Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آئی ایس پی آر کا نیا نغمہ ’’قوم کے شہیدو تمہیں سلام ‘‘ ریلیز کر دیا گیا

    آئی ایس پی آر کا نیا نغمہ ’’قوم کے شہیدو تمہیں سلام ‘‘ ریلیز کر دیا گیا

    آئی ایس پی آر کا نیا نغمہ ’’قوم کے شہیدوں تمہیں سلام ‘‘ ریلیز کر دیا گیا

    آئی ایس پی آر نےوطن پر جان نچھاور کرنے والے شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا،قومی نغمہ کے ذریعے وطن عزیز کی بقاء اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جان دینے والے شہداء کو پوری قوم کا سلام پیش کیا گیا ہے،وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی داستانیں قوم کے دلوں میں زندہ ہیں

    نغمہ میں معصوم بچوں اور خواتین کی شہادت کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا ،بزدل دشمن کے دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے بہادروں کی قربانیاں پر ہر پاکستانی کو فخر ہے ،نغمہ میں خون کے آخری قطرے تک وطن کیلئے قربانیاں دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،شہداء کا ہر قطرۂ لہو پاکستان کی بقا اور امن کی ضمانت ہے،

  • بس میں خواتین کو ہراساں کرنےوالا ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کا اہلکار کو گرفتار

    بس میں خواتین کو ہراساں کرنےوالا ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کا اہلکار کو گرفتار

    سرگودھا میں بس میں خواتین سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کے اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق نارووال چوک مرید کے پر ہائی وے پیٹرولنگ اہلکار نے بس میں خاتون کو ہراساں کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی،پولیس کا کہنا ہے کہ بس میں خواتین کو ہراساں کرنے والے ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کے اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر ہائی وے پیٹرولنگ پولیس کے گرفتار اہلکار کی لاپ اپ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’گرفتار! ہراسمنٹ کے لیے زیرو ٹالرنس‘۔

    دوسری جانب بہاولپور کے علاقے یزمان میں بھی خواتین کو چھیڑنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا،سی سی ڈی پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم پولیس کو دیکھ کر بھاگا، تیز رفتاری کے باعث درخت سے ٹکرا کر زخمی ہو گیا، زخمی ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

  • بلوچستان ،کے پی میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز متحرک

    بلوچستان ،کے پی میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز متحرک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں،

    ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میں 17 اکتوبر کو گل بہادر گروپ کے خودکش حملے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق جاں بحق افراد میں حسین اللہ، ان کا بیٹا، بیوی، بہن اور بھانجی شامل ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملے میں ملوث سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان کے پانیالہ تھانے کی حدود میں عبدال خیل کے علاقے میں انٹیلیجنس بنیاد پر کی گئی کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا انتہائی مطلوب کمانڈر "عقابی سردار” مارا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ہلاک کمانڈر متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھا۔ کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    ضلع باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے بعد علاقے کو کلیئر کر دیا ہے، جس کے بعد مقامی افراد کی گھروں کو واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ لوئی خرکی ماموند میں کمانڈنٹ باجوڑ اسکاؤٹس بریگیڈیئر وسیم گھمن نے مقامی عمائدین سے ملاقات کی اور ان کے حب الوطنی اور امن کی حمایت کو سراہا۔ مقامی عمائدین نے بھی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ضلع بنوں کے مغل کوٹ سیکٹر میں انٹیلیجنس اطلاعات پر مبنی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے دو اہم دہشتگردوں طارق کاکھی اور حکیم اللہ عرف ٹائیگر کو ہلاک کر دیا۔ یہ دہشتگرد دہشتگردی، بھتہ خوری، اغواء اور سرحد پار حملوں میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ ذرائع کے مطابق یہ گروہ افغانستان سے شدت پسندوں کو پاکستان میں داخل کرانے میں بھی ملوث رہا ہے۔

    کوئٹہ میں 30 ستمبر کو فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کے ایک حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق، حملہ آور "حبیب اللہ عرف طٰہ یا تکّل بدری” افغان صوبے لوگر کے محمد آغا ضلع کے حاجیانو کلی کا رہائشی تھا۔ حملے میں 8 شہری جاں بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    بلگتر کے کورکی علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے IED حملہ کیا گیا، جس کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ حکام نے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ پر IED حملے کی بھی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دعویٰ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے گشت بڑھا دیا ہے۔چاغی کے تالو لنڈی علاقے میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ایک ٹرالر پر فائرنگ کر دی، جس میں کنڈکٹر زخمی ہوا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئیں۔ پولیس نے لاشیں قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ واقعے کے محرکات اور ملزمان کا تعین کیا جا سکے۔

  • افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہوگا،پاک افغان جنگ بندی

    افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہوگا،پاک افغان جنگ بندی

    قطری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان فوری جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں۔

    قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کا فیصلہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ہوا،قطری وزارت خارجہ کاکہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق قطر و ترکیے کی ثالثی میں ہوا۔دونوں ممالک نے آئندہ چند دنوں میں مزید ملاقاتیں کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن اور استحکام کے لیے مستقل مکینزم بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جنگ بندی خطے میں پائیدار امن کے قیام کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ امید ہے جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا خاتمہ کرے گی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں مذاکرات کا پہلا دور قطری دارالحکومت دوحہ میں مکمل ہوا تھا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، سکیورٹی حکام نے بھی وزیر دفاع کی معاونت کی،دوسری جانب افغان وفد کی سربراہی وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کی۔

    علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فی الفور بند ہوگا۔ دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔25اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود میں ملاقات ہو گی اور معاملات پر تفصیلی بات ہوگی۔ ہم قطر اور ترکیے دونوں برادر ممالک کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

  • سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس، ججزکوڈ آف کنڈکٹ میں اہم ترامیم

    سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس، ججزکوڈ آف کنڈکٹ میں اہم ترامیم

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججزکوڈ آف کنڈکٹ میں اہم ترامیم کردی گئیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ججوں کے ضابطہ اخلاق میں اکثریت رائے سے ترامیم کی منظوری دے دی،کوڈ آف کنڈکٹ میں ترمیم سے ججز میڈیا پر بات نہیں کرسکیں گے۔ چیف جسٹس ریٹائرڈ قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں ترمیم سےججز کو الزامات کا جواب دینے کی اجازت دی گئی تھی،رول نمبر 5 میں دوبارہ ترمیم سے ججز کو پابند کردیا گیا کہ ججز الزامات کا جواب تحریری طور پر ادارہ جاتی رد عمل کیلئے قائم کمیٹی کو بھیجیں گے،ترمیم کے مطابق جج میڈیا پر ایسے کسی سوال کا جواب نہیں دے گا جس سے تنازع کھڑا ہو، سوال میں بے شک قانونی نکتہ شامل ہو، جج جواب نہیں دے گا،کوڈ آف کنڈکٹ میں کہا گیا ہے کہ جج کو ہر معاملے میں مکمل غیر جانب داری اختیار کرنی چاہیے، جج کسی ایسے مقدمے کی سماعت نہ کرے جس میں ذاتی مفاد یا تعلق ہو، جج کسی قسم کے کاروباری یا مالی تعلقات سے اجتناب کرے، جج کو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے اجتناب کرنا ہوگا۔

    کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق سیاسی یا عوامی تنازع میں شامل ہونا جج کے لیے منع ہے، جج کسی بھی مالی فائدے یا تحفے کو قبول نہیں کرے گا، جج کو عدالتی کام میں تیزی اور فیصلوں میں تاخیر سے گریز کا پابند بنایا گیا، جج آئینی حلف کی خلاف ورزی کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا، جج غیر ضروری سماجی، ثقافتی یا سیاسی تقریبات میں شرکت نہیں کرے گا،کوڈ آف کنڈکٹ میں کہا گیا کہ جج غیر ملکی اداروں سے ذاتی دعوت قبول نہیں کرے گا، جج کسی وکیل یا فرد کی طرف سے ذاتی عشائیہ یا تقریب میں شرکت نہیں کرے گا،کوڈ آف کنڈکٹ میں جج کو صرف میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور جج پر ہر قسم کے اندرونی یا بیرونی دباؤ سے آزاد رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف74 میں سے 70 شکایات مسترد، 3 مزید کارروائی کیلئے منظور جبکہ ایک پر کارروائی مؤخر کر دی،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ججوں کے ضابطہ اخلاق میں اکثریت رائے سے ترامیم کی منظوری دے دی،جوڈیشل کونسل کے دو الگ الگ اجلاس منعقد ہوئے اور پہلے اجلاس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شریک ہوئے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر شریک ہوئے،اعلامیے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے دوسرے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگرکی جگہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شریک ہوئے،اعلامیے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت 67 شکایات کا جائزہ لیا گیا، 65 شکایات متفقہ طور پر مسترد، ایک مؤخر اور ایک کو اکثریتی فیصلے سے مزید کارروائی کیلئے منظور کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی عدم شرکت کے باعث کونسل کو دوبارہ تشکیل دیا گیا،سپریم جوڈیشل کونسل کے دوسرے اجلاس میں 7 شکایات کا جائزہ لیا گیا اور سپریم جوڈیشل کونسل نے اکثریتی رائے سے 2 شکایات پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جبکہ کونسل نے 5شکایات داخل دفتر کر دیں، اکتوبر 2024 سے اب تک 155 شکایات پر غور کیا جا چکا ہے، 74 شکایات پر فیصلے کے بعد 87 شکایات ابتدائی غور کے لیے زیر التوا ہیں

  • ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم اسلام آباد سے اغوا، مقدمہ درج

    ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم اسلام آباد سے اغوا، مقدمہ درج

    ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) محمد عثمان کو ان کی اسلام آباد کی رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا،ہلیہ کی جانب سے ایف آئی آردرج کروا دی گئی.

    پولیس کے مطابق واقعہ 14 اکتوبر کی شام سات سے آٹھ بجے کے درمیان زارا ہائٹس کی پارکنگ بیسمنٹ میں پیش آیا جہاں چار مسلح افراد نے افسر کی گاڑی روکی اور انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، عثمان کو 14 اکتوبر کی شام ان کے فلیٹ کے نیچے سے اغوا کیا گیا۔سی سی ٹی وی فوٹیج سے تصدیق ہوئی ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان کو اغوا کار ایک سفید رنگ کی کار میں لے گئے تھے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات اور مغوی کی تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سفید کرولا گاڑی اور اغوا کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔پولیس نے اہلیہ کی درخواست پر تھانہ شمس کالونی میں مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم پولیس کی جانب سے تاحال کوئی پیشرفت سامنے نہیں آسکی،

  • لاہور پریس کلب میں کرپشن کے الزامات، نیب ،ایف بی آر ،ہائیکورٹ میں درخواستوں کا فیصلہ”

    لاہور پریس کلب میں کرپشن کے الزامات، نیب ،ایف بی آر ،ہائیکورٹ میں درخواستوں کا فیصلہ”

    الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا) کے صدر محمد آصف بٹ نے لاہور پریس کلب کی موجودہ صدر ارشد انصاری کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے نیب، ایف بی آر اور لاہور ہائی کورٹ میں باضابطہ تحقیقات کے لیے درخواستیں دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    محمد آصف بٹ کے مطابق ان کی درخواست کا دائرہ صرف موجودہ صدر ارشد انصاری تک محدود نہیں، بلکہ ان کے بھائیوں ریئس انصاری اور بابر اشرف کے گزشتہ تیس سالہ اثاثوں، آمدن، اور پریس کلب کی سرکاری گرانٹس میں مبینہ غبن، اور صحافی کالونی میں مبینہ غیر قانونی قبضوں تک پھیلا ہوا ہے۔

    "میرا گھر ہے، مگر چوروں سے خالی ہونا چاہیے”
    محمد آصف بٹ نے وضاحت کی کہ ان کی مخالفت لاہور پریس کلب کی عمارت یا ادارے سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو اس کی آڑ میں دو نمبری، کرپشن، اور اقربا پروری کو فروغ دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا "پریس کلب میرا گھر ہے، اور میں اس گھر کو چند مخصوص چہروں کی کرپشن، ذاتی کاروبار، اور طاقت کے غلط استعمال سے آزاد دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ میری ذاتی لڑائی نہیں، یہ ادارے کی ساکھ، اور صحافت کے مقدس پیشے کے دفاع کی جنگ ہے۔”

    پوری فیملی کے اثاثے چیک کیے جائیں: آصف بٹ
    محمد آصف بٹ نے خود کو بھی احتساب کے دائرے میں شامل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "میں نیب اور ایف بی آر سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے اپنے اثاثوں کو بھی چیک کیا جائے، اور ساتھ ہی ارشد انصاری اور ان کے تمام بھائیوں کے 30 سالہ مالی ریکارڈ، جائیدادوں، اندرون و بیرون ملک اثاثوں، پلاٹس، اور بنک اسٹیٹمنٹس کی مکمل چھان بین کی جائے۔ اگر کچھ غلط ثابت ہو تو میں ہر قسم کی قانونی کارروائی کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اگر ان کے اثاثے مشکوک نکلے تو قوم کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔”

    21 اکتوبر کو اہم ثبوت سامنے لانے کا اعلان
    محمد آصف بٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اکتوبر بروز منگل کو ایک اہم پریس کانفرنس کریں گے، جس میں ارشد انصاری اور ان کے خاندان کے مبینہ مالیاتی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے ٹھوس ثبوت، دستاویزات اور شواہد پیش کیے جائیں گے۔یہ پریس کانفرنس ممکنہ طور پر صحافتی برادری میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

    پریس کلب کی ساکھ داؤ پر
    اس معاملے نے لاہور پریس کلب جیسے معتبر ادارے کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر ان الزامات میں وزن ہوا تو نہ صرف کلب کی قیادت بلکہ پورا ادارہ عوام اور صحافی برادری کے اعتماد کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر الزامات بے بنیاد نکلے تو یہ خود آصف بٹ کی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔

  • پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات  کا پہلا دور مکمل

    پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کی میزبانی قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کر رہے ہیں اور پاکستان افغانستان سے دہشتگرد گروپوں کی دراندازی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات کررہا ہے،سفارتی ذرائع نے بتایاکہ پاکستان کی طرف سے وزیر دفاع خواجہ آصف وفد کی سربراہی کی اور پاکستانی سکیورٹی حکام نے ان معاونت کی،سفارتی ذرائع کے مطابق افغانستان کی طرف سے وزیر دفاع ملا یعقوب نے وفد کی سربراہی کی، افغان انٹیلی جنس چیف بھی افغان وفد میں شامل ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق دوحہ میں پاک افغان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا اور مذاکرات کا اگلا دور کل صبح دوحہ میں ہوگا،سفارتی ذرائع نے بتایاکہ پاکستان نے افغان وفد پر کالعدم گروپوں کی افغانستان میں موجودگی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز قطر میں پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں سرحدی کشیدگی میں دوحہ مذاکرات تک سیز فائر پر اتفاق کیا گیا تھا۔

  • پاکستان کیخلاف کوئی بھی جارحیت کرے  تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پاکستان کیخلاف کوئی بھی جارحیت کرے تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا۔

    پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ مجھے کسی کے خلاف نہیں لایا گیا، آئین اورقانون کی بالادستی کے لیے آیا ہوں، ہمارا ہر قدم قانون اور آئین کے مطابق ہوگا، پرامن احتجاج کرینگے، یہ صوبہ ہم سب کا ہے، گزشتہ حکومت میں ہم تھوڑے کمزور تھے، ہم عدالتوں میں جنگ لڑرہے ہیں، انصاف نہ ملاتواحتجاج ہی کرینگے،افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا، پاکستان کے خلاف کوئی بھی جارحیت کرے تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہونگے، یہاں سے 8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے، 12لاکھ اب بھی ہیں، باعزت طورپربھجوائیں گے، افغان مہاجرین نے اتناوقت یہاں گزارا تو باعزت واپس جائیں،میں حکومت چلانے نہیں تبدیلی کے لیے آیا ہوں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت نہ ملاتو کابینہ سے متعلق مشاورت کے لیے پارٹی سے بات کروں گا۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ پہلے مجھے ٹارگٹ کیا گیاپھر آئینی عمل روکا گیا کیا، یہ طریقہ ہے؟ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھا اور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جو اعتراضات دور کرکے پیرکو دوبارہ دائرکرینگے، جسے بانی پی ٹی آئی کہیں گے وہی کابینہ میں ہوگا ورنہ نہیں، کابینہ کے اہل اور نااہل ارکان کے بارے میں بانی کوبتاؤں گا، بانی نے صرف مزمل اسلم کو کابینہ میں شامل کرنے کا کہا ہے، ایڈوائزری کونسل کی بات پارٹی میں ہوئی نہ کسی نے بات کی، بحیثیت ورکرپارٹی تنظیم اور وزیراعلیٰ کے طورپر صرف عمران خان کوجوابدہ ہوں،صنم جاوید کے حوالے سے خاص نہیں، عام ہدایات تھیں اور یہ ہدایت تمام سیاسی ورکروں کے لیے تھیں کہ کسی سیاسی ورکرکو گرفتارنہ کیاجائے، صنم جاوید کی رپورٹ ملی لیکن مطمئن نہیں دوبارہ لوں گا۔

  • پنجاب،دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع

    پنجاب،دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع

    پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کر دی گئی

    محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 یوم کی توسیع کر دی،پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی،دفعہ 144 کے تحت چار یا زائد افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی،پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے،دفعہ 144 کے تحت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہے

    پنجاب بھر میں اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر مکمل پابندی ہے،دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کیا گیا،کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 38ویں اجلاس میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کی سفارش کی گئی،حکومت پنجاب نے دہشت گردی اور امن عامہ کے خدشات کے پیش نظر احکامات جاری کیے،پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازہ اور تدفین پر نہیں ہوگا،سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسران و اہلکار اور عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہیں ،لاؤڈ سپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبہ کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں ،سکیورٹی خطرات کے پیش نظر عوامی جلوس و دھرنا دہشت گردوں کیلئے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے،شرپسند عناصر عوامی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے ریاست مخالف سرگرمیاں کر سکتے ہیں،محکمہ داخلہ نے جمعہ 24 اکتوبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا،