Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکا میں موجود 2 ہزار افغان شہریوں کے دہشتگرد تنظیموں سے روابط

    امریکا میں موجود 2 ہزار افغان شہریوں کے دہشتگرد تنظیموں سے روابط

    امریکا میں موجود 2 ہزار افغان شہریوں کا دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔

    نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکا آنے والے افغان شہریوں کی جانچ کے سست عمل پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ آپریشن الائیز ویلکم کے تحت 18 ہزار افغان شہریوں امریکا میں داخل ہوئے،بائیڈن انتظامیہ کے تحت امریکا میں آنے والے افغان شہریوں کی صحیح جانچ نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن الائیز ویلکم کے تحت آنے والے ہر ایک افغان شہری کا قریب سے جائزہ لیا جارہا ہے اور اس حوالے سے تمام ادارے متحرک ہیں،امریکا آنے والے 18 ہزار میں سے 2 ہزار افغان شہریوں کے دہشت گرد تنظیموں سے براہ راست یا ممکنہ روابط ہیں، داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں مسلسل امریکی سرزمین پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اور یہ تنظیمیں امریکا میں ان لوگوں کی تلاش میں ہے جو یہ کام کر سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس خطرے کو لے کر کافی سنجیدہ ہے۔

    انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے غیر قانونی طور پر امریکا آنے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔

  • ایف سی ہیڈکوارٹرز حملہ، دہشت گردانہ نیٹ ورک بے نقاب

    ایف سی ہیڈکوارٹرز حملہ، دہشت گردانہ نیٹ ورک بے نقاب

    پشاور: ایف سی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث دہشت گرد نیٹ ورک کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق حملے میں شامل خودکش حملہ آوروں کا تعلق ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے تھا، جنہوں نے واردات سے قبل پشاور میں چند روز قیام کیا اور شہر کے مختلف راستوں سے مکمل واقفیت حاصل کی۔تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ خودکش حملہ آوروں کو نہ صرف رہائش فراہم کی گئی بلکہ خودکش جیکٹس کی تیاری اور دیگر لاجسٹک سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے شہر میں قیام کے دوران حساس مقامات کا جائزہ لیا اور ایف سی ہیڈکوارٹرز تک رسائی کے ممکنہ راستوں کی نشاندہی کی، جس کے بعد حملے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دی گئی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے سلسلے میں اب تک 150 سے زائد افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، جن میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد، سہولت کار اور رابطہ کار شامل ہیں۔ تفتیشی عمل کے دوران اہم شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر مزید گرفتاریوں اور کارروائیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے میں سیکیورٹی فورسز کے تین اہلکار شہید جبکہ پانچ زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے دوران خودکش بمبار سمیت تین حملہ آور بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور حملے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • 27 ویں آئینی ترمیم،پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف بیانیہ،اے آئی سے لکھا مضمون پکڑا گیا

    27 ویں آئینی ترمیم،پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف بیانیہ،اے آئی سے لکھا مضمون پکڑا گیا

    نیوز ویب سائٹ پر شائع شدہ مضمون جس میں پاکستان کے نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور مبینہ 27ویں آئینی ترمیم کو نشانہ بنایا گیا ،خود نہیں بلکہ اے آئی سے لکھوایا گیا ہے، یہ مضمون نہ صرف حقائق سے عاری ہے بلکہ اس میں استعمال ہونے والی زبان اور ساخت واضح طور پر مصنوعی ذہانت (ChatGPT) کے استعمال کی نشاندہی کرتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق مضمون میں بار بار استعمال ہونے والے “–” جیسے نشانات، غیر فطری جملہ سازی، حد سے زیادہ عمومی تجزیہ اور مخصوص تکنیکی اصطلاحات کا غیر ضروری تکرار اس بات کا ثبوت ہے کہ مضمون کسی انسانی صحافتی تحقیق کا نتیجہ نہیں بلکہ مکمل طور پر AI-generated تحریر ہے۔عام صحافتی یا ادبی تحریر میں عموماً کوما ",” یا زیادہ سے زیادہ ایک ڈیش "-” استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس مضمون میں دوہری لکیروں کا غیر معمولی استعمال ایک معروف چیٹ پی ٹی دستخط سمجھا جاتا ہے۔

    مضمون میں پاکستان کے نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول کو غیر محفوظ، غیر شفاف اور سیاسی اثر و رسوخ کا شکار ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، جو کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقائق کے بالکل برعکس ہے۔پاکستان کا نیوکلیئر کمانڈ سسٹم دنیا کے محفوظ ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے اور اسے اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن کے ذریعے مکمل پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جاتا ہے، جس پر کسی بھی سیاسی یا غیر آئینی دباؤ کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔مضمون میں جس نام نہاد 27ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیا گیا، وہ یا تو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی گئی یا پھر جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔ آئینِ پاکستان میں کسی بھی ترمیم کا تعلق ایٹمی کمانڈ سے جوڑنا سنگین لاعلمی یا بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا تصور کیا جاتا ہے۔

    اس نوعیت کے مضامین اکثر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو متنازع بنانے کی بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہوتے ہیں، جنہیں مقامی آواز کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد اس مقصد کے لیے ایک نیا اور خطرناک ہتھیار بنتا جا رہا ہے،مضمون کی زبان، ساخت اور پیٹرن اس قدر واضح ہیں کہ لکھنے والےکے لیے اے آئی کے استعمال سے انکار ممکن نہیں رہا۔ یوں وہ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی اور ان کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

  • بلوچستان، خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف بھرپور کاروائیاں جاری

    بلوچستان، خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف بھرپور کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا و بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    حکام کے مطابق کرم کے علاقے مندان میں شدت پسندوں نے ایک شہری پک اپ گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک قبائلی مزدور جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے گاڑی پر فائرنگ کی، جس سے احمد خان چمکنی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک اور مسافر زخمی ہو گیا۔ حملے کے بعد شدت پسندوں نے گاڑی کو آگ لگا دی، جس سے وہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئی۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی، تاہم حکام نے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے بنوں ضلع کے مامش خیل علاقے میں مشترکہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران ایک اہم شدت پسند کو ہلاک جبکہ چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، اور اسلحہ، گولہ بارود اور شدت پسند سرگرمیوں سے متعلق مواد برآمد کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن 12 دسمبر کو آدھی رات کے بعد شروع ہو کر صبح 10 بجے تک جاری رہا۔ یہ کارروائی 8 دسمبر کو انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے تھریٹ الرٹ کے بعد کی گئی، جس میں بنوں اور گردونواح میں 15 سے 16 رکنی شدت پسند سیل کی موجودگی کی اطلاع دی گئی تھی۔ مبینہ طور پر اس سیل کی قیادت برکت اللہ کر رہا تھا، جس کی نقل و حرکت کو تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا تھا۔چھاپے کے دوران برکت اللہ فرار ہونے کی کوشش میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے ایک ایم فور رائفل برآمد ہوئی۔ آپریشن کے دوران چار دیگر مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ برآمد ہونے والے سامان میں ایک ایم فور رائفل، تین سب مشین گنز، ایک شاٹ گن، ایک پستول، چار دستی بم، متعدد نمبر پلیٹس لگی ٹویوٹا پریئس گاڑی، کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کی تفصیلات، شناختی کارڈز، میگزین پاؤچز، 11 میگزین، 300 سے زائد مختلف اقسام کی گولیاں، موبائل والٹ سم، ایک رجسٹر اور 93,150 روپے نقد شامل ہیں۔آپریشن کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر مزید کارروائیاں شروع کیں، جن میں گرفتار ملزم امین اللہ سے منسلک اسلحہ کی دکان کو سیل کرنا بھی شامل ہے۔ گروہ کے لاجسٹک نیٹ ورک اور مالی ذرائع کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ مشتبہ شدت پسند کو ہلاک جبکہ چار دیگر کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ چھاپہ علاقے میں ایک ٹھکانے پر مشتبہ شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر مارا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ شخص مارا گیا جبکہ چار کو حراست میں لے لیا گیا۔موقع سے ایک لاکھ روپے سے زائد نقد رقم، ہونڈا سٹی گاڑی، اسلحہ، دستی بم اور دیگر مواد برآمد کیا گیا۔ گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بنوں جنوبی خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہے۔

    ایک علیحدہ واقعے میں منگل کی رات شدت پسندوں نے ضلع میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے حملہ پسپا کر دیا، جس کے نتیجے میں کئی حملہ آور ہلاک اور زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق پانچ پولیس اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ جنوبی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، بشمول بنوں اور لکی مروت، میں مقامی آبادی نے شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ واقعات میں تختی خیل کے علاقے میں مسلح شہریوں نے کئی شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا اور دیگر کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں شدت پسندوں نے جوابی کارروائی میں کواد کاپٹر کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا، جس سے آٹھ بچے زخمی ہو گئے۔

    حکام کے مطابق شدت پسندوں نے بنوں میں شیخ لندک پولیس چیک پوسٹ پر کواڈکاپٹر کے ذریعے حملہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق کواڈکاپٹر سے گرایا گیا دھماکہ خیز مواد چیک پوسٹ کے قریب پھٹ گیا، جس سے زور دار دھماکہ ہوا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی چیک پوسٹ کو گزشتہ رات بھی نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ تازہ حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    حکام اور قبائلی عمائدین نے وادی تیراہ میں جاری بدامنی سے متاثرہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے 27 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس معاہدے میں بے گھر خاندانوں کی محفوظ واپسی، تباہ شدہ گھروں اور زمینوں کا معاوضہ، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر، بنیادی سہولیات کی فراہمی، آمدورفت کی سہولت اور واپسی کے عمل کی نگرانی کے لیے مشترکہ جرگہ شامل ہے۔ ایجنڈے کی توثیق کے بعد قبائلی عمائدین نے مجوزہ احتجاجی مظاہرے منسوخ کر دیے ہیں۔برقمبر خیل، ملک دین خیل، شلوبار، آدم خیل، اکاخیل اور زاخاخیل سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں خاندان، جو بارات اور پشاور منتقل ہو گئے تھے، سیکیورٹی انتظامات مکمل ہونے کے بعد واپس لوٹنے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ کالعدم مسلح گروہوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان برسوں سے جاری جھڑپوں کے بعد علاقے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جن کے باعث تعلیم، مقامی بازار اور روزمرہ زندگی متاثر ہوئی تھی۔ حکام کے مطابق ایجنڈے پر عمل درآمد اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق برکھان میں فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں دو نوجوان جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔ مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔حکام کے مطابق صنعتی شہر حب میں نامعلوم شخص نے پاکستان کوسٹ گارڈز کے کیمپ پر دستی بم پھینکا، تاہم بم پھٹ نہ سکا اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دستی بم کیمپ کے باہر سے برآمد کر لیا گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی فوری طور پر طلب کیا گیا، جس نے بم کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا۔

    بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن (BGTOA) کی ہڑتال جمعرات کو پانچویں روز میں داخل ہو گئی، جس کے باعث صوبے بھر میں کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئیں۔ ترجمان روزی خان مندوخیل کے مطابق ہڑتال مکمل رہی اور سامان کی لوڈنگ و ان لوڈنگ مکمل طور پر بند رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کے اشتراک سے ملک گیر سطح پر جاری رہے گی جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔یہ ہڑتال پنجاب حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر عائد بھاری جرمانوں کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ ٹرک مالکان نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں بشمول ہزار گنجی ٹرک اسٹینڈ میں گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں، جس سے تجارت اور ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ مندوخیل نے جرمانوں کو ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کے بغیر عائد کیے جانے کو ناانصافی قرار دیا

    حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خضدار میں آپریشن تیز کرتے ہوئے سات افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ مشتبہ افراد کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے گرفتار شدگان کی شناخت یا آپریشن کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تحقیقات جاری ہیں

  • پشاور میں بائیک سروس کی آڑ میں راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ

    پشاور میں بائیک سروس کی آڑ میں راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ

    پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور میں آن لائن بائیک سروس کے نام پر شہریوں کو لوٹنے کے متعدد واقعات سامنے آنے کے بعد پولیس نے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق جرائم پیشہ عناصر بائیک سروس فراہم کرنے والوں کا روپ دھار کر شہریوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور مناسب موقع ملتے ہی اسلحے یا دھمکی کے ذریعے شہریوں کو لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان واقعات میں اضافہ ہونے کے بعد پشاور پولیس نے تمام آن لائن بائیک سروس رائیڈرز کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے، تاکہ راہزنی میں ملوث عناصر کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں کے پی پولیس نے ایک مخصوص موبائل ایپ بھی تیار کی ہے، جس کی تفصیلات اور طریقۂ استعمال جلد عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

    ایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹریٹ کرائم میں ملوث جعلی بائیک رائیڈرز کی نشاندہی کے بعد آن لائن بائیک رائیڈرز کی تھانوں میں باقاعدہ رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی رائیڈر تھانے جا کر اپنی تصدیق اور اندراج کرا سکے گا، جس کے بعد اس کی شناخت پولیس ریکارڈ میں موجود ہوگی۔ایس ایس پی آپریشنز نے مزید کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متعدد وارداتوں میں بائیک رائیڈر خود شہریوں کو لوٹنے میں ملوث پائے گئے، جب کہ 20 سے زائد آن لائن بائیک رائیڈرز کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بائیک سروس استعمال کرتے وقت محتاط رہیں، صرف رجسٹرڈ رائیڈرز کی خدمات لیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس ہیلپ لائن پر دیں۔

  • فیض حمید کے فیصلوں کا خمیازہ آج بھی ملک بھگت رہا ہے،طارق فضل چوہدری

    فیض حمید کے فیصلوں کا خمیازہ آج بھی ملک بھگت رہا ہے،طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیض حمید سے متعلق فیصلہ تاریخی ہے، فوج کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی، فیصلے کے ملکی تاریخ میں دور رس نتائج نکلیں گے، فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کا فیصلہ پہلے پاکستان میں نہیں ہوا، طاقتور سمجھی جانیوالی شخصیت فیض حمید کیخلاف فیصلہ آیا، فیض حمید نے ریاستی عہدے کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا، ملک میں بحران فیض حمید کے دور میں جوڑ توڑ کے باعث پیش آیا، بانی اور فیض حمید کے گٹھ جوڑ کا فائدہ پی ٹی آئی کو ہورہا تھا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاست اور اداروں کیخلاف آج بھی منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، عوام اور اداروں کے درمیان تقسیم اور نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے، جیل میں بیٹھا شخص افواج کیخلاف نفرت پھیلا رہا ہے، فیض حمید کے فیصلوں کا خمیازہ آج بھی ملک بھگت رہا ہے، فیض حمید پولیٹیکل انجینئرنگ کرتے رہے۔طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی خود احتسابی پر عوام کا اعتماد بڑھا ہے، سعودی عرب نے حرمین شریفین کی حفاظت پاک فوج کے سپرد کی، کسی بھی پڑوسی ملک سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے، افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ذمہ دار افغان عوام نہیں، کسی ملک کو دہشتگرد حملوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دہشتگردی کیخلاف رویہ عدم تعاون کا ہے، پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لے، منفی سیاست کی مزید گنجائش نہیں، ملک کو ہر صورت محفوظ بنایا جائے گا، ملک کے چپے چپے کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔

  • کینیڈا کے ہائی کمشنر  کی سی ای او پی آئی اے ایئر وائس مارشل عامر حیّات سے ملاقات

    کینیڈا کے ہائی کمشنر کی سی ای او پی آئی اے ایئر وائس مارشل عامر حیّات سے ملاقات

    پی آئی اے اور کینیڈین ہائی کمیشن باہمی تعاون سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اضافے، ثقافتی وفود کے تبادلوں، فضائی رابطوں میں مزید بہتری کے لئے مل جل کر اقدامات کریں گے۔

    پاکستان میں تعینات کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے پی آئی اے ہیڈ آفس اسلام آباد میں سی ای او پی آئی اے ایئر وائس مارشل عامر حیّات سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات، فضائی رابطوں، تجارت، ثقافت اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق، ملاقات کے دوران کینیڈین ہائی کمشنر نے کینیڈین ایئر لائنز کے ساتھ کوڈ شیئر اور ایئر کارگو معاہدوں کے حوالے سے پی آئی اے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط کے فروغ اور تجارتی حجم میں قابلِ ذکر اضافہ متوقع ہے۔کینیڈین مصنوعات کی پاکستانی منڈیوں تک رسائی کے لئے پی آئی اے سہولت کاری کرے گی۔

    ہائی کمشنر نے پی آئی اے کو تجارت اور سیاحت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات میں شمولیت کی دعوت بھی دی، جس سے قومی ایئر لائن کو شمالی امریکہ کی وسیع مارکیٹ تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے گی۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور کینیڈا کے مضبوط اور دیرینہ تعلقات کی اہم کڑی ہے۔ پی آئی اے انتظامیہ کینیڈین ہائی کمیشن کے ساتھ مل کر فضائی سفر اور تجارت کے شعبوں میں مزید سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔
    کینیڈین ہائی کمیشن پی آئی اے کے نیٹ ورک میں توسیع کے لئے کینڈین فضائی کمپنیوں کے ساتھ کوڈ شیئر معاہدوں میں سہولت کاری کرے گی۔ جو قومی ایئر لائن کی بحالی، توسیع اور عالمی سطح پر اس کی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

  • رنگ روڈ پر شہری کو پیدل چلنا مہنگا پڑ گیا، مقدمہ درج

    رنگ روڈ پر شہری کو پیدل چلنا مہنگا پڑ گیا، مقدمہ درج

    لاہور رنگ روڈ پر ایک شہری کی انتہائی غفلت اور خطرناک انداز میں روڈ کراسنگ کرنے کے باعث پولیس نے تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ نمبر 3339/25 بجرم 283 تعزیراتِ پاکستان کے تحت اندراج کیا گیا۔

    انسپکٹر عامر محمود چشتی (SPO انچارج رنگ روڈ سرکل عبداللہ گل)، جو رنگ روڈ پر ٹریفک کنٹرول ڈیوٹی پر مامور تھے، اپنے ہمراہ اہلکار عفان 5260/JPO سرکاری گاڑی 716/GBG میں نواز شریف انٹرچینج کے قریب ایگزٹ فیز 6، پول نمبر 713 پر موجود تھے کہ اسی دوران ایک شخص نہایت تیز رفتاری سے پیدل دوڑتا ہوا ٹریفک کے بیچوں بیچ روڈ کراس کرنے لگا۔اہلکاروں کے مطابق ملزم نے انتہائی غفلت و لاپرواہی سے دوڑتے ہوئے،ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالا،اپنی اور دیگر شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرے میں ڈالا،گاڑیوں کی لین میں رکاوٹ پیدا کی،اہلکاروں نے بڑی مشکل سے مذکورہ شخص کو قابو کیا جس کی شناخت ارسلان ولد عمر دین قوم میو، سکنہ ملکو کی پنڈ ہیر لاہور، شناختی کارڈ نمبر 35201-8230307-1 بتائی گئی۔پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم کے اس خطرناک عمل پر متعلقہ دفعہ 283 کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی جس پر انسپکٹر عامر محمود چشتی نے تحریر استغاثہ مرتب کرکے تھانہ ڈیفنس سی بھجوا دیا۔

    تھانہ پولیس نے استغاثہ موصول ہونے پر مقدمہ درج کردیا جبکہ تفتیش کے لیے کیس انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔تفتیشی افسر اے ایس آئی محمد شہزاد نے بتایا کہ مقدمہ اندراج کے ساتھ ہی SHO تھانہ ڈیفنس سی کو بھی معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔واقعہ 10 دسمبر 2025 کی دوپہر 2 بجکر 55 منٹ پر پیش آیا جبکہ مقدمہ پولیس ڈاکومنٹیشن کے بعد درج کرلیا گیا۔

  • لاہور ہائیکورٹ کا پارکوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا پارکوں سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کیس میں خبردار کیا ہے کہ اگر تحفظات دور نہ کیے گئے تو ناصر باغ پراجیکٹ روک دیا جائے گا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی، ممبر جوڈیشل کمیشن ، اظہر صدیق ایڈووکیٹ اور میاں عرفان اکرم سمیت دیگر پیش ہوئے،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ اورنج لائن بن چکی ہے، روڈا بننے جا رہا ہے، پتہ نہیں کیا ہوگا، میرے فیصلے موجود ہیں، ڈویلپمنٹ ہوسکتی ہے مگر گرین ڈویلپمنٹ بھی کوئی چیز ہے، ناصر باغ سمیت کئی تاریخی مقامات لاہور کی پہچان ہیں، ڈی جی ایل ڈی اے ناصر باغ پراجیکٹ کےبارے میں ماہر تعمیرات کو مطمئن کریں،ماہر تعمیرات رضا علی دادا نے عدالت کو بتایا کہ یہ پراجیکٹ ناصر باغ کی جگہ پر مناسب نہیں، اس پر عدالت نے ڈی جی ایل ڈی کو ان سے پراجیکٹ کے بارے میں ملاقات کی ہدایت کی، عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ لاہور میں چھوٹے بڑے 804 پارک ہیں۔

    جسٹس شاہد کریم نے پی ایچ اے کو تمام پارکوں میں تجاوزات ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے اور ریمارکس دیئے کہ درخت اور ہریالی کو ختم کرنا کسی صورت درست نہیں،دوران سماعت جسٹس شاہد کریم نے تمام شوگر ملز میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کرنے کا حکم بھی دیا، ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ محکمہ ماحولیات نے اپنے رولز میں ترمیم کی جس کے تحت ناصر باغ سمیت کچھ پراجیکٹس پر این او سی کی ضرورت نہیں،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ناصر باغ سمیت کئی تاریخی مقامات کی اہمیت ہے، کسی بھی ادارے کو پراجیکٹ شروع کرنے سے پہلے اس اہمیت کو سامنے رکھنا چاہئے، ڈی جی ایل ڈی اے، ماہرین اور ممبر جوڈیشل کمیشن سے میٹنگ کریں اگر تحفظات دور نہ کئے تو مجبوراً ناصر باغ پراجیکٹ روکنا پڑے گا،پی ایچ اے قانون کے مطابق درختوں کی پلانٹیشن کرے، لاہور میں جو پارک ٹھیک حالت میں نہیں، ان کو بحال کیا جائے، جن پارکس میں تجاوزات ہیں ان کو ختم کریں پارکس کو بحال کریں تاکہ بچے وہاں کھیل سکیں۔

  • زندگی اور ای شافی کا صحت کی سہولیات کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے اشتراک

    زندگی اور ای شافی کا صحت کی سہولیات کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے لیے اشتراک

    پاکستان کے ڈیجیٹل ہیلتھ اور فنانشل ایکو سسٹم میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر زندگی اور ای شافی نے اسٹریٹیجک شراکت داری قائم کر لی ہے، جس کا مقصد جدت کو آگے بڑھانا اور خصوصاً دور دراز اور محروم علاقوں میں عوام کے لیے ڈیجیٹل صحت کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

    اس اشتراک کے تحت ای شافی کے مکمل ٹیل ہیلتھ ایکو سسٹم اور زندگی کے جدید ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے صارفین چوبیس گھنٹے صحت کی خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور محفوظ، فوری ڈیجیٹل ادائیگیاں ایک ہی مربوط پلیٹ فارم کے ذریعے کر سکیں گے۔

    اس مفاہمت نامے پر زندگی کے چیف آفیسر نعمان اظہر اور ای شافی کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر شافیق انور نے دستخط کیے، جبکہ دونوں اداروں کی سینئر قیادت بھی اس موقع پر موجود تھی۔نعمان اظہر، چیف آفیسر زندگی نے کہا کہ "اس شراکت داری کے ذریعے ہم زندگی کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام اور ای شافی کی جدید صحت کی خدمات کو یکجا کر کے حقیقی تبدیلی لا رہے ہیں۔ یہ ہمارے اس عزم کی عکاسی ہے کہ ہم محروم علاقوں تک پہنچیں اور وہاں صحت کی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنائیں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔”

    شراکت داری پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شافیق انور، بانی و سی ای او ای شافی نے کہا "یہ اشتراک صرف ایک پارٹنرشپ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ زندگی کے ساتھ مل کر ہم ایک ایسے مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں ڈیجیٹل ہیلتھ اور ڈیجیٹل ادائیگیاں مل کر ان رکاوٹوں کو ختم کریں گی جن کی وجہ سے لوگ معیاری اور کم لاگت صحت کی سہولیات سے محروم رہے ہیں۔”

    یہ شراکت داری تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قدر بڑھاتی ہے،مریضوں کو بروقت اور سستی صحت کی سہولیات تک رسائی ملتی ہے، فراہم کنندگان کو مؤثر ڈیجیٹل ٹولز میسر آتے ہیں، اور معاشرے میں دیرپا مثبت اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ زندگی اور ای شافی مل کر پاکستان میں صحت اور مالی شمولیت کے مستقبل کو ازسرِنو تشکیل دے رہے ہیں، تاکہ ہر فرد، ہر جگہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایک مربوط اور آسان رسائی حاصل کر سکے۔