Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وہ کون سےججز ہیں جو 26 ویں ترمیم سے متاثرہ نہیں اور یہ کیس سنیں،جسٹس شاہد بلال

    وہ کون سےججز ہیں جو 26 ویں ترمیم سے متاثرہ نہیں اور یہ کیس سنیں،جسٹس شاہد بلال

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں‌پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے کیس کی سماعت کی جس دوران سینئر وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیئے،وکیل اکرم شیخ نے کہا میری درخواست ہے کہ 24 ججز پر مشتمل فل کورٹ بنایا جائے، مزید کسی جج کو شامل کرکے کورٹ مزید پیک نہ کیا جائے، مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ ججز پر چھوڑتا ہوں، 26 ویں ترمیم نے پورے آئین کی بنیاد اور ریاست کا ایک عضو توڑ کر رکھ دیا ہے، امید ہے کہ اللہ ججز کو ہمت دے گا اور وہ 26 ویں ترمیم کو کالعدم قرار دیں گے، فل کورٹ کے فیصلے موجود ہیں کہ 8 ججز یہ کیس نہیں سن سکتے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر کہاجائے کہ فل کورٹ میں بیٹھیں توہم آئینی بینچ کی ٹوپی اتار کر دوسری پہن لیں گے،جسٹس شاہد بلال نے کہا کہ آپ نےکہا کہ ہم 8ججز 26 ویں ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دے سکتے کہ ہم بینیفشری ہیں، پھر وہ کون سےججز ہیں جو 26 ویں ترمیم سے متاثرہ نہیں اور یہ کیس سنیں گے، اکرم شیخ نے کہا کہ اس تنازع کا واحد حل یہی ہے کہ پوری سپریم کورٹ بیٹھ کر اس کو حل کرے۔

    دوران سماعت جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ 26ویں ترمیم متنازع ہے، اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ سر انگریزی میں یہی کہوں گا،انڈر چیلنج ہے، آپ کے دائیں بائیں اہل زبان بیٹھے ہیں، سر یہ انگریزی سے اردو ترجمہ کا معاملہ ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بس ٹھیک ہے مان لیا کہ 26 ویں ترمیم متنازع ہے آگے چلیں، جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ 24 کے 24 جج بیٹھ کر اس مقدمے کو سنیں، اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ سر میرا یہ مؤقف ہے اگر کسی جج کا کوئی ضمیر خلش کرے یا ملامت ہو تو وہ نا سنے، میرا تو بس یہ مؤقف ہے کہ میری عدالت پر کوئی حرف نہ آئے۔جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ آپ نےکہا خواہش ہے 24 جج یہ کیس سنیں لیکن کوئی قانونی راستہ نہیں دکھایا، آپ کی خواہش تو ایسے ہے کہ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

  • ریلویز پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی بریگیڈیئر گرفتار کرلیا

    ریلویز پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی بریگیڈیئر گرفتار کرلیا

    ریلویز پولیس کی بڑی کارروائی، جعلی بریگیڈیئر گرفتار کرلیا

    ملزم بہادر علی سرکاری دفاتر میں فون کرکے خود کو آرمی کا بریگیڈیئر بتا کر فراڈ کرتا تھا،ملزم نے فروری میں ایس پی ورکشاپس دفتر کال کرکے خود کوحاضر سروس بریگیڈیئر ظاہر کیا،ملزم نے بذریعہ کال مغلپورہ کے صوفی شوکت قادری سے رابطہ کروانے کی درخواست کی،رابطہ کروانے پر ملزم نے شوکت قادری کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کا جھوٹا الزام لگا کر ایک لاکھ روپے بھتہ مانگا، ملزم نے مدرسے کے وضو خانے کے قریب دہشت گردی سے منسوب موبائل سمز موجود ہونے کا انکشاف کیا ،تصدیق کرنے پر ملزم نے جعلی بریگیڈیئر بن کر فرضی نام سے مدرسہ کی انتظامیہ کو بلیک میل کرکے بھتہ مانگا،جس پر ریلویز پولیس نے فروری کے مہینے میں ملزم کیخلاف ٹیلیگراف ایکٹ کے تحت تھانہ مغلپورہ ورکشاپس میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا تھا

    ملزم کی گرفتاری کے لئے ایس پی نے انسپکٹر راشد شاہ زمان اور ایس ایچ او ورکشاپس لیاقت علی سمیت دیگر اہلکاروں پر مشتمل تفتیشی ٹیم تشکیل دی،ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جعلی بریگیڈیئر ملزم بہادر علی کو گرفتار کرلیا، مزید تفتیش جاری ہے

  • ن لیگی رکن اسمبلی نعیم اعجاز پر دو بھائیوں سمیت مقدمہ درج

    ن لیگی رکن اسمبلی نعیم اعجاز پر دو بھائیوں سمیت مقدمہ درج

    راولپنڈی کے تھانہ چونترہ کی حدود سہال اڈہ پر فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔

    پولیس نے واقعے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ممبر صوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری چوہدری نعیم اعجاز، ان کے بھائی وسیم اعجاز، ندیم اعجاز اور دیگر ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقتول محمد حسنین کے بھائی اور سابق کونسلر محمد ثقلین کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں قتل، اقدام قتل، اعانت جرم سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق، مقتول کے خاندان کی موضع سہال میں آبائی زمین ہے، جس پر ایم پی اے نعیم اعجاز کے کارندے مسلسل قبضے کی کوشش کرتے آ رہے تھے۔محمد ثقلین کے مطابق، بیس روز قبل انہوں نے دیگر دیہاتیوں کے ساتھ ایم پی اے کے خلاف زمینوں پر قبضے کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔بعدازاں معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور اسی سلسلے میں محمد ارشاد کے گھر مشاورت کے بعد مقتول اپنے چچا اور دیگر اہلِ علاقہ کے ہمراہ سہال چوک پہنچے۔ایف آئی آر کے مطابق اسی دوران وسیم اعجاز، علی عمران، رمان عمران، وحید اور دیگر 10 سے 15 افراد اسلحہ، آہنی راڈ اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر ویگو ڈالوں میں وہاں پہنچے اور آتے ہی شدید فائرنگ اور حملہ کر دیا۔حملے میں محمد حسنین، تجمل اسرار اور چچا مشتاق زخمی ہو گئے۔ حسنین کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ ایم پی اے نعیم اعجاز اور ان کے بھائیوں کی ایما پر کیا گیا اور اس کا مقصد زمین پر قبضہ کرنا تھا۔واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین اور مقامی افراد نے سہال روڈ پر شدید احتجاج کیا۔پولیس حکام اور اے ایس پی صدر زینب ایوب نے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرایا، جس کے بعد لاش کا پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کا میڈیکل کروا کر مقدمہ درج کیا گیا۔

  • اٹلی کے قریب تارکین وطن کی 2 کشتیاں ڈوب گئیں، دو افراد ہلاک

    اٹلی کے قریب تارکین وطن کی 2 کشتیاں ڈوب گئیں، دو افراد ہلاک

    اٹلی کے قریب تارکین وطن کی 2 کشتیاں ڈوب گئیں، دو افراد ہلاک ہوگئے، 14 کو ریسکیو کرلیا گیا، باقی کی تلاش جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اٹلی کے قریب تارکین وطن کی دو کشتیاں ڈوب گئیں، ایک کشتی میں پاکستانی، اریٹیریا اور صومالیہ کے 85 باشندے سوار تھے، 2 افراد ہلاک جبکہ 14 کو ریسکیو کرلیا گیا، باقی کی تلاش جاری ہے۔دوسری کشتی میں 35 افراد سوار تھے۔ اطالوی حکام نے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ 24 تاحال لاپتہ ہیں۔

    اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2014ء سے اب تک 32 ہزار 700 افراد یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

  • علیمہ خان کے تیسری بار وارنٹ گرفتاری جاری

    علیمہ خان کے تیسری بار وارنٹ گرفتاری جاری

    انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے مسلسل عدم پیشی پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمات کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے کی،علیمہ خان کے علاوہ مقدمے میں نامزد 10 ملزمان عدالت پیش ہوئے جبکہ استغاثہ کے پانچ گواہان بھی مال مقدمہ سمیت عدالت پیش ہوئے،عدالت نے علیمہ خان کی عدم حاضری پر تیسری مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، علیمہ خان کے ضامن عمر شریف کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے،عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے 22 اکتوبر کو پیش کریں،انسداد دہشتگردی عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کی جائیداد کی دستاویزات کی تصدیق کیلئے ڈی سی راولپنڈی کو ہدایات جاری کر دیں۔

  • را کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پاکستان کیخلاف پرانی ویڈیو کا استعمال کرکے پروپیگنڈہ کرنے لگے

    را کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پاکستان کیخلاف پرانی ویڈیو کا استعمال کرکے پروپیگنڈہ کرنے لگے

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی جانب سے پاکستان کیخلاف پرانی ویڈیو کا استعمال کرکے پروپیگنڈہ کرنے کی سازش بے نقاب ہو گئی

    راسے منسلک ایک ہندوستانی اکاؤنٹ نے پہلی بار یہی ویڈیو 21 مارچ 2024 کو پوسٹ کی تھی ،جس میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹی ٹی پی کے حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اسی اکاؤنٹ نے اب 20 اکتوبر 2025 کو ایک نئی من گھڑت کہانی کے ساتھ ایک جیسی فوٹیج کو ری سائیکل کیا ہے۔ کم از کم پروپیگنڈے اور پرانی فوٹیج کو دوبارہ استعمال کرنے کا کوئی معیار ہونا چاہیے لیکن ان بھارتی را کے پروپیگنڈا اکاؤنٹس کے پاس واضح طور پر کوئی نہیں ہے۔

    https://x.com/fcheckmaster/status/1980150897381380564

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر بازیابی کیس،پولیس کو 3 دن کی مہلت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر بازیابی کیس،پولیس کو 3 دن کی مہلت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی بازیابی کیلئے پولیس کو 3 دن کی مہلت دے دی۔

    جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ افسر بازیاب نہ ہوسکا تو آئی جی اور ڈی جی این سی سی آئی اے ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔دوسری جانب مغوی کی درخواست گزار اہلیہ روزینہ عثمان کے بھی لاپتہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کا فون بند جارہا ہے، ان سے کوئی رابطہ نہیں، درخواست گزار نے فون پر بتایا تھا کہ پٹیشن واپس لینے کیلئے دباؤ ہے، مغوی افسر اہم کیسز پر کام کررہے تھے، سفید کار میں اغواء کیا گیا۔وکیل نے بتایا کہ اغواء میں استعمال کی گئی گاڑی کی نمبر پلیٹ ہی جعلی ہے۔ جسٹس اعظم خان نے سوال کیا کہ مشکوک نمبر پلیٹ والی گاڑی اسلام آباد میں کیسے چل رہی تھی؟، درخواست گزار کو جو کالز آئیں، ان کا بھی پتہ کرائیں۔

    پولیس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کوشش ہے کہ آج شام تک ہی مغوی کو بازیاب کرائیں لیکن 7 دن کی مہلت دے دیں۔ جسٹس اعظم خان نے کہا کہ بازیاب کرائیں ورنہ ہم بھی وہی شروع کردیں گے جو باقی بینچ کررہے تھے۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ درج ہوچکا، استدعا ہے پولیس کو تفتیش کیلئے کچھ وقت دے دیں۔

    واضح رہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عثمان کو 14 اکتوبر کو اپارٹمنٹ کی پارکنگ سے اغواء کیا گیا تھا، جس کا مقدمہ تھانہ شمس کالونی میں درج ہے۔

  • فیصل مسجد کے احاطے میں نیم عریاں لباس کے ساتھ ویڈیو،درخواست پر نوٹس جاری

    فیصل مسجد کے احاطے میں نیم عریاں لباس کے ساتھ ویڈیو،درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل مسجد کی حرمت سے متعلق درخواست پر انچارج مسجد کو نوٹس جاری کر دیا۔

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک شہری کی درخواست پر نوٹس جاری کیے ہیں،عدالت کی جانب سے ڈی سی اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے اور وزارت مذہبی امور کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی پولیس کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے،جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ ہم اس متعلق کس کو ہدایات دیں،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ انچارج فیصل مسجد سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، وکیل نے استدعا کی کہ مسجد کی حرمت کے منافی فوٹوز اور ویڈیوز بنانے پر پابندی لگائی جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز سے مشاہدے میں آیا کہ کچھ لوگ مسجد کے احاطے میں غیر شائستہ وڈیوز بناتے ہیں، موسیقی اور رقص کے ساتھ بنائی گئی وڈیوز سے مسجد کی حرمت اور وقار مجروح ہوتا ہے،مسجد کے احاطے میں نیم عریاں لباس کے ساتھ بنائی گئی وڈیوز مسجد کے تقدس کے خلاف ہیں، مسجد کی بے حرمتی آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے،مسجد کے انچارج ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے کو تحریری شکایات بھجوائیں، کوئی کاروائی نہیں ہوئی، وزیر مذہبی امور، صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی اسلام آباد کو بھی تحریری شکایات بھجوائی جا چکی ہیں،فحش یا نامناسب لباس میں مسجد میں داخلے اور رقص و موسیقی کے ساتھ وڈیوز بنانے پر پابندی عائد کی جائے،

  • بھارت : آر ایس ایس کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے پر کانگریس وزیر کوقتل دھمکی

    بھارت : آر ایس ایس کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے پر کانگریس وزیر کوقتل دھمکی

    بھارت میں فسطائی مودی اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ نفرت ، تعصب اور انتہاپسندی کی بنیادی وجہ ہے اوران کی انتہاپسندی نے بھارت کو دہشت گردی کا گڑھ اور خطے کو میدانِ جنگ بنا دیا ہے۔

    خبررساں ادارے کے مطابق مودی کی پشت پناہی میں آر ایس ایس کے انتہاپسند غنڈوں کے ہاتھوں حکومتی نمائندے بھی غیر محفوظ ہیں۔آر ایس ایس کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے پر کرناٹک میں کانگریس کے وزیر پریانک کھرگے اور ان کے اہلخانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کی غیر قانونی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔پریانک کھرگے نے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کی جس میں آر ایس ایس کا ایک غنڈہ اُنہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔کانگریس کے وزیر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ مودی اپنی نااہلیوں پر پردہ ڈالنے اور سیاسی محالفین کی آواز کو دبانے کے لیے شر پسند تنظیم آر ایس ایس کو ہتھیار بنا رہا ہے۔پریانک کھرگے کا کہنا ہے کہ نااہل مودی حکومت آر ایس ایس کے انتہاپسند ہندوتوا ایجنڈے کی سرکاری سطح پر حمایت کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ مودی کی ایماء پر آر ایس ایس لوگوں کے ذہنوں کو نفرت، تعصب اور شدت پسندی سے زہر آلود کر رہی ہے۔کانگریس رہنما نے کہاکہ مودی اور آر ایس ایس کا زہر آلود گٹھ جوڑ بھارت کو نفرت اور خوف کی آگ میں دھکیل رہا ہے۔ مودی کی سرپرستی میں آر ایس ایس کا ہندوتوا ایجنڈا خطے اور پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

  • ڈی آئی خان، پولیس گاڑی پر حملہ،4 اہلکار شہید،11 زخمی،8 خارجی جہنم واصل

    ڈی آئی خان، پولیس گاڑی پر حملہ،4 اہلکار شہید،11 زخمی،8 خارجی جہنم واصل

    ڈی آئی خان: کوٹ للو کے قریب دہشت گردوں نے پولیس گاڑی پر فائرنگ کی ہے

    فائرنگ کے نتیجے میں 4 جوان شہید جبکہ 11 زخمی ہوئے،زخمیوں کو سی ایم ایچ ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا گیا سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ،حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے شہید جوانوں کی میتیں سرکاری اعزاز کے ساتھ آبائی علاقوں کو روانہ کی جائیں گی

    ڈیرہ اسماعیل خان میں فتنہ الخوارج نےسوئی ناردرن گیس پائپ لائن بچھانے والی ٹیم پر حملہ کیا،20 اکتوبر پر ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ایس این جی پی ایل کی پائپ لائن بچھانے والا حفاظتی عملے نے اطلاع پر قریبی جنگل میں فتنہ الخوارج کی پوزیشن پر آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران فائر کا شدید تبادلہ ہوا جس میں 8 خوارج جہنم واصل ہو گئے،خوارج کی یہ تشکیل پائپلائن بچھانے کے عمل پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی ،

    واضح رہے کہ یہ وہی منصوبہ ہے جو خیبر پختونخوا کے عوام کو توانائی، روزگار اور سہولت فراہم کرنے کے لیے قومی اہمیت کے حامل ہے۔ ایسے میں فتنہ الخوارج کی جانب سے عوامی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ خوارج دراصل عوام کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں۔محبِ وطن سپاہیوں نے دشمن کی بزدلانہ فائرنگ کا دلیری سے جواب دیا- سیکیورٹی فورس کے پانچ سپوتوں کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن ترقی کے ہر اُس منصوبے کا مخالف ہے جو عوام کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔پاکستان کے جری جوانوں کی قربانیاں انشااللہ ترقی کے سفر کو جاری رکھنے میں کام آئیں گی اور عوام دشمن قوتیں ناکام ہوں گی

    دوسری جانب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) خیبر پختونخوا اور ڈسٹرکٹ پولیس صوابی کا عملہ مصدقہ اطلاع پر ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں مصروف تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار فتنہ الخوارج کے چار دہشتگردوں نے پولیس پارٹی پر بہ ارادہ قتل فائرنگ شروع کی۔ سی ٹی ڈی آپریشن ٹیم نے حق حفاظت خود اختیاری میں جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار دو دہشت گرد موقع پر ہلاک ہوئے جبکہ دو دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہوئے۔

    سی ٹی ڈی مردان ریجن اور ڈسٹرکٹ پولیس صوابی انٹیلیجنس بیسڈ اپریشن کے سلسلے میں اجمیر شاہ پہاڑ شادو ڈھیرے کے علاقے میں موجود تھے کہ اسی اثنا دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار دہشت گرد جائے وقوعہ بالا پہنچے اور پولیس پارٹی پر بہ ارادہ قتل حملہ آور ہوئے۔ دہشتگردوں کا نشانہ سی ٹی ڈی کی خصوصی ٹیم تھی جس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے جوابی فائرنگ شروع کی۔ پولیس اور دہشتگردوں کے مابین فائرنگ کا سلسلہ قریب 35 منٹ جاری رہا جسکے نتیجے میں کالعدم تنظیم (فتنہ الخوارج) سے تعلق رکھنے والے دو دہشتگرد موقع پر ہلاک پائے گئے جبکہ دو دہشت گرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے جن کی تلاش کیلئے علاقے میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کے مرحلے پر معلوم ہوا کہ اِنکا تعلق ٹی ٹی پی طیب اکبر گروپ سے ہے اور وہ پولیس پر حملوں سمیت دہشتگردی کے دیگر واقعات میں انتہائی مطلوب تھے۔

    ہلاک دہشتگرد نعمان عرف مانے ولد مکین شاہ ساکن صوابی،یہ دہشتگرد کانسٹیبل جمال الدین اور ڈرائیور کانسٹیبل زاہد کو شہید کرنے سمیت قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دہشتگردی کے دیگر مقدمات میں مطلوب تھا۔ ہلاک دہشت گرد عبد الباسط ولد تلاوت شاہ ساکن صوابی ،فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والا یہ دہشتگرد متعدد دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث تھا جس میں علت 71 بجرم 302,353,7Ata اور علت نمبر 57 بکرم 324, 353,7ATA و دیگر میں تھانہ سی ٹی ڈی مردان کو مطلوب تھا۔ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے ایک عدد کلاشنکوف، ایک ضرب پستول چھ میگزین، 23 راؤنڈز، دو ہینڈ گرینیڈ، دو موبائل فونز اور کالعدم ٹی ٹی پی کے دو کارڈز برآمد ہوئے ہیں۔فرار ہونے والے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی اضافی نفری نے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔