Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فیک نیوز پھیلانے والا خود ذمہ دار، جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں،محسن نقوی

    فیک نیوز پھیلانے والا خود ذمہ دار، جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ مسافروں کی آف لوڈنگ کا ایک اہم مسئلہ چل رہا ہے، ایجنٹ مافیا اس وقت مہم چلارہا ہے، اسلام آباد ایئرپورٹ سے ایک شخص کو آف لوڈ کیا گیا، جو بھی فیک نیوز پھیلائے گا وہ اس کا ذمہ دار ہوگا، جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی نہیں۔

    لاہور میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اپریل 2025 تک 11 لاکھ افغانی واپس بھیجے، غیرقانونی افغان باشندوں کو واپس بھیج رہے ہیں، 3 صوبوں سے افغانی واپس بھیج رہے ہیں، کے پی کے حالات مختلف ہیں، جو کیمپ وفاقی حکومت نے بند کیے، وہ کے پی میں فعال ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور افغانستان سے آرہے ہیں، کے پی حکومت پہلے ملک کا سوچے پھر سیاست کرے، ایف سی ہیڈ کوارٹرز اور اسلام آباد میں حملوں میں افغان شہری ملوث تھے، ہم مزید بم دھماکوں کے متحمل نہیں ہوسکتے، کے پی حکومت کو وفاق کی پالیسیوں پر عمل کرنا ہوگا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام غیرقانونی افغانوں کو کہتا ہوں وہ عزت سے واپس چلے جائیں، کوئی غیرقانونی افغان واپس آیا تو سزا دیں گے۔

  • کراچی میں رینجرز کی تعیناتی میں ایک سال کی توسیع

    کراچی میں رینجرز کی تعیناتی میں ایک سال کی توسیع

    کراچی: سندھ کابینہ نے صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رینجرز کی تعیناتی مزید ایک سال کے لیے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

    یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزرا، مشیروں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور شہر میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کابینہ کو بتایا کہ رینجرز کی موجودگی سے کراچی میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ اہم کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی اور سنگین جرائم کے نیٹ ورک کو کمزور کیا گیا ہے۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق رینجرز انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اختیارات کے ساتھ پولیس کی معاونت جاری رکھے گی۔رینجرز کو سی ٹی ڈی اور سندھ پولیس کے ساتھ مشترکہ آپریشنز کی مکمل اجازت ہوگی تاکہ شہر میں قیامِ امن کا سلسلہ برقرار رہے۔رینجرز کی تعیناتی کی نئی مدت 9 دسمبر 2025 سے مؤثر ہوگی، یعنی موجودہ تعیناتی ختم ہونے کے بعد فوراً نئی مدت کا آغاز ہوجائے گا۔

  • دہشتگردی کیلیے لڑکے تلاش کرنے والا افغان دہشتگرد تلہ گنگ سے گرفتار

    دہشتگردی کیلیے لڑکے تلاش کرنے والا افغان دہشتگرد تلہ گنگ سے گرفتار

    تلہ گنگ سے افغان دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا جس کا بیان بھی سامنے آیا ہے

    گرفتار دہشت گرد نے کہا کہ میرا نام قاسم عرف حسن ہے، میری قوم دلوذی اور میں افغانستان گردیزولایت کا رہنے والا ہوں،میں 10سال پہلے افغانستان سے لکی مروت پاکستان آیا، وہ یہاں پلا بڑھا، رزق کمایا اور یہاں کے لوگوں سے پیار ملا،سرہ درگہ میں میری 2025 میں طالبان کمانڈر ارمانی کے ساتھ ملاقات ہوئی جس نے مجھے جہاد کی طرف دعوت دی، کمانڈر ارمانی نے مجھے فدائی کرنے کا کہا، کمانڈر ارمانی نے فوجی قلعہ پر فدائی کرنے کی غرض سے ریکی کرائی لیکن مناسب موقع نہ ملنے پر ہم فوجی قلعہ پر فدائی حملہ نہیں کر سکے۔

    گرفتار دہشت گرد نے کہا کہ کمانڈر ارمانی کے مشورے پر میں تنظیم میں واپس چلا گیا، تنظیم میں کمانڈر ارمانی نے مجھے نئے لوگ تلاش کرنے کے لیے کہا، میں نے 5 بندے کمانڈر ارمانی کے حوالے کیے، فی بندہ مجھے 10ہزار روپے ملے،میں ستمبر میں پنجاب چلا گیا جس کا مقصد لڑکے تلاش کرنا اور انہیں تنظیم میں شامل کرنا تھا۔ پنجاب میں کچھ دن گزارنے کے بعد مجھے پولیس نے گرفتار کر لیا۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز  سے ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے وفد کی ملاقات

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کی یورپی یونین ہم آہنگی کمیٹی کے صدر اور رکن پارلیمان برہان کایاترک نے ملاقات کی، جس میں پاک ترکیہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں، معاشی تعاون، ماحولیاتی چیلنجز اور پارلیمانی روابط پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے وفد کا پرتپاک اور پرخلوص استقبال کرتے ہوئے کہا کہ برہان کایاترک کی لاہور آمد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لازوال بھائی چارے اور تاریخی تعلقات کی نئی توثیق ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں حالیہ سیلاب کے دوران ترکیہ حکومت اور عوام کی بروقت امداد پر گہرا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ترکیہ نے جس خلوص کا مظاہرہ کیا وہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور محبت کی مضبوط بنیاد ہے۔ملاقات میں وزیراعلیٰ نے پاکستان کے اسپیشل اکنامک زونز میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے مجوزہ اکنامک زون کا نام "صدر رجب طیب اردوان اسپیشل انڈسٹریل زون” رکھنے کی تجویز بھی دی ہے۔ انہوں نے تعمیرات، توانائی، شہری منصوبہ بندی، لاجسٹکس اور مائننگ کے شعبوں میں ترکیہ کی سرمایہ کاری اور مہارت کو پاکستان کے لیے قیمتی اثاثہ قرار دیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فلڈ مینجمنٹ، کلین ٹرانسپورٹ، جنگلات کے تحفظ، واٹر کنزرویشن اور کلائمیٹ اسمارٹ انفراسٹرکچر میں مشترکہ تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پنجاب کلین ایئر پروگرام، ’’ستھرا پنجاب‘‘، اے آئی فارسٹ پروٹیکشن فورس اور پنجاب کلائمیٹ آبزرویٹری جیسے اقدامات سے وفد کو آگاہ کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ کلائمیٹ قانون سازی، مقامی حکومت، ڈیجیٹل ایکسچینج اور یوتھ ایمپاورمنٹ میں شراکت داری پاک ترکیہ تعلقات کو نئی جہت دے گی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی منظرنامے کے باوجود پاکستان اور ترکیہ ہمیشہ انصاف، خودمختاری اور انسانی وقار کے اصولوں پر ایک ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہر بحران، انسانی المیے یا ماحولیاتی سانحات میں پاکستان اور ترکیہ نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے‘‘۔ مریم نواز نے اس موقع پر صدر رجب طیب اردوان کی پاکستان سے لازوال وابستگی کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ فلسطین کے مسئلے پر ترکیہ کی جرات مندانہ اور اصولی آواز پوری امت کے لیے اعتماد کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کشمیر سے غزہ تک پاکستان اور ترکیہ کے دلوں اور مؤقف میں کوئی دوری نہیں‘‘۔

    ملاقات میں دوطرفہ تجارت بڑھانے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت کو 5 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، جس کے لیے حکومت پنجاب مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

    ترکیہ کے رکن پارلیمان برہان کایاترک نے پنجاب حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چند ماہ میں پنجاب میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وزیراعلیٰ مریم نواز کی کام کرنے کی رفتار ترکیہ سے بھی تیز ہے‘‘۔ برہان کایاترک نے مزید کہا کہ ترکیہ کے عوام قائداعظم محمد علی جناح اور محمد نواز شریف کے مداح ہیں۔ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور دونوں جانب سے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

  • نیپا چورنگی، تین سالہ بچے کی  14 گھنٹے بعد لاش مل گئی

    نیپا چورنگی، تین سالہ بچے کی 14 گھنٹے بعد لاش مل گئی

    کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال نیپا چورنگی پر کھلے مین ہول میں گرنے والے تین سالہ بچے کی لاش طویل ریسکیو آپریشن کے بعد برآمد کرلی گئی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق کمسن ابراہیم ولد نبیل کی لاش حادثے کے تقریباً 14 گھنٹے بعد جائے وقوعہ سے ڈیڑھ کلو میٹر دور نالے سے ملی، جسے فوری طور پر سرد خانے منتقل کردیا گیا۔واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً 11 بجے پیش آیا جب تین سالہ ابراہیم والدین کے ہمراہ ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آیا تھا۔ والد پارکنگ میں بائیک کھڑی کر رہے تھے، اسی دوران ابراہیم والد کے پیچھے بھاگتے ہوئے قریب موجود کھلے مین ہول میں جا گرا۔ کمسن بچہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد بتایا جاتا ہے۔

    حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں نے تلاش شروع کی، تاہم مسلسل کئی گھنٹے کی کوششوں کے باوجود بچے کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ بعد ازاں ریسکیو آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا، جس پر علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوا کر کھدائی کا کام بھی کیا۔بچے کے گرنے کی خبر پھیلتے ہی علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور نیپا چورنگی سمیت اطراف کی سڑکوں پر ٹائر جلا کر شدید احتجاج کیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر رہی۔ یونیورسٹی روڈ پر نیپا سے حسن اسکوائر تک جانے اور آنے والا ٹریک بھی طویل وقت تک بند رہا، جسے بعد ازاں کھول دیا گیا۔

    احتجاج کے دوران مشتعل افراد نے میڈیا نمائندوں پر بھی حملہ کردیا، گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے اور دفاتر جانے والے شہریوں کو روکنے کی کوشش کی۔ ہجوم کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو بھی امدادی کارروائی عارضی طور پر روکنی پڑی۔

    میئر کراچی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلے مین ہولز کا انتظام متعلقہ اداروں کی ایک ذمہ داری ہے، تاہم اس معاملے پر کسی بھی جماعت پر بات کرنے سے لوگ ناراض ہوتے ہیں۔

  • کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے،حافظ نعیم

    کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے،حافظ نعیم

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ میئر کراچی نے سارے ادارے اپنے قبضے میں کر رکھے ہیں۔

    کراچی میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت میں کرپشن بڑا کاروبار بن چکا ہے، ان کی سرپرستی کون کر رہا ہے سب کو پتہ ہے، اس بی آر ٹی کے ڈیزائن میں بھی مسائل ہیں۔مطالبہ ہے بی آر ٹی پروجیکٹ ختم کیا جائے، یونیورسٹی روڈ کو بحال کیا جائے۔ فرضی ڈاکومنٹس پر گلشن اقبال میں گھر پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی شہری کے گھر پر کوئی قبضہ کرے گا تو جماعت اسلامی مزاحمت کرے گی، کراچی کی زمینوں پر قبضہ کے خلاف جماعت اسلامی نے سیل بنا دیا، زمینوں پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، حکومت سسٹم چلانے والوں لگام دے۔ پاکستان میں ہر جگہ قبضہ ہوتا ہے، کسانوں، ہاریوں کی زمین پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔دریائے راوی کے کنارے جعلی سوسائٹیاں بنی ہوئی ہیں، جعلی سوسائٹیاں بنتی ہیں، دریاؤں کے راستوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے، زمین پر قبضے کے خلاف جدوجہد بدل دو نظام کا اہم حصہ ہو گا۔

    حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نورا کشتی لڑتی ہے، عوام کو بے وقوف بناتی ہے۔ کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے پر جب قبضہ ہو رہا تھا ایم کیو ایم ان کے ساتھ کھڑی تھی،قبضہ گیروں کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، کوئی اس شہر کا پُرسان حال نہیں، حالات کی ذمے داری حکومت پر ہے، کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گےچھوٹے کاشتکاروں کی زمین پر قبضہ کیا جاتا ہے، ہزار ارب روپے کراچی کو ملنے چاہیے تھا، مصطفیٰ کمال کے دور میں یہ شق ختم کی گئی، ایم کیو ایم اس وقت حکومت کا حصہ تھی۔

  • شیخوپورہ سی سی ڈی کی کاروائی،منشیات فروش ہلاک

    شیخوپورہ سی سی ڈی کی کاروائی،منشیات فروش ہلاک

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا ویژن منشیات سے پاک پنجاب شیخوپورہ میں جاری ہے

    ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ کی خصوصی ہدایت پر ضلع بھر میں منشیات فروشوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا ہے،شیخوپورہ میں بہت بڑا منشیات فروش سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں واصل جہنم ہو گیا۔ منشیات فروش ڈی ایس پیز محمد علی بٹ اور رئیس خان لودھی کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔شیخوپورہ کے نواحی علاقے میں پولیس ریڈ کرنے کی جرات نہیں کرتی تھی، لاہور کے دبنگ ڈی ایس پی محمد علی بٹ اور رئیس خان لودھی نے ریڈ کیا اور ٹنوں کے حساب سے منشیات پکڑ لی،

    پولیس حکام کے مطابق منشیات فروشوں کی اب خیر نہیں،کوئی منشیات فروش نہیں بچے گا،

  • جس جگہ بچہ گرا  وہاں کاٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے،مرتضیٰ وہاب

    جس جگہ بچہ گرا وہاں کاٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ گزشتہ شب نیپا کے قریب مین ہول میں جو بچہ گرا وہ سیوریج نالہ نہیں بلکہ برساتی نالہ تھا، اس غم میں بچے کے اہلخانہ کے ساتھ برابر کا شریک ہوں لیکن معاملے کو سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا جس جگہ بچہ گرا وہاں مین ہول کا کور موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے بچہ بدقسمتی سے اس میں گر کر حادثے کا شکار ہوگیا۔ میں اس واقعے پر غمگین ہوں،اس ماں اور والد کی تڑپ کا احساس ہے اور اہلخانہ سے افسوس کا اظہار بھی کرتا ہوں، اہلخانہ کی ہر ممکن مدد کریں گے، کل رات کو اس ایشو پر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی جو بڑی بدقسمت چیز ہے، 500 میٹر کے حصے کو کھود چکے ہیں، بچے کی تلاش کا کام جاری ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نکلوا رہا ہوں کہ معاملہ کیا ہوا ہے، ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے کہ کس نے مشینری منع کی، اگر ایسا ہے تو قانونی کارروائی کریں گے، اگر عملے کی کوتاہی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی،پچھلے ایک سال میں 88 ہزار مین ہول کور لگائے ہیں، واٹر کارپوریشن نے 55 فیصد یوسی چیئرمینز کو ڈھکن دیے ہیں، انکوائری کراؤں گا کہ شہرکے بیچ ڈپارٹمنٹل اسٹور اور اسپتال کے قریب مین ہول کیسے کھلا تھا، مین ہول کتنے دن سے کھلا تھا، یا کھولا گیا تھا، اس کو چیک کیا جائے گا۔

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کو سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی، تنقید کرنے والے لوگ اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں گے، واٹر کارپوریشن کو کوئی شکایات نہیں ملی تھی،میں متاثرہ خاندان اور والدین کے ساتھ کھڑا ہوں، میں حکومت کا حصہ ہوں، اس طرح کی اشتعال انگیز گفتگو کی وجہ سے معاملات حل نہیں ہو پاتے، برساتی نالے پر ٹاؤن اور کے ایم سی دونوں کام کرتے ہیں، معاملے کی ہر پہلو سے مکمل تحقیقات کریں گے، اس علاقے کا ٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے، اگر میں کہوں کہ ذمہ داری جماعت اسلامی کی ہے تو لوگ ناراض ہوں گے۔

  • برطانوی لیبر ایم پی ٹیولِپ صدیق کو بدعنوانی کیس میں بنگلہ دیشی عدالت نے سنائی سزا

    برطانوی لیبر ایم پی ٹیولِپ صدیق کو بدعنوانی کیس میں بنگلہ دیشی عدالت نے سنائی سزا

    برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ اور سابق سٹی منسٹر ٹیولِپ صدیق کو بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے انہیں عدم موجودگی میں سزا سناتے ہوئے 1 لاکھ بنگلادیشی ٹکا جرمانہ بھی عائد کیا ہے، جو تقریباً 620 پاؤنڈ کے برابر ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ان کی سزا میں مزید چھ ماہ کا اضافہ ہو جائے گا۔

    43 سالہ ٹیولِپ صدیق پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی خالہ، ملک کی برطرف شدہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ پر اثرانداز ہو کر ڈھاکہ کے مضافات میں اپنے خاندان کے لیے زمین کا پلاٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ صدیق نے ان الزامات کی ہمیشہ سختی سے تردید کی ہے۔یہ مقدمہ اسی کیس سے جڑا ہے جس میں گزشتہ ہفتے شیخ حسینہ کو 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ اور دیگر ملزمان بھی عدالت میں موجود نہیں تھے۔ عدالت نے مجموعی طور پر 17 افراد کو قصوروار قرار دیا، جن میں ٹیولِپ صدیق، شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ شامل ہیں۔ فیصلے کے وقت بیشتر ملزمان بیرونِ ملک یا روپوش تھے۔

    ٹیولِپ صدیق، جو برطانوی حکومت میں انسدادِ بدعنوانی وزیر بھی رہ چکی ہیں، رواں سال دسمبر میں الزامات سامنے آنے کے بعد وزارتِ خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہوگئی تھیں۔ اب انہیں برطانوی پارلیمنٹ میں اپنے منصب سے ہٹنے کے مطالبات کا سامنا ہے۔برطانیہ کی نمایاں شخصیات، جن میں شیری بلیئر ، سابق وزرا اور متعدد برطانوی وکلاء شامل ہیں، نے گزشتہ ہفتے ایک مشترکہ خط میں اس مقدمے کو "گھڑا ہوا اور غیر منصفانہ” قرار دیا۔ خط میں کہا گیا کہ صدیق کو بلاجواز عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کے وکیل کو بنگلادیشی حکام نے نظر بند کر دیا تھا، جبکہ ان کی بیٹی کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔

    ٹیولِپ صدیق پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ مل کر روس کے تعاون سے بننے والے ایک نیوکلیئر پاور پراجیکٹ سے 4 ارب پاؤنڈ کی رقم بیرونِ ملک منتقل کی۔ تاہم صدیق نے اس الزام کو بھی "بے بنیاد” قرار دیا ہے۔

    گزشتہ ماہ بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو قتل، تشدد، انسانیت کے خلاف اقدامات اور شہریوں پر طاقت کے غلط استعمال کے الزامات میں سزائے موت سنائی۔ فیصلہ ان کی غیرموجودگی میں سنایا گیا کیونکہ وہ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے احتجاجی مظاہروں میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ استغاثہ کے مطابق شیخ حسینہ نے احتجاج کو دبانے کے لیے ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور بھاری اسلحہ استعمال کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ عدالت نے ان حملوں کو "شہری آبادی کے خلاف منظم اور وسیع کارروائیاں” قرار دیا۔

  • خاتون خود کش حملہ آور  کا ایف سی ہیڈ کوارٹر نوکنڈی پر حملہ،تین دہشتگرد ہلاک

    خاتون خود کش حملہ آور کا ایف سی ہیڈ کوارٹر نوکنڈی پر حملہ،تین دہشتگرد ہلاک

    کالعدم تنظیم بی ایل ایف خواتین کو بلیک میل کر کے خود کش حملوں پر مجبور کرتی ہے.

    فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے اور بی ایل ایف، خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں خود کش حملوں کے لیے مجبور کرتی ہیں۔ گرفتار ہونےوالی خود کش بمبار عدیلہ بلوچ نے بتایا تھا کہ کس طرح نازیبا ویڈیو بناکر اسے بلیک میل کیا گیا۔ نوکنڈی میں خود کش حملہ کرنے والی زرینہ رفیق کو بھی بی ایل ایف کے کمانڈر نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا، اس کی ویڈیو بنائی اور خود کش حملہ کرنے پر دھمکایا کہ اگر انکار کیا تو ویڈیو نیٹ پر جاری کر دی جائے گی،یہ درندے خواتین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں.

    اسلامی اور بلوچی روایات کی دھجیاں اڑانے والوں نے ایک بار پھر بلوچستان نوکنڈی حملے میں عورت کا استعمال کیا،یہ بلوچ عزت کی کھلی پامالی ہے۔بی وائی سی اور نام نہاد ہیومن رائٹس بلوچستان کے وہی لوگ آکر اب یہ منظر بھی دیکھ لیں،چند ہفتے قبل حب میں نسرینہ بلوچ کی گمشدگی پر روایات یاد دلانے والوں کی آج زبانیں بند ہیں، اور ان کا دوہرا معیار بے نقاب ہو چکا ہے۔

    قبل ازیں نوکنڈی پر ناکام حملے کے بعد، دہشتگردوں کے ایک اور گروپ نے پنجگور میں حملہ کیا،جوانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پسپا کردیا۔ دریں اثنا فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹر نوکنڈی پر بزدلانہ حملے کی ناکام کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور موثر کارروائی نے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔ ایک خودکش حملہ آور نے مرکزی گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے فوراً بعد کوئیک رسپانس فورس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے باقی تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن جاری ہے،جلد باقی ماندہ دہشت گرد کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    اتوار کی شب ساڑھے آٹھ بجے کے قریب چار حملہ آوروں نے کیمپ پر حملہ کیا، جن میں سے ایک خاتون خودکش بمبار زرینہ فاروق عرف ترانگ ماہو نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر ناکام خودکش دھماکہ کیا۔ باقی حملہ آور سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔ ایس ایس پی چاغی محمد شریف کے مطابق جوابی کارروائی کے بعد کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور علاقے میں صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور معمول زندگی رواں دواں ہے۔