Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فیلڈ مارشل  کی قیادت میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،عطا تارڑ

    فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر نمایاں سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں جنہیں دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ وہ اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع تھا "پاکستان کی سفارتی کامیابیاں”۔

    عطاء اللہ تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آج ایک مضبوط اور متوازن سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ مسلسل محنت، درست حکمتِ عملی اور مؤثر سفارتی عمل کا نتیجہ ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے فارن سروس افسران نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا۔ ان کے بقول، “ہماری فارن سروس کی عظیم روایات ہیں، جن پر ہمیں فخر ہے۔ مجھے فخر ہے کہ ہمارے سفارتکار آج بھی انہی روایات کو بخوبی آگے بڑھا رہے ہیں۔ ”انہوں نے کہا کہ سفارت کاری ایک فن ہے جو صرف سیکھنے سے نہیں بلکہ تجربے، فہم اور مسلسل محنت سے حاصل ہوتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ “دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اپنے ہزاروں شہریوں اور اہلکاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مگر افسوس کہ ہم پر الٹا دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزامات لگائے گئے۔”

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام واقعے کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کر دیا، حالانکہ پاکستان خود اس عفریت کا سب سے بڑا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موقف کو دوست ممالک نے بھی تسلیم کیا اور سفارتی کوششوں کے باعث دنیا بھر سے پاکستان کو بھرپور حمایت ملی۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو پہلگام واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی، جو شفافیت اور امن پسندی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنی دفاعی اور سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔انہوں نے کہا کہ “ہم نے اپنے سے چار گنا بڑی طاقت کو شکست فاش دی، ہماری مسلح افواج نے جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، اور معرکہ حق میں ہماری فضائیہ کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔”عطاء اللہ تارڑ نے بھارتی رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ کی طرح جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور آج بھی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “ہماری کوسٹ گارڈ نے بھارت کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک ملاح کو گرفتار کیا، جس نے خود اعتراف کیا کہ وہ بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہا تھا۔”انہوں نے کہا کہ بھارت کا میڈیا جھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف رہا، مگر پاکستان کے میڈیا نے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے دنیا کی توجہ حاصل کی۔ “بیانیے کی اس جنگ میں ہم نے حقائق اور سچائی کے ذریعے دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں۔”

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران معاشی اسٹریٹجک فریم ورک کا اجراء ایک بڑی پیشرفت ہے۔ “اب ہمارا ہدف ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی و تجارتی روابط کو مضبوط بنانا ہماری ترجیح ہے۔”اکستان نے نہ صرف سفارتی محاذ پر کامیابیاں حاصل کیں بلکہ معاشی اور دفاعی میدان میں بھی نئی بلندیوں کو چھونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔“ہم نے دوستی، امن، اور ترقی کا بیانیہ دنیا کے سامنے رکھا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر وہ مقام دیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔”

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے  پنجاب میں گوگل کروم بک فیکٹری لگانے کی پیشکش قبول کر لی

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب میں گوگل کروم بک فیکٹری لگانے کی پیشکش قبول کر لی

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے گوگل فار ایجوکیشن اور ٹیک ویلی کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    پنجاب میں گوگل کروم بک فیکٹری لگانے کی پیشکش، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بھرپور معاونت کی یقین دہانی کروا دی،پنجاب میں کروم بک (لیپ ٹاپ) کے لئے فیکٹری لگائی جائے گی،گوگل کروم بک میں تین بڑے اور اہم سافٹ ویئر بھی انسٹال کیے جائیں گے،طلبہ کے لئے آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹول کیٹ اور”اے آئی جیمنی“ انسٹال کیا جائے گا،انگلش لرننگ کے لئے” ریڈ آلانگ” سافٹ ویئر بھی گوگل کروم بک میں میسر ہوگا،گوگل کروم بک میں "کین وا ” سافٹ ویئر بھی مہیا کیا جائے گا،

    وفد کی سربراہی گوگل فار ایجوکیشن کے گلوبل ڈائریکٹر کیون کالیس نے کی، ٹیک ویلی کے سی آئی او عمرفاروق بھی موجود تھے،گوگل فار ایجوکیشن کے وفد نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے ویثرنری قیادت کو سراہا،گوگل فار ایجویشن کے وفد نے ایجوکیشن خاص طور بچیوں کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید تعلیم کے لئے وزیراعلی مریم نواز کےویژن کو متاثر کن قرار دیا،گوگل فارایجوکیشن کے اعلیٰ سطح وفد نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو بریفنگ دی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ایجوکیشن کے فروغ کے لئے گوگل فار ایجوکیشن کی معاونت کو سراہا،

    گوگل فارایجوکیشن نے پنجاب میں سرکاری سکولوں کے 2ہزار زائد ٹیچرز کو ٹریننگ دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیگر اساتذہ کو بھی آئی ٹی ٹریننگ دی جائے گی،گوگل فارایجوکیشن سرکاری سکولوں کے طلبہ کی آئی ٹی ٹریننگ پر بھی کام کررہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنانے پر کام کررہے ہیں۔پنجاب کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس حب بنانا ہمارا عزم ہے۔پنجاب میں گوگل کروم بک فیکٹری کے قیام کے لئے بھرپور معاونت کریں گے

  • ٹیکس ریٹرن فائلرزکی تعداد 49 سے بڑھ کر 59 لاکھ ہوگئی،چیئرمین ایف بی آر

    ٹیکس ریٹرن فائلرزکی تعداد 49 سے بڑھ کر 59 لاکھ ہوگئی،چیئرمین ایف بی آر

    چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ٹیکس سے متعلق بجٹ میں منظور ہونے والے اقدامات پر عمل پیرا ہیں اور ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے، ایف بی آر کو تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے، مؤثر اقدامات کے باعث ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے ، ٹیکس اصلاحات میں وقت درکار ہوتا ہے، وفاق سے 15فیصد اور صوبوں سے 3 فیصد ریونیو اکٹھاکرنا ہے، ریونیو کےلیے صوبوں کے اوپر اتنا دباؤ نہیں جتنا وفاق پر ہے، انفرادی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی شرح میں اضافہ ہواہے، ٹیکس ریٹرن فائلرزکی تعداد 49 سے بڑھ کر 59 لاکھ ہوگئی ہے جب کہ پہلی بار ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، ،ہمیں ٹیکس وصولی کو جی ڈی پی کے 18فیصد پر لے کر جانا ہے۔

  • 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری،اہم نکات،پی ٹی آئی کا ردعمل بھی آ گیا

    27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری،اہم نکات،پی ٹی آئی کا ردعمل بھی آ گیا

    حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری کرلی، اہم نکات سامنے آگئے۔

    رپورٹ کے مطابق ملک میں آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس کے چیف جسٹس ہی سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہوں گے، ججز ٹرانسفر میں چیف جسٹس کی اجازت اور متعلقہ جج کی رضامندی کی شق ختم کرنے کی تجویز ہے، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا طریقۂ کار بھی تبدیل کیا جائے گا۔ترامیم میں این ایف سی ایوارڈز کے حوالے سے تبدیلیاں بھی شامل ہیں، این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی بھی تجویز ہے، ایگزیکٹو مجسٹریٹ سمیت اہم تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق تعلیم اور محکمہ پاپولیشن ویلفیئر واپس وفاق کے پاس چلے جائیں گے، 27ویں ترمیم میں فوج کی کمانڈ کے حوالے سے ترمیم بھی شامل ہے، حکومت مجوزہ ترامیم منظور کرانے کیلئے اتحادیوں کو اعتماد میں لے گی، اتفاق رائے ہونے پر حکومت آئینی ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ریاستی ایوانوں سے ایک بار پھر ایک نئی آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ابھی 26ویں آئینی ترمیم کے زخم تازہ ہیں اور اب 27ویں آئینی ترمیم کی بات کی جا رہی ہے۔ 1973ء کا آئین پاکستان کا متفقہ آئین ہے، جسے ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود سمیت تمام سیاسی قیادت نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔ یہ آئین ریاست کی تمام اکائیوں کو ایک خوبصورت بندھن میں جوڑے رکھتا تھا۔ بدقسمتی سے اب بھٹو صاحب کے جانشین اور اُن کی اپنی جماعت اسی آئین کے چہرے کو مسخ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔موجودہ پارلیمان فارم 47 کی پیداوار ہے، جسے اس نوعیت کی بڑی آئینی ترمیم کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ ملک کی تمام جمہور پسند قوتوں کو اس ناجائز ترمیم کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ سب کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا اور یہ نظام اپنی بنیادوں سمیت زمین بوس ہو جائے گا۔

    علاوہ ازیں 27 ویں آئینی ترمیم کےلئے حکومت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس رواں ہفتے بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا،سینیٹ کا اجلاس کل اور قومی اسمبلی کا اجلاس پرسوں بلانے کےلئے سمری وزیر اعظم کو ارسال کردی گئی ہے،

    دوسری جانب وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے باضابطہ ڈرافٹ پر اب تک کوئی کام شروع نہیں ہوا لیکن وقتاً فوقتاً اس پر بات چیت ضرور ہوتی رہتی ہے، آرٹیکل 243 میں ترمیم کا مقصد معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تحفظ دینا ہے، دہشت گردی اور انتہا پسندی سمیت دیگر اہم مسائل سے متعلق آگہی کے لیے مرکزی تعلیمی نصاب ہونا ضروری ہے،ہ آئینی عدالتوں کا قیام 26ویں ترمیم کا بھی حصہ تھا اب بھی اس پر بات ہوئی ہے، آبادی پر کنٹرول کے لیے بھی مرکزی سوچ کا ہونا بہت اہم ہے۔

  • کراچی میں ہم جنس پرستوں کی پارٹی،مشی خان پھٹ پڑیں

    کراچی میں ہم جنس پرستوں کی پارٹی،مشی خان پھٹ پڑیں

    پاکستانی اداکارہ، اینکر اور سماجی کارکن مشّی خان نے کراچی میں ہونے والی ہیلووین پارٹیوں سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔

    مشّی خان ہمیشہ سماجی اور اخلاقی معاملات پر کھل کر بات کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک مخصوص ہیلووین پارٹی منعقد ہوئی، جس میں مبینہ طور پر ہم جنس پرستوں کو انکے ساتھیوں سمیت مدعو کیا گیا تھا،پاکستان کے مختلف شہروں سے خواتین آئی ہوئی تھیں، مجھے اطلاع ملی کہ یہ پارٹی کھلی فحاشی کے زمرے میں آتی ہے، مگر حکام کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جا رہی،لوگ کہیں گے کہ میں ہر وقت نصیحت کرتی ہوں، مگر میں سچ بولنے سے باز نہیں آؤں گی، یہ ہمارے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ایسی پارٹیاں کھلے عام منعقد کی جا رہی ہیں اور کوئی ان پر پابندی نہیں لگاتا

    سوشل میڈیا پر ان کے بیان پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے جہاں ایک صارف نے لکھا، ’حکام آخر کب حرکت میں آئیں گے؟‘، دوسرے نے کہا، ’استغفراللّٰہ، ایسی چیز کبھی نہیں منائی‘، جبکہ کئی صارفین نے مشّی خان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا، ’آپ بالکل درست کہہ رہی ہیں۔

  • مریم نواز  کی انتخابی کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد

    مریم نواز کی انتخابی کامیابی کے خلاف دائر درخواست مسترد

    لاہور کے الیکشن ٹربیونل نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حلقہ پی پی 159 کے انتخاب کو درست قرار دے دیا ، الیکشن ٹربیونل نے پی ٹی آئی امیدوار مہر شرافت کی درخواست کو مسترد کردیا

    الیکشن ٹربیونل لاہور کے جج رانا زاہد محمود نے پی پی 159سے مہر شرافت کی انتخابی عذرداری پر فیصلہ سنا دیا جس میں ٹربیونل نے مریم نواز کی کامیابی کے خلاف دائر عذرداری کو مستردکردیا،الیکشن ٹربیونل کے مطابق عذرداری میں الیکشن ایکٹ2017 کے رول 144 کوپورا نہیں کیا گیا اور انتخابی عذرداری کے ہر صفحے پر دستخط موجود نہیں ہیں،الیکشن ٹربیونل کا کہنا ہے کہ بیان حلفی میں اوتھ کمشنرکی تصدیق والے صفحے پر نام اور والد کا نام نہیں لہٰذا انتخابی عذرداری کو باقاعدہ ٹرائل کے لیے پیش نہیں کیا جاسکتا،واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مہر شرافت علی نے مریم نواز کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔

  • بیٹی کو قتل کرنے والے باپ کی درخواست ضمانت مسترد

    بیٹی کو قتل کرنے والے باپ کی درخواست ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ میں غیرت کے نام پر بیٹی کو قتل کرنے والے باپ کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے بیٹی کا تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر قتل کرنے والے باپ کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔

    جسٹس اسجد جاوید گھرال نے محمد سلیم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ ملزم محمد سلیم کی جانب سے ایڈووکیٹ اویس صدیقی نے دلائل دیے، مؤقف اپنایا گیا کہ تھانہ صدر جڑانوالہ ضلع فیصل آباد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے 29 جون 2024 کو ملزم کے خلاف بیٹی کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا۔ ملزم یکم جولائی 2024 سے جیل میں قید ہے۔ ملزم کو ہمراہی ملزم کے بیان پر گرفتار کیا گی، پولیس کے علاوہ وقوعے کا کوئی گواہ نہیں ہے۔ عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم کو بیٹے کے بیان پر گرفتار کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں قتل کے ایسے مقدمات میں پولیس ہی مدعی اور گواہ بنتی ہے۔ اپنی بیٹی کے قتل کا ملزم بننے کی بجائے باپ مدعی کیوں نہیں بنا؟ چھ ماہ گزر گئے باپ کی جانب سے بیٹی کے قتل کی کوئی درخواست درج نہیں کروائی گئی۔ ماتحت عدالت کو تین ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دیتے ہیں،سرکاری وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم باپ کے ساتھ لڑکی کی والدہ،بھائی اور بھابھی بھی قتل میں نامزد ملزم ہیں۔ ملزمان کی نشان دہی پر مقتولہ کی لاش گڑھے سے نکالی گئی۔ علاقہ کے چار گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

  • بھارت کا وسطی ایشیا میں قدم جمانےکا خواب بکھرگیا

    بھارت کا وسطی ایشیا میں قدم جمانےکا خواب بکھرگیا

    بھارت کا وسطی ایشیا میں قدم جمانےکا خواب بکھرگیا،تاجکستان نے عینی ایئربیس کو بھارتی فوج سے خالی کروا لیا،دس کروڑ ڈالرکی بھارتی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی۔

    غیرملکی میڈیا کےمطابق عینی ایئربیس بھارت کا بیرون ملک واحد فوجی اڈہ تھا،جو 25 برس سے زائد بھارتی فوج کے کنٹرول میں تھی،بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے عینی ایئربیس کے انخلاکو بھارت کی اسٹریٹجک ناکامی قرار دیا۔عینی ایئربیس خطےمیں بھارت کی خفیہ سرگرمیوں کامرکزتھا،مکروہ مقاصد کےحصول کیلئےبھارت نے ایئربیس پر 10کروڑ ڈالرکی بھاری سرمایہ کاری بھی کر رکھی تھی،اس ایئربیس کےذریعےبھارت نہ صرف افغانستان میں مداخلت کرتا تھا،بلکہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں سے رابطوں کا بھی اہم ذریعہ تھا۔

  • اماراتی پرچم کی توہین پر 25 سال قید، 5 لاکھ درہم جرمانہ مقرر

    اماراتی پرچم کی توہین پر 25 سال قید، 5 لاکھ درہم جرمانہ مقرر

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں آج یومِ پرچم کے موقع پر حکومت نے پرچم کی حرمت و عزت برقرار رکھنے کے لیے سخت ترین ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق، اماراتی پرچم کی توہین یا اس کا غلط استعمال ایک سنگین جرم تصور کیا جائے گا جس پر 25 سال تک قید اور 5 لاکھ درہم (تقریباً 3 کروڑ 78 لاکھ پاکستانی روپے) تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ پرچم کے ڈیزائن یا رنگوں کو کیک، غباروں، کپڑوں یا کسی اشتہاری مہم میں استعمال کرنا توہین کے زمرے میں آئے گا۔ اس کے علاوہ پرچم کو تجارتی یا ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی قانونی طور پر ممنوع ہے۔وزارتِ انصاف اور وزارتِ داخلہ نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ یومِ پرچم کے جشن کے دوران حب الوطنی کے جذبے کا اظہار ضرور کریں، لیکن قانون کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اماراتی پرچم اتحاد، وقار اور قومیت کی علامت ہے، اور اس کے تقدس کی حفاظت ہر شہری اور رہائشی کا قومی و اخلاقی فریضہ ہے۔

    واضح رہے کہ یو اے ای میں ہر سال 3 نومبر کو یومِ پرچم قومی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے، جس میں سرکاری عمارات، اسکولوں، اداروں اور گھروں پر پرچم لہرائے جاتے ہیں۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پرچم کو مخصوص طریقہ کار کے مطابق بلند کریں، زمین پر نہ گرنے دیں، اور غفلت یا ناسمجھی میں اس کی توہین سے بچیں۔

  • کیرالہ، سیاحتی مقام پر خاتون سیاح ہراسانی کا شکار

    کیرالہ، سیاحتی مقام پر خاتون سیاح ہراسانی کا شکار

    کیرالہ کے معروف سیاحتی مقام منار میں ایک ممبئی سے آئی خاتون سیاح کے ساتھ مبینہ طور پر مقامی ٹیکسی یونین کے ڈرائیوروں کی ہراسانی کے واقعے نے ریاستی انتظامیہ اور سیاحت کے شعبے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    متاثرہ خاتون جنوی ، جو ممبئی میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، نے الزام لگایا کہ انہیں آن لائن ٹیکسی سروسز (اُوبر یا اولا) استعمال کرنے سے روکا گیا اور مقامی ٹیکسی استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے مطابق، پولیس اور کیرالہ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے بھی کوئی عملی مدد فراہم نہیں کی۔ بعد ازاں، جنوی نے اپنی روداد سوشل میڈیا پر ویڈیو کی صورت میں شیئر کی جس کے بعد پولیس نے ازخود مقدمہ درج کیا۔ جنوی نے اپنے تین منٹ کے ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کا سفر کوشی (Kochi) سے شروع ہوا، پھر وہ الپّی (Alleppey) گئیں جہاں کے لوگ بہت مہمان نواز اور خوش اخلاق تھے۔ تاہم جب وہ منار روانہ ہوئیں، تو وہاں کے حالات نے ان کا پورا تاثر بدل دیا۔ان کے مطابق، جب وہ اپنے BnB ہوسٹ سے روانگی کی تیاری کر رہی تھیں تو میزبان نے انہیں خبردار کیا کہ منار میں اُوبر یا اولا گاڑیوں کی اجازت نہیں۔ "ہوسٹ نے کہا یہ سہولت not available نہیں بلکہ not allowed ہے۔”ہوسٹ نے انہیں مشورہ دیا کہ اگر وہ پھر بھی جانا چاہتی ہیں تو ڈرائیور کو کسی الگ مقام پر بلائیں تاکہ یونین کے لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں۔

    جنوی کے مطابق، جیسے ہی وہ اور ان کے ساتھی آن لائن بک کی گئی گاڑی میں سامان رکھ رہے تھے، 5 سے 6 افراد وہاں پہنچ گئے۔”وہ شاید ہمیں فالو کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمارے ڈرائیور کو دھمکایا کہ وہ ہمیں نہیں لے جا سکتا۔ ہم زبان نہیں سمجھ سکے مگر ان کے لہجے کی جارحیت اور خوف صاف محسوس ہورہا تھا۔”خاتون کے مطابق، انہوں نے فوری طور پر پولیس کو مدد کے لیے فون کیا، مگر پولیس نے ڈرائیور یونین کے نمائندوں سے بات چیت کی اور انہیں کچھ نہیں کہا۔بعدازاں پولیس نے ان سے کہا کہ وہ مقامی ٹیکسی استعمال کریں، حالانکہ ان کے پاس پہلے سے ایپ بیسڈ ٹیکسی بک تھی۔ یہی جواب انہیں کیرالہ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ سے بھی ملا۔جنوی نے اپنے ویڈیو میں کہا "ہر کوئی ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا م آپ کو اجازت نہیں ہے۔ آپ یہ نہیں چن سکتیں کہ آپ کس کے ساتھ سفر کریں۔ آپ کو محفوظ محسوس کرنے کا حق بھی نہیں، ایک خاتون ہونے کے ناتے وہ ایپ بیسڈ ٹیکسی سروس میں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں کیونکہ سفر کی لوکیشن ٹریک کی جا سکتی ہے،دوستوں اور اہل خانہ سے شیئر کی جا سکتی ہے،کسی بھی شکایت کی صورت میں سائبر سکیورٹی پروٹوکول کے تحت کارروائی ممکن ہے،”لیکن یہاں مجھے ان لوگوں کے ساتھ جانے پر مجبور کیا جا رہا تھا جو چند منٹ پہلے ہمیں دھمکا رہے تھے۔”

    جنوی نے بعد میں تحقیق کے دوران پایا کہ کیرالہ ہائی کورٹ نے دراصل آن لائن ٹیکسی سروسز کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ “یہ شہری کا آئینی حق ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ وہ کس کے ساتھ سفر کرنا چاہتا ہے۔”جنوی نے اپنی ویڈیو میں مقامی ٹیکسی ڈرائیوروں کی دھمکیوں اور پولیس کی بے حسی کے مناظر بھی شامل کیے۔ ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد منار پولیس نے ازخود مقدمہ درج کیا ہے،

    پچھلے ایک سال کے دوران کیرالہ کے ضلع ایڈوکی (Idukki) کے پہاڑی علاقوں میں متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں مقامی ٹیکسی یونینوں نے آن لائن ٹیکسی ڈرائیوروں پر حملے کیے یا انہیں کام سے روکا۔
    یہ معاملات نہ صرف سیاحوں کی سلامتی بلکہ کیرالہ کی سیاحت کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

    ویڈیو کے اختتام پر جنوی نے کہا "مجھے کیرالہ سے محبت ہے، یہ جگہ جنت سے کم نہیں۔ لوگ بہت اچھے ہیں، مگر میں شاید دوبارہ ایسے مقام پر نہیں آ سکوں گی جہاں مجھے محفوظ محسوس کرنے کی اجازت نہ ہو۔کیرالہ کے محکمہ سیاحت نے اس واقعے پر تحقیقات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ریاستی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ سیاحوں کے تحفظ کے لیے واضح اقدامات کرے اور مقامی ٹیکسی یونینوں کی اجارہ داری کو ختم کرے۔