Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان اور ترکیہ کا توانائی کے شعبے میں بڑا معاہدہ

    پاکستان اور ترکیہ کا توانائی کے شعبے میں بڑا معاہدہ

    پاکستان اور ترکیہ کا توانائی کے شعبے میں بڑا معاہدہ ہو گیا

    پاکستان اور ترکی نے منگل کو اپنی توانائی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ترک پیٹرولیم اوورسیز کمپنی (ٹی پی او سی) نے پانچ تیل کی کنسیشن کے معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں تین آف شور اور دو آن شور بلاکس شامل ہیں،یہ معاہدے، جن سے مجموعی سرمایہ کاری میں 300 ملین امریکی ڈالر کی توقع ہے، ٹی پی او سی کے پاکستان کے تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں باضابطہ داخلے کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں یہ ملک کی معروف ای اینڈ پی کمپنیوں کے ساتھ کام کرے گا۔

    دستخط کی تقریب وزیر اعظم کے دفتر میں منعقد ہوئی اور جس کی موجودگی میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک وزیر توانائی و قدرتی وسائل الپارسلان بایراکتار بھی موجود تھے، دو طرفہ توانائی تعاون میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتی ہے۔ تیل اور بجلی کے وزراء سمیت سینئر حکومتی حکام نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

  • مفتی منیب الرحمان کو ڈینگی ہو گیا،ہسپتال داخل

    مفتی منیب الرحمان کو ڈینگی ہو گیا،ہسپتال داخل

    معروف عالم دین اور سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان ڈینگی میں مبتلا ہوگئے۔

    مفتی منیب الرحمان کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں،مفتی عبدالرزاق نقشبندی کا بتانا ہے کہ اب مفتی منیب کی طبیعت قدرے بہتر ہے اور انہوں نے اسپتال میں نمازیں بھی ادا کیں،مفتی عبدالرزاق نقشبندی کے مطابق ڈاکٹرز نے مفتی منیب کو مکمل آرام کا مشورہ دیاہے، امید ہے کہ ڈاکٹرز مفتی صاحب کو ایک دو دن میں اسپتال سے گھر منتقل ہو نے کی اجازت دے دیں گے،اہلخانہ نے مفتی منیب الرحمان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔

  • لاہور،ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کی کالز میں واضح کمی،جرائم میں کمی کا اشارہ

    لاہور،ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کی کالز میں واضح کمی،جرائم میں کمی کا اشارہ

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں اسٹریٹ کرائم اور جائیداد سے متعلق وارداتوں کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق جنوری 2022 سے نومبر 2025 تک 15 ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی "کرائم کالز اگینسٹ پراپرٹی” میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول لاہور پولیس کے 15 کالز کے ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر تین سال میں شکایات کی تعداد میں 73 فیصد کمی ہوئی ہے، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2022 میں شہریوں نے جائیداد سے متعلق جرائم، جن میں ڈکیتی، راہزنی، موبائل فون چھیننا، موٹر سائیکل،گاڑی کی چوری و چھیننا اور گھر میں چوری شامل ہے، کے بارے میں 84,529 کالز کیں۔اسی سال مختلف مہینوں میں شکایات میں 3 فیصد سے 15 فیصد تک اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔

    سال 2023 میں جرائم کی شکایات کا گراف مزید بلند ہوا اور مجموعی تعداد 95,367 تک پہنچ گئی۔یہ سال جرائم میں اضافہ کا سال تصور کیا جا رہا ہے، جب بیشتر مہینوں میں 10 سے 16 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر مارچ اور اپریل 2023 میں شکایات کی تعداد 9 ہزار سے بھی اوپر رہی۔رپورٹ کے مطابق 2024 میں جرائم کی شرح میں واضح کمی سامنے آئی۔سال بھر میں موصول ہونے والی کالز کی مجموعی تعداد 64,638 رہی، جو پچھلے سال کی نسبت نمایاں کمی ہے۔اگست 2024 سے مسلسل کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور دسمبر میں شکایات کی تعداد 3,980 تک گر گئی۔چارٹ کے مطابق 2025 میں مجموعی تعداد کم ہو کر 38,727 رہ گئی، جو تین سال میں شکایات کی سب سے کم شرح ہے۔اکتوبر اور نومبر 2025 میں ماہانہ کمی بالترتیب 16 فیصد اور 35 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، جو رجحان میں بڑی تبدیلی ظاہر کرتی ہے۔

    چارٹ میں بڑی واضح نشاندہی کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ جنوری 2023 سے لے کر نومبر 2025 تک شکایات میں 73 فیصد کمی ہوئی، جو پولیس کے اسٹریٹ پٹرولنگ میں اضافے، ٹریفک کیمروں اور ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے اقدامات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    رپورٹ کے مجموعی اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لاہور میں گزشتہ تین سال کے دوران اسٹریٹ کرائم اور جائیداد سے متعلق وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، اور اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں شہر کی سیکیورٹی صورتحال میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

  • لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    لاہور، 2025 کے ابتدائی 11 ماہ ، سنگین نوعیت کے جرائم میں کمی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں 2025 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران سنگین نوعیت کے جرائم میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران لاہور میں متحرک ہیں،

    اس ضمن میں باغی ٹی وی کو موصول لاہور پولیس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 اور 2024 کے مقابلے میں 2025 میں تمام کیٹیگریز کے جرائم میں مجموعی طور پر نمایاں کمی سامنے آئی ہے، جسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی بہتری قرار دیا جارہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں سنگین جرائم کی مجموعی تعداد 76,334 تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 43,631 رہ گئی۔ تاہم 2025 کے پہلے 11 ماہ میں یہ تعداد مزید کم ہو کر صرف 20,867 رہ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 52 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 73 فیصد کمی ہے۔

    جرائم کی مختلف اقسام میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، ڈکیتی کے دوران قتل 2023 میں 23 واقعات ہوئے،2024 میں 13 واقعات ہوئے،2025 میں 8 واقعات ہوئے، 2023 کے مقابلے میں 65٪ کمی، 2024 کے مقابلے میں 38٪ کمی دیکھنے میں آئی، ڈکیتی کی 2023 میں 93وارداتیں،2024 میں 80وارداتیں،2025 میں اب تک 41وارداتیں ہوئیً، دو سال میں مجموعی طور پر 56٪ کمی دیکھنے میں آئی، رابری کے2023 میں 22,496واقعات،2024 میں 12,637 واقعات،2025 میں 3,432واقعات ہوئے، گزشتہ دو برسوں میں حیران کن 85٪ کمی دیکھنے کو ملی، اسنیچنگ ،چھینا جھپٹی کے 2023 میں 16,725واقعات،2024 میں7,153واقعات اور 2025 میں 3,514 واقعات پیش آئے، 2023 کے مقابلے میں 79٪ کمی دیکھنے میں آئی،گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں کی چوری و چھیننے کی وارداتوں میں بھی کمی ہوئی، موٹر سائیکل چوری کے 2023 میں 27,251 واقعات،2024 میں 16,681واقعات،2025 میں 9,617واقعات پیش آئے، دو برس میں 65٪ کمی دیکھنے کو ملی، گاڑیاں چوری کے 2023 میں 2,623واقعات،2024 میں 1,853واقعات،2025 میں 972واقعات پیش آئے، 2023 کے مقابلے میں 63٪ کمی دیکھنے کو ملی،موٹر سائیکل اسنیچنگ کے 2023 میں1,535کیسز،2024 میں 1,130کیسز، اور 2025 میں 409مقدمات درج ہوئے، 73٪ نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، گاڑیوں کی اسنیچنگ کے 2023 میں 70 واقعات،2024 میں 50واقعات،2025 میں23واقعات پیش آئے، دو سال میں 67٪ کمی ہوئی، چوری،ڈکیتی کے 2023 میں5,518واقعات،2024 میں4,054واقعات،2025 میں 2,851واقعات پیش آئے،اور 48٪ کمی دیکھنے کو ملی،

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    پولیس حکام کے مطابق اسمارٹ پیٹرولنگ،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،اسٹریٹ کرائم ہاٹ اسپاٹس کی مانیٹرنگ، انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز،خصوصی اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکوڈزجرائم کی کمی کی وجوہات ہیں،نیز شہریوں کی جانب سے بروقت رپورٹنگ اور پولیس تعاون بھی اس کمی کا سبب بنا۔

  • ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی کھلی کچہریاں،پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھنے لگا

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران کی زیر نگرانی جاری “کھلی کچری” پروگرام کی تازہ ترین کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس کے مطابق اپریل 2024 سے نومبر 2025 تک شہریوں کی جانب سے مجموعی طور پر 30,899 درخواستیں موصول ہوئیں۔ عوامی سہولت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہری نے پولیس اور عوام کے درمیان براہ راست رابطے کو مضبوط بنایا، جس کا عملی ثبوت 76 فیصد عوامی اطمینان کی شرح ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کھلی کچہری میں موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔اپریل 2024 میں 103 درخواستیں موصول ہوئیں،مئی میں یہ تعداد 432 تک جا پہنچی،جون میں 519،جولائی میں 621،اگست میں 703،ستمبر میں 780 اوراکتوبر 2024 میں 898 درخواستیں موصول ہوئیں۔یہ سلسلہ 2025 میں مزید تیز ہوا، جنوری میں تعداد 1,093،اپریل 2025 میں 1,726،مئی میں 2,136،جون میں 2,597اورجولائی میں 2,754 تک پہنچ گئی۔اگست اور ستمبر 2025 میں یہ تعداد مزید بڑھ کر بالترتیب 2,784 اور 3,207 تک جا پہنچی۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 کے دوران شہر میں ٹی ایل پی کے پُرتشدد احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث کھلی کچہری عارضی طور پر معطل رہیں، جس کے نتیجے میں ایک ماہ کے دوران درخواستوں کی تعداد کم ہو کر 2,667 رہ گئی۔ بعد ازاں معمول کی بحالی کے ساتھ نومبر 2025 میں دوبارہ بڑھ کر 3,003 درخواستیں موصول ہوئیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران خود شہریوں کے مسائل سنتے ہیں، جبکہ پولیس ٹیمیں مختلف مقامات پر کھلی عدالتوں میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل کے آن اسپاٹ حل کے لیے متحرک ہیں۔ شہریوں نے نہ صرف اپنے مسائل پیش کیے بلکہ شکایات کے فوری ازالے پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔روزانہ کی کھلی کچہری پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کا اہم ذریعہ بن رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں شہریوں نے اپنی شکایات رجسٹر کروائیں جن میں سے متعدد کے مسائل کو موقع پر ہی حل کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے امریکی قونصل جنرل کی  ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے امریکی قونصل جنرل کی ملاقات

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے ملاقات کی ہے۔

    پشاور میں ہونے والی ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، توانائی، انسداد دہشتگردی اور انسداد منشیات میں تعاون پر بھی گفتگو کی گئی،ملاقات میں بزنس اینڈ انویسٹمنٹ روڈ شو کرانےکی تجویز پر غور کیا گیا جبکہ روڈ شو میں قیمتی اور نایاب معدنیات کے لیز ہولڈرز کو مدعو کرنےکی تجویز بھی زیر غور آئی،میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قونصل جنرل کا کہنا تھاکہ تجارتی سفارتکاری امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہے، اقتصادی سفارتکاری کے فروغ سے مجموعی امن و استحکام کو تقویت ملےگی، معدنیات اور توانائی کی شراکت داری اقتصادی سفارتکاری کو مضبوط کرے گی۔

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ عوامی مفاد صوبائی حکومت کےفیصلوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، خیبرپختونخوا منرلزایکٹ کے تحت مقامی آبادی کو سرمایہ کاری میں اولین ترجیح حاصل ہے، مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے والی نجی سرمایہ کاری کی مکمل حوصلہ افزائی اورسہولت دی جائے گی،صوبائی حکومت سستی توانائی کیلئے چھوٹے پن بجلی گھروں اور ڈیموں پر کام کر رہی ہے، نائن الیون کے بعد دہشتگردی کےخلاف جنگ میں خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا، صوبائی حکومت انفرا اسٹرکچر اور ادارہ جاتی مضبوطی پر کام کررہی ہے، ضم اضلاع میں نایاب معدنی ذخائر سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ دیا جائےگا۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک وزیرِ توانائی کی  ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک وزیرِ توانائی کی ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ترک وزیرِ توانائی نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ترک وزیرِ توانائی الپ ارسلاں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی،ملاقات میں پاک ترکیے تعاون کو توانائی کے شعبے میں مزید وسعت دینے پر گفتگو کی گئی۔ملاقات میں پاک ترکیے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی، ملاقات میں فیلڈ مارشل نے عالمی فورمز پر پاکستان کے لیے ترکیے کی مستقل حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ترکیے کے وزیر الپ ارسلاں نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، ترکیے کے وزیر نے علاقائی امن ، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا

  • مین ہول میں گرکر بچے کی موت،میئر کراچی سمیت دیگر کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    مین ہول میں گرکر بچے کی موت،میئر کراچی سمیت دیگر کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    کراچی کی سیشن عدالت میں نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں گرکر 3 سالہ بچے ابراہیم کے جاں بحق ہونے کے معاملے پر میئر کراچی، ٹاؤن چیئرمین، ایم ڈی واٹر کارپوریشن اور بی آر ٹی کنٹریکٹر و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی تین مختلف درخواستیں دائر کردی گئیں۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی میں نیپا فلائی اوور کے قریب مین ہول میں گر کر تین سالہ ابراہیم کے جاں بحق ہونےکے معاملے پر تینوں درخواستیں کراچی کے وکلا کی جانب سے دائر کی گئی ہیں،درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا ہےکہ ایدھی فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 23 شہری گٹر میں گرکر جاں بحق ہوئےہیں۔ حالیہ واقعے میں ریسکیو آپریشن روکا گیا، شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوا کر دوبارہ آپریشن شروع کرایا،درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ نامزد ملزمان کے خلاف قتل بالسبب کا مقدمہ درج کیا جائے، پولیس نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر رہی ہے، معاملے کی تحقیقات کے لیے ایس پی رینک کے افسر کو مقرر کیا جائے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ اتوار کی رات گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب 3 سال کا بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی تاہم وہ ناکام رہے اور ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیاگیا، ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کی گئی،کھلے مین ہول میں گرنے والے بچےکی شناخت 3 سال کے ابراہیم ولد نبیل کےنام سے ہوئی، ابراہیم فیملی کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کرنے آیا تھا۔

  • اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار شہدا کی نماز جنازہ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شریک نہ ہوئے

    اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار شہدا کی نماز جنازہ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شریک نہ ہوئے

    بنوں میں خوارج کے حملے میں شہادت پانے والے اسٹنٹ کمشنر شاہ شاہ ولی سمیت چار افراد کی نماز جنازہ بنوں میں ادا کردی گئی

    نماز جنازہ GOC میرانشاہ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران، اور علاقے کے عوام نے ادا کی۔ مگر صد افسوس، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شہدا کے نمازجنازہ میں آج بھی غیر حاضر رہے،وانا کی دفعہ تو بہانہ تھا کہ وہاں حالات خراب ہیں، میرانشاہ میں کیا ہوا؟ کیا وزیر اعلیٰ کے پاس حفاظتی دستے نہیں؟ یا اس کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں؟ اگر تصویر میں نظر آنے والے تمام لوگوں کوئی خطرہ یا ڈر نہیں تو آفریدی صاحب کا کیا مسئلہ ہے؟ بات اتنی سی ہے کہ آفریدی صاحب کو اس تمام گورکھ دھندے سے غرض نہیں.اس کی ایک ہی خواہش ہے، نیازی کے نام پر چادر لپیٹ کے اڈیالہ کے باہر بیٹھے رہو اور پیچھے اپنے بھائیوں کو کہو کہ جتنا لوٹ سکتے ہیں لوٹ لیں،نہ جانے کب دکان بند ہو جائے ،اگر اڈیالہ جیل سے فرصت ملے تو اپنے صوبے کے عوام کے غم میں بھی شریک ھو جائیں ،نماز جنازہ میں وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا کی غیر حاضری ایک واقعہ نہیں بلکے گھٹیا سوچ اور ناپاک ارادے کی غمازی کرتا ہے
    ۔

  • گلوبل ٹیک کا برطانوی فُٹ ویئر برانڈ   میں 51 فیصد حصص خریدنے کا اعلان

    گلوبل ٹیک کا برطانوی فُٹ ویئر برانڈ میں 51 فیصد حصص خریدنے کا اعلان

    امریکی ٹیکنالوجی ہولڈنگ کمپنی گلوبل ٹیک کارپوریشن ( نے اعلان کیا ہے کہ اس نے برطانوی معروف فُٹ ویئر برانڈ Moda in Pelle (MIP) میں 51 فیصد اکثریتی حصص خریدنے کے لیے ایک حتمی معاہدہ طے کر لیا ہے۔

    یہ برانڈ 1975 میں قائم ہوا تھا اور برطانیہ کی مارکیٹ میں فیشن، معیار اور تکنیکی جدت کے امتزاج کے باعث ایک مضبوط مقام رکھتا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں کمپنی نے تقریباً 3.7 کروڑ ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔گلوبل ٹیک کے مطابق اس معاہدے سے کمپنی کو نیا ریونیو حاصل ہوگا، ای کامرس میں اس کی صلاحیتیں Thrivo AI کے ذریعے مزید مضبوط ہوں گی، جبکہ برطانوی مارکیٹ میں اس کی عملی موجودگی میں بھی اضافہ ہوگا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ خریداری آئندہ 30 دنوں میں معمول کی شرائط پوری ہونے پر مکمل ہونے کی توقع ہے۔

    گلوبل ٹیک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈین گرین نے کہا کہ “پچاس سال سے کام کرنے والے ایک مستحکم برانڈ کا حصول گلوبل ٹیک کے لیے ایک بہترین قدم ہے، جس سے نہ صرف مارکیٹ تک رسائی بڑھے گی بلکہ کمپنی کی تکنیکی صلاحیتیں بھی مزید مضبوط ہوں گی۔ Thrivo AI کا نفاذ دونوں کاروباروں کے آپریشنز کو بہتر بنائے گا۔”

    Moda in Pelle ،برطانوی شہر لیڈز میں قائم کیا گیا یہ برانڈ اعلیٰ معیار کے جوتے، بوٹس، بیگز اور دیگر لیذر مصنوعات تیار کرتا ہے۔ ملک بھر میں 40 سے زائد ریٹیل اسٹورز، کنسیشنز اور مضبوط آن لائن پلیٹ فارم کے باعث کمپنی کی برطانیہ میں بڑی شناخت ہے۔ اس کے بانی سٹیفن بَک نے 1975 میں لیڈز کے بانڈ اسٹریٹ پر پہلا اسٹور قائم کیا تھا۔

    گلوبل ٹیک نے یہ حصص اپنی کمپنی کے کامَن اسٹاک اور کنورٹیبل سیریز A پریفرڈ اسٹاک کے بدلے خریدے ہیں۔ اس خصوصی پریفرڈ اسٹاک کو بعد ازاں مخصوص شرائط پوری ہونے پر عام شیئرز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
    معاہدے کی قانونی کارروائی میں دی لوئو لا فرم، پی سی نے گلوبل ٹیک کی معاونت کی۔

    گلوبل ٹیک مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت میں جدید حل فراہم کرتی ہے،