Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بانی پی ٹی آئی کے فیصلے روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ کرتی تھیں، عطا تارڑ

    بانی پی ٹی آئی کے فیصلے روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ کرتی تھیں، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں بھارتی چینلز پر جاکر ملک کو بدنام کر رہی ہیں، انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی عمران خان نے شہباز شریف پر جھوٹا الزام لگایا تھا، عدالت میں پیش ہو کر پی ٹی آئی کے وکیل کے سوالوں کا جواب دیا، بانی پی ٹی آئی نے شہباز شریف پر الزامات مختلف فورمز پر دہرائے، بانی پی ٹی آئی کے جتنے فیصلے تھے روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ کرتی تھیں، تمام معاشی اور سیاسی فیصلے ان کی اہلیہ کرتی تھیں، آج دنیا کے جریدے کہہ رہے ہیں کہ بانی کے فیصلوں کے پیچھے جھوٹ اور بہتان کا پورا نظام تھا،بانی پی ٹی آئی نے 2017 کے دھرنوں کے دوران بھی جھوٹے الزامات لگائے، بانی پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے کہنے پر حکومتی فیصلے کیا کرتے تھے، بانی پی ٹی آئی کی سیاست منافقت، جھوٹ اور بہتان کے سوا کچھ نہیں تھی۔

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ وانا کیڈٹ کالج کا واقعہ، اے پی ایس پشاور سے بڑا سانحہ ہو سکتا تھا، وانا میں پاک فوج نے کامیاب آپریشن کر کے 500 سے زائد طلبا کو بازیاب کرایا، وانا کیڈٹ کالج پر پاک فوج نے مہارت اور بہادری سے آپریشن کیا، ہماری پاک فوج اور ہماری فورسز خراج تحسین کے لائق ہیں،ا پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی ہے، ہم ہر دہشتگرد کا پیچھا کر رہے ہیں، کسی کی پسند اور ناپسند سے فیصلے نہیں ہوں گے، ملک آئین اور قانون کے تحت چل رہا ہے۔

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ غیر قانونی ہے، یہ مٹھی بھر لوگ ہیں اور روز غیر لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کرتے ہیں، امن و امان کی صورتحال خراب کر کے کسی سے ملاقات نہیں ہوسکتی، پی ٹی آئی کے تمام سوشل اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے چل رہے ہیں، یہ لوگ بھارت اور افغانستان سے مہم چلوا کر خود ایکسپوز ہورہے ہیں، یہ لوگ دشمنوں کے ساتھ ملکر سازشیں کرتے ہیں، گالیوں، مہم اور الزامات سے کوئی فرق نہیں پڑتا،ہزاروں کی تعداد میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کےپی میں چل رہی ہیں، پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا سدباب نہ کر سکی، کے پی کی صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے ، ان کی کارکردگی صفر ہے، پی ٹی آئی کا ملک دشمن کے ساتھ گٹھ جوڑ بےنقاب ہو چکا ، کے پی میں بہت بڑا ڈرگ کارٹل موجود ہے، آج بھی کے پی میں پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں، کانوں کے غیر قانونی ٹھیکے چل رہے ہیں، پی ٹی آئی حکومت ڈرگ اسمگلنگ کو پروموٹ کر رہی ہے، تمباکو مافیا اگر ٹیکس دینا شروع کر دے تو 500 ارب کا ٹیکس جمع ہو سکتا ہے، کے پی میں برسر اقتدار لوگوں کی جیبیں بھری جاتی ہیں، کوئی دہشتگرد ان پر حملہ نہیں کرتا جنہوں نے ڈرگ کی ٹریڈ کی ہوئی ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کیخلاف کارروائی صوبائی حکومت نے کرنی ہے، افغانستان سے پاکستان پر حملے ہوتے ہیں اور یہ لوگ افغان حکومت کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، محمود خان اچکزئی نے اسمبلی میں کھڑے ہوکر صرف کابل کابل کی بات کی، ہماری مسلح افواج سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں، بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں 9 مئی کو بھی کور کمانڈر ہاؤس میں موجود تھیں، بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں جتھوں کو لے کر کور کمانڈر ہاؤس میں موجود تھیں، جس کے شواہد موجود ہیں، بھارت اور افغانستان کے چینلز پر جاکر بانی پی ٹی آئی کی بہنیں انٹرویوز دیتی ہیں، بھارتی چینلز پر جاکر یہ لوگ ملک کو بدنام کر رہے ہیں، انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے، ان لوگوں نے بھارتی چینلز پر جاکر کشمیر کی بات کی؟ معرکہ حق کی بات کی، سزا یافتہ شخص کے لیے آپ بھارتی میڈیا پر جاکر انٹرویو دیتے ہیں، بھارتی میڈیا اور افغان میڈیا پر آج پراپیگینڈا کیا جا رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں کاش بھارتی میڈیا پر مودی کی مذمت کرتیں۔

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کا منشیات فروشوں کے ساتھ تعلق ہے، کے پی کی حکومت اربوں روپے کا ٹیکس کھا جاتی ہے، وزیر اعلیٰ کے پی اڈیالہ جیل کے باہر نعرے لگاتے ہیں، جب افغانستان کی طرف سے دراندازی ہوئی تو ہماری فوج نے بھرپور جواب دیا، اس پر پوری پی ٹی آئی کو افسوس اور دکھ ہوا، 9 مئی کو حملہ فوج کو کمزور کرنے کے لیے تھا، 9 مئی کا منصوبہ ناکام ہوا، ان کو منہ کی کھانی پڑی، یہ چاہتے تھے کہ فوج اندرونی طور پر کمزور ہو لیکن کا ان کا منصوبہ ناکام ہوا،معرکہ حق میں ہماری فوج کامیاب ہوئی، لیکن یہ چاہتے تھے کہ مشرقی اور مغربی بارڈر کمزور ہو، یہ چاہتے ہیں کہ سیکیورٹی صورتحال پر توجہ نہ رہے، یہ فوج کے خلاف مہم چلاتے ہیں، لیکن ہماری مسلح افواج میں کسی بھی جارحیت کا بھر پور جواب دینے کی صلاحیت ہے۔

  • ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش ہورہی ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش ہورہی ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو 4 نومبر سے آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے اور بین الاقوامی میڈیامیں ان سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے پھراڈیالہ جیل بھی جائیں گے،4 نومبر سے بانی پی ٹی آئی کو آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا سے بانی پی ٹی آئی سے متعلق تشویش ناک خبریں آرہی ہیں، ہم اڈیالہ گئے وہاں دو منٹ کیلئے نہیں ملنے دیا گیا، ہائیکورٹ بھی گئے پھر بھی ملاقات نہ ہوسکی، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ این ایف سی ایوارڈ میں شرکت کریں گے، وہاں پر ضم اضلاع اور صوبے کی حقوق کیلئے لڑیں گے، 2018 سے اب تک صوبے کو این ایف سی میں اپنا حصہ نہیں مل رہا، ضم اضلاع کو اپنے حق سے محروم کیا جارہا ہے، ایک ہزار 350 ارب روپے 7 سال کے وفاق پر این ایف سی ایوارڈ میں واجب الادا ہے، صوبے بھر کے جامعات میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سیمینار کررہے ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی صوبے کے حقوق کیلئے مٹینگ کرنی ہے،سب کو مل کر صوبے کیلئے لڑنا ہوگا، سیاسی جدوجہد الگ، این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے حقوق کیلئے مشترکہ لڑنا ہوگا،ہمیں تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش ہورہی ہے لیکن ہم نہیں جائیں گے، میں بحیثیت وزیر اعلیٰ اور پارٹی کارکن بھی کام کر رہا ہوں، صوبے کے وزیر اعلیٰ کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا، اس صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، یہ غلط بات ہےکہ یہاں گڈ گورننس نہیں، یہاں کام ہو رہا ہے اس لیے ہمیں ووٹ ملتا ہے، تیراہ میں میری خاندانی زمین ہے، ذاتی کوئی زمین نہیں، میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

  • امریکا نے سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی تصاویر جاری کردیں

    امریکا نے سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی تصاویر جاری کردیں

    امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دور حکومت میں امریکا میں داخل ہونے والے متعدد افغان شہریوں نے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔

    محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے سنگین جرائم میں ملوث ان افغان شہریوں کی تصاویر اور معلومات بھی جاری کردیں،محکمے کے مطابق یہ افغان شہری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ، جنسی جرائم اور دہشت گردی کی سرگرمیوں جیسےسنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں،افغان شہری جمال ولی اور محمد خروین کو رہا کیا گیا اور انہیں امریکا میں رہنے کی اجازت دی گئی لیکن یہ شہری بعد میں دوبارہ پُرتشدد جرائم میں ملوث پائے گئے، افغان شہری عبداللہ حاجی زادہ، ناصر احمد توحیدی، جاوید احمدی، بحر اللہ نوری اور ذبیح اللہ مہمند سمیت دیگر کو کم عمر بچوں پر حملے کرنے، جنسی جرائم کی منصوبہ بندی کرنے اور دیگر سنگین جرائم پر گرفتار کیا گیا،امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس بات پر زور دیا کہ وہ افراد جو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں انہیں امریکا سے نکال دیا جائے گا۔

  • سعودی عرب میں مویشی چوری  کے الزام میں 13 پاکستانی شہری گرفتار

    سعودی عرب میں مویشی چوری کے الزام میں 13 پاکستانی شہری گرفتار

    سعودی عرب کے شہر طائف میں پولیس نے مویشیوں کی چوری میں ملوث ایک بڑے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے، جس میں 13 پاکستانی شہری شامل ہیں۔

    سعودی میڈیا کے مطابق یہ تمام افراد بھیڑوں کی چوری کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے اور کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں تھے۔سعودی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملزمان مختلف علاقوں میں قائم مویشیوں کے باڑوں کو رات کی تاریکی میں نشانہ بناتے تھے اور چوری شدہ بھیڑوں کو خفیہ طریقے سے بیچ کر مالی فائدہ حاصل کرتے تھے۔ پولیس نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی، جس کے بعد چھاپے مار کر تمام 13 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

    حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نہ صرف متعدد وارداتوں میں براہِ راست ملوث تھے بلکہ انہوں نے چوری شدہ مویشیوں کو منتقل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ نیٹ ورک بھی قائم کر رکھا تھا۔پولیس نے تمام گرفتار افراد کو مکمل قانونی کارروائی کے بعد پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا ہے جہاں ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مویشی چوری کے بڑھتے واقعات کے بعد سیکیورٹی اداروں نے متعلقہ علاقوں میں گشت اور نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

  • اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی اور ادارہ پارلیمان کے دائرے میں مداخلت کرے،بلاول

    اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی اور ادارہ پارلیمان کے دائرے میں مداخلت کرے،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں، پیپلز پارٹی ایسےکسی فیصلے میں ساتھ نہیں دے گی جس سے وفاق کمزور ہو۔

    پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر ویڈیو لنک سے خطاب میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیجیٹل جلسے سے خطاب کر رہاہوں،ہمارا معاشی فلسفہ ہے کہ پسماندہ طبقے کو معاشی طو ر پر مضبوط کرنا ہے، پاک بھارت جنگ کے بعد یہ ہمارا پہلا یوم تاسیس ہے، بھارت کے سات جہاز گرا کر ہماری ائیر فورس نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کردیا،ملک میں اس وقت سیاسی بحران ہے، اس کو ایڈریس کرکے مشکلات سے نکالنا ہے، پیپلزپارٹی نے حال ہی میں حکومت کے ساتھ مل کر ایک آئینی ترمیم پاس کرائی، پیپلزپارٹی جب خود آئینی ترمیم لے کر آتی ہے تو انقلابی قانون سازی کرتے ہیں، 1973 کے آئین کے بعدکسی ترمیم میں کوئی طاقت ہےتو وہ 18ویں ترمیم میں ہے،ن لیگ نے ایک وفد بھیجا اور کہا کہ وہ آئینی ترمیم لے کر آنا چاہتے ہیں، حکومت چاہتی تھی کہ آئینی عدالت اور آرٹیکل 243 کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو مجسٹری کا نظام لے کر آئے، حکومت چاہتی تھی کہ جو آئینی تحفظ ہم نے صوبوں کو دلوایا تھا اس کو ختم کیا جائے، فخر سےکہہ سکتاہوں آپ کی وجہ سے اس آئینی تحفظ کو چھیڑا نہیں گیا، حکومت اس مطالبے سے پیچھے ہٹی، ہم نےآئینی عدالت بنا کر چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق پوری کردی اور صوبوں کو برابری کی نمائندگی دلوادی، یہ تاریخی کامیابی ہے، شاید کسی کو اس کا احساس نہ ہو۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ عدالت نے قائد عوام کا عدالتی قتل کروایا، ہماری عدالت کی تاریخ آپ کے سامنے ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ آئینی عدالت ملک کے بڑے مسئلےکو دیکھےگی، آئینی عدالت سے عام شہریوں کے ایشوز کو فوری طور پر ریلیف ملےگا، ماضی میں عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا، کچھ لوگوں کی کوشش ہےکہ آئینی عدالت کو متنازع بنائے، امید ہے آئینی عدالت اپنے کردار سے ان لوگوں کو غلط ثابت کردے گی، قانون سازی کرنا پارلیمان کا کام ہے، اگر کوئی کام اتفاق رائے سے کیا گیا ہو تو نظر ثانی کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے، ہم اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی اور ادارہ پارلیمان کے دائرے میں مداخلت کرے، تاریخ بھری پڑی ہے کہ دوسرے ادارے نے پارلیمان کے دائرے میں آکر مداخلت کی، عوام کا فیصلہ ہےکہ ہمارے فیصلے صحیح ہیں یا نہیں، عدالت کا اختیار نہیں، آئین سازی کرنا پارلیمان کا اختیار ہے،کارکن کسی پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں، ہم نے آئینی عدالتیں بنائی ہیں، آپ کے حقوق کا تحفظ کرتا آرہا ہوں کرتا رہوں گا، پیپلزپارٹی ایسے کسی فیصلہ میں ساتھ نہیں دے گی جس سے وفاق کمزور ہو، اٹھارہویں ترمیم اوراین ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

    بلاول کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کا وزیرسندھ سے متعلق غلط بات کر رہا ہے، ملک کے تمام صوے بھائیوں کی طرح ہیں، مودی کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، متحد ہوکر دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، ملکی سلامتی کے لیے ہم سب کو متحد ہونا ہوگا

  • کوہاٹ:نامعلوم شرپسند عناصر کا مسجد پر آئی ای ڈی حملہ

    کوہاٹ:نامعلوم شرپسند عناصر کا مسجد پر آئی ای ڈی حملہ

    کوہاٹ،تھانہ کینٹ کی حدود میں واقع نصرۃ خیل کے علاقے میں اہل حدیث جماعت کی نو تعمیر کردہ مرکزی مسجد کو رات گئے نامعلوم افراد نے دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا۔

    حملہ آوروں نے مسجد کے متولی کی رہائش گاہ پر بھی مسلسل فائرنگ کی اور دستی بم سے حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں مسجد کو جزوی نقصان پہنچا۔ کینٹ تھانہ کے ایس ایچ او خضر فرید نے خیبر کرانیکلز کو بتایا کہ واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ بم دھماکہ میں کون ملوث ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل پشاور میں‌نماز جمعہ کے بعد گھر جاتے ہوئے مولانا عزیز اللہ کو نامعلوم افراد نے شہید کر دیا، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہو چکی ہے،

  • پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کو فروغ دیا ،شیری رحمان

    پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کو فروغ دیا ،شیری رحمان

    پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پارٹی قیادت، کارکنان اور سپورٹرز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن بھٹوازم کے نظریے کی تجدید کا دن ہے اور یہی نظریہ پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے۔

    شیری رحمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جمہوری، خوشحال اور پرامن پاکستان کے قیام کیلئے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی ہمیشہ سے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور مساوات کی علمبردار رہی ہے،گزشتہ 58 برسوں میں پارٹی کے اقدامات نے پاکستان کو ایک نیا رخ اور مقام دیا۔ آئینِ پاکستان کی بحالی، نیوکلیئر پروگرام، زرعی اصلاحات، آزاد خارجہ پالیسی، میزائل ٹیکنالوجی، بنیادی حقوق، بی آئی ایس پی، اور سی پیک جیسے اقدامات پارٹی کی جدوجہد کے سنگِ میل ہیں۔

    شیری رحمان نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد قوم کو متحد رکھا اور قومی قیادت فراہم کی، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے دور میں پرامن جدوجہد کرتے ہوئے صوبوں کو جوڑنے کا کردار ادا کیا۔
    ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کو فروغ دیا ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ملک کو بحرانوں سے نکالا ہے،بھارت کے ساتھ بیانیہ کی حالیہ جنگ میں بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کیا۔ پارٹی ہر قسم کی شدت پسندی کی مزاحمت کرتی رہے گی، جبکہ امن، مساوات، عوام کی خوشحالی اور قومی مفادات کا تحفظ پیپلز پارٹی کا بنیادی مشن ہے، پیپلز پارٹی عوام، جمہوریت اور صوبوں کی مضبوطی کو اپنی مضبوطی سمجھتی ہے، جبکہ شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی پارٹی کے اصل وارث عوام ہیں۔

    شیری رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی اپنے نظریے پر ہمیشہ ثابت قدم رہی ہے اور استحصالی قوتوں کی شکست تک جدوجہد جاری رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے والی سوچ کے خلاف پارٹی کی لڑائی جاری رہے گی اور شدت پسندی کی ہر شکل میں مزاحمت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بھٹوازم کے نظریے کے تحت آئین کی بحالی، سیاسی اصلاحات، عسکریت پسندی کے خلاف جدوجہد اور غربت میں کمی جیسے بڑے فیصلے ممکن ہوئے۔غیر مسلم اور کمزور طبقات کو مذہب کے نام پر نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پارٹی قیادت، عہدیداران اور جیالے اپنے عظیم مقصد کے لیے مسلسل محنت کیلئے تیار ہیں، جبکہ کارکنوں کی قربانیوں سے جمہوریت آج بھی قائم و دائم ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔

  • آر ایس ایس کا ہندوتواایجنڈہ، انتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کا منظم استحصال جاری

    آر ایس ایس کا ہندوتواایجنڈہ، انتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کا منظم استحصال جاری

    آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت انتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کا منظم استحصال جاری ہے

    غاصب مودی ظلم و استبداد جاری رکھ کر مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی شناخت مٹانے کے درپے ہے،بھارت میں مسلمان کیخلاف تعصب، نفرت اور انتہاپسندانہ کارروائیاں بے نقاب ہو گئی ہیں،”پریس ٹی وی” کے مطابق؛بھارت کے مسلمانوں میں امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے واقعات نے نئی تشویشناک لہر پیدا کردی ہے،بھارت میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر اور منظم طور پر تعصب اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مہاراشٹرا میں3 مسلم طلبہ کو کلاس روم میں نماز پڑھنے پر مورتی کے سامنے جھکنے اور بیٹھک لگانے پر مجبور کیا گیا، تاج محل کے قریب 64 سالہ مسلم ٹیکسی ڈرائیور کو 2 نوجوانوں نے "جے شری رام” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا،بھارت میں دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز تقریریں اور تشدد کی دھمکیاں دیتے ہیں مگر حکام اور میڈیا خاموش رہتا ہے، ببریلی شہر میں ایک مسلمان کی دو منزلہ مارکیٹ کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا گیا، بھارت میں خطرناک روایت بن گئی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں بولنے والوں کی جائیدادیں گرا دی جاتی ہیں،

    بھارت میں احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو بغیر قانونی عمل کے گرفتار کیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں،حکومتی پالیسیوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی اور اسلاموفوبیا میں اضافہ کیا ہے، بھارت میں نفرت، انتہاپسندی، مذہبی تفریق اور اقلیت دشمنی سفاک مودی کی معتصبانہ سوچ کا عکاس ہے

  • پاک فوج کے زیر اہتمام کوئٹہ میں خواتین کی سائیکل ریس کا انعقاد

    پاک فوج کے زیر اہتمام کوئٹہ میں خواتین کی سائیکل ریس کا انعقاد

    پاک فوج اور کوئٹہ ڈسٹرکٹ سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے شولا اسپورٹس کمپلیکس کوئٹہ میں سائیکل ریس کا انعقاد کیا گیا

    کوئٹہ میں 5.9 کلومیٹر کی سائیکل ریس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،سائیکل ریس میں خواتین شرکاء نے پُرکشش اور چیلنجنگ راستے پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا،تقریب کے اختتام پر پوزیشن ہولڈرز کو نقد انعامات، تمغے اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے،سائیکل ریس میں سب سے کم عمر اور معمر شرکاء کو بھی حوصلہ افزائی کیلئے انعامات دیے گئے،شرکاء نے بلوچستان میں صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کے انعقاد پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا

    سائیکل ریس میں شرکاء کا کہنا تھا کہ سائیکل ریس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے جو کہ خوش آئند ہے،اس طرح کے ایونٹس خواتین کیلئے بہت ضروری ہیں، بلوچستان میں مزید ایونٹس کرائے جائیں،بلوچستان میں خواتین کی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے اس طرح کے مزید ایونٹس بہت ضروری ہیں،

    پاک فوج قومی ترقی میں بلوچ خواتین کی شمولیت اور ان کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے

  • 27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،پاکستان

    27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،پاکستان

    پاکستان نے 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بیان کو مسترد کر دیا۔

    دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی منظور کردہ 27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،آئینی ترامیم عوام کے منتخب نمائندوں کا مکمل اختیار ہے، جمہوری طریقہ کار کا احترام ہونا چاہیے، پاکستان انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادیوں، قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے،پاکستان کا مؤقف اور زمینی حقائق اقوام متحدہ کے بیان میں شامل نہیں کیے گئے، یو این ہائی کمشنر خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور سیاسی تعصب اور غلط معلومات پر مبنی تبصروں سےگریز کریں۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان میں جلد بازی میں منظور کی گئی آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہے،ولکر ٹرک نے ایک بیان میں ملٹری احتساب سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ گزشتہ سال 26 ویں آئینی ترمیم کی طرح یہ ترمیم بھی وکلا براداری اور سول سوسائٹی سے بڑے پیمانے پر مشاورت اور بحث کے بغیر کی گئی۔