Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ،تین حملہ آور افغانی نکلے

    ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ،تین حملہ آور افغانی نکلے

    پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش جاری ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کردی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں،تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے،حکام کا مزید کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جس میں 3 ایف سی اہلکار شہید جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔

  • مردان میں ایف بی آر کا سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ

    مردان میں ایف بی آر کا سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ

    مردان: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے غیر قانونی سگریٹ کی پیداوار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مردان میں واقع ایک سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ مار کر 62 کارٹن بغیر ٹیکس ادا کیے گئے سگریٹس اپنے قبضے میں لے لیے۔ کارروائی کے بعد فیکٹری کو سیل کر دیا گیا جبکہ مالکان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

    ایف بی آر کے محکمہ ان لینڈ ریونیو کے ذرائع کے مطابق ٹیم نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فیکٹری پر چھاپہ مارا، جہاں بڑی تعداد میں ایسے سگریٹس تیار کیے جا رہے تھے جن پر حکومتی ٹیکسز اور لیویز ادا نہیں کی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق ضبط شدہ سگریٹس کی مارکیٹ ویلیو بھی کروڑوں روپے میں بنتی ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جس فیکٹری کو سیل کیا گیا ہے وہ مبینہ طور پر سینیٹر دلاور خان کی ملکیت ہے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی اثرورسوخ کے باوجود ایف بی آر کی ٹیم نے وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کارروائی مکمل کی اور کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا۔

    ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے حکم کے مطابق ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ کے خلاف آپریشن جاری ہے، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں جو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔حکام کے مطابق پاکستان کو ہر سال 250 سے 300 ارب روپے کا نقصان غیر قانونی سگریٹ کی تجارت کے باعث برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ غیر قانونی سگریٹ کی تیاری میں مسلسل اضافہ قومی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب سینیٹر دلاور خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان دنوں گاؤں میں موجود نہیں ہیں اور انہیں اپنی فیکٹری پر چھاپے سے متعلق کوئی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

  • انسدادِ دہشت گردی مہم جاری، رواں برس 136 افغانوں سمیت1873 دہشتگرد جہنم واصل

    انسدادِ دہشت گردی مہم جاری، رواں برس 136 افغانوں سمیت1873 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے سال 2025 کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی اور آپریشنز کے حوالے سے اہم ترین بریفنگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کی کمر توڑنے کے لیے ریکارڈ تعداد میں آپریشنز کیے ہیں۔ اس دوران ملک دشمن عناصر، خصوصاً افغانستان سے سرگرم نیٹ ورکس کی کارروائیوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال اب تک 67,023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے،1,873 دہشت گرد ہلاک کیے گئے،جن میں 136 افغان شہری بھی شامل ہیں،4 نومبر کے بعد دہشت گردی کی لہر میں اضافہ دیکھتے ہوئے اداروں نے آپریشنز مزید تیز کر دیے،4,910 آپریشنز کئے گئے،206 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا، خیبر پختونخوا میں 12,857 آپریشنز،بلوچستان میں 53,309 آپریشنزکئے گئے،بلوچستان میں زیادہ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا دباؤ اس خطے پر رہا، جہاں سرحد پار سے دراندازی سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی سرزمین اب بھی القاعدہ، داعش خراسان (IS-KP) اور دیگر تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔پاکستان پر حملہ کرنے والے کئی گروہ اسلحہ، فنڈنگ اور تربیت افغانستان سے لے رہے ہیں۔متعدد حملوں میں شامل دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ وہ افغانستان میں منظم ہو کر پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔پاکستان نے ان الزامات کو عالمی فورمز پر بھی اٹھایا ہے اور افغانستان سے پرامن سرحدی نظم کے لیے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاک افغان سرحد کی کل لمبائی 1,229 کلومیٹرہے اورصرف 20 قانونی سرحدی راستے ہیں،محض فینسنگ کافی نہیں ،سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے، ڈرون نگرانی،ماڈرن واچ ٹاورزضروری قرار دیے گئے۔مزید یہ کہ کئی خودکش حملوں اور بارڈر کراسنگ میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے استعمال کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو ایک سنگین سلامتی خطرہ تصور ہوتی ہیں۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت کے پاس 7.2 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی اسلحہ موجود ہےجس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔یہ جدید اسلحہ دہشت گرد گروہوں تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔

    پاکستان نے غیر قانونی افغان باشندوں کی مرحلہ وار وطن واپسی کا عمل تیز کر دیا ہے،سال 2024: 366,704 افغان شہری واپس گئے،سال 2025: 971,604 (تاحال)واپس گئے،صرف نومبر 2025 میں 239,574 افغان شہریوں کی واپسی ہوئی ہے،حکومتِ پاکستان کے مطابق اس اقدام کا مقصد داخلی سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے، جبکہ واپسی کے تمام مراحل انسانی بنیادوں پر انجام دیے جا رہے ہیں۔

    2025 پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن سال ثابت ہو رہا ہے۔ ریاستی اداروں کی بھرپور کارروائیوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم سرحد پار خطرات بدستور موجود ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔

  • شمالی وزیرستان میں 4 ،قلات میں چھ دہشتگرد جہنم واصل،پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام

    شمالی وزیرستان میں 4 ،قلات میں چھ دہشتگرد جہنم واصل،پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام

    سیکورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    پشاور کے علاقے بورڈ تاج آباد میں جمعے کے روز فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں نامور مذہبی عالم اور جامعہ اسریہ کے مہتمم شیخ عزت اللہ اپنے بیٹے سمیت جاں بحق ہوگئے، جبکہ دوسرا بیٹا شدید زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شیخ عزت اللہ اور ایک بیٹا موقع پر دم توڑ گئے۔اس واقعے کی ذمہ داری داعش خراسان (ISIS-K) نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں قبول کرلی۔ ایف آئی آر کے مطابق شیخ عزت اللہ کو گزشتہ کئی ماہ سے داعش کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔

    ضلع مہمند میں سکیورٹی ذرائع نے ایک سنگین انکشاف کیا ہے کہ دہشتگردوں نے ایک مسجد کو اسلحے، بارودی مواد اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے بطور ٹھکانہ استعمال کیا۔ حکام کے مطابق مسجد کے اندر سے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند مذہبی مقامات کو منصوبہ بندی، سازش اور عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔علاقہ سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    بنوں کے علاقہ جانی خیل سے تعلق رکھنے والے مبینہ ٹی ٹی پی کمانڈر خالد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں اسے ڈرون چلانے کی تربیت حاصل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً ڈرونز، کو حملوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی دہشتگرد ڈرونز کے ذریعے آئی ای ڈیز گرانے کی کوشش کر چکے ہیں، جس سے سکیورٹی فورسز اور شہری دونوں متاثر ہوئے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی باقی ہے۔

    کرم ضلع میں پاک افغان سرحد کے قریب مشکوک افراد کی نقل و حرکت دیکھ کر سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد درانداز افغانستان کی جانب فرار ہوگئے۔ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ افغان فورسز کبھی کبھار دہشتگردوں اور اسمگلرز کو کور فراہم کرتی ہیں۔علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور ہر قسم کی سرحدی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    شمالی وزیرستان کے نکہوری ہل اور سنی شوران کے درمیان سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر مبنی ایک اہم کارروائی کی جس میں چار دہشتگرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران راکٹ لانچر، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، اسلحہ اور دہشتگردوں کی استعمال شدہ موٹر سائیکلز برآمد ہوئیں۔فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    واشک کے علاقے مشکِل بازار میں نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کردیا۔ حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ لاشوں کو ایم آر ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا ہے۔

    کوئٹہ کے علاقے محلہ بالا روڈ پر کرائم سین یونٹ (CSU) کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ پہلے دھماکے کی جگہ جا رہی تھی۔ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے ہونے والے دھماکے میں گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا لیکن کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    کمبرانی روڈ پر سکیورٹی فورسز کی معمول کی گشت کے دوران ایک دھماکہ ہوا جس سے گاڑی جزوی طور پر متاثر ہوئی، تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    قلات کے مضافات میں ایک خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے دوران دہشتگردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس جھڑپ میں چھ دہشتگرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔حکام کے مطابق ہلاک دہشتگرد متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    کوئٹہ کے سریاب علاقے میں دہشتگردوں نے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑادیا، جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت روکنا پڑی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے، جبکہ پولیس نے علاقے میں وسیع سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

  • فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجگور حملہ کی خبر بے بنیاد قرار

    فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجگور حملہ کی خبر بے بنیاد قرار

    بلوچستان میں مبینہ عسکری حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کو سرکاری اور معتبر ذرائع نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر بعض بھارتی حمایت یافتہ اکاؤنٹس نے یہ دعویٰ کیا کہ پنجگور کے علاقے گرمکان میں ایک حملے کے دوران بلوچ لبریشن آرمی نے مبینہ طور پر پاک فوج کے چار اہلکاروں کو شہید کر دیا۔دعوے کے وائرل ہونے کے باوجود کسی سرکاری محکمے، فوجی ترجمان یا آزاد و قابلِ اعتماد ذرائع نے اس نوعیت کے کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی۔ متعلقہ اداروں کے مطابق گرمکان یا آس پاس کے علاقوں میں کسی عسکری حملے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔فوجی جانی نقصان سے متعلق پھیلائی جانے والی خبر حقائق کے منافی ہے۔جھوٹی معلومات پھیلانا عوام میں بے چینی اور غلط فہمی پیدا کرنے کی سازش ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلانے کی کوششیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس طرح کی پوسٹس کا مقصد ریاستی اداروں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنا،عوامی اعتماد کو متزلزل کرنا،ملک میں انتشار پھیلاناہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ کو فیکٹ چیک کے بعد مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔

    یہ اسی نوعیت کی ایک اور کوشش ہے جس میں بیرونی حمایت یافتہ عناصر غلط معلومات کے ذریعے منفی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ماہرین اور حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی غیر مصدقہ معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیشہ سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔غلط خبریں پھیلانے سے نہ صرف معاشرتی بے چینی بڑھتی ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

  • بھارتی گودی میڈیا اور سرکاری ایکس اکاؤنٹس امریکہ اور آئرلینڈ سے چلنے کا انکشاف

    بھارتی گودی میڈیا اور سرکاری ایکس اکاؤنٹس امریکہ اور آئرلینڈ سے چلنے کا انکشاف

    بھارت کے معروف ٹی وی چینلز اور سرکاری اداروں کے متعدد بڑے سوشل میڈیا ہینڈلز کے بیرونِ ملک سے چلنے کا انکشاف ہونے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

    کئی نمایاں نیوز چینلز اور سرکاری اکاؤنٹس کے ٹویٹر (ایکس) ہینڈلز امریکی اور آئرش لوکیشن سے آپریٹ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جس نے ان کی شفافیت، ادارہ جاتی ساکھ اور ایڈیٹوریل کنٹرول کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارت کے تین نمایاں میڈیا اداروں ABP نیوز، جسے اکثر ناقدین "جانا مانا گودی اینکر” کا پلیٹ فارم کہتے ہیں،ری پبلک بھارت، جہاں حکومت کی تعریف اور اپوزیشن خصوصاً کانگریس پر تنقید نمایاں رہتی ہے،آج تک، جس کے ساتھ معروف اینکر سدھیر چوہدری بھی منسلک ہیں ان سب کے ایکس (توییٹر) ہینڈلز امریکہ سے آپریٹ ہوتے دکھائی دیے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر صارفین یہ سوال اٹھاتے نظر آئے کہ اگر یہ چینلز بھارتی ناظرین کے لیے نشریات پیش کرتے ہیں تو پھر ان کے ڈیجیٹل آپریشنز بھارت کے بجائے امریکہ سے کیوں چل رہے ہیں،صرف نجی میڈیا ہی نہیں، بلکہ بھارتی حکومت کے کچھ سرکاری اکاؤنٹس بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ڈی ڈی نیوز،بھارت کا سرکاری نیوز چینل،کا آفیشل ایکس ہینڈل آئرلینڈ سے چلتا نظر آتا ہے۔بی جے پی گجرات یونٹ کا آفیشل ہینڈل بھی آئرلینڈ کی لوکیشن پر دکھا۔حتیٰ کہ بھارت سرکار کے بڑے منصوبے ‘اسٹارٹ اپ انڈیا’ کا آفیشل ٹویٹر ہینڈل بھی آئرلینڈ سے آپریٹ ہوتے ہوئے سامنے آیا ہے۔

  • سندھ ہائیکورٹ بار انتخابات،حسیب جمالی کامیاب،صدر منتخب

    سندھ ہائیکورٹ بار انتخابات،حسیب جمالی کامیاب،صدر منتخب

    کراچی:سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات، صدارتی نشست کا غیر سرکاری ،غیرحتمی نتیجہ سامنے آ گیا حسیب جمالی 2679ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ،سرفراز میتلو نے2604 ووٹ حاصل کیے ہیں نائب صدر طارق علی جکھرانی 1497 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں.جنرل سیکریٹری نشست پر فریده منگریو 2582 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ہیں.حسیب جمالی سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے صاحب زادے ہیں

    وکلا برادری کا کہنا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں محمد حسیب جمالی کو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر منتخب ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، حسیب جمالی کی کامیابی وکلاء برادری کے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے اور امید ہے کہ وہ وکلاء کی فلاح و بہبود، آئین و قانون کی سربلندی، عدلیہ کی آزادی اور بار و بینچ کے مضبوط تعلق کے لیے مؤثر اور فعال کردار ادا کریں گے۔سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے دیگر منتخب عہدیداران، نائب صدر طارق علی جکھرانی، جنرل سیکرٹری فریدہ منگریو، خواتین کی ایڈیشنل سیکرٹری روپ مالا، جوائنٹ سیکرٹری حزیفہ اور خازن سید نعمت اللہ کو بھی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ پوری کابینہ مل کر وکلاء برادری کے مسائل کے حل، نوجوان وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت اور سائلین کو فوری اور سستا انصاف مہیا کرنے کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔

  • سابق ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم  کی گرفتاری کی افواہ من گھڑت، شہزاد قریشی کی قریبی ذرائع سے بات

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم کی گرفتاری کی افواہ من گھڑت، شہزاد قریشی کی قریبی ذرائع سے بات

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم انجم اور ان کی بیٹی کی گرفتاری کی سوشل میڈیا پر خبریں بے بنیاد اور افواہ ہیں

    باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کار شہزاد قریشی کی جنرل ر ندیم انجم کے قریبی ذرائع سے بات ہوئی ہے جنہوں نے ایسی خبروں کی تردید کی۔ جنرل ر ندیم انجم کے گھر پر کوئی چھاپہ نہیں پڑا یہ افواہ ہے اور غلط خبر بلکہ پروپیگنڈا ہے

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ جنرل ر ندیم انجم اور انکی بیٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے انہیں چکلالہ سے گرفتار کیا گیا تاہم باغی ٹی وی کے سینئر تجزیہ کار شہزاد قریشی کے مطابق ایسی تمام خبریں من گھڑت ہیں۔

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ ندیم انجم اور ان کے اہل خانہ کی گرفتاری کے بارے میں چلنی والی خبر جھوٹی ہے،سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر پھیلائی گئی، یہ جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا ہے۔ ایسی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

  • کراچی، غیر قانونی کرنسی اسمگلنگ میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    کراچی، غیر قانونی کرنسی اسمگلنگ میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے شہر کے علاقے سمن آباد میں ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی کرنسی اسمگلنگ اور غیر رجسٹرڈ کرنسی ایکسچینج کے کاروبار میں ملوث تین افراد کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت مدثر، سجاد اور خالد کے ناموں سے ہوئی ہے، جو کافی عرصے سے بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج اور غیر قانونی طریقے سے غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت میں ملوث تھے۔
    حکام کے مطابق چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی، جس میں 18 ہزار سعودی ریال،10 ہزار امریکی ڈالر،5 ہزار برطانوی پاؤنڈشامل ہیں،اس کے علاوہ 63 لاکھ 45 ہزار پاکستانی روپے بھی برآمد کیے گئے جو غیر قانونی ٹرانزیکشنز سے حاصل شدہ رقم بتائی جاتی ہے۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان سے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے کاروبار سے متعلق اہم دستاویزات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر شواہد بھی قبضے میں لیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ان کے نیٹ ورک اور ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

    ایف آئی اے نے تینوں ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کرلیا ہے، جبکہ انہیں ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق تفتیش کے دوران انکشافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کرنسی سمگلنگ نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ منی لانڈرنگ کے نیٹ ورکس کو بھی تقویت دیتی ہے، اس لیے اس قسم کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

  • خواتین کے زمین کے مقدمات اولین ترجیح پر حل کیے جائیں گے،وزیراعلیٰ پنجاب

    خواتین کے زمین کے مقدمات اولین ترجیح پر حل کیے جائیں گے،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کے ہر مرلے، ہرکنال اور ہر ایکڑ پر صرف اصل مالک کا ہی قبضہ ہوگا، زمین یا پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈپٹی کمشنر آفس میں درخواست دیں، دنوں میں فیصلہ ہوگا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں پراپرٹی آرڈیننس کے مؤثر نفاذ پر وزیر اعلیٰ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک ہزار 5 خاندانوں کو 48 گھنٹوں میں زمین کی ملکیت کا حق واپس مل گیا ہے، اب پنجاب میں خواتین کے زمین کے مقدمات اولین ترجیح پر حل کیے جائیں گے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ زمین کا اصل مالک جب تک قبضہ نہ لے فیصلہ ادھورا ہے، فیصلہ صرف کاغذ پر نہیں ہوگا۔ پنجاب کے ہرمرلے، ہرکنال اور ہرایکڑ پر صرف اور صرف اصل مالک کا ہی قبضہ ہوگا، شہری زمین یا پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست دیں، دنوں میں فیصلہ ہوگا،زمین کے مقدمات میں فیصلے پر فوری قبضہ دیا جائےگا،کوئی سفارش نہیں چلےگی۔