Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قومی زندگی میں خصوصی افراد کی مکمل شمولیت حکومت کی ترجیح ہے،صدر مملکت

    قومی زندگی میں خصوصی افراد کی مکمل شمولیت حکومت کی ترجیح ہے،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ قومی زندگی میں خصوصی افراد کی مکمل شمولیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے خصوصی افراد کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی زندگی میں خصوصی افراد کی مکمل شمولیت حکومت کی ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں اقدامات جاری ہیں،قومی شناختی کارڈ پر خصوصی لوگو، سرٹیفیکیشن اور سماجی تحفظ سے متعلق سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے جب کہ خصوصی افراد کے لیے بہتر روزگار اور نقل و حرکت کے مواقع فراہم کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے،منصفانہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر فرد کو یکساں سہولتیں میسر ہوں اور خصوصی افراد کی راہ میں حائل جسمانی، سماجی اور رویوں پر مبنی رکاوٹیں دور کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    صدرِ مملکت نے خصوصی افراد کی شناخت کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم، کاروبار اور ترقی میں ان کی فعال شرکت قومی مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔

  • ہمیشہ صحافیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ عطا تارڑ

    ہمیشہ صحافیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے حکومت پُرعزم ہے اور ان کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

    انہوں نے یہ بات پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اطلاعات نے پی آر اے کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد بھی دی،عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی آر اے کے ساتھ ہمیشہ گہرا رشتہ رہا ہے اور پریس گیلری انہیں ہمیشہ ایوان کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن قومی، سماجی اور صحافتی ایشوز پر ہمیشہ توانا آواز رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی جب واک آؤٹ کرتے ہیں تو انہیں وہی عزت ملتی ہے جو کسی رکنِ ایوان کو حاصل ہوتی ہے، اور یہ ایک منفرد اعزاز ہے،پی آر اے پارلیمانی جمہوری عمل کا مضبوط حصہ ہے اور ان کی کوشش رہی ہے کہ صحافیوں کے ساتھ رابطہ برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صحافیوں کو اپنا حلقہ سمجھتے ہیں اور ان کے کسٹوڈین ہیں۔ پی آر اے کے کردار کو مزید فعال بنایا جائے گا، پی آر اے صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالنے کے مسئلے پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اپنی تجاویز بھجوائے، جن پر عمل کیا جائے گا،جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن کا قیام خوش آئند ہے، جس میں تمام صحافتی تنظیموں کی نمائندگی موجود ہے،کمیشن کا پہلا اجلاس بھی ہو چکا ہے،عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ جاب سیکیورٹی صحافیوں کا بنیادی حق ہے اور وہ ہمیشہ صحافیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

  • مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہے،اسحاق ڈار

    مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مئی میں پاک بھارت جنگ بھی خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔

    اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہے،دنیا میں سلگتے تنازعات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت کرتا ہے، جنوبی ایشیا سب سے زیادہ آبادی والا خطہ ہے، جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی اور غذائی قلت کے چیلنجز سنگین ہوتے جا رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اس وقت بہت بڑا چیلنج ہے، درجہ حرارت میں اضافے اور سیلابوں کے معیشت پر تباہ کن اثرت مرتب ہو رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کو غربت، ناخواندگی، ناگہانی آفات سمیت دیگر چیلنجز درپیش ہیں، جنوبی ایشیا کے ممالک کو اپنے مسائل کے حل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، مشترکہ خوشحالی کے لیے علاقائی روابط اہم ہیں۔

  • سندھ ہائی کورٹ،میر مرتضٰی بھٹو قتل کیس کی اپیلوں پرسماعت ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ،میر مرتضٰی بھٹو قتل کیس کی اپیلوں پرسماعت ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ،میر مرتضٰی بھٹو قتل کیس کی اپیلوں کی سماعت ہوئی

    عدالت میں رپورٹ جمع کروائی گئی بتایا گیا کہ کیس میں متعدد ملزمان انتقال کرچکے ہیں،شاہد حیات، شبیر احمد قائمخانی، آغا محمد جمیل، مسعود شریف کا انتقال ہوچکا ہے، وکیل اپیل کنندہ نے کہا کہ کیس میں نامزد محروم پولیس افسر شاہد حیات کی اپیل میں منسلک دستاویزات پڑھنے کے قابل نہیں ہیں،عدالت نے درست دستاویزات اپیل کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی

    مرتضیٰ بھٹو کو 20 ستمبر 1996 میں دو تلوار کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا،واقعے کے دو مقدمات درج کیے گئے تھے ،ایک مقدمہ سرکار جبکہ دوسرا مقدمہ مرتضیٰ بھٹو کے اہلخانہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا،ٹرائل کورٹ نے دونوں مقدمات میں تمام ملزمان کو بری کردیا تھا،عدالت نے وکلا کی استدعا پر اپیل کی سماعت 27 جنوری 2026 تک ملتوی کردی

  • ڈی آئی خان، پولیس موبائل دھماکے میں 3 اہلکار شہید

    ڈی آئی خان، پولیس موبائل دھماکے میں 3 اہلکار شہید

    ڈیرہ اسماعیل خان،تحصیل پنیالہ میں پولیس موبائل پر ہونے والے آئی ای ڈی دھماکے میں 3 پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ ایک اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

    پولیس کے مطابق یہ دھماکہ پنیالہ کے علاقے میں اُس وقت ہوا جب معمول کی گشت پر مامور تھانہ پنیالہ کی پولیس موبائل گزر رہی تھی۔ اچانک سڑک کنارے نصب بارودی مواد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور ڈرائیور سخی جان موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ دھماکے کے وقت گاڑی میں موجود کانسٹیبل آزاد شاہ محفوظ رہے۔دھماکے کی خبر ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ شواہد اکٹھے کرنے کے بعد شہدا کے جسد خاکی ٹی ایچ کیو ہسپتال پنیالہ منتقل کر دیے گئے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرولڈ آئی ای ڈی سے کیا گیا، تاہم پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔آئی جی پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے شہدا کے اہلِ خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

  • لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان،آرڈیننس جاری

    لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان،آرڈیننس جاری

    لاہور سمیت پورے پنجاب میں بسنت منانے کا اعلان، مقررہ جگہوں اور اوقات میں پتنگ بازی کی اجازت ہوگی،

    18 سال سے کم عمر پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے، پنجاب حکومت نے کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 جاری کردیا۔آرڈیننس کے تحت بسنت کے لئے شرائط مقرر کی گئی ہیں جن کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، پنجاب میں 2001 میں پتنگ بازی پر پابندی لگی تھی پچیس سال بعد پتنگ بازی کی دوبارہ اجازت دی گئی ہے،اٹھارہ سال سے کم عمر بچے پتنگ بازی نہیں کرسکیں گے خلاف ورزی پر والد یا سرپرست ذمہ دار ہوگا،صرف دھاگے سے بنی ڈور سے ہی پتنگ بازی کی اجازت ہوگی دھاتی یا تیز دھار مانجھے سے بنی ڈور کے استعمال پر سخت سزائیں دی جائیں گی،قانون کی خلاف ورزی پرکم از کم تین اور زیادہ سےزیادہ پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپےجرمانےکی سزادی جا سکےگی، پتنگ بازی کی ایسوسی ایشنز متعلقہ ضلع کےڈپٹی کمشنرکےپاس رجسٹرکی جائیں گی، قانون کی خلاف ورزی کی شکایت کرنے والے(Whistle blower)کی قانونی طورپر حوصلہ افزائی کی جائے گی، پتنگیں رجسٹرڈ دکانداروں سے ہی خریدی جائیں گی ہر رجسٹرڈ دکاندار کو ایک کیو آر کوڈ سے منسلک کیا جائے گا، پتنگ پر بھی کیو آر کوڈ ہوگا جس سے پتنگ بیچنے والے کی شناخت ہو سکے گی،ڈور بنانے والوں کی بھی رجسٹریشن ہوگی کیو آر کوڈ سے ان کی بھی شناخت ہوگی

  • امام مساجد کیلیے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ کی منظوری

    امام مساجد کیلیے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد کی منظوری دے دی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں فروری 2026 تک اعزازیہ کارڈ کے اجرا کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے یکم جنوری سےادائیگی کاحکم دیا ہے اور پہلی مرتبہ پےآرڈر دیےجائیں گے،یکم فروری سے وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد صاحب کے ذریعے ادائیگی ہوگی،مریم نواز نے ہدایت دی کہ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے، پنجاب بھر میں آئمہ کرام کے 62994 رجسٹریشن فارم وصول کیے گئے ہیں جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے، ملک وقوم کے مفادات کےخلاف اور اخلاقی یامالی جرائم میں ملوث امام مسجد کا اعزازیہ بند کردیا جائے گا،صوبے بھر میں مسجد مینجمنٹ کمیٹیاں اور تحصیل مینجمنٹ کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں، اسسٹنٹ کمشنرز کو ہر ماہ آئمہ کرام کو مدعو کرکے میٹنگ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے،سیف سٹی کیمروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر سخت کارروائی کے لیے قانون سازی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،مریم نواز نے غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کے خلاف آپریشن مسلسل جاری رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان سیکورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں،نوکنڈی میں تمام دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان سیکورٹی فورسز کی بڑی کاروائیاں،نوکنڈی میں تمام دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں.

    نوکنڈی، بلوچستان، سیکیورٹی فورسز نے نوکنڈی کے علاقے میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک شدت پسند نے تقریباً 500 کلو گرام دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی کو علاقے میں داخل کرکے دھماکے سے اڑا دیا، جس سے تقریباً 50 فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔
    ذرائع کے مطابق ابتدائی دھماکے کے بعد چھ مزید دہشت گردوں نے فالو اپ حملے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے فوری جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے 48 گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں تمام سات حملہ آور مارے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    خودکش حملہ آور زرینہ رفیق بلوچ کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے زرینہ کے والد، چچا اور منگیتر کو اغوا کرلیا ہے، تاکہ اس کیس کے حقائق منظرِ عام پر نہ آسکیں،اہل خانہ کے مطابق زرینہ، جو BYC کی رکن بتائی جاتی ہے، ایک ’’ورکشاپ‘‘ کے بہانے لے جائے جانے کے بعد لاپتہ ہوئی۔ خاندان نے الزام لگایا کہ اسے زبردستی دباؤ میں رکھا گیا اور اس کی نامناسب ویڈیوز بنا کر اہلِ خانہ کو دھمکایا گیا۔ذرائع کے مطابق زرینہ کے والد ماسٹر رفیق، چچا خدا داد اور منگیتر زبیر کو اس وقت اغوا کیا گیا جب انہوں نے واقعے کی تفصیلات بتانے کی کوشش کی۔ خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ BLF کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر کسی نے بات کی تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔

    سیکیورٹی و انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مخالف قوتوں کی سرپرستی میں سرگرم نیٹ ورکس نے دو مزید شدت پسند تنظیموں کو بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) میں ضم کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائیوں کے بعد مبینہ طور پر بھارت اور اسرائیل نے جیش العدل اور انصار الفرقان کو BLA کے ساتھ یکجا کرنے میں کردار ادا کیا۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تنظیموں نے مل کر نیا مشترکہ پرچم بھی تیار کر لیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔جیش العدل پاکستان میں کارروائیوں میں BLA کی معاونت کرے گی،جبکہ BLA ایران میں کارروائیوں کے لیے جیش العدل کو اسلحہ، گولہ بارود اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گی

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایران کی مسلح افواج اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں ایک ریپڈ ری ایکشن بریگیڈ تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، جو چار ہزار تک بھاری اسلحے سے لیس جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق منگل کی صبح نامعلوم شدت پسندوں نے حاجی ظفر خان کے گھر پر راکٹ فائر کیا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود دو بچے زخمی ہوگئے۔انتظامیہ اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچے جبکہ بچوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    کوئٹہ ، سیکیورٹی اداروں نے ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے نصرآباد، تربت ٹمپ کے رہائشی ہلال داد کو مبینہ طور پر شدت پسند عناصر سے روابط کے شبہے میں حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق ملزم کو قانونی تحقیقات کے لیے ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

    سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران کالعدم گلبہار گروپ کے اہم ترین چار کمانڈروں کو ہلاک کردیا۔ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں مولوی حمید افغانی گروپ کا اہم اور انتہائی بااثر رہنما،کمانڈر ابو دُجانہ،کمانڈر مُنیب،کمانڈر محب اللہ عرف میبل شامل ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ گلبہار گروپ کے مقامی عناصر نے بھی اپنے سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    صوابی ، رزاڑ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایف سی نائب خطیب عبدالمجید پر اُس وقت فائرنگ کردی جب وہ اپنے بھائی کی دکان پر موجود تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور اسپتال منتقل کر دیے گئے۔پولیس کے مطابق عبدالمجید معمول کی چھٹی پر گاؤں آئے ہوئے تھے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    شمالی وزیرستان ، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع کے دو مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں سات دہشت گرد مارے گئے۔میر علی میں فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک مقام کا محاصرہ کیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔دوسرا آپریشن سپین وام میں کیا گیاجس میں‌ ایک شدت پسند کو ہلاک کیا گیا۔فورسز نے جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گروپ کے روابط ’’بھارتی سرپرستی‘‘ میں سرگرم نیٹ ورکس سے تھے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

  • نومبر 2025 میں  دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

    نومبر 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

    اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) نے نومبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران دہشت گردی کے 97 واقعات رپورٹ ہوئے، جو اکتوبر میں ہونے والے 89 واقعات کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین اس اضافے کو شدت پسند گروہوں کی حکمت عملی میں تبدیلی اور نرم اہداف کو نشانہ بنانے کے بڑھتے رجحان کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے گروہوں کی جانب سے شہری علاقوں اور غیر محفوظ برادریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔ نومبر میں 54 شہری دہشت گردی کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوئے، جو اکتوبر کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہیں۔ شہری ہلاکتوں میں یہ اضافہ سیکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ گروہ تیزی سے اپنی کارروائیاں شہری مراکز کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔

    رپورٹ بتاتی ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور امن کمیٹیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ نومبر میں 25 سیکیورٹی اہلکار اور 7 امن کمیٹی ارکان مختلف حملوں میں شہید ہوئے، جبکہ 83 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری اور 4 امن کمیٹی ارکان زخمی ہوئے۔ ان حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کی کارروائیوں کو سست کرنا تھا۔

    دہشت گردی میں اضافے کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران مجموعی طور پر 206 دہشت گرد مختلف کارروائیوں میں ہلاک کیے گئے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ صلاحیت اور مسلسل کارروائیوں کا ثبوت ہیں۔نومبر میں خودکش حملوں کی تعداد بڑھ کر 4 ہوگئی، جبکہ اکتوبر میں صرف ایک حملہ رپورٹ ہوا تھا۔ نئے حملے اسلام آباد، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سابق فاٹا میں ہوئے، جو شدت پسندوں کے وسیع جغرافیائی نیٹ ورک اور متحرک صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے نومبر 2025 تک مجموعی طور پر 1,940 شدت پسند مارے جا چکے ہیں، جو 2015 کے بعد کسی بھی سال میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار ریاست کی جانب سے بڑھتے دباؤ اور موثر انسدادِ دہشت گردی پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پی آئی سی ایس ایس نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند گروہ اپنی حکمت عملی تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں اور شہری آبادیوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر مجموعی صورتحال اب بھی نازک اور غیر مستحکم ہے۔

  • پاکستان کرکٹ بورڈ کا لندن میں پی ایس ایل روڈ شو کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ کا لندن میں پی ایس ایل روڈ شو کا اعلان

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ کے عالمی فروغ کے سلسلے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 7 دسمبر کو لندن میں ایچ بی ایل پی ایس ایل روڈ شو منعقد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    پی سی بی کے مطابق یہ تقریب لندن کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ لارڈز میں منعقد ہوگی، جہاں عالمی سرمایہ کاروں، کمرشل پارٹنرز اور شائقینِ کرکٹ کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔پی سی بی اور ایچ بی ایل پی ایس ایل حکام کے مطابق لیگ میں دو نئی ٹیموں کے اضافے کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔ ان ٹیموں کی فروخت کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی گروپوں سے بات چیت جاری ہے جبکہ برطانوی سرمایہ کار خاص طور پر گہری دلچسپی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ خریداروں کے سامنے لیگ کا اسٹرکچر، مالیاتی ماڈل اور طویل المدتی حکمت عملی پیش کی جائے گی۔

    لندن روڈ شو کا بنیادی مقصد پی ایس ایل کے وژن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا،لیگ کے کمرشل ماڈل کو متعارف کرانا،مستقبل کی حکمت عملی اور توسیعی منصوبوں پر روشنی ڈالنا،بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہے،تقریب میں پاکستان سپر لیگ کی موجودہ چیمپئن لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور فاسٹ بولر حارث رؤف کی شرکت بھی متوقع ہے، جس سے ایونٹ کی شوبز اور کرکٹ ویلیو میں مزید اضافہ ہوگا۔

    چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا کہ لارڈز میں روڈ شو کا انعقاد پاکستان کرکٹ کی عالمی شناخت کا ثبوت ہے۔
    انہوں نے کہا”لندن میں پی ایس ایل روڈ شو نہ صرف پاکستان کی کرکٹ برانڈنگ کو بڑھائے گا بلکہ لیگ کی بین الاقوامی اپیل کو بھی وسعت دے گا۔”ایچ بی ایل پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے کہا کہ پاکستانی لیگ دنیا بھر میں مضبوط فالوؤنگ رکھتی ہے اور اپنی کمرشل ویلیو کے اعتبار سے تیزی سے ترقی کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا:”دو نئی ٹیموں کے اضافے سے لیگ میں سرمایہ کاروں کے لیے بڑی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، جو پی ایس ایل کو ایک نئی بلندی تک پہنچائیں گے۔”

    روڈ شو میں خصوصی طور پر 30 سپر فینز کو مدعو کیا جائے گا، جنہیں تقریب میں شرکت کا یونیک موقع ملے گا۔ ٹکٹوں کے حصول اور رجسٹریشن سے متعلق تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔