Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گووا نائٹ کلب میں ہولناک آتشزدگی،4 غیر ملکی سیاحوں سمیت 25 افراد کی موت

    گووا نائٹ کلب میں ہولناک آتشزدگی،4 غیر ملکی سیاحوں سمیت 25 افراد کی موت

    بھارت میں گووا کے ساحلی علاقے آرپورا میں واقع معروف نائٹ کلب "برچ بائی رومیو لین” میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً 12 بجے خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 4 غیر ملکی سیاح اور 14 اسٹاف ممبران بھی شامل ہیں۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ متعدد افراد دم گھٹنے سے جان سے گئے۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق آگ ڈانس فلور سے لگی، جہاں ’’بولی وُڈ بینگر نائٹ‘‘ جاری تھی اور تقریباً 100 سے زائد سیاح موجود تھے۔ کچھ شرکا جان بچانے کے لیے نیچے کچن کی طرف بھاگے، تاہم دھواں بھرنے سے وہاں بھی راستے بند ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق کلب میں باہر نکلنے کے راستے نتہائی تنگ تھے،چھت اور سجاوٹ میں خشک کھجور کے پتے استعمال کیے گئے تھے، جنہوں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا،ابتدائی شواہد سے حفاظتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے

    گووا کے وزیراعلیٰ پرمود ساونت نے صبح سویرے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ نائٹ کلب کا جنرل مینیجر گرفتار کر لیا گیا ہے،مالک کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے،سانحے کی مکمل تحقیقات کے لیے مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے

    وزیراعلیٰ نے تصدیق کی کہ متعدد افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے کیونکہ وہ بروقت باہر نہ نکل سکے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سے رابطہ کیا اور امداد کا اعلان کیا۔جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ روپے فی کس،زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے امداد کا اعلان کیا گیا ہے،وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی سانحے کو ’’بہت تکلیف دہ‘‘ قرار دیا اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔گووا کے گورنر پی اشوک گجاپتی راجو نے گووا میڈیکل کالج میں زیر علاج 6 زخمیوں کی عیادت کی۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا “یہ بہت افسوسناک حادثہ ہے، زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ تمام زخمی جلد صحت یاب ہوں۔”گورنر کے مطابق چیف سیکریٹری نے انہیں بتایا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ریگولیٹری محکموں کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔

    صبح سے ہی درجنوں لواحقین مردہ خانے کے باہر موجود ہیں۔ کچھ افراد جھارکھنڈ اور آسام سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے رشتہ دار ہیں، جن کے عزیز نائٹ کلب کے باورچی اور مددگار کے طور پر کام کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق کچھ لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں،مکمل شناخت اور پوسٹ مارٹم میں ایک دن کا وقت لگے گا

    گووا چرچ نے 25 اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا “ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ سوگوار خاندانوں کو صبر اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا کرے۔”

    حکام کے مطابق ’’برچ بائی رومیو لین‘‘ کے خلاف پہلے بھی اوور کپیسیٹی،ساؤنڈ قوانین کی خلاف ورزی،غیر منظور شدہ تعمیرات جیسے معاملات کی شکایات سامنے آ چکی تھیں۔ وزیراعلیٰ نے عندیہ دیا ہے کہ اس واقعے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

  • رواں برس 1100 کے قریب شہریوں کا پولیس مقابلوں میں مارے جانے کا انکشاف

    رواں برس 1100 کے قریب شہریوں کا پولیس مقابلوں میں مارے جانے کا انکشاف

    پنجاب میں جاری جعلی پولیس مقابلوں کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    میاں دائود ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلاء نے جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف آئینی درخواست دائر کر دی، درخواست میں پنجاب حکومت ،پنجاب پولیس ،سی سی ڈی، ایف آئی اے، وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2025 سے پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے،شہریوں کو جعلی اور نامعلوم مقدمات میں نامزد کرکے ریکارڈ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 1100 کے قریب شہریوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کیا جا چکا ہے،اعلی عدلیہ متعدد فیصلوں میں جعلی پولیس مقابلے آئین و قانون کیخلاف قرار دے چکی ہے،جعلی پولیس مقابلوں کو کریمنل جسٹس سسٹم کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ،وہاڑی میں ذیشان ڈھڈی ایڈووکیٹ کا قتل جعلی پولیس مقابلے کی شرمناک مثال ہے،جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف انسداد حراست ہلاکت ایکٹ 2022 کا قانون نافذ کیا گیا،قانون کے تحت ایف آئی اے زیر حراست ہر ہلاکت کی 30 دن میں انکوائری کرنے کی پابند ہے،لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلی پنجاب، وفاقی حکومت کو 2022 کے قانون پر عملدرآمد کا حکم دیا،لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پنجاب میں شہریوں کو ملزم قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہے،قانون کے نفاذ اور عدالتی فیصلوں کے باوجود ایف آئی اے نے آج تک کسی ہلاکت کی انکوائری نہیں کی،لاہور ہائیکورٹ پنجاب میں فوری طور پر پولیس مقابلے روکنے کا حکم جاری کرے،عدالت ایف آئی اے کو جنوری 2025 سے لیکر آج تک تمام پولیس مقابلوں کی انکوائری کا حکم دے ،لاہور ہائیکورٹ انسداد حراست ہلاکت ایکٹ 2022 پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دے.

  • بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری  تنزلی کا شکار ، مودی کو دنیا بھر میں رسوائی اور سبکی کا سامنا

    بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری تنزلی کا شکار ، مودی کو دنیا بھر میں رسوائی اور سبکی کا سامنا

    بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری مسلسل تنزلی کا شکار ، نا اہل مودی کو دنیا بھر میں رسوائی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    مختلف محاذوں پر منہ کی کھانی کے بعد بھارت میں ایوی ایشن انڈسٹری بھی شدید بحران کا شکارہے،بھارتی ایئرلائن کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشنل بریک ڈاؤن، نام نہاد شائننگ انڈیا کا پردہ چاک ہو گیا،پاکستان کی جانب سے عائد کی گئیں فضائی حدود کی پابندیوں کے بعد بھارتی ائیر لائن کو شدید خسارے کا سامنا ہے،بھارتی ایوی ایشن میں نئے پائلٹ قوانین اور ناقص منصوبہ بندی بھی نا اہل مودی کے گلے پڑ گئے

    عالمی نشریاتی ادارہ ٹی آر ٹی کے مطابق؛ بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے ملک بھر میں 500 پروازیں منسوخ کر دیں،پائلٹ ڈیوٹی قوانین کے حوالہ سے بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی نے ایئرلائن کو شدید بحران میں دھکیل دیا،چار روز سے جاری شدید بحران نے بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن کے پورے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا، ایئرپورٹ حکام کے مطابق، ممبئی میں 104، بنگلورو میں 102 اور حیدرآباد میں 92 پروازیں منسوخ کی گئیں، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایئرلائن کی وقت پر پرواز کی شرح صرف 8.5 فیصد رہ گئی،

    بھارتی ائیر لائن انڈیگو اندرونِ ملک فضائی آپریشن میں 60 فیصد سے زائد حصص کی حامل ایئرلائن تھی،موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئےبھارت کی دیگرنجی ائیر لائنز مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹنے میں مصروف ہیں،مودی کی ناقص پالیسیوں کی دائمی خامیوں نے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے،پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی پابندیاں اوربھارتی خودساختہ پائلٹ قوانین بھارتی ائیر لائن کو شدید بحران میں دھکیل رہے ہیں

  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز بن گئی

    مکران ایک محفوظ، پُرامن اور پُرسکون سیاحتی مرکز کے طور پر غیر ملکی سیاحوں کی توجہ سمیٹنے لگا،پاکستان کے جنوبی ساحل مکران نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ،گزشتہ مہینوں میں خصوصاً یورپ سے آنے والے سیاحوں کی بڑھتی تعداد بلوچستان کی پر امن شناخت مضبوط کرنے لگی ،لسبیلہ سے گوادر تک نیلی پٹی کنڈ ملیر، پسنی، ارماڑہ اور ہنگول کی طلسماتی قدرتی کشش مہمانوں کو متاثر کر رہی ہے،سیاحوں نے بلوچستان کی مہمان نوازی، ثقافتی روایات اور مقامی لوگوں کی سادگی کو بے مثال قرار دیا

    مقامی پولیس کے مطابق؛رواں سال 400 سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے مکران کا رخ کیا ،مقامی حکام کے مطابق پاکستان میں سیکیورٹی پر غیر ملکی سیاحوں نے تسلی کا اظہار کیا ہے، پولیس کی شاندار سیکیورٹی فراہم کرنے کے باعث غیر ملکی سیاح یہاں پر بلا خوف و خطر سفر کرتے ہیں، مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی مندر ہے جس کو غیر ملکی سیاح دیکھنے آتے ہیں اور پولیس ان کو بہترین سیکیورٹی فراہم کرتی ہے،

    مکران میں ہر گزرتا دن اعتماد امن و ترقی کے نئے امکانات کو دنیا کے سامنے زیادہ نمایاں کر رہا ہے،عالمی برادری بھی بلوچستان کو امن پسند مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن خطہ کے طور پر تسلیم کرچکی ہے،مکران اب صرف خوبصورت ساحل نہیں بلکہ بلوچستان کے روشن مستقبل اور اُبھرتی ہوئی عالمی شناخت بن رہا ہے

  • پاکستان  کاروباری شخصیات کیلیے نہایت منافع بخش مواقع پیش کرتا ہے،رضوان سعیدشیخ

    پاکستان کاروباری شخصیات کیلیے نہایت منافع بخش مواقع پیش کرتا ہے،رضوان سعیدشیخ

    امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی کاروباری شخصیات کے لیے نہایت منافع بخش مواقع پیش کرتا ہے، خصوصاً تیزی سے ترقی کرنے والے اور پرکشش آئی ٹی، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں ، دونوں ممالک کی قیادت اقتصادی تعاون کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، اسی لیے ہم امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے لیے ایک سازگار اور سرمایہ دوست ماحول فراہم کرنے کے مکمل طور پر پابند ہیں، جو 25 کروڑ سے زائد صارفین کی متحرک مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک اہم تجارتی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے، جو امریکی کاروباری اداروں کو توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی منڈیوں اور سرمایہ سے بھرپور خلیجی ریاستوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

    سفیر رضوان سعید شیخ نے یہ باتیں واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارتخانے میں ییل اسکول آف مینجمنٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہیں۔ملاقات میں بتایا گیا کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس پاکستان بزنس الائنس ییل اسکول آف مینجمنٹ کے 35 رکنی وفد کے پاکستان کے دورے کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد پاکستان میں کاروباری مواقع کا جائزہ لینا، پالیسی سازوں سے ملاقاتیں کرنا اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کا براہِ راست مشاہدہ کرنا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے کاروباری ماحول میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور طویل مدتی معاشی شراکت داری کے نئے راستے تلاش کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

    وفد سے خطاب میں سفیر شیخ نے پاکستان امریکہ تعلقات میں مثبت پیش رفت اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سیاحت، زراعت، توانائی، مینوفیکچرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں اہم مواقع پیش کرتا ہے، جہاں پاکستان لاگت اور معیار دونوں حوالوں سے نمایاں برتری رکھتا ہے۔پاکستان کے ٹیکنالوجی سے آشنا نوجوانوں کو جو آبادی کا سب سے بڑا اور مسلسل بڑھتا ہوا طبقہ ہے قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ یہ ہنرمند افرادی قوت امریکی مارکیٹ خصوصاً کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کیے گئے مختلف پالیسی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں ایس آئی ایف سی کا مرکزی کردار بھی شامل ہے، جو کاروبار میں آسانی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔سفیر نے کہا کہ امریکہ کی 80 سے زائد کمپنیاں جو پہلے ہی پاکستان میں منافع بخش طور پر کام کر رہی ہیں، ملک کی وسیع اقتصادی صلاحیت کا واضح ثبوت ہیں۔

    انہوں نے ییل کے وفد کے دورے کے انتظامات پر یونائیٹڈ اسٹیٹس پاکستان بزنس الائنس کے اقدام کو سراہا اور ان کے سفر کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفد نے بریفنگ پر سفیر کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے دورے کے دوران سفارتخانے کے تعاون کی امید ظاہر کی۔

  • الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار

    الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار

    الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

    ای سی پی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشنز کیس زیر التواء ہے، پی ٹی آئی نے خود ہی لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے،بیرسٹر گوہر نے آزاد سینیٹرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھا تھا جس پر ای سی پی نے جوابی خط لکھ دیا۔الیکشن کمیشن نے جوابی خط میں بیرسٹر گوہر پر قانونی پوزیشن واضح کردی، کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشنز کیس زیر التواء ہے، پی ٹی آئی نے خود ہی لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے، آپ کو اس وقت چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔الیکشن کمیشن نے خط میں مزید کہا کہ آپ کو آزاد سینیٹرز کو پارٹی میں شامل کرانے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔

  • خود کو مقبول لیڈر کہنے والے کے اپنے بیٹے لندن میں ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان

    خود کو مقبول لیڈر کہنے والے کے اپنے بیٹے لندن میں ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرار بگٹی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں ناراض افراد نے ہتھیار ڈالنا شروع کردیئے، ریاست کی طاقت اور مضبوطی ہر چیز سے زیادہ اہم ہے، رواں سال پیراملٹری فورسز کے 205 اہلکار شہید ہوئے، رواں سال سویلین شہداء کی تعداد 280 ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد قوم پر اپنا نظام مسلط نہیں کرسکتے، ہم نے 7 گنا بڑے دشمن کو بدترین شکست دی، 100 سے زائد دہشتگردوں نے ریاست کے سامنے سرینڈر کیا، بلوچوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا گیا، ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کہتا ہوں سرینڈر کردیں، ریاست نے معافی کا دروازہ کھلا چھوڑا ہوا ہے۔سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ پاکستان کی ریاست اور فیلڈ مارشل کیخلاف بیانیہ بنایا گیا، ہم اپنی فورسز کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، ہمیں ریاست کو کمزور کرنے والا بیانیہ ترک کرنا پڑے گا، خود کو مقبول لیڈر کہنے والے کے اپنے بیٹے لندن میں ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ سیکیورٹی فورسز کی نہیں، ریاست کی ہے، ریاست ہوگی تو سیاست بھی ہوگی اور صحافت بھی، کیا ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی کی ضرورت نہیں،

  • پارلیمنٹ اجلاس میں عمران خان کی تصویر لہرانے والے رکن کی رکنیت معطلی کا فیصلہ

    پارلیمنٹ اجلاس میں عمران خان کی تصویر لہرانے والے رکن کی رکنیت معطلی کا فیصلہ

    پارلیمانی محاذ پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی مبینہ ’’غیر سیاسی اور جارحانہ‘‘ حکمتِ عملی کا راستہ روکنے کے لیے بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ایسے ارکان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کارروائی میں خلل ڈالنے یا ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے مرتکب ہوں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق پارلیمانی قیادت نے طے کیا ہے کہ اگر کوئی رکن ایوان میں ریاستی اداروں کیخلاف تقریر کرے، ڈائس کا گھیراؤ کرے یا بانی پی ٹی آئی کی تصاویر لہرائے تو اس کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد ایوانوں کے تقدس اور پارلیمانی ضابطہ کار کو برقرار رکھنا قرار دیا جا رہا ہے۔

    پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی دونوں ایوانوں کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے مکمل مربوط حکمتِ عملی پر متفق ہو چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے تحت قائم مقام چیئرمین سینیٹ پیر یا منگل کو پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کو باضابطہ خط لکھیں گے۔خط میں سیدال خان کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ اپنی جماعت کے ارکان کو رولنگ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا پابند بنائیں، تاکہ ایوان میں نظم و ضبط قائم رکھا جا سکے۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا ہے کہ یہ رولنگ ’’سیاسی‘‘ نہیں بلکہ آئین اور قانون کا واضح تقاضہ ہے، اور ایوان کی کارروائی کو کسی بھی صورت انتشار یا بے نظمی کا شکار ہونے نہیں دیا جائے گا۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،18 سے زائد دہشتگردہلاک،پنجاب میں غیر قانونی افغانوں کیخلاف آپریشن

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،18 سے زائد دہشتگردہلاک،پنجاب میں غیر قانونی افغانوں کیخلاف آپریشن

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں،18 سے زائد دہشتگردہلاک ہو گئے ہیں،

    پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 31 ہزار سے زائد افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق لاہور سمیت مختلف اضلاع میں کی جانے والی جامع کارروائیوں میں مجموعی طور پر 31,154 افغان شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔ترجمان کے مطابق وطن واپس جانے والوں میں 11,362 مرد، 6,426 خواتین اور 19,366 بچے شامل ہیں۔
    مزید بتایا گیا کہ اس وقت 165 افراد مختلف پروسیسنگ پوائنٹس پر زیرِ حراست ہیں، جن کی باضابطہ واپسی کا عمل جاری ہے۔حکام نے بتایا کہ ملک بدر کیے گئے افراد تین زمروں میں شامل تھے 9,931 افراد کے پاس جزوی رہائشی دستاویزات تھیں،11,064 کے پاس افغان سٹیزن کارڈ ،جبکہ 10,016 ایسے تھے جن کے پاس کوئی بھی قانونی دستاویز موجود نہیں تھی۔پولیس کے مطابق ہر کیس کو پاکستان کے امیگریشن قوانین کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے۔سرکاری کام میں تیزی لانے کے لیے پنجاب بھر میں 46 ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جن میں لاہور کے 5 مراکز بھی شامل ہیں، جہاں مکمل تصدیق اور اسکریننگ کے بعد افراد کو سرحد کی جانب روانہ کیا جاتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے حسن لالو کے علاقے میں دہشتگردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی۔کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ شدت پسندوں کا تعلق فتنہ الہندستان نامی گروہ سے تھا۔فائرنگ کے نتیجے میں 12 دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک زخمی دہشتگرد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔سیکیورٹی اہلکاروں نے موقع سے بھاری مقدار میں ہتھیار بھی برآمد کیے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے پانچ "بھارت نواز دہشتگرد” ہلاک ہوئے۔موقع سے اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشتگرد ماضی میں سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث تھے۔

    چمن کے قریب پاک افغان سرحد پر جھڑپ کے دوران افغان طالبان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے باعث طالبان انتظامیہ دباؤ کا شکار ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے اپنے ہلاک اور زخمی ہونے والے جنگجوؤں کی اصل تعداد کو چھپایا ہے اور صرف ایک شہری کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ واقعے کی شدت کم دکھائی جائے۔ایک مقامی صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کے جانی نقصان کی تعداد “دعویٰ سے کہیں زیادہ” ہے۔ذرائع کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں طالبان کی متعدد چوکیوں اور گاڑیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق کا انتظار ہے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنّوں کے علاقے مومند خیل میں ایک زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکے میں مومند خیل کا ایک اہم رابطہ پل مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

    شمالی وزیرستان میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جو روزانہ صبح 5 بجے سے شام 7 بجے تک مؤثر رہے گی۔

    پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس اور کراچی سے آنے والی بولان میل ٹرین کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا ہے۔

    باجوڑ کے علاقے باڑا میں مسلح افراد نے پولیس کا روپ دھار کر ایک شہری کو اغوا کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منصوبہ ناکام بنا دیا۔پولیس کے مطابق رحمت اللہ ولد میر خان کو دو مشکوک گاڑیوں میں سوار افراد نے جعلی پولیس وردی پہن کر اغوا کرنے کی کوشش کی۔ایس ایچ او باڑا ہردم گل کی ہدایت پر ایڈیشنل ایس ایچ او صالح محمد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان افضل مجید (ہنگو) اور غیاث الدین (چارپریزه، پشاور) کو گرفتار کر لیا۔ملزمان کے قبضے سے کلاشنکوف سمیت دیگر اسلحہ برآمد ہوا۔رحمت اللہ کو باحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزمان منظم جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور مزید ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔

    باڑا میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم دہشتگرد عدنان عرف سعد کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا۔ذرائع کے مطابق فورسز نے واقعے کے بعد علاقے میں آپریشن مزید تیز کر دیا ہے اور باقی دہشتگردوں کی تلاش جاری ہے۔

  • جنوبی وزیرستان: کالعدم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر اپنے ہی دستی بم کے دھماکے میں ہلاک

    جنوبی وزیرستان: کالعدم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر اپنے ہی دستی بم کے دھماکے میں ہلاک

    جنوبی وزیرستان میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے میں کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ ایک سینئر کمانڈر اپنے ہی دستی بم کے دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔

    باخبر ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا شدت پسند پکتیکا، ضلع ارگون کے گاؤں گل شاہ خیل کا رہائشی اور پکتیکا میں سرگرم مسلم یار گروپ کا اہم کمانڈر تھا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ کمانڈر چند روز قبل افغانستان سے غیر قانونی طور پر جنوبی وزیرستان میں داخل ہوا تھا، جہاں وہ اپنے نیٹ ورک سے دوبارہ رابطے اور بعض کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا،گزشتہ روز فورسز کی جانب سے علاقے میں ایک آپریشن کیا گیا، جس کے دوران کمانڈر نے مبینہ طور پر مزاحمت کی۔ اسی دوران اس کے پاس موجود دستی بم پھٹ گیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد افغان طالبان (ٹی ٹی اے) اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان آپریشنل روابط کی موجودگی ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کمانڈر دونوں گروہوں کے نیٹ ورک کو ایک بار پھر مضبوط بنانے اور رابطے بحال کرنے کی کوششوں میں تھا۔سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرحد پار موجود شدت پسند عناصر پاکستان میں کارروائیاں کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں، جبکہ ان کے سہولت کار اور رابطہ گروہ انہیں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنوبی وزیرستان اور مبینہ سرحدی راستے اب بھی کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔