Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان،ورلڈ بینک

    پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان،ورلڈ بینک

    عالمی بینک نے پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ 2025 جاری کردی

    عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ اگلے سال معاشی ترقی بڑھ کر 3.4 فیصد تک جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اس سال غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ غربت میں کمی اور معیار زندگی میں بہتری کے لیے معاشی ترقی میں بہتری پر زور دیا گیا ہے،عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے اور اگلے مالی سال مہنگائی کم ہوکر 6.8 فیصد تک محدود رہنےکا تخمینہ ہے،رپورٹ میں مزید بتایاگیا ہےکہ پاکستان میں ہرسال 16لاکھ نوجوان روزگارکے حصول کیلئے مارکیٹ میں آرہے ہیں،رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات پر بھی زور دیا اور رپورٹ میں ریونیو میں اضافہ، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    عالمی بینک کی رپورٹ میں ایکسچینج ریٹ، سرکاری شعبے میں اصلاحات، برآمدات بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے جب کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ضروری قرار دیا گیا ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان کے برآمدی شعبے کو کئی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

  • ڈکی بھائی کی اہلیہ کی مدعیت میں 8 این سی سی آئی اے افسران کے خلاف مقدمہ

    ڈکی بھائی کی اہلیہ کی مدعیت میں 8 این سی سی آئی اے افسران کے خلاف مقدمہ

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے نو افسران کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ مقدمہ معروف یوٹیوبر سعدالرحمٰن عرف ڈکی بھائی کی اہلیہ اروب جتوئی کی شکایت پر درج کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ڈکی بھائی کے خلاف سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپس کے فروغ سے متعلق مقدمہ کی تفتیش لاہور این سی سی آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض کو سونپی گئی تھی۔ دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ مذکورہ افسر نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ڈکی بھائی کے اہلخانہ سے 90 لاکھ روپے رشوت وصول کی۔ایف آئی آر میں درج ہے کہ شعیب ریاض نے یہ رقم مختلف طریقوں سے حاصل کی، جن میں شیخوپورہ میں سلمان عزیز کے ذریعے 60 لاکھ روپے نقد جبکہ 3 لاکھ روپے کے تین چیک شہباز نامی فرنٹ مین کے ذریعے وصول کیے گئے۔ مزید یہ کہ ملزم نے ڈکی بھائی کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 26 ہزار 420 ڈالرز اپنے اکاؤنٹ میں بائنانس (Binance) کے ذریعے منتقل کیے۔مقدمے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز،ڈپٹی ڈائریکٹر (قائم مقام انچارج) زوار احمد،اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض،اسسٹنٹ ڈائریکٹر مجتبیٰ ظفر،سب انسپکٹر علی رضا،سب انسپکٹر یاسر رمضان،ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد محمد عثمان،ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد ایاز خان،فرنٹ مین سلمان عزیز نامزد افسران ہیں،

    ان میں سے متعدد افسران کئی دنوں سے “لاپتہ” تھے، تاہم گزشتہ روز ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری ظاہر کر دی۔یہ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109 اور 161 کے تحت درج کیا گیا ہے، جن کا تعلق بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت سے ہے۔ مزید برآں، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی شق 5(2) کے تحت بھی کارروائی شامل ہے، جو سرکاری اہلکاروں کی مجرمانہ بدعنوانی سے متعلق ہے۔

    آج عدالت میں گرفتار چھ افسران کے وکیل بیریسٹر میاں علی اشفاق نے ایک درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے نہ ان کے اہلخانہ اور نہ ہی وکلا کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے ایف آئی آر کی کاپی دینے سے بھی انکار کر دیا، جو آئین کے آرٹیکل 10-اے کے خلاف ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ گرفتار افسران کو فوری طور پر عدالت کے روبرو پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ ان کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنا قانونی تقاضہ ہے، بصورتِ دیگر یہ غیر قانونی حراست کے زمرے میں آتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، گرفتار ہونے والے افسران میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز کو گزشتہ ماہ مختلف تنازعات کے باعث ان کے عہدے سے ہٹا کر اسلام آباد ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔یہ تنازعات متعدد یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز (جن میں ڈکی بھائی اور رجب بٹ شامل ہیں) کے خلاف کارروائیوں، وکلاء کے ساتھ تنازعے اور لاہور کے بعض صحافیوں سے اختلافات سے متعلق تھے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعے کے روز لاپتہ ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر پولیس کو ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔ محمد عثمان کی اہلیہ روزینہ عثمان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 14 اکتوبر کو چار مسلح افراد ان کے شوہر کو اغوا کر کے لے گئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد ازاں خود روزینہ عثمان بھی لاپتہ ہو گئیں، جس پر عدالت نے دونوں کے حوالے سے پولیس سے تازہ رپورٹ طلب کر لی۔

    ڈان نیوز کے مطابق جب نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے ترجمان سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک “انتہائی سنگین اور حساس معاملہ” ہے۔تاہم ذرائع کے مطابق افسران کی گرفتاری اور غائب ہونے کا معاملہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی مالی سرگرمیوں کی تحقیقات سے جڑا ہوا ہے۔

  • سی سی ڈی کے رات گئے 4 مبینہ مقابلوں میں مجموعی طور پر 6 ملزمان ہلاک

    سی سی ڈی کے رات گئے 4 مبینہ مقابلوں میں مجموعی طور پر 6 ملزمان ہلاک

    لاہور میں سی سی ڈی کے رات گئے 4 مبینہ مقابلوں میں مجموعی طور پر 6 ملزمان ہلاک ہوگئے۔

    سی سی ڈی حکام مطابق مبینہ مقابلے نشترکالونی، گرین ٹاون، ہربنس پورہ، رنگ روڈ کے قریب ہوئے۔سی سی ڈی ماڈل ٹاؤن ٹیم اشتہاریوں کی گرفتاری کیلئے نشترکالونی پہنچی، ملزمان نے فائرنگ کردی، فائرنگ کے تبادلے میں 2 ملزمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ گرین ٹاؤن میں مبینہ مقابلے کے دوران زیر حراست ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔سول لائنز میں 3 ملزمان ہلاک ہوئے، ملزمان رنگ روڈ کے قریب شہریوں سے لوٹ مار کررہے تھے۔

  • پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کے تعمیری کردار کے معترف ہیں، رضوان شیخ

    پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کے تعمیری کردار کے معترف ہیں، رضوان شیخ

    امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے”فیوچر سیکیورٹی سمٹ 2025″ سے خطاب کیا ہے

    سمٹ کا انعقاد معروف امریکی تھنک ٹینک نیو امریکا، اریزونا سٹیٹ یونیورسٹی اور سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس پلس کے اشتراک سے کیا گیا،سفیر پاکستان نے پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل ، موحولیاتی تبدیلی کے مشترکہ چیلنج، معرکہ حق، مسئلہ کشمیر، پاک چین دوستی ، دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کا استعمال، دہشت گردی کی عفریت کے خاتمے کے لئے پاکستان کی کوششوں ، اور یوکرائن سمیت عالمی معاملات پر اظہار خیال کیا
    سمٹ سے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے خطاب میں کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے لئے وجودی خطرہ ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں قدرتی آفات سے پاکستان کی ترقی متاثر ہوئی ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ عوام کو معاشی تحفظ کی فراہمی کے لئے کوشش جاری ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے ساتھ کام کر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے، حالیہ سیلابوں سے متاثرہ عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اپنے وسائل برؤے کار لا رہے ہیں

    سفیر پاکستان نے معرکہ حق کے حوالے سے تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اپنی انتظامی ناکامیوں اور سیاسی مجبوریوں کے پیش نظر پہلگام واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہا۔ دنیا دو جوہری ریاستوں کے درمیان تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کے تعمیری کردار کے معترف ہیں، صدر ٹرمپ پاک دنیا کے دیگر حصوں میں امن قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل خطے میں مستقل امن کا ضامن ہوگا،پاکستان اور امریکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کے دو بڑے ملک ہیں، آبادی کے لحاظ سے دو بڑے ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات ناگزیر ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تاریخی تناظر میں خوش آئند ترین سطح پر ہیں، دونوں ملکوں نے مل کر مختلف چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے، سی پیک کو خطے کی معاشی ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے، پاکستان ماضی کی طرح چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے، افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم اپنی عوام کی سلامتی کو دہشت گردوں کے رحم کرم پر نہیں چھوڑ سکتا، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو بین الاقوامی بارڈر کے طور پر لیا جانا تاریخی حقیقت ہے، یوکرائن میں امن کے حوالے سے جاری کوششوں کے حوالے سے پرامید ہیں

  • کندھ کوٹ پل منصوبے کی پیش رفت پر وزیراعلیٰ سندھ  کی زیر صدارت اجلاس

    کندھ کوٹ پل منصوبے کی پیش رفت پر وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت گھوٹکی–کندھ کوٹ پل منصوبے کی پیش رفت سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، وزیر ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری، وزیراعلیٰ کے معاونِ خاص سید قاسم نوید، چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ، آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔

    اجلاس میں گھوٹکی–کندھ کوٹ پل منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس کی تکمیل سے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے درمیان تجارتی و معاشی روابط میں نمایاں بہتری آئے گی۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "گھوٹکی–کندھ کوٹ پل ایک تاریخی اور نمایاں منصوبہ ہے جو تینوں صوبوں کے عوام کو قریب لائے گا اور علاقائی ترقی و ہم آہنگی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں سیکیورٹی خدشات کے باعث منصوبے پر کام سست روی کا شکار رہا، تاہم اب امن و امان کی صورتحال بہتر ہو چکی ہے، لہٰذا منصوبے پر کام کی رفتار میں تیزی لائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ "مجھے گھوٹکی–کندھ کوٹ پل کا کام تیز رفتاری سے چاہیئے اور 2026ء کے آخر تک منصوبہ مکمل ہونا چاہئے۔”

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ گھوٹکی–کندھ کوٹ پل 12.15 کلومیٹر طویل ہوگا، جو ملک کی سب سے بڑی برج (Bridge) قرار پائے گا۔ گھوٹکی کی جانب سے 10.4 کلومیٹر اور کندھ کوٹ کی سمت سے 8.1 کلومیٹر تک رسائی سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں، جبکہ جاڑی واہ، گھوٹکی فیڈر کینال اور طبی مائنر پر پل بھی مکمل ہو چکے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے 38 پائپ کلورٹس کی تعمیر بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری نے اجلاس میں آگاہ کیا کہ منصوبہ PPP موڈ پر تعمیر ہو رہا ہے اور ابتدائی منصوبے کے مطابق 2028ء میں مکمل ہونا تھا، تاہم وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد اسے 2026ء کے آخر تک مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو حکم دیا کہ "کانٹریکٹر نومبر کے پہلے ہفتے سے پل پر دن رات کام شروع کرے اور باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹ پیش کرے۔”انہوں نے زور دیا کہ اگر تعمیراتی عمل بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا گیا تو پل 2026ء میں ہی مکمل کیا جا سکتا ہے، جو نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے ترقی اور رابطے کی نئی راہیں کھول دے گا۔

  • پاک افغان مذاکرات،افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاکستان کی آخری کوشش جاری

    پاک افغان مذاکرات،افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاکستان کی آخری کوشش جاری

    استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ. تیسرے دن مذاکرات 18 گھنٹے تک جاری رہے۔

    18 گھنٹوں کے دوران افغان طالبان کے وفد نے متعدد بار پاکستان کے خوارج (TTP) اور دہشت گردی کہ خلاف مصدق اور یقینی کاروائی کے منطقی اور جائز مطالبے سے اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق میزبانوں کی موجودگی میں بھی افغان وفد نے اس مرکزی مسئلے کو تسلیم کیا۔ تاہم ہر مرتبہ کابل سے ملنے والی ہدایات کے باعث افغان طالبان کے وفد کا مؤقف بدل جاتا۔مذاکرات کے دوران کابل سے ملنے والے غیر منطقی اور نا جائز مشورے ہی بات چیت کے بے نتیجہ رہنے کے ذمہ دار ہیں۔تاہم پاکستان اور میزبان انتہائی مدبرانہ اور سنجیدہ طریقے سے اب بھی ان پیچیدہ معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں۔اب بھی ایک آخری کوشش جاری ہے کے باوجود طالبان کی ہٹ دھرمی کسی طرح اس معاملے کو منطق اور بات چیت سے حل کر لیا جائے اور مذاکرات ایک آخری دور کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    ترکی میں ہونے والے مذاکراتی عمل سے افغانستان کی ممکنہ دستبرداری کی اصل وجہ اب واضح ہو گئی ہے، افغان مذاکراتی وفد تو مطالبات مان رہا ہے لیکن، طالبان کے اندر موجود قندھار، کابل اور خوست کی گروہ بندی کی وجہ سے بات کسی طرف مکمل نہیں ہورہی. کسی نقطے پر قندھاری گروپ رضامند ہو جاتا ہے تو کابلی گروپ کے اختلافات سامنے آجاتے ہیں. زمینی حقائق اور رابطوں کی پیچیدگی سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ افغان حکومت کے مختلف گروہ بھارت سے رابطہ میں ہیں اور مذاکرات کے حوالے سے ہدایات لے رہے ہیں.ثالث ممالک اور انکی طرف سے مذاکراتی کمیٹی میں شامل عہدیداران کا بھی اتفاق ہے کہ پاکستان کے مطالبات نا صرف جائز ہیں بلکہ خطے میں امن و امان اور ترقی کے لئے پاکستان کا موقف دُرست ہے.

  • سندھ ہائیکورٹ کا کراچی کی مخدوش عمارتوں کے اسٹرکچر کا دوبارہ جانچ کروانے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کا کراچی کی مخدوش عمارتوں کے اسٹرکچر کا دوبارہ جانچ کروانے کا حکم

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے مخدوش عمارتوں کو سیل کرنے کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ نے آزاد ماہر سے عمارتوں کے اسٹرکچر کی جانچ کروانے کا حکم دیا ہے۔

    کراچی کے اولڈسٹی ایریا کی مختلف عمارتوں کے مکینوں کی عمارتیں سیل کرنےکے خلاف درخواستوں پر سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی جہاں ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی کے اراکین عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے دوران جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ لوگ شکایت کر رہےہیں کہ عمارتوں کو مخدوش کہہ کر لوگوں کو نکالا جا رہا ہے، ٹیکنیکل کمیٹی کسی عمارت کے مخدوش ہونے کا تعین کیسےکرتی ہے، رکن کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ پر اعتماد نہیں تو تھرڈ پارٹی ماہرین سے معائنہ کروایا جا سکتا ہے، عدالت نے سوال کیا آپ ایس بی سی اےکا حصہ نہیں، بطور آزاد ماہر آپ کو کتنے پیسے ملتے ہیں، رکن نے بتایا آنے جانے کے لیے 5 ہزار روپے ملتے ہیں، اس پر جج نے کہا یہ آگے سے 50 ہزار پکڑتے ہوں گے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عمارت کا معائنہ کرنے کے لیے ناظر مقرر کیا جائے، اگر ناظر قرار دے دیں کہ عمارت مخدوش ہے تو کیس واپس لے لیں گے، ایس بی سی اے کی کمیٹی بدنیتی پر عمارتوں کو مخدوش قرار دے رہی ہے۔

    عدالت نے کہا کہ ٹیکنیکل کمیٹی پر اعتراض کی صورت میں آزاد ماہر کی خدمات لی جا سکتی ہیں، آپ لوگ دوبارہ عمارت کا معائنہ کیوں نہیں کر لیت، اس پر وکیل نے کہا کہ عمارت کا دو بار معائنہ کیا جاچکا ہے تاہم اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایس بی سی اے کی رپورٹ میں جو تصاویر ہیں وہ ہماری بلڈنگ کی نہیں ہیں،بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کی کارروائی سے روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایس بی سی اے کو ہدایت کی کہ کسی آزاد ماہر سے عمارت کے اسٹرکچر کی جانچ کروائی جائے جبکہ سیل عمارتوں سے رہائشیوں کو سامان نکالنے کی اجازت دیں

  • لاہور میں پولیس بھی ڈاکے ڈالنے لگی، ڈکیتی کے بعد اہلکارگرفتار

    لاہور میں پولیس بھی ڈاکے ڈالنے لگی، ڈکیتی کے بعد اہلکارگرفتار

    لاہور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے شاہدرہ میں شہری سے ڈکیتی کی واردات میں ملوث پولیس افسر نکلنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہلچل مچ گئی۔ ملزم کی شناخت سب انسپکٹر عمار کے نام سے ہوئی ہے، جسے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، ملزم سب انسپکٹر عمار تھانہ نیو انارکلی آپریشنز وِنگ میں تعینات تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 روز قبل اس نے اپنے ایک ساتھی جو ایک ریکارڈ یافتہ ڈاکو بتایا جا رہا ہے کے ساتھ مل کر اسلامیہ کالونی کے علاقے میں ایک شہری کو لوٹا۔ واردات کے دوران شہری سے 4 لاکھ 70 ہزار روپے نقدی چھین لی گئی تھی۔واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد ایس پی سٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لیا اور ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی۔ ٹیم نے مستی گیٹ پولیس کے تعاون سے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر عمار کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس حکام کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے جبکہ اس کے ساتھی کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ملزم کو سی سی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔پولیس کے اعلیٰ افسران نے اس افسوسناک واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وردی کی آڑ میں جرم کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کو مثالی سزا دی جائے تاکہ قانون کے محافظ دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل کر سکیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سالگرہ،زندگی کی 52 بہاریں دیکھ لیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سالگرہ،زندگی کی 52 بہاریں دیکھ لیں

    آج 28 اکتوبر کو وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وہ 28 اکتوبر 1973 کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور اس وقت ملک کی تاریخ رقم کرنے والی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب وہ اس منصب پر فائز ہوئیں تو انھوں نے شفاف طرزِ حکمرانی، عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے نئے رجحانات متعارف کروائے۔

    مریم نواز کا تعلق پاکستان کے معروف سیاسی خانوادے شریف خاندان سے ہے۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز ابتدا میں خاموشی سے کیا، جب وہ اپنے والد، سابق وزیراعظم نواز شریف کی معاونت میں مصروف رہتی تھیں۔ اس دوران ان کے پاس کوئی عوامی یا جماعتی عہدہ نہیں تھا، اور وہ پسِ پردہ سیاسی و تنظیمی امور میں شریک رہتی رہیں۔2012 میں مریم نواز پہلی بار اس وقت سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہوئیں جب مسلم لیگ (ن) نے انہیں 2013 کے عام انتخابات کی مہم کا انچارج مقرر کیا۔ الیکشن کے بعد انہیں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن بنایا گیا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کیے جانے کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا۔

    مریم نواز نے اپنی پہلی آزادانہ انتخابی مہم 2017 میں اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کے لیے لاہور کے حلقہ این اے-120 میں چلائی۔ یہ الیکشن اس وقت منعقد ہوا جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا،بیگم کلثوم نواز اس وقت علاج کے لیے لندن میں زیرِ علاج تھیں، چنانچہ مریم نواز نے تنِ تنہا اپنی والدہ کے لیے مہم چلائی۔ مخالفانہ سیاسی فضا، عدالتی دباؤ اور بدترین تنقید کے باوجود انہوں نے نہ صرف انتخابی میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنی والدہ کے لیے نشست بھی جیت لی۔ اس کامیابی نے مریم نواز کو ملک بھر میں ایک مضبوط اور جرات مند سیاسی رہنما کے طور پر منوایا۔

    1999 کی فوجی بغاوت کے بعد شریف خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا۔ مریم نواز نے اپنے خاندان کے ساتھ وہ دن سعودی عرب میں گزارے اور 2007 میں وطن واپسی کے بعد ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کیا،پانامہ پیپرز کیس کے دوران جب نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا، تو مریم نواز نے ن لیگ کی مزاحمتی سیاست کی قیادت سنبھالی۔ وہ اپنے والد کے ہمراہ عدالتوں، میڈیا اور عوامی دباؤ کے درمیان ڈٹ کر کھڑی رہیں۔2018 میں جب نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی گئی، تو وہ اپنے والد کے ساتھ وطن واپس آئیں اور گرفتاری پیش کی۔ جیل میں قید کے دوران ان کی والدہ کا لندن میں انتقال ہو گیا، جس پر انہیں صرف پانچ دن کی پیرول پر رہائی ملی۔ اس سانحے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی والدہ کے مشن کو جاری رکھا۔مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کو روایتی سیاست سے نکال کر جدید سیاسی اظہار اور پاپولر سیاست کی سمت گامزن کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کو پارٹی کی تنظیم اور عوامی رابطے کا موثر ذریعہ بنایا۔ ان کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا سوشل میڈیا سیل پاکستان کی سب سے منظم ڈیجیٹل سیاسی ٹیم کے طور پر سامنے آیا،انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں ایک جدید، تعلیم یافتہ اور عملیت پسند سوچ کو فروغ دیا، جس نے نوجوانوں کو پارٹی کے قریب کیا۔

    2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل کی اور مریم نواز کو صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب کیا۔ ان کا یہ انتخاب نہ صرف ایک تاریخی سنگِ میل تھا بلکہ پاکستانی سیاست میں خواتین کی قیادت کی علامت بھی بن گیا،وہ اپنے والد میاں نواز شریف، چچا شہباز شریف اور کزن حمزہ شہباز کے بعد شریف خاندان کی چوتھی شخصیت ہیں جو صوبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر فائز ہوئیں،وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے گورننس میں شفافیت، ڈیجیٹل اصلاحات، تعلیم و صحت کے منصوبوں اور خواتین کی ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے۔ عوامی سطح پر ان کا نعرہ "پنجاب کی بیٹی، پنجاب کی ماں” آج ایک سیاسی شناخت بن چکا ہے۔

    مریم نواز نے 1992 میں کیپٹن (ر) صفدر اعوان سے شادی کی۔ ان کے تین بچے ہیں مہرالنساء، جنید اور ماہنور، مریم نواز شریف خاندان کے اس حصے سے تعلق رکھتی ہیں جس نے ملکی سیاست میں کئی دہائیوں تک مرکزی کردار ادا کیا۔ مریم نواز کا سیاسی سفر جدوجہد، قربانی اور استقامت سے عبارت ہے۔ وہ آج نہ صرف پاکستان کی سب سے بااثر خواتین رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں بلکہ ایک ایسی سیاست دان کے طور پر جانی جاتی ہیں جنہوں نے مشکلات میں بھی امید کی شمع روشن رکھی۔

    وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کیلئے سالگرہ کے موقع پر تہنیتی پیغام جاری کیا اور کہا کہ پنجاب کی عوام کو اتنے تحفے دینے کا شکریہ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی عوام کی خدمت کے بارے میں تیار کردہ خصوصی ویڈیو بھی جاری کی،ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کی لمبی زندگی، صحت اور عوام کی اس سے بڑھ کر خدمت کیلئے دعا گو ہیں۔

  • بھارت میں داعش سر اٹھانے لگی،سیکورٹی ادارے پریشان

    بھارت میں داعش سر اٹھانے لگی،سیکورٹی ادارے پریشان

    پونے میں سافٹ ویئر انجینئر کی گرفتاری: القاعدہ اور داعش سے مبینہ روابط بے نقاب، مہاراشٹر اے ٹی ایس کی بڑی کارروائی

    مہاراشٹر کے اینٹی ٹیررازم اسکواڈ نے پیر کے روز ایک اہم کارروائی کے دوران پونے سے ایک سافٹ ویئر انجینئر کو گرفتار کرلیا ہے، جس پر القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں سے روابط رکھنے کا الزام ہے۔ گرفتار شخص کی شناخت زبیر ہنگارےکر کے نام سے ہوئی ہے۔

    اے ٹی ایس کے مطابق ملزم گزشتہ ایک ماہ سے ان کی نگرانی میں تھا اور اسے پونے کے کوندھوا علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں خصوصی عدالت نے اسے 4 نومبر تک پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔پولیس کے مطابق زبیر ہنگارےکر پر الزام ہے کہ وہ نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے اور مہاراشٹر سمیت دیگر شہروں میں ممکنہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔تحقیقات کے دوران پولیس نے اس کے گھر سے ایسے مواد اور ڈیجیٹل دستاویزات برآمد کی ہیں جنہیں شدت پسند نظریات کی تبلیغ اور نوجوانوں کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔

    اسی کیس سے متعلق کارروائی میں 27 اکتوبر کو پونے ریلوے اسٹیشن پر چنئی ایکسپریس سے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 9 اکتوبر کو اے ٹی ایس نے پونے کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے تھے، جہاں سے الیکٹرانک آلات، دستاویزات اور دیگر شواہد برآمد کیے گئے جو علاقے میں ایک وسیع دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

    پونے کی یہ کارروائی حال ہی میں دہلی کے صادق نگر سے محمد عدنان خان عرف ابو محارب (19 سال) اور بھوپال سے عدنان خان عرف ابو محمد (20 سال) کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہے۔یہ دونوں نوجوان مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے آن لائن ونگ سے وابستہ تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں کی آن لائن ذہن سازی (ریڈیکلائزیشن) شام میں موجود ایک ہینڈلر کے ذریعے کی گئی تھی۔

    تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان شام میں موجود داعش کے ایک رکن کو رپورٹ کرتے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ داعش نے شام میں دوبارہ منظم ہوکر اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔اطلاعات کے مطابق 2025 میں داعش کے 115 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 72 حملوں کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔

    انٹیلی جنس بیورو (IB) کے افسران کے مطابق، داعش نے اپنی آن لائن موجودگی کو از سرِ نو منظم کیا ہے اور ہندوستان میں اس کی سرگرمیاں شام سے چلائی جا رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گروپ سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس اور ویب فورمز کے ذریعے بھارتی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔