Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، مچلکے منسوخ کرتے ہوئے ضمانتی کیخلاف بھی کارروائی کا حکم دیدیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر معلوم ہوتا ہے ملزم علی امین گنڈاپور روپوش ہوچکا، ملزم کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ضمانتی مچلکے منسوح کردیے اور دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے جاتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے ضمانتی کیخلاف بھی کارروائی شروع کی جائے۔سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کیخلاف تھانہ بھارہ کہو میں شراب اور ناجائز اسلحہ کی برآمدگی کا مقدمہ درج ہے۔

  • کئی بار مذہبی منافرت پھیلانے والوں کیخلاف سخت اقدامات کرنا پڑے،وزیراعلیٰ پنجاب

    کئی بار مذہبی منافرت پھیلانے والوں کیخلاف سخت اقدامات کرنا پڑے،وزیراعلیٰ پنجاب

    علمائے کرام میں اعزازیہ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو سب علمائے کرام کی طرف دیکھتے ہیں، علمائے کرام کا دل سے احترام کرتی ہوں، افسوس ہے معاشرے میں علماء کی جو جگہ ہونی چاہئے وہ دینے سے قاصر ہیں، علمائے کرام معاشرے میں ایک ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے کہا امام مسجد بڑے لوگ ہیں، انہیں 25 ہزار روپے ماہانہ سے آغاز کریں، فروری کے آخر سے بینک آف پنجاب کارڈ سے ماہانہ 25 ہزار روپے منتقل کریں گے، تقریباً 70 ہزار امام مسجد کے بینک اکاؤنٹ کھل گئے ہیں، اعزازیہ کارڈ کے ذریعے 25 ہزار روپے ماہانہ امام مساجد کو منتقل کریں گے، علمائے کرام، عوام، حکمرانوں کے درمیان تعلق مضبوط ہونا چاہیے، کچھ لوگوں نے اعزازیہ کو منفی رنگ دینے کی کوشش کی، علمائے کرام کی مشاورت سے حکومتی معاملات میں بہتری آسکتی ہے، علمائے کرام اور حکومت کے رابطے میں کوئی خلل نہیں آنا چاہیے، کوئی خلل آئے تو پھر معاشرے میں خرابی آنا شروع ہوتی ہے، مذہبی منافرت کو روکنا علمائے کرام کی ذمہ داری ہے، کئی بار مذہبی منافرت پھیلانے والوں کیخلاف سخت اقدامات کرنا پڑے، کچھ لوگوں نے احتجاج کے نام پر ریاست کو یرغمال بنایا، فتنہ پھیلانے والوں نے لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا۔

  • امریکا سے چین ،روس خوفزدہ ہیں، ٹرمپ

    امریکا سے چین ،روس خوفزدہ ہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا نیٹو کا حصہ نہ ہوتا تو روس اور چین کو اس اتحاد کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے بغیر نیٹو بے اثر ہے، وہ واحد قوم جس سے روس اور چین دونوں خوفزدہ ہیں اور جس کا احترام کرتے ہیں وہ ان کا دوبارہ تعمیر کیا ہوا امریکا ہے،ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایک بار پھر 8 جنگیں ختم کروانے کا ذکر کیا اور کہا کہ ناروے جو نیٹو کا رکن ہے اس نے نوبیل امن انعام کے لیے میرا انتخاب نہیں کیا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اہم بات یہ ہے کہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں، ان کی آمد سے قبل نیٹو کے اکثر رکن ممالک اپنی فوجی اخراجات کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تھے، انہوں نے نیٹو ممالک کو 5 فیصد جی ڈی پی تک دفاعی اخراجات بڑھانے پر مجبور کیا اور اب وہ فوری طور پر ادائیگیاں کر رہے ہیں،ہ انہیں اس بات پر شک ہے کہ ضرورت پڑنے پر نیٹو ان کے لیے موجود ہوگا یا نہیں لیکن وہ ہمیشہ نیٹو کے لیے موجود رہیں گے، چاہے نیٹو ان کے لیے موجود نہ ہوں، اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو اس وقت روس پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔

  • نوکنڈی سے سبی تک 600 کلومیٹر طویل  ریلوے ٹریک منصوبہ

    نوکنڈی سے سبی تک 600 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک منصوبہ

    بلوچستان میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم اور طویل المدتی منصوبہ رواں سال اپریل میں شروع کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    اس منصوبے کے تحت ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی سے سبی تک تقریباً 600 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی مکمل اپ گریڈیشن کی جائے گی، جسے صوبے کی تاریخ کا ایک بڑا ریلوے منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے،ذرائع کے مطابق ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کا یہ منصوبہ 400 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، جبکہ اس کی مدتِ تکمیل تین سال رکھی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت پرانے اور خستہ حال ریلوے ٹریک کو جدید معیار کے مطابق تبدیل کیا جائے گا، جس سے نہ صرف ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ سفری حفاظت اور سہولیات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اپ گریڈیشن کے بعد اس ریلوے لائن پر مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی آمد و رفت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا، جس سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے بہتر انداز میں جوڑا جا سکے گا۔ خاص طور پر معدنی وسائل سے مالا مال ضلع چاغی اور اس کے گردونواح میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ریلوے حکام کے مطابق منصوبے میں جدید سگنلنگ سسٹم، مضبوط پٹڑی، بہتر پل اور کراسنگز کی تعمیر شامل ہوگی، تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے علاقے کی سماجی و معاشی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

  • خودمختاری،علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    خودمختاری،علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا ہےکہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا، اس موقع پر انہیں آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فارمیشن کے زیر اہتمام تربیتی مشقوں کا جائزہ لیا، فیلڈ مارشل نے مستقبل کی جنگوں کے حوالے سے تیاریوں اور جدت اپنانے پر زور دیا اور جوانوں کو فراہم کردہ کھیلوں اور تفریحی سہولتوں کو سراہا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سی ایم ایچ لاہور میں ہائی کیئر سینٹر کا بھی دورہ کیا، فیلڈ مارشل نے طبی عملے اور انتظامیہ کی خدمات کی تعریف کی۔

    لاہور گیریژن میں افسران سے خطاب میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، پاک فوج ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ پاک فوج کا اولین مشن ہے، پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے ثابت قدم ہیں۔ افواج اعلیٰ معیار، نظم و ضبط اور بے لوث قومی خدمت کو فروغ دے رہی ہیں،پاک فوج جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جوانوں کی جسمانی فٹنس اور مورال ہماری ترجیح ہے۔

  • شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہی وعدے بھول گئے، مرتضیٰ وہاب

    شہباز شریف وزیراعظم بنتے ہی وعدے بھول گئے، مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے وزیراعظم شہباز شریف سے گلے شکوے، وعدے وفا کرنے کی اپیل کردی۔

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف اپوزیشن لیڈر تھے تو وفاق کو کراچی میں حصہ ڈالنے کا مشورہ دیتے تھے مگر وزیراعظم بنتے ہی سارے وعدے بھول گئے، اگر شہباز شریف کی یہی سوچ ہوگی تو ان میں اور بانی پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔حب ریور روڈ منصوبے میں 8 ہزار فٹ جدید ڈرینیج سسٹم شامل کیا گیا ہے۔نکاسی آب کی بہتری کے لیے 21 ہزار فٹ سے زائد RCC پائپ لائن بچھائی جائے ،منصوبہ مکمل ہونے سے علاقے میں سیلابی صورتحال کا خاتمہ ہوگا،حب ریور روڈ پر100 اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی،وزیراعظم کو لاہور سے آگے بھی دیکھنا ہوگا کراچی بھی پاکستان کا اہم شہر ہے حب ڈیم کا کنال کام ہم نے مکمل کیا، ہم پانی کی الاٹمنٹ بڑھانے پر بھی بات کررہے ہیں

  • فتنہ الخوارج کا تحصیل باڑہ میں مسجد پر حملہ،اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت

    فتنہ الخوارج کا تحصیل باڑہ میں مسجد پر حملہ،اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت

    فتنہ الخوارج نے خیبرپختونخواہ کے قبائلی ضلع خیبرکی تحصیل باڑہ کےعلاقے اکاخیل میں مسجد کو نشانہ بنا دیا

    ضلع خیبر تحصیل باڑہ کے علاقے اکاخیل عالم کلے (قبروں کلے) میں خوارج کا مسجد اور عام شہریوں کے گھروں میں رکھا سامان پھٹنے سے مسجد اور گھروں کو آگ لگ گئی۔ خوارج کی وجہ سے پیش آنیوالا واقعہ انسان دشمنی اور اسلام کے مقدس مقامات کی توہین کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ چند مقامی لوگوں کے مطابق خوارج کی جانب سے یہ دھماکہ خود کیا گیا ہے تاکہ مقامی عوام میں خوف و ہراس پیدا کرکے سہولت کاری پر مجبور کیا جا سکے۔جنگی چال کے طور پر مساجد اور عام لوگوں کے گھروں کو نشانہ بنانا خوارج کے مکروہ چہرے کی عکاسی کرتا ہے ۔ عوام الناس سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں اور واقعہ میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچانے میں مثبت کردار ادا کریں ۔

  • دریاؤں میں غیر مقامی مچھلیوں نے ماحولیات کو شدید خطرے میں ڈال دیا

    دریاؤں میں غیر مقامی مچھلیوں نے ماحولیات کو شدید خطرے میں ڈال دیا

    سندھ اور پنجاب کے دریاؤں میں غیر مقامی اور حملہ آور نوع کی مچھلیوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے مقامی ماہی گیری اور ایکو سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مچھلیاں نہ صرف مقامی انواع کو کھا رہی ہیں بلکہ ان کی خوراک اور رہائش کے علاقوں پر قبضہ کر کے مقامی ایکو سسٹم کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

    آبی ماہرین اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستانی پانیوں میں 26 مختلف غیر ملکی مچھلیوں کی اقسام دیکھی جا چکی ہیں، جو عام طور پر گھروں کے ایکوریم کے لیے امپورٹ کی جاتی ہیں۔ ان حملہ آور مچھلیوں میں ایمازون سیل فن کیٹ فش، پاکو اور سرخ پیٹ والی تلپیا مچھلیاں سرفہرست ہیں، جو بنیادی طور پر لاطینی امریکا سے آئی ہیں۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان مچھلیوں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف مقامی مچھلیوں کی نسلوں کو ختم کر دیں گی بلکہ دریاؤں کے قدرتی ماحول کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی۔ ماہرین کی تحقیق کے مطابق یہ مچھلیاں تیزی سے بڑھتی ہیں اور ان کے شکار کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے مقامی انواع کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔

    حالیہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مچھلیاں کس طرح پاکستانی دریاؤں تک پہنچی ہیں، اس پر کام جاری ہے۔ ابتدائی خدشات کے مطابق زیادہ تر مچھلیاں غیر قانونی طور پر ایکوریم سے پانی میں چھوڑ دی گئی ہیں یا تجارتی امپورٹ کے دوران غیر ارادی طور پر ریلز اور پانی کی ترسیل کے ذریعے ریلے میں شامل ہو گئی ہیں۔

    ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان حملہ آور مچھلیوں کو کنٹرول کیا جا سکے، کیونکہ ان کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ مقامی ایکو سسٹم پر ان کے اثرات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نمائندے نے بتایا، "اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کے دریاؤں میں مقامی مچھلیوں کی نسلیں معدوم ہو سکتی ہیں اور پورا ایکو سسٹم تباہ ہو سکتا ہے۔”

  • پی ایس ایکس میں‌تیزی کا رجحان برقرار

    پی ایس ایکس میں‌تیزی کا رجحان برقرار

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا رجحان برقرار ہے اور کاروبار کے دوران 100 انڈیکس نے ایک اور تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کاروباری ہفتے کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں پی ایس ایکس 100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 87 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔ سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد اور خریداری کے دباؤ کے باعث مارکیٹ میں مثبت ماحول غالب رہا،کاروبار کے دوران کچھ دیر پہلے 100 انڈیکس میں 1 ہزار 700 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 86 ہزار 765 پوائنٹس کی سطح پر دیکھا گیا۔ مارکیٹ میں تیزی کے باعث مختلف شعبوں بالخصوص بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور آٹو سیکٹر کے حصص میں نمایاں اضافہ ہوا،ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی کی اہم وجوہات میں معاشی اشاریوں میں بہتری، شرح سود سے متعلق مثبت توقعات، زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی شامل ہیں۔ ان عوامل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی دیکھنے میں آئی تھی اور 100 انڈیکس 2 ہزار 653 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 85 ہزار 62 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ مسلسل دوسرے روز بھی ریکارڈ سطحیں قائم ہونے سے مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل ظاہر ہو رہا ہے،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ معاشی اور مالیاتی حالات میں مثبت پیش رفت جاری رہی تو آنے والے دنوں میں بھی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے

  • کاروبارکیلئے  قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

    کاروبارکیلئے قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنایا جائے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے .زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کیلئے سروس پرووائڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے معاون خصوصی ہارون اختر SMEDA کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں.ترقی یافتہ ممالک میں SMEs معیشت اور صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں. نوجوانوں کو آنٹرپرنیورشپ کی تربیت دی جائے تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو،نجی شعبے بالخصوص SMEs اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.

    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، اور متعلقہ اعلی حکام کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی. اجلاس کو نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے فراہم کئے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ 22-2021 کی نسبت دسمبر 2025 تک نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ تین ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.1 ٹریلین پر پہنچ گیا. مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ رہی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کیلئے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں. زرعی شعبے کو فراہم کئے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں. SMEDA چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کیلئے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کیلئے سروس پروائڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجراء کیا جا چکا ہے. علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کیلئے اسٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی "زرخیز-ای ایپ” کا اجراء بھی کیا چکا جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقائدگی سے بذات خود اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے نجی شعبے بلخصوص SME سیکٹر اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی.