Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  کی گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کی منظوری

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کی منظوری

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں رہائشی مسائل کے حل کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کے اجراء کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروجیکٹ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کی پیش رفت، اہداف اور آئندہ حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گھروں کی توسیع کے لیے بلا سود قرضوں کے اجرا کی باضابطہ منظوری دی گئی، جس کے بعد اب مشترکہ خاندانوں میں رہائش پذیر افراد اپنے موجودہ گھروں کی توسیع کے لیے اس منصوبے کے تحت قرض حاصل کر سکیں گے۔اجلاس کے دوران جون 2026ء تک 1 لاکھ 60 ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا، جسے وزیر اعلیٰ نے قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔ مریم نواز نے کہا کہ حکومت پنجاب عام شہری کو باعزت اور محفوظ چھت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

    اجلاس میں ’’اپنی زمین اپنا گھر‘‘ منصوبے کے تحت 1 ہزار 531 پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی، جس سے بے گھر اور کم آمدن افراد کے لیے گھر بنانے کا خواب حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت پنجاب بھر میں ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروجیکٹ کے تحت 53 ہزار 843 مکانات زیر تعمیر ہیں، جو منصوبے کی کامیابی کا واضح ثبوت ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک 164 ارب 66 کروڑ روپے کے ریکارڈ بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جو ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک بڑا اقدام ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ گھر صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ خاندان کے تحفظ، عزت اور مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور آسان بنایا جائے تاکہ مستحق افراد بلا رکاوٹ فائدہ اٹھا سکیں۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری،بالائی علاقوں میں زمینی رابطے منقطع

    ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری،بالائی علاقوں میں زمینی رابطے منقطع

    ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث بالائی علاقوں میں زمینی رابطے منقطع ہوگئے ہیں۔

    استور میں گزشتہ رات سے مسلسل برفباری جاری ہے جس سے نظامِ زندگی مفلوج ہوگیا ہے اور لوگ گھروں کے اندر محصور ہیں،اسکردو شہر اور گردو نواح میں بھی برفباری کے باعث بالائی علاقوں کے ساتھ زمینی رابطے منقطع ہوگئے ہیں، یہاں بھی معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں،دیر شہر میں بھی برفباری نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں جبکہ سیاحتی مقام کمراٹ سمیت لواری ٹنل میں دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے،ڈوگدرہ، کوہستان میں رابطہ سڑکیں بند ہیں اور شہر میں رات سے بجلی کی سپلائی بھی معطل ہے،مالم جبہ میں 3 فٹ اور کالام میں ڈھائی فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی،کوہستان میں پٹن ایف ڈبلیو کیمپ کے پاس راولپنڈی سے گلگت جانے والی بسیں برف میں پھنس گئیں جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں،علاوہ ازیں ہنزہ اور نگر میں برفباری کے باعث رابطہ سڑک بند ہوگئی، وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب پشاور میں گزشتہ روزسے جاری بارش کا سلسلہ تھم گیا ہے جبکہ گلیات اور مری میں رات کو شدید برفباری ہوئی جس کے بعد پھلگراں ٹول پلازا سے مری کی طرف ہر قسم کی ٹریفک کو بند کردیا گیا۔

    تیراہ (خیبر), برف باری میں پاک فوج کی بروقت امدادی کارروائیاں جاری ہیں،شدید برف باری کے دوران پاک فوج تیراہ سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے۔ریاست مشکل وقت میں اپنے شہریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

  • بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقادکیا گیا

    عالمی سطح پر بھارتی مظالم کا پردہ چاک ہوتے ہی مودی ایک مرتبہ پھر پاکستان فوبیا کا شکار ہوگیا ،آذربائیجان میں اقلیتوں پر بھارتی مظالم کےخلاف پہلی عالمی کانفرنس ، شرکاء نے شدید اظہارِ تشویش کیا،عالمی نشریاتی ادارہ آزر ٹیک نیوز کے مطابق آذربائیجان میں اقلیتوں کیخلاف بھارت کی جابرانہ پالیسیوں پر پہلی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ،عالمی کانفرنس بھارتی درندگی کو عالمی انسانی حقوق کے ایجنڈے میں تبدیل کرنے کا واضح اشارہ ہے،1984 کے فسادات میں 8 سے 17 ہزار سکھوں کے منظم قتل پر ریاستی خاموشی سوالیہ نشان ہے،50 ہزار سے زائد سکھ ہجرت پر مجبور جبکہ 90-1980 تک بے تحاشا جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے،

    پاکستان کی مؤثر اور متوازن خارجہ پالیسی اور بھارتی مظالم کےخلاف آواز بلند ہونے پر گودی میڈیا تلملا اٹھا،عالمی کانفرنس کے بعد گودی میڈیا نے پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان پر من گھڑت الزامات لگا دیے ،بھارتی نیوز 18 نے اقلیتوں کیخلاف مودی کے مذموم عزائم کا پردہ چاک کرنے والے سکھ رہنماؤں کو انتہا پسند قرار دے دیا ،کانفرنس میں بھارتی مظالم کو منظم نسل پرستی اور نسل کشی قرار دینے پر گودی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ،مقبوضہ کشمیر کے مؤقف پر بھی بھارتی میڈیا نے آذربائیجان پر پاکستانی بیانیہ اپنانے کا الزام بھی لگادیا ،اس سے قبل کینیڈا سمیت بیشتر ممالک سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھارتی سرپرستی کے شواہد پیش کر چکے ہیں،مودی عالمی احتساب سے بچنے کیلئے انسانی حقوق کی تحریکوں کو انتہا پسندی کا رنگ دینے میں ناکام ہوگیا ہے.

  • ٹرمپ-شی ملاقات، عالمی تعلقات میں بہتری یا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی

    ٹرمپ-شی ملاقات، عالمی تعلقات میں بہتری یا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی

    اپریل 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے بیجنگ میں ملاقات کے امکانات ہیں

    یہ ملاقات امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری کے ساتھ تائیوان اور یوکرین کے تنازعات کے خطرات کو کم کر سکتی ہے، دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی یہ ملاقات بھارت کے لیے واضح خطرے کی گھنٹی ہے،غیر ملکی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے 2025 میں ٹرمپ کو بیجنگ دورے کی دعوت دی جبکہ دونوں رہنماؤں کی جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں بھی ملاقات ہوئی،اس ملاقات کو امریکی صدر ٹرمپ نے "انتہائی کامیاب” قرار دیا تھا، صدر ٹرمپ کے ٹیرف اور تجارتی تاخیر نے بھارت امریکہ تعلقات کو متاثر کیا اوربھارت اب بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ٹرمپ نے نومبر 2025 میں “G-2” کی اصطلاح استعمال کی اور امریکہ اور چین کو دو عظیم طاقتیں قرار دیا، ٹرمپ اور پاکستان کے تعلقات کے باعث بھارت-امریکہ تعلقات متاثر ہوئے، ٹرمپ کے دعوے کہ انھوں نے بھارت-پاکستان تنازعات کو روکا اور آپریشن سندور میں بھارتی فوجی نقصان کی تفصیلات، بھارت کے لیے قابل قبول نہیں ،بھارت ٹرمپ کی ثالثی اور G-2 کے حوالہ کو قبول نہیں کر رہا، امریکہ اور چین کے تعلقات مضبوط ہونے سے بھارت کی اقتصادی اور سفارتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے،

    ماہرین اور تجزیہ کاروں کی رائے میں چین اور امریکہ کی مضبوط قربت بھارت کے تجارتی سودوں اور اقتصادی اثر و رسوخ کو محدود کر دے گی، بھارت کو اپنی پالیسی میں فوری اصلاحات کرنا ہوں گی ورنہ وہ عالمی سطح پر تنہا اور کمزور ہو جائے گا،جی-2 کی اصطلاح اور ٹرمپ شی ملاقات بھارت کے لیے واضح خطرہ کی گھنٹی ہے، چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ بھارت کی علاقائی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے،امریکہ چین کے بڑھتے تعلقات کے نتیجے میں بھارت دونوں ممالک کے دباؤ کا شکار ہو جائے گا ،

  • فیلڈ مارشل سے اپیل ہے کہ کراچی منتظر ہے، دیکھیں کس نے زیادتی کی ،گورنرسندھ

    فیلڈ مارشل سے اپیل ہے کہ کراچی منتظر ہے، دیکھیں کس نے زیادتی کی ،گورنرسندھ

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا، سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو آج خط لکھنے کا اعلان بھی کردیا۔

    پریس کانفرنس میں کہا کہ ریسکیو ٹیمیں اندر کیوں نہیں پہنچ سکیں؟، جن کو وہاں ہونا چاہئے تھا وہ نہیں تھے، سیاست ہورہی ہے کہ ملبہ کسی اور پر ڈال دیا جائے۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ سیاست نہ کریں، یہ بتائیں جانی نقصان کس کے سر ہے؟، وزیراعلیٰ سندھ بھی دیکھیں کہیں آپ کو گمراہ تو نہیں کیا جارہا،فیلڈ مارشل سے اپیل ہے کہ کراچی منتظر ہے، دیکھیں کس نے زیادتی کی ہے۔ گورنر سندھ نے جاں بحق افراد کے ورثاء کو رہائشی پلاٹس دینے کا اعلان بھی کیا۔

    دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ گل پلازہ واقعے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں میں بعض عناصر دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں،کسی واقعے پر ہم پنجاب حکومت کو قصوروار نہیں ٹھہراتے، واقعے کی مکمل انکوائری کی جارہی ہے۔

    دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ خاندان کےگھرپہنچے اور کہا کہ متاثرین کی مکمل بحالی تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے متاثرہ خاندان کےکاروبار کی بحالی کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریسکیو اہلکار تاحال ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

  • پولیس نےایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا

    پولیس نےایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا

    اسلام آباد پولیس نےایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا ۔

    ایمان مزاری اور ہادی علی کو سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا گیا،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹ جارہے تھے، دونوں وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور منظور ججہ بھی ان کے ہمراہ تھے

    واضح رہے کہ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیا تھا، میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے جیل ہی جانا پڑے۔

    یاد رہے اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا بھی حکم دیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے،فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کوگواہوں پرجرح کیلئے 4دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ آرڈر ختم تصور ہو گا۔

  • گل پلازہ میں آتشزدگی دلوں کو لہولہان کردینے والا سانحہ ہے،سبیل اکرام

    گل پلازہ میں آتشزدگی دلوں کو لہولہان کردینے والا سانحہ ہے،سبیل اکرام

    کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی دلوں کو لہولہان کردینے والا سانحہ ہے ۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نوحہ اور اجتماعی قتل عام ہے کہ پلازے بنا لئے جاتے ہیں ان میں مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کئے جاتے ۔ آگ کے شعلوں میں گھرے ، ملبے تلے دبے معصوم بچوں کی چیخیں ، بزرگوں ، جوانوں اور خواتین کی آہیں نظام کی بے رحمی اور بے حسی پر سوال بن گئی ہیں ۔

    ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا۔ انھوں نے کہا اس سانحے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ایسا زخم ہے جو برسوں نہیں بھر سکے گا ۔ وہ مرد وخواتین ، بزرگ، محنت کش جو روزی روٹی کمانے کیلئے گھروں سے نکلے آگ کے شعلوں میں گھر گئے ، زندہ جل گئے، راکھ میں بدل گئے، جان کے ساتھ زندگی بھر کی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور راکھ میں بدل چکے ہیں ، ان کے گھروں میں سناٹا ہے آہیں ہیں اور بین ہی باقی رہ گئے ہیں ۔ اس اندوہناک سانحہ میں جان بحق ہونے والے تمام افراد کیلئے ہم بارہ گاہ الہی میں دعا گو ہیں، سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، دکھ کی گھڑی میں غمز دہ ورثا کے ساتھ کھڑے ہیں ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور ان کے آنسو پوری قوم کے آنسو ہیں ۔ اپنے بیان میں انھوں نے حکومت ، صوبائی اور بلدیاتی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ پورے ملک میں قائم اور زیر تعمیر تمام کمرشل اور رہائشی پلازوں میں حفاظتی انتظامات کو فوری یقینی بنایا جائے ۔ فائر سیفٹی سسٹم ، ہنگامی اخراج کے راستے ، بجلی کے محفوظ نظام اور باقاعدہ انسپکشن کو محض کاغذی کاروائی کے بجائے عملی شکل دی جائے جو لوگ انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز سخت کاروائی کی جائے ۔ اگر آج بھی ہم نے اس سانحہ سے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی پلازہ ، کوئی اور بازار ، کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ انسانی جان کو اولین ترجیح بنایا جائے ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔

  • جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں،شرجیل میمن

    جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کا اہم اجلاس ہوا

    اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی فود غفار سومرو، پی ڈی یلو لائن بی آر ٹی ضمیر عباسی اور ایس ایم ٹی اے کے حکام شریک ہوئے،اجلاس میں مختلف منصوبوں، ریڈ لائن، یلو لائن بی آر ٹی کے کام میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ،سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حکام نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو کراچی میں مزید نئی ای وی بسز اور ای وی ٹیکسی شروع کرنے سے متعلق آگہی دی ،سی او ٹرانس کراچی نے ریڈ لائن پر جاری کام پر اجلاس کو بریفنگ دی،اجلاس کو بتایا گیا کہ نیپا چورنگی کے پاس ریڈ لائن بی آر ٹی کے دونوں اطراف کام مکمل کرنے جا رہے ہیں،یلو لائن بی آر ٹی کے پروجیکت ڈائریکٹر نے اجلاس کو کام میں پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا ،سینیٹر تاج حیدر پل کے دوسرے حصے کو منہدم کرنے کا کام جاری ہے، جلد ہی دوسرے حصے پر بھی کام شروع کیا جائے گا،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تمام منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں،ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی شہر کے اہم مقامات اور کاروباری مراکز کو آپس میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے، کام میں کسی بھی تاخیر سے گریز کے لئے فیلڈ لیول پر تمام مسائل کے حل یقینی بنایا جائے، جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں،بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی، پنک اسکوٹیز کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے، کراچی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی پنک اسکوٹیز کی تقسیم کے پروگرام منعقد کئے جائیں.

  • قومی اسمبلی میں سحر کامران کسانوں کی آواز بن گئیں

    قومی اسمبلی میں سحر کامران کسانوں کی آواز بن گئیں

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکنِ قومی اسمبلی،پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما، سحر کامران نے زرعی شعبے کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کو کسان دشمن قرار دے دیا۔

    انہوں نے ایوان میں خطاب کے دوران کہا کہ ہر مقامی فصل کی کٹائی سے قبل ایسے حالات دانستہ طور پر پیدا کر دیے جاتے ہیں جن سے زرعی اجناس کی درآمد (امپورٹ) کا جواز بنایا جا سکے، جس کا براہِ راست نقصان ملکی کسان کو اٹھانا پڑتا ہے۔سحر کامران نے کہا کہ کسان پہلے ہی گزشتہ دو برسوں سے گندم کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور حکومتی عدم توجہی نے کسانوں کو معاشی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کسان مزید نقصان برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس کے باوجود حکومت کی پالیسیاں کسانوں کے مسائل کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کر رہی ہیں۔

    ایوان میں خطاب کے دوران سحر کامران نے وفاقی وزیر سے براہِ راست سوال کیا کہ سال 2024 اور 2025 کے دوران کتنی چینی درآمد کی گئی، یہ درآمد کن ممالک سے ہوئی اور اس پر ٹیکس میں کتنی چھوٹ دی گئی۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اس حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرنے اور کوئی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے، جس سے شفافیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

    انہوں نے کھاد کی قیمتوں سے متعلق حکومتی دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا بالکل درست نہیں کہ فرٹیلائزر کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ سحر کامران کے مطابق حکومت کھاد کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست کسان بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاد بنانے والی کمپنیاں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے اربوں روپے کا منافع کما رہی ہیں، مگر اس کے باوجود کسانوں کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔سحر کامران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی شعبے کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور کسان دشمن پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی پیداوار کو ترجیح دی جائے، درآمدی پالیسیوں میں شفافیت لائی جائے اور کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے، تاکہ ملکی معیشت کی بنیاد سمجھے جانے والے زرعی شعبے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

  • جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا

    جوہر ٹاؤن لاہور سے نجی کالج کے سی ای او اغوا

    لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے معروف تعلیمی ادارے KIPS ایجوکیشن سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد وزیر خان کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ نمبر 122/26 تھانہ جوہر ٹاؤن ضلع لاہور میں درج کیا گیا، جس کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ 21 جنوری 2026 کو رات 11 بج کر 40 منٹ پر درج کی گئی۔ واقعہ کی اطلاع KIPS کے ڈائریکٹر فنانس طاہر وزیر خان نے پولیس کو دی، جو مغوی عابد وزیر خان کے حقیقی بھائی بھی ہیں۔درخواست گزار کے مطابق عابد وزیر خان 21 جنوری کو شام 6 بج کر 34 منٹ پر KIPS کے کارپوریٹ آفس واقع 1.5/D مین بلیوارڈ جوہر ٹاؤن سے اپنی سفید رنگ کی ٹویوٹا کیمری (نمبر 534/18 LEF) خود ڈرائیو کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ادارے کی جنرل منیجر اسکولز میڈم لبنیٰ کو فون کیا۔دورانِ فون کال میڈم لبنیٰ نے بتایا کہ گاڑی کے شیشے پر زور سے دستک کی آواز آئی اور ایک نامعلوم شخص کی آواز سنائی دی جس نے کہا کہ "تم نے میری گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ کر دیا ہے”۔ اس کے فوراً بعد فون کال منقطع ہو گئی اور دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے بھائی سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے منصوبہ بندی کے تحت انہیں اغوا کر لیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغوی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔پولیس کے مطابق یہ مقدمہ اے ایس آئی ارشد اقبال کی جانب سے درج کیا گیا، جبکہ ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کو مزید کارروائی کے لیے انویسٹی گیشن ونگ (INV) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقام کے اطراف نصب سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے۔

    درخواست گزار نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائی کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اغوا میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ لاہور پولیس کے اعلی افسران تفتیش میں لگ گئے،لاہور پولیس نے اعلی افسران نے سیف سٹی میں کیمروں کی نگرانی شروع کردی،چار ایس پیز کی نگرانی میں مغوی کی تلاش کیلئے ٹیمیں متحرک ہییں