Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • "مادری زبان میں تعلیم بچے کی فکری نشوونما ،تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد ہے،سید سردار علی شاہ

    "مادری زبان میں تعلیم بچے کی فکری نشوونما ،تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد ہے،سید سردار علی شاہ

    وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ علم کی حقیقی منتقلی ہمیشہ زبان کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہے، اور زبانِ تدریس بچے کی سیکھنے، سمجھنے اور اظہار کی صلاحیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ وہ کراچی میں DARE-RC اور یو کے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کر رہے تھے۔

    اس اہم اجلاس میں ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، والدین، پالیسی سازوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مکالمے میں زبان و تعلیم کی پالیسی میں والدین، اساتذہ اور کمیونٹی کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی،وزیرِ تعلیم سندھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کثیراللسانی معاشرے میں تعلیم کو مؤثر پالیسی کے ذریعے فروغ دیا جا سکتا ہے، جس کی بنیاد زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم نہ صرف بچوں کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی کو بھی بہتر بناتی ہے۔

    سید سردار علی شاہ نے کہا کہ مؤثر تعلیمی پالیسی والدین اور اساتذہ کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مقامی زبانوں کا فروغ ثقافتی شناخت کے استحکام کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق، "ہمارے خطے کی زبانوں میں مساوات، رواداری، احترام اور برداشت جیسے موضوعات پر بھرپور لٹریچر موجود ہے، جو سماجی ہم آہنگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔”وزیرِ تعلیم سندھ نے اس موقع پر بتایا کہ مادری زبان میں تعلیم کے فروغ کے لیے سندھ حکومت نے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، جو ملک کے دیگر صوبوں سے مختلف اور نمایاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے قانون بھی موجود ہے، جس کے تحت ابتدائی جماعتوں میں بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جا رہی ہے۔سید سردار علی شاہ نے کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر زبانوں اور مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کو زبان اور ثقافت سے جوڑیں۔ ان کے مطابق، "بدقسمتی سے والدین نے انگریزی کو اہلیت کا معیار سمجھ کر بچوں کی تخلیقی سوچ کو محدود کر دیا ہے۔ اگر بچوں کو مادری زبان اور ثقافت سے دور کر دیا گیا تو وہ دوبارہ اس سے واپس جڑ نہیں پائیں گے۔”

    اجلاس کے اختتام پر مقررین نے سندھ حکومت کے تعلیمی اصلاحات کے اقدامات کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ زبان پر مبنی تعلیم کو قومی پالیسیوں میں مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ ہر بچے کو اپنی شناخت اور زبان کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔

  • کینیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، تمام 12 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

    کینیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، تمام 12 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

    کینیا کے جنوبی ساحلی علاقے کوالے کاؤنٹی میں ایک چھوٹا طیارہ المناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں سوار تمام 12 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    کینیا سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق حادثہ منگل کی صبح پیش آیا جب ایک نجی کمپنی کا چھوٹا طیارہ ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی زمین سے ٹکرا گیا۔ حادثے کے فوراً بعد طیارے میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس نے چند لمحوں میں پورے جہاز کو لپیٹ میں لے لیا۔کوالے کاؤنٹی کے کمشنر جولیئس کاریئوکی نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ طیارے میں سوار تمام 12 افراد غیر ملکی سیاح تھے۔ تاہم حکام ابھی تک ان کی شناخت اور قومیت کا تعین کرنے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے مقام پر ریسکیو ٹیمیں پہنچ چکی ہیں مگر اب تک کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کے آثار نہیں ملے۔

    عینی شاہدین کے مطابق طیارے نے مقامی ہوائی پٹی سے پرواز بھری تھی اور کچھ ہی دیر بعد توازن کھو بیٹھا۔ اس کے بعد طیارہ جنگل کے علاقے میں جا گرا اور زور دار دھماکے کے ساتھ تباہ ہوگیا۔فائر بریگیڈ، پولیس اور مقامی ریسکیو اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر آگ پر قابو پا لیا ہے جبکہ لاشوں کی تلاش اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجوہات جاننے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

  • پنجاب کے کسان کا استحصال نہیں ہونے دیں گے، چوہدری ذوالفقار علی اولکھ

    پنجاب کے کسان کا استحصال نہیں ہونے دیں گے، چوہدری ذوالفقار علی اولکھ

    مرکزی کسان لیگ کے چیئرمین چوہدری ذوالفقار علی اولکھ نے کہا ہے کہ پنجاب کے کسان کا استحصال نہیں ہونے دیں گے، حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مسترد کرتے ہیں، کسان کو اس کا جائز حق ملنا چاہیے،مارکیٹ میں آٹا، چینی سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی نااہلی ہے

    چوہدری ذوالفقار علی اولکھ کا کہنا تھا کہ کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن افسوس کہ ہمیشہ کسان کو اس کے حقوق نہیں ملتے،محنت کش طبقے کو اس کا جائز حق نہیں دیا جاتا،3500 روپے فی من گندم کی قیمت سے کسان کی لاگت کی قیمت ہی پوری نہیں ہو گی، پنجاب حکومت گندم کی قیمتوں کا کسانوں کے ساتھ مشاورت کر کے از سر نو تعین کرے، مرکزی مسلم لیگ کسانوں کی آواز بنے گی اور انکے جائز حقوق کے لئے انکے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی،پنجاب میں سیلاب میں کسانوں کی فصلیں،زمینیں تباہ ہو گئیں،حکومت کسانوں کو اس ضمن میں بھی ریلیف دے، مارکیٹ میں آٹا، چینی، سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کی نااہلی اور ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے،حکومت صرف اجلاسوں کے روئیداد کی بجائے غریب آدمی کو ریلیف دے.

  • فیلڈ مارشل  سید عاصم منیر کا مصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےمصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ کیا ہے،

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم عرب ممالک کا دورہ کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی شاندار مثال ہے،مصر، اردن اور سعودی قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے،فیلڈ مارشل کے ان اہم دوروں میں انسداد دہشت گردی، دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس اشتراک پر اہم بات چیت کی گئی ،فیلڈ مارشل کا دورہ مسلم ممالک کے مابین عسکری اتحاد اور یکجہتی کی مضبوط علامت ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ان دورں سے پاکستان کا خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے لیے کلیدی کردار اجاگر ہوا ہے، آرمی چیف کی فعال عسکری سفارتکاری پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ کا باعث ہے،معرکہ حق کے بعد کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت پاکستان عالمی افق پر اپنے مضبوط اور با وقار تشخص کے ساتھ ابھر رہا ہے

  • بینک مکرمہ لمیٹڈ کا 9 ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع

    بینک مکرمہ لمیٹڈ کا 9 ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع

    کراچی: بینک مکرمہ لمیٹڈ (BML) نے رواں سال کے پہلے 9 ماہ (اختتام 30 ستمبر 2025) کے دوران ٹیکس سے قبل 1.75 ارب روپے منافع کما کر اپنی شاندار مالیاتی بحالی کا تسلسل برقرار رکھا ہے، جب کہ گزشتہ سال اسی مدت میں بینک کو 5.05 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی بہتری ہے جو 6.80 ارب روپے کے ٹرن اراونڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

    یہ کامیابی بینک کی مالیاتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ جون 2025 میں ختم ہونے والے چھ ماہ کے دوران بینک نے 1.44 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا تھا — جو تقریباً ایک دہائی بعد بینک کا پہلا مثبت مالی نتیجہ تھا۔رواں 9 ماہ کے دوران ٹیکس کے بعد منافع 0.861 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.18 ارب روپے کا خسارہ درج کیا گیا تھا۔

    بینک کی مجموعی آمدنی میں 2.18 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ نان فنڈ انکم (غیر سودی آمدنی) میں 8 فیصد اضافہ ہو کر 2.95 ارب روپے تک جا پہنچی۔ یہ بہتری سمجھدار سرمایہ کاری، ڈپازٹ مینجمنٹ میں نظم و ضبط اور سرمایہ جاتی منافع میں اضافے کی مرہونِ منت رہی۔30 ستمبر 2025 تک بینک کے ڈپازٹس 165.58 ارب روپے رہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.92 فیصد یا 3.11 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ اوسط بنیاد پر ڈپازٹ پورٹ فولیو میں 7.28 فیصد (11.51 ارب روپے) اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مستحکم فنڈنگ اور بیلنس شیٹ کی مضبوطی پر بینک کی توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔بینک نے سخت مسابقتی مالیاتی مارکیٹ کے باوجود CASA مکس (کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹس کا تناسب) میں بہتری لاتے ہوئے 94.58 فیصد تک بڑھایا، جو گزشتہ سال 89.59 فیصد تھا۔ نتیجتاً اوسط ڈپازٹ لاگت 7.20 فیصد رہی، جو بینک کی مالی کارکردگی کا مظہر ہے۔

    بینک مکرمہ نے اخراجات پر سخت کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ صرف 7.2 فیصد تک محدود رکھا۔کل نان مارک اپ اخراجات 6.39 ارب روپے رہے جو گزشتہ سال کے 5.96 ارب روپے سے معمولی زیادہ ہیں۔ریکوری کے میدان میں بھی بینک نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ گزشتہ تین سالوں کی مضبوط کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے 2025 میں 5.99 ارب روپے کی نیٹ پروویژن ریورسل حاصل کی گئی، جو گزشتہ سال کے 0.97 ارب روپے کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔اسی بنیاد پر بینک کے نان پرفارمنگ لونز (NPLs) دسمبر 2024 کے 34.19 ارب روپے سے گھٹ کر ستمبر 2025 میں 28.88 ارب روپے تک آگئے — جو بینکنگ انڈسٹری میں سب سے بڑی ریکوریز میں شمار ہوتی ہے۔نتیجتاً گراس NPL ریشو 69.95 فیصد سے کم ہو کر 63.57 فیصد رہ گیا جبکہ کوریج ریشو 95.49 فیصد پر مستحکم رہی۔

    بینک مکرمہ لمیٹڈ اب پوری کیپٹل کمپلائنس کے قریب ہے۔ اس کامیابی میں اسپانسر شیئر ہولڈرز کا بھرپور کردار شامل ہے، جنہوں نے نہ صرف مالی معاونت کی بلکہ اپنی کمپنی "گلوبل ہیلی” (Global Haly) کو 26 ارب روپے مالیت کے ساتھ بینک میں ضم کرنے کی تجویز دی ہے۔مزید برآں، 5 ارب روپے ایڈوانس شیئر کیپٹل انویسٹمنٹ کو ایکوئٹی شیئرز میں تبدیل کر کے MCR کمپلائنس یقینی بنائی جا رہی ہے۔بینک نے اپنی جائیداد Cullinan Tower کو 12 ارب روپے میں فروخت کیا، جس میں سے 1 ارب روپے کی ابتدائی رقم وصول ہو چکی ہے — اس سے بینک کی ایکویٹی مزید مضبوط ہوگی۔اسی طرح ایک بڑے کاروباری گروپ سے وابستہ نان پرفارمنگ لونز کے تصفیے کے حتمی مراحل جاری ہیں، جس سے بینک کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

    بینک مکرمہ لمیٹڈ انتظامیہ کے مطابق ادارہ نامیاتی ترقی (organic growth)، عملی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک پالیسیوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے سال 2025 کا اختتام ریکارڈ مالی نتائج کے ساتھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔یہ کارکردگی نہ صرف بینک کے مالی استحکام کی بحالی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ موثر حکمرانی، واضح وژن، اور اسپانسرز و بورڈ آف ڈائریکٹرز کے غیر متزلزل عزم کا عملی ثبوت بھی ہے۔بینک مکرمہ لمیٹڈ اب ایک بار پھر پاکستان کے بینکاری شعبے میں ایک مستحکم، منافع بخش اور قابلِ اعتماد ادارہ بن کر ابھر رہا ہے۔

  • دہشت گرد کمانڈر کا علاج کرنے والے دو ڈاکٹر گرفتار

    دہشت گرد کمانڈر کا علاج کرنے والے دو ڈاکٹر گرفتار

    صادق آباد، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان کے مبینہ دہشت گرد کمانڈر کے علاج میں مبینہ طور پر ملوث دو ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق زخمی دہشت گرد کمانڈر کے علاج کا کوئی سرکاری یا نجی ریکارڈ اسپتال سے برآمد نہیں ہوسکا۔

    صادق آباد کے سول اسپتال سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر راؤ ندیم اور ڈاکٹر عثمان کو پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب انہیں اطلاع ملی کہ دونوں نے اپنے نجی اسپتال میں بلوچستان کے دہشت گرد کمانڈر فاروق کا علاج کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ نجی اسپتال پر چھاپہ مارا، تاہم وہاں زخمی دہشت گرد کے علاج سے متعلق کوئی ثبوت یا ریکارڈ دستیاب نہیں ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران اسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں نے مزاحمت کی اور پولیس اہلکاروں کو اسپتال سے باہر نکال دیا، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔

    واقعے کے بعد پولیس نے دونوں ڈاکٹروں سمیت اسپتال کے عملے کے چھ سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ زخمی دہشت گرد کمانڈر فاروق کہاں منتقل ہوا اور اس کے دیگر ساتھی کہاں روپوش ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں بعض شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمانڈر فاروق حالیہ دنوں میں بلوچستان سے فرار ہو کر پنجاب کے مختلف شہروں میں روپوش تھا، جہاں اس نے طبی امداد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

  • جسٹس جہانگیری ڈگری کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بنچ ٹوٹ گیا

    جسٹس جہانگیری ڈگری کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بنچ ٹوٹ گیا

    جسٹس جہانگیری ڈگری کیس میں آج ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جب اسلام آباد ہائیکورٹ کا سماعت کرنے والا دو رکنی بنچ ٹوٹ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق، جسٹس خادم حسین سومرو نے دورانِ سماعت کیس سننے سے معذرت کرلی، جس کے نتیجے میں بنچ تحلیل ہوگیا۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی بینچ کر رہا تھا۔ذرائع کے مطابق، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر تھی۔ تاہم، دورانِ کارروائی جب جسٹس خادم حسین سومرو نے خود کو سماعت سے الگ کیا تو بنچ ٹوٹ گیا اور سماعت بغیر کسی مزید کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔

    قانونی ماہرین کے مطابق، بنچ کے ٹوٹنے کے بعد اب نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا جو کیس کی آئندہ سماعت کرے گا۔ اس پیش رفت کے بعد کیس کی کارروائی میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی افغان باشندوں کی نشاندہی کیلئے مساجد میں اعلان کرانے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ پنجاب کی افغان باشندوں کی نشاندہی کیلئے مساجد میں اعلان کرانے کی ہدایت

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کیلئے مساجد میں اعلان کرانے کی ہدایت کی گئی۔

    وزیرا علیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں افغان باشندوں سمیت کسی بھی غیر ملکی کو پراپرٹی کرائے پر دینے والوں کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا،اجلاس میں گھر، دکان، فیکٹری، ہوٹل، پیٹرول پمپ وغیرہ کرائے پر دینے کی روزانہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے غیر قانونی طور مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے مساجد میں اعلانات کرانے کی ہدایت دی گئی،اجلاس میں پٹواری، نمبردار اور متعلقہ علاقے کے ایس ایچ او کو غیر ملکیوں کو دی گئی پراپرٹی کی رپورٹ کرنے کے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے تمام اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکیوں سے متعلق فیلڈ سروے کرانے پر اتفاق کیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں وزٹ ویزے یا غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو کر ملازمت کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا.اجلاس میں غیر قانونی طور مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے مساجد میں اعلانات کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر ملازمت کرنے والے افغان باشندوں کو بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا،متعلقہ حکام کی جانب سے اجلاس کو بریف کیا گیا کہ افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے چہرے سے شناخت کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے،اجلاس کو بتایا گیا کہ خانیوال میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو پراپرٹی کرائے پر دینے پر5 مقدمے درج کیے جا چکے ہیں، صوبے بھر کے تمام اضلاع میں افغان شہریوں کے لیے 45 ہولڈنگ سینٹر قائم کر دیے گئے ہیں، غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو قیام، طعام اور طورخم بارڈر تک ٹرانسپورٹ دی جا رہی ہے۔

  • افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاک افغانستان مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر

    افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاک افغانستان مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر

    ترکی میں ہونے والے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات افغان وفد کے غیرتعاون اور دفاعی رویّے کے باعث کسی پیش رفت تک نہ پہنچ سکے۔ مذاکرات کے دوران افغان وفد کے بعض ارکان نے اشتعال انگیز گفتگو کی، براہِ راست سوالات سے گریز کیا اور کئی مواقع پر نامناسب زبان استعمال کی۔ذرائع نے بتایا کہ قطری اور ترک ثالث بھی افغان وفد کے رویے پر حیران رہ گئے اور انھوں نے بالواسطہ طور پر اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ ایک ایسا فریق جس سے مثبت اور تعمیری رویہ کی توقع تھی، اس نے مکمل طور پر غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق زیادہ تر نکات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم ایک اہم سیکیورٹی معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے۔ افغان وفد بار بار پاکستان کے بنیادی مطالبے ، یعنی افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر، قابلِ تصدیق اقدامات سے گریز کرتا رہا۔ان کے جوابات غیر واضح اور قانونی موشگافیوں پر مبنی تھے، نہ کہ عملی اقدامات پر۔

    ایک باخبر پاکستانی ذریعے نے بتایا “افغان وفد نے بارہا ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات سے گریز کیا۔ ان کی مبہم یقین دہانیاں اور ذمہ داری قبول کرنے سے انکار نے مذاکرات کو نقصان پہنچایا۔”ذرائع کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سرحد پار نقل و حرکت کے شواہد پیش کیے، مگر افغان نمائندوں نے ان شواہد پر سوال اٹھانے کی بجائے بحث کو سیاسی اور طریقۂ کار کے معاملات کی طرف موڑ دیا۔مذاکرات کے دوران افغان وفد مسلسل کابل سے رابطے میں رہا، جس نے مذاکراتی عمل کو غیر مستحکم کیا اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔

    جب پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے، تو افغان وفد نے یہ کہہ کر ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا کہ “یہ گروہ ہمارے مؤثر کنٹرول میں نہیں”۔یہ مؤقف ترک اور قطری ثالثوں کے لیے غیرمتوقع تھا جنہوں نے امید کی تھی کہ افغانستان باہمی تعاون پر آمادہ ہوگا۔

    پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ اگر افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے جاری رہے تو پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔یہ انتباہ ایک سنجیدہ مگر متناسب ردعمل کے طور پر دیا گیا، جس کا مقصد صرف اپنے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    افغان وفد نے تجویز دی کہ اگر افغانستان کچھ یقین دہانیاں دیتا ہے تو پاکستان بھی افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کرنے اور کسی تیسرے ملک کو اپنے فضائی راستے افغانستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کی ضمانت دے۔اسلام آباد نے وضاحت کی کہ ایسے معاملات، خصوصاً تیسرے ملک کی یکطرفہ کارروائیوں پر، پاکستان ضمانت نہیں دے سکتا ، اور نہ ہی پاکستان اس دہشت گردی کا ذمہ دار بن سکتا ہے جو افغان سرزمین سے شروع ہوتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جب افغان وفد نے فضائی حدود کے مسئلے کو اٹھایا تو پاکستانی وفد کے سربراہ جنرل شہاب اسلم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “سرزمین کے غلط استعمال کو روکنے کی بنیادی ذمہ داری اسی ملک کی ہے جس کی سرزمین استعمال ہورہی ہے۔”جنرل شہاب نے زور دیا کہ پاکستان نے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں جن میں سرحد پار نقل و حرکت، اڈوں اور کمانڈ روابط کی تفصیلات شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان محض زبانی یقین دہانیوں کے بجائے زمینی اقدامات چاہتا ہے۔

    ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق مذاکرات 27 اور 28 اکتوبر کی درمیانی شب 18 گھنٹے جاری رہے۔ تین مرتبہ معاہدے کا مسودہ دونوں فریقین نے منظور کیا، مگر ہر بار افغان وفد نے کابل سے فون پر ہدایات لینے کے بعد معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا۔ذرائع کے مطابق تیسری مرتبہ جب معاہدہ طے پایا تو جنرل شہاب نے افغان وفد سے پوچھا “اسلام میں کہا گیا ہے کہ جو بات تین مرتبہ کہی یا مانی جائے، وہ حتمی تصور ہوتی ہے۔ کیا اب یہ حتمی ہے؟”افغان وفد نے جواب دیا: “جی، ہم اتفاق کرتے ہیں۔”لیکن دستخط سے چند لمحے قبل، کابل سے فون آنے کے بعد افغان وفد دوبارہ پیچھے ہٹ گیا۔یہ منظر دیکھ کر قطری اور ترک ثالثوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا “اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے اور معاف فرمائے۔”

    ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے تقریباً ایک ہفتے بعد شروع ہوئے اور تین دن جاری رہے ،پہلے دن 19 گھنٹے، دوسرے دن 11 گھنٹے، اور تیسرے دن 18 گھنٹے۔پاکستان کا اصولی مؤقف یہی رہا کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی سرپرستی ختم کریں اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔مذاکرات کے دوران کئی مواقع پر افغان وفد نے پاکستانی دلائل سے اتفاق کیا، مگر ہر بار کابل کی ہدایت ملنے کے بعد وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گیا۔یہ طرزِعمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل رکاوٹ افغان دارالحکومت سے آنے والی ہدایات اور رویے میں ہے۔

    اس کے باوجود پاکستان نے ترکی اور قطر کی درخواست پر مذاکرات کا سلسلہ مزید جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔
    یہ پاکستان کی سنجیدگی، استقامت اور خطے کے امن کے لیے خلوصِ نیت کا واضح ثبوت ہے۔اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے افغانستان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی، تاکہ کسی بھی قسم کا خطرہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے جو عالمی امن کے لیے چیلنج بن جائے۔

  • مذاکرات کی ناکامی،طالبان کی دھڑے بندی،مالی مفادات رکاوٹ

    مذاکرات کی ناکامی،طالبان کی دھڑے بندی،مالی مفادات رکاوٹ

    استنبول میں ہونے والے پاکستان اور افغان عبوری حکومت کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ بظاہر یہ تاثر دیا گیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل سفارتی وجوہات کی بنا پر پیدا ہوا، مگر درحقیقت اس ناکامی کے پس پردہ کہانی بالکل مختلف ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کا اصل سبب افغان حکومت کے اندرونی دھڑے، مالی مفادات اور پسِ پردہ طاقت کی کشمکش تھی، نہ کہ پاکستان کی کوئی سفارتی غلطی۔

    ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات کے پہلے ہی سیشن سے یہ واضح ہوگیا تھا کہ افغان وفد کسی ایک مؤقف پر متحد نہیں۔وفد کے اندر تین بڑے گروہ قندھار، کابل اور خوست اپنی اپنی ہدایات کے مطابق بات کر رہے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کو مختلف داخلی قوتوں کی جانب سے الگ الگ پیغامات دیے جا رہے تھے، جس کے باعث وفد میں ہم آہنگی کا فقدان نمایاں تھا۔مذاکرات اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے جب فریقین نے ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق تحریری ضمانتوں پر بات شروع کی۔ذرائع کے مطابق قندھار دھڑے نے خاموشی سے اس تجویز پر رضامندی کا عندیہ دے دیا تھا، مگر وقفے کے دوران کابل گروپ نے اچانک ایک نئی اور غیر متفقہ شرط پیش کردی جب تک امریکہ اس معاہدے میں بطور باضابطہ ضامن شامل نہیں ہوتا، کوئی بھی معاہدہ دستخط نہیں کیا جائے گا

    یہ مطالبہ نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ مذاکراتی ایجنڈے میں شامل بھی نہیں تھا۔ اس اچانک تبدیلی نے ترکی اور قطر کے ثالثوں کو حیران کردیا۔ افغان سوشل میڈیا پر اس دوران امریکی ڈرونز کی سرگرمیوں کی خبریں چلنے لگیں، جس سے ظاہر ہوا کہ یہ مطالبہ محض سکیورٹی کے لیے نہیں بلکہ مالی مفادات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق کابل گروپ دراصل ان مذاکرات کو سکیورٹی فریم ورک سے ہٹا کر ایک مالیاتی معاہدے میں تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر امریکہ کو شامل کیا جائے تو طالبان حکومت “امریکی تعاون” کا دعویٰ کرسکے،واشنگٹن کے ذریعے “معاشی امداد” کی راہیں دوبارہ کھل سکیں،اور داخلی دھڑوں پر دباؤ کم کیا جا سکے

    دوسرے الفاظ میں افغان حکومت کے بعض دھڑے ٹی ٹی پی کے مسئلے کو ایک مالی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے تھے تاکہ ڈالر کی ترسیل دوبارہ شروع ہوسکے۔

    مذاکرات کے دوران افغان وفد کی بدنظمی سب کے سامنے آشکار ہوگئی۔عینی شاہدین کے مطابق ایک نمائندہ ہاتھ سے لکھے چِٹ پر باہر بیٹھے شخص سے ہدایات لے رہا تھا، جبکہ دوسرا بار بار فون کالز کے لیے کمرہ چھوڑ کر جا رہا تھا۔ان کالز کے بعد پہلے سے طے شدہ نکات اچانک “زیرِ نظرِ ثانی” قرار دیے گئےمتصدیق شدہ شقوں کو دوبارہ “کھولا” گیا،اور مذاکرات کی رفتار جان بوجھ کر سست کر دی گئی،ثالثوں کے مطابق یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا تاکہ بیرونی عناصر، خصوصاً بھارت کو وقت دے کر عمل میں شامل کیا جا سکے۔

    قطری اور ترک ثالثوں نے نجی طور پر تین نکات پر اتفاق کیا ،پاکستان کے مطالبات مکمل طور پر جائز اور عالمی سفارتی اصولوں کے مطابق ہیں۔افغان وفد کی رکاوٹ کسی پالیسی یا اصولی مسئلے کی نہیں بلکہ اندرونی غیر یقینی کی وجہ سے ہے۔کابل دھڑا جان بوجھ کر معاملے کو واشنگٹن کی جانب موڑنا چاہتا ہے تاکہ مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

    استنبول مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں ،افغان حکومت کے اندر اختلافات اور دھڑے بندی،کابل گروپ کی کوشش کہ امریکہ کو شامل کرکے ڈالر کی آمد دوبارہ شروع کی جائے،اور طالبان کا ٹی ٹی پی کو بطور “سیاسی کرنسی” استعمال کرنے کا فیصلہ

    ماہرین کے مطابق جب تک کابل انتظامیہ اپنے اندرونی اختلافات ختم نہیں کرتی، اور دہشت گردی کو سیاسی یا مالی مفاد کے آلے کے طور پر استعمال کرنا بند نہیں کرتی، اس وقت تک پاکستان یا کسی بھی ثالث کے لیے کوئی حقیقی پیش رفت ممکن نہیں