Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پنجاب بلدیاتی انتخاب،ضرورت پڑی تو ہم وزیراعلیٰ کو بلا لیں گے،چیف الیکشن کمشنر

    پنجاب بلدیاتی انتخاب،ضرورت پڑی تو ہم وزیراعلیٰ کو بلا لیں گے،چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن نے پنجاب بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن کی کمیٹی قائم کرتے ہوئے 10 فروری تک پنجاب حکومت کی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی ہدایت کر دی۔

    الیکشن کمیشن میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات انعقاد میں تاخیر کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی،چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ الیکشن کمیشن اسپیشل سیکرٹری ظفر اقبال نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دستاویزات فراہمی کی جو ٹائم لائن دی تھی اسے پورا نہیں کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن کے پاس وسیع اختیارات ہیں۔ الیکشن کمیشن ہدایات دے سکتا ہے۔ پنجاب حکومت ہمارے ساتھ بیٹھے،ہمارے تحفظات ختم کرے۔،حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ صوبے کمیشن کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے۔ پنجاب کی 3 مرتبہ حلقہ بندی کرائی ، بہت عوام کا پیسہ خرچ ہوا،

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کیا مشترک ہے۔ ممبر کمیشن نے جواب دیا کہ دونوں میں ایک ہی حکومت ہے۔ ممبرکمیشن نے کہا کہ اگر حکومت نہ الیکشن کرائے تو نااہل ہو جائے گی؟حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنجیدہ نتائج ہوں گے لیکن نااہلی نہیں ہو گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پھر کیا سخت سزا ہوئی۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ ایک سیکنڈ بھی سزا ہو تو نااہل ہو جائیں گے ۔ حکام نے کہا کہ ابھی وہ والی اسٹیج نہیں آئی،

    سیکرٹری مقامی حکومت پنجاب نے کہا کہ ٹائم لائن سے تاخیر ڈی مارکیشن رولز کی وجہ سے ہوئی۔ جو قانون سازی ہوتی ہے کابینہ نے منظور کرنی ہوتی ہے، کابینہ میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ اب ڈی مارکیشن رولز نوٹی فائی ہو چکے ہیں، ڈی مارکیشن پر اپیل آج تک مکمل ہوں گی۔ جیسے ڈی مارکیشن ہمارے پاس آ جائے گی ہم کابینہ کو منظوری کے لیے بھیج دیں گے، ڈی لمیٹیشن ،ڈی مارکیشن پر منحصر ہے، جیسے ڈی مارکیشن ہوئی، ڈی لمیٹیشن کر دیں گے ۔چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ ڈیڈ لائن میں سوا ماہ کی تاخیر ہے۔ پنجاب میں نیا سسٹم آ رہا ہے ۔

    ممبر کمیشن نے کہا کہ 36، 37 اضلاع ہیں، ان کی ڈی مارکیشن ہونی ہے۔ پھر اس کے بعد وہ پھر کابینہ کے پاس آیئےگا پھر لیٹ ہو گا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ اب معاملہ سموتھ ہو گیا ہے، رولز میں وضاحت آگئی۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ کیا 4 ہفتے میں ہو جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ ہم تیار ہیں، چیف منسٹر کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بہت شرمندگی ہے کہ پنجاب میں 2021 سے لوکل حکومت نہیں۔ وفاقی ،صوبائی حکومت سے زیادہ لوکل حکومت اہم ہے۔ اگر مقامی حکومت ضروری نہیں تو پھر تو صوبائی حکومت کی بھی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم کمیٹی قائم کرتے ہیں جو ہفتہ دس دن میں کام مکمل کرلے۔ الیکشن کمیشن اسپیشل سیکرٹری کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کی کمیٹی لاہور آئے گی ۔ وہاں پنجاب حکومت کی قائم کمیٹی کے ساتھ مسلسل اجلاس کرکے معاملات حل کریں۔ معاملہ حل کرکے چیف سیکرٹری پنجاب الیکشن کمیشن کو مطلع کر دیں۔ 10 فروری کو دوبارہ سماعت ہو گی،چیف سیکریٹری نے کہا کہ فروری 20 تک مہلت کر دیں تاکہ کمیٹی اپنا کام مکمل کر لے،چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم سماعت 20 فروری تک ملتوی کرتے ہیں لیکن کمیٹی 10 تک کام مکمل کر لے۔ آپ چیف منسٹر کو اس مسئلہ کی سنجیدگی کے بارے میں آگاہ کریں۔ اگر الیکشن کمیشن مزید کوئی ایکشن لے تو بہت شرمندگی ہو گی۔ 20 فروری کو ضرورت پڑی تو ہم چیف منسٹر کو بلا لیں گے۔ کمیشن کو پھر لگا تو الیکشن کمیشن کو خود ٹیک اور کرکے الیکشن کرا دے گا۔ پھر ہم ڈی مارکیشن کے لیے ڈی سیز کو خود بلا لیں گا۔ ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم ڈی سیز کو بلا کر ہدایت کریں۔ اس کے نتائج ہوں گے۔ امید ہے 20 فروری تک معاملات حل ہو جائیں گے۔ ورنہ الیکشن کمیشن نے آپ کو روڈ میپ بتا دیا ہے۔ کیس کی سماعت 20 فروی تک ملتوی کر دی گئی۔

  • تلہ گنگ،الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین زرعی قرار، پلاٹ مالکان "لٹ”گئے

    تلہ گنگ،الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین زرعی قرار، پلاٹ مالکان "لٹ”گئے

    تلہ گنگ کی سب سے بڑی رہائشی اسکیم الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق ایک نہایت اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جس نے سوسائٹی میں سرمایہ کاری کرنے والے سینکڑوں خاندانوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومتِ پنجاب نے الرحمن ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کو ایگریکلچرل (زرعی) قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر لاکھوں روپے میں خریدے گئے پلاٹس پر نہ تو مکانات تعمیر کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہی نقشہ پاس کروانا ممکن رہا ہے۔ یوں عملاً سوسائٹی میں تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اچانک فیصلے نے ان سینکڑوں خاندانوں کو شدید ذہنی اور مالی پریشانی میں ڈال دیا ہے، جنہوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اس امید پر اس سوسائٹی میں لگائی تھی کہ یہاں ایک محفوظ اور قانونی رہائشی مستقبل میسر آئے گا۔ پلاٹ مالکان کوتمام تر ادائیگیاں مکمل کرنے اور برسوں انتظار کے باوجود اب ان کے خواب ادھورے رہ جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    عوامی حلقوں کے مطابق اگر سوسائٹی کی زمین کو زرعی ہی برقرار رکھا گیا تو پلاٹس کی قانونی حیثیت، مالکانہ حقوق اور مستقبل کی سرمایہ کاری سب کچھ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں گھروں کی تعمیر ناممکن ہو گئی ہے
    ، عوامی حلقوں نے منتخب ممبرانِ اسمبلی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین معاملے میں اپنا آئینی اور اخلاقی کردار ادا کریں۔ پلاٹ مالکان کی جانب سے اس ضمن میں احتجاج بھی متوقع ہے،باخبر ذرائع کے مطابق الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی ن لیگ ایم پی اے ملک فلک شیر اعوان کی ہے جنہوں نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو بچانے کے لئےتگ و دو شروع کر دی ہے،

    دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تلہ گنگ کے مقامی صحافیوں نے الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالہ سے حقائق پر مبنی خبر کو شائع کرنے سے انکار کیا ہے،

    الرحمان ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک فلک شیر اعوان اگر باغی ٹی وی کو مؤقف دینا چاہیں تو اسے من و عن شائع کیا جائے گا،
    ای میل ایڈریس
    editor@baaghitv.com

  • بھارت میں کتے بھی محفوظ نہ رہے،دو ماہ کے کتے کے ساتھ جنسی زیادتی

    بھارت میں کتے بھی محفوظ نہ رہے،دو ماہ کے کتے کے ساتھ جنسی زیادتی

    بھارت کے شہر ممبئی کے شمالی علاقے مالاڈ میں پولیس نے ایک 20 سالہ نوجوان کے خلاف دو ماہ کے کتے کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور تشدد کرنے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اتوار کی شام ایک عوامی بیت الخلا میں پیش آیا۔

    کُرار پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ملزم کی شناخت وکاس بیساکر پاسوان کے نام سے ہوئی ہے، جو کتے کے بچے کو بیت الخلا کے اندر لے گیا جہاں اس نے جانور کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعد ازاں اسے بے رحمی سے مارا پیٹا۔ اہلکار کے مطابق واقعے کے دوران وہاں سے گزرنے والے ایک شخص نے شور شرابہ دیکھا جس پر اس نے ایک جانوروں سے محبت رکھنے والی خاتون گیتا پٹیل کو اطلاع دی۔ گیتا پٹیل نے فوری طور پر پولیس کو آگاہ کیا۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور ملزم کو قابو میں لے لیا۔ کتے کے بچے کو نہایت تشویشناک حالت میں ریسکیو کیا گیا، جسے فوری طور پر ایک ویٹرنری ڈاکٹر کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    واقعے کے بعد عوامی بیت الخلا کے باہر لوگوں کی جانب سے ملزم کو پکڑنے اور ہنگامہ آرائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعہ 325 (جانوروں کو ہلاک یا معذور کرنے کی نیت سے شرارت) اور جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون (Prevention of Cruelty to Animals Act) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم تاحال اسے باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا۔

  • شوہر کو بریانی میں نیند کی گولیاں کھلا کر کیا قتل،لاش کے پاس بیوی "فحش”ویڈیو دیکھتی رہی

    شوہر کو بریانی میں نیند کی گولیاں کھلا کر کیا قتل،لاش کے پاس بیوی "فحش”ویڈیو دیکھتی رہی

    بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے اپنے شوہر کو نیند کی گولیاں ملا کر بریانی کھلائی اور پھر اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اسے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ گنٹور کے گاؤں چلوورو میں پیش آیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول لوکم شیوا ناگ راجو کی موت کو ابتدا میں طبعی قرار دے کر معاملہ چھپانے کی کوشش کی گئی، تاہم فرانزک معائنے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ موت دم گھٹنے اور سینے پر چوٹوں کے باعث ہوئی، جس کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔تحقیقات کے مطابق مقتول کی اہلیہ لکشمی مادھوری کا اپنے آشنا گوپی کے ساتھ کافی عرصے سے ناجائز تعلق تھا۔ واردات کی رات مادھوری نے بریانی تیار کی جس میں نیند کی گولیوں کا پاؤڈر ملایا گیا۔ شوہر کے کھانا کھانے اور گہری نیند میں جانے کے بعد مادھوری نے گوپی کو گھر بلا لیا۔ دونوں نے مل کر تکیہ مقتول کے چہرے پر رکھ کر اسے دم گھونٹ دیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

    واردات کے بعد مادھوری نے قتل کو دل کا دورہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ علی الصبح اس نے شور مچایا اور پڑوسیوں کو بتایا کہ اس کے شوہر کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور وہ انتقال کر گئے۔ تاہم مقتول کے والد اور دوستوں کو لاش دیکھ کر شک ہوا کیونکہ جسم پر چوٹوں کے نشانات اور خون کے دھبے موجود تھے۔ انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی جس پر باقاعدہ تحقیقات شروع کی گئیں۔پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنا اور سینے پر شدید دباؤ ثابت ہوئی، جس سے طبعی موت کا امکان رد ہو گیا۔ بعد ازاں مادھوری اور اس کے آشنا گوپی کو حراست میں لے لیا گیا۔

    تحقیقات کے دوران ایک اہم انکشاف اس وقت سامنے آیا جب مادھوری کے موبائل فون کا فرانزک تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق وہ پوری رات شوہر کی لاش کے قریب بیٹھی فحش ویڈیوز دیکھتی رہی۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران مادھوری نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ اس نے گوپی کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی اور واردات انجام دی۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • ڈیووس: بلاول  کی  وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر  سےملاقات

    ڈیووس: بلاول کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سےملاقات

    سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات ہوئی۔

    ملاقات میں ملکی اور بین الاقوامی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی اقتصادی فورم جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مشترکہ قومی ایجنڈے پر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی امن، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری جاری رکھنی چاہیے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی و معاشی صورتحال، خطے میں امن و سلامتی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور پاکستان کے مثبت عالمی کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ مضبوط روابط استوار کرتے ہوئے اقتصادی سفارتکاری کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

    علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ورلڈ بینک کے صدر اجے پال سنگھ بنگا سے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی جس میں پاکستان میں رہائش اور صفائی و نکاسی آب کے منصوبوں سے متعلق گفتگو ہوئی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی و جغرافیائی حالات کے تناظر میں پاکستان کے مؤقف کو بھی پیش کیا

  • برف باری،شدید موسم،پاک فوج کی جانب سے تیراہ میں امدادی سرگرمیاں

    برف باری،شدید موسم،پاک فوج کی جانب سے تیراہ میں امدادی سرگرمیاں

    برف باری ، شدید موسم، پاک فوج کی جانب سے تیراہ سے عارضی انخلاء کرنے والے شہریوں کے لیے برف باری کے دوران امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    برف باری اور شدید سرد موسم کے دوران پاک فوج نقل تیراہ سے عارضی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے. برف باری کے دوران پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں پے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے -متاثرہ افراد کو خوراک، گرم رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔برف باری کے دوران متاثرہ خاندانوں کے لیے ٹرانسپورٹ اور نقل مکانی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے منظم کیا جا رہا ہے۔بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کی خصوصی دیکھ بھال کے لیے الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔برف باری کے دوران متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر بحران کی تشخیص اور صورتحال کی نگرانی کے لیے ٹیمیں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت حل نکالا جا سکے۔پاک فوج کے یہ اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست مشکل وقت میں اپنے شہریوں کی حفاظت اور کفالت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔

  • لاہور پریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے:ایگزیکٹو کونسل پی یو جے

    لاہور پریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے:ایگزیکٹو کونسل پی یو جے

    وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے لاہور پریس کلب کے انتخابات پر اثر انداز ہونے اور صحافیوں کی تضحیک کرنے پر پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔اجلاس میں وزیر اطلاعات کے غیر شائستہ اور اپنے منصب کے منافی طرز تکلم اور انتہائی سطحی الزامات کی پرزور مذمت کی گئی ۔

    ایگزیکٹو کونسل کا کہنا تھا کہ لاہور پریس کلب آزادیء اظہار کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی سیاسی سوچ کی عکاسی نہیں کرتا ۔یہ آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی تحریکوں کا وہ مرکز ہے جو کبھی سیاسی یا حکومتی دبائوکا شکار نہیں ہوا ۔عظمیٰ بخاری نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ جیسے لاہور پریس کلب منہاج برنا یا نثار عثمانی کے نظریات کا محافظ ہونے کی بجائے سرکارکا گماشتہ ہے۔ ایگزیکٹو کونسل نے کہا کہ ہم محترمہ عظمیٰ بخاری کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ اس وقت بھی آزادی ء صحافت کے علمبرداروں کا گھر تھا جب وہ شریف خاندان پر تبرہ کیا کرتی تھیں اور یہ اب بھی آزادی اظہار رائے کی علامت ہے جب انہیں شریف خاندان درجہ ولایت پر فائز دکھائی دیتا ہے اور وہ بھٹو تاریخ کے کٹہرے میں نظر آتا ہے جس کے نظریات کبھی ان کی سوچ کا مظہر ہوا کرتے تھے ۔ جنرل سیکرٹری قاضی طارق عزیز نے کہا کہ لاہور پریس کلب نہ تو کل کسی سیاسی جماعت کا گماشتہ تھا اور نہ ہی آج کوئی سیاسی قوت یا سرکار اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے ،ہم کل بھی سچائی کا آئینہ تھے اور آج بھی اس آئینے کو دھندلا نہیں ہونے دیا۔اگر محترمہ کو اس آئینے میں اپنے چہرے کے داغ دکھائی دیتے ہیں تو اس میں قصور آئینے کا نہیں بلکہ اخلاقیات سے گرنے کی اس کالک کا ہے جس میں مسلسل کچھ کردار اپنے ضمیر ، روح اور وجود تک لتھڑے ہوئے ہیں ۔اس آئینے کو کالی بھیڑ یا ایسا کوئی اور لقب دینا یا اس کے عکس کو برا کہنا درحقیقت اپنے اندر کی گندگی پر تبصرہ کرنا ہے ۔ایگزیکٹو کونسل نے متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور کی کہ نابالغ سیاسی رہنما اور حادثاتی وزیر اطلاعات کو کسی بھی طور پر آزادی ء صحافت کی علامت لاہورپریس کلب پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔یہ کل بھی آزادانہ سوچ اور اظہار رائے رکھنے والوں کا مرکز تھا اور انشا اللہ آئندہ بھی سچائی کی علامت کے طور پر جانا جائے گا ۔ جب تک نثار عثمانی اور منہاج برنا کی سوچ کے وارث اور قلم کی حرمت کے پاسبان زندہ ہیں ،لاہور پریس کلب کسی سیاسی جماعت کا میڈیا سیل نہیں بنے گا ۔اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ جب وزیر اطلاعات یہ مغلظات بک رہی تھیں تو اس وقت صدر لاہور پریس کلب محترم ارشد انصاری وہاں تشریف فرما تھے لیکن ان کی جانب سے نہ تو لاہور پریس کلب کے معزز ممبران کو کالی بھیڑیں یا شرپسند کہنے پر ردعمل کا اظہار کیا گیا ، نہ ہی یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ آپ تو سیاستدان ہیں لاہور پریس کلب کے انتخابات یا کسی بھی صحافتی تنظیم کے انتخاب کی ڈیڈ لائن کیسے دے سکتی ہیں ۔ایگزیکٹو کونسل نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عہدے دار ہمارے لئے برابر ہیں ۔ہم کوریج کے معاملے یا اظہار رائے کے حوالے سے کوئی تفریق نہیں رکھتے۔لہٰذا واضح کیا جاتا ہے کہ اہل قلم یا پاسبان حرف و حق کا کردار پوری ذمہ داری سے نبھاتے رہیں گے ۔

    ایگزیکٹو کونسل نے قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) محترم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کو بھی اس معاملے پر نوٹس لینے کا کہا ہے تاکہ صحافتی اداروں کی یہ روایت برقرار رہ سکے کہ وہ کسی سیاسی دبائو میں آئے بغیر حق گوئی کا فرض نبھائیں۔اجلاس کے آخر پر یہ بھی کہا گیا کہ آزادی صحافت کے سپاہی اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے اور کسی بھی طور دبائو میں آئے بغیر وہ فرض نبھائیں گے جو اس قوم نے ان کے سپرد کیا ہے ۔

  • اراکین اسمبلی کے اثاثے چھپانے کا بل منظور ہونا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے،خالد مسعود سندھو

    اراکین اسمبلی کے اثاثے چھپانے کا بل منظور ہونا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی کے اثاثے چھپانے کا بل منظور ہونا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے،عوام کے ووٹ سے منتخب اراکین عوام کو ہی جوابدہ ہیں، لوٹ مار چھپانے کے لئے لائے گئے اس قانون کی ہر سطح پر مخالفت کریں گے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی سے انتخابات ترمیمی بل منظور ہونے سے واضح ہوتا ہے کہ ایوانوں میں پہنچنے والے عوام کے نہیں بلکہ لوٹ مار کے نمائندے ہیں، انتخابات کے وقت امیدوار گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرواتا ہے تو اسکے بعد بھی کسی بھی رکن کو اثاثے چھپانے کا حق حاصل نہیں ہونا چاہئے، جو اراکین گوشوراے شائع نہ کرنے کی درخواست دیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، عوامی نمائندہ عوام کو جوابدہ ہوتا ہے، لوٹ مار،کرپشن چھپانے کے لئے یہ بل منظور کروایا گیا، مرکزی مسلم لیگ عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، اس بل کے خلاف عوامی سطح پر شعور اجاگر کریں گے تا کہ قوم اپنے نمائندوں سے جواب دہی کرے.

  • غزہ بورڈآف پیس میں شمولیت،حکومت ایوان کو اعتماد میں لے،اپوزیشن

    غزہ بورڈآف پیس میں شمولیت،حکومت ایوان کو اعتماد میں لے،اپوزیشن

    اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہےکہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر حکومت ایوان کو اعتماد میں لے۔

    قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نےکہا کہ وزیراعظم نے فلسطین کے لیے غزہ بورڈ آف پیس کو بغیر مشورہ خوش آئند قرار دیا، حکومت نے ایوان کو نظر انداز کردیا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایوان میں لائے بغیر اس معاملے پر فیصلہ کرنا غلط ہے، بورڈ آف پیس میں کن شرائط پر شامل ہوئے؟ بتایا جائے۔ اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف اس معاملے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔ ج

    ے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت انتہائی اہم معاملہ ہے، پاکستان کا اس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے۔ حکومت کا فرض ہےکہ وہ بتائےکہ کیا فیصلے کر رہی ہے، آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے چلیں مت لیں، مگر کیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ہوتے ہوئے کیا متوازی حیثیت نہیں رکھتا؟ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، فلسطینی بہت مجبور حالت میں ہیں مگر ہم اپنی پالیسی تو ٹھیک رکھیں۔ بورڈ آف پیس کا رکن اس قصائی نیتن یاہو کو بنایا گیا ہے جس نے فلسطینی عوام کا قتل عام کیا ہے اور آگے بھی ایسے ہی قتل عام کا ارادہ رکھتا ہے،آج بھی وہاں بمباریاں ہورہی ہیں، اس مجلس میں نیتن یاہو اور شہباز شریف شانہ بشانہ بیٹھے ہونگے۔غزہ پیس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے

    وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جواب میں کہا کہ امت مسلمہ اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرنے ہوتے ہیں، غزہ کی تعمیرنو اور مستقل فائر بندی کے لیے بورڈ آف پیس میں جانےکافیصلہ کیا، اس بات پر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔

  • صحافی کالی بھیڑیں نہیں،عظمیٰ بخاری  معافی مانگیں،ورنہ الیکشن نہیں ہوں‌گے،اعظم چوہدری

    صحافی کالی بھیڑیں نہیں،عظمیٰ بخاری معافی مانگیں،ورنہ الیکشن نہیں ہوں‌گے،اعظم چوہدری

    لاہور پریس کلب کے انتخابات میں صدر کے امیدوار، سینئر صحافی اعظم چوہدری نے پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے صحافیوں کو کالی بھیڑیں اور شرپسند کہنے ،لاہور پریس کلب کے انتخابات دسمبر سے جنوری تک کروانے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے

    اعظم چوہدری کا کہنا تھاکہ عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کی اور پریس ریلیز جاری کی، صحافیوں کو شرپسند ،کالی بھیڑیں کہا، یہ بھی کہا کہ انتخابات پریس کلب کے انکی مرضی کے مطابق دسمبر اور جنوری میں ہوں گے، آپ کو کیسے یہ حق مل گیا کہ مداخلت کریں،صحافیوں کی تقسیم کریں، پریس کلب کے انتخابات کا فیصلہ کریں، صحافیوں کو کالی بھیڑیں کہیں ہم الیکشن لڑیں،ہاریں جیتیں یہ صحافیوں کا اندرونی معاملہ ہے، ہم الیکشن لڑ رہے تھے ، ایک سیدھا ایجنڈہ ہوتا ہے کمیونٹی کے مفاد کا، روزگار کے تحفظ کا ،پلاٹوں کا، یہ اب انہوں نے نیا ایجنڈہ پیدا کر دیا، کہ صحافیوں کو کالی بھیڑیں کہا،شرپسند کہا، یہ انتخاباب تب ہو گا جب حکومت معافی نہیں مانگے گی اور صدر جنہوں نے پریس ریلیز جاری کروائی جب تک وہ معافی نہیں مانگیں گے تب تک ہم انتخابات نہیں ہونے دیں گے