Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کینسر اور دل کے مریضوں کے علاج کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ

    کینسر اور دل کے مریضوں کے علاج کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کینسر اور دل کے مریضوں کے لیے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کینسر اور امراضِ قلب کے مہنگے علاج کا خوف، مالی تنگی اور بے بسی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں وزیراعلیٰ اسپیشل اینیشیٹو برائے کینسر پیشنٹ کارڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کینسر اور دل کے عارضے میں مبتلا افراد کے علاج کا مکمل خرچ حکومت برداشت کرے گی۔ کینسر اور کارڈیک سرجری کے لیے خصوصی کارڈ تیار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس کے ذریعے امراضِ قلب میں مبتلا مریض 10 لاکھ روپے تک کے علاج کی مفت سہولت حاصل کر سکیں گے۔پہلے مرحلے میں 45 ہزار مریض اس نئے سی ایم اسپیشل اینیشیٹو کارڈ کے ذریعے مہنگے علاج کے اخراجات سے آزاد ہو جائیں گے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کے تحت کارڈ رکھنے والے مریضوں کی سرجری بھی بالکل مفت کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اسٹروک/فالج کے بروقت علاج کے لیے بھی پروگرام پلان طلب کر لیا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے وزیراعلیٰ کو تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ نواز شریف انسٹیٹیوٹ کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے او پی ڈی بلاک کو 17 جنوری تک فعال کر دیا جائے گا تاکہ ہزاروں مریضوں کی زندگی بچانے کا عزم پورا کیا جا سکے۔ اسی طرح نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا کو 31 جنوری تک مکمل فعال کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، جہاں آئی پی ڈی، ایمرجنسی، پتھالوجی اور ریڈیالوجی سروسز بھی اسی تاریخ تک فعال ہو جائیں گی۔انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے بورڈ آف گورنرز نے پہلے مرحلے میں 219 اسامیوں پر بھرتیوں کی منظوری دے دی ہے جبکہ نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا کے بورڈ آف گورنرز نے پہلے فیز میں 258 اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دی ہے۔ لاہور میں جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی 15 فروری سے فنکشنل ہوگا جس کے لیے 1104 اسامیوں پر بھرتی کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

    بریفنگ کے مطابق پنجاب کے 57 بڑے ہسپتالوں کی اوپی ڈی میں ڈھائی کروڑ اور ایمرجنسی میں ایک کروڑ 62 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا۔ بڑے ہسپتالوں میں 19 ارب 90 کروڑ روپے کی ادویات مہیا کی گئیں۔ وزیراعلیٰ میڈیسن ہوم ڈیلیوری پروگرام کے تحت 5,37,511 مریضوں کو 480 ملین روپے مالیت کی ادویات ان کے گھروں تک پہنچائی گئیں۔مزید بتایا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں 11 ماہ کے دوران 7,44,430 سرجریز، 4,75,040 سی ٹی اسکین، اور 1,50,925 ایم آر آئی اسکین کیے گئے۔ امراضِ قلب کی نشاندہی کے لیے 1,05,155 انجیوگرافی اور 1,57,950 ایکو کارڈیوگرافی کی گئیں، جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں 12 لاکھ سے زائد الٹراساؤنڈ اور 18 لاکھ سے زائد ایکسرے کیے گئے۔ ڈیڑھ کروڑ سے زائد مریضوں نے پیتھالوجی ڈائگناسٹک ٹیسٹ کی سہولت حاصل کی۔

  • فاشسٹ مودی کی غاصب بھارتی فوج ہندوتوا کے زہریلے نظریہ پر کاربند

    فاشسٹ مودی کی غاصب بھارتی فوج ہندوتوا کے زہریلے نظریہ پر کاربند

    فاشسٹ مودی کی غاصب بھارتی فوج ہندوتوا کے زہریلے نظریہ پر کاربند، انتہا پسند مودی کی سیاسی آلہ کار بھارتی فوج اقلیتوں کے استحصال اور ہندوتواکے پھیلاؤ میں مصروف ہے۔

    بھارتی جریدہ دی وائر نے بھارتی فوج میں مذہبی تعصب، فرقہ واریت اورپیشہ ورانہ ساکھ کی پستی کو آشکارکر دیا۔ بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق بھارتی فوج میں ہندو مذہب کی نمایاں موجودگی کواب نظرانداز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بھارتی فوج میں مذہبی رجحانات کے بڑھنے سے غیر سیاسی اور پیشہ ورانہ تشخص پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ بی جے پی کے دورمیں فوجی مشقوں اور آپریشنز کے ناموں میں ہندو مذہبی حوالوں کا باقاعدہ استعمال شروع ہوا۔ بھارتی آرمی چیف جنرل دویدی کی مندروں میں سرکاری دوروں پر بھی تنقید سامنے آئی، دی وائر کے مطابق سپریم کورٹ نے بھارتی فوج کے مسیحی افسرلیفٹیننٹ سموئیل کمالیسن کی بحالی کی درخواست مسترد کر دی۔ مسیحی افسرکمالیسن مسیحی کی برطرفی کی وجہ 2021 مندر اور گردوارے میں داخل ہونے سے انکارتھا۔ بھارتی فوج کے اندر موجود مذہبی اختلافات کھل کر سامنے آ رہےہیں جوطویل عرصے تک چھپائے جاتے رہےہیں۔

    مذہبی رسومات اور علامتوں کا بڑھتا استعمال بھارتی فوج کی تاریخی سیکولر بنیاد اور یکجہتی کو کمزور کر رہا ہے۔ قابض بھارتی فوج کے بڑھتے انتہا پسندانہ واقعات نےنام نہاد سیکولر بھارت کی قلعی کھول دی ہے۔ قابض بھارتی فوج ہندوتوا نظریہ کی ذیلی شاخ بن کر اقلیتوں کے استحصال میں پیش پیش ہے۔

  • لاہور ،سی سی ڈی کے 5 مبینہ پولیس مقابلے، زیرِ حراست 5 ملزمان ہلاک

    لاہور ،سی سی ڈی کے 5 مبینہ پولیس مقابلے، زیرِ حراست 5 ملزمان ہلاک

    لاہور میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے پانچ علیحدہ مبینہ پولیس مقابلوں میں زیرِ حراست پانچ ملزمان ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ تمام مبینہ مقابلے شہر کے مختلف علاقوں میں اُس وقت پیش آئے جب اہلکار ملزمان کو “ریکوری کے لیے” لے جارہے تھے۔

    پولیس نے جن پانچ ملزمان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، ان میں رفاقت،شاہد،زاہد،نادر افضال،کامران اقبال شامل ہیں،کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے مطابق تمام ملزمان ماڈل ٹاؤن، ٹاؤن شپ، اقبال ٹاؤن اور صدر ڈویژن کی پولیس کے زیرِ حراست تھے۔سی سی ڈی اہلکار انہیں مختلف مقدمات میں ریکوری کیلئے لے جا رہے تھے۔اسی دوران راستے میں مبینہ طور پر ملزمان کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کیا تاکہ انہیں چھڑایا جا سکے۔پولیس کے مطابق حملے کا جواب دیتے ہوئے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں پانچوں ملزمان مارے گئے۔

    پولیس کا مزید کہنا ہے کہ تمام ہلاک ملزمان ڈکیتی، راہزنی، موٹر سائیکل چھیننے، لوٹ مار اور شہریوں پر فائرنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ان کے خلاف مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج تھے۔حملہ کرنے والے ساتھی اندھیرے اور فائرنگ کے شور کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔

  • ترقی کی سمت میں گامزن معیشت کےحوالے سے ابھی مزید محنت درکار ہے،وزیراعظم

    ترقی کی سمت میں گامزن معیشت کےحوالے سے ابھی مزید محنت درکار ہے،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے پاکستان کی معاشی ترقی کا خواب ان شاء اللہ جلد شرمندہ تعبیر ہوگا۔

    آئی ایم ایف کا حکومتی معاشی اصلاحات اور اقدامات کے مؤثرنفاذ سے جاری پروگرام کے تحت مالی اجرا پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈےکے نفاذ اور معاشی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی معاونت کا کلیدی کردار ہے، آئی ایم ایف کا اظہاراطمینان معاشی ٹیم بالخصوص وزیر خزانہ کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان معاشی استحکام اور ترقی کے لیے ضروری اقدامات پر عملدرآمد کر رہا ہے،ڈیفالٹ کے دہانے سے ملک کو استحکام اور ترقی کی سمت گامزن کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا جس کے لیے سب نے مل کر قربانی دی، سیاسی جماعتوں نے سیاست کی قربانی دے کر اور قوم نے معاشی مشکلات برداشت کرکے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

    وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کامیاب کیس اسٹڈی کے طور پر دنیا بھر میں مثال بن گئی ہے، پاکستان کی معاشی ترقی کا خواب ان شاء اللہ جلد شرمندہ تعبیر ہوگا،استحکام کے بعد ترقی کی سمت میں گامزن معیشت کےحوالے سے ابھی مزید محنت درکار ہے، بطور خادم پاکستان، پاکستانی عوام کی خوشحالی اور ملک کی بیرونی قرضوں سے مکمل نجات تک محنت جاری رکھوں گا، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان قرضوں سے مکمل نجات حاصل کرکے معاشی طور پر خود کفیل ہوگا۔

  • شکار پور،پولیس مقابلے میں 8 ڈاکو ہلاک

    شکار پور،پولیس مقابلے میں 8 ڈاکو ہلاک

    شکارپور میں پولیس مقابلے کے دوران 8 ڈاکو ہلاک ہو گئے جبکہ مقابلے میں دو ڈی ایس پیز زخمی ہو گئے۔

    ایس ایس پی شکار پور کے مطابق منچر شیخ کے علاقے میں پولیس مقابلے کے دوران 8 ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا گیا،انہوں نے بتایا کہ ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے میں ڈی ایس پی گڑھی یاسین ظہور سومرو زخمی اور ڈی ایس پی سٹی پارس بکرانی زخمی ہو گئے، زخمی ڈی ایس پیز کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں سے مقابلہ تاحال جاری ہے اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں پولیس کی بکتر بند گاڑیاں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

  • جج کے چیمبر سے 2 سیب،ہینڈ واش چوری ہونےکا مقدمہ درج

    جج کے چیمبر سے 2 سیب،ہینڈ واش چوری ہونےکا مقدمہ درج

    ایڈیشنل سیشن جج کے چیمبر سے 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چوری ہونے کا انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج نور محمد بسمل کے چیمبر میں چوری کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ،نامعلوم شخص نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چیمبر میں موجود 2 سیب اور ایک ہینڈ واش چپکے سے اٹھا لیے۔ واقعہ سامنے آنے پر عدالت کے عملے نے فوری طور پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا۔چوری کی اس واردات کا مقدمہ تھانہ اسلام پورہ میں درج کر لیا گیا ہے۔ چیمبر سے چوری ہونے والی اشیاء کی مالیت اگرچہ زیادہ نہیں، تاہم عدالتی احاطے میں سیکیورٹی breach کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدالت کے اندر نصب کیمروں کی مدد سے ملزم تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ عملے سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ ابتدائی طور پر واقعے کو معمولی نوعیت کی چوری قرار دیا جا رہا ہے تاہم سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

  • خیبرپختونخوا،بلوچستان،تین کمانڈروں سمیت 17 سے زائد دہشتگرد ہلاک،مسجدپر حملہ کرنیوالے گرفتار

    خیبرپختونخوا،بلوچستان،تین کمانڈروں سمیت 17 سے زائد دہشتگرد ہلاک،مسجدپر حملہ کرنیوالے گرفتار

    خیبرپختونخوا ،بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    ایف سی بلوچستان نے پنجگور کے علاقے سرّاک میں ایک بڑی خفیہ اطلاع پر مبنی کارروائی کے دوران تقریباً 4.9 ارب روپے مالیت کی منشیات برآمد کرلیں۔ حکام کے مطابق کارروائی میں 570 کلو گرام افیون اور 491 کلو گرام کوکین پاؤڈر قبضے میں لیا گیا، جبکہ دو ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منشیات ایسے نیٹ ورکس سے تعلق رکھتی ہیں جن کی آمدنی خطے میں شدت پسند اور دہشت گرد سرگرمیوں کی مالی مدد کرتی ہے۔ حکام کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیوں کا مقصد منظم اسمگلنگ نیٹ ورکس کو توڑنا اور دشمن عناصر کے مالی ذرائع بند کرنا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار شدگان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

    سریاب روڈ کے علاقے ولی جٹ کی زرائیت کالونی کے گیٹ پر دستی بم کا دھماکہ ہوا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے زرائیت کالونی کے مرکزی دروازے پر دستی بم پھینکا اور فرار ہوگئے۔ بم گیٹ کے قریب گرا اور زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے مقامِ حادثہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد جمع کرنا شروع کر دیے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی موقع کا جائزہ لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ دستی بم کے پھینکے جانے کے باعث ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے لیکن کوئی زخمی نہیں ہوا۔ سیکیورٹی اداروں نے اسے علاقے کا امن خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    لوئے سم علاقے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بڑی دہشت گردانہ سازش ناکام بنادی اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرلیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی لوئے سم پولیس اسٹیشن کی حدود میں کی گئی۔ دورانِ کارروائی فورسز نے دو آئی ای ڈیز، دو فائر شدہ مارٹر شیلز اور ایک ڈرم قبضے میں لیا۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے تمام مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا۔ علاقے میں سرچ آپریشن تیز کر دیا گیا ہے۔

    ٹانک میں مقامی امن کمیٹی کے دفتر پر مبینہ دہشت گرد ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھرا ڈرون دفتر سے ٹکرا کر پھٹ گیا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ڈی پی او ٹانک شبیر شاہ نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق ڈرون کے استعمال اور ذمہ دار گروہ کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    پولیس نے نصرت خیل علاقے کی مسجد پر دستی بم حملے اور فائرنگ میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے کلاشنکوف، پستول اور استعمال شدہ دستی بم بھی برآمد ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق تین روزہ ریمانڈ کے دوران ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق لکی مروت میں ایک کمپاؤنڈ پر ہونیوالے درست نشانے والے حملے میں سات ٹی ٹی پی دہشت گرد مارے گئے، جن میں تین اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں کمانڈر موسیٰ، کمانڈر احمد اور کمانڈر "لمبے” شامل ہیں۔ حملے میں شدت پسندوں کا ٹھکانہ مکمل تباہ ہوگیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ٹی ٹی پی کے مقامی ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکہ ہے کیونکہ یہ کمانڈر حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

    سر ڈگ کے علاقے سپین وام میں دہشت گردوں نے عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون حملہ کیا جس میں 15 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، جن میں مرد و خواتین شامل ہیں۔ ڈرون ایک دکان پر گرا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ حکام کے مطابق حملہ جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ تحقیقات جاری ہیں۔

    مرکزی کرم کے منٹو علاقے میں عسکریت پسندوں کے حملے کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، جس میں 10 دہشت گرد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو جوان شہید ہوگئے۔ فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرلیا اور سرچ آپریشن تیز کر دیا۔

    میرہ خیل میں پولیس حکام اور مقامی عمائدین کا جرگہ ہوا جس میں بزرگوں نے امن برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ عمائدین نے دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کا عزم ظاہر کیا۔

    باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز نے لوئے سم میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے مزید دھماکہ خیز مواد برآمد کرلیا۔ کارروائی شاہ گولو اور ملحقہ علاقوں میں کی گئی۔ دو آئی ای ڈیز، دو مارٹر شیلز اور ایک ڈرم دھماکہ خیز مواد پر مشتمل تھا جسے بم ڈسپوزل ٹیم نے ناکارہ بنا دیا۔ حکام کے مطابق حالیہ کارروائیاں بڑے سانحات کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ اگرچہ باجوڑ سمیت قبائلی اضلاع کو کلیئر کر دیا گیا ہے، لیکن بھاگے ہوئے دہشت گرد اب بھی جگہ جگہ بارودی سرنگیں اور آئی ای ڈیز لگا رہے ہیں، جس سے شہریوں اور فورسز کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ جاری کلیئرنس آپریشنز میں اب تک پانچ جوان شہید اور سو سے زائد اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔ 114 خطرناک علاقوں میں سے 82 مربع کلومیٹر کو کلیئر کیا جا چکا ہے، تاہم واقعات اب بھی پیش آ رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ فورسز روزانہ کی بنیاد پر علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں۔

  • این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں قدرتی وسائل کی فراوانی اور جغرافیائی اہمیت ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ تاہم اس ترقی کی بنیاد مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر سفری سہولیات اور محفوظ شاہراہوں سے ہی ممکن ہے۔ انہی قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع کا عظیم منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے معاشی سرگرمیوں کا نیا دروازہ ثابت ہو رہا ہے۔این-25 قومی شاہراہ بلوچستان کے دل میں موجود اہم شہروں مستونگ، کچلاک، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور چمن کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ سڑک اہم تجارتی راستے کا حصہ بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روزانہ ہزاروں مسافر، ٹرک، بسیں اور تجارتی گاڑیاں اس شاہراہ پر سفر کرتی ہیں۔ تاہم ماضی میں اس سڑک کی خستہ حالی، تنگ گزرگاہیں اور خطرناک موڑ ٹریفک حادثات اور سفر میں دشواریوں کا سبب بنتے رہے۔ یہی وجوہات اس منصوبے کی فوری ضرورت کی بنیاد بنیں۔

    این-25 کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ مجموعی طور پر 198 کلومیٹر طویل ہے جسے تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے،
    پہلا حصہ،مستونگ تا کچلاک 88 کلومیٹر،اس حصے میں پرانی روڈ کی مرمت، کشادگی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
    دوسرا حصہ کچلاک تا قلعہ عبداللہ 62 کلومیٹر،یہ حصہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ کوئٹہ شہر کی ٹریفک لوڈ کو بھی کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
    تیسرا حصہ قلعہ عبداللہ تا چمن 48 کلومیٹریہ مرحلہ سب سے اہم اور چیلنجنگ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں خوجک ٹنل (2.5 کلومیٹر)،چمن باؤنڈز (2.5 کلومیٹر)جیسے اہم اسٹرکچرز شامل ہیں۔اسی تیسرے حصے پر پہلے مرحلے میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیزی سے کام جاری ہے۔ قلعہ عبداللہ تا چمن سیکشن نہ صرف سب سے زیادہ ٹریفک لوڈ برداشت کرتا ہے بلکہ ملکی و غیر ملکی تجارت کے لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سیکشن کی کشادگی اور بہتری سے پورے خطے میں سفری اور تجارتی سہولت میں انقلاب آ جائے گا۔

    خوجک ٹنل بلوچستان کا ایک تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل حصہ ہے۔ اس 2.5 کلومیٹر طویل ٹنل پر جدید طرز پر بحالی اور توسیع کا کام فروری میں شروع کیا جا رہا ہے۔ نئی ڈیزائننگ، حفاظتی دیواریں، وینٹی لیشن سسٹم اور لائٹنگ سسٹم خوجک ٹنل کو عالمی معیار کے برابر لے آئیں گے۔ اس ٹنل کی بہتری سے سردیوں میں برفباری کے دوران ٹریفک جام اور حادثات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔منصوبے کی تعمیر پاکستان کے معروف انجینئرنگ ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے سپرد کی گئی ہے۔ ایف ڈبلیو او مشکل ترین علاقوں میں اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر بنانے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بھاری مشینری، محفوظ روڈ الائنمنٹ، ڈرینیج سسٹمز، فلائی اوورز اور حفاظتی دیواروں کی تنصیب جیسے چیلنجز ایف ڈبلیو او کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا عملی ثبوت ہیں۔

    چونکہ این-25 نہ صرف تعمیراتی لحاظ سے حساس منصوبہ ہے بلکہ اس پر روزانہ عوام اور تجارتی ٹریفک بھی چلتی ہے، اس لیے اس کی مجموعی سیکیورٹی پاک فوج اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ذمہ ہے۔ یہ ادارے تعمیراتی عملے، مشینری اور مقامی آبادی کی مکمل حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے علاقے میں اعتماد اور امن کا ماحول فروغ پا رہا ہے۔یہ منصوبہ بلوچستان اور پاکستان کی معاشی، سماجی اور تجارتی ترقی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    چمن بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے بڑا زمینی تجارتی دروازہ ہے۔ بہتر شاہراہ سے تجارتی ٹرکوں کی آمدورفت تیز ہوگی، جس سے درآمدات و برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔کشادہ سڑکوں اور بہتر الائنمنٹ کی بدولت سفر کم وقت اور زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔ ٹوٹ پھوٹ، کھڈوں اور تنگ موڑوں سے نجات ملنے سے مسافروں کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔منصوبے میں مقامی لیبر، مشین آپریٹرز، ٹیکنیشنز، ڈرائیورز، کھانے پینے کی سروسز اور دیگر شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ طویل المدتی طور پر بھی یہ شاہراہ تجارت میں اضافے کے ذریعے روزگار کے نئے دروازے کھولے گی۔سرد علاقوں خصوصاً خوجک ٹاپ پر برفباری کے دوران حادثات عام تھے۔ نئی سڑک، ٹنل کی بہتری، حفاظتی گارڈریل اور جدید سائن بورڈز کے بعد حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔سڑکوں کی بہتری ہمیشہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ جب علاقے میں تجارت بڑھے گی، روزگار ملے گا تو امن و استحکام خود بخود مضبوط ہوں گے۔ این-25 اس سلسلے میں حقیقی معنوں میں خوشحالی کی شاہراہ ثابت ہو گی۔

    این-25 کی کامیاب تکمیل عوام کے تعاون، حکومتی ذمہ داری اور سیکیورٹی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ منصوبہ بتا رہا ہے کہ جب ریاست اور عوام ایک سمت میں قدم بڑھائیں تو ترقی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ بلوچستان کی عوام اس منصوبے کو امن، ترقی اور معاشی روشنائی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔این-25 شاہراہ نہ صرف آج کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل قریب میں یہ سی پیک، وسطی ایشیائی ریاستوں، گوادر پورٹ اور افغانستان کے درمیان تجارت کا مرکزی راستہ بن جائے گی۔ بین الاقوامی سطح پر روابط بڑھیں گے، خطے میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور بلوچستان کو وہ اہمیت ملے گی جس کا وہ برسوں سے مستحق ہے۔

  • برطانوی عدالت کا عادل راجہ کو بریگیڈیئر(ر)راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم

    برطانوی عدالت کا عادل راجہ کو بریگیڈیئر(ر)راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم

    یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف کیس کی لندن ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    عدالت نے یوٹیوبر عادل راجہ کو ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد نصیر سے سرعام معافی مانگنے کا حکم دے دیا۔کیس کی سماعت جج رچرڈ اسپیئر مین کی جانب سے کی گئی۔ سماعت کے بعد عدالت نے حکم نامہ جاری کیا جس میں عادل راجہ کو اپنے توہین آمیز بیانات پر عوامی معافی مانگنے کا حکم دیا گیا، عدالت نے کہا کہ یہ معافی 28 دن تک عادل راجہ کے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب اکاؤنٹس اور اس کی ویب سائٹ کے پر نمایاں طور پر جاری رہے گی۔عادل راجہ کو 50,000 پاؤنڈ ہرجانہ اور 260,000 پاؤنڈ ابتدائی اخراجات (باقی رقم بعد میں طے کی جائے گی) ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو 22 دسمبر 2025 تک جمع کرانا ہوگا۔عادل راجہ کو دوبارہ کوئی توہین آمیز بیان دینے سے روکتے ہوئے اس کے خلاف پابندی کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔جج نے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    عادل راجہ نے فیصلے کے خلاف اپیل کی درخواست بھی کی تھی جسے جج نے مسترد کردیا،بریگیڈیئر راشد نصیر نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے سے متعلق آرڈر جاری کرے،جج نے حکم دیا ہے کہ عادل راجہ کو 22 دسمبر تک 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور عدالتی اخراجات کی مد میں 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے، اضافی عدالتی اخراجات کا تخمینہ بعد میں لگایا جائے گا اور وہ بھی عادل راجہ کو ادا کرنا ہوں گے، جج نے عادل راجہ کو آئندہ ہتک آمیز بیانات نہ دہرانے کا حکم امتناع بھی جاری کردیا

    عادل راجہ کے وکیل نے اب فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل میں جانے کا عندیہ دیا ہے، عادل راجہ نے بھی کہا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل جاؤں گا،خیال رہے کہ اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے میں جج نے عادل راجہ کے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا، آج عدالتی فیصلہ سننے کے لیے بریگیڈ (ر) راشد نصیر عدالت میں موجود تھے جبکہ عادل راجہ کے وکلا پیش ہوئے۔

  • پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں کا انڈونیشین صدر کا استقبال

    پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں کا انڈونیشین صدر کا استقبال

    اسلام آباد: پاکستان کی فضاؤں میں آج ایک منفرد اور یادگار منظر دیکھنے میں آیا، جب پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے سرکاری دورۂ پاکستان پر ان کے طیارے کو انتہائی پرتپاک، شاندار اور پروٹوکول سے بھرپور انداز میں خوش آمدید کہا۔

    پاک فضائیہ کے 6 جدید جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارے جیسے ہی انڈونیشیا کے صدر کے طیارے کے قریب پہنچے، انہوں نے خصوصی فارمیشن بنا کر معزز مہمان کو فضائی سلامی پیش کی۔یہ شاندار فلائی پاسٹ نہ صرف دفاعی مہارت کا مظہر تھا بلکہ دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کا عملی اظہار بھی تھا۔ جنگی طیاروں نے انڈونیشی صدر کے طیارے کو حصار میں لے کر مخصوص پروٹوکول فارمیشن میں مختلف زاویوں سے سلامی دی، جو کسی بھی ملکی مہمان نوازی کا اعلیٰ ترین اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو نے اس غیرمعمولی اور پرتپاک استقبال پر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، پاک فضائیہ اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کا شاندار استقبال پاکستان اور انڈونیشیا کی قربت، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    پاک فضائیہ کی جانب سے یہ شاندار خیرمقدمی فلائی پاسٹ دونوں ممالک کے دیرینہ سفارتی، عسکری اور عوامی روابط کی مضبوط بنیادوں کی عکاسی کرتا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی طرف سے یہ اعلیٰ پروٹوکول "جذبۂ خیر سگالی” اور باہمی احترام کی روایات کے عین مطابق ہے۔پاکستان کی فضائی سرحد میں داخل ہونے والے برادر ممالک کے سربراہان کو فضائی سلامی دینا ایک اعزاز بھی ہے اور روایت بھی۔انڈونیشیا جیسے قریبی دوست ملک کے صدر کو اس قدر شاندار انداز میں خوش آمدید کہنا دونوں ممالک کے درمیان پائیدار دوستی،اسٹریٹجک شراکت دار ی اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔انڈونیشیا کے صدر کا یہ دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات کے نئے دور کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے، جس میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور خطے میں امن کے لیے مزید تعاون کے امکانات بڑھیں گے۔