Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جاپان ،وزیرِ اعظم کا 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان

    جاپان ،وزیرِ اعظم کا 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان

    جاپان کی وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی نے ملک میں اچانک سیاسی پیش رفت کے تحت پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کو تحلیل کر دیا ہے، جس کے بعد 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر نے آج ایوانِ زیریں کی تحلیل کا باضابطہ اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی موجودہ پارلیمانی مدت ختم ہو گئی۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد 12 روزہ انتخابی مہم کا آغاز آئندہ منگل سے ہوگا، جس دوران سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائیں گی۔سنائے تاکائچی، جو اکتوبر میں جاپان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں، مختصر عرصے میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ مختلف سروے رپورٹس کے مطابق ان کی مقبولیت کی شرح تقریباً 70 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو جاپانی سیاست میں ایک غیر معمولی رجحان سمجھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق وزیرِ اعظم تاکائچی اپنی ذاتی مقبولیت کو بروئے کار لاتے ہوئے حکمران جماعت کی پارلیمانی پوزیشن مزید مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جاپان میں اس وقت حکمران اتحاد، جس میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور جاپان انوویشن پارٹی شامل ہیں، ایوانِ زیریں میں محض معمولی اکثریت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قبل از وقت انتخابات کو حکمران اتحاد کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ادھر جاپانی عوام کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث مہنگائی آئندہ انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

    جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کے مطابق انتخابی مہم کے دوران مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات، معاشی استحکام، اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی مرکزی موضوعات ہوں گے۔ خارجہ پالیسی خصوصاً چین کے ساتھ تعلقات انتخابی مباحث کا اہم حصہ بننے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ جاپان اور چین کے تعلقات میں اس وقت تناؤ پایا جاتا ہے، جو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی نے نومبر میں تائیوان سے متعلق ایک بیان دیا تھا۔ اس بیان کے بعد چین کی جانب سے جاپان کے خلاف مختلف معاشی اور سفارتی اقدامات کیے گئے، جس نے خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے انتخابات نہ صرف جاپان کی داخلی سیاست بلکہ خطے کی خارجہ پالیسی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اور یہ انتخابات وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہوں گے۔

  • لگتا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے میں اٹھارویں ترمیم کو آگ لگانا چاہتے ہیں،شازیہ مری

    لگتا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے میں اٹھارویں ترمیم کو آگ لگانا چاہتے ہیں،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ کراچی میں افسوسناک واقعے پر سب کو تکلیف ہوئی، دکھ کا جتنا بھی اظہار کیا جائے کم ہوگا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہی ہے لیکن اس واقعے پر جو سیاست کی جارہی ہے وہ افسوسناک ہے، آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کی ضرورت ہے، لگتا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے میں اٹھارویں ترمیم کو آگ لگانا چاہتے ہیں،اس واقعے پر بات کرتے کرتے آپ اٹھارویں ترمیم پر بات کرنے لگے ہیں، ایک وفاقی وزیر نے سندھ کے شہر کو وفاق کے قبضے میں دینے کی بات کی، ہم جانتے ہیں آپ نے قبضے کی سیاست کی اور نام لے لے کر خود کو ایکسپوز کیا، ایم کیو ایم کے تمام لوگوں نے وقت کیساتھ ایک دوسرے پر چارج شیٹ دی، ایسی بات کرکے کئی لوگوں کے احساسات کو مجروح کیا گیا،مسلم لیگ ن کے وزیر نے بیان دیا ہو یا کسی اور نے دیا ہو وہ قابل مذمت ہے، کراچی کو سب پتا ہے اس لیے کوئی آپ کے پیچھے نہیں کھڑا۔

  • بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھ دیا

    بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھ دیا

    بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھ دیا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے وینیو تنازع پر نظرثانی کی درخواست کی گئی ہے۔

    بنگلادیش نے سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔بنگلادیش بورڈ کے صدر امین الاسلام کا کہنا تھا 20 کروڑ عوام اگر ورلڈ کپ سے محروم ہوئے تو نقصان آئی سی سی کا ہوگا، چیمپئنز ٹرافی 2025ء میں بھارت کو سہولت دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم نے تمام میچز پاکستان کے بجائے دبئی میں کھیلے لیکن آئی سی سی نے بنگلادیش کے میچز منتقل کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔

    دوسری جانب آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی صورت میں بنگلادیش کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے پر بنگلادیش کو 325 کروڑ ٹکا کا نقصان ہوگا،رپورٹ کے مطابق بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو سالانہ آمدن کی کمائی کے تقریباً 60 فیصد، براڈکاسٹ اور اسپانسر شپ کی مد میں ہونے والی آمدن سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلادیشی کھلاڑیوں کے ورلڈکپ کھیلنے پر آمادگی کے باوجود مشیر کھیل ڈاکٹر آصف نذرل نے ورلڈکپ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

    یاد رہے کہ بنگلادیش نے سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا،بھارتی میڈیا کے مطابق ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے باعث بنگلادیش کی بھارت کے خلاف مستقبل کی دو طرفہ سیریز بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اس سال میں دوطرفہ سیریز بھی شیڈول ہیں،واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی۔

  • کئی قومی کھلاڑی دھوکہ دہی کا شکار،کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے محروم

    کئی قومی کھلاڑی دھوکہ دہی کا شکار،کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے محروم

    کئی قومی کھلاڑی فراڈ کے سبب کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔

    پاکستان کے نامور کرکٹرز بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین آفریدی، شاداب خان سمیت کئی کھلاڑی غیر معمولی منافع کے لیے سرمایہ کاری میں اصل رقم بھی کھو بیٹھے۔کھلاڑیوں نے ایک ارب سے زائد کی سرمایہ کاری مبینہ طور پر پی ایس ایل ٹیم کے اسپانسر کے ساتھ کی تھی، دو ماہ سے منافع بند، اور اسپانسر بیرون ملک جا کر فون بند کر چکا ہے

    ذرائع کے مطابق پاکستان کےسابق اور موجودہ کرکٹرز کےساتھ مبینہ فراڈ ہوا ہے، کرکٹرز نے مبینہ فراڈ کی کسی پلیٹ فارم پرباضابطہ شکایت درج نہیں کرائی،میڈیا رپورٹس کے مطابق کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سےبھی مسئلہ حل کرانےکے لیے رابطہ نہیں کیا،ذرائع کے مطابق کرکٹرز نےسابق کپتان کی دیکھا دیکھی میں کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی، موجودہ کرکٹرز میں سابق اور موجودہ کپتانوں کےنام بھی شامل ہیں، بعض کرکٹرز نے براہ راست بھی کاروباری شخص کےساتھ سرمایہ کاری کی،کرکٹرز نےاپنےکروڑوں روپےغیر معمولی منافع کےچکرمیں مبینہ طور پردے دیے،ذرائع کا بتانا ہے کہ کرکٹرز کوآغاز میں غیر معمولی منافع بھی ملتا رہا، بعد میں کاروباری شخص منظرسےغائب ہوگیا،کرکٹرزنےچند ہفتےاس متعلق کوششیں کیں، بعض کو کچھ پیسےواپس ملے۔

    ذرائع کے مطابق کرکٹرز کا ایک مشہور ایجنٹ بھی رقم سےمحروم ہونےوالوں میں شامل ہے، فراڈ کرنے والا امریکا میں رہائش پذیرہے جس سےکئی پاکستانی کرکٹر سے دوستی تھی،کرکٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس شخص کافون بند ہے، دوماہ سےغیر معمولی منافع کی رقم نہیں مل سکی،ذرائع کے مطابق کرکٹرز اصل رقم واپس لینا چاہتےہیں لیکن فراڈ کرنے والےشخص سےرابطہ نہیں ہورہا۔

  • میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیاں کراؤں گا دیکھوں گا تم کیا کرتے ہو ،مولانا فضل الرحمان

    میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیاں کراؤں گا دیکھوں گا تم کیا کرتے ہو ،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج جو قانون سازی ہوئی وہ خلاف شریعت ہوئی ہے،ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ بل بھیجنے کا مطالبہ کیا

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ نہیں سنا گیا ،ایسے قوانین پر لکھا ہوتاہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی خواہش پر ترامیم کی جارہی ہیں،،عائلی قوانین غیر اسلامی منظور کئے گئے،میں اعلان کرتا ہوں ان غیر اسلامی قوانین کی خلاف ورزی میں کراؤں گا، میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیاں کراؤں گا دیکھوں گا تم کیا کرتے ہو آپ کے غیر اسلامی قوانین کو پاؤں تلے روندوں گا،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے پہلے صدر نے پاکستان کے خاتمے کی بات بطور منشور پیش کی ،حماس کو کچلنے کے بعد ایران اور پھر ایران میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تیاری کررہا ہے ،اگر اسرائیل کے اقوام متحدہ میں بیٹھنے کی دلیل پر اس کے ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں لگائی گئی ہے،اتنا بڑا فیصلہ لیتے ہوئے پارلیمان سے کیوں نہیں پوچھا گیا ،اللّٰہ کے بجائے حکومت پاکستان ٹرمپ کے بت کو راضی کر رہی ہے اس سے بڑا شرک کوئی نہیں ہوسکتا ، ہم خدا کو ناراض کر رہے ہیں، ہم اس پیس اکارڈ کو مسترد کرتے ہیں، اسرائیل کی غلامی میں پاکستان کام کرنے کے لیے رضامند ہوگیا ہے، یہ مسلمانوں اور فلسطینیوں سے غداری ہے

  • پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، معیشت مستحکم

    پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، معیشت مستحکم

    خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر پالیسیوں اور حکومتی اصلاحات کے باعث پاکستانی معیشت میں استحکام آنا شروع ہو گیا ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد واضح طور پر بحال ہو رہا ہے۔ مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی بحالی سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش اور اولین انتخاب بنتا جا رہا ہے۔

    خرم شہزاد کے مطابق سازگار معاشی پالیسیوں، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کار دوست اقدامات نے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے سرمایہ کاری کے مواقع روشن ہوئے ہیں اور مختلف شعبوں میں غیر ملکی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔حالیہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سرمایہ کار سینٹیمنٹ سروے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری پر اعتماد 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستانی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔مشیرِ خزانہ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے نے پاکستان میں 60 ملین امریکی ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے اور پاکستان کو علاقائی ایکسپورٹ حب بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیسلے پاکستان سے 26 ممالک کو برآمدات کرے گا جس سے مقامی مینوفیکچرنگ مضبوط اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

    اسی طرح آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی اسٹیٹ آئل کمپنی آف آذربائیجان ریپبلک (سوکار) رواں فروری میں پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو حتمی شکل دے گی۔ خرم شہزاد کے مطابق سوکار پاکستانی مارکیٹ کی وسعت، بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور اصلاحات کی رفتار کی معترف ہے اور پاکستان کو طویل المدتی توانائی شراکت دار قرار دے چکی ہے۔خرم شہزاد نے بتایا کہ گزشتہ 15 سے 18 ماہ کے دوران 20 سے زائد غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پاکستان آنے والی کمپنیوں میں گوگل، بی وائی ڈی، آرامکو، وافی، ابو ظہبی پورٹس، سیمسنگ، ترکیش پٹرولیم، نووا منرلز سمیت دیگر عالمی ادارے شامل ہیں۔لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں مالی سال 2026 کے جولائی تا نومبر کے پانچ ماہ میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں گاڑیوں کی فروخت میں 32 فیصد، سیمنٹ کی فروخت میں 10 فیصد، کھاد کی فروخت میں 24 فیصد اور موبائل فونز کی فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا، جو صارفین اور صنعت کاروں کے اعتماد کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔مشیرِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں 1.17 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا جو معیشت کی بحالی کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 سال بعد پہلی بار 2.1 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا جبکہ مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی۔مزید برآں مالی سال 2025 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر آ گیا اور بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا 2.4 فیصد رہا۔

    مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں ترسیلات زر 19.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو 11 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی ایکسپورٹس 437 ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ خرم شہزاد کے مطابق درآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ خام مال، درمیانی اجزاء اور سرمایہ کاری کی اشیاء پر مشتمل ہے جو پیداواری سرگرمیوں کے مستحکم ہونے کا مظہر ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کا سازگار ماحول، بڑھتا ہوا معاشی استحکام اور عالمی کمپنیوں کی دلچسپی ملک کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔ معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے لیے موافق فضا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مضبوط اشارہ ہے اور یہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر

    پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر

    پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا پشاور میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی

    قومی سطح کی یہ ورکشاپ 11 سے 22 جنوری 2026 تک جاری رہی،ورکشاپ میں عمائدین، اکیڈیمیا، میڈیا، سیاسی قائدین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی سمیت مختلف طبقات نے شرکت کی،ورکشاپ کے 80 فیصد شرکاء کا تعلق خیبرپختونخوا، بالخصوص ضم شدہ اضلاع سے تھاجبکہ 20 فیصد نمائندگی ملک کے دیگر حصوں سے رہی،مجموعی طور پر 91 شرکاء اور پشاور کی جامعات کے 150 اسکالرز نے شرکت کی،شرکاء کو وزیرِ اعظم پاکستان و دیگر ریاستی عہدیداران کے ساتھ خصوصی سیشنز منعقد کئے گئے،اختتامی سیشن میں کور کمانڈر پشاور نے شرکاء سے خصوصی نشست میں قومی سلامتی، گمراہ کن پروپیگنڈا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی،اس موقع پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئیمشرکاء نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا

  • 9 مئی حملہ کیس، حماد اظہر سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار

    9 مئی حملہ کیس، حماد اظہر سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو کلب چوک، جی او آر گیٹ پر ہونے والے حملے کے مقدمے میں غیر حاضر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر سمیت 7 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی مسلسل غیر حاضری اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے حماد اظہر سمیت دیگر نامزد ملزمان کے دائمی وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری تک قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی اور متعلقہ ادارے وارنٹس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب قانونی وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ان کے خلاف اشتہاری کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

    یاد رہے کہ اسی مقدمے میں عدالت اس سے قبل ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا تھا، جبکہ دیگر مرکزی رہنماؤں کے خلاف سخت سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اس کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت کے مطابق استغاثہ نے ان ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کیے، جن کی بنیاد پر سزا سنانا لازم قرار پایا۔

  • سانحہ گل پلازہ،اموات 71 ہو گئیں

    سانحہ گل پلازہ،اموات 71 ہو گئیں

    کراچی سانحہ گل پلازہ،انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی عامر حسن کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں مزید انسانی باقیات کو اسپتال لایا گیا ہے، مزید چار بیگ اسپتال لائے گئے ہیں،

    انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی کا کہنا ہے کہ اسپتال لائی گئی باقیات کی جانچ کی جارہی ہے، ممکنہ طور پر یہ باقیات چار لوگوں کی ہوسکتی ہے، ممکنہ طور پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 71 ہوگئی،

    دوسری جانب ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر ریٹائرڈ صبغت اللہ نے سانحہ گل پلازہ کے سرچنگ آپریشن سے متعلق بتایا ہے کہ آج بلڈنگ کی سرچنگ مکمل کریں گے۔ 10 سے 15 فیصد حصہ وہ ہے جہاں نہیں پہنچ سکے تھے۔ آج وہاں بھی پہنچ کر سرچنگ کی جائے گی۔انہوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جس مقام پر آگ لگنی شروع ہوئی تھی وہاں سے لاشیں ملیں گی۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نےکہا کہ سانحے کو 7 روز ہوچکے ہیں۔ امید نہیں کہ زندگی یہاں کوئی موجود ہے۔ پچھلے تین دن سے جی پی ایس ریڈار بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ریڈار کے ذریعے دیکھا گیا کہ کوئی ذندہ موجود ہے یا نہیں۔

    دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کے بعد انتظامی اداروں کو ہوش آگیا،شہر میں فائر سیفٹی انتظامات پر عملدرآمد کرانے کیلیے اقدامات کئے جانے لگے، گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل میں کے ایم سی کی معاوںت کیلیے ایس بی سی اے کی 4 ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں، چار ٹیموں میں ایس بی سی اے کے 16 افسران اور ملازمین شامل ہیں،ضلع جنوبی، شرقی اور وسطی میں عمارتوں میں آتشزدگی سے حفاظتی انتظامات کے سروے کیلیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،ضلع جنوبی میں سروے اور گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل کی نگرانی کیلیے ڈائریکٹر کی نگرانی میں چھ رکنی ٹیم کو خصوصی ٹاسک دے دیا، ضلع جنوبی میں چھ رکنی ٹیم میں دو اسٹنٹ ڈائریکٹر ، ایک سنئیر بلڈنگ انسپکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع وسطی میں بھی عمارتوں کے سروے کیلیے 7 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں متعلقہ ٹیم آتشزدگی کے حوالے سے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا جائزہ لے گئی ، ضلع شرقی میں بھی عمارتوں میں آتشزدگی سے واقعات سے نمٹنے کے اقدامات کے سروے کیلیے ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں چار اسٹنٹ ڈائریکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع شرقی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں دوڈپٹی ڈائریکٹر ، دو اسٹنٹ ڈائریکٹر اور دو بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ٹیمیں عمارتوں میں سے آ گ بجھانے کے آلات , ہنگامہ راستہ فعال ہونے کا جائزہ لے گی، ٹیمیں عمارتوں میں فائر الارم سمیت آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کیلیے عملہ کی تربیت کا بھی جائزہ لے گی.

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ منظور

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ منظور

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025ء کی منظوری دیدی، اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابا کیا۔

    خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر 2 اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے، نعرے لگائے اور احتجاجی بینر لہرائے، اسپیکر نے اپوزیشن ارکان کو احتجاج نہ کرنے کی ہدایت کی۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت جاری ہے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025ء منظور کرلیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے بل پر اعتراضات عائد کیے تھے، بل میں پیپلزپارٹی کی ترمیم منظور جبکہ جے یو آئی کی ترمیم مسترد کردی گئی۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران دانش اسکولز اتھارٹی بل بھی منظور کرلیا گیا، دانش اسکولز اتھارٹی ترمیمی بل 2025ء کی شق 3 اور4 میں ترامیم کی گئیں۔

    پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا بل کے تحت خواتین، مرد، خواجہ سرا، بچوں اور دیگر کمزور افراد کے تحفظ مدد اور بحالی کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے گا۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،مجلس شوریٰ نے سانحہ گل پلازہ پر تعزیتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی،قرارداد میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ فائر فائٹر فرقان علی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے،پارلیمنٹ حکومت سندھ کو متاثرین کے خاندانوں کو سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کرتی ہے،