Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی،ہوٹل پرگولیاں چل گئیں، ایم کیو ایم کا رکن جاں بحق

    کراچی،ہوٹل پرگولیاں چل گئیں، ایم کیو ایم کا رکن جاں بحق

    نیوکراچی میں چائےکےہوٹل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص دورا ن علاج دم توڑ گیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 40 سالہ حاجی شہزاد کے نام سے ہوئی، جو ایم کیو ایم پاکستان کا کارکن تھا، ابتدائی تحقیقات میں فائرنگ کا واقعہ ٹارگٹڈ معلوم ہوتا ہے،واقعے کے بعد پولیس اور کرائم انٹیلی جنس یونٹ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جبکہ موقع سے نائن ایم ایم پستول کے 4 خول بھی برآمد کیے گئے ہیں،دوسری جانب ایم کیو ایم کے ترجمان کا کہنا ہےکہ جاں بحق شہزاد نیوکراچی یوسی8 کےجوائنٹ انچارج تھے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ، وزیرداخلہ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ سے ملزمان کی گرفتاری کےلئےفوری اقدامات کا مطالبہ کردیا،مقتول کے دوست نے بتایا کہ 3 موٹر سائیکلوں پر نقاب پوش آئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ شہزاد4 بچوں کے باپ تھے،کسی سے دشمنی نہیں تھی۔

  • عرب دنیا کے 3 بااثر اور دولت مند خاندان سامنے آ گئے

    عرب دنیا کے 3 بااثر اور دولت مند خاندان سامنے آ گئے

    غیر ملکی جریدے بلومبرگ نے ’ورلڈز رچسٹ فیملیز 2025‘ کے عنوان سے دنیا کے 25 امیر ترین خاندانوں کی فہرست جاری کردی۔

    اس فہرست کے مطابق دنیا کے 25 امیر ترین خاندانوں کی دولت میں گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 358.7 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور اب ان خاندانوں کی مجموعی دولت اب 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے،رپورٹ میں عرب دنیا کے 3 بااثر اور دولت مند خاندانوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات کا ال نہیان خاندان، سعودی عرب کا آل سعود خاندان اور قطر کا آل ثانی خاندان شامل ہے،بلومبرگ کے مطابق ابوظبی کے حکمران آل نہیان خاندان کو دنیا کا دوسرا امیر ترین خاندان قرار دیا گیا ہے جن کی مجموعی دولت کا تخمینہ 335.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے،سعودی عرب کے شاہی آل سعود خاندان کو اس فہرست میں تیسرا نمبر دیا گیا ہے جن کی مجموعی دولت 213.6 ارب ڈالر بتائی گئی ہے،اسی طرح قطر پر حکمرانی کرنے والا آل ثانی خاندان بلومبرگ کی 2025 کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جس کی مجموعی دولت کا اندازہ 199.5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

    فہرست میں معروف ریٹیل اسٹور چین والمارٹ کے مالک امریکا کے والٹن خاندان کو دنیا کا امیر ترین خاندان قرار دیا گیا ہے اور ان کی دولت کا تخمینہ 513.4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

  • امریکا میں  یہودی لابی اب پہلے جیسی طاقتور نہیں رہی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکا میں یہودی لابی اب پہلے جیسی طاقتور نہیں رہی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں واضح کمی آ رہی ہے اور وہ یہودی لابی جو ماضی میں امریکا کی سب سے طاقتور لابی سمجھی جاتی تھی، اب پہلے جیسی اثر و رسوخ کی حامل نہیں رہی۔

    یہودیوں کے ایک مذہبی تہوار کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں یہودی برادری کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ کانگریس میں یہود مخالف رجحانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ حلقوں میں اسرائیل اور یہودی مفادات کے خلاف آوازیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنائی دے رہی ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت حماس نے اسرائیلی قیدیوں اور ہلاک شدگان کی لاشیں حوالے کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام میں پیش رفت ہوئی ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل پر کام جاری ہے، جس میں اب تک 59 ممالک نے شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کے بقول، یہ فورس خطے میں دیرپا امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    اس موقع پر صدر ٹرمپ نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے حالیہ پرتشدد واقعے پر بھی اظہارِ افسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ سڈنی میں ہونے والا حملہ نہایت خطرناک اور افسوسناک تھا، جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ صدر ٹرمپ نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کا اظہار کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی قوم متحد ہے اور امریکا دنیا بھر میں امن و سلامتی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

  • سڈنی حملہ،ساجد اکرم نے 98 کے بعد چھ باربھارت کا دورہ کیا

    سڈنی حملہ،ساجد اکرم نے 98 کے بعد چھ باربھارت کا دورہ کیا

    بھارتی پولیس نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے معروف ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر ہونے والے حملے کے ملزم ساجد اکرم سے متعلق اہم بیان جاری کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست تلنگانہ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور ساجد اکرم بھارتی شہری تھا۔بھارتی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ساجد اکرم کا تعلق بھارتی شہر حیدر آباد سے تھا اور وہ طویل عرصے سے اپنے خاندان سے کم ہی رابطے میں رہا۔ پولیس کے مطابق ساجد اکرم کے اہلِ خانہ کو اس کے انتہا پسندانہ نظریات یا ممکنہ شدت پسند سرگرمیوں کے بارے میں کسی قسم کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔تلنگانہ پولیس نے مزید بتایا کہ ساجد اکرم نے 1998ء کے بعد اب تک مجموعی طور پر چھ مرتبہ بھارت کا دورہ کیا تھا۔ تاہم ان دوروں کے دوران اس کی کسی مشکوک سرگرمی کا ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔

    بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی حساسیت کے پیش نظر آسٹریلوی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ قائم رکھا جا رہا ہے اور معلومات کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ واقعے سے جڑے تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین کی جائے گی تاکہ حملے کے محرکات اور پس منظر کو واضح کیا جا سکے۔دوسری جانب آسٹریلوی حکام بھی اس واقعے کو سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ قرار دے رہے ہیں اور تحقیقات بین الاقوامی سطح پر جاری ہیں۔

  • بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،حیدرآباد میں مقدمہ درج

    بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،حیدرآباد میں مقدمہ درج

    پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کا معاملہ سامنے آیا

    حیدرآباد میں نازیبا زبان استعمال کرنے والے نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ ہٹڑی تھانے میں سپاف کے رہنما اظہر تالپور کی درخواست پر درج کیا گیا،بتایا گیا کہ لیاقت یونیورسٹی اسپتال کے انٹری ٹیسٹ کے دوران نامعلوم شخص گارڈ کے ہمراہ آیا، فریادی پر تشدد کیا اور بلاول بھٹو کے خلاف غیر اخلاقی زبان استعمال کی،ایف آئی آر درج کر لی گئی

    درخواست گزار اظہرالدین ولد صدرالدین تالپر، جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاف اسٹوڈنٹ یونٹ کے عہدیدار ہیں، نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ 14 دسمبر 2025 کو لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پیرا میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے موقع پر سٹی لان کے باہر پارٹی کی جانب سے نئے آنے والے طلبہ کی خوش آمدید کے لیے جھنڈے اور پینافلیکس نصب کیے گئے تھے۔فریادی کے مطابق انٹری ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد جب وہ اپنے ساتھیوں عبدالغفار کاتیار اور سجاد چنہ کے ہمراہ باہر آئے تو دیکھا کہ رش کے باعث پارٹی کے جھنڈے زمین پر گر گئے تھے۔ جب وہ جھنڈے اٹھا رہے تھے تو اسی دوران ایک کالے رنگ کی ویگو گاڑی (رجسٹریشن نمبر KR-4533) موقع پر آ کر رکی، جس میں ایک نامعلوم شخص اور اس کے دو گارڈز سوار تھے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ نامعلوم شخص نے فریادی اور اس کے ساتھیوں کو گالیاں دیں، دھمکیاں دیں، پارٹی کے جھنڈے اور پینافلیکس زبردستی اٹھا کر گاڑی میں رکھ لیے اور پارٹی چیئرمین کے خلاف بھی غیر اخلاقی زبان استعمال کی، جس کے بعد گاڑی ہالہ ناکہ کی طرف روانہ ہو گئی۔واقعے کے بعد متاثرہ افراد نے پرامن احتجاج کیا اور بعد ازاں تھانہ ہنری میں رپورٹ درج کروائی۔ پولیس نے مقدمہ نمبر 403/2025 زیر دفعات 506/2، 504، 337-AI تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • پاکستان بدرنہ کریں،45 برس قبل تبلیغ کیلئے کراچی آئے 28 ترک شہری عدالت پہنچ گئے

    پاکستان بدرنہ کریں،45 برس قبل تبلیغ کیلئے کراچی آئے 28 ترک شہری عدالت پہنچ گئے

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ کراچی میں 28 ترک شہریوں کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف آئینی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں حکومت کی جانب سے انہیں افغان شہری قرار دے کر بے دخل کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

    درخواست گزار سید نعمت اللہ اور دیگر افراد نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ترک شہری ہیں اور کئی برس قبل تبلیغِ دین کے مقصد سے ترکی سے پاکستان آئے تھے۔ درخواست کے مطابق وہ طویل عرصے سے پاکستان میں پُرامن طور پر مقیم ہیں، ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، وہ اچھے کردار کے حامل ہیں اور مقامی کمیونٹی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود حکومتِ پاکستان انہیں افغان شہری قرار دے کر ملک بدر کرنے کی کارروائی کر رہی ہے، جو کہ غیر قانونی اور آئین کے منافی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے تاکہ انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے اور بے دخلی کا حکم روکا جائے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کے اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست گزاروں کو پاکستان میں قیام کا حق دیا جائے، کیونکہ وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔

    عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد کہا کہ ترکش قونصلیٹ یا ایمبیسی سے رجوع کریں ہم کچھ نہیں کرسکتے.

  • سڈنی حملہ،ساجد اکرم 1998 میں بھارت سے آسٹریلیا گیا،بھارتی میڈیا

    سڈنی حملہ،ساجد اکرم 1998 میں بھارت سے آسٹریلیا گیا،بھارتی میڈیا

    بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے معروف ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر فائرنگ کرنے والا مبینہ حملہ آور ساجد اکرم 1998 میں بھارتی شہر حیدرآباد سے آسٹریلیا منتقل ہوا تھا۔

    بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف پراپیگنڈا بے نقاب، بھارتی خبر رساں ادارے پرنٹ نے حقائق منظر عام پر لے آئے،بھارتی میڈیا کی جانب سے آسٹریلیا کے بانڈی بیچ واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں،بھارتی ادارہ پرنٹ کے مطابق بانڈی بیچ حملہ آور ساجد اکرم انیس سو اٹھانوے میں بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا،پرنٹ کی رپورٹ میں تصدیق، ساجد اکرم کا تعلق حیدرآباد تلنگانہ سے، پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں،بانڈی بیچ واقعے میں مارا جانے والا ساجد اکرم بھارتی نژاد، بیٹا نوید اکرم پیدائشی آسٹریلوی شہری نکلا،بھارتی اور اسرائیلی میڈیا نے نام آتے ہی پاکستان پر الزام تراشی شروع کی، حقائق کے برعکس مہم چلائی گئی،پرنٹ کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بھارت سے تفصیلات مانگیں، پاکستان سے کسی تعلق کا ذکر نہیں،

    بھارتی میڈیا کی جانب سے جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش بے نقاب ہو گئی،بانڈی بیچ واقعہ ایک بار پھر بھارتی میڈیا کے فالس فلیگ بیانیے کو بے نقاب کر گیا،پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے والی بھارتی مہم خود بھارتی میڈیا کی رپورٹ سے زمین بوس ہو گئی،حقائق واضح، الزام تراشی بے بنیاد، پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم کوشش ناکام ہو گئی،

    ادھر آسٹریلوی میڈیا کے مطابق بونڈی بیچ حملے میں زخمی ہونے والا حملہ آور کومے سے باہر آ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زخمی حملہ آور اس وقت اسپتال میں ہوش میں ہے اور اس نے پولیس سے ابتدائی گفتگو بھی کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم تفتیش جاری ہے۔واضح رہے کہ اتوار کے روز سڈنی کے بونڈی بیچ پر دو مسلح افراد نے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ آسٹریلیا کی حالیہ تاریخ کے بدترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

  • مریم نواز کا کمال،بے گھر صنعتی ورکرز کو بنے بنائے 720 فلیٹس مفت مل گئے

    مریم نواز کا کمال،بے گھر صنعتی ورکرز کو بنے بنائے 720 فلیٹس مفت مل گئے

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کے بے گھر صنعتی ورکرز کے نئے تعمیر کردہ 720 فلیٹس کی قرعہ اندازی کر دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بٹن دبا کر قرعہ اندای کے پراسیس کا آغاز کیا اور قرعہ اندازی میں کامیاب صنعتی ورکرز کو خود فون کرکے مبارکباددی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ماں جیسی ریاست نے 720 محنت کش خاندانوں کو انکے اپنے گھروں میں بسانے کا بندوبست کر دیا۔ پنجاب کے محنت کش خاندانوں کو ماہانہ کرائے اوربے دخلی کی اذیت سے نکال دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے حکم پر 720 صنعتی ورکرز بنے بنائے گھروں کے مالک ہوں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بیوگان اور سپیشل افراد کو قرعہ اندازی سے الگ کر کے اپلائی کرنے والوں کو فلیٹ دینے کا حکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سپیشل صنعتی ورکرز کی آسانی اور تحفظ کے لئے انہیں گراؤنڈ فلور پر فلیٹس دینے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے قرعہ اندازی میں کامیاب لوگوں کو سات دن کے اندر اندر فلیٹ دینے کا حکم بھی دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صنعتی ورکرز کے لیے مزید 1872 فلیٹس آئندہ 18 ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوا زشریف نے شیخوپورہ میں قائدا عظم بزنس پارک میں 700ورکرز کے لئے بیچلر ہاسٹل کی تین ماہ میں تکمیل کی ہدایت کی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ندیم طاہر نامی صنعتی ورکرکو خود فون کیا اور انہیں مبارکباد دی اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنی امی ابو کو ساتھ رکھنا، ان کی دعاؤں سے آپ کو فلیٹ ملا۔ صوبائی وزیر محنت منشاء اللہ بٹ نے صنعتی ورکرز کے فلیٹس پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر محنت منشاء اللہ بٹ نے کہا کہ صنعتی ورکرز کے لئے مفت فلیٹ، پلاٹ اور بیچلر ہاسٹل محمد نواز شریف کا ویژن ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ورکر ویلفیئر کمپلیکس،سندر انڈسٹریل اسٹیٹ فیز ون کے لئے 5897 ورکرز اہل قرار پائے۔ قرعہ اندازی میں کامیاب قصور کے صنعتی ورکرزکو480 جبکہ 240 فلیٹس لاہور کے ورکرز کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے فلیٹ پراجیکٹ کی مجموعی لاگت تین ارب 40 کروڑ روپے ہے۔ صنعتی ورکرز کے لئے بنائے گئے ہر شاندار فلیٹ کی لاگت 36 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ سندر فیز ٹو کے لئے 672 فلیٹس، ملتان میں 656 اور وار برٹن ننکانہ صاحب میں 544 فلیٹس صنعتی ورکرز کو دیئے جائیں گے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جھنگ میں کمالیہ میں بننے والی لیبر کالونیز میں 2000 صنعتی کارکنوں کو تین تین مرلے کے مفت پلاٹ دیئے جائیں گے۔ جھنگ میں 1300اور کمالیہ میں 700صنعتی ورکرز کو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے بعد پلاٹ ملیں گے۔

  • قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس، فحاشی   کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل واپس

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس، فحاشی کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل واپس

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں فحاشی اور بےحیائی کی روک تھام کے ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا، اس موقع پر رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نے بل کمیٹی میں پیش کیا،دوران اجلاس وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ اس حوالے سے پہلے سے اتھارٹی اور قانون موجود ہیں، ان کومزید مضبوط کر لیتے ہیں، پہلے یہ شکایت تھی کہ ایکس پر پابندی تھی، عالمی کمپنیوں کے وفد پاکستان آتے ہیں اور لوکل قانون پر عملدرآمد پر بات ہوتی ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ اگر عالمی سوشل میڈیاکمپنیز کے دفتر نہیں تو ریگولیشنز پر عملدرآمد نہیں ہوتا،

    اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے این سی سی آئی اے نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، این سی سی آئی اےاپنی کارکردگی اور درست طریقے سے قوانین پر عملدرآمد کریں، ساتھ ہی ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد بھی کریں،کمیٹی ممبر علی قاسم گیلانی نے کہا کہ یوٹیوبر سعد الرحمان کی ویڈیو این سی سی آئی اےکے خلاف ہم سب نے دیکھی،بعد ازاں رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نےفحاشی اوربےحیائی کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 واپس لے لیا۔

    ایکس کو بند کرنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں پہنچ گیا،رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے کہا کہ ایکس کو پاکستان میں بند ہونا چاہیے، ان کا یہاں کوئی دفتر نہیں اور قوانین کو فالو نہیں کرتے۔ ایکس پر پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے خلاف کمپین ہوتی ہے۔ ایکس کو اس بارے لکھا گیا لیکن کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا،

    ڈیجیٹل میڈیا پر فحاشی و عریانی کی امتناع 2025” نامی بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے ایوان میں پیش کیا تھا، اس بل کا مقصد سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کی روک تھام کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک تیار کرنا ہے،”ڈیجیٹل میڈیا پر فحاشی و عریانی کی امتناع 2025” نامی یہ بل پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اقدار کو تحفظ دینے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پھیلنے والے غیر اخلاقی مواد کو کنٹرول کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ شاہدہ رحمانی نے ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں مواصلات اور معلومات کے تبادلے کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے فحاشی، عریانی، اور غیر اخلاقی مواد کے پھیلاؤ کو بھی ہوا دی ہے، جو خاص طور پر نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے،اس بل کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کی نشر و اشاعت کو روکنا، اس کی نگرانی کے لیے ایک موثر نظام قائم کرنا، اور اس طرح کے مواد کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس، اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع پر مواد کی سخت جانچ پڑتال کی جائے، اور غیر قانونی یا غیر اخلاقی مواد کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

    پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور 2025 تک ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ایکس، ٹک ٹاک، یوٹیوب، اور دیگر پلیٹ فارمز پر غیر اخلاقی مواد کی موجودگی نے والدین، اساتذہ، اور معاشرتی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حالیہ برسوں میں، کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد نے معاشرتی اقدار کو چیلنج کیا اور خاص طور پر نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب کیے،اس سے قبل، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے غیر اخلاقی مواد کو ہٹانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، لیکن ان کی کامیابی محدود رہی ہے کیونکہ کوئی جامع قانونی فریم ورک موجود نہیں تھا۔ یہ نیا بل اس خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنے مواد کی نگرانی کے لیے ذمہ دار بنایا جائے گا، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

  • سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو چل بسے

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو چل بسے

    سابق وزیر اعلی پنجاب ،پیپلز پارٹی کے رہنما میاں منظور احمد وٹو وفات پا گئے ہیں
    سابق وزیر اعلی پنجاب منظور احمد وٹو طویل علالت کے بعد وفات پا گئے انہیں حویلی لکھا سے لاہور ہسپتال لایا جا رہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے انکی نماز جنازہ کل انکے آبائی علاقے حویلی لکھا میں صبح 10 بجے ادا کی جائے گی،

    میاں منظور احمد وٹو کی وفات پر سیاسی رہنماؤں نے اظہار افسوس کیا ہے اور لواحقین کے لئے صبرجمیل کی دعا کی ہے،صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سینئر سیاستدان میاں منظور احمد وٹو کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ،کہامیاں منظور احمد وٹو نے بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی، وزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر اور مختلف اہم سیاسی ذمہ داریوں میں عوامی خدمت اور قومی ترقی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں،مرحوم نے بطور ایک سینئر سیاستدان جمہوری اداروں کے استحکام اور علاقائی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا،مرحوم کی دانائی، قیادت اور قومی یکجہتی کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،صدرِ مملکت نے دعا کی کہ الّلہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نےسابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے میاں منظور وٹو مرحوم کی سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا، وزیراعلیٰ کی جانب سے مرحوم کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میاں منظور وٹو مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، اہلِ خانہ اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی.

    سینئر سیاسی رہنما میاں منظور احمد وٹو کے انتقال پر وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا گہرے رنج و دکھ کا اظہار،وفاقی وزیر نے مرحوم کی عوامی خدمات، جمہوریت کے استحکام میں کردار اور پارلیمانی روایات کے فروغ میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

    سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین سید نیر حسین بخآری نےسینیر سیاستدان سابق وزیراعلی پنجاب میاں منظور احمد وٹو کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرحوم منظور وٹو نے بطور اسپیکر و وزیراعلی پنجاب وفاقی وزیر گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔میاں منظور وٹو مرحوم وضعدار شخصیت تھے۔

    میاں منظور وٹو اوکاڑہ کے وٹو خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وٹو خاندان اوکاڑہ میں معاشی اور سیاسی لحاظ سے کافی مضبوط ہے۔ اس کے دیگر افراد میں سابق وزیر خزانہ میاں یسین خان مرحوم، میاں معین وٹو ایم این اے 144 اور میاں خرم جہانگیر شامل ہیں۔ میاں منظور وٹو پاکستانی سیاست میں بڑا نام ہیں وہ متعدد عہدوں پر فائز رہے جس میں وزیر اعلیٰٰ پنجاب ، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وفاقی وزیر امور کشمیر رہے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں میاں معین وٹو سے شکست کھائی۔میاں منظور احمد خان وٹو نے سیاسی کیرئر کا آغاز آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر کیا اس سے پہلے 1977ء میں ذو الفقار علی بھٹو نے ان کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا مگر بعد ازاں یہ ٹکٹ ان سے واپس لے کر غلام محمد مانیکا کو دیدیا گیاجس پر میاں منظور احمد وٹو نے آزاد حیثیت سے یہ الیکشن لڑا اور ہار گئے۔

    اس کے بعد میاں منظور احمدوٹو ائر مارشل اصغرخان کی تحریک استقلال میں شامل ہو گئے۔ 1982ء میں ہونیوالے غیر جماعتی انتخابات میں میاں صاحب جیت کر ممبر ضلع کونسل بن گئے ان دنوں ساہیوال ضلع تھا مگر ان کے ارکان ضلع کونسل بننے کے ایک سال بعد 1983 میں اوکاڑہ کو بھی ضلع کی حیثیت مل گئی اور اس کیساتھ ہی میاں منظور احمد وٹو چیئرمین ضلع کونسل بھی بن گئے۔اس کے بعد 1985ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیتنے کے بعد منظور احمدوٹو ایم پی اے بن گئے یوں اس وقت ان کے پاس ضلع کونسل کی چیئرمینی بھی تھی اور ممبر صوبائی اسمبلی بھی تھے اور یہی نہیں اسی برس میاں منظور احمدوٹو سپییکرصوبائی اسمبلی بھی بن گئے جس پر انھوں نے ضلع کونسل کی چیئرمین شپ چھوڑ دی اور انہی کے بھائی میاں احمد شجاع چیئرمین ضلع کونسل بن گئے۔اس کے بعد 1988ء میں بھی میاں منظور وٹو پر قسمت مہربان ہوئی اور وہ پہلے ایم پی اے بنے اور پھر سپیکر بنجاب اسمبلی بھی بن گئے۔1990ء کے انتخابات میں وٹو صاحب ایم این اے بھی بن گئے اور حویلی لکھا سے ایم پی اے بھی بن گئے۔ تاہم انھوں نے پارٹی کے کہنے پر ایم این اے کی سیٹ چھوڑ دی جس پر راؤ قیصر ایم این اے منتخب ہو گئے اور خود ایم پی اے کی بنا پر تیسری مرتبہ پھر سپیکر پنجاب اسمبلی بن گئے۔

    ابھی انہی کی حکومت تھی کہ 1993ء میں وزیر اعلیٰٰ پنجاب غلام حیدر وائیں کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروا کر میاں منظور احمدوٹو خود وزیر اعلیٰٰ پنجاب بن گئے تو اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں اس طرح منظور احمد وٹو کی وزارت اعلیٰ بھی ختم ہو گئی۔مگر اس اقدام پر غلام حید روائیں سپریم کورٹ چلے گئے جس پر سپریم کورٹ نے اسمبلیاں بحال کر دیں اس طرح میاں منظور احمد وٹو ایک بار پھر وزیر اعلیٰٰ کی مسند پر براجمان ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    اس کے بعد 1993ء کے انتخابات میں میاں منظور احمد وٹو نے تاندلیانوالہ سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی نے یہاں بھی ان کے قدم چومے بعد ازاں ان کی جونیجو لیگ نے پیپلز پارٹی کیساتھ الحاق کر لیا اور پیپلز پارٹی نے ان کو پنجاب کا وزیر اعلیٰٰ بنا دیا۔ اور ڈھائی سال تک اس کے وزیر اعلیٰٰ رہے اس کے بعد مرکز اور صوبے کی لڑائی میں ان کی وزارت اعلیٰ جاتی رہی اور بینظیر بھٹو نے سردار عارف نکئی کو وزیر اعلیٰٰ بنا دیا مگر صرف چھ ماہ بعد ہی فاروق لغاری نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔

    1995ء میں میاں منظور احمدوٹو نے مسلم لیگ (جناح)کے نام سے اپنی پارٹی بنالی تاہم 1997ء کے الیکشن میں جیت نہ سکے بلکہ اس عرصے میں نیب نے ان کے خلاف شکنجہ کسا اور پانچ سال تک کرپشن الزامات میں جیل میں رہے۔ تاہم اس کے باوجود ان کے بیٹے میاں معظم وٹو نے ایم پی اے کی سیٹ پر الیکشن جیت لیا اور 2001ء کے لوکل باڈی الیکشن میں جب کہ منظور وٹو جیل میں تھے مگر ان کا بیٹا میاں خرم جہانگیر وٹو تحصیل ناظم منتخب ہو گیا۔2002ء میں میاں منظور وٹو جیل سے باہر آگئے اور اس سال ہونیوالے عام انتخابات میں ان کی بیٹی روبینہ شاہین وٹو ایم این اے منتخب ہو گئیں۔

    2008ء کے انتخابات میں میاں منظور احمدخان وٹو دیپالپور اور حویلی لکھا دونوں جگہ سے ایم این اے منتخب ہو گئے جس پر این اے 146دیپالپور کی سیٹ انھوں نے اپنے پاس رکھی جبکہ حویلی کی سیٹ چھوڑ کر اپنے بیٹے خرم جہانگیر کو وہاں سے منتخب کروا دیا۔ اور اسی برس میاں منظور احمد وٹو پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے اور اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں میاں منظور وٹو کو انڈسٹری کی وزارت دے دی گئی جبکہ ان کے بیٹے میاں خرم جہانگیر وٹو پارلیمانی سیکرٹری بن گئے۔اسی دور میں جب سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ ختم کی تو نئے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے ان کو کشمیروبلتستان کا وزیر بنا دیا۔