Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ 1971 میں پاک بحریہ دشمن کیلیے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔

    پاک بحریہ کی جانب سے 9 دسمبر کو یادگار دن "ہنگور ڈے” کے طور پر منایا جا رہا ہے، ہنگور ڈے”آبدوز ہنگور”کی بہادری اور پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی روشن علامت ہے،اس موقع پر اپنے بیان میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا پاکستان خود مختاری اور دفاعِ وطن کے لیے عزم محکم رکھتا ہے، 9 دسمبر71کو آبدوز ہنگورکے عملے نے جانبازی کی درخشندہ تاریخ رقم کی جو آج تک دشمن کے ذہن پر نقش ہے، یہ دن باور کرواتا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، 1971 میں پاک بحریہ دشمن کیلیے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔

  • اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبّی معائنہ

    اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبّی معائنہ

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔

    جیل ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کے ڈاکٹرز پر مشتمل خصوصی میڈیکل ٹیم بدھ کے روز اڈیالہ جیل پہنچی، جہاں انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق مختلف ٹیسٹ اور معائنہ کیا۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم نے دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، شوگر لیول، سانس کی کارکردگی، جوڑوں اور اعصاب کے مسائل سمیت مجموعی صحت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران جیل میڈیکل اسٹاف بھی موجود رہا جبکہ تمام مراحل جیل سیکیورٹی کی نگرانی میں مکمل کیے گئے۔

    میڈیکل ٹیم معائنہ مکمل کرنے کے بعد جیل سے واپس روانہ ہوگئی ہے۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی جانب سے عمران خان کی تفصیلی میڈیکل رپورٹ مرتب کی جارہی ہے، جو مکمل ہونے کے بعد انتظامیہ کے حوالے کی جائے گی۔ رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کے طبی فیصلے کیے جائیں گے۔

  • افواج پاکستان کو نشانہ بنانے والے درحقیقت دشمن کو موقع دے رہے ہیں،دانیال چوہدری

    افواج پاکستان کو نشانہ بنانے والے درحقیقت دشمن کو موقع دے رہے ہیں،دانیال چوہدری

    ن لیگ کے رہنما دانیال چوہدری کا کہنا ہے کہ 9 مئی والوں کو عوام نے مسترد کردیا، پی ٹی آئی جلسے میں نفرت اور تقسیم کی بات کی گئی۔

    اسلام آباد میں پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری اور بیرسٹر عقیل نے پریس کانفرنس کی۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ملک کی معیشت درست سمت میں جارہی ہے، حکومتی اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 9 مئی والوں کو عوام نے مسترد کیا، 9 مئی والے نفرت کی سیاست کرتے ہیں، پی ٹی آئی نے جلسے میں نفرت اور تقسیم کی بات کی، عوام نے گالی گلوچ کی سیاست کے ساتھ کھڑنے ہونے سے انکار کردیا۔افواج پاکستان کو نشانہ بنانے والے درحقیقت دشمن فوج کو موقع دے رہے ہیں،جب حکومت میں آئے تو لوگ کہتےتھےپاکستان دیوالیہ ہونے والا ہے،وہاں سےنکل کرہم بہترمعیشت اوربہتر گورننس کی طرف آئے، اسلئے آئی ایم کی رپورٹ میں کہاگیا کہ اگرحکومت اسی طرح کام کرتی رہےتو ہماری گروتھ5 سے 6 فیصد تک جا سکتی ہے جو دنیا کی تیز ترین گروتھ ہے،بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے زہر آلود مواد پھیلایا جارہا ہے، پی ٹی آئی بطور اپوزیشن اپنا کردار ادا کرے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کہاں سے آپریٹ ہورہے ہیں پی ٹی آئی کو بھی نہیں پتہ۔

  • ٹرمپ کا بھارت پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ

    ٹرمپ کا بھارت پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ جاری تجارتی تناؤ کو ہوا دیتے ہوئے واشنگٹن میں نئے ٹیرف عائد کرنے کا واضح عندیہ دے دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں اہم معاشی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے بھارت کی جانب سے کم قیمت پر چاول امریکی مارکیٹ میں بھیجے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا،ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے سوال کیا کہ “بھارت کو امریکا میں چاول ڈمپ کرنے کی اجازت کیوں ہے؟”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت امریکی منڈی سے فائدہ اٹھا رہا ہے تو اسے مناسب محصولات ادا کرنا ہوں گے۔ ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا بھارت کو چاول پر کسی قسم کی ٹیکس چھوٹ حاصل ہے؟وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے صدر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا تاحال بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کام کر رہا ہے، اور کئی معاملات پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح سرد مہری پائی جاتی ہے۔ بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ تجارتی ڈیل کو حتمی شکل نہ دینے پر واشنگٹن نے ناراضی کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا تھا۔امریکی صدر کے تازہ بیان کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر جنوبی ایشیا میں معاشی توازن اور عالمی منڈیوں پر پڑ سکتا ہے۔

  • جسٹس طارق جہانگیری جعلی ڈگری کیس،تین روز میں جواب طلب

    جسٹس طارق جہانگیری جعلی ڈگری کیس،تین روز میں جواب طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی.

    جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری کیس کی درخواست منظور،عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو نوٹس جاری کردیے،عدالت نے تین دن میں جواب طلب کر لیا،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے آرڈر جاری کیا

    درخواست گزار میاں داؤد عدالت میں پیش ہوئے،وکلاء کی کثیر تعداد روسٹر پر آگئی،ایچ ای سی نے اپنا اور کراچی یونیورسٹی کا جواب جمع کروا رکھا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ باقی لوگ بیٹھ جائیں ،پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل سنیں گے ، درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ عدالت میں پیش، ایچ ای سی اور کراچی یونیورسٹی کے تحریری جواب داخل کر دیے،عدالت نے وکلاء کو بیٹھنے کی ہدایت کر دی

    درخواست گزار میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،اسلام آباد بار کے صدر نعیم گجر بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ممبر اسلام آباد بار کونسل راجہ علیم عباسی بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے پر پہلے درخواست گزار پھر بار اس کے بعد عدالتی معاون کو سنوں گا ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 193 کے تحت ہائیکورٹ جج کے لیے وکیل ہونا لازم ہے ، ڈان اخبار میں اس حوالےسے خبر شائع ہوئی ،کراچی یونیورسٹی کے کنٹرول امتحانات نے تصدیق کی کہ لیٹر درست ہے ، کراچی یونیورسٹی کے لیٹر میں کہا گیا گیا جج کی ڈگری فیک ہے ، 1998 سے طے ہے ملک اسد علی کیس ہے ، اس کیس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیا کسی ہائیکورٹ کے جج کے خلاف اسی ہائیکورٹ میں پٹیشن قابل سماعت ہے یا نہیں ،

    چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ سے استفسار کیا کہ کیا یہ کو وارنٹو پٹیشن ہے؟ وکیل میاں داؤد نے کہا کہ ہائیکورٹ کا جج بننے کیلئے وکیل ہونا لازمی ہے، ہم نے ایک اخبار کی خبر کی بنیاد پر کووارنٹو کی درخواست دائر کی،رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کراچی یونیورسٹی کو ایک ای میل کی،رجسٹرار کی ای میل کے جواب میں تمام باتوں کی تصدیق کی گئی،کراچی یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے تصدیق کی کہ لیٹر درست ہے،کراچی یونیورسٹی کے لیٹر میں کہا گیا گیا جج کی ڈگری فیک ہے، ہائیکورٹ کے جج کے خلاف اسی ہائیکورٹ میں کو وارنٹو پٹیشن قابلِ سماعت ہے، ہم کووارنٹو کی رٹ میں پوچھ رہے ہیں کہ آپ وکیل یا جج بننے کے اہل نہیں تھے، اس بات کو طول دینے کے بجائے وہ آ کر بتا دیں کہ ان کی ڈگری اصل ہے یا جعلی ہے، آرٹیکل 209 جج کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد لگے الزام سے متعلق ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ دیا، جسٹس جہانگیری جج بلکہ وکیل بننے کیلئے بھی کوالیفائی نہیں کرتے تھے،جج پر الزام سچا لگا یا جھوٹا اب بارِ ثبوت اُن پر ہے کہ وہ ثابت کریں کہ ڈگری اصل ہے،

    درخواست گزار وکیل کے دلائل مکمل ، عدالت نے عدالتی معاون کو طلب کر لیا ،بیرسٹر ظفر اللہ روسٹرم پر آ گئے ،وکیل اسلام آباد بار نے کہا کہ پہلے بار کو اس کیس میں سنا جائے اس کے بعد عدالتی معاون کو سنا جائے ،میں آٹھ ہزار وکلا کا نمائندہ ہوں مجھے پہلے سنا جائے ، یہ درخواست اسلام ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے درخواست دائر کی ہے ، درخواست گزار وکیل نے اسلام آباد بار کے فریق بننے پر اعتراض عائد کر دیا ،اسلام آباد بار کے وکیل احمد حسن نے دلائل کا آغاز کر دیا،بیرسٹر ظفر اللہ دوبارہ بیٹھ گئے ، اسلام آباد بار کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزرا اس کیس میں متاثرہ فریق نہیں ہے ،اگر یہ سمجھتے ہیں کوئی ایشو ہے تو ان کو بار کونسل جانا چاہیے ،ہائیکورٹ کا جج بننے کیلئے دس سال وکالت کا تجربہ رکھنا ضروری ہے،وکالت کا لائسنس دینا بار کونسل کا کام ہے یہ معاملہ انہوں نے دیکھنا ہوتا ہے، جسٹس طارق جہانگیری کی وکیل بننے کی کوالیفیکیشن میں کوئی سقم ہے تو متبادل فورم موجود ہے، جسٹس طارق جہانگیری کو جج بنانے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا نوٹیفکیشن موجود ہے،وکیل کی ڈگری کا معاملہ ڈسٹرکٹ بار اور بار کونسل ہی دیکھتی ہیں، اگر درخواست گزار وکیل صاحب کو مسئلہ ہے تو بار کونسل سے رجوع کریں، جس جج کے خلاف کیس ہے وہ پہلے وکیل رہے، بعد میں جج بنے، وکالت کے بعد جسٹس جہانگیری کو جوڈیشل کمیشن نے جج تعینات کیا، ڈگری اور دیگر معاملات کا فیصلہ بار کونسل نے کرنا ہے،ڈگری غلط ہو تو معاملہ عدالت نہیں، بار کونسل لے کر جانا ہوتا ہے، اگر کسی کو ان کی دس سالہ وکالت پر اعتراض ہے تو بار کونسل میں جائے، ڈسٹرکٹ بار کے وکیل احمد حسن نے کیس زیر سماعت ہونے کی مخالفت کردی،اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار نے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف کیس قابلِ سماعت قرار دینے کی مخالفت کر دی ،کہا کہ یہ کیس اِس ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کا نہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار ہے،عدالت بار کونسل کے اختیارات میں مداخلت نہ کرے،جسٹس جہانگیری کے خلاف کوئی درخواست بار کو نہیں دی گئی، بار کونسلز آزاد اور خود مختار ہیں، درخواست گزار پہلے بار کونسل جائے، وہاں درخواست جمع کرائے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں عدالت اس کیس میں restrain کرے؟ وکیل ڈسٹرکٹ بار نے کہا کہ عدالت فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ یا فیصلہ نہیں دے سکتی، اگر ایک جج دوسرے جج کو "person in the jurisdiction” سمجھے تو نظام بگڑ جائے گا،عدالت سے استدعا ہے کہ اپنے ہی ساتھی جج کو ماتحت نہ سمجھا جائے،اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل احمد حسن کے دلائل مکمل ہو گئے

    اسلام آباد بار کونسل کے ممبر راجہ علیم عباسی عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،کہا کہ 209 کی موجودگی میں یہ ٹرینڈ عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچائے گا ،جسٹس جہانگیری کے پاس تین لائسنسز ہیں لوئر کورٹ ، ہائیکورٹ ، سپریم کورٹ ، آپ کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل زیر التوا ہے ، بہتر ہے یہ کسی اور بنچ کو بھیج دیں ، احمد احسن شاہ نے کہا کہ ایک جج سے بڑھ کر عدالت کا اپنا وقار اہم ہے، اسلام آباد بار کونسل کے رہنما علیم عباسی نے دلائل دینے کی کوشش کی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں فریق ہیں؟ راجہ علیم نے کہا کہ میں بار کونسل کا نمائندہ اور ریگولیٹر ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ ریگولیٹر ہونا الگ بات ہے، کیس میں فریق بننا الگ چیز، راجہ علیم عباسی نے کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری تین بارز کے لائسنس رکھتے ہیں،ان کے پاس پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار اور آئی ایچ سی بار کے لائسنس موجود ہیں ،ڈگری کا معاملہ ہو تو فیصلہ بار کونسل نے کرنا ہے،آج اگر یہ نظیر قائم ہوگئی تو کل کسی کو نہیں روک سکیں گے،یونیورسٹی کچھ بھی کہے، عدالت فیصلہ نہیں دے سکتی،جج کا معاملہ جوڈیشل کونسل، وکالت کا معاملہ بار کونسل دیکھے گی،یہ ہماری ہائی کورٹ ہے، اس کا تحفظ ضروری ہے،

    ڈسٹرکٹ بار کے وکیل احمد احسن شاہ پھر روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ طریقہ نہیں، آپ کو وقت دیا جا چکا ہے، احمد حسن شاہ نے کہا کہ یونیورسٹی سے ریکارڈ طلب کرلیا تھا بار کونسلز سے بھی ریکارڈ طلب کرلیا جائے،

  • اسلام آباد میں 15 فروری کو بلدیاتی انتخابات کا اعلان

    اسلام آباد میں 15 فروری کو بلدیاتی انتخابات کا اعلان

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا

    الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 15 فروری کو ہونگے،الیکشن کمیشن نے بلدیاتی قانون 2015 کے مطابق انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 140(A) اور 219(d)، الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 219، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 اور متعلقہ رولز کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے شیڈول جاری کیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں امیدواروں کی نامزدگی، چھان بین، فہرستوں کی اشاعت اور پولنگ تک کا مکمل انتخابی ٹائم لائن جاری کیا گیا ہے۔نامزدگی فارم جاری کرنے کی تاریخ 19 دسمبر 2025تک ہے،امیدواروں کے نامزدگی فارم جمع کرانے کا مرحلہ
    22 دسمبر 2025 سے 27 دسمبر 2025 تک ہے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 30 دسمبر 2025 سے 3 جنوری 2026 تک کی جائے گی،ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کی مدت 5 جنوری 2026 سے 8 جنوری 2026 تک ہو گی،اپیلیٹ اتھارٹی کی جانب سے اپیلیں نمٹانے کی تاریخیں 9 جنوری 2026 سے 13 جنوری 2026 تک ہوں گی،نظرِ ثانی شدہ امیدواروں کی فہرست کی اشاعت 14 جنوری 2026 کو کی جائے گی،امیدواروں کی حتمی فہرست کی اشاعت 15 جنوری 2026 کو ہو گی،الیکشن نشان الاٹ کرنے اور امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرنے کی تاریخ 16 جنوری 2026ہے،

    نوٹیفکیشن کے دوسرے حصے میں الیکشن کمیشن نے شفافیت یقینی بنانے کے لیے اہم ہدایات بھی جاری کی ہیں جس کے مطابق تمام وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کوئی ترقیاتی منصوبہ یا سرکاری وسائل استعمال کرکے انتخابی عمل پر اثرانداز نہ ہوں۔سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی اہلکار اپنے عہدے کے اختیار کا غلط استعمال کرکے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔الیکشن پروگرام کے اجراء کے بعد حکومتی اشتہارات، ترقیاتی اعلانات اور غیر ضروری سرکاری سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔

  • ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات، دوست اوراسکا شوہر گرفتار

    ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات، دوست اوراسکا شوہر گرفتار

    ایبٹ آباد میں ڈی ایچ کیو اسپتال سے اغوا کے بعد قتل کی جانے والی ڈاکٹر وردہ کیس میں اہم اور ہنگامہ خیز پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

    پولیس کی جاری تفتیش کے مطابق، ڈاکٹر وردہ کو 4 دسمبر کو اسپتال کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا، جبکہ اغوا کے صرف ایک گھنٹے بعد ہی انہیں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ڈاکٹر وردہ کو اغوا کرنے کے بعد جناح آباد کے ایک زیر تعمیر مکان میں منتقل کیا، جہاں خاتون کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ بعدازاں ملزمان نے ان کی لاش کو ٹھنڈیانی کے قریب لڑی بنوٹا کے علاقے میں دفنا دیا، جہاں چار دن بعد لاش برآمد ہوئی۔ ڈی پی او کے مطابق، واردات میں استعمال ہونے والی دونوں گاڑیاں پولیس نے قبضے میں لے لی ہیں، جبکہ ڈاکٹر وردہ کی دوست، اس کا شوہر اور ایک سہولت کار سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس مرکزی ملزم شمریز کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر وردہ بیرون ملک جانے کی تیاری کر رہی تھیں اور اسی سلسلے میں ان کے پاس موجود 67 تولہ سونا ان کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ ڈاکٹر وردہ نے اعتماد میں آکر یہ سونا اپنی قریبی دوست کے پاس امانتاً رکھوا دیا تھا۔انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ نے ڈاکٹر وردہ کا سونا گروی رکھ کر 50 لاکھ روپے بھی حاصل کر رکھے تھے۔ جب ڈاکٹر وردہ نے سونا واپس مانگا تو ملزمہ اور اس کے ساتھیوں نے انہیں راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔

    گرفتار ملزمان میں ڈاکٹر وردہ کی دوست (مرکزی کردار)،اس کا شوہر،ایک ملازم شامل ہے،جبکہ مرکزی ملزم شمریز تاحال فرار ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • انڈونیشیا کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں پروقار استقبالیہ تقریب

    انڈونیشیا کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں پروقار استقبالیہ تقریب

    انڈونیشیا کے صدر پرابوووسوبیانتو کے اعزاز میں پروقار استقبالیہ تقریب وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صدر پرابوووسوبیانتو کا وزیراعظم ہاؤس کے مرکزی دروازے پر پُرتپاک استقبال کیا،اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے انڈونیشیا کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا ۔دونوں ملکوں کے قومی ترانے پیش کیے گئے۔معزز مہمان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر کا وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام سے تعاارف کر ایا ۔معزز مہمان نے اپنے وفد کا تعارف وزیراعظم محمد شہباز شریف سے کرایا ۔

    صدر پرابوووسوبیانتو نے وزیراعظم ہاؤس کے سبزہ زار میں پودا بھی لگایا۔انڈنیشیا کے صدر کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے اعتماد کے رشتے پر قائم تعلقات کا فروغ مشترکہ عزم کا عکاس ہے۔ صدر پَروبووو کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نئی جہت دینے، شراکت داری میں وسعت اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا،

  • کوئٹہ میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144، عوامی اجتماعات پر پابندی

    کوئٹہ میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144، عوامی اجتماعات پر پابندی

    کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت شہر بھر میں ہر قسم کے جلسے، جلوس، احتجاجی ریلیاں اور عوامی اجتماعات پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ فیصلے کا اطلاق اگلے حکم تک جاری رہے گا۔

    انتظامیہ کے مطابق شہر میں ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے مختلف اداروں کی رپورٹس موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے اور قانون و امن کی فضا برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات ضروری تھے کوئٹہ میں اسلحہ کی نمائش و استعمال پر مکمل پابندی عائدکر دی گئی ہے،خواتین و بچوں کے علاوہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ گاڑیوں پر سیاہ شیشوں کا استعمال سختی سے منع کر دیا گیا ،بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی ہوگی۔ اعلامیہ کے مطابق پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد ہوگی، عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے کے لیے ماسک یا مفلر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ ضلع کوئٹہ میں تیزاب اور دھماکہ خیز مواد کی نقل و حمل بھی ممنوع قرار دی گئی ہے، لیویز اور ایف سی کو سخت کارروائی کے اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ خلاف ورزی پر کارروائی دفعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت ہوگی، محکمہ داخلہ ڈپٹی کمشنر کو پابندیوں کی رپورٹ روزانہ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے

  • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن،اڈیالہ کے باہر سیکیورٹی سخت

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن،اڈیالہ کے باہر سیکیورٹی سخت

    راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے اطراف آج صبح سے ہی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں بانی پی ٹی آئی سے وکلاء اور اہلِ خانہ کی ملاقات شیڈول ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے علاقے کو ہائی الرٹ زون قرار دیتے ہوئے اضافی نفری تعینات کر دی ہے جبکہ جیل کے اطراف غیر معمولی چیکنگ جاری ہے۔پولیس حکام کے مطابق دفعہ 144 کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جیل کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ داخلی راستوں پر رکاوٹیں اور چیک پوسٹس بڑھا دی گئی ہیں،گورکھپور اور داہگل سمیت جیل سے متصل بازار بھی پولیس نے بند کروا دیے ہیں ، حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورتحال میں امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔

    پی ٹی آئی قیادت کے مطابق آج ملاقات کے لیے بیرسٹر گوہر خان،سلمان اکرم راجہ،انتظار پنجوتھا جبکہ اہلِ خانہ میں علیمہ خان،عظمیٰ خان،نورین نیازی اڈیالہ جیل جائیں گی۔یہ تمام افراد ضابطے کی کارروائی اور ضروری کلیرنس کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے۔دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج کوئی بھی سیاسی ورکر اڈیالہ جیل نہیں جائے گا۔ قیادت کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی غیر ضروری تصادم یا صورتحال سے بچنا چاہتی ہے۔