Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • باجوڑ،انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ،پولیس اہلکار سمیت دو شہید

    باجوڑ،انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ،پولیس اہلکار سمیت دو شہید

    باجوڑ کے تحصیل سالارزئی میں آج انسداد پولیو مہم کے دوران نامعلوم افراد نے پولیو ٹیم پر فائرنگ کر دی۔

    فائرنگ سے پولیو مہم کے سیکورٹی پر تعینات ایک پولیس اہلکار سجاد اور ایک سویلین شخص شہید ہوگئے، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے باجوڑ میں پولیو ٹیم پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی ہے،وزیراعظم نے پولیو ٹیم کے تحفظ پر مامور پولیس اہلکار کی شہادت اور ایک شہری کے زخمی ہونے پر گہرا افسوس ظاہر کیا،شہید کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی،وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی بھی دعا کی ،انہوں نے تخریب کاروں کی جلد از جلد شناخت اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے کہا کہ قوم کے لیے انسداد پولیو کی اہم خدمت سر انجام دینے والوں پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے،وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ملک سے پولیو کے خاتمے تک پولیو مہم پوری تحریک کے ساتھ جاری رہے گی

    وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ انتہائی قابلِ مذمت اور شرمناک ہے۔ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی شہادت پر دلِی دکھ اور افسوس ہے۔ ملک دشمن عناصر ہر طرح سے امن خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی فورسز سینہ سپر ہیں۔ اللہ تعالی شہداء کے درجات بلند اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایمان مزاری کیس میں شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایمان مزاری کیس میں شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا۔

    دوران سماعت جسٹس اعظم خان نے کہا کہ میرٹ پر جائے بغیر ٹرائل کورٹ کو شہادتیں 3 دن میں دوبارہ ریکارڈ کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں، سپریم کورٹ نے ہمیں درخواست پر جلد فیصلہ کرنے کا آرڈر کیا ہے،وکیل ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کو سن کر فیصلے کا کہا ہے،دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے تمام رکارڈ موجود ہے، فیصلہ کیا جا سکتا ہے،ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ کیا ہمیں ریکارڈ پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے؟،جسٹس اعظم خان نے کہا کہ ٹرائل میں استثنیٰ اسی لیے ہوتا ہے کہ ٹرائل متاثر نہ ہو، ایمان مزاری عدالت میں موجود نہیں تھیں تو کیا پلیڈر موجود تھا،عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کتنے وقت میں شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کروا لیں گے؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو شہادت ریکارڈ ہوئی ہے وہ قانونی ہے

    وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ میرٹ پر سننا ہے تو ہمیں وقت دیں، فیصل صدیقی دلائل دیں گے، جس پر جسٹس اعظم خان نے کہا کہ ہم پھر کیس کل کے لیے رکھ رہے ہیں، فیصل صدیقی سے کہیں آجائیں، ہم میرٹ پر نہیں جا رہے، شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کرنے کا آرڈر کر رہے ہیں،عدالت نے ہدایت کی کہ دونوں فریقین کی رضامندی سے شہادتیں دوبارہ ریکارڈ کی جائیں۔

  • سڈنی حملہ ، بھارت عالمی سطح پردہشتگردی کا مرکز قرار

    سڈنی حملہ ، بھارت عالمی سطح پردہشتگردی کا مرکز قرار

    سڈنی حملہ ، بھارت عالمی سطح پردہشتگردی کا مرکز قرار دے دیا گیا

    اقوام عالم اس بات کی شاہد ہیں کہ بھارت کس طرح منظم انداز میں بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے جو پاکستان کے موقف کی تائید ہے،پاکستان کا واضح موقف رہاہے کہ بھارت ریاستی سطح پرنہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان بلکہ کینیڈا ، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں بھی دہشتگردی پھیلا رہا ہے،سڈنی میں سفاکانہ حملہ بھارت کی عالمی سطح پرسپانسرڈدہشتگردی کا واضح ثبوت ہے،ریاستی سرپرستی میں بھارتی دہشتگردی کے حوالے سے عالمی جریدوں نے ہوشربا انکشافات میں مودی حکومت کی قلعی کھول دی،آسٹریلیا کے سیکیورٹی حکام اور ایجنسیز کا بھارتی بدنامِ زمانہ ایجنسی "را” سے رابطہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ "را” ایک منظم انداز سےاس حملے میں ملوث رہی ہے،عالمی جریدوں کے مطابق سڈنی کے حملہ آور ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کیا

    فلپائن امیگریشن حکام کے مطابق سڈنی فائرنگ کے واقعہ میں ملوث بھارتی شہریت کے حامل دہشتگرد باپ اور بیٹے نے حملہ سے کچھ عرصہ قبل فلپائن کا سفر کیا ،بھارتی نژاد 50 سالہ ساجد اکرم اور اس کا24 سالہ بیٹا نوید اکرم دونوں آسڑیلوی شہریت کے بھی حامل ہیں،بی بی سی کے مطابق ;فلپائن امیگریشن نے تصدیق کی ہے کہ سڈنی حملہ میں ملوث ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا ،بھارتی دہشتگردی یکم نومبرکو سڈنی سے فلپائن پہنچے جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج تھی ، ساجد اکرم اور نوید اکرم یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے

    عالمی معروف جریدہ آسڑیلوی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق سڈنی حملہ سے متعلق سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کی،بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے سڈنی دہشتگرد حملہ پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے،

    بھارتی وزارت خارجہ کی خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ سڈنی حملہ میں بھارتی نژاد دہشتگرد براہ راست ملوث ہیں،یاد رہے کہ سڈنی میں پیش آنے والے اس حملہ میں متعدد افراد ہلاک ہو ئے

  • سڈنی حملہ، بھارت کا مشکوک ،خطرناک سیکورٹی کردار،عالمی سوالات

    سڈنی حملہ، بھارت کا مشکوک ،خطرناک سیکورٹی کردار،عالمی سوالات

    سڈنی میں ہونے والی ماس کِلنگ نے ایک بار پھر بھارت کے مشکوک اور خطرناک سکیورٹی کردار پر عالمی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    حملے سے قبل ملزم کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں مبینہ عسکری تربیت حاصل کرنا، اور پھر بھارتی پاسپورٹ پر بین الاقوامی سفر کے انکشاف نے اس واقعے کو ایک منظم اور ٹرانس نیشنل سازش کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اسی سنگینی کے پیش نظر آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے باقاعدہ رپورٹ طلب کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شک کی سوئی اب براہِ راست نئی دہلی کی طرف جا رہی ہے۔ بھارت کا ریکارڈ اس حوالے سے پہلے ہی متنازع ہے چاہے وہ اپنے ملک میں فالس فلیگ آپریشنز ہوں یا کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ .. یہ سب ایک ایسے پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

    سڈنی حملہ محض ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ بھارت سے جڑے ایک خطرناک ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔ حملہ آور کا واردات سے پہلے فلپائن جانا، وہاں عسکری نوعیت کی تربیت لینا، اور بھارتی پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کسی منظم رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے وضاحت طلب کی۔ عالمی سطح پر بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور ٹرانس نیشنل کلنگز کے الزامات کی زد میں ہے، خاص طور پر کینیڈا میں سکھوں کے قتل کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے۔ سڈنی واقعہ انہی شبہات کو مزید گہرا کر رہا ہے کہ بھارت بیرونِ ملک بیٹھ کر پرتشدد کارروائیوں کے لیے افراد کو تیار کرنے کی صلاحیت اور نیت رکھتا ہے۔

    سڈنی میں ہونے والی اجتماعی ہلاکتیں بھارت کے اس خفیہ سکیورٹی کھیل کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں جس میں تشدد کو سرحدوں سے باہر ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حملہ آور کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں مبینہ عسکری تربیت حاصل کرنا، اور پھر بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کوئی حادثاتی عمل نہیں تھا۔ اسی تناظر میں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے رپورٹ طلب کرنا ایک غیر معمولی سفارتی قدم ہے۔ بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، اور سڈنی حملہ اس پورے پیٹرن کو مزید واضح کر رہا ہے کہ تشدد کی تربیت اور رہنمائی کہاں سے آ رہی ہے۔

    سڈنی ماس کِلنگ نے بھارت کے سکیورٹی بیانیے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ حملے سے پہلے ملزم کا فلپائن جانا، مبینہ عسکری تربیت لینا، اور بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا ایسے حقائق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے براہِ راست رپورٹ طلب کی۔ بھارت کا ماضی اس حوالے سے پہلے ہی سوالیہ نشان ہے’ چاہے وہ اپنے ملک میں فالس فلیگ ڈرامے ہوں یا کینیڈا میں سکھوں کی ہلاکتیں۔ یہ تمام واقعات ایک ہی پیغام دیتے ہیں: بھارت نہ صرف اندرونِ ملک بیانیہ گھڑتا ہے بلکہ بیرونِ ملک تشدد کے نیٹ ورکس کو بھی خاموشی سے پروان چڑھاتا ہے۔

    سڈنی میں ہونے والا خونریز واقعہ بھارت کے ٹرانس نیشنل تشدد کے ماڈل کی ایک اور کڑی بن کر سامنے آیا ہے۔ حملہ آور کا آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن جانا، وہاں عسکری تربیت حاصل کرنا، اور بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سب کسی منظم سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے آسٹریلوی حکومت نے بھارت کے وزیرِ خارجہ سے وضاحت طلب کی۔ بھارت پہلے ہی فالس فلیگ آپریشنز اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل جیسے الزامات کی زد میں ہے، اور سڈنی واقعہ ان خدشات کو عالمی سچائی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے کہ نئی دہلی بیرونِ ملک بیٹھ کر تشدد کے طریقے سکھانے اور استعمال کروانے میں ملوث رہی ہے۔

  • کتوں کے ذریعے خرگوش کے غیرقانونی شکار پر 19 افراد گرفتار

    کتوں کے ذریعے خرگوش کے غیرقانونی شکار پر 19 افراد گرفتار

    راولپنڈی کے نواحی علاقے چونترہ میں وائلڈ لائف حکام نے کارروائی کرتے ہوئے کتوں کے ذریعے خرگوش کے غیرقانونی شکار میں ملوث 19 افراد کو حراست میں لے لیا۔

    وائلڈ لائف حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی، جہاں ملزمان جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے شکار میں مصروف تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کی گئی اور قانون کے مطابق ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔ تاہم ملزمان نے ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے سے انکار کر دیا، جس پر وائلڈ لائف حکام نے انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانہ چونترہ منتقل کیا۔

    ذرائع کے مطابق تھانہ چونترہ پولیس نے ملزمان کو باضابطہ حراست میں لینے سے انکار کر دیا اور معاملے میں چالان جاری کرنے کی سفارش کی۔ اس دوران صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ملزمان نے احتجاج کرتے ہوئے پنجاب وائلڈ رینجرز کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا۔ گاڑی میں خواتین افسران بھی موجود تھیں، جس پر وائلڈ لائف حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔وائلڈ لائف حکام نے واضح کیا ہے کہ جنگلی حیات کا غیرقانونی شکار ناقابلِ ضمانت جرم ہے اور ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلی حیات کے تحفظ میں تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • پاکستان مخالف پروپیگنڈا ، پیج 3 نیوز تھائی ، ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف

    پاکستان مخالف پروپیگنڈا ، پیج 3 نیوز تھائی ، ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کی بلوچستان میں شرانگیزی اور منظم سازش کا ایک مرتبہ پھر پردہ چاک ہو گیا

    انسانیت سے عاری مودی کی ایک اور گھناؤنی سازش، بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور فتنہ الہندوستان متحرک ہے،پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں ملوث پیج 3 نیوز تھائی کے نام سے چلنے والا ایکس اکاؤنٹ بھارت سے کنٹرول ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے،جعلی شناخت کے ذریعے بھارتی اکاؤنٹ غدارِ وطن میر یار بلوچ کے نام پر بارہا پیغام رسانی میں ملوث پایا گیا ،بھارتی اکاؤنٹ سے مسلسل میر یار بلوچ کے نام پر من گھڑت دعوؤں، تاریخی تحریف اور بھارتی ایجنڈا کی تشہیر جاری ہے،جعلی اکاؤنٹ منظم سازش کے تحت بلوچ شناخت کو دہشتگردی کے فروغ کیلئے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے

    حال ہی میں بین الاقوامی سامعین کیلئے اس جعلی اکاؤنٹ سے بھارتی پروپیگنڈا پر مبنی ایک طویل پیغام سامنے آیا ،بھارتی اکاؤنٹ سے جاری کردہ پیغام دراصل RAW کے تیار کردہ بلوچستان مخالف پراپیگنڈا پر مبنی تھا ،تھائی سماجی ایپ ایکس کے مطابق اکاؤنٹ بھارت سے تھائی لینڈ VPN کے ذریعے آپریٹ کیا جا رہا ہے ،پاکستان مخالف پراپیگنڈا مہم اور شر پسند عناصر کی سرپرستی نے بھارتی مذموم عزائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا،بھارتی ایما پر بلوچستان میں جاری بدامنی اور دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد دنیا بھر کے سامنے عیاں ہو چکے ہیں

  • اے پی ایس کے بچوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا ،شیری رحمان

    اے پی ایس کے بچوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا ،شیری رحمان

    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کی برسی پر پیغام میں کہا ہے کہ دلخراش واقعے کو گیارہ برس بیت گئے لیکن آج بھی ہمارے زخم تازہ ہیں ،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر کا دن ہمیں اُس سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے، جب معصوم جانوں کی شہادت نے پوری قوم کو غم میں مبتلا کیا، اس دن سفاک دُشمن نےہمارے دلوں پر کاری ضرب لگائی،علم دشمن دہشت گردوں نےسفاکی سے علم کی شمعوں کو بجھایا،بزدل شرپسند عناصر نے قوم کے مستقبل، نہتے کم سن بچوں پر حملہ کر کے انہیں شہید کیا،پرنسپل شہید طاہرہ قاضی اور نہتے اساتذہ طالب علموں کو بچانے کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹے رہے، قوم کی ہمدردیاں ان والدین کے ساتھ ہیں جن کے بچوں نے اس سانحے میں عظیم قربانی دی،سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور میں شہید ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،بچوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، دہشتگردوں اور پاکستان کے امن کے دشمنوں کو میرا واضح پیغام ہے وطن عزیز کی حفاظت کیلیے ہم ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار ہیں، ہم نہ تو شہدا کو بھولیں گے اور نہ ہی اس سانحہ کو، ہم دہشتگردی کے متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں آج کے دن پوری قوم شہدائے آرمی پبلک سکول پشاور کے درجات کی بلندی کیلئے دعا گو ہے،

  • سڈنی حملہ،بندوق چھیننے والے احمد کیلیے 9.5 ارب ڈالر  کا اعلان،وزیراعظم کی بھی ملاقات

    سڈنی حملہ،بندوق چھیننے والے احمد کیلیے 9.5 ارب ڈالر کا اعلان،وزیراعظم کی بھی ملاقات

    سڈنی کے معروف سیاحتی مقام بونڈی بیچ پر پیش آنے والے ہولناک فائرنگ واقعے کے دوران غیر معمولی جرات و بہادری کا مظاہرہ کرنے والے احمد الاحمد کے لیے عالمی سطح پر خراجِ تحسین کا سلسلہ جاری ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق معروف یہودی سرمایہ کاری بینکر بل ایکمین نے احمد اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک بڑے مالی انعام کا اعلان کر دیا ہے۔بل ایکمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ“کیا کوئی تصدیق شدہ فنڈ قائم کر سکتا ہے تاکہ اس بہادر شخص اور اس کی فیملی کو انعام دیا جا سکے؟”میڈیا رپورٹس کے مطابق اسی اعلان کے تحت احمد الاحمد کے لیے 9.5 ارب ڈالر کے عطیہ پر مبنی فنڈ قائم کرنے کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ اس فنڈ ریزنگ مہم میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 لاکھ ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ سڈنی کے بونڈی بیچ پر دو مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ آسٹریلوی پولیس نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ دوسرے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس خونی واقعے کے دوران وہاں موجود 43 سالہ احمد الاحمد نے غیر معمولی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مسلح حملہ آور کو قابو میں کیا اور اس کے ہاتھ سے لمبی نال والی بندوق چھین لی، جس کے باعث متعدد قیمتی جانیں بچ گئیں۔ واقعے کی وائرل ہونے والی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد عقب سے حملہ آور کے قریب پہنچتے ہیں اور جان کی پروا کیے بغیر اسلحہ چھین لیتے ہیں۔احمد الاحمد کے والدین کے مطابق واقعے کے دوران ان کے بیٹے کے کندھے میں 4 سے 5 گولیاں لگیں، جن میں سے چند اب بھی جسم میں پیوست ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کے مطابق احمد کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور وہ زیرِ علاج ہیں۔

    آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے بونڈائی بیچ پر حملہ آور کو پکڑنے والے احمد الاحمد کی اسپتال میں عیادت کی۔ آسٹریلوی وزیراعظم نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ احمد پورے آسٹریلیا کے ہیرو ہیں، احمد اور ان کے والدین سے ملاقات کی، احمد ہماری شانداراقدار کی نمائندگی کرتے ہیں، دہشت گرد ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کامیاب نہیں ہونے دیں گے،میڈیا سے گفتگو میں آسٹریلوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ دہشتگردی کی یہ کارروائی باپ بیٹے نے اکیلے کی، باپ مارا گیا اور بیٹا اس وقت کوما میں ہے، اس حملے میں کسی تیسرے ملزم کے ملوث ہونے کے تاحال کوئی شواہد نہیں ملے، اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ یہ افراد کسی منظم سیل کا حصہ تھے، تاہم حملے میں ملوث دونوں باپ بیٹا انتہا پسند نظریے سے متاثر تھے۔

    عالمی سطح پر احمد الاحمد کی اس بہادری کو سراہا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر انہیں ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ احمد کے بروقت اقدام نے ایک بڑے سانحے کو مزید تباہ کن ہونے سے بچا لیا۔

  • سندھ کابینہ اجلاس،عوامی آگاہی کیلیے دستاویزی فلمیں،ایک ارب روپے کی منظوری

    سندھ کابینہ اجلاس،عوامی آگاہی کیلیے دستاویزی فلمیں،ایک ارب روپے کی منظوری

    وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سی ایم ہاؤس میں کابینہ کا اجلاس ہوا
    کابینہ نے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی،وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات پڑھ کر سنائیں،وزیر اعلیٰ سندھ نے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بسیں خریدنے کی مد میں 964.407 ملین روپے کی منظوری دیدی،سندھ کابینہ نے عوامی آگاہی کے لیے دستاویزی فلمیں بنانے کے لیے ایک ارب روپے کی منظوری دیدی،کھیلوں خاص طور پر اسکواش چیمپئن شپ ایسوسی ایشن گولڈ کپ کے لیے 56 ملین روپے کی منظوری دی گئی،وزیر اعلیٰ سندھ نے ویٹرن کرکٹ ایسوسی ایشن ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے 50 ملین روپے کی منظوری دیدی،وزیراعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ ،کھیلوں کے لیے فنڈز پہلے سے موجود تھے جنہیں دوبارہ مختص (ری اپروپری ایٹ) کیا گیا،

    اسلام کوٹ کے علاقے پریم نگر میں خصوصی یتیم خانہ (ایس او ایس) قائم کرنے کے لیے 329 ملین روپے کی کابینہ نے منظوری دیدی،وزیر اعلیٰ سندھ نے گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج خانپور، ضلع شکارپور کے لیے 187.8 ملین روپے کی ایس این ای کی منظوری دیدی،وزیراعلیٰ سندھ نے ملیر میں واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 103.9 ملین روپے کی منظوری دیدی،وزیراعلیٰ سندھ نے کورنگی کازوے سے قبرستان اور پارک کے لیے ایک ریمپ تعمیر کرنے کے لیے 349.2 ملین روپے کی منظوری دیدی،وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ قبرستان اور پارک ریکلیم کی گئی اراضی پر قائم کیے جائیں گے،

    وزیراعلیٰ سندھ نے 10واں آدم کانفرنس اور ادب فیسٹیول کے لیے 7.5 ملین روپے کی منظوری دی دیدی،وزیراعلیٰ سندھ نے ایس ایم بی فاطمہ جناح گرلز سیکنڈری اسکول صدر کے لیے 94.7 ملین روپے کی منظوری دے دی،وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ایس ایم بی فاطمہ جناح گرلز سیکنڈری اسکول کو تمام ضروری اور کمی شدہ سہولیات فراہم کی جائیں گی، کابینہ نے سندھ اسمبلی میں ساؤتھ ایسٹ ایشیا ریجنل کانفرنس کے انعقاد کے لیے 200 ملین روپے کی منظوری دے دی

    اسلام کوٹ تا چھوڑ اور بن قاسم سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ،تھر کول فیلڈ تا چھوڑ تک اور بن قاسم سے پورٹ قاسم تک ریلوے لائن بچھانا سندھ اور وفاق کا مشترکہ منصوبہ ہے،منصوبے کے تحت اسلام کوٹ سے چھوڑ تک 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھائی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ بن قاسم تا پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر طویل ڈبل ٹریک ریلوے لائن تعمیر کی جا رہی ہے،اس ریلوے لائن کے ذریعے کوئلہ تھر سے کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں تک منتقل کیا جائے گا ،سندھ حکومت اور وزارت ریلوے کے درمیان پچاس پچاس فیصد کے اشتراک سے ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے،ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے کی مجموعی لاگت 90 ارب روپے ہے، سندھ کابینہ نے غور کرنے کے بعد ریلوے لائن منصوبے کے لیے 6.6 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی

  • بھارتی دفاعی برتری کے بیانیے کا پردہ چاک

    بھارتی دفاعی برتری کے بیانیے کا پردہ چاک

    عالمی تحقیقاتی رپورٹ نے بھارتی دفاعی برتری کے بیانیے کا پردہ چاک کر دیا۔ ایوی ایشن کے اہم جریدے ایرو کی رپورٹ نے بھارتی دعوؤں کا پول کھول دیا۔

    برطانوی جریدے ’کِی ایرومیگزین‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کی 52 منٹ فضائی جنگ میں بھارتی فضائیہ کے 4 رافیل لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، تباہ ہونے والے رافیل طیاروں کے نمبر BS001 ، BS021 ، BS022 اور BS027 تھے، بھارت ان چاروں طیاروں کے سیریل نمبرز کے ساتھ کوئی واضح تصاویر پیش کرنے میں ناکام رہا، پاکستان کے ملٹی ڈومین آپریشنز نے بھارتی فضائیہ کو مفلوج کیا اور بھارتی پائلٹس بے بس ثابت ہوئے، بھارتی فضائیہ کے مجموعی نقصانات میں 4 رافیل ، مگ 29، ایس یو 30 اور ہیرون ڈرون شامل ہیں۔ 10 مئی کو JF-17 بلاک-3 نے ادھم پور میں بھارتی دفاعی نظام S-400 کو ناکارہ بنا کر تباہ کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے برنالا میں واقع بھارتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر کے بھارتی فضائیہ کو ایک اور شدید دھچکا پہنچایا، یہ پہلا موقع تھا کہ جب کسی فضائیہ نے سائبر اور روایتی عسکری اقدامات کو یکجا کر کے مؤثر کارروائی کی۔

    واضح رہے کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں بھارتی طیاروں کی تباہی تسلیم کی تھی۔