Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نجی یونیورسٹی میں طالب علم کی خود کشی،انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی

    نجی یونیورسٹی میں طالب علم کی خود کشی،انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی

    لاہور کی نجی یونیورسٹی میں 19 دسمبر کو خودکشی کرنے والے طالب علم کے معاملے کی انکوائری رپورٹ بھی سامنے آگئی۔

    رپورٹ کے مطابق طالب علم نے فارمیسی بلڈنگ کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی تھی، طالب علم کی ایک مضمون کے علاوہ دیگر مضامین میں حاضری ٹھیک تھی،انکوائری رپورٹ کے مطابق ایک مضمون صبح کے وقت ہونے سے طالبعلم کی حاضری کم رہی، خودکشی کرنے والا طالب علم شدید ذہنی تناؤ اور سائیکلوجیکل مسائل کا شکار تھا،طالب علم نے کبھی بھی کسی نفسیاتی مسائل کا علاج نہیں کروایا تھا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہد کے مطابق طالب علم نے خود چھلانگ لگائی، زخمی طالب علم کو فوری لاہور جنرل اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔

    رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکمیشن کمیشن کو ہر یونیورسٹی میں سائیکالوجی سینٹر کھولنے چاہئیں۔ سائیکلوجی سینٹر میں تجربہ کار پروفیسر اور اساتذہ طالب علموں میں ذہنی تناؤ اور دباؤ سے متعلق آگاہی دیں،واضح رہے کہ کچھ روز قبل یونیورسٹی میں ڈی فارم کے ایک طالب علم نے عمارت کی چوتھی منزل سے کود کر خودکشی کی تھی۔

  • پی ایس ایل کی نئی ٹیموں کی نیلامی سے علی ترین دستبردار

    پی ایس ایل کی نئی ٹیموں کی نیلامی سے علی ترین دستبردار

    پی ایس ایل کی نئی ٹیموں کی نیلامی سے علی ترین دستبردار ہوگئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ پر دستبرداری سے آگاہ کیا۔

    پاکستان سپر لیگ میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کیلئے بولی کیلئے 9 خریداروں میں مقابلہ ہوگا۔ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے سوشل میڈیا پر نیلامی سے دستبرداری سے متعلق آگاہ کردیا۔انہوں نے کہا کہ فیملی سے مشورہ کرکے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا، پی ایس ایل میں واپسی ہوگی تو جنوبی پنجاب کیلئے ہوگی، ملتان سلطانز کی ٹیم فروخت کیلئے آئے گی تو ہم تیار ہوں گے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں پاکستان سپر لیگ کے آکشن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر سمیت تمام نو بڈرز شریک ہیں۔

  • پنجاب پولیس آرڈر 2002ء میں ترمیم،فسادات میں ملوث افراد کو 10 سال قید

    پنجاب پولیس آرڈر 2002ء میں ترمیم،فسادات میں ملوث افراد کو 10 سال قید

    پنجاب پولیس آرڈر 2002ء میں ترمیم کردی گئی، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے ترمیمی بل کی منظوری دے دی، فسادات میں ملوث افراد کو 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوگا۔

    ترمیم شدہ قانون کے تحت پرتشدد ہجوم کا رویہ قابلِ دست اندازی پولیس اور جرم ناقابلِ ضمانت قرار دیدیا گیا،پولیس حکام کے مطابق اب پرتشدد احتجاج کے مقدمے کا ٹرائل سیشن کورٹ میں ہوگا، فسادات میں ملوث افراد کو 10 سال قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔پولیس حکام کے مطابق قانون میں ’رائٹ زون‘ کا نفاذ کرکے کارروائی پر پولیس کو تحفظ دیدیا گیا، قانون میں پرتشدد احتجاج کے منتظمین اور شرپسند عناصر کیلئے سخت سزاؤں کا تعین کردیا گیا۔

  • پی آئی اے کا لاہور سے لندن فضائی آپریشن بھی شروع کرنے کا اعلان

    پی آئی اے کا لاہور سے لندن فضائی آپریشن بھی شروع کرنے کا اعلان

    پی آئی اے نےلاہور سے لندن فضائی آپریشن بھی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے

    پہلی پرواز پی کے 757 ، 30 مارچ کو لاہور سے لندن روانہ ہو گی۔لاہور سے لندن کے لئے پروازیں ہیتھرو ائر پورٹ کے ٹرمینل 4 پر لینڈ کریں گی۔ چھ سال کے وقفہ کے بعد پروازوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔لندن پی آئی اے کے نیٹ ورک کے ابتدائی بین لاقوامی روٹس میں شامل ہے۔ان پروازوں کی شروعات کے بعد برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی ہفتہ وار تعداد 07 ہو جائے گی۔پابندی سے قبل پی آئی اے پاکستان سے لندن کے لیے ہفتہ وار 10 پروازیں چلا رہی تھی۔لندن کے لئے پروازوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے پہلے ہی اسلام آباد سے لندن کے لئے ہفتہ وار تین پروازوں کا آغاز اعلان کر چکی ہے۔اسلام آباد سے لندن کی پروازیں 29 مارچ سے شروع ہوں گی۔

  • اسلام آباد میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی،سوشل میڈیا پر تنقید،وزیراعظم کا نوٹس

    اسلام آباد میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی،سوشل میڈیا پر تنقید،وزیراعظم کا نوٹس

    اسلام آباد میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے، جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    شہریوں، ماحولیاتی کارکنوں اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں سبزہ ختم کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی دباؤ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے اور فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کی ہے۔وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے اس معاملے پر فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ یہ بتایا جائے کہ درختوں کی کٹائی کس منصوبے کے تحت کی گئی، اس کی اجازت کس نے دی اور اس کے ذمہ دار افسران یا ادارے کون ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی سی ڈی اے کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹ کا خود جائزہ لیں گے اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو تفصیلی طور پر آگاہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا ماحولیاتی قوانین، این او سیز اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اس پورے معاملے پر براہِ راست نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر درختوں کی کٹائی غیرقانونی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جیسے شہر میں درختوں کی کٹائی نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ شہریوں کی صحت، ہوا کے معیار اور موسمی اثرات پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔

  • افغانستان میں انتہا پسند پالیسیاں، عدالتوں پر بھی افغان طالبان  رجیم کی اجارہ داری

    افغانستان میں انتہا پسند پالیسیاں، عدالتوں پر بھی افغان طالبان رجیم کی اجارہ داری

    افغان طالبان رجیم میں انصاف دفن، انسانی حقوق کی آزادیوں پر قدغنیں جاری ہیں

    افغان طالبان رجیم کی سخت گیر اور انتہا پسند پالیسیوں نے عوام کا جینا دو بھر کردیا،افغان جریدے آمو ٹی وی نے ایک بار پھر افغان طالبان کی انتہا پسند حکومت کےسیاہ چہرہ کا پردہ فاش کردیا ،آمو ٹی وی کے مطابق افغان طالبان رجیم نے حراست سے متعلق نیا جابرانہ حکم نامہ جاری کردیا ، افغان طالبان کے نئے فرمان کے تحت مشتبہ افراد کی حراست 72 گھنٹوں سے بڑھا کر 10 دن کر دی گئی ،نئے قانون کے تحت قیدی افغان طالبان عدالت کے حکم کے بغیر رہائی کے حق سے محروم ہیں،طالبان رجیم نے حراستی اختیارات مکمل طور پرافغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سپرد کر دیے سابقہ قوانین ختم، رہائی کا اختیار صرف افغان طالبان کی عدالتوں تک محدود ہو گئے،افغان طالبان رجیم کے جاری کردہ نئے حکم نامے کے بعد افغان شہری طویل حراست اور بلاجواز گرفتاریوں کے شدید خطرات سے دوچار ہوچکے ہیں

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان عدالتی فیصلے سے قبل رہائی پر پابندی بے گناہوں کو مہینوں قید رکھ سکتی ہیں،افغان طالبان رجیم کا نیا فرمان منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کو کھلے عام روند تا ہے ،اقوام متحدہ 2021 سے ابتک افغان طالبان رجیم کی جانب سےکی جانے والی متعدد گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے،غاصب افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند پالیسیاں افغانستان کو کھلی جیل میں تبدیل کر رہی ہیں،افغان طالبان رجیم کے فیصلے انسانی حقوق کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہے ہیں

  • پنجگور،اسلامک یونیورسٹی سے فارغ ساجد نامی دہشتگرد گرفتار،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

    پنجگور،اسلامک یونیورسٹی سے فارغ ساجد نامی دہشتگرد گرفتار،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

    پنجگور میں ایک آپریشن کے دوران بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک ساجد نامی دہشتگرد پکڑا گیا جس کا کور نام شاہ ویز ہے، یہ اسلامک یونیورٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے،اس کی گاڑی سے آر پی جی، 5 راکٹس، 2 ایم 16 رائفلز، 20 ہینڈ گرینیڈز کے علاوہ دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران ایک دہشتگرد ساجد احمد کو گرفتار کرلیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعزاز گورایہ کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد ساجد احمد اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے۔کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعرزاز گورایہ نے کہا کہ پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے اہم آپریشن کیا ہے، دہشتگرد ساجد پنجگور سے تربت کی طرف بھاری مقدار میں اسلحہ منتقل کر رہا تھا، گرفتار دہشتگرد سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کا مواد نشر کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا، ایک دہشت گرد جہانزیب مہربان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو ریکی اور رقم فراہم کرنے میں شامل رہا ہے۔ جہانزیب نے ایک اور 18 سال کے لڑکے کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا تھا،ساجد احمد یونیورسٹی آف تربت میں پڑھاتا رہا ہے، ساجد کی بھابھی بھی بی وائی سی کی کارروائیوں میں ملوث تھی۔ مزید کارروائیوں میں دہشت گرد بیزل اور خاران کے رہائشی سرفراز کو بھی گرفتار کیا ہے۔

    اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ پورے صوبے میں پولیس کی عملداری موجود ہےانہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ادارے کی شاخیں بنائی جارہی ہیں، گزشتہ تین ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 730 انسداد دہشتگردی کے آپریشنز کیے گئے، پورے بلوچستان میں پولیس کی عملداری موجود ہے، گزشتہ 3 ماہ میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی ہوئی، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بلوچستان حکومت نے نیا ادارہ قائم کیا۔

  • امریکا، چرچ کے باہر فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 6 زخمی

    امریکا، چرچ کے باہر فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 6 زخمی

    امریکی ریاست یوٹاہ کے دارالحکومت سالٹ لیک سٹی میں ایک چرچ کے باہر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 6 افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق زخمیوں میں سے 3 کی حالت تشویش ناک ہے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ چرچ آف جیسس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کے چیپل میں پیش آیا، جہاں ایک شخص کی آخری رسومات ادا کی جارہی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق تقریب کے دوران اچانک فائرنگ شروع ہوگئی جس سے وہاں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا،اطلاع ملتے ہی پولیس اور ہنگامی طبی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ چرچ اور اس کے اطراف کے علاقے کو گھیرے میں لے کر اپنی تحویل میں لے لیا گیا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر علاقے میں اضافی پولیس نفری تعینات کردی گئی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور فائرنگ میں ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ذمہ داروں کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

  • مصطفیٰ کمال کن ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کہتے

    مصطفیٰ کمال کن ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کا قاتل کہتے

    ایم کیو ایم کے رہنما، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس کا ماسٹر مائنڈ الطاف حسین ہے، پاکستانی عدالتیں فیصلہ دے چکی ہیں، افتخار حسین کو عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار کیا گیا، افتخار حسین الطاف حسین کا ہی فون سنتا ہے

    سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کرمنل مائنڈ آدمی ہےجیسے مافیاز کام کرتے ہیں ویسے ہی الطاف حسین کام کرتا ہے جو الطاف کے سامنے سوال کرتا تھا وہ دنیا سے چلا گیا، عمران فاروق الطاف حسین سے لڑائی کرتے تھے، بات کرتے تھے، ایم کیو ایم کے اس وقت کے سب لوگوں‌کو پتہ ہے جب انکا قتل ہو وہ ناراض تھے سیکرٹریٹ نہیں آتے تھے، پہلے بھی کئی بار وہ ناراض ہو چکے تھے، الطاف حسین سے کوئی سوال کر لے تو وہ نظروں میں آ جاتا ہے وہ تو نظروں میں تھے،جب پارٹی میں کچھ نہیں تھا تب پانچ، چھ ،سات لوگوں میں یہ شامل تھے، غلط بات پر روکنا ٹوکنا ان کا حق تھا لیکن الطاف حسین ہوش میں ہوتے تو وہ مارنے کی ہدایت نہ دیتے وہ تو ہفتوں ،ہفتوں نشے میں رہتے، انکی رات کی کال خراب ہوتی تھی پھر شام کو پھر دن دو بجے کی بھی کال خراب ہونے لگی، ہم نے لندن میں ہفتوں‌گزارے،ٹی وی والوں کو کہتے تھے کہ الطاف کی کال نہ اٹھانا،پہلے ہم سے رابطہ کرنا، جو مارنے والی ٹیمیں تھیں ان کو کال کر دی گئی کہ تمہارے قائد کو تنگ کر رہا ہے تو اس کے بعد قتل ہو گیا،یہ میں نہیں کر رہا، میں الزام نہیں لگا رہا،لندن میں قتل ہوا ہے، لندن میں پاکستانی پولیس، پاکستانی عدالت نہیں ہے، وہاں ریاست ،نظام ہے،اسکاٹ لینڈ یارڈ نے سارے کیس کو ٹریس آؤٹ کیا، قاتلوں‌کی تصویریں نکالیں، جو آرڈر دینے والے ہیں سب کو نکال لیا، قتل کرنے والے پکڑے گئے، قاتل جنہوں نے آرڈر دیا، مبارکباد دی، جس کو کال ریسیو ہوئی اس کا نام افتخار حسین ہے، الطاف کا کزن ہے اور الطاف کا فون وہی استعمال کرتے ہیں، ان کو مبارکباد دی گئی،افتخار حسین پاکستان آئے قاتلوں سے ملے ،پھر وہ لندن گئے تو انکو ہیتھرو ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا،یہ میں نہیں کہہ رہا یہ میڈیا میں‌رپورٹ ہوا ہے،لندن میں پاکستان جیسی گرفتاری نہیں ہوتی،وہاں کسی کو گرفتار کرنے کے لئے شواہد جمع کر کے پہلے عدالت پیش ہونا پڑے گا، وارنٹ جاری ہوتے ہیں پھر گرفتاری ہوتی ہے، پولیس ویسے نہیں پکڑ سکتی،پولیس نے عدالت میں قتل کیس کے ثبوت دکھائے ہوں گے تو وارنٹ ملے ہوں گے،مارنے والے جب پاکستان پکڑے گئے تو برطانیہ نے کہا کہ ہمارے حوالے کریں یہ آ کر بیان دیں گے لیکن پاکستان اور برطانیہ میں قیدیوں کے تبادلہ کا کوئی معاہدہ نہیں اس لئے برطانیہ کے حوالہ نہیں کیا گیا،اسکے بعد برطانوی حکام پاکستان آئے اور یہاں کیس چلا، الطاف حسین کو قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا،پاکستان کی عدالت کو برطانیہ نے ثبوت دیئے،جس کے بعد یہ فیصلہ آیا، پاکستانی میڈیا نے سب نے اسکو نشر کیا،

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ قتل کیس میں افتخار حسین کی گرفتاری ہوئی، تین لوگ جو یہاں پکڑے گئے تھے انکو پاکستان برطانیہ کے حوالے کر دیتا اور یہ قیدی بیان دیتے تو الطاف حسین ماسٹر مائنڈ گرفتار ہو جاتے، یہاں کی عدالت نے الطاف کو مفرور قرار دیا ہے،

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال ہی ایم کیو ایم ہے اور ایم کیو ایم ہی مصطفیٰ کمال ہے، پی ایس پی ختم ہو چکی ہے، میں ایم کیو ایم کی سنٹرل کیبنٹ کا ممبر ہوں،چیئرمین کے بعد کسی کو عہدہ نہیں ملا، 11 لوگوں نے ملکر چیئرمین بنایا،یہ سوال کہاں سے آ رہا کہ ایم کیو ایم کوئی اور ہے مصطفیٰ کمال کوئی اور ہے،ایم کیو ایم مرکزسے پریس کانفرنس کا دعوت نامہ جاری ہوتا ہے اور پریس کانفرنس ہوتی ہے.

  • امریکہ کا  درجنوں بین الاقوامی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری کا اعلان

    امریکہ کا درجنوں بین الاقوامی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری کا اعلان

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم سرکاری یادداشت (میمورنڈم) جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ان بین الاقوامی تنظیموں، فورمز، کنونشنز اور اقوامِ متحدہ کے متعدد اداروں سے دستبردار ہو جائے گا جو امریکی قومی مفادات کے خلاف سمجھے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ وزیرِ خارجہ کی جانب سے کی گئی جامع جانچ پڑتال اور کابینہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

    صدر کی جانب سے جاری یادداشت کے مطابق، 4 فروری 2025 کو جاری ہونے والے ایگزیکٹو آرڈر 14199 کے تحت وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ان تمام بین الاقوامی بین الحکومتی تنظیموں، معاہدوں اور کنونشنز کا تفصیلی جائزہ لیں جن میں امریکہ رکن ہے یا جنہیں کسی بھی نوعیت کی مالی یا انتظامی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس جائزے کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ کون سی تنظیمیں اور معاہدے امریکہ کے مفادات سے متصادم ہیں۔یادداشت میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ نے اپنی رپورٹ صدر کو پیش کر دی، جس پر صدر نے کابینہ کے ارکان سے تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ بعض تنظیموں میں امریکہ کی رکنیت برقرار رکھنا یا ان کی مالی معاونت جاری رکھنا قومی مفادات کے خلاف ہے۔ اسی بنیاد پر صدر نے فوری طور پر دستبرداری کے اقدامات کی ہدایت جاری کی۔

    صدر ٹرمپ نے تمام ایگزیکٹو محکموں اور وفاقی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلد از جلد ان تنظیموں سے امریکہ کی دستبرداری کے عملی اقدامات مکمل کریں۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی اجازت کی حد تک ان اداروں میں شرکت اور فنڈنگ بند کر دی جائے گی۔

    فیصلے کے تحت امریکہ متعدد غیر اقوامِ متحدہ تنظیموں سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں ماحولیاتی تبدیلی، توانائی، جمہوریت، سائبر سیکیورٹی، ہجرت، معدنیات، ثقافت اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی ادارے شامل ہیں۔ ان میں انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمٹ چینج (IPCC)، انٹرنیشنل رینیوبل انرجی ایجنسی، انٹرنیشنل سولر الائنس، انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر اور فریڈم آن لائن کولیشن جیسے نمایاں فورمز بھی شامل ہیں۔
    یادداشت کے مطابق امریکہ اقوامِ متحدہ کے درجنوں ذیلی اداروں اور پروگرامز سے بھی دستبردار ہوگا، جن میں اقوامِ متحدہ کا محکمہ برائے معاشی و سماجی امور، اقوامِ متحدہ کا جمہوریت فنڈ، صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ادارہ (UN Women)، اقوامِ متحدہ کا فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی، اقوامِ متحدہ کا آبادی فنڈ اور اقوامِ متحدہ یونیورسٹی شامل ہیں۔

    یادداشت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں قومی خودمختاری، معاشی مفادات اور داخلی ترجیحات کو اولین حیثیت دیتا رہے گا۔ صدر کا کہنا ہے کہ جن عالمی اداروں کی سرگرمیاں یا پالیسیاں امریکہ کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں، ان میں شمولیت یا فنڈنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے کسی بھی وفاقی ادارے کے قانونی اختیارات متاثر نہیں ہوں گے اور اس پر عمل درآمد امریکی قوانین اور دستیاب بجٹ کے مطابق کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اس یادداشت سے کسی فرد یا ادارے کو امریکہ کے خلاف قانونی حق حاصل نہیں ہوگا۔صدر نے وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ اس یادداشت کو فیڈرل رجسٹر میں شائع کیا جائے تاکہ یہ فیصلہ باضابطہ طور پر سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن سکے۔