Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا،وزیراعظم

    گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز کھولنے کا اعلان کر دیا۔

    اسلام آباد میں آر ایل این جی گیس کنکشنز کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز اہم تقاضا تھا، حکومت نے ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کنیکشنز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، 2022 میں پی ڈی ایم حکومت کے دوران گیس کی فراہمی ایک بڑا چیلنج تھا، عوام کا یہ اہم مطالبہ تھا کہ گیس کنیکشنز کا اجرا کیا جائے لیکن اس وقت گیس دستیاب نہیں تھی اس لیے عوام سے معذرت کرنا پڑی،نئے گیس کنیکشنز کے لیے لاکھوں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، آج گیس کنیکشنز کی بحالی سے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا 2013 میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے سے زائد تھا، مسلم لیگ ن کی حکومت نے ملک سے اندھیروں کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کیے، ہم نے شبانہ روز محنت کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

  • یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پروفیسر کی جعلی بھرتی کا انکشاف سامنے آیا ہے

    درخواست گزار محمد ناصر اور غلام حسین نے ڈاکٹر محسن کی تعیناتی بطور پروفیسر شعبہ ٹیکسٹائل اور تقرری بطور کیمپس کوآرڈینیٹر کو غیر قانونی ہونے کی بنا پر پہلے موجودہ وائس چانسلر شاہد منیر کو درخواست گزاری کہ ڈاکٹر محسن کی مذکورہ تعیناتی و تقرری کو کالعدم قرار دیا جائے لیکن وائس چانسلر نے موجودہ رجسٹرار (آصف) کی غلط قانونی تشریح پر اس معاملہ میں کوئی کاروائی نہ کی جس پر درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کو اپیل کر دی جس پر گورنر پنجاب نے انصاف کا ابتدائی تقاضہ پورا کرتے ہوئے تمام فریقین کو مورخہ 2025-10-14 کو ہیئرنگ کیلئے اپنے دفتر میں طلب کر لیا جس میں رجسٹرار نے یہ اقرار کیا کہ ڈاکٹر محسن کی تعیناتی و تقرری میں قانونی پراسس مکمل نہیں کیا گیا

    علاوہ ازیں دورانِ ہیئرنگ درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب کو باآور کرایا کہ جامعہ مذکورہ میں جملہ غیر قانونی و جعلی بھرتیوں کا ذمہ دار براہِ راست موجودہ رجسٹرار (آصف) ہے کیونکہ رجسٹرار سلیکشن بورڈ کا سیکرٹری ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ بورڈ کے سامنے تمام درست ریکارڈ پیش کرے اور قانون کی درست وضاحت کرے تاکہ بورڈ میرٹ پر تعیناتی کر سکے لیکن رجسٹرار نے طمع نفس کیلئے سلیکشن بورڈ اور وائس چانسلر سے غلط ریکارڈ پیش کر کے بھرتیاں کروا رہا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ رجسٹرار (آصف) نے خود یونیورسٹی میں اپنی نوکوری جعلی ایکسپرینس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے حاصل کی ہے جو کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی انکوائری میں ثابت ہو چکا ہے یعنی ایک جعلی بھرتی یافتہ آگے خود جعلی بھرتیاں کیے جا رہا ہے جس کے تسلسل میں رجسٹرار نے سلیکشن بورڈ نمبر 380 کا ایجنڈا جاری کیے بغیر ڈاکٹر محسن کو اپنی ماہرانہ بد عنوانی کیلئے بطورِ پروفیسر بھرتی کروا دیا اس کے علاوہ ڈاکٹر محسن کا انٹرویو لینے والے جو ماہرین رجسٹرار نے سلیکشن بورڈ منٹس میں ظاہر کیے ہیں وہ بھی ڈاکٹر کے خاص تعلق دار ہیں جو ڈاکٹر محسن کے ساتھ مل کر کئی ریسرچ پیپرز بھی بین الاقوامی سطح پر لکھ چکے ہیں اس حوالہ سے تو رجسٹرار نے حرام کھانے کیلئے شفافیت، غیر جانبداری اور میرٹ کا جنازہ نکال دیا ہے اس کے بعد بات یہاں تک نہیں رکی رجسٹرار نے ڈاکٹر محسن پر اپنی مزید مہربانی کرتے ہوئے اسے غیر قانونی طور پر سلیکشن بورڈ کی منظوری کے بغیر ڈاکٹر محسن کو فیصل آباد کیمپس یو ای ٹی کا کوآرڈینیٹر بھی لگوا دیا۔

    درخواست گزاروں نے گورنر پنجاب کو بتایا کہ یہ تمام لاقانونیت رجسٹرار نے طمع نفس کیلئے کی ہے جس پر گورنر پنجاب نے وہیں پر موجود رجسٹرار (آصف) سے بھی استفسار کیا لیکن وہ اپنی صفائی پیش نہ کر سکا جس پر گورنر پنجاب نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے لہٰذا فیصلہ بالکل میرٹ پر ہو گا اور گورنر صاحب نے درخواست گزاروں کو مزید یقین دہانی کرائی کہ اس کیس میں کسی کی مداخلت بھی قبول نہیں کی جائے گی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی اور غیر قانونی، آؤٹ آف میرٹ اور جعلی بھرتیوں کو بھی منسوخ کیا جائے گا۔

  • شادی کے 8 دن بعد دولہا دلہن کو چھوڑ کر نئی کی تلاش میں نکل پڑا

    شادی کے 8 دن بعد دولہا دلہن کو چھوڑ کر نئی کی تلاش میں نکل پڑا

    اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایک شخص پر الزام ہے کہ وہ شادیوں کا عادی بن چکا ہے۔ یہ شخص نہ صرف اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر دوسری شادی کر بیٹھا بلکہ اب تیسری شادی کی تیاری میں مصروف ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، منیش کمل نامی شخص نے اپنی دوسری بیوی انکیتا سریواستو سے رواں سال 7 مارچ کو شادی کی تھی۔ شادی دھوم دھام سے لکھنؤ کے آئی آئی ایم روڈ پر واقع ونائک میرج لان میں انجام پائی۔ انکیتا کے والدین نے بیٹی کی خوشی کے لیے 15 لاکھ روپے نقد اور دیگر سامان ملا کر 35 لاکھ روپے خرچ کیے۔انکیتا نے پولیس کو بتایا کہ شادی کے صرف آٹھ دن بعد ہی منیش اسے اطلاع دیے بغیر گھر سے بھاگ گیا۔ جب وہ غمزدہ حالت میں دہرادون پہنچی تو اسے پتہ چلا کہ منیش نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر اس سے شادی کی تھی۔ مزید تحقیقات میں انکیتا کو یہ بھی معلوم ہوا کہ منیش کے مختلف خواتین سے ناجائز تعلقات ہیں۔

    انکیتا کا کہنا تھا “شادی کے بعد سے ہی وہ مجھ سے جہیز کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ اس کے اہلِ خانہ نے مجھ سے مزید 10 لاکھ روپے مانگے۔ جب میں نے انکار کیا تو مجھے مارا پیٹا گیا اور مسلسل ذہنی اذیت دی گئی۔ میں چاہتی ہوں کہ پولیس منیش کو سخت سزا دے تاکہ وہ کسی اور عورت کی زندگی برباد نہ کر سکے۔”

    انکیتا نے بتایا کہ شادی کے دوسرے ہی دن سے اس کی ساس میرا سریواستو، سسر اور بھابھی نے اسے جہیز کے مطالبے پر پریشان کرنا شروع کر دیا۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ منیش نے اسے محض آٹھ دن بعد چھوڑ دیا اور غائب ہو گیا۔واقعہ کے بعد انکیتا نے سائرہ پور پولیس اسٹیشن، لکھنؤ میں اپنے شوہر منیش کمل، ساس میرا سریواستو، سسر اور بھابھی کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔پولیس کے مطابق، شکایت موصول ہونے پر فوری طور پر دفعہ 498-اے (جہیز کے لیے ہراسانی)، 420 (دھوکہ دہی) اور بگامی (دوہری شادی) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    انسپکٹر منوج کوری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا“متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور متاثرہ کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔”

    ذرائع کے مطابق، منیش کمل کا تعلق غازی پور ضلع کے منڈی اکبر آباد رائے گنج سے ہے، جب کہ دوسری بیوی انکیتا سریواستو کا تعلق دہرادون کے ٹرنر روڈ سے ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ منیش پہلے بھی متعدد خواتین سے رشتہ ازدواج میں بندھ چکا ہے اور مالی فائدہ اٹھانے کے بعد فرار ہو جاتا ہے۔

  • بھارت میں  مدرسہ داخلے کیلئے کمسن لڑکی سے کنوارہ پن  کا سرٹیفکیٹ طلب،مقدمہ درج

    بھارت میں مدرسہ داخلے کیلئے کمسن لڑکی سے کنوارہ پن کا سرٹیفکیٹ طلب،مقدمہ درج

    اترپردیش کے ضلع مرادآباد میں ایک نہایت افسوسناک اور شرمناک واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے، جہاں ایک مدرسے کی انتظامیہ نے آٹھویں جماعت میں داخلے کے لیے ایک کمسن لڑکی سے کنوارہ پن کا سرٹیفکیٹ طلب کیا۔ یہ واقعہ پاکبارہ تھانہ حدود میں قائم جامعہ احسان البنات نامی مدرسے میں پیش آیا۔

    متاثرہ طالبہ کے والدین، جن کا تعلق چندی گڑھ سے بتایا گیا ہے، نے الزام عائد کیا ہے کہ مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے ان کی بیٹی کے کردار پر سوال اٹھایا گیا اور داخلہ دینے سے پہلے "طبی معائنہ” کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ والد کے مطابق داخلہ سیل انچارج شاہجہاں، پرنسپل اور دیگر عملے نے واضح طور پر کہا کہ جب تک لڑکی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا جاتا، اسے داخلہ نہیں دیا جائے گا۔والد نے الزام لگایا،میری بیٹی میرے ساتھ اکیلی تھی۔ مدرسے نے مجھ سے کہا کہ اس کا میڈیکل ٹیسٹ کرواؤ اور کنوارہ پن کا سرٹیفکیٹ لاؤ، ورنہ ایڈمیشن نہیں ملے گا۔ میں نے انکار کیا تو انہوں نے میری بیٹی کو مدرسے سے نکال دیا اور میرے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔

    متاثرہ کے والد نے مدرسہ انتظامیہ کے رویے کے خلاف ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کی، جو تیزی سے وائرل ہو گئی۔پولیس کے مطابق انہیں 14 اکتوبر کو ڈاک کے ذریعے ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں پولیس نے مدرسے کی ایڈمیشن سیل انچارج شاہجہاں، پرنسپل، اور دیگر عملے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تفتیش مکمل ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق، جب لڑکی کے والد نے کنوارہ پن سرٹیفکیٹ جمع کرانے سے صاف انکار کیا، تو مدرسہ کے عملے نے ان کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کیا اور انہیں مدرسے سے زبردستی باہر نکال دیا۔ اس واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے انصاف کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔ واقعے نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ شہریوں اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو کسی طالبہ کی عزت و وقار کو مجروح کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ شہریوں نے حکومتِ اترپردیش سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کے ذمے داروں کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ادارہ اس طرح کی غیر اخلاقی حرکت کرنے کی جرات نہ کرے۔

  • تصویروں کی صفائی کرنا ،جیل کے باہر سڑکوں پر بیٹھنا یہ وزیر اعلی کا کام نہیں،عطا تارڑ

    تصویروں کی صفائی کرنا ،جیل کے باہر سڑکوں پر بیٹھنا یہ وزیر اعلی کا کام نہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی وزیرآباد آمد ہوئی ہے

    عطا تارڑ نے چوہدری شجاعت حسین کے بہنوئی اور چوہدری پرویز الہی کے ہم زلف جاوید اقبال چٹھہ کی وفات پر تعزیت کی ،اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے حکومت بہترین اقدامات کر رہی ہے ،سیلاب زدہ علاقہ جات میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے ،بانی پی ٹی آئی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ہے اسکا جواب یہ نہیں کہ ہم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ،ملک ریاض کو اتنی بڑی رعایت کیوں دی قوم کا پیسہ تھا ،وزیر اعلی کا کام ہوتا ہے عوامی فلاحی منصوبے لائے جیسے ستھرا پنجاب،وزیر اعلی کا یہ کام نہیں کہ چپل کے ناپ دے ،تصویروں کی صفائی کرنا ،جیل کے باہر سڑکوں پر بیٹھنا یہ وزیر اعلی کا کام نہیں،عوام کی خدمت کرنا ان کا کام ہے ایسے کاموں سے وہ عہدہ براء نہیں ہو سکتے ،پنجاب حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی کے خلاف کافی مواد وفاقی کابینہ کو ملا ،ٹی ایل پی کے خلاف دہشت پھیلانے کے کافی شواہد پنجاب حکومت نے دیئے ہیں ،مریدکے میں شہید ایس ایچ او کو 21 گولیاں ماری گئیں،
    پی ٹی آئی دور حکومت میں بھی ٹی ایل پی نے مشروط معاہدہ کیا تھا جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی ہے

  • آسٹریلین نیشنیلٹی ہولڈر شہری پر تشدد،پولیس اہلکار پر مقدمہ درج،گرفتار

    آسٹریلین نیشنیلٹی ہولڈر شہری پر تشدد،پولیس اہلکار پر مقدمہ درج،گرفتار

    بھاٹی گیٹ پولیس اہلکار کا آسٹریلین نیشنیلٹی ہولڈر شہری پر تشدد کا معاملہ ،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا واقعہ کا نوٹس، مقدمہ درج کر لیا گیا

    مقدمہ واقعہ میں ملوث اہلکار ظہیر کے خلاف درج کیا گیا،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس پی سٹی کو واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا،ڈی آئی جی آپریشنز نے متعلقہ اہلکار کی فوری معطلی کا بھی حکم دیا اور کہا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں،تھانہ اہلکاروں کی قانون شکنی پر ایس ایچ او کی بھی جواب طلبی ہو گی،لاہور پولیس میں احتساب کا سخت نظام موجود ہے، اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں،

    درج مقدمے میں مدعی کی جانب سے کہا گیا کہ میں اوور سیز پاکستانی ہوں اور آسٹریلین نیشنلٹی ہولڈر ہوں مورخہ 24.10.2025 بوقت 03:00 بجے صبح میں بھائی گیٹ سے گزر رہا تھا جوس پینے کے لیے فار میسی نزد تھانہ ٹبی سٹی رکا اسی دوران تین کس کانسٹیبلان بسواری موٹر سائیکل میری پاس آکر رکے اور مجھ سے بد تمیزی شروع کر دی اور میرے پوچھنے پر انھوں نے کہا ہم نے آپ کو روکا تھا آپ رکے کیوں نہیں اس کے بعد ایک کانسٹیبل نے مکوں اور لاتوں سے مارنا پیٹنا شروع کر دیا جس کا نام بعد میں ظہیر اقبال معلوم ہوا یہ مجھ پر تشدد کرتا رہا اور مجھ سے میری گاڑی کی چابی اور موبائل فون بھی چھین لیا اس کے بعد باقی نامعلوم کا نسٹیبلان مجھے دھکے دیکر اور گھسیٹ کر اغواء کر کے تھانہ بھائی گیٹ لے گئے وہاں پر انھوں نے مجھے ایک جگہ زبر دستی بٹھا دیا اور کہا کہ یہاں سے ہلنا نہیں ورنہ گولی مار دینگے۔ کانسٹیبل ظہیر اقبال میری گاڑی ڈرائیو کر کے تھانہ بھائی گیٹ لے آیا میں نے پولیس والوں کو کہا کہ میرا موبائل فون بہت مہنگا ہے یہ مجھے واپس کر دو جس پر تھانہ میں موجود سلیم ASI نے الزام علیہان سے موبائل فون واپس کروادیا۔ میں نے اپنے گھر والوں کو اطلاع دی جس پر میری بھانجی ماریہ عاصم اور اس کا شوہر عمر تھانہ بھائی گیٹ آئے انھوں نے میری حالت بچشم خود دیکھی اور انھوں نے میری وہاں سے جان بخشی کروائی میں نے گاڑی میں جاکر دیکھا میرے 3 ہزار آسٹریلین ڈالر غائب تھے جو ظہیر اقبال کا ٹیبل نے چوری کر لیے اس کے بعد ہم نے 15 پر کال کی جس پر تھانہ سٹی کی پولیس آئی ان کو میں نے سارا وقوعہ بتایا وہ ہمیں تھانہ ٹبی سٹی کے اندر لے گئے انھوں نے کہا کہ آپ طبی معائنہ کروا کر لے آئیں۔ جناب عالی میں نے اپنا طبی معائنہ MLC نمبر 345/25 میاں منشی ہسپتال سے کر والیا ہے لہذا الزام علیہان کے خلاف مجھے مضروب کرنے، اغواء کرنے ، میرے ڈالر چوری کرنے اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے پر ان کے خلاف تعزیرات پاکستان اور پولیس آرڈر کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے اور میری 3 ہزار آسٹریلین ڈالر مجھے واپس دلوائے جائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں

  • قاہرہ میں فیلڈمارشل عاصم منیر کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات

    قاہرہ میں فیلڈمارشل عاصم منیر کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات

    قاہرہ:فیلڈ مارشل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جُرأت، نے عرب جمہوریہ مصر کے صدر عزت مآب عبدالفتاح السیسی سے صدارتی محل، قاہرہ میں ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں مصری قیادت کے کلیدی کردار کو سراہا، جبکہ صدر السیسی نے عالمی اور مسلم امہ کے اہم معاملات میں پاکستان کے مثبت اور فعال کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے باہمی اسٹریٹجک مفادات کے امور پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے عوامی سطح پر روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی مشترکہ تاریخ اور تعاون کے نئے امکانات کا بھی اعتراف کیا گیا، خاص طور پر سماجی و اقتصادی شعبوں، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے میدان میں تعلقات کے فروغ پر اتفاق ہوا۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں دونوں جانب سے اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان مضبوط اقتصادی و سلامتی مکالمہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • افغانستان کی سرزمین سے جارحیت تو ہماری اور افغانستان کی کھلی جنگ ہے،خواجہ آصف

    افغانستان کی سرزمین سے جارحیت تو ہماری اور افغانستان کی کھلی جنگ ہے،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات سے معاملات طے نہیں پاتے تو پھر افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے۔

    سیالکوٹ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا ہماری افواج اور پولیس اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، ہم اور آپ اس لیے چین سے سوتے ہیں کہ آپ کے محافظ جاگ رہے ہوتے ہیں، ہم نے 40 سال تک افغانوں کی مہمان نوازی کی، دوحہ میں جن سے بات کر رہے تھے وہ سارے پاکستان میں جوان ہوئے، سمجھ نہیں آتا کہ اتنی مہمان نوازی کے باوجود افغانستان کا ہمارے ساتھ ایسا رویہ کیوں ہے، افغانستان ہمارے خلاف بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے، افغان مہاجرین نے روزگار اور کاروبار پر قبضہ کیا ہوا ہے، ہمارا صرف ایک ایجنڈا ہونا چاہیے کہ ہم اخوت کے ساتھ ہمسائے کے ساتھ رہیں، پچھلے 4، 5 روز سے کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، اگر مذاکرات سے معاملات طے نہیں پاتے تو پھر افغانستان کیساتھ ہماری کھلی جنگ ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکیہ میں مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے، جس میں قطر میں ہونے والے مذاکرات میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں سیز فائر ہوئی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کی سرحدوں کے احترام کی بات طے پائی تھی۔

  • 20ماہ میں وزیراعظم کے 34، صدر کے 3 غیر ملکی دورے

    20ماہ میں وزیراعظم کے 34، صدر کے 3 غیر ملکی دورے

    پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے گزشتہ 20 ماہ کے دوران غیر ملکی دوروں کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن سے وزیراعظم شہباز شریف کے مصروف بین الاقوامی شیڈول اور صدر آصف علی زرداری کے محدود مگر اہم سفارتی دوروں کا انکشاف ہوا ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق مارچ 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے 34 غیر ملکی دورے کیے، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے 3 غیر ملکی دورے انجام دیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عرصے میں چین کے ایک سے زائد دورے کیے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کی بدستور مرکزی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق صدر آصف زرداری نے دو دورے چین کے اور ایک دورہ ترکمانستان کا کیا۔ ان دوروں کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانا، معاشی شراکت داری کو فروغ دینا اور توانائی کے منصوبوں میں تعاون بڑھانا تھا۔ذرائع کے مطابق صدر زرداری کے چین کے دوروں میں خاص طور پر توانائی تعاون، تجارت کے فروغ، اور خطے میں اقتصادی روابط کے قیام پر بات چیت ہوئی۔

    دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ 20 ماہ کے دوران سب سے زیادہ دورے سعودی عرب کے کیے۔ انہوں نے آٹھ مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کیا، جن کا بنیادی مقصد اقتصادی تعاون، پاکستانی افرادی قوت کی برآمد اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری کو مضبوط کرنا تھا۔وزیراعظم نے دو دو مرتبہ چین، امریکہ اور مصر کے سرکاری دورے بھی کیے۔ ان دوروں کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار پر جامع بات چیت ہوئی۔شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دو اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی، جہاں انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی، علاقائی امن اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔وزیراعظم کے سفارتی دوروں میں ایران، متحدہ عرب امارات، تاجکستان، قازقستان، قطر اور آذربائیجان (باکو) کے دورے بھی شامل تھے۔ ان دوروں کا محور توانائی تعاون، تجارت کے فروغ اور علاقائی رابطوں کو وسعت دینا تھا۔اسی طرح انہوں نے ترکیہ، ازبکستان، ملائیشیا اور برطانیہ کا بھی دورہ کیا، جہاں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور تجارتی امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • بھارت افغان آبی گٹھ جوڑ کے پیش نظر پاکستان کا آبی دفاع اور خودمختاری کا عزم

    بھارت افغان آبی گٹھ جوڑ کے پیش نظر پاکستان کا آبی دفاع اور خودمختاری کا عزم

    معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے افغان طالبان کے ذریعے آبی جارحیت کو ہتھیار بنانا شروع کردیا

    افغان طالبان رجیم اور بھارت کے درمیان بڑھتے تعلقات پاکستان مخالف عزائم کو واضح کرتے ہیں،بھارت کی جانب سے طالبان رجیم کو 1 ارب امریکی ڈالر مالی امداد کی پیشکش کی گئی ہے،افغان وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے بعد ’’پانی کو بطور سیاسی ہتھیار‘‘ استعمال کرنے کی پالیسی واضح ہو گئی ہے،انڈیا ٹو ڈے کی 24 اکتوبر 2025ء کو شائع رپورٹ کے مطابق؛طالبان رجیم دریائے کنڑ پر بھارتی حکومت کے تعاون سے ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کو پانی کی فراہمی روکنا چاہتی ہے،ایک اندازہ کے مطابق بھارت افغان رجیم کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرکے مختلف ڈیمز تعمیر کروا رہا ہے،یہ تعمیر ہونے والے ڈیم، جیسے نغلو، درونتہ، شاہتوت، شاہ واروس، گمبیری اور باغدرہ، پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہوسکتے ہیں،اس بھارت افغان منصوبے کا ہدف پاکستان کے آبی نظام کو مشرق و مغرب دونوں اطراف سے روکنا ہے،بھارت نے پہلے ہی سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کر کے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی آبی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے،بھارت اب افغانستان میں ڈیموں کی تعمیر کے ذریعے دریائے کابل کے بیسن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے

    دریائے کابل سے پاکستان کو سالانہ اوسطاً 16.5 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی حاصل ہوتا ہے،پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ جیسے اضلاع میں گندم، مکئی اور گنے کی پیداوار براہِ راست اسی پانی پر منحصر ہے،پاکستان کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کے بارے میں واضح اور دو ٹوک موقف رکھتا ہے ،پانی پاکستان کی سلامتی، زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے،کسی بھی ملک کو اس پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

    آبی و قانونی ماہرین کے مطابق؛ بھارت-افغان آبی گٹھ جوڑ کے مقابلے میں پاکستان ایک جامع دفاعی حکمتِ عملی پر غور کر رہا ہے، اس حکمت عملی میں سب سے اہم قدم چترال ریور ڈائیورشن پروجیکٹ ہے ،چترال ریور ڈائیورشن پروجیکٹ بھارت افغان آبی جارحیت کے مذموم منصوبے کو خاک میں ملا دے گا،اس حکمت عملی کے ذریعے دریائے چترال کو افغانستان میں داخل ہونے سے پہلے ہی سوات بیسن کی طرف موڑنے کا منصوبہ ہے،اس منصوبے سے 2,453 میگاواٹ صاف اور قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی،نئی زمین زیرِ کاشت لائی جا سکے گی جبکہ سیلابی خطرات میں کمی اور ورسک و مہمند ڈیمز کے ذخائر میں اضافہ ہوگا،
    یہ اقدام پاکستان کی آبی خودمختاری کے مکمل دائرہ کار میں آتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے،پاکستانی قوم اس امر پر متحد ہیں کہ بھارت کی افغان سرزمین کے ذریعے پاکستان کے خلاف آبی مہم ناقابلِ قبول ہے،