Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران میں سزائے موت کا عمل روک دیا گیا، ٹرمپ کا دعویٰ، مگر فوجی کارروائی زیرِ غور

    ایران میں سزائے موت کا عمل روک دیا گیا، ٹرمپ کا دعویٰ، مگر فوجی کارروائی زیرِ غور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں زیرِ حراست مظاہرین کو دی جانے والی سزائے موت کا عمل روک دیا گیا ہے اور انہیں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ملک میں "قتل و غارت بند ہو چکی ہے”۔ تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اب بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ ایران میں جاری کریک ڈاؤن کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گی۔

    صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت ترین کارروائیاں جاری ہیں اور عالمی سطح پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایرانی مظاہرین کو دی جانے والی ممکنہ سزائے موت پر عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، خاص طور پر 26 سالہ مظاہرہ کرنے والے ارفان سلطانی کے معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی محکمہ خارجہ، ارفان سلطانی کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایرانی حکام انہیں سزائے موت دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔تاہم ایران کی عدلیہ نے سرکاری میڈیا کے ذریعے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارفان سلطانی کو سزائے موت نہیں سنائی گئی۔ عدالتی بیان کے مطابق ان پر "ملکی سلامتی کے خلاف اجتماع و سازش” اور "ریاست مخالف پروپیگنڈا” کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی سزا قانون کے مطابق قید ہے، نہ کہ سزائے موت۔

    صدر ٹرمپ نے بھی بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "اب سزائے موت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے”۔تاہم ارفان سلطانی کے ایک اہلِ خانہ کے مطابق اگرچہ طے شدہ دن پر پھانسی نہیں دی گئی، لیکن سزائے موت کے خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا اور خاندان اب بھی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

    امریکی فوجی اڈوں پر حفاظتی اقدامات، قطر میں اہلکاروں کو انخلا کی ہدایت
    ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر قطر میں موجود مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے سے بعض امریکی اہلکاروں کو "احتیاطی اقدام” کے طور پر نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے ایرانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔

    ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، معلومات تک رسائی تقریباً ناممکن
    ایران میں حکومتی سطح پر نافذ کیا گیا مواصلاتی بلیک آؤٹ تقریباً ایک ہفتے سے جاری ہے۔ سائبر سیکیورٹی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایرانی عوام کو 156 گھنٹوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بلیک آؤٹ کے باعث حقیقی صورتحال جاننا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ حکومتی حمایت یافتہ اکاؤنٹس، جعلی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جھوٹی معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ادھر ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک ایران میں مفت سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق زمینی رکاوٹوں اور آلات کی قلت کے باعث اس کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔ فرانس بھی اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورک یُوٹیل سیٹ (Eutelsat) کے ذریعے ایران کو انٹرنیٹ سہولت دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔

    ہزاروں مظاہرین ہلاک، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہولناک انکشافات
    امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے آغاز سے اب تک کم از کم 2,400 مظاہرین ہلاک اور 18,470 سے زائد افراد گرفتار ہو چکے ہیں، تاہم سی این این ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ایران میں "غیر معمولی پیمانے پر غیر قانونی قتل” کیے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان رپورٹس کو "مبالغہ آرائی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کوئی بدامنی نہیں۔

    ایرانی عوام خوف اور صدمے کا شکار، لاشیں وصول کرنے پر بھی فیس
    سی این این سے گفتگو کرنے والے ایرانی شہریوں اور ایک ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ اسپتالوں میں مردہ خانوں پر دباؤ ہے، درجنوں لاشیں ایک ہی جگہ رکھی جا رہی ہیں، جبکہ بعض خاندانوں سے لاشیں وصول کرنے کے لیے رقم بھی طلب کی جا رہی ہے۔ایک ڈاکٹر کے مطابق مظاہروں کے دوران اسپتالوں میں "ماس کیژولٹی صورتحال” تھی اور وہ ایک ہی رات میں 10 سے زائد آپریشن کرنے پر مجبور ہوا۔تہران کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ "پورا شہر خوف، صدمے اور خاموشی میں ڈوبا ہوا ہے، لوگ بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں”۔

    اگرچہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فی الحال ایران میں مظاہرین کو قتل یا پھانسی دینے کا عمل روکا گیا ہے، لیکن انہوں نے فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سمیت بعض بااثر شخصیات ایران پر جلد حملے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی جبر،تہلکہ خیز انکشاف

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی جبر،تہلکہ خیز انکشاف

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی جبر: عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ کا تہلکہ خیز انکشاف سامنے آ گیا

    عالمی انسانی حقوق کی رپورٹس نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں منظم تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جبری بے دخلیاں بے نقاب کر دیں، ’انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر ‘ کے مطابق مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات، ہندوتوا تشدد اور ریاستی جبر میں خطرناک اضافہ بھارتی قیادت کے متعصبانہ ایجنڈے کو ظاہر کرتا ہے،رپورٹس کے مطابق 2025 کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50 مسلمان شہید کئے گئے.ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ہندوتوا انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں 23 جبکہ ہندو انتہا پسند حملوں میں 27 مسلمان شہید ہوئے،مسلم مخالف تقاریر کے نتیجے میں 13 ریاستوں میں 26 سے زائد منظم اجتماعی تشدد کے واقعات پیش آئے،مذہبی بنیادوں پر سب سے زیادہ قتل اتر پردیش میں ہوئے جہاں 6 مسلمان شہید کیے گئے،گائے کے نام پر تشدد کے واقعات میں 9 مسلمانوں کو شہید اور 3 افراد کو شدید تشدد کے بعد خودکشی پر مجبور کیا گیا،مقبوضہ جموں و کشمیر، آسام، اتر پردیش اور دیگر علاقوں میں 17 سے زائد مسلمان اور 2 معصوم بچے ریاستی درندگی کا نشانہ بنے،4 ہزار سے زائد بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر بھارت سے بے دخل کیا گیا،گزشتہ سال مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئےاملاک کی مسماری اور بے دخلی بھارتی ریاست کی پہچان بنی رہی،

    مبصرین کے مطابق بھارت میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا سماجی ہم آہنگی اور علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ ہے ،ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال بھارت کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک کی صف میں کھڑا کر چکا ہے،

  • افغانستان میں غربت اور حکومتی تسلط کا بڑھتا اثر، بغاوت بھڑکنے کا خدشہ

    افغانستان میں غربت اور حکومتی تسلط کا بڑھتا اثر، بغاوت بھڑکنے کا خدشہ

    طالبان رجیم کے حکومتی تسلط ، غربت اور بیروزگاری پرسابق افغان وزیر نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    افغانستان پر قابض طالبان کی تمام توجہ جابرانہ اقتدار کومضبو ط کرنے پر مرکوز ہے،افغان انٹرنیشنل کے مطابق
    سابق افغان وزیر انوارلحق احادی نے کہا کہ عوام کی معاشی مشکلات و سیاسی اخراج طالبان کیخلاف غصہ بڑھا رہا ہے،افغان عوام طالبان سے اقتصادی بحران اور روزگار کے حوالے سے جوابدہی کی توقع رکھتے ہیں،یونیسف کے مطابق افغانستان میں تقریباً نصف بچے شدید غذائی غربت کا شکار ہیں،ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر چار میں سے ایک نوجوان بیروزگار ہے ،افغان خواتین کی تنظیم روا نے بھی افغانستان کو خواتین کیلئے دنیا کا بدترین ملک قرار دیا ہے

    افغان مبصرین کے مطابق طالبان رجیم اپنی جابرانہ طرز حکمرانی کے باعث عوام کے آلام مصائب سے لاتعلق ہوچکی ہے،طالبان رجیم کا غیر قانونی تسلط معاشی تباہی اورخطہ میں عدم استحکام کا باعث ہے

  • ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لئے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس

    ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لئے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلوے کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لئے نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورتی اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معیشت کی مجموعی ترقی، صنعت و تجارت اور دیگر شعبہ جات کی بہتری میں نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت حکومت کے معاشی اصلاحات کا حصہ ہے۔پاکستان ریلویز قلیل وسائل کے باوجود نہایت تندہی اور محنت سے مؤثر کارکردگی دکھا رہے ہیں جس کے لیے وفاقی وزیر ریلویز اور ان کی ٹیم لائق تحسین ہے۔پاکستان ریلویز میں ادارہ جاتی اور انتظامی کارکردگی کو مزید موثر کرنے کے لیے انقلابی اقدامات دہائیوں سے ناگزیر تھے۔ پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحات اور اسکو مزید منافع بخش ادارہ بنانے سے، یہ ادارہ ملکی صنعت و تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان ریلویز تمام متعلقہ اکائیوں اور اداروں سے بامعنی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل روڈ میپ اگلے ہفتے پیش کرے۔ پاکستان ریلویز کی معاشی ترقی اور علاقائی تعاون میں اہمیت کے پیش نظر حکومت نے انقلابی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے اطمینان بخش نتائج سامنے آرہے ہیں۔پاکستان ریلوے سے متعلق ترقیاتی کاموں کے لیے حکومتی فنڈز کی دستیابی کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا جو افسوسناک ہے۔ اگلے سال کے PSDP میں ریلویز کے ترقیاتی منصوبوں کو متناسب بجٹ دیا جائے گا. پاکستان ریلویز کو بین الاقوامی سطح پر عالمی معیار کا کمرشل مواصلاتی نظام کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، پاکستان میں معیاری ریلوے نظام معاشی ترقی اور ملکی آمدنی بڑھانے میں قابل قدر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ریلوے کے ڈھانچے کی منافع بخش کمرشل استعمال کے لیے پرائیویٹ پارٹنر شپ کے امکانات کا بھرپور جائزہ لیا جائے۔ پاکستان ریلویز کا معیاری نظام نہ صرف اندرون ملک بلکہ علاقائی صنعت و تجارت اور تعاون میں بھی کلیدی کردار رکھتا ہے۔ پاکستان ریلویز کے منظم نظم و نسق اور منافع بخش کمرشل سطح پر استعمال کے لیے عملی اقدامات پر مشتمل جامع اور موثر حکمت عملی جلد موثر مرتب کی جائے

    وزیراعظم نے ریلویز کی ملکی مجموعی معاشی ترقی، علاقائی صنعت و تجارت میں تعاون اور عوامی سہولت اور کمرشل استعمال کے لیے معیاری کارکردگی کی اہمیت کو اجاگر کیا. وزیراعظم نے دستیاب ذرائع اور معاشی مسائل کے باوجود بہترین کارکردگی پر وزارت ریلوے کی تمام ٹیم کو شاباش دی. وزیراعظم نے وزارت ریلوے کے وسائل کے کمرشل استعمال کے لیے جامع حکمت عملی جلد از جلد مرتب کرنے کی خصوصی ہدایات دی. اجلاس میں شریک ہونے والے نجی شعبے کے ماہرین نے ریلویز کی کارکردگی کو مزید موثر کرنے اور اس کے کمرشل استعمال کے تناظر میں مختلف سفارشات پیش پیش کی۔ وزیراعظم نے اجلاس میں شریک نجی شعبے کے ماہرین سے قابل قدر سفارشات پیش کرنے پر اظہار تشکر کیا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ, وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، نیشنل کوارڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹننٹ جنرل( ریٹائرڈ) سرفراز احمد ، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران کے علاوہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین زید بشیر، پیر سعد احسان الدین اور دیگر نے شرکت کی.

  • پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری، 126 سے 98 ویں نمبر پر آگیا

    پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری، 126 سے 98 ویں نمبر پر آگیا

    اسلام آباد: پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں خوش آئند بہتری سامنے آئی ہے، جس کے تحت پاکستان کا پاسپورٹ 126 ویں نمبر سے ترقی کرتے ہوئے 98 ویں پوزیشن پر پہنچ گیا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کامیابی پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ شاندار کارکردگی اور مؤثر اصلاحاتی اقدامات کے باعث پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری ممکن ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، جس میں پاسپورٹ کے اجرا کے نظام کو بہتر بنانا، سیکیورٹی فیچرز کو جدید بنانا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات شامل ہیں۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ عالمی درجہ بندی میں تیزی سے بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس ترقی کے سفر کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور مستقبل میں پاکستانی شہریوں کو مزید سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    وزیر داخلہ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بایومیٹرک نظام کی بہتری اور پاسپورٹ آفسز میں سہولیات کی فراہمی نے نہ صرف درخواستوں کے بروقت اجرا کو ممکن بنایا بلکہ عالمی اداروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف پاکستانی پاسپورٹ کو مزید مضبوط اور باوقار بنانا ہے تاکہ بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو آسانیاں میسر آئیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،درختوں کی کٹائی سے روک دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،درختوں کی کٹائی سے روک دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی ترقیاتی ادارے کو آئندہ سماعت تک اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی سے روک دیا۔

    عدالت نے سی ڈی اے، ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ اور وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو درختوں کی کٹائی سے روک دیا، سی ڈی اے سے درختوں کی کٹائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی گئی۔عدالت نے سی ڈی اے، ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ، وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کردیا اور کہا کہ آئندہ سماعت پر شق وار جواب اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 2 فروری تک ملتوی کردی۔

  • این سی سی آئی اے  افسران سے بدعنوانی  مقدمے میں 4 کروڑسے زائد برآمد

    این سی سی آئی اے افسران سے بدعنوانی مقدمے میں 4 کروڑسے زائد برآمد

    ایف آئی اے نے این سی سی آئی اے کے افسران سے بدعنوانی کے مقدمے میں 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے برآمد کر لیے

    لاہور کیس میں این سی سی آئی اے کے 8 ملزمان سے نقدی اور اثاثے ضبط کیے گئے،ایف آئی آے نے جواب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جمع کرا دیا،سب سے زیادہ 1 کروڑ 12 لاکھ 95 ہزار روپے کی ریکوری ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سے ہوئی،ڈپٹی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز سمیت جونیئر افسران اور ایک نجی شخص سے بھی رقوم برآمد ہوئیں،ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے این سی سی آئی اے کے خلاف ایف آئی آر نمبر 36/2025 درج کی،لاہور کیس میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ سے مبینہ رشوت لینے کا الزام شامل ہے،سائبر کرائم کیس میں سہولت کاری کے بدلے رشوت لینے کی تحقیقات جاری ہیں،تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ این سی سی آئی اے میں وسیع بدعنوانی کا عندیہ دیتا ہے

    تحقیقات میں این سی سی آئی اے لاہور میں ماہانہ رشوت کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے،کال سینٹرز، ایگریگیٹ کمپنیوں اور ملزمان سے باقاعدہ طور پر غیر قانونی رقوم وصول کی جاتی رہیں،افسران کی جانب سے اعلیٰ حکام تک رشوت پہنچانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں،تفتیش کے مطابق منافع بخش تعیناتیوں کے لیے بھاری رقوم ادا کی جاتی تھیں،راولپنڈی کیس میں غیر قانونی کال سینٹرز سے 30 کروڑ روپے رشوت لینے کا الزام ہے،ایف آئی آر نمبر 97/2025 میں بحریہ ٹاؤن کے کال سینٹرز کو قانونی تحفظ دینے کا ذکر ہے،چینی شہری گوا کاشیان عرف کیلون کو مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے،راولپنڈی کے 30 کروڑ کے کیس میں اب تک صرف 15 لاکھ روپے کی برآمدگی ہو سکی،ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز گرفتار، بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی گئی،ایف آئی اے نے بینک اکاؤنٹس منجمد، جائیدادوں کی چھان بین اور موبائل فونز فرانزک کے لیے بھیج دیے،مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دینے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کارروائی جاری ہے،این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف محکمانہ کارروائی جبکہ ایف آئی اے نے عبوری چالان کی تیاری شروع کر دی

  • امریکا ایران میں کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا؟

    امریکا ایران میں کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا؟

    ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کو اپنی بڑی فوجی کامیابیوں میں شمار کیا تھا۔ امریکی فضائیہ کے بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے دنیا کے سب سے طاقتور 14 بم گرا کر ایران کی دو جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے دوران نہ تو کسی امریکی اہلکار کو نقصان پہنچا اور نہ ہی کسی طیارے کا ضیاع ہوا۔ اس مشن میں درجنوں لڑاکا طیارے، فضائی ایندھن بھرنے والے جہاز اور دیگر معاون طیارے بھی شامل تھے۔

    اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دے رہے ہیں، تاہم اس بار ان کا مؤقف یہ ہے کہ یہ کارروائی تہران میں سخت گیر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں عام ایرانی شہریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کی جائے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی تو یہ گزشتہ موسمِ گرما میں تین جوہری اہداف پر ہونے والی محدود بمباری جیسی نہیں ہوگی۔ مظاہرین کی حمایت میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی کا ہدف ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC)، اس سے منسلک بسیج فورسز اور ایرانی پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہی ادارے مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ یہ کمانڈ سینٹرز اکثر گنجان آباد شہری علاقوں میں واقع ہیں، جس سے عام شہریوں کی ہلاکت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر امریکی حملوں میں شہری مارے گئے تو یہ اقدام الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔ہوائی میں مقیم سابق امریکی نیوی کپتان اور تجزیہ کار کارل شسٹر کے مطابق،“امریکہ جو بھی کرے، اسے انتہائی درستگی کے ساتھ کرنا ہوگا تاکہ IRGC کے علاوہ کسی اور کو نقصان نہ پہنچے۔ شہری ہلاکتیں، چاہے غیر ارادی ہی کیوں نہ ہوں، ان اختلاف کرنے والوں کو بھی امریکہ سے دور کر سکتی ہیں جو صرف حکومت سے نفرت پر متحد ہیں۔”

    امریکہ کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟
    آسٹریلیا کے گریفتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے وزٹنگ فیلو پیٹر لیٹن کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں کے خطرات کے باوجود واشنگٹن کے پاس اہداف کی ایک وسیع فہرست موجود ہے۔ان کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت بالواسطہ طور پر نشانے پر آ سکتی ہے، کیونکہ ایران نے گزشتہ برس اسرائیلی حملوں سے سبق سیکھتے ہوئے اہم شخصیات اور اثاثوں کو پھیلانے اور چھپانے کی کوشش کی ہے۔شسٹر بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایرانی قیادت جان چکی ہے کہ جو چیزیں اہم ہیں انہیں محفوظ رکھنا ضروری ہے، لیکن امریکہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ جو کچھ اسے مل جائے، وہ اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔لیٹن کے مطابق اگرچہ اعلیٰ رہنماؤں کے گھروں یا دفاتر پر حملوں کی عسکری اہمیت محدود ہوگی، لیکن یہ مظاہرین کے لیے ایک علامتی پیغام ہوگا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایرانی قیادت اور IRGC کو معاشی طور پر بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔لیٹن کے مطابق، “IRGC اور قیادت کے ملک بھر میں بے شمار تجارتی ادارے اور منافع بخش کاروبار ہیں۔ ان مخصوص تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو ان اور ان کے خاندانوں کے لیے مالی طور پر اہم ہیں۔”

    آسٹریلوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا ایک تہائی سے دو تہائی حصہ IRGC کے کنٹرول میں ہے، جس سے اس کے معاشی کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔شسٹر کا کہنا ہے کہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ IRGC کی قیادت اور اہلکار اپنی بقا کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوں بنسبت حکومت کے تحفظ کے، کیونکہ IRGC کبھی خودکش ادارہ نہیں رہا۔

    امریکہ کون سے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟
    گزشتہ حملوں میں بی-2 بمبار طیارے مرکزی کردار میں تھے، مگر اس بار اہداف کی نوعیت کے باعث دیگر ہتھیار زیادہ موزوں سمجھے جا رہے ہیں۔شسٹر کے مطابق علاقائی IRGC ہیڈکوارٹرز اور اڈوں کو ٹوماہاک کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو امریکی بحریہ کے آبدوزوں اور جنگی جہازوں سے ایران کے ساحلوں سے دور رہتے ہوئے داغے جا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل (JASSM) بھی ایک آپشن ہے، جو ایک ہزار پاؤنڈ وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 1000 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ یہ میزائل ایف-15، ایف-16، ایف-35، بی-1، بی-2 اور بی-52 بمبار طیاروں سمیت کئی پلیٹ فارمز سے فائر کیے جا سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ڈرونز کا استعمال بھی ممکن ہے، تاہم قریبی فاصلے سے بم گرانے والے طیاروں کا استعمال زیادہ خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔

    بحری بیڑے اور فضائی اڈے
    اس وقت امریکی بحری بیڑا USS Abraham Lincoln مشرقِ وسطیٰ سے ہزاروں میل دور جنوبی بحیرۂ چین میں موجود ہے، جس سے فوری کارروائی کے آپشنز محدود ہو گئے ہیں۔ ایسی صورت میں ممکنہ فضائی حملے خلیجی خطے کے فضائی اڈوں یا دور دراز مقامات سے کیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ برس بی-2 بمباروں نے امریکا سے براہِ راست پرواز کر کے کیا تھا۔

    پیٹر لیٹن کے مطابق اگر کوئی کارروائی ہوئی تو وہ “انتہائی ڈرامائی” ہوگی۔“ٹرمپ انتظامیہ کو ایسے اقدامات پسند ہیں جو میڈیا کی توجہ حاصل کریں، مختصر مدت کے ہوں اور امریکی افواج کے لیے کم سے کم خطرہ رکھیں۔”ان کے بقول، ایک آسان اور محفوظ ہدف خلیج فارس میں واقع تیل کی تنصیبات ہو سکتی ہیں، جن پر حملہ ایران کو درمیانی اور طویل مدت میں شدید معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ بڑے دھویں کے بادل اور مناظر عالمی میڈیا کے لیے نمایاں ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ ایران پر نئی امریکی کارروائی کے امکانات زیرِ بحث ہیں، مگر اس کے نتائج، خطرات اور خطے پر اثرات غیر معمولی حد تک سنجیدہ ہو سکتے ہیں

  • تہران میں خوف،بے چینی کی فضا،اٹلی کا شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    تہران میں خوف،بے چینی کی فضا،اٹلی کا شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    اٹلی نے ایران میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اپنے فوجی دستوں کے تحفظ کے لیے بھی اضافی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اطالوی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا کہ ایران میں اس وقت تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن کی اکثریت تہران میں مقیم ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے میں اطالوی مسلح افواج کے 900 سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جن میں سے تقریباً 500 عراق اور 400 کویت میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اطالوی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔اطالوی حکومت نے ایران میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی یورپی یونین، نیٹو اور جی سیون کے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا، تاکہ صورتحال کو کشیدگی سے نکالا جا سکے، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور خطے میں استحکام و سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔

    تہران میں خوف اور بے چینی کی فضا
    دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں جنگ کے خدشات اور سماجی بے چینی نے عوام کی روزمرہ زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ شہری بظاہر معمولاتِ زندگی جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حالیہ دنوں کی ہلاکت خیز کارروائیوں کا صدمہ ہر جگہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاستی میڈیا پر ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی سرکاری جنازہ تقریبات دکھائی جا رہی ہیں، جبکہ عدلیہ نے گرفتار مظاہرین کے خلاف سخت اور تیز رفتار سزاؤں کا عندیہ دیا ہے۔

    ایران کی دھمکیاں اور خطے میں فضائی و فوجی اقدامات
    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے زمینی افواج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران مناسب وقت پر جواب دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بدامنی کے پیچھے بیرونی طاقتیں ملوث ہیں اور یہ اقدامات فراموش نہیں کیے جائیں گے۔

    خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث جرمن ایئرلائن لفتھانزا نے اسرائیل اور اردن کے لیے اپنی پروازوں کو محدود کرتے ہوئے صرف دن کی پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایرانی اور عراقی فضائی حدود سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح قطر میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے سے بعض اہلکاروں کو احتیاطی طور پر نکالنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    ایران میں ساتویں روز بھی انٹرنیٹ کی مکمل یا جزوی بندش جاری ہے۔ سائبر سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ اقدام مظاہروں کی اطلاعات کو روکنے اور عالمی نگرانی محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 2,400 سے زائد مظاہرین ہلاک اور 18 ہزار سے زیادہ گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی اصل تعداد انٹرنیٹ بندش کے باعث سامنے نہیں آ پا رہی۔بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ ایک بار پھر پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے۔

  • ایران کے معاملے پر ٹرمپ کاسخت مؤقف، فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز زیر غور

    ایران کے معاملے پر ٹرمپ کاسخت مؤقف، فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز زیر غور

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف جاری پرتشدد اور جان لیوا کریک ڈاؤن پر شدید برہم دکھائی دیتے ہیں اور اپنی ہی کھینچی گئی “ریڈ لائن” کے باعث اب وہ ایرانی حکومت کے خلاف فیصلہ کن اقدام کو ناگزیر سمجھنے لگے ہیں۔ اس معاملے سے آگاہ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اب محض بیانات کافی نہیں رہے اور کسی نہ کسی عملی کارروائی کی طرف جانا ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے ایک اہم اجلاس میں صدر کے لیے مختلف آپشنز کو حتمی شکل دینے پر غور کیا۔ صدر ٹرمپ مشی گن کے دورے سے واشنگٹن واپسی کے بعد اس دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں انہیں ایران میں ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار، حکومت کی ممکنہ آئندہ کارروائیوں اور یہاں تک کہ پھانسیوں کے خدشے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ایک ذریعے کے مطابق بریفنگ کے دوران صدر کو ایران کے اندر سے حاصل کی گئی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جن میں مظاہرین کے خلاف تشدد کے مناظر شامل تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم کے اندر اس بات پر اختلاف رہا ہے کہ آیا ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کی جائے یا نہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فوجی قدم اٹھایا بھی گیا تو اس میں زمینی افواج کی تعیناتی شامل نہیں ہوگی اور امریکہ ایران میں طویل المدتی فوجی مداخلت نہیں چاہتا۔

    ذرائع کے مطابق صدر کے سامنے موجود آپشنز میں ایک اہم آپشن ایران کی سیکیورٹی فورسز سے منسلک تنصیبات پر حملہ کرنا بھی ہے، کیونکہ یہی فورسز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی ذمہ دار سمجھی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکام ہر ممکن خطرے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جن میں فضائی حملے کے دوران کسی غلطی کا امکان یا ایران کی جانب سے غیر معمولی جوابی کارروائی شامل ہے۔ امریکی حکام اس بات سے بھی گریز چاہتے ہیں کہ ایران میں حکومت کے ممکنہ خاتمے کی صورت میں پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔

    امریکی عہدیداروں کے مطابق صدر ٹرمپ ماضی میں بھی ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور اب وہ خود کو ان دھمکیوں پر عمل درآمد کا پابند محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سابق صدور کی مثالیں ذہن میں رکھتے ہیں، خصوصاً سابق صدر باراک اوباما کا 2013 میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ، جسے ٹرمپ ایک ناکام “ریڈ لائن” سمجھتے ہیں۔ایک ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ “صدر نے خود ایک ریڈ لائن کھینچ دی ہے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہوگا۔ تقریباً طے ہے کہ وہ کوئی قدم اٹھائیں گے، سوال صرف یہ ہے کہ وہ کس نوعیت کا ہوگا۔”

    فیصلہ سازی میں ایک بڑا عنصر ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی ہے۔ تہران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ حالیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران عراق اور شام میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاریوں پر غور کر رہا ہے۔امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی حکومت مظاہروں کے غیر متوقع پھیلاؤ پر خود حیران ہے اور اس وقت ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مظاہرین کو کنٹرول بھی کیا جائے اور غیر ملکی مداخلت کا جواز بھی نہ بنے۔ اسی مقصد کے تحت ایران میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین پر پابندیاں، انٹرنیٹ کی بندش اور اطلاعات کا بلیک آؤٹ دیکھا جا رہا ہے۔

    منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ایرانی جوابی کارروائی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “ایران نے پچھلی بار بھی یہی کہا تھا جب میں نے ان کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا، جو اب ان کے پاس نہیں رہی۔ بہتر ہے وہ اپنا رویہ درست رکھیں۔”دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے، قطر کے العدید ایئر بیس، سے بعض اہلکاروں کو احتیاطی طور پر نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اڈہ ماضی میں بھی ایرانی حملے کا نشانہ بن چکا ہے اور یہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے واپسی پر صحافیوں سے کہا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ وہ کیا قدم اٹھا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا، “مجھے بالکل معلوم ہے کہ میں کیا کر سکتا ہوں، فیصلہ کرنا ہے لیکن ظاہر ہے میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔”ذرائع کے مطابق صدر کو گزشتہ ہفتے سے ایران کے حوالے سے مسلسل مختلف آپشنز پر مشتمل بریفنگز دی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت اہم شخصیات نے صدر پر کسی مخصوص فیصلے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا بلکہ ہر آپشن کے فوائد اور نقصانات سامنے رکھے گئے ہیں۔ٹرمپ فوجی کارروائی کے علاوہ دیگر راستوں پر بھی غور کر رہے ہیں، جن میں سائبر حملے، نئی اقتصادی پابندیاں اور معلوماتی جنگ شامل ہیں۔ اسی تناظر میں صدر نے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے مالک ایلون مسک سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ بندش کے باوجود عوام کو رابطے کی سہولت دی جا سکے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اس وقت ایران میں اسٹارلنک کے ذریعے مفت انٹرنیٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا، “جب میں ایران میں ہونے والی اموات دیکھتا ہوں تو ایران میرے ذہن میں ہوتا ہے۔” اسی دوران قومی سلامتی کونسل کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، سی آئی اے ڈائریکٹر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس سمیت اہم حکام شریک تھے۔اگرچہ حالیہ دنوں میں صدر نے ایران کے ساتھ سفارتی راستے کی بات بھی کی تھی، تاہم منگل کی صبح انہوں نے اچانک اعلان کیا کہ جب تک مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بند نہیں ہوتا وہ ایرانی حکام سے کسی بھی ملاقات کو منسوخ کر رہے ہیں۔ بعض مشیروں کا خیال ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے پیغامات محض امریکی حملہ روکنے کی کوشش ہیں۔

    ادھر سعودی عرب، قطر اور عمان سمیت امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک پس پردہ سفارتی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکی جا سکے، کیونکہ ان کے مطابق اس کے پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ نے منگل کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایرانی مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے کا پیغام دیتے ہوئے لکھا، “ایرانی محب وطنو، احتجاج جاری رکھو، اپنے اداروں پر قبضہ کرو، مدد آ رہی ہے۔” انہوں نے آخر میں “میگا” یعنی “میک ایران گریٹ اگین” بھی لکھا۔

    ایرانی قیادت کے لیے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ “وہ انسانیت کا مظاہرہ کریں”، اور خبردار کیا کہ “انہیں لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے، ورنہ مسئلہ بہت بڑا ہو جائے گا۔”