Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا سلمان اکرم راجہ کی آج ہی عمران خان سے ملاقات کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سلمان اکرم راجہ کی آج ہی عمران خان سے ملاقات کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما اور وکیل سلمان اکرم راجہ کی آج عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانیِ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ24 مارچ کے عدالتی حکم کے باوجود میری ملاقات تاحال نہیں ہوئی۔ آج منگل کا دن ہے، اور میں نے بانیِ پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے اس کیس کے حوالے سے ہدایات لینی ہیں،اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ جن اتھارٹیز کو عدالت میں پیش ہونا تھا، وہ کہاں ہیں؟،بعد ازاں عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور اسٹیٹ کونسل کو ہدایت دی کہ وہ فون کال کے ذریعے جیل حکام کو مطلع کریں اور سلمان اکرم راجہ کی آج ہی عمران خان سے ملاقات یقینی بنائیں۔عدالت نے یہ واضح کیا کہ حکم پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ وکیل اپنے موکل سے قانونی مشاورت کر سکیں۔

  • 18 ویں ترمیم صوبوں کے دلوں کے بہت قریب ،ہرگز سمجھوتہ نہیں ہوسکتا،شازیہ مری

    18 ویں ترمیم صوبوں کے دلوں کے بہت قریب ،ہرگز سمجھوتہ نہیں ہوسکتا،شازیہ مری

    پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری کا کہنا ہےکہ 18 ویں ترمیم صوبوں کے دلوں کے بہت قریب ہے اور اس پر ہرگز سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔

    نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے شازیہ مری کا کہنا تھا کہ کافی عرصے سے 27 ویں ترمیم کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہورہی ہیں تاہم حکومت نے باقاعدہ پیپلزپارٹی سے 27 ویں آئینی ترمیم کےحوالے سے رابطہ کیا ہے اور ترمیم پر حمایت مانگی ہے،صوبوں کے اختیارات پر پیپلز پارٹی نے اتفاق رائے پیدا کیا، 18 ویں ترمیم میں صوبوں کے اختیارات سے پیچھے ہٹنا مناسب بھی نہیں اور ممکن بھی نہیں ہوگا، 18 ویں ترمیم صوبوں کے دلوں کے بہت قریب ہے، اس پر ہرگز سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، 27 ویں آئینی ترمیم کےحوالے سے حکومت کے پرپوزل کو پیپلزپارٹی کی سی ای سی کمیٹی میں رکھا جائے گا اور سی ای سی میں فیصلے کیے جائیں گے،(ن) لیگ کے ساتھ عوامی ایشو پر بات کریں گے، 27 ویں آئینی ترمیم کو عوامی اعتبار سے بھی دیکھا جائے گا، پیپلز پارٹی تمام چیزیں اپنے اصولی مؤقف پر دیکھے گی، اگر حکومت کسی چیز پر متفق ہے اور ہمیں متفق کرناچاہتی ہے تو اس پر بات ہوسکتی ہے،

  • بنوں،جرگے میں قبائلی عمائدین کی امن و امان کے قیام کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی

    بنوں،جرگے میں قبائلی عمائدین کی امن و امان کے قیام کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی

    بنوں ، جانی خیل کے ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ ہوا
    پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کے زیرِ انتظام میرانشاہ میں جانی خیل کے ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا اہم جرگہ منعقد ہوا ۔جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور علاقے میں امن کے قیام میں قبائلی عمائدین کے کردار کو سراہا ۔جرگے میں جانی خیل اور نواحی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کی روک تھام اور فلاحی کاموں پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ قبائلی رہنماؤں نے امن و امان کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔جی او سی نے کہا کہ عوام کے تعاون سے علاقے میں امن اور ترقی کا سفر کامیابی سے جاری ہے ۔جرگے کا اختتام قومی یکجہتی اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ کیا گیا ۔

  • سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں، دہشتگردوں کو بدترین شکست کا سامنا

    سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں، دہشتگردوں کو بدترین شکست کا سامنا

    سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور کامیاب کارروائیاں، دہشت گردوں کو دَہائی کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    پاک فوج کے عزم، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت سے ملک بھر میں دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام ہو گئے،سیکیورٹی فورسز کی مختلف علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی مؤثر کارروائیوں نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی،تحقیقی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز(پی آئی سی ایس ایس) کی رپورٹ کے مطابق صرف اکتوبر میں پاکستان بھر میں دہشت گردوں کو پچھلے دس سال کی سب سے بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا،رپورٹ کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر کے مہینے میں دہشتگر حملوں کی تعداد میں 52 فیصد کمی ہوئی ، اکتوبر میں 355 دہشت گرد ہلاک جبکہ 72 سیکیورٹی اہلکار اور 31 شہری شہید ہوئے،ادارے کے ملیٹنسی ڈیٹا بیس کے مطابق اکتوبر میں دہشت گرد حملوں میں مجموعی جانی نقصان میں 19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی،انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور سیکیورٹی فورسز کی بر وقت کاروائیاں ملک میں امن و استحکام کا مظہر ہیں

  • قلات،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 دہشتگرد جہنم واصل

    قلات،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 دہشتگرد جہنم واصل

    قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس آپریشن میں 4 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یکم نومبر کی رات سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں بھارتی پراکسی یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا،سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس دوران 4 دہشتگرد مارے گئے، یہ دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے جب کہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، دہشتگردوں کے خاتمےکے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسداد دہشتگردی مہم جاری رکھیں گے تاکہ بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی کا ناسور مکمل ختم کیا جاسکے

  • سپریم کورٹ کی کینٹین میں سلنڈر دھماکا،متعدد افراد زخمی

    سپریم کورٹ کی کینٹین میں سلنڈر دھماکا،متعدد افراد زخمی

    سپریم کورٹ کی کینٹین میں سلینڈر کے باعث دھماکے سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

    سلینڈر دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے اور ٹیم نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں،دھماکا اے سی گیس پلانٹ کی مرمت کے دوران ہوا، دھماکے کے باعث کینیٹین میں فرنیچر کو بھی نقصان پہنچا جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا اس قدر زوردار تھا کہ عدالتوں میں موجود وکلاء بھی اپنے کمروں سے باہر آگئے، سلینڈر دھماکے سے سپریم کورٹ کی کورٹ نمبر 6 بھی متاثر ہوئی ہے۔

  • نیپال میں برفانی تودہ گرنے سے غیر ملکی کوہ پیما سمیت 3 افراد ہلاک، 4 لاپتا

    نیپال میں برفانی تودہ گرنے سے غیر ملکی کوہ پیما سمیت 3 افراد ہلاک، 4 لاپتا

    کٹھمنڈو: شمال مشرقی نیپال میں ہمالیہ کی ایک بلند چوٹی پر پیش آنے والے المناک حادثے میں ایک غیر ملکی کوہ پیما سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 4 کوہ پیما تاحال لاپتا ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حادثہ نیپال کے ہمالیائی علاقے کانچن جنگا کے قریب پیش آیا جہاں اچانک برفانی تودہ گرنے سے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ اس کی زد میں آگیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک فرانسیسی شہری اور دو نیپالی گائیڈ شامل ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برفانی تودہ گرنے کے وقت کوہ پیماؤں کی ٹیم چوٹی کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اچانک تودہ ان پر آن گرا، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی تین افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق حادثے میں 4 مقامی گائیڈ زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی گاؤں منتقل کرکے طبی امداد فراہم کی گئی، اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق مزید 4 غیر ملکی کوہ پیما دو اطالوی، ایک جرمن اور ایک کینیڈین حادثے کے بعد سے لاپتا ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے شدید موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود تلاش کا کام شروع کردیا ہے، تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ ممکنہ طور پر وہ بھی برفانی تودے کی نذر ہوچکے ہیں۔نیپال کے محکمہ سیاحت کے مطابق حادثے کے مقام پر برفانی تودے کے بعد موسم مزید خراب ہوگیا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی موسم بہتر ہوگا، تلاش کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔یاد رہے کہ نیپال میں ہر سال درجنوں مقامی و غیر ملکی کوہ پیما ہمالیائی پہاڑوں کی بلندیوں کو سر کرنے کی کوشش میں شدید موسمی حالات اور برفانی تودوں کے باعث اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔

  • حالیہ سیلاب سے وقتی طور پر معیشت کمزور ہوئی ،وزیر خزانہ

    حالیہ سیلاب سے وقتی طور پر معیشت کمزور ہوئی ،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے اور بلیو اکانومی ملکی معیشت کےلیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔

    پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو 2025 سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا معاشی استحکام کے لیے ڈھائی سال میں ٹھوس اقدامات کئے گئے، تین گلوبل ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کے معاشی اقدامات کی تعریف کی ہے،پاکستانی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، تجارت اور معیشت کے استحکام کے لیے دوست ممالک کا تعاون حاصل ہے،کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، بلیو اکانومی پاکستانی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی،میری ٹائم کانفرنس کا مقصد یہ بھی ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں پر راغب کیا جائے، بیلو اکنامی پاکستان کی معشیت میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، آنے والے وقتوں میں بلیو اکنامی کے ذریعے معاشی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں، میں یقین دلاتا ہو کہ بلیو اکنامی کے حوالے پالیسی مسائل حل کیے جائیں گے،پاکستان میں حالیہ سیلاب سے وقتی طور پر معیشت کمزور ہوئی تھی، دنیا کے بہترین معاشی ادارے پاکستان کی بڑھتی معشیت کی تعریف کر رہے ہیں۔

  • بلوچستان،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

    بلوچستان،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

    ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں کئی اہم واقعات پیش آئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے، جبکہ کچھ واقعات میں سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی زخمی یا شہید ہوئے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق جھاؤ کے علاقے میں پاکستانی فورسز کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیموں نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کا اہم کمانڈر عبدالخالق عرف وادو خفیہ آپریشن کے دوران مارا گیا۔ وہ ایران سرحد کے قریب ایک قصبے میں مقیم تھا اور تنظیم کی اسلحہ و منشیات کی سپلائی چین کا نگران تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ عبدالخالق کی ہلاکت سے بی ایل اے کے مالیاتی اور لاجسٹک نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    موسیٰ خیل کے علاقے رارا شام میں سیکیورٹی فورسز کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران دو دہشت گرد کمانڈر، اصغر خان اور فیروز خان، ہلاک ہو گئے۔دونوں افراد علاقے میں متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے، جن میں 26 اگست 2024 کا وہ سانحہ بھی شامل ہے جس میں 23 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا تھا۔

    وسطی کرم کے گاؤں جدرا خرکی میں دہشت گردوں کی فائر کی گئی مارٹر گولہ باری سے ایک شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں اس نوعیت کے حملے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا۔آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ضلع پولیس افسر (DPO) بنوں وقار احمد خان کے قافلے پر مامش خیل کے مقام پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ڈی پی او محفوظ رہے۔

    مقامی عمائدین کی کوششوں سے تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے کمر خیل کے علاقے سے انخلا پر آمادگی ظاہر کر دی۔ذرائع کے مطابق عمائدین نے شدت پسندوں کو 4 اگست کے اس تحریری معاہدے کی یاد دہانی کرائی جس میں شہری علاقوں کے استعمال سے اجتناب پر اتفاق ہوا تھا۔گزشتہ جھڑپوں میں کئی شہری جاں بحق اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ شدت پسندوں نے چند روز میں علاقے سے نکلنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ہووید کے علاقے سے چند روز قبل اغوا کیے گئے اسپیشل برانچ اہلکار شفیع اللہ خان کو مقامی عمائدین کی کوششوں سے بازیاب کرا لیا گیا۔ذرائع کے مطابق مقامی امن کمیٹی نے شدت پسندوں کے کمانڈر کے رشتہ داروں کو حراست میں لینے کے بعد جرگہ کے ذریعے رہائی ممکن بنائی۔

    بوشیرا کے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سعیداللہ نامی شخص شدید زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق دھماکہ کھیتوں میں نصب دیسی ساختہ بارودی مواد سے ہوا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔سفید قبر کے علاقے میں 18 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اُس کے داماد نے قتل کر دیا۔متوفیہ کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے غیرت کے نام پر قتل کا اعتراف خود فون پر کیا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم ملزم فرار ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں تخت نصرتی کے علاقے مدکی روڈ پر ایک دہشت گرد مارا گیا۔
    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد گاڑیوں کو روک کر تلاشی لے رہے تھے جب فورسز کے پہنچنے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔مارے گئے دہشت گرد کی شناخت جاری ہے، جبکہ اسلحہ و بارود برآمد ہوا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔مارے جانے والوں میں ایک افغان شہری قاسم شامل ہے جو سابق افغان بارڈر پولیس اہلکار تھا۔کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    طورخم سرحد تیسرے روز بھی افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھلی رہی۔گزشتہ تین روز میں 19 ہزار 343 افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔انتظامیہ نے واپسی کے عمل کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے اضافی انتظامات کیے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران داعش خراسان کے اہم کمانڈر ضیاء الدین عرف ابراہیم ادریس کو ہلاک کر دیا گیا۔وہ تحریک انصاف کے رہنما ریحان زیب اور عوامی نیشنل پارٹی کے مولانا خان زیب سمیت متعدد اہم شخصیات کے قتل میں ملوث تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضیاء الدین افغانستان میں قید تھا اور طالبان کی حکومت کے بعد رہا ہو کر 2023 میں پاکستان آیا تھا تاکہ داعش خراسان کا نیٹ ورک دوبارہ منظم کر سکے۔حکام کے مطابق اس کی ہلاکت سے تنظیم کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

  • پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف شخصیت چوہدری کامران اعجاز چل بسے

    پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف شخصیت چوہدری کامران اعجاز چل بسے

    لاہور: پاکستان فلم انڈسٹری کی ممتاز اور قابلِ احترام شخصیت، نامور فلم پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر چوہدری کامران اعجاز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی خبر نے فلمی دنیا کے تمام حلقوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق چوہدری کامران اعجاز کو کچھ عرصہ قبل برین ہیمرج کا سامنا ہوا تھا، جس کے بعد وہ زیرِ علاج تھے۔ ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ صحت یاب نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔چوہدری کامران اعجاز نے اپنی زندگی فلمی دنیا کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ کئی دہائیوں تک پاکستان فلم انڈسٹری کے ساتھ منسلک رہے اور متعدد کامیاب فلمیں پروڈیوس کیں جن میں مشہور فلمیں "سلطنت”, "بھائی لوگ” اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے کام کو نہ صرف ناظرین بلکہ فلمی ماہرین نے بھی بے حد سراہا۔

    چوہدری کامران اعجاز نہ صرف ایک پروڈیوسر بلکہ ایک متحرک منتظم بھی تھے۔ وہ فلم انڈسٹری کی مختلف تنظیموں کے صدر رہ چکے تھے اور فلمی صنعت کی ترقی و بحالی کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے رائل پارک، لاہور کو فلم انڈسٹری کے لیے ایک سرگرم مرکز کی حیثیت دی، جہاں فلم ساز، ہدایت کار، اداکار اور تکنیکی ماہرین ہمیشہ ان کے تعاون اور رہنمائی سے مستفید ہوتے رہے۔ ان کی کاوشوں سے یہ علاقہ فلمی سرگرمیوں کا دل بن گیا۔چوہدری کامران اعجاز کی وفات سے پاکستان فلم انڈسٹری ایک بڑی اور تجربہ کار شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کے چاہنے والوں، ساتھی فنکاروں اور فلمی برادری نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔

    چوہدری کامران اعجاز کی نماز جنازہ آج بروز منگل بعد از نماز ظہر ان کی رہائش گاہ نت ٹاؤن ،سٹریٹ نمبر 2، ہاؤس نمبر 2 نزد نیب آفس، 1122 آفس ، ٹھوکر نیاز بیگ لاہورادا کی جائے گی.