Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • انڈیگو کو شدید آپریشنل بحران کا سامنا،200 سے زائدپروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار

    انڈیگو کو شدید آپریشنل بحران کا سامنا،200 سے زائدپروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار

    بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو کو حالیہ برسوں کے بدترین آپریشنل بحران کا سامنا ہے، جہاں ملک بھر میں پروازوں کی تاخیر اور منسوخیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

    انڈیگو کی ویب سائٹ کے مطابق ایئرلائن روزانہ 2200 سے زائد پروازیں چلاتی ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز ان کا آن ٹائم پرفارمنس صرف 35 فیصد رہ گیا، جو کہ ایک بڑے بحران کی علامت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ روز 1400 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔بدھ کے روز بھی یہ صورتحال برقرار رہی، جب دوپہر تک دہلی، ممبئی، بنگلورو اور حیدرآباد کے ایئرپورٹس سے 200 کے قریب پروازیں منسوخ ہوچکی تھیں، جس سے اندرونِ ملک سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ممبئی ایئرپورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا "انڈیگو کی کچھ پروازیں ایئرلائن کے اندرونی آپریشنل مسائل کی وجہ سے تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوسکتی ہیں۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنی پرواز کا تازہ ترین اسٹیٹس ایئرلائن سے معلوم کرلیں۔”

    بحران کی سب سے بڑی وجہ گزشتہ ماہ متعارف کرائے گئے نئے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن (FDTL) قواعد کے تحت پائلٹس اور کیبن کریو کی شدید کمی بتائی جا رہی ہے۔ نئے قواعد کے مطابق عملے کو زیادہ آرام، انسانی بنیادوں پر تیار کردہ روسٹر اور محدود فلائٹ اوقات دینا لازمی ہے، جس کے باعث انڈیگو اپنے بڑے نیٹ ورک کو بروقت ترتیب دینے میں ناکام رہی۔ذرائع کے مطابق کئی پروازیں کیبن کریو دستیاب نہ ہونے کے سبب گراؤنڈ رہیں، جبکہ بعض میں تاخیر آٹھ گھنٹوں تک رہی۔ چونکہ انڈیگو کا بھارت کے اندرونِ ملک فضائی سفر میں 60 فیصد سے زائد مارکیٹ شیئر ہے، اس لیے ان کی بدانتظامی کا اثر پورے نظام پر پڑا۔

    انڈیگو کے بیان کے مطابق "گزشتہ دو روز سے ہمارے پورے نیٹ ورک میں شدید بے ترتیبی رہی ہے، جس پر ہم اپنے مسافروں سے دل سے معذرت خواہ ہیں۔ غیر متوقع آپریشنل چیلنجز، جن میں ٹیکنالوجی کے معمولی مسائل، موسم سرما کے شیڈول میں تبدیلیاں، خراب موسم، فضائی نظام میں بڑھتی بھیڑ، اور نئے FDTL قواعد شامل ہیں، نے ہمارے آپریشنز پر منفی اثر ڈالا۔”

    FDTL قوانین کے تحت،عملہ روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ نہیں اڑا سکتا،ہفتہ وار حد 35 گھنٹے ہے،ماہانہ حد 125 گھنٹے ہے،سالانہ حد 1000 گھنٹے ہے،مزید یہ کہ ہر فلائٹ ٹائم کے مقابلے میں عملے کو دگنا آرام دینا لازمی ہے، اور ہر 24 گھنٹے میں کم از کم 10 گھنٹے کا آرام ضروری ہے۔ یہ اصول پائلٹس اور کریو کی تھکاوٹ سے بچاؤ اور فضائی سفر کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے نافذ کیے ہیں۔

    ایئرلائن کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں شیڈول میں "محدود لیکن باقاعدہ تبدیلیاں” لائی جا رہی ہیں، تاکہ نظام کو دوبارہ مستحکم کیا جاسکے۔انڈیگو کا کہنا ہے کہ متاثرہ مسافروں کومتبادل پروازیں یا رقم کی واپسی جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔مسافروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایئرپورٹ جانے سے قبل اپنی پرواز کا اسٹیٹس چیک کرلیں۔

    حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صبح کے وقت طویل قطاریں اور پریشان مسافر نظر آئے جہاں 33 انڈیگو پروازیں (آمد و روانگی دونوں) منسوخ کی گئیں۔روانہ ہونے والی پروازیں بھی بڑی تعداد میں منسوخ ہوئیں۔بنگلورو کے کیمپے گوڑا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی 42 گھریلو پروازیں (22 آمد، 20 روانگی) منسوخ ہوئیں۔

    پریشان مسافروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی مشکلات بیان کیں،ایک مسافر نے لکھا "میں رات 3 بجے سے پھنس گیا ہوں، ایک اہم میٹنگ مس کر دی ہے۔”دوسرے نے بتایا "میری ادے پور جانے والی پرواز پہلے 1:55، پھر 2:55، اب 4:35 کر دی گئی ہے۔ یہ مذاق ہے؟ ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے تین منٹ پہلے مجھے اطلاع دی گئی۔”

  • کےپی حکومت کا ہیلتھ کارڈ صحیح ماڈل نہیں،بلاول

    کےپی حکومت کا ہیلتھ کارڈ صحیح ماڈل نہیں،بلاول

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا حکومت کے صحت کارڈ اسکیم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن ٹرسٹ اسپتال شارع فیصل میں نوتعمیرشدہ ڈاکٹر سید ہارون احمد ڈائیلاسز سینٹر اور زبیدہ مصطفی لیتھوٹرپسی یونٹ کا افتتاح کردیا۔اس موقع پر بلاول نے مریضوں سے ملاقات کی اور معیاری، مفت علاج کی اہمیت کو اجاگر کیا۔سندھ حکومت نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سرپرستی میں SIUT شارعِ فیصل میں 55 بستروں پر مشتمل جدید ڈائیلاسس سینٹر قائم کر کے خدمتِ انسانیت کی نئی مثال قائم کی ہے۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کا بجٹ ہیلتھ کارڈ میں ڈال دیا ہے، میرے خیال میں کےپی حکومت کا ہیلتھ کارڈ صحیح ماڈل نہیں ہے، ہیلتھ کارڈ کی ایک حد مقرر ہے اس سے زیادہ بیماری پرخرچہ آیا تو آپ کو اپنی پیسوں سے علاج کروانا ہوگا، خیبرپختونخوا حکومت صحت کے نظام میں حکومتی اداروں کا پیسہ نجی اسپتالوں کو دلوارہی ہے، ہم نے پسماندہ طبقے کیلئے وسیلہ صحت پروگرام شروع کیا تھا، وسیلہ صحت پروگرام کا مقصد تھا کہ پسماندہ ترین افراد کو براہ راست مدد پہنچائی جائے،وفاقی حکومت،خیبرپختونخوا حکومت پاپولیشن پلاننگ پر15 سال کی کارکردگی سامنے لائے،میں سندھ حکومت کی 15 سال کی پاپولیشن پلاننگ کی کارکردگی پیش کرنے کیلئے تیارہوں، ہم گوجرخان، سرگودھا، رحیم یارخان اور ڈی آئی خان میں بھی ایس آئی یوٹی کےتعاون سے سہولیات فراہم کریں گے۔

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھاکہ ایس آئی یو ٹی کی عمارت کی تاریخ شہرِ کراچی سے جڑی ہوئی ہے، یہ کہانی تاج محل سے شروع ہوکر ایس آئی یو ٹی تک آتی ہے۔این آئی سی وی ڈی پوری دنیا میں مفت علاج کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے، ہم ڈاکٹر ادیب رضوی کیساتھ مل کر ایس آئی یو ٹی کی سہولت کو گوجر خان، سرگودھا اور ڈی آئی خان میں بھی شروع کرنے جارہے ہیں. عوام کو معیاری اور مفت علاج کی فراہمی پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی حصہ ہے۔

  • نیپا چورنگی واقعہ،وزیراعلیٰ کی ہدایت پر 5 متعلقہ افسران معطل

    نیپا چورنگی واقعہ،وزیراعلیٰ کی ہدایت پر 5 متعلقہ افسران معطل

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے سے 3 سالہ بچے کے جاں بحق ہونے پر 5 متعلقہ افسران کو معطل کردیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت نیپا چورنگی واقعے سے متعلق اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرا،کے ایم سی، ٹاؤن انتظامیہ، ریونیو اور پولیس حکام نے شرکت کی،وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بچے کے جاں بحق ہونے پر دلی افسوس ہے، جس کی بھی کوتاہی ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرنا افسوسناک ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ افسران کو معطل کیا جائے، چیف سیکرٹری سندھ آج ہی ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کریں۔

    وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ بلدیات سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت کو معطل کردیا،ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال کے اسسٹنٹ انجینئر راشد فیاض اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ایگزیکٹو انجینئر وقار احمد کو بھی معطل کردیا گیا ہے،اسسٹنٹ کمشنرگلشن اقبال عامر علی شاہ اور مختیارکار گلشن اقبال سلمان فارسی کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی رائل فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی رائل فورسز کے کمانڈر کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے کمانڈر رائل سعودی فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعودکی اہم ملاقات ہوئی ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشترکہ دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات کے دوران دونوں عسکری قیادتوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی، برادرانہ اور اسٹریٹجک عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط دفاعی اشتراک پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تربیت، کیپسٹی بلڈنگ اور انٹیلی جنس شیئرنگ جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں مزید وسعت کی ضرورت ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعود الجزہانی نے پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی تعریف کی،

    قبل ازیں جی ایچ کیو آمد پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا،

  • انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور

    انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور

    لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اُن کی رہائی کا حکم جاری کردیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

    مقدمے کی سماعت جسٹس صداقت علی خان نے کی، جنہوں نے دلائل سننے کے بعد عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزم متعلقہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کرائے۔انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف جہلم میں توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہے جس کے بعد مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں 3 ایم پی او (پبلک آرڈر آرڈیننس) کے تحت گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا تھا۔ بعد ازاں ان کے وکلا نے گرفتاری اور مقدمے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔

    سماعت کے دوران مرزا کے وکلا کا مؤقف تھا کہ مقدمہ بے بنیاد ہے اور اُن کے مؤکل کو مخصوص گروہوں کی مخالفت کے باعث نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ استغاثہ نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جن کی تحقیقات درکار ہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت منظور کرلی۔ رہائی کے احکامات جاری ہونے کے بعد اُن کے حامیوں نے عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

  • کرغزستان کے صدر  2  روزہ  دورے  پر اسلام آباد پہنچ گئے

    کرغزستان کے صدر 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

    کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے،

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نورخان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا، وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام بھی کرغزستان کے صدر کے استقبال کیلئے موجود تھے۔ کرغزستان کے صدر طیارے سے باہر آئےتو صدر مملکت آصف علی زرداری ان سے بغلگیر ہوئے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ان سے پرجوش مصافحہ کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کو پھول پیش کئے۔کرغزستان کے صدر کا اس موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ملکوں کے پرچم تھامے بچوں نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ کرغزستان کے صدر کو اسلام آباد پہنچنے پر 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

    صدر صادر ژپاروف دورے کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کریں گے۔ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ہیں۔ دورے کے دوران کرغزستان کے صدر اسلام آباد میں بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے۔ کرغزستان کے صدر کے ساتھ وفد میں اعلیٰ سرکاری عہدیدار اور کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں

  • پی آئی اے کی بِڈنگ 23 دسمبر 2025 کو ہوگی، وزیرِ اعظم

    پی آئی اے کی بِڈنگ 23 دسمبر 2025 کو ہوگی، وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پی آئی اے کی نجکاری میں بِڈنگ میں حصہ لینے والے تمام بڈرز کی ملاقات آج وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہوئی.

    اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اسحاق ڈار، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، اعظم نذیر تارڑ، سردار اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. ملاقات میں پی آئی اے کی بِڈنگ میں شرکت کرنے والے تمام بِڈرز نے شرکت کی. شرکاء نے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں پیشہ ورانہ اور شفاف طریقہ کار کی تعریف کی.وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی نجکاری میں شفافیت اور میرٹ اولین ترجیح ہے، نجکاری کیلئے بِڈنگ ملک بھر میں ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی، پی آئی اے کا کھویا ہوا تشخص بحال کرنے اور قومی ایئرلائن کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے نجکاری کا عمل سہل طور سے جاری ہے.انشاء اللہ جلد پی آئی اے ایک مرتبہ پھر سے "گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد” (Great People to Fly With)کی اپنی روایات پر پورا اترنے لگے گا.پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنا رہے ہیں، بِڈنگ ملک بھر میں ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی،پی آئی اے کی دنیا بھر میں پروازوں کی بحالی سے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کیلئے سہولت ہوگی. پاکستان کے سیاحتی شعبے کی ترقی کیلئے بھی قومی ائیر لائن کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا انتہائی ضروری ہے.پر امید ہیں کہ آپ میں سے جو بھی بِڈنگ کے بعد اس اہم ذمہ داری کو سنبھالے گا وہ قومی ائیر لائن کے تشخص کی بحالی اور اسکی ترقی پر اپنی بھرپور توانائیاں مرکوز کرے گا. پی آئی اے کی بِڈنگ 23 دسمبر 2025 کو ہوگی جسکو تمام میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے گی.

  • حکومتوں کو عوامی مسائل سے دلچسپی نہیں،نوجوانوں کو آگے بڑھنا ہوگا،  تابش قیوم

    حکومتوں کو عوامی مسائل سے دلچسپی نہیں،نوجوانوں کو آگے بڑھنا ہوگا، تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ انٹراپارٹی انتخابات کا پہلا فیز جاری ہے،حکومتوں کو عوامی مسائل سے دلچسپی نہیں، مرکزی مسلم لیگ انٹرا پارٹی انتخابات کے بعد یوسی سطح پر خدمت کمیٹیاں بنا کر عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گی،پنجاب میں ایک دہائی سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، کرپشن کے خاتمے کے لئے دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے، سیاست چند خاندانوں کی میراث نہیں، نوجوانوں کو آگے بڑھنا ہوگا، نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت دے کر بے روزگاری کا خاتمہ کر رہے ہیں،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرانوالہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ گوجرانوالہ ڈویژن کے صدر شیخ فیاض احمد، مرکزی مسلم لیگ گوجرانوالہ کے نائب صدر راشد علی سندھو،ضلعی سیکرٹری جنرل چوہدری شوکت علی ورک بھی موجود تھے، تابش قیوم کاکہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ نظریہ پاکستان کی علمبردار سیاسی جماعت ہے، ہم خدمت کو سیاست کا بنیادی جزو سمجھتے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا انداز یکسر مختلف ہے، دوران سیلاب مرکزی مسلم لیگ نے ریسکیو و ریلیف کا کام کیا، سہولت بازارقائم کئے گئے، رمضان میں سحر و افطار دسترخوان ملک بھر میں لگائے گئے، ہم سمجھتے ہیں کہ یونین کونسل کی سطح پر شہریوں کے مسائل ہیں جنہیں حل کرنے میں حکومتوں کی دلچسپی نہیں،اسی لئےبلدیاتی انتخابات نہیں کروائے جا رہے، ،پنجاب حکومت بھی بلدیاتی الیکشن نہیں کروا رہی، ہم نے قومی اسمبلی کی سطح پربھی دیکھ لیا کہ کس طرح سیلیکشن ہوتی ہیں،جمہوری روایات کی حالت آج سب کے سامنے ہے،تابش قیوم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کا واحد حل نوجوانوں کو قیادت دیں انکی تربیت کریں، اپنی مدد آپ کے تحت معاشرے کے مسائل کو حل کریں،ہم سیاست کی ایسی بنیاد رکھیں گے جس کے سامنے کوئی ایسا نظام کھڑا نہ رہ سکے جو کرپشن پر مبنی ہو، ہمارا نعرہ ہے عوام کو اختیار دو ، اسکی عملی مشق ملک بھر میں انٹرا پارٹی انتخابات کر رہے ہیں، ملک بھر کی 500 یوسز میں انٹرا پارٹی انتخابات ہو رہے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے عہدیدار خدمت کے پروگرام شروع کریں گے اور وہ تمام سیاسی جماعتوں کے لئے مثال بنیں گے ، کوئی بھی شخص جس نے مرکزی مسلم لیگ کا رکنیت کا فارم جمع کروایا ہے وہ ووٹ دے سکتا ہے،یونین کونسل کا صدر ایک پینل منتخب کرے گا جس میں ایک خاتون بھی شامل ہو گی،ایک کمیٹی بنے گی جو خدمت کے کام کرے گی،تابش قیوم کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ غیر جماعتی انداز سے بالکل درست نہیں، سیاسی جماعتوں کو موقع دینا چاہئے، ہم نے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کئے،ڈیجیٹل روزگار پروگرام شروع کیا صلاحیت بڑھاؤ،اپنا کماؤ کے نام سے نوجوانوں کو آئی ٹی، فری لانسنگ کی تربیت فراہم کر رہے ہیں، ہم پورا ایجنڈہ رکھتے ہیں کہ کس طرح وہ کام کر سکتے ہیں جو حکومت نے کرنے ہیں،مرکزی مسلم لیگ میں ہر پاکستانی شہری شامل ہو سکتا ہے ،ہم سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، جو بھی شخص کسی بھی قوم،برادری،مسلک سے تعلق رکھتا ہے رکن بن سکتا ہے،نوجوانوں کو باتیں اور کہانیاں سنا کر ساتھ نہیں چلایا جا سکتا بلکہ عملی کام کرنا پڑتا ہے،جب عملی طور پر لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے تو لوگ ساتھ جڑیں گے،

    اس موقع پر شیخ فیاض احمد کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالہ سے بہت بڑی روایت قائم کر رہی ہے، اپنی جماعت کے اندر نئی قیادت کو موقع دے رہی ہے،باقی جماعتوں کو بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنی جماعتوں میں جمہوری سسٹم رائج کریں، پاکستان کی سیاست چند ہاتھوں اور خاندانوں میں نہیں ہونی چاہئے،

  • قومی اسمبلی و سینیٹ کی کی قائمہ کمیٹی میں آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ زیر بحث

    قومی اسمبلی و سینیٹ کی کی قائمہ کمیٹی میں آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ زیر بحث

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں آئی ایم ایف کی رپورٹ پر بحث کے دوران نوید قمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ صرف حکومت کیخلاف فرد جرم نہیں اس میں پارلیمنٹ بھی شامل ہے۔

    نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں نوید قمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ پارلیمنٹ اور حکومت کے خلاف ہے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس رپورٹ کو کسی کے خلاف نہ سمجھا جائے، یہ تشخیصی رپورٹ حکومت کی درخواست پر تیار کی گئی،رپورٹ میں 15 ترجیحی سفارشات دی گئی ہیں، ایسی رپورٹس دنیا کے کئی ممالک کے بارے میں جاری ہوئی ہیں، رپورٹ پر لائحۂ عمل 31 دسمبر سے پہلے بنا لیا جائے گا،نوید قمر نے کہا کہ اس پر کمیٹی ماہرین کو بلا کر علیحدہ سے بریفنگ لے گی۔

    دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں آئی ایم ایف کی کرپشن اینڈ ڈائیگناسٹک رپورٹ زیر بحث آگئی،سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ رپورٹ آئی ایم ایف بورڈ کے جائزہ اجلاس کے پیش نظر جاری کی گئی جس میں عالمی ادارے نے کہا کہ آپ نے رپورٹ جاری کرنے کیلیے ایگری کیا تھا، مالیاتی فنڈ نے جلد سے جلد رپورٹ جاری کرنے کا کہا تھا،رکن قائمہ کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اس رپورٹ سے اتفاق کیا تھا؟ اراکین پارلیمنٹ تو ویسے ہی بدنام ہو جاتے ہیں اس رپورٹ کا اراکین سے تعلق نہیں، اس رپورٹ کا تعلق سول سرونٹس اور گورننس سے ہے،کمیٹی کے ایک اور رکن دلاور خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 5300 ارب کی نشاندہی کی اس کے بدلے ریلیف کتنا دیا گیا ہوگا؟ جن اداروں کا رپورٹ میں ذکر ہوا کیا ان کے خلاف کوئی ایکشن کا ارادہ ہے،اس پر وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ رپورٹ میں کچھ نیا نہیں ہے وہی کچھ ہے جس پر پہلے ہی حکومت کام کر چکی تھی،دلاور خان نے کہا کہ لاہور میں ایک ایف بی آر کا افسر ایک ممبر کیلیے ریفنڈز میں کرپشن کرتا ہے، یہ ٹاپ اسٹوری تھی کہ اس افسر نے ممبر بادشاہ وزیر سے حصہ مانگا، حصہ نہ ملنے پر ایف بی آر کے افسر نے فائرنگ کی تھی۔

    چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا واقعہ سن کر حیران رہ گئے۔ اس پر رکن کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ کیا آپ نہیں جانتے یہ تو ڈیڑھ سال پہلے بڑی اسٹوری تھی،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے ممبر بادشاہ وزیر کا معاملہ اگلی میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا،رکن کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے بتایا کہ سی ڈی اے کا ایک افسر اربوں روپے کی کرپشن کر کے اڈیالہ جیل پہنچ گیا جہاں ڈیل ہوئی اور افسر اس سے بڑے عہدے پر تعینات ہوگیا، مافیاز حکومت چلا رہے ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کرپشن میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ تو آئی ایم ایف تھا کہ رپورٹ سامنے لانی پڑ گئی،سلیم مانڈوی والا نے سوال کیا کہ کرپشن بڑھ رہی ہے اسے ختم کرنے کیلیے کیا کیا جا رہا ہے؟ وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ 15 سفارشات پر عملدرآمد کرنے کا اتفاق کیا،سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ای پیڈز سے پہلے ہی بولی طے ہو جاتی ہے، سینیٹر دلاور خان بولے کہ لاہور کے ایل ٹی او کے گزشتہ 2 سال کے ریفنڈز دیکھ لیں شفافیت سامنے آ جائے گی،فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اس ملک کا آوہ بگڑ گیا ہے اس کو جڑ سے درست کرنا ہوگا،وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ اس سال ایس آئی ایف سی کی کارکردگی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ اس پر سینیٹر دلاور خان بولے کہ ان کا خیال ہے کہ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری لائے گی،اجلاس میں رکن کمیٹی شاہزیب درانی کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی والے کہتے ہیں ٹیکس زیادہ ہے اس لیے سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ اہم معاملہ ہے اس پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے بریفنگ لی جائے گی۔

  • افغان طالبان رجیم کے دہشتگردانہ عزائم عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ

    افغان طالبان رجیم کے دہشتگردانہ عزائم عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ

    افغان طالبان رجیم نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لئے بھی شدید خطرہ بن چکی ہے

    افغانستان فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، داعش، القاعدہ جیسی عالمی کالعدم دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے،26 نومبر 2025 کو امریکہ کے وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کے واقعہ میں افغان نژاد رحمان اللہ لاکانوال ملوث تھا،اس افسوسناک واقعہ میں نیشنل گارڈز کے دو اہلکار ہلاک بھی ہوئے،سی این این کے مطابق گرفتار ہونے والا دہشتگرد اس سے قبل افغانستان میں CIA کے لئے کام کر چکا ہے،سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے مطابق نیشنل گارڈ پر حملہ کرنے والا دہشتگرد افغانستان میں شدت پسند تنظیموں سے مسلسل رابطے میں تھا،واشنگٹن میں افغان شہری جمال ولی نے ورجینیا کے دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے زخمی کیا

    امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق; بہت سی افغان شہری اس سے قبل بھی مختلف جرائم میں ملوث پائے گئے جن کو بائیڈن انتظامیہ کی طرف قانونی حیثیت دی گئی تھی،افغان شہری عبداللہ حاجی زادہ اور ناصر احمد توحیدی کو 2024 کے الیکشن کے دن دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ،افغان شہری محمد خروین جو دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل تھا، کو 2024 میں گرفتار کیا تھا ،افغان شہری جاوید احمدی کو 2025 میں گرفتار کیا تھا اور اسے دوسرے درجے کے حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا ،افغان شہری بحر اللہ نوری کو مجرمانہ سرگرمیوں پرگرفتار کیا گیا تھا،اسی طرح افغان شہری ذبیح اللہ مہمند کو مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا

    27 نومبر 2025 کو افغان سرزمین سے ڈرون حملے میں تاجکستان میں تین چینی مزدور ہلاک ہو گئے تھے،1 دستمبر کو تاجک حکام نے تصدیق کی کہ افغانستان کے ساتھ جھڑپ میں مزید دو چینی مزدور ہلاک ہو ئے

    افغان شہریوں کی جانب سے یہ دہشتگردانہ حملے وسطی ایشیا، یورپ اور اب امریکہ تک پھیل چکے ہیں ،پاکستان سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کے لئے پشت پناہی پر خدشات ظاہر کر چکی ہیں،رواں سال پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں میں ہلاک اور گرفتار دہشتگردوں کا تعلق افغانستان ہی سے تھا

    آسٹریلوی جریدے "The Conversation” کے مطابق”اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار میں آنے کے بعد سے خطہ بھر میں دہشتگردی کا خطرہ بڑھ گیا”آسٹریلوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے شمال و مشرقی علاقوں میں موجود شدت پسند نیٹ ورکس نے اپنے مراکز قائم کر رکھے ہیں،امریکی ادارہ برائے امن نے بھی طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان کو بین الاقوامی امن کے لئے خطرہ قرار دیا تھا، فاکس نیوز کے مطابق 29 نومبر 2025 کو ٹیکساس میں افغان نژاد محمد داؤد نے سوشل میڈیا پر بم دھماکے کی دھمکی دی،اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور SIGAR رپورٹس مسلسل افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی رہی ہیں،اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک اور روس نے بھی فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم سے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا،ایران، جرمنی اور دنیا بھر کے بیشتر ممالک شدت پسندی اور دہشتگردی کے باعث افغانیوں کو ملک بدر کر رہے ہیں،دنیا بھر میں موجود افغان شدت پسند نظریات عالمی امن کے لئے خطرے کا باعث بن گئے ہیں