Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • والد کے قتل میں ملوث دو بیٹے گرفتار

    والد کے قتل میں ملوث دو بیٹے گرفتار

    خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دو سگے بیٹوں نے گھریلو جھگڑے کی بنیاد پر اپنے ہی والد کو قتل کروانے کی سازش رچائی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اجرتی قاتل سمیت چار ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں مقتول کے دونوں بیٹے بھی شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ بیٹوں کا اپنے والد کے ساتھ اکثر گھریلو مسائل پر جھگڑا رہتا تھا، جس کے باعث انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت ایک اجرتی قاتل سے رابطہ کیا۔ ملزمان نے مالی لین دین کا وعدہ کرکے باقاعدہ طور پر قتل کرانے کا ٹھیکہ دیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے، اور اب تک حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریوں اور انکشافات کا امکان بھی موجود ہے۔
    مزید بتایا گیا ہے کہ قتل کی واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے جبکہ ملزمان کے بیانات میں واضح تضادات سامنے آئے، جس کے بعد ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ واقعہ گھریلو تنازعات کی شدت اور خاندانی رشتوں میں بگاڑ کی ایک افسوسناک مثال ہے۔

  • صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    صدر مملکت آصف زرداری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس ورکشاپ میں پارلیمنٹیرینزسمیت سینئر سول وملٹری افسران نے بھی شرکت کی اور تعلیمی و سماجی شعبوں کے نمائندے بھی شریک تھے، صدر مملکت نے ورکشاپ مکمل کرنے پر شرکا کو مبارکباد دی اور قومی سلامتی سے متعلق آگاہی بڑھانے میں ان کی لگن کو سراہا، نیشنل سکیورٹی ورکشاپ مکالمےکو فروغ دینےکے نمایاں پلیٹ فارمز میں سے ہے اور اس سے پاکستان کو درپیش موجودہ سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے، نیشنل سکیورٹی ورکشاپ ملک کی اُن نمایاں پلیٹ فارمز میں سے ہے جو قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دیتی ہیں اور یہ پلیٹ فارم ادارہ جاتی صلاحیت کوبڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، یہ قومی سلامتی کے لیے قومی حکمتِ عملی کومضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اس موقع پر صدر مملکت نے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا اور اختتامی تقریب میں فارغ التحصیل شرکا میں اسناد بھی پیش کیں۔

  • بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا؟ ملک احمد خان

    بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا؟ ملک احمد خان

    شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بطور گواہ بیان ریکارڈ کرا دیا۔

    سیشن جج لاہور یلماز غنی نے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے گواہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کو طلب کیا تھا جس پر ملک احمد خان آج عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا،ملک محمداحمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان نے شہباز شریف پر رشوت لینے کے جھوٹے الزامات عائد کیے، اپریل 2017 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سنگین الزامات لگائے جو مختلف ٹیلی ویژنز پر چلے،میری شہباز شریف کے ساتھ جماعتی وابستگی ہے، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ اور وزیراعظم عوامی خدمت کی، میرے نزدیک عمران خان کے الزامات کے ذریعے شہباز شریف کے خلاف گمرہ کن پروپیگنڈا کیا گیا،اسلام میں بھی جھوٹ اور غیبت کی سخت ممانعت ہے، جھوٹ بول کر کسی کے خلاف قصہ بیان کرنا مذہبی اعتبار سے بھی درست نہیں، مدعی نے جو دعویٰ دائر کیا ہے وہ اس عدالت میں آنے کا حق رکھتا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل احمد حسین چوٹیاں نے ملک احمد خان کے بیان پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کیا جن پروگرامز کا ذکر آپ نے کیا یہ تمام پروگرام پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے؟ جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا یہ تمام قومی پروگرام قومی نشریاتی اداروں پر آتے ہیں، یہ درست ہے تمام پروگرامز پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے تھے۔عمران خان کے وکیل نے استفسار کیا کیا آپ کو پتہ ہے کہ پانامہ کیس کیا تھا؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا پانامہ پیپرز کا کیس ان افراد کی فہرست کے بارے میں تھا جن کی بیرون ملک انویسٹمنٹ تھی،وکیل نے پوچھا کیا یہ درست ہے بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرزکے بارے میں کوئی درخواست دائر کی تھی؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا میرے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے،وکیل بانی پی ٹی آئی نے استفسار کیا کیا آپ کو علم ہے عمران خان کی درخواست نواز شریف وغیرہ کے خلاف تھی؟ جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا مجھے تفصیلی طور پر اس کے بارے میں علم نہیں ہے،عمران خان نے وکیل نے ملک احمد خان سے پوچھا کیا آپ کو پتہ ہے کہ نواز شریف کو پانامہ پیپرز میں سزا ہوگئی تھی؟ جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا جی یہ بات درست ہے،وکیل نے پوچھا کیا یہ درست ہے کہ محض اس مقدمے کی وجہ سے مدعی نے جھوٹا دعویٰ دائر کیا؟ ملک احمد خان نے کہا یہ غلط ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے بیان پر جرح مکمل کی جس کے بعد عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کر دی

    ہتک عزت کیس میں بطور گواہ بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا پارلیمنٹ میں ترامیم تو آج ہوئی ہیں، میں 15 برس سے کہہ رہا ہوں، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ نے اپنی بات کی، یہ کیسے ممکن ہے کہ پارلیمنٹ اپنا حق چھوڑ دے، آج ایک ذہنی کوفت سے عدالت آیا، یہ کیس 7 سال سے چل رہا ہے، نظام کو ٹھیک کرنے کی بات ہو تو شور اٹھتا ہے، آئین لکھنے کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ پارلیمنٹ کو زیادہ موثر کریں،بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا؟ شہباز شریف کو اسی جیل مینوئل کے تحت جیل میں رکھا گیا تھا، شہباز شریف کو تو گھر کا کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا، جیل مینول میں کہاں لکھا ہے سی ایم کے پی سے ملاقات ہو گی، 9 مئی جیسا کام ٹی ایل پی کرے تو آپ ان پر پابندی عائد کر دیتے ہیں، یہاں تو پانامہ کیس اور وزیراعظم کو گھر بھجوانے کے فیصلے آتے رہے۔

  • 90 دن کی مدت پوری ہونے تک طلاق مؤثر نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ

    90 دن کی مدت پوری ہونے تک طلاق مؤثر نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت "تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے۔

    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے محمد حسن سلطان کی طلاق سے متعلق پٹیشن نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی مکمل طور پر حاصل ہے، عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا 7 اکتوبر 2024کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کہا فریقین نے 2016 میں شادی کی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ) کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا تھا،بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7 (1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے 10اگست 2023 کو یہ کارروائی واپس لے لی جس پر چیئرمین یونین، آربیٹریشن کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی۔

  • روسی صدر کا 4 دسمبر کو دورہ بھارت طے

    روسی صدر کا 4 دسمبر کو دورہ بھارت طے

    روس کے صدر ولادی میر پوٹن اگلے ماہ 4 سے 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ کر یں گے۔

    صدر پیوٹن کے دورہ بھارت سے متعلق بھارتی سیکرٹری دفاع راجیش کمار نے کہا کہ پیوٹن کے اس دورے میں دفاعی معاملات پرکوئی بڑا اعلان متوقع نہیں مگر بھارتی حکومت روس کے ساتھ دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے پر زور دے گی، بھارتی سیکرٹری دفاع نے کہا کہ دورے کےدوران ایس400 سسٹم پر بھی کوئی پیشرفت متوقع نہیں البتہ بھارتی حکومت روس سے ایس400 سسٹم کی ترسیل میں تاخیرپر وضاحت مانگے گی،راجیش کمار کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران روسی صدر سے اضافی ایس 400 یونٹس کے آرڈر دینے پر بات ہوسکتی ہے کیونکہ ہماری توجہ ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر کو حل کرنے پر ہے،بھارتی سیکرٹری دفاع نے مزید کہا کہ ہم زیرالتوا سپلائی کے لیے ٹائم لائنز حاصل کرنے پر بھی توجہ مرکوز کریں گے۔

  • فیکٹ چیک،تاجکستان ڈرون حملہ،سوشل میڈیا پر افغان،بھارتی اکاؤنٹس کے پروپیگنڈے کی حقیقت

    فیکٹ چیک،تاجکستان ڈرون حملہ،سوشل میڈیا پر افغان،بھارتی اکاؤنٹس کے پروپیگنڈے کی حقیقت

    سوشل میڈیا پر افغانستان اور بھارت سے منسلک بعض اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے چترال کے علاقے سے افغانستان کے اندر ڈرون حملہ کرتے ہوئے تاجکستان کے صوبہ خطلون میں کام کرنے والی ایک چینی کمپنی کے ملازمین کو نشانہ بنایا۔ تاہم یہ دعویٰ سرکاری ریکارڈ اور تاجک حکام کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

    تاجکستان کی حکومت کے مطابق یہ ڈرون حملہ افغانستان کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں خطلون خطے میں قائم ایل ایل سی "شوہن ایس ایم” کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ڈرون میں گرینیڈ اور ہلکے ہتھیار نصب تھے اور حملہ “استقلول” بارڈر گارڈ پوسٹ کے زیرِ کنٹرول علاقے پر کیا گیا۔ واقعے میں چینی کمپنی کے تین ملازمین جاں بحق ہوئے۔

    تاجک وزارتِ خارجہ نے حملے کے بعد افغان طالبان انتظامیہ سے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے، جس میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    دوسری جانب تاجک، روسی، چینی یا دیگر آزاد ذرائع میں سے کسی نے بھی اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا تذکرہ نہیں کیا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان سے متعلق یہ دعویٰ زیادہ تر ان آن لائن نیٹ ورکس سے پھیل رہا ہے جو اس سے قبل بھی پاکستان مخالف بیانیے کی تشہیر میں سرگرم رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ معلومات پر مبنی ایسی افواہیں خطے میں غلط فہمیاں اور سفارتی تناؤ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے سرکاری ذرائع اور مستند رپورٹس پر انحصار ضروری ہے۔پاکستان کی آئی ایس آئی پر چینی کارکنوں پر تاجکستان میں ڈرون حملہ کرنے کا الزام جھوٹا، غیر مصدقہ اور سرکاری تاجک بیانات کے خلاف ہے۔یہ بیانیہ افغان اور بھارتی پراپیگنڈا اکاؤنٹس کی ایک مربوط ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا اور پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔یہ بیانیہ صرف را سے منسلک اور افغان ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس سے ہی سامنے آیا ہے، جو پہلے بھی پاکستان مخالف پراپیگنڈا پھیلانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

  • نور مقدم کیس،سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس کی مذمت

    نور مقدم کیس،سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس کی مذمت

    وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر 7 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کر دیا۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے اپنے نوٹ میں کہا کہ وہ اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں لیکن کچھ اضافی وجوہات بھی تحریر کی ہیں اور ظاہر جعفر کے خلاف تمام شواہد ریکارڈ کا حصہ ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ’لیو ان ریلیشن‘ کا تصور معاشرے کے لیے خطرناک ہے اور ایسے تعلقات نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ سماجی بگاڑ کا سبب بھی بنتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو اس واقعہ سے سبق سیکھنے کی تلقین کی۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ اس کیس کا تعلق معاشرے میں پھیلنے والی برائی سے ہے جو ’لیونگ ریلیشن شپ‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات نہ صرف ملکی قوانین بلکہ شریعت کے بھی خلاف ہیں اور اسے خدا کے خلاف براہِ راست بغاوت قرار دیا۔

    نور مقدم 27 جولائی 2021 کو اسلام آباد میں ظاہر جعفر کے گھر سے مردہ حالت میں ملی تھیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2022 میں ظاہر جعفر کو قتل کی سزا سنائی تھی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا،سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کوئی بھی معمولی فرق یا شواہد میں چھوٹ اس سزا کے اثر کو نہیں کم کرتا کیونکہ جرم کے تمام شواہد واضح اور ریکارڈ شدہ ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کیخلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی تھی جبکہ ریپ کے الزام میں عمر قید میں تبدیلی اور اغوا کے مقدمے میں سزا کم کر کے ایک سال کی گئی تھی۔ عدالت نے نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا.

    دوسری جانبسینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے جسٹس علی باقر نجفی ک ریمارکس کی شدید مذمت کی اور اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے جسٹس علی باقر نجفی جو اب وفاقی آئینی عدالت کا حصہ ہیں، نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ نور مقدم کیس معاشرے میں پھیلنے والی ایک ’برائی‘ کا نتیجہ ہے، جسے ’لونگ ریلیشن شپ‘ (یعنی 2غیر شادی شدہ افراد کا ایک ساتھ رہنا)کہا جاتا ہے۔ کمیٹی نے اجلاس میں سوال اٹھایا کہ جب خواتین کے خلاف مقدمات میں سزا کی شرح پہلے ہی شرمناک حد تک کم ہے، تو اگر ایک جج خود اس طرح کی بات کرے تو سزا کی شرح کا کیا بنے گا؟،کم سزا کی شرح کے باعث کمیٹی نے ایڈووکیٹ جنرلز، پراسیکیوٹر جنرلز، پولیس حکام اور متعلقہ تمام اداروں کو طلب کر لیا۔

    جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے،ایکس پر ایک پوسٹ میں افتخار نامی صارف کہتے ہیں کہ نور مقدم کیس:نور مقدم اور ان کی فیملی کے ساتھ جتنی ھمدردی کی جائے وہ شاید کم پڑے اسی طرح قاتل کی جتنی مذمت کی جائے وہ بھی یقیناً کم ھی پڑے گی البتہ جسٹس باقر نجفی کے اضافی نوٹ پہ منفی تبصرہ کرنے سے پہلے یا تو متعلقہ پیراگراف (10) پڑھ لیں یا پھر خود کو اس معاملے کو خود سوچیں.

    محمد حنیف گل کہتے ہیں کہ نور مقدم قتل کیس میں ملزم کو درست سزا سنائی گئی۔ سپریم کورٹ نے اپیل اور ریویو دونوں میں سزائے موت برقرار رکھی۔ لیکن جسٹس باقر نجفی کے اضافی نوٹ نے اس درست فیصلے کو بھی متنازعہ بنا دیا۔ محترم جج صاحب کے بقول وہ ‘لو ان’ تعلقات، جن میں نور مقدم ملزم کے ساتھ رہ رہی تھی، اس گھناؤنے جرم کی بنیاد بنے۔ انہوں نے نئی نسل کو اس ‘اخلافی گراوٹ’ کے حوالے سے تنبیہ بھی کی کہ وہ ایسی ‘بغاوت’ سے دور رہیں تاکہ اس قسم کے ہولناک نتائج سے بچ سکیں-کیا منکوحہ عورتیں شوہروں کے ہاتھوں قتل نہیں ہوتیں؟ کیا جج صاحب نے اس حوالے سے کوئی تحقیق کی ہے؟ہمارے جج صاحبان عموماً اصولِ قانون، فلسفہ اور تاریخ میں کافی کمزور ہوتے ہیں، لیکن انہیں ان معاملات میں بھی حرفِ آخر بننے کا شوق ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات وہ ایسی تشریحات کرتے ہیں جو مضحکہ خیز ہوتی ہیں۔ اس دنیا میں 8 ارب سے زائد انسان ہیں۔ 193 ممالک اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں، جبکہ فلسطین اور ویٹیکن کو بھی غیر رکن ممالک کی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کی اکثریت ‘لو ان’ تعلقات کو تسلیم کرتی ہے۔ مغربی ممالک میں تو ان کی قبولیت سماجی طور پر شادی کے برابر ہے۔ اسلامی اور روایتی عیسائی ممالک میں اگرچہ یہ تصور موجود ہے، لیکن اس کی سماجی قبولیت کم ہے۔ بھارت میں بتدریج ان تعلقات کی قبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور چین میں بھی اسے پہلے کی نسبت زیادہ قبولیت حاصل ہے۔اس تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا کسی مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس عورت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہو، اسے قتل کر دے؟ کیا ‘لو ان’ تعلقات لاطینی امریکہ، یورپ اور شمالی امریکہ میں بھی ایسے جرائم کی بنیاد بنتے ہیں؟ کیا چین میں بھی ان تعلقات کو جرائم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے؟ یہ بات درست ہے کہ پاکستان کا معاشرہ ‘لو ان’ تعلقات کو مذہبی، اخلاقی اور سماجی طور پر برا سمجھتا ہے، اس کے باوجود یہ تعلقات پاکستان میں ایک حقیقت ہیں، جس کا انکار ممکن نہیں۔ کیا ان تعلقات کو جسٹس صاحب کی طرف سے ان جرائم کی وجہ قرار دینا درست ہے؟ کیا جرم اور تعلقات میں کوئی منطقی نسبت نکلتی ہے؟ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ کاروباری شراکت کرے اور بعد میں ایک پارٹنر دوسرے کو بے دردی سے قتل کر دے، تو کیا کاروباری شراکت داری کو قتل کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا جج صاحب نئی نسل کو کاروباری شراکت سے بھی باز رہنے کی نصیحت کریں گے.

  • منی پور : آزادی پسندوں کے حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک ، متعدد زخمی

    منی پور : آزادی پسندوں کے حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک ، متعدد زخمی

    شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور میں ایک حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

    خبررساں ادارے کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے آج صبح ریاست کے ضلع ٹینگنوپل میں فوج کی 22 آسام رائفلز کے ایک گشتی دستے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔حملہ آور خود مکار ہتھیاروں سے لیس تھے ۔ حملے میں دو فوجیوں کے ہلاک اور کم از کم پانچ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد بھارتی فورسز نے حملہ آوروں کو پکڑنے کیلئے علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔یاد رہے کہ منی پور میں مئی 2023ء سے سخت تشدد کی لپیٹ میں ہے ۔ اب تک ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں ہو چکے ہیں۔میتھی (ہندو) اور کوکی (عیسائی) قبائل کے درمیان بڑے پیمانے پر کشیدگی چلی آرہی ہے ۔

  • ٹانک،دہشتگردوں کے حملے، دو سرکاری اسکول بارودی مواد سے تباہ

    ٹانک،دہشتگردوں کے حملے، دو سرکاری اسکول بارودی مواد سے تباہ

    ضلع ٹانک میں دہشت گردی کی نئی لہر نے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا لیا۔ عسکریت پسندوں نے مختلف علاقوں میں دو سرکاری اسکولوں کو بارودی مواد سے اڑا کر تباہ کردیا،

    تفصیلات کے مطابق تھانہ گل امام کی حدود میں واقع گورنمنٹ ہائی اسکول گاؤں اکبری کو گزشتہ شب نامعلوم شدت پسندوں نے طاقتور دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ اسکول کی کئی کمروں کی دیواریں منہدم ہوگئیں اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے واقعہ کے وقت اسکول خالی تھا جس کے سبب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    کڑی عمر خان میں بھی اسی نوعیت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گرلز پرائمری اسکول کو بارودی مواد کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ انتہائی علی الصبح کیا گیا تاکہ زیادہ تباہی اور خوف پھیلایا جا سکے۔ اسکول کی عمارت مکمل طور پر کھنڈر میں تبدیل ہوگئی ہے۔مقامی پولیس نے دونوں مقامات کا محاصرہ کرکے شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائیاں تعلیمی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں اور اس سلسلے میں شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    علاقے کے عوامی نمائندوں اور سماجی حلقوں نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں پر حملے ترقی اور امن کے دشمنوں کی کارستانی ہیں۔ والدین میں بھی شدید تشویش پائی جارہی ہے اور لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بڑھائی جائے۔ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر تعمیر نو اور سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • 28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے،اے این پی

    28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے،اے این پی

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 28 ویں آئینی ترمیم کیلئے تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال کردیں۔

    اے این پی ترجمان کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے۔ اے این پی صوبے کے نام کو ’’پختونخوا‘‘ تسلیم کرنے کے مطالبے کو دہراتی ہے تاکہ اس خطے کی تاریخی، لسانی اور تہذیبی شناخت کو آئینی حیثیت ملے۔ 28ویں آئینی ترمیم میں تمباکو کاشتکاروں کے تحفظ اور صوبائی محصول کے حق کو یقینی بنایا جائے۔ 28ویں آئینی ترمیم میں مقامی حکومتوں کے مستقل قیام کو آئینی ضمانت دی جائے۔ اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ آرٹیکل 140 اے کے مطابق ملک بھر میں ہر چار سال بعد باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور انہیں آئینی تحفظ دیا جائے۔ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی انتظامی اتھارٹی کو ان اداروں کو معطل، تحلیل یا ان کی جگہ لینے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ آئین میں کسی بھی ترمیم کا مقصد عوامی مفاد، صوبائی حقوق کا تحفظ اور وفاقی جمہوریت کی مضبوطی ہونا چاہیے۔ اگر ان اصولوں کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی نیشنل پارٹی ایسی کسی بھی ترمیم کی پارلیمان اور عوامی سطح پر بھرپور مزاحمت کرے گی۔