Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کو گواہ بنانے کی ایمان مزاری کی درخواست قانونی قدم نہیں سیاسی حکمت عملی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کو گواہ بنانے کی ایمان مزاری کی درخواست قانونی قدم نہیں سیاسی حکمت عملی

    عدالت نے ایمان مزاری کی ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست مسترد کر دی

    ایمان مزاری کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطورِ پراسیکیوشن گواہ طلب کرنے کی کوشش خالصتاً ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد عدالت کے فورم کو انصاف کے تقاضوں کے بجائے ادارہ جاتی تنازع اور میڈیا بیانیے میں بدلنا تھا۔ قانون اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ملزم کو پراسیکیوشن کے گواہوں کے تعین کا کوئی اختیار حاصل نہیں، اس کے باوجود ایک اعلیٰ آئینی عہدے کو بلاجواز گھسیٹنا عدالتی عمل کی سنگینی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

    عدالت کے سامنے ایمان مزاری اور ان کے معاونین اس بنیادی سوال کا کوئی قانونی جواب پیش نہ کر سکے کہ وہ کس شق کے تحت ڈی جی آئی ایس پی آر کو پراسیکیوشن گواہ بنوانا چاہتے ہیں۔ یہ خاموشی خود اس درخواست کے کھوکھلے پن کا ثبوت بن گئی۔ جج نے واضح اور غیر مبہم انداز میں یہ اصول دہرایا کہ عدالتیں افراد یا عہدوں سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ صرف قانونی نکات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ محض کسی ادارے یا عہدے کا نام لے لینا اسے مقدمے کا لازمی فریق نہیں بنا دیتا۔قانون اس حوالے سے بالکل دو ٹوک ہے کہ پراسیکیوشن کے گواہوں کا تعین ریاست کا اختیار ہوتا ہے، نہ کہ ملزم کا۔ ایمان مزاری اس بنیادی نکتے کو ثابت کرنے میں ناکام رہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا اس مقدمے یا ان مبینہ ٹوئٹس اور بیانات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے جن کی بنیاد پر کیس قائم کیا گیا۔ محض کسی اعلیٰ آئینی عہدے کا نام شامل کر دینا کسی بھی درخواست کو قانونی وزن فراہم نہیں کرتا، اور یہی نکتہ اس کیس میں سب سے نمایاں ہو کر سامنے آیا۔

  • جعلی پولیس مقابلہ، ایس ایچ او سمیت 10 اہلکاروں کو عدالت نے سنائی سزا

    جعلی پولیس مقابلہ، ایس ایچ او سمیت 10 اہلکاروں کو عدالت نے سنائی سزا

    عدالت نے جعلی پولیس مقابلے کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے واضح پیغام دے دیا ہے۔ سیشن کورٹ میں زیرِ سماعت جعلی پولیس مقابلہ کیس میں جرم ثابت ہونے پر بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او سمیت 10 پولیس اہلکاروں کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دی گئیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او کو 7 سال قید کے ساتھ 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، جبکہ مقدمے میں نامزد ایک اے ایس آئی پر 7 سال قید کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ اسی کیس میں شامل دیگر 8 پولیس اہلکاروں کو بھی 7،7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ جعلی پولیس مقابلہ سنگین جرم ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق سزا سنائے جانے کے بعد ایس ایچ او سمیت تمام سزا یافتہ پولیس اہلکار عدالت سے فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ مقدمہ سال 2022 میں درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ایک شہری کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا۔ مقتول کی والدہ کی مدعیت میں بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سخت سزا سنائی، جسے انصاف کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوا مئی تنازع میں جنگ بندی کیلئے بھارت نے تیسرے ملک سے مداخلت کروائی۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت کا دہشتگردی پر من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحیت حقائق کو نہیں چھپا سکتا، بھارت خطے میں امن کا مسلسل خلل ڈالنے والا کردار ادا کرتا رہا ہے، بھارت نے بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل کیے اور ہمسایوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی، کلبھوشن جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گئی، بھارت نے مطلوب مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، بھارت میں اقلیتوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیری سیاسی رہنما اور سول سوسائٹی کے ارکان قید ہیں، سینئر کشمیری رہنما شبیر شاہ کئی برسوں سے طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں، خاتون کشمیری رہنما آسیہ اندرابی بھی طویل عرصے سے بھارتی حراست میں ہیں، دیگر کشمیری سیاسی رہنما بھی دہائیوں پر محیط قید و بند کی سزا کاٹ رہے ہیں، یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں سزا سنائی گئی، کشمیری صحافی عرفان مجید بھارتی حکام کی انتقامی کارروائیوں کے باعث جیل میں ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے خلاف بیرونی جارحیت اور دھمکیوں کی پاکستان نے مخالفت کی ہے، ایران پر پابندیوں کی پاکستان نے ماضی میں مخالفت کی اور آئندہ بھی کرتا رہے گا،جوہری معاہدے سے متعلق پابندیوں کو غیر تعمیری قرار دیا گیا، ایران کی اندرونی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، پاکستان کسی بھی پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا،پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط اور کثیر الجہتی نوعیت کا ہے، سعودی عرب سے کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض پر کسی حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں،کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی، پاک سعودی دفاعی تعاون جاری ہے جو دوطرفہ فریم ورک کے تحت آگے بڑھ رہا ہے، سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں، فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں

  • چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش،قائمہ کمیٹی کااظہار تشویش

    چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش،قائمہ کمیٹی کااظہار تشویش

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایوان بالا کی جانب سے بھیجے گئے عوامی اہمیت کے ایک نکتے کے تحت کوئٹہ کے لیے پروازوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے معاملے پر غور کیا گیا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے چترال سے آنے جانے والی پروازوں کی آپریشنل صورتحال پر بریفنگ لی۔ اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر عطا الحق نے شرکت کی۔قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کی نجکاری کا خیرمقدم کیا اور قومی فضائی ادارے میں خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی اور نجی شعبے کے ذریعے آپریشنل مینجمنٹ کے اقدامات کو سراہا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے اس امر پر زور دیا کہ حکومتوں کا کام کاروبار چلانا نہیں ہوتا اور نجکاری کے نتیجے میں وہ بڑے عوامی وسائل بچیں گے جو ماضی میں بیل آؤٹ پیکجز پر خرچ کیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب پی آئی اے کو پیشہ ور ماہرین مؤثر انداز میں چلائیں گے اور ادارہ اپنی سابقہ ساکھ بحال کرے گا۔

    کمیٹی نے چترال کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ معطلی طیاروں کی کمی کے باعث ہوئی ہے کیونکہ اس وقت صرف دو اے ٹی آر طیارے آپریشنل ہیں۔ تاہم کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ نجکاری اور مالی وسائل کی فراہمی کے بعد وزارت کی اولین ترجیح گراؤنڈڈ طیاروں بشمول اے ٹی آر طیاروں کی مرمت ہے تاکہ چترال روٹ پر سروس بحال کی جا سکے۔ سیکرٹری دفاع نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اس روٹ کی بحالی کے لیے کنسورشیم کو سفارشات دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ چترال اور گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ گرین ٹورازم اقدام اور وزارتِ دفاع کے درمیان تعاون فضائی سفر کو بڑھانے اور روٹس کی افادیت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو زیر غور منصوبوں سے بھی آگاہ کیا جن کے تحت چارٹرڈ ہیلی کاپٹر سروسز متعارف کرانے اور چترال کی پروازوں کو چارٹرڈ آپریشنز کے ساتھ منسلک کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے چترال کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھانے اور ہفتہ وار ایک سے دو پروازیں شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض روٹس اسٹریٹجک نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور انہیں محض منافع کے پیمانے پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔

    قائمہ کمیٹی نے کوئٹہ کے لیے پروازوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافے کے مسئلے کا بھی جائزہ لیا۔ اراکین کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور وزارتِ دفاع پر زور دیا کہ کرایوں کی حد مقرر کرنے کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے کیونکہ بلوچستان کے رہائشیوں کو حد سے زیادہ کرایوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ عام طور پر ہوائی کرایوں کا تعین طلب اور رسد کی ضروریات کے تحت ہوتا ہے۔ تاہم کمیٹی کی سفارش پر سیکرٹری دفاع نے یقین دہانی کرائی کہ کرایوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے کیپنگ میکانزم وضع کیا جائے گا۔ کمیٹی نے موجودہ ایئرپورٹ پروٹوکول سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی بھی کی اور اس میں بہتری پر زور دیا۔ متعلقہ حکام نے علیحدہ کاؤنٹرز کے قیام اور پروٹوکول میکانزم کی مزید بہتری کی یقین دہانی کرائی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے ہدایت کی کہ کوئٹہ کے لیے زائد کرایوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایئرلائن معاہدوں میں مناسب سہولت کار شقیں شامل کی جائیں تاکہ بلوچستان کے عوام کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    مزید برآں قائمہ کمیٹی نے ایئرپورٹ پاسز کی مدتِ معیاد اور ایئرپورٹس پر بیت الخلاء کی خراب حالت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ ایئرپورٹ سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی کابینہ نے حال ہی میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے تین بڑے ایئرپورٹس پر ایئرپورٹ سروسز آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ مسافروں کو درپیش مشکلات میں کمی کے لیے ایئرپورٹ پاسز کی مدت ایک سال سے بڑھا کر دو سال کی جائے۔چیئرمین و اراکین نے کہا کہ قائمہ کمیٹی عوامی سہولیات اور تعمیری اقدامات کے لیے پُرعزم ہے۔

    قائمہ کمیٹی کو پاکستان۔افغانستان سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان و سعودی عرب کے مابین حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے پر اِن کیمرہ بریفنگ بھی دی گئی۔قائمہ کمیٹی نے کامیابیوں کو سراہا اور دفاعی معاہدے کی تعریف کی۔ اراکین کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ وفاقی وزیر برائے دفاع باقاعدگی سے قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کریں۔

  • کیا اس کا مطلب ہے کہ وزیر جو مرضی کرتا رہے اور اسے کوئی نہ پوچھے؟ چیف الیکشن کمشنر

    کیا اس کا مطلب ہے کہ وزیر جو مرضی کرتا رہے اور اسے کوئی نہ پوچھے؟ چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور این اے 96 فیصل آباد سے رکن قومی اسمبلی بلال بدر کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے کی۔

    سماعت کے دوران طلال چوہدری کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ طلال چوہدری غیر مشروط معافی مانگ چکے ہیں اور 20 نومبر کو ڈی ایم او نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کرنے کی وارننگ جاری کی تھی، اسی روز 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا۔ وکیل کے مطابق ڈی ایم او نے قانون کے مطابق کارروائی نہیں کی اور طلال چوہدری نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیر جو مرضی کرتا رہے اور اسے کوئی نہ پوچھے؟

    الیکشن کمیشن حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا مکمل اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے اور طلال چوہدری کے خلاف ویڈیو شواہد موجود ہیں، جبکہ ڈی ایم او نے وزیر مملکت کے اثر و رسوخ کے باعث صرف وارننگ جاری کی۔ تاہم ممبر سندھ نے کہا کہ یہ ثابت کرنا ممکن نہیں کہ اثر و رسوخ استعمال ہوا۔ سماعت کے اختتام پر الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن میں این اے 4 سوات سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن سہیل سلطان کی نااہلی کے ریفرنس پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نےسماعت کی،سہیل سلطان نےالیکشن کمیشن سے دو ہفتے کا وقت دینے کی استدعا کی اور کہا کہ مجھے وکیل کرنے کیلئے وقت چاہئیے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پہلے ہی ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باعث بہت تاخیر ہو چکی ہے، الیکشن کمیشن نے ریفرنس پر مقررہ وقت میں فیصلہ کرنا ہے،الیکشن کمیشن نے سہیل سلطان کو وکیل کرنے کیلئے ایک روز کا وقت دے دیا سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی.

    علاوہ ازیں عابد شیر علی نے الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگ لی،الیکشن کمیشن میں عابد شیر علی کے خلاف فیصل آباد ضمنی انتخاب میں ووٹ کی رازداری کی خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے سماعت کی،عابد شیر علی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، وکیل نے کہا کہ ووٹ کی رازداری کی خلاف ورزی پر عابد شیر علی غیر مشروط معافی مانگ رہے ہیں،عابد شیر علی نے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی نہ کروائی،عابد شیر علی نے ووٹ کی رازداری کے خلاف ورزی پر غیر مشروط معافی نامہ جمع کروا دیا ،الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ دیکھیں گے کہ معافی نامہ قبول کرنا ہے یا نہیں،

  • حنا پرویز بٹ کی چھلانگ لگانے والی طالبہ کے اہلخانہ سے ہسپتال میں ملاقات

    حنا پرویز بٹ کی چھلانگ لگانے والی طالبہ کے اہلخانہ سے ہسپتال میں ملاقات

    لاہور کی نجی یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم طالبہ کے مبینہ اقدامِ خودکشی کے واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی، جس کے بعد ان کی ہدایت پر رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے لاہور جنرل ہسپتال کا دورہ کیا گیا۔

    دورے کے دوران حنا پرویز بٹ نے زیرِ علاج طالبہ اور اس کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی ، ان سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور طالبہ کی صحت و علاج سے متعلق تفصیلی آگاہی حاصل کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹروں اور ہسپتال انتظامیہ نے طالبہ کی موجودہ طبی حالت پر جامع بریفنگ دی۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زیرِ علاج طالبہ کو ہوش آ چکا ہے، اسے وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے اور اس کی حالت میں واضح اور حوصلہ افزا بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طالبہ کی صحت میں روز بروز بہتری آ رہی ہے اور اسے آکسیجن سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم اس کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

  • ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے سال 2025 میں عوامی خدمت کیلیے مثالی اقدامات

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے سال 2025 میں عوامی خدمت کیلیے مثالی اقدامات

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے سال 2025 کے دوران عوامی خدمت، سماجی ہم آہنگی اور اعتماد سازی کے لیے مثالی اقدامات کیے ہیں۔

    صوبے کے مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے ہزاروں فلاحی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا جن کا مقصد عوام کو درپیش مسائل کا فوری اور مؤثر حل فراہم کرنا تھا۔ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے سال 2025 میں مجموعی طور پر 10,279 فلاحی اقدامات، جرگوں اور کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان اقدامات کے ذریعے عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنے اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا گیا۔ 108 کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں جہاں عوام نے بلا خوف و جھجھک اپنے مسائل پیش کیے، جبکہ 341 جرگوں کے ذریعے قبائلی و علاقائی تنازعات کو باہمی مشاورت سے حل کیا گیا۔ صحت کے شعبے میں ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے 659 فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا، جن سے دور دراز علاقوں کے ہزاروں افراد مستفید ہوئے۔شہریوں اور مسافروں کی سہولت کے لیے 3,729 فلاحی اقدامات کیے گئے جن میں راہنمائی، امداد اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے 592 کھیلوں کے مقابلے اور 853 صحت مندانہ سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جس سے نوجوان نسل میں نظم و ضبط اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ ملا۔

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے 212 شہداء کے اہلِ خانہ سے ان کے گھروں میں ملاقاتیں کیں، ان کی خیریت دریافت کی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے یہ اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ فورس نہ صرف امن و امان کے قیام بلکہ عوامی فلاح و بہبود میں بھی پیش پیش ہے۔

  • سعودی عرب کی سلامتی و استحکام اور دفاع ہر مسلمان کو عزیز ہے۔طاہر اشرفی

    سعودی عرب کی سلامتی و استحکام اور دفاع ہر مسلمان کو عزیز ہے۔طاہر اشرفی

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل و کوآرڈینیٹر وزیراعظم پاکستان حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دو بھائیوں کے تعلقات ہیں۔

    لاہور میں حافظ طاہر محمود اشرفی کی سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی سے ملاقات ہوئی۔ جس میں پاک سعودیہ تعلقات، امت کی وحدت، اتحاد، سعودی عرب میں موجود پاکستانی برادری کے احوال اور دیگر امور پر گفتگو ہوئی.اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہمارا تعلق ایمان اور عقیدے کا ہے، سعودی عرب مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد کا مرکز ہے،سعودی عرب کی سلامتی و استحکام اور دفاع ہر مسلمان کو عزیز ہے۔

    سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے درمیان عالم اسلام کے مسائل پر مضبوط روابط ہیں، سعودی عرب کی ترقی اور تعمیر میں پاکستانیوں کا اہم کردار ہے، سعودی ولی عہد کا خود کو پاکستان کا سفیر قرار دینا پاک سعودیہ محبت اور تعلقات کی اعلیٰ مثال ہے

  • یونیورسٹی میں چھلانگ لگانے والی طالبہ کی حالت بہتر

    یونیورسٹی میں چھلانگ لگانے والی طالبہ کی حالت بہتر

    لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں رائے ونڈ روڈ پر واقع ایک نجی یونیورسٹی میں مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگانے والی 21 سالہ طالبہ فاطمہ کی حالت میں نمایاں بہتری آ گئی ہے۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق طالبہ ہوش میں آ چکی ہے اور اسے وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ آئی سی یو میں اس کا علاج جاری ہے۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبہ فاطمہ اس وقت آکسیجن سپورٹ پر ہے، تاہم اس کے ہیمو ڈائنامکس مستحکم ہیں اور مجموعی طبی حالت میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق طالبہ نے ہوش میں آنے کے بعد اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت بھی کی ہے، جسے ڈاکٹروں نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی سے متعلق ممکنہ سرجری کے بارے میں دوبارہ تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ کے علاج سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل طالبہ کی نگرانی کر رہی ہے اور ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل کو طالبہ کی صحت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں اب تک کیے گئے علاج، موجودہ طبی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق مکمل آگاہی دی گئی۔

    یاد رہے کہ نجی یونیورسٹی کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے مبینہ طور پر یونیورسٹی کی عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگائی تھی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی تھی۔ واقعے کے فوراً بعد طالبہ کو تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق طالبہ ڈی فارم کی طالبہ ہے اور نارنگ منڈی، ضلع شیخوپورہ کی رہائشی ہے۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پولیس نے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی، صوبائی وزرا اور اراکینِ پارلیمنٹ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    کوئٹہ ایئرپورٹ پر اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے وزیراعظم کو صوبے میں امن و امان اور مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے دورۂ کوئٹہ کا مقصد بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینا، صوبائی قیادت سے مشاورت اور عوامی فلاح کے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی گورنر بلوچستان سے بھی ملاقات ہوگی، جس میں گورنر وزیراعظم کو صوبے میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، گورننس، امن و امان اور معاشی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی آگاہ کریں گے۔وزیراعظم کی وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی اور صوبائی کابینہ کے ارکان سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں، جن میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال، عوامی مسائل، روزگار کے مواقع، صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ملاقاتوں میں وفاق اور صوبے کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے پر بھی غور ہوگا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس موقع پر بلوچستان کے لیے وفاقی سطح پر تعاون اور وسائل کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کریں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔