش ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر، اسکاٹ لینڈ کی شمولیت

    بنگلادیش ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر، اسکاٹ لینڈ کی شمولیت

    بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلادیشی ٹیم کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے فیصلے کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی سی بی نے اس معاملے کو مزید طول نہ دینے اور تنازع کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے اعلان کے فوراً بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں عالمی ایونٹ سے دستبرداری، آئی سی سی کے فیصلے کے مضمرات، اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں آئی سی سی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے تنظیمی اور ٹیم کی بہتری پر توجہ دی جائے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی نے آج باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا رہا ہے۔ آئی سی سی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار کے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔

    ادھر اسکاٹ لینڈ کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنی ٹیم کے لیے تاریخی موقع قرار دیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی شمولیت سے ٹورنامنٹ میں نئی ٹیموں کو خود کو منوانے کا ایک اور موقع ملے گا۔بی سی بی ذرائع کے مطابق بنگلادیش آئندہ برسوں میں آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کے لیے سیکیورٹی، سفارتی اور انتظامی معاملات پر پہلے سے بہتر تیاری کرے گا تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ آور کی شناخت،افغان شہری نکلا

    ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ آور کی شناخت،افغان شہری نکلا

    ڈیرہ اسماعیل خان: شہر کے علاقے قریشی موڑ پر امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے بعد خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حملہ آور کی شناخت 21 سالہ عبدالرحمن کے نام سے ہوئی ہے جو افغانی شہری بتایا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گھر کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور طریقہ کار کا تعین کیا جا رہا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

  • پاک بحریہ کا بحرہند میں کامیاب ریسکیو آپریشن،سری لنکن شہری کو بچا لیا

    پاک بحریہ کا بحرہند میں کامیاب ریسکیو آپریشن،سری لنکن شہری کو بچا لیا

    پاک بحریہ نے بحر ہند میں طویل فاصلے پر کامیاب ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے سری لنکن شہری کو بچا لیا۔

    اعلامیے کے مطابق پاک بحریہ کے جہازوں تبوک اور معاون نے کھلے سمندر میں بحری جہاز پر موجود سری لنکن شہری کا کامیاب طبی انخلاء کیا،سری لنکن شہری کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، ریسکیو آپریشن سری لنکن میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹرکی درخواست پر شروع کیا گیا، پاک بحریہ نے اطلاع ملتے ہی فوری طور پر اپنے جہاز روانہ کیے اور بیمار رکن کو بحفاظت نکال لیا، مریض کو فوری طور پر پاک بحریہ کے جہاز تبوک پر ضروری طبی امداد فراہم کی گئی،سری لنکن حکام اور متاثرہ فرد کے اہل خانہ نے فوری ردعمل اور تعاون پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  • شہزادہ ہیری کا  ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل، اتحادی افواج کی قربانیوں کا دفاع

    شہزادہ ہیری کا ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل، اتحادی افواج کی قربانیوں کا دفاع

    افغانستان جنگ میں خدمات انجام دینے والے برطانوی شہزادہ ہیری نے نیٹو کے غیر امریکی فوجیوں سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت مگر باوقار ردِعمل دیا ہے۔

    شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ افغانستان جنگ کے دوران برطانوی اور دیگر اتحادی افواج کی قربانیاں ایسی ہیں جنہیں “سچائی اور احترام” کے ساتھ یاد رکھا جانا چاہیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ تاثر دیا تھا کہ افغانستان جنگ کے دوران نیٹو کے غیر امریکی ممالک کے فوجی فرنٹ لائن پر جانے سے گریزاں رہے۔ اس بیان کے بعد برطانیہ میں شدید ردِعمل سامنے آیا، جہاں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سمیت متعدد سیاسی و عسکری حلقوں نے اس بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا۔شہزادہ ہیری، جو برطانوی فوج کی جانب سے افغانستان میں دو بار تعینات رہے، نے واضح کیا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکا کی مدد کے لیے اس کے اتحادی ممالک نے فوری طور پر ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اتحادیوں نے مشکل وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور میدانِ جنگ میں شانہ بشانہ لڑے۔شہزادہ ہیری نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،“میں نے افغانستان میں خدمات انجام دیں، میں نے وہاں زندگی بھر کے دوست بنائے اور میں نے اپنے دوستوں کو کھویا بھی۔ صرف برطانیہ کے 457 فوجی اہلکار اس جنگ میں مارے گئے۔”انہوں نے زور دیا کہ ان قربانیوں کو سیاسی بیانات کی نذر نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں ایمانداری اور احترام کے ساتھ تسلیم کیا جانا چاہیے۔ شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ تمام اتحادی ممالک آج بھی سفارت کاری اور امن کے دفاع کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان جنگ نیٹو اتحاد کے لیے ایک اہم امتحان تھی، جس میں برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور دیگر ممالک نے بھاری جانی و مالی قربانیاں دیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان نہ صرف تاریخی حقائق کے برعکس ہے بلکہ اتحادی ممالک کے عوام اور فوجیوں کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے افغانستان جنگ کے دوران غیر امریکی نیٹو افواج کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے،کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کو توہین آمیز، اور سچ کہوں تو، انتہائی افسوسناک سمجھتا ہوں، انہیں اس بات پر حیرت نہیں کہ ان بیانات سے ملک بھر میں شدید دکھ اور تکلیف کا احساس پیدا ہوا،برطانوی وزیرِ اعظم نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی مسلح افواج کے 457 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ بعض حلقے صدر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیئر اسٹارمر نے اس مؤقف سے اتفاق کا اشارہ دیا تاہم انہوں نے براہِ راست معافی کا مطالبہ نہیں کیا،اگر میں نے اس طرح کی بات کی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معذرت کرتا،

    خیال رہے کہ جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے تھا کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا،ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے اور بھیجے بھی، لیکن وہ ذرا پیچھے رہے، محاذِ جنگ سے کچھ دور، نیٹو کی جانب سے باہمی دفاع کی شق صرف ایک بار استعمال کی گئی، جو 11 ستمبر کے حملوں کے بعد عمل میں آئی، جب رکن ممالک نے افغانستان میں ہزاروں فوجی تعینات کیے۔ تاہم ان کے بقول اتحادی ممالک کی شمولیت محدود نوعیت کی تھی، وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا۔

    عد ازاں جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ شاید ہمیں نیٹو کو آزمانا چاہیے تھا، آرٹیکل 5 نافذ کرتے اور نیٹو کو مجبور کرتے کہ وہ یہاں آ کر ہماری جنوبی سرحد کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی مزید دراندازی سے بچاتا، تاکہ بڑی تعداد میں بارڈر پٹرول اہلکار دیگر ذمہ داریوں کے لیے دستیاب ہوتے،

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 486 نیٹو فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 2 ہزار 461 امریکی فوجی تھے۔ اس جنگ میں 457 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 2 ہزار دیگر فوجی اور شہری اہلکار زخمی ہوئے۔

  • امریکا میں شدید سردی کی لہر، 16 کروڑ افراد خطرناک برفانی طوفان کے لیے تیار

    امریکا میں شدید سردی کی لہر، 16 کروڑ افراد خطرناک برفانی طوفان کے لیے تیار

    امریکا بھر میں موسمِ سرما کا ایک طویل اور خطرناک برفانی طوفان متوقع ہے، جس کے باعث کم از کم 16 کروڑ امریکی شہری شدید موسمی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    امریکی قومی محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ طویل المدتی سرمائی طوفان وسطی اور مشرقی امریکا کے وسیع علاقوں کو متاثر کرے گا اور اس کے اثرات ہفتے کے آخر سے آئندہ ہفتے کے آغاز تک جاری رہیں گے۔نیشنل ویدر سروس کے مطابق یہ طاقتور برفانی نظام جمعے کے روز جنوبی ہائی پلینز اور راکی پہاڑی سلسلے سے حرکت شروع کرے گا، ہفتے کے روز مِڈ ساؤتھ اور اوہائیو ویلی سے گزرے گا، جبکہ اتوار کو مڈ اٹلانٹک اور شمال مشرقی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔محکمے نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے شمالی حصوں میں شدید برفباری متوقع ہے، جہاں اوکلاہوما سے میساچوسٹس تک کئی علاقوں میں برف کی موٹائی تقریباً ایک فٹ یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ادھر طوفان کے جنوبی حصوں میں ٹیکساس، مِڈ ساؤتھ، کیرولائناز اور ورجینیا پیڈمونٹ کے علاقوں میں برف، اولے اور منجمد بارش (فریزنگ رین) کا امتزاج دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکساس سے لے کر جنوبی ریاستوں کے کچھ حصوں تک شدید آئس اسٹورم کا خدشہ ہے، جو بجلی کے طویل بریک ڈاؤن، درختوں کے بڑے پیمانے پر نقصان اور انتہائی خطرناک ڈرائیونگ حالات کا سبب بن سکتا ہے۔محکمے کے مطابق شدید سرد ہوائیں، منفی درجۂ حرارت اور خطرناک ونڈ چِل شمالی وسطی امریکا سے جنوبی پلینز، مسیسیپی ویلی اور مڈویسٹ تک پھیل جائیں گی۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ یہ حالات ہائپوتھرمیا اور کھلی جلد پر فراسٹ بائٹ کے جان لیوا خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

    نیشنل ویدر سروس کے ویدر پریڈکشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ایک طاقتور آرکٹک فرنٹ امریکا کے مشرقی دو تہائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ ادارے کے مطابق اتوار تک شمالی اور وسطی پلینز سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں میں درجۂ حرارت صفر سے بھی نیچے گر جائے گا، جبکہ ہفتے کے روز شدید سردی خلیجِ میکسیکو کے مغربی ساحل تک پہنچے گی اور منگل تک مشرق کی جانب پھیلتی رہے گی۔ متعدد علاقوں میں ریکارڈ کم درجۂ حرارت متوقع ہے۔کینیڈا سے آنے والی سرد ہواؤں کے باعث شکاگو اور آئیوا کے شہر ڈیس موئنز میں سرکاری اسکولوں نے جمعے کے روز کلاسز منسوخ کر دیں۔ ماہرین کے مطابق بعض علاقوں میں منفی 35 ڈگری فارن ہائیٹ تک ونڈ چِل ریکارڈ ہو سکتی ہے، جس سے صرف 10 منٹ میں فراسٹ بائٹ کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، ایسے میں بچوں کا اسکول جانا یا بس کا انتظار کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

    ماہرین موسمیات نے یہ بھی بتایا ہے کہ منجمد درجۂ حرارت فلوریڈا تک پہنچنے کا امکان ہے۔ بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر آئس سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والا نقصان سمندری طوفان (ہریکین) کے برابر ہو سکتا ہے۔برفباری کے بعد شدید سردی کے باعث برف اور آئس کے پگھلنے میں وقت لگے گا، جس سے بجلی کی لائنوں اور درختوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور کئی علاقوں میں دنوں تک بجلی بند رہنے کا خدشہ ہے۔ سڑکیں اور فٹ پاتھ آئندہ ہفتے تک پھسلن کا شکار رہ سکتے ہیں۔محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سرمائی طوفانوں کی پیش گوئی خاصی مشکل ہوتی ہے، کیونکہ صرف ایک یا دو ڈگری درجۂ حرارت کا فرق صورتحال کو تباہ کن یا محض بارش میں تبدیل کر سکتا ہے۔ حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا درست تعین طوفان کے آغاز کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

    اسی تناظر میں جارجیا کے گورنر برائن کیمپ نے دیگر ریاستی گورنرز کی طرح ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض پیش گوئیوں کے مطابق اٹلانٹا میں شدید سرمائی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ ماڈلز کے مطابق شہر بڑے نقصان سے بچ بھی سکتا ہے۔طوفان سے قبل شہریوں نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اٹلانٹا کی رہائشی جینیفر گیرارڈ نے اپنے 21 ماہ کے بچے کے ساتھ قریبی والمارٹ سے کمبل اور بیٹریاں خریدیں۔ دکانوں میں ڈبہ بند خوراک، بیٹریاں اور پانی سب سے زیادہ خریدے جانے والے سامان میں شامل ہیں، جس کے باعث شیلف معمول سے کم بھرے نظر آئے۔جینیفر گیرارڈ کا کہنا تھا“میں پہلے فلوریڈا میں رہتی تھی، وہاں ہم سمندری طوفانوں کے سیزن میں ہمیشہ ایسی تیاری کرتے تھے، اس لیے یہ سب میرے لیے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔”

    محکمۂ موسمیات نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، ہنگامی سامان تیار رکھنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان: شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 5 افراد جاں بحق

    ڈیرہ اسماعیل خان: شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 5 افراد جاں بحق

    ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی ایک تقریب کے دوران خودکش دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 10 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں قریشی موڑ کے قریب امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر خودکش دھماکہہوا،جاں بحق ہونے والوں میں امن کمیٹی کے رکن وحید اللّٰہ محسود بھی شامل ہیں جبکہ نور عالم محسود دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) نے خودکش دھماکے کی تصدیق کی اور بتایا کہ دھماکے بعد فائرنگ بھی ہوئی،پولیس حکام کے مطابق دھماکا امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر پر شادی کی تقریب کے دوران ہوا۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ بھتہ خوری سے جڑی ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور محرکات جانچنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد قبضے میں لے لیے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ شادی کی تقریب میں بھگدڑ مچ گئی ، مقامی افراد نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور علاقے کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اضافی طبی عملہ طلب کر لیا ہے۔

  • امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا،ٹرمپ کی تصدیق

    امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا،ٹرمپ کی تصدیق

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا (آرماڈا) روانہ کر رہا ہے، تاکہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کی بحالی سے روکا جا سکے۔امریکی جنگی جہاز بڑی تعداد میں ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے یہ بیان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکی بحری اثاثے خطے میں منتقل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہم نے احتیاطاً اس سمت کئی بحری جہاز بھیج دیے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی تصادم ہو، لیکن ہم ایران کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری ایک آرماڈا اس طرف جا رہی ہے، اور ممکن ہے ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔”

    رائٹرز سے بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق، طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن اور کئی جدید گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچنے کی توقع ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی صورت میں امریکی فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے اضافی فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔یہ تعیناتیاں صدر ٹرمپ کے فوجی آپشنز میں مزید وسعت پیدا کرتی ہیں اور جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں کو بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔

    امریکی جنگی جہاز گزشتہ ہفتے ایشیا پیسیفک خطے سے روانہ ہونا شروع ہوئے تھے، جب ایران بھر میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایران نے ان مظاہروں کے پیچھے امریکا پر الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ نے مظاہرین کی ہلاکتوں پر ایران کو مداخلت کی دھمکیاں بھی دیں۔ تاہم بعد ازاں امریکی فضائی حملے منسوخ کر دیے گئے اور گزشتہ ہفتے مظاہروں میں کمی دیکھی گئی۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مطابق، ملک بھر میں ہونے والے کئی ہفتوں کے احتجاج کے دوران “کئی ہزار” افراد ہلاک ہوئے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی وارننگ کے بعد ایران نے تقریباً 840 افراد کی سزائے موت منسوخ کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا،“میں نے کہا تھا کہ اگر تم نے ان لوگوں کو پھانسی دی تو تم پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملہ ہوگا۔ یہ ہمارے جوہری حملوں کو بھی معمولی بنا دے گا۔”ٹرمپ کے مطابق یہ سزائیں نافذ ہونے سے صرف ایک گھنٹہ قبل منسوخ کی گئیں، جسے انہوں نے “مثبت پیش رفت” قرار دیا۔تاہم ایران کے اعلیٰ سرکاری پراسیکیوٹر محمد موحدی نے جمعے کو ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان نیوز کے مطابق، موحدی نے کہا،“یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے، نہ تو ایسی کوئی تعداد موجود ہے اور نہ ہی عدلیہ نے اس نوعیت کا کوئی فیصلہ کیا ہے۔”

    صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا،“اگر وہ دوبارہ ایسا کرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں کسی اور جگہ جانا پڑے گا، اور ہم وہاں بھی اتنی ہی آسانی سے حملہ کریں گے۔”

    واضح رہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد میں پورے ملک میں پھیل گئے۔ رائٹرز کو ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ان مظاہروں میں ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں 500 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

  • سعودی عرب معدنیات کی عالمی سیاست میں بھی  فیصلہ کن کھلاڑی

    سعودی عرب معدنیات کی عالمی سیاست میں بھی فیصلہ کن کھلاڑی

    نایاب اور اہم معدنیات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ گرین لینڈ سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس میں نایاب زمینی معدنیات (Rare Earth Minerals) کے حقوق بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    یہ اہم اور نایاب معدنیات جدید دنیا کی کلیدی ٹیکنالوجیز کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، جن میں صاف توانائی کی منتقلی، مصنوعی ذہانت (AI)، الیکٹرک گاڑیاں، ونڈ ٹربائنز اور جدید فوجی ہتھیار شامل ہیں۔ تاہم ان معدنیات کی پیداوار اور ریفائننگ پر اس وقت چین کا غلبہ ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق چین دنیا کی 90 فیصد سے زائد ریفائن شدہ نایاب معدنیات اور 60 فیصد سے زیادہ کان کنی کی پیداوار پر کنٹرول رکھتا ہے۔

    ریاض میں منعقدہ فیچر منرلز فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے SAFE (Securing America’s Future Energy) کے منرلز سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ابیگیل ہنٹر نے کہا کہ چین امریکا سے “کئی دہائیاں آگے” ہے، کیونکہ اس نے طویل المدتی حکمتِ عملی، ریاستی سرپرستی، نجی شعبے کے ساتھ ہم آہنگی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے یہ برتری حاصل کی۔

    اسی تناظر میں سعودی عرب تیزی سے اپنے معدنی شعبے کو وسعت دے رہا ہے، تاکہ تیل پر انحصار کم کیا جا سکے اور عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ میں اضافہ ہو۔ سعودی حکام کا دعویٰ ہے کہ مملکت کے پاس تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں سونا، زنک، تانبہ، لیتھیم اور نایاب معدنیات جیسے ڈسپروسیم، ٹربیئم، نیوڈیمیم اور پریسیوڈیم شامل ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔S&P Global کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان سعودی عرب نے معدنی تلاش (Exploratory Mining) کے بجٹ میں 595 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ سرمایہ کاری کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ معدنی ممالک کے مقابلے میں ابھی کم ہے، تاہم نئے کان کنی لائسنسز کے اجرا میں نمایاں تیزی آئی ہے، جن میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں شامل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کان کنی صرف معدنیات نکالنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طویل المدتی عمل ہے۔ ابیگیل ہنٹر کے مطابق، “پروسیسنگ پلانٹ بنانے میں تین سے پانچ سال لگ جاتے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں یہ عمل 29 سال تک بھی جا سکتا ہے۔”اسی لیے سعودی حکومت سرخ فیتے (Red Tape) میں کمی، ٹیکس مراعات اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعے اس شعبے میں تیزی لانا چاہتی ہے۔ فیچر منرلز فورم میں سعودی سرکاری کان کنی کمپنی معادن (Maaden) نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ دس برسوں میں 110 ارب ڈالر دھاتوں اور کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گی۔ معادن کے سی ای او باب وِلٹ نے کہا، “ہم اتنے عاجز ہیں کہ جانتے ہیں یہ کام اکیلے نہیں ہو سکتا، اسی لیے عالمی شراکت داری ضروری ہے۔”

    اگرچہ سعودی معدنیات کی مجموعی مالیت تیل کے ذخائر کے مقابلے میں کم ہے، تاہم ویژن 2030 کے تحت معیشت کو متنوع بنانا مملکت کا بڑا ہدف ہے، جس میں کان کنی کو کلیدی ستون قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں صرف معدنیات نکالنا ہی نہیں بلکہ مکمل سپلائی چین اور ملکی صنعتوں، خاص طور پر الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ، کو فروغ دینا شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی مضبوط انفرااسٹرکچر کی بدولت دوسرے ممالک، خصوصاً افریقی ریاستوں سے نکالی گئی معدنیات کی ریفائننگ کے لیے ایک علاقائی مرکز بن سکتا ہے۔

    سعودی عرب کی اس حکمتِ عملی نے امریکا کی دلچسپی بھی بڑھا دی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ چین نے گزشتہ برس نایاب معدنیات کی برآمدات پر سخت کنٹرول عائد کیا تھا، جن میں کئی معدنیات فوجی استعمال کی حامل ہیں۔گزشتہ نومبر واشنگٹن میں ہونے والے دورے کے دوران سعودی عرب نے امریکا میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تک سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس میں معدنی شعبے میں دوطرفہ تعاون بھی شامل تھا۔ امریکی کمپنی MP Materials نے اعلان کیا کہ وہ معادن اور امریکی محکمہ دفاع کے اشتراک سے سعودی عرب میں ایک نئی ریفائنری قائم کرے گی۔

    کریٹیکل منرلز انسٹی ٹیوٹ کی شریک چیئر میلسا سینڈرسن کے مطابق سعودی عرب کی سب سے بڑی طاقت سستی اور قابلِ اعتماد توانائی ہے، جس کے ذریعے وہ چین کا کم لاگت اور نسبتاً ماحول دوست متبادل بن سکتا ہے۔ تاہم ماحولیاتی خدشات، مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور افریقی ممالک کے ساتھ پیچیدہ سفارتی تعلقات چیلنج بن سکتے ہیں۔سینڈرسن کے مطابق، “یہ حکمتِ عملی فوری منافع کے لیے نہیں بلکہ طویل المدتی طاقت، اثر و رسوخ اور عالمی سیاست میں مرکزی کردار حاصل کرنے کے لیے ہے۔”ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوئے تو سعودی عرب نہ صرف توانائی بلکہ اہم معدنیات کی عالمی سیاست میں بھی ایک فیصلہ کن کھلاڑی بن کر ابھر سکتا ہے

  • پنجاب میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹائیں گے، صوبے میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں بسنت فیسٹیول کا جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں ٹریفک کیلئے بہترین پلان بنایا گیا، بسنت کو محفوظ بنانے کیلئے تمام ادارے متحرک ہیں، پنجاب کی ثقافت کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا جائے گا، بسنت 800 سال پرانا فیسٹیول ہے، پنجاب حکومت کے زیرانتظام بسنت منائی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا، سیفٹی پلان کے تحت لاہور کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، وقت سے پہلے پتنگ اڑانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت منائی جائے گی، غلط ڈور استعمال کرنے پر 5 سال قید کی سزا ہوگی، ڈوراور پتنگ کے مقرر سائز کی خلاف ورزی پر بھی سزا ہوگی۔

    مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹائیں گے، ریڈ زون میں بغیر سیفٹی راڈ کے داخلے پر پابندی ہوگی، پنجاب حکومت موٹر سائیکل سواروں کو 10 لاکھ سیفٹی راڈ دے گی، 3 دنوں میں 500 بسوں پر سفر کی سہولت مفت ہوگی، بسنت کے دوران اورنج لائن، میٹرو اور الیکٹرک بسیں بھی فری چلائیں گے، 3 دن کے دوران 5 لاکھ ٹرپس کا میری طرف سے تحفہ ہے۔