Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سب سے پہلے خودکش حملوں کیخلاف فتویٰ پاکستان کے علماء نے دیا،علامہ طاہر اشرفی

    سب سے پہلے خودکش حملوں کیخلاف فتویٰ پاکستان کے علماء نے دیا،علامہ طاہر اشرفی

    پشاور میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور ملک دشمن قوتوں کا اصل نشانہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہیں، تاہم پوری قوم اپنی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف علماء کرام نے ہمیشہ دوٹوک اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی کے مطابق “پیغامِ پاکستان” کے عنوان سے جاری متفقہ قومی فتویٰ پر ملک بھر کے 15 ہزار سے زائد علماء و مشائخ کے دستخط موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتل کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کا بنیادی مقصد معاشرے میں امن، برداشت، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کے خلاف سب سے پہلا اور واضح فتویٰ پاکستان کے علماء نے جاری کیا، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔علامہ طاہر اشرفی نے اعلان کیا کہ آنے والا جمعہ ملک بھر میں “پیغامِ امن” کے نام سے منایا جائے گا، جس کے دوران مساجد اور مذہبی اجتماعات میں امن، اتحاد، قومی یکجہتی اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا جائے گا۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر انداز میں آگاہی دیں اور نوجوان نسل کو گمراہ کن نظریات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن و امان کے قیام، شدت پسندی کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔

  • شائننگ انڈیا یا اعدادی فریب؟ بھارت میں ریاستی بیانیہ حقیقت مسخ کرنے لگا

    شائننگ انڈیا یا اعدادی فریب؟ بھارت میں ریاستی بیانیہ حقیقت مسخ کرنے لگا

    بھارت میں مودی حکومت حقائق کے برعکس مبالغہ آمیز بیانیے اورمفروضوں پر مبنی اعداد و شمار پر انحصار کرنے لگی

    معاشی، انتخابی اور جنگ جیسے حساس شعبوں میں شفافیت کمزور ہو چکی ہے اور عوام کو جھوٹے بیانیے سنائے جا رہے ہیں،مودی کے "شائنگ انڈیا” کا بیانیہ مبالغہ آمیز دعوؤں ، دھوکہ اور اقلیتوں کیخلاف انتہا پسند پالیسیوں پر مبنی رہ گیا ہے،نیویارک ریویو آف بکس میں شائع کرسٹوفر ڈی بیلیگ کا مضمون Hype and Fraud in India بھارت کے موجودہ حکومتی ماڈل پر تنقیدی سوال اٹھاتا ہے،مضمون میں جنگ کا پہلو سب سے چونکا دینے والا ہے، جہاں آپریشن سندور میں بھارت کی “فتح” کو ڈی بیلیگ نے محض جھوٹ قرار دیا،نیویارک ریویو کے مطابق گذشتہ سال مئی میں پاکستان بھارت کشیدگی کے دوران متعدد بھارتی طیارے گرائے گئے، ماہرین اس جنگ کو پاکستان کی حالیہ دہائیوں کی “سب سے بڑی علامتی کامیابی” قرار دیتے ہیں،بھارتی عوام کو ایک اسٹیج شدہ شو دکھا کر “کامیابی” بیچی گئی یوں جنگ بھی ایک تھیٹر بن گئی،بھارتی ریاست نے ترقی، غربت کے خاتمے، روزگار اور جمہوریت جیسے بنیادی معاملات میں حقائق کے بجائے اعداد و شمار اور بیانیوں کو مرکزی حیثیت دے دی ہے،بھارت میں معاشی پیش رفت کے دعوؤں کے باوجود بے روزگاری، عدم مساوات اور غیر رسمی معیشت جیسے مسائل جوں کے توں موجود ہیں،بھارت میں انتخابی عمل میں شفافیت اور احتساب کے ذرائع اس حد تک محدود ہو چکے ہیں کہ جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ گئی ہے،

    کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے مطابق 2014 کے بعدبھارتی حکومت نے غربت اور بے روزگاری کے پیمانے بدل کر آزاد ڈیٹا اور حقائق جانچنے والے اداروں کو کمزور کر دیا،اپریل 2025 میں عالمی بینک سے منسوب جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ؛ بھارت میں انتہائی غربت 12-2011کے 16.2 فیصد سے کم ہو کر 23-2022 میں 2.3 فیصد رہ گئی ہے،نیویارک ریویو کے مطابق پروفیسر گورودت سمیت متعدد آزاد محققین نے اس طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور متبادل مطالعات میں کہیں زیادہ غربت سامنے آئی،جموں و کشمیر کی آئینی خودمختاری کا خاتمہ اور شہریت کے قوانین میں مذہبی جھکاؤ مسلمانوں کو قومی دائرے سے باہر دھکیلنے کا ایک منصوبہ ہے،بھارت کے سابق چیف اکنامک ایڈوائزر اروِند سبرامنیم کے مطابق ڈیٹا چھپانے کی وجہ سے معیشت کی اصل تصویر غائب ہو گئی ہے، دی اکانومسٹ بھی بھارت کو اب “جمہوریت سے آمریت کی طرف بڑھتی ہوئی ریاست” قرار دیتا ہے،

    ماہرین کے مطابق کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے اس مضمون کا حاصل یہ ہے کہ؛جو ریاست غربت، روزگار، انتخابات اور اقلیتوں پر جھوٹ بول سکتی ہے، وہ جنگ کے حوالے سے بھی جھوٹ بولے گی، یہ مضمون کسی ایک پالیسی نہیں بلکہ’’ پورے بھارتی نظام‘‘ پر سوال اٹھا رہا ہے،

  • لورالائی اولیو آئل ، بلوچستان کا فخر، پاکستان کی پہچان

    لورالائی اولیو آئل ، بلوچستان کا فخر، پاکستان کی پہچان

    “بلوچستان کے دل، لورالائی کی سرزمین،جہاں پہاڑوں کے دامن میں اگنے والا زیتون آج دنیا میں اپنی پہچان بنا رہا ہے۔یہی وہ زیتون ہے جس نے سلور ایوارڈ حاصل کیااور معیار کے اعتبار سے، اسپین کے بعد دنیا کا دوسرا بہترین زیتون تسلیم کیا گیا۔”

    “یہاں کے زیتون کے باغات صرف خوبصورتی نہیں…بلکہ ایک انقلاب کی علامت ہیں۔ایک ایسا انقلاب جو کسانوں کی قسمت بدل رہا ہے،اور پاکستان کو زرعی معیشت میں نئی طاقت دے رہا ہے۔”

    تیل نکالنے کا مرحلہ
    “زیتون توڑ کر جدید ملز تک لایا جاتا ہے…
    جہاں سب سے پہلے اس کی صفائی ہوتی ہے۔
    پھر بڑے اسٹیل گرائنڈر میں زیتون کو پیس کر موٹی پیسٹ بنائی جاتی ہے۔
    اس کے بعد ملنگ مشین میں پیسٹ کو آہستہ آہستہ گھمایا جاتا ہے…
    تاکہ تیل کے ذرات الگ ہو سکیں۔
    پھر سینٹری فیوج مشین تیل کو پانی اور ٹھوس اجزا سے جدا کر دیتی ہے۔
    اور یوں…
    خالص، قدرتی، ایکسٹرا ورجن لورالائی اولیو آئل تیار ہوتا ہے۔
    وہی تیل… جس کا معیار آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔”

    صحت بخش فوائد
    “لورالائی کا زیتون کا تیل
    دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے…
    کولیسٹرول کنٹرول کرتا ہے…
    جسم کو اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتا ہے…
    اور قدرت کا وہ تحفہ ہے جسے ڈاکٹر بھی سونے سے زیادہ قیمتی کہتے ہیں۔”

    “زیتون کی کاشت نے لورالائی کے کسانوں کی آمدن میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔
    مقامی ملز نے روزگار پیدا کیا،
    نئے کاروبار کھڑے کیے،
    اور بلوچستان کو زیتون کے نقشے پر نمایاں جگہ دی۔

    سینئر سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر عبداللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے سائنٹیفک اعلیٰ سطح کے کام کر سکتے ہیں، جیسا کہ اپر بلوچستان میں زیتون کے تیل کے تجربے کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک ایسا فخر ہے،جس نے پاکستان کے شمالی بلوچستان کو بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیابی کی نئی راہیں دی ہیں۔”

  • غنی محمود قصوری باغی ٹی وی کے ڈویژنل،طارق نوید سندھو ضلعی بیوروچیف مقرر

    غنی محمود قصوری باغی ٹی وی کے ڈویژنل،طارق نوید سندھو ضلعی بیوروچیف مقرر

    قصور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی غنی محمود قصوری کو باغی ٹی وی کا ڈویژنل بیورو چیف مقرر کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل وہ ضلع قصور میں باغی ٹی وی کے ضلعی بیورو چیف کے فرائض انجام دے رہے تھے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، غیر جانبدار رپورٹنگ اور صحافتی خدمات کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔یہ تقرری باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے موقع پر عمل میں لائی گئی، اسی موقع پر طارق نوید سندھو کو باغی ٹی وی کا ضلعی بیورو چیف قصور مقرر کیا گیا ہے۔ طارق نوید سندھو بھی صحافت کے شعبے میں ایک متحرک اور ذمہ دار صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

    غنی محمود قصوری کی ڈویژنل بیورو چیف کے طور پر تقرری کو صحافتی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں سے باغی ٹی وی کی خبری کوریج کو مزید مؤثر بنائیں گے۔اس موقع پر صحافی برادری، دوست احباب اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے غنی محمود قصوری اور طارق نوید سندھو کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی گئی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ صحافتی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں شخصیات اپنی نئی ذمہ داریوں کو بھرپور دیانت داری اور پیشہ ورانہ جذبے کے ساتھ نبھائیں گی۔

  • گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کمانڈر انجام کو پہنچ گیا

    گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کمانڈر انجام کو پہنچ گیا

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،گرل فرینڈ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والا بی ایل ایف کا انتہائی مطلوب کمانڈر بادل عرف دلدار آواران کولوا سیکٹر میں سیکیورٹی کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔

    بادل عرف دلدار 2013 سے بی ایل ایف کے لکھو گروپ کا حصہ تھا اور 2020 میں اسے کمانڈر کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ وہ متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا، جن میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور 26 اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعات شامل ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے آواران کے کولوہ سیکٹر میں کامیاب آپریشن کرتے ہوئے بی ایل ایف کے ایک اہم کمانڈر بادل عرف دلدار کو ہلاک کر دیا۔12 جنوری کو، وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اس وقت مارا گیا جب وہ اپنی گرل فرینڈ سے ملنے ایک مقام پر پہنچا۔ بادل کے قبضے سے اسلحہ،گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے.

  • وفاقی آئینی عدالت،ارشد شریف کیس آخری مراحل میں داخل

    وفاقی آئینی عدالت،ارشد شریف کیس آخری مراحل میں داخل

    ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں داخل ہوگیا، وفاقی آئینی عدالت نے کیس نمٹانے کا عندیہ دے دیا۔

    وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس میں فریقین کو 5 دن میں تحریری معروضات جمع کروانے کا حکم دیدیا، قرار دیا کہ تحریری معروضات آجائیں پھر مناسب حکم جاری کریں گے۔جسٹس عامر فاروق کا کہنا ہے کہ حقیقیت یہ ہے تفتیش کا عمل کافی سست ہے، ہم کسی کو الزام نہیں دینا چاہتے کہ فلاں کا قصور ہے۔

    وکیل بیوہ ارشد شریف نے کہا کہ سوموٹو کی بنیاد پر کمیشن بنا اور تفتیش ابھی تک چل رہی ہے جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ کینیا میں ابھی تک کیا ہوچکا ہے ، وکیل بیوہ ارشد شریف نے کہا کہ ہم نے کینیا میں کیس کیا تھا اس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا ، ہم نے کینیا کی عدالت سے ایکسڈنٹ سے قتل کا وقوعہ بنانے کی استدعا کی تھی ، کینیا کی عدالت نے ہماری استدعا منظور کرکے تفتیش کا حکم دے دیا تھا ،ابھی تک کینیا کی تفتیش میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ،ہماری پاکستان کی حکومت سے بھی یہی درخواست ہے اور اس عدالت میں آنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ کھڑی ہو ، حکومت اور ہمارے اپروچ کرنے میں فرق ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی ،شروع میں کینیا حکومت نے تفتیش میں مدد سے انکار کردیا تھا ،گزشتہ سال ستمبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایم ایل اے ہوا ، مزید تفتیش کے لیے اب جب کینیا حکومت جب ہمیں کہے گی ہم اپنی ٹیم جائے وقوعہ پر بھیجیں گے ،

    جسٹس عامر فاروق نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم اس کیس میں کیا کرسکتے ہیں ، دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب ہم اس وقت کینیا کا رہ تفتیش کرسکتے ہیں ،جائے وقوعہ پر جائیں گے ، کینیا حکومت جو شواہد دے گی ،

    دوران سماعت عمران فاروق قتل کیس کا تذکرہ سامنے آیا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یاد ہوگا کہ عمران فاروق قتل بھی انگلینڈ میں ہوا تھا ، انگلینڈ میں تفتیش ہوئی ، انگلینڈ پولیس کے ساتھ پاکستان پولیس نے مل کر تفتیش کی ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف قتل کی نوعیت تبدیل ہے ،ہم نے چالان جمع کروا دیا ہے دو ملزمان کو نامزد کردیا ہے ، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ دونوں ملزمان اس وقت کینیا میں گرفتار ہیں کیا ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزمان گرفتار نہیں ہم نے ان کے بلیک وارنٹ جاری کردیے ہیں ، جسسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اب ملزمان کو انٹر پول کے ذریعے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ انٹر پول کو ملزمان کی گرفتاری کیلئے خط لکھا ہوا ہے ، اس وقت پاکستان میں تفتیش مکمل ہوچکی ہے ، وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے فون پر رابطہ کیا ہے ، پوری کوشش ہے کہ جلد سے جلد تفتیش مکمل کرلیں .

  • ایرانی عوام کی مدد “جلد” پہنچ جائے گی ،ٹرمپ

    ایرانی عوام کی مدد “جلد” پہنچ جائے گی ،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف احتجاج اور بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرتے ہوئے سخت اور غیر معمولی بیانات دیے ہیں۔ امریکی ریاست مشی گن میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ایرانی قوم سے اپیل کی کہ وہ احتجاج جاری رکھے، اپنے اداروں پر قبضہ کرے اور ان افراد کے نام یاد رکھے جو ان کے بقول ظلم و جبر کے ذمہ دار ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام کی مدد “جلد” پہنچ جائے گی اور کہا کہ جو لوگ ظلم ڈھا رہے ہیں انہیں بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ ان کے اس بیان کو ایران کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک ایران میں قتل عام بند نہیں ہوتا، وہ ایرانی حکام سے کسی قسم کی ملاقات یا مذاکرات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں بات چیت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات سے متعلق سوالات پر کہا کہ وہ اس حوالے سے تفصیلات یہاں بیان نہیں کر سکتے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ “میرا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں، سب کو معلوم ہو جائے گا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔” اس بیان کو ممکنہ فوجی یا سخت سفارتی کارروائی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایک الگ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ یہ اسی طرح جاری رہے۔ ان کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور بات پھانسیوں تک پہنچتی ہے تو پھر امریکہ کو بھی کارروائی کرنا پڑے گی۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    دوسری جانب ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے بھی بیان دیتے ہوئے ایرانی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کے بجائے عوام کا ساتھ دے۔ رضا پہلوی کے مطابق موجودہ حالات میں فوج کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے اور اگر وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو ملک میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو بھی غیر یقینی بنا سکتے ہیں۔

  • جعلی نقشہ پونے تین کروڑ کا غبن،سرکاری زمین پر قبضہ کی کوشش ناکام

    جعلی نقشہ پونے تین کروڑ کا غبن،سرکاری زمین پر قبضہ کی کوشش ناکام

    گوجرخان (قمرشہزاد) اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ اور چیف آفیسر بلدیہ ملک طارق ضیاء نے قبضہ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ایک اہم کارروائی میں جی ٹی روڈ پر کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمین پر بننے والے غیر قانونی کمرشل ریسٹورنٹ کو سیل کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (NHA) کی ملکیتی اراضی پر مبینہ طور پر غیر قانونی ریسٹورنٹ تعمیر کیا جا رہا تھا۔ اس سنگین بدعنوانی میں نہ صرف زمین پر قبضہ کیا گیا بلکہ بلدیہ میں جعلی نقشہ جمع کروا کر سرکاری فیس کی مد میں تقریباً پونے تین کروڑ روپے کا غبن کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ ملحقہ آبادی کے مکینوں نے اس غیر قانونی تعمیر کے خلاف دہائی دی تھی کہ ریسٹورنٹ کا سیوریج سسٹم پورے علاقے، بشمول قریبی ہسپتالوں اور سکولوں کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دے گا۔ عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے، اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ نے سخت احکامات جاری کیے جس پر چیف آفیسر بلدیہ ملک طارق ضیاء نے موقع پر پہنچ کر تعمیراتی کام رکوایا اور عمارت کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔

    شہری حلقوں نے اس دلیرانہ کارروائی پر انتظامیہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خضر ظہور گورائیہ اور ملک طارق ضیاء کی نے قانون شکنوں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ گوجرخان میں اب لاقانونیت کی جگہ نہیں ہوگی۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے قبضہ گروہوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی سرکاری زمین یا عوامی حقوق پر شب خون مارنے کی جرآت نہ کر سکے۔